27th-March-2026

خبرنامہ نمبر3312/2026
کوئٹہ27مارچ: گورنربلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا ہے کہ پاکستان میں اقلیتوں کو جو حقوق، مذہبی آزادی اور سماجی احترام حاصل ہے اس کی پورے خطے کے دیگر ممالک میں مثال نہیں ملتی۔ ہمارا 1973 کا آئین ان کو مساوی شہریت فراہم کرتا ہے جبکہ قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں مخصوص نشستیں قانون سازی کے عمل میں تمام اقلیتوں کے حقوق، آزادی اظہار اور سیاسی شرکت کو یقینی بناتی ہیں۔ سیاسی عمل کا حصہ بنانے کے ساتھ ساتھ پشتون بلوچ کی شاندار قومی اقدار اور روایات نے تمام اقلیتی برادریوں کو ضلعی سطح پر بھی سماجی سرگرمیوں میں شامل رکھا ہے جس سے ان میں خوشگوار تعلقات اور مضبوط اتحاد کا جذبہ برقرار ہے۔ گویا اکثریت اور اقلیت کی یہی یکجہتی اور بقائے باہمی درحقیقت ہماری ملکی اور قومی سربلندی کا ثبوت ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پاکستان مسلم لیگ ن مینارٹی ونگ طارق گل کی قیادت میں وفد سے بات چیت کرتے ہوئے کیا جس میں قومی اسمبلی کے ٹکٹ ہولڈر مینارٹی ونگ عامر مسیح۔ زکریا پیٹرک، بیگم پیٹرک سینٹ مسیح، معراج مسیح، یوحنا کھوکھر و دیگر عہدیداران شامل تھے۔ ملاقات میں اقلیتوں کے حقوق، پارلیمانی نمائندگی اور بنیادی آزادیوں کے تحفظ سمیت ملک اور صوبے کی مجموعی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ بلوچستان اسمبلی میں پاکستان مسلم لیگ ن کے ہیٹرک سینٹ مسیح ایک عوام دوست اقلیتی رہنماء تھے جن کی کمی آج بھی محسوس کی جا رہی ہے۔ گورنر بلوچستان نے یقین دلایا کہ پاکستان مسلم لیگ ن آئندہ بھی مسیحی برادری کے جائز حقوق و مطالبات کو پورا کرنے کیلئے کوششیں کریں گی۔ گورنر مندوخیل نے ملک اور صوبہ میں امن اور ہم آہنگی کو بڑھانے کیلئے اختلاف رائے کے احترام، بھائی چارے اور مذہبی رواداری کو فروغ دینے کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے بلوچستان کے تعلیم اور صحت کے شعبوں میں بالخصوص مسیحی برادری کی گرانقدر خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ وہ صوبے کی معاشی ترقی اور سیاسی استحکام میں اپنا مثبت کردار ادا کرتے رہیں گے۔

خبرنامہ نمبر3313/2026
پشین/برشور 27 مارچ: وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ بلوچستان میں نئے اضلاع بنانے کا مقصد ان علاقوں کو ترقی دینا ہے جو ترقی کے سفر میں پیچھے رہ گئے ہیں اور انہیں اگے لانا ہے برشور کو ضلع کا درجہ ملنے پر منعقدہ عظیم الشان عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بلوچستان میں نئے اضلاع کے قیام کا مقصد صوبہ بھر کے تمام علاقوں کی یکساں ترقی اور خوشحالی ہے وزیر اعلیٰ نے برشور تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال کو ڈی ایچ کیو کا درجہ دینے، پولیس تھانوں کو مزید وسعت دینے، بنیادی مراکز صحت کو ٹیلی ہیلتھ کے نظام سے منسلک کرنے، 254 اسکولوں کی مکمل فعالی اور برشور کو میونسپل کمیٹی کا درجہ دینے کا نوٹیفکیشن مقامی ایم پی اے پارلیمانی سیکریٹری اسفندیار خان کاکڑ کے حوالے کرنے اور انتظامی اسٹرکچر کو مضبوط کرنے کا اعلان کیا انہوں نے کہا کہ نئے بننے والے ضلع میں بہترین ڈپٹی کمشنر تعینات کیا ہے وہ ایک قابل آفیسر ہیں جن کو میں نے یہ ذمہ داری دی ہے کہ وہ علاقے کے معتبرین اور عوام کے ساتھ خوش اسلوبی کے ساتھ پیش آئیں اور علاقے میں موجود تمام سرکاری مشینری کو بھرپور انداز سے فعال کرتے ہوئے نئے ضلع کو اپنے پیروں پہ کھڑا کریں وزیر اعلیٰ نے مقامی عوام کو ان کی درینہ خواہش کی تکمیل پر ان کو مبارکباد پیش کی اور انہوں نے کہا کہ آج مرحوم سرور خان کاکڑ نے جو خواب دیکھا تھا اور شرمندہ تعبیر ہوا انہوں نے گزشتہ شب یارو پیش آنے والے افسوسناک واقعے کی مذمت کرتے ہوئے ملوث عناصر کو کیفر کردار تک پہنچانے کے بھرپور عزم کا اظہار کیا انہوں نے کہا کہ وہ ہمیشہ مظلوم کے ساتھ کھڑے ہیں اور کبھی بھی کسی ظالم کی پشت پناہی نہیں کریں گے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ سوشل میڈیا پر کچھ دوست تنقید کرتے ہیں لیکن میں ان کی بات بھی سنتا ہوں انہوں نے واضح کیا کہ وہ سوشل میڈیا کے ذریعے کسی کی بلیک میلنگ میں نہیں آئیں گے انہوں نے کہا کہ 40 سال تک افغان بھائیوں کی خدمت کی اور بدلے میں جو صلہ ملا وہ بہت ہی افسوسناک ہے میں ان سے بھی کہنا چاہتا ہوں کہ وہ یہاں امن و امان کی خرابی اور کسی کی بھی قسم کی تخریب کاری سے گریز کریں وزیراعلیٰ نے اپنی خطاب میں ایران کے مسلمان بھائیوں کے ساتھ بھی مکمل یکجہتی کا اظہار کیا اور اسرائیلی جارحیت کی مذمت کی انہوں نے کہا کہ آج پاکستان کوخدا نے ایک مضبوط سپہ سالار عطا کیا ہے جو سرزمین پاکستان کی ایک ایک انچ کی حفاظت کرتا ہے انہوں نے کہا کہ مجھے کوئی خوف نہیں ہے اور نہ ہی مجھے کوئی ڈرا سکتا ہے میں بلوچستان کے ایک ایک کونے میں جاتا ہوں اور آئندہ بھی جاتا رہوں گا انہوں نے اجتماع میں موجود توبہ کاکڑی اور کاریزات کے دوستوں کبھی شکریہ ادا کیا اور کہا کہ حکومت وہاں بھی جائے گی اور وہاں کی بھی ترقی اور خوشحالی کو سر فہرست رکھے گی جلسہ سے صوبائی وزرا، و دیگر نے بھی خطاب کیا.

خبرنامہ نمبر3314/2026
کوئٹہ 27 مارچ۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے چیئرمین میر سمیع زرکون سے ٹیلیفونک رابطہ کیا اور ان کی خیریت دریافت کی اور عیادت کی اس موقع پر انہوں نے چیئرمین صاحب کو ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کروائی اور ان کی جلد صحت یابی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار بھی کیا۔چیئرمین میر سمیع زرکون اور ٹیم میر سمیع زرکون نے وزیر اعلیٰ کا شکریہ ادا کیا کہ انھوں نے اپنی مصروفیات میں بھی وقت نکالا اور مزاج پرسی کی۔

خبرنامہ نمبر3315/2026
تربت۔ ڈپٹی کمشنر کیچ یاسر اقبال دشتی نے حالیہ سیلابی صورت حال کا فوری نوٹس لیتے ہوئے امدادی سرگرمیوں کو تیز کرنے کی ہدایت جاری کر دی۔اس دوران انہوں نے ڈپٹی ڈائریکٹر پی ڈی ایم اے ملک ریحان دشتی اور دیگر متعلقہ اہلکاروں کے ہمراہ ایک میٹنگ میں ضلعی انتظامیہ کیچ، پی ڈی ایم اے کیچ اور دیگر متعلقہ اداروں کے اہلکاروں کو بارشوں کے دوران مکمل طور پر متحرک رہنے اور عوام سے ہر سطح پر رابطہ رکھنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ جہاں بھی لوگوں کو امداد کی ضرورت ہو، فوری طور پر پہنچائی جائے تاکہ کسی کو مشکلات کا سامنا نہ ہو۔دریں اثناء ڈپٹی کمشنر کیچ کی ہدایت پر متعلقہ یونین کونسل کے چیئرمین کے ذریعے متاثرہ علاقے غفور بازار میں پی ڈی ایم اے کی جانب سے امدادی سامان فوری طور پر پہنچا دیا گیا۔ اس سے قبل بگدر غفور بازار کے مکینوں نے سوشل میڈیا کے ذریعے ڈپٹی کمشنر کیچ یاسر اقبال دشتی سے بارش سے متاثر ہونے کے باعث امداد فراہم کرنے کی اپیل کی تھی جس پر ڈپٹی کمشنر کیچ نے متعلقہ یونین کونسل کے چیئرمین کو فوری طور پر طلب کرکے نقصانات کے بارے میں معلومات حاصل کی،واضح رہے کہحالیہ بارشوں کے باعث سیلابی ریلے نے علاقے میں شدید نقصانات پہنچائی تھیں جس کے باعث متعدد مکانات سمیت ایک مسجد کو بھی جزوی نقصان پہنچا تھا جبکہ علاقہ مکینوں کے گھریلو سامان بھی سیلابی ریلے میں بہہ گئے تھے اور کئی خاندانوں کو مالی نقصانات پہنچا تھا۔اس موقع پر علاقہ مکینوں نے بروقت اقدامات کرنے پر ڈپٹی کمشنر یاسر اقبال دشتی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اسے عوام دوست اقدام قرار دیا۔

خبرنامہ نمبر3316/2026
تربت۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی ہدایات اور ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے بلوچستان کے احکامات کی روشنی میں ڈپٹی کمشنر کیچ یاسر اقبال دشتی اور ڈپٹی ڈائریکٹر پی ڈی ایم اے ملک ریحان دشتی کی نگرانی میں بگدر دشت، ضلع کیچ کے متاثرین کے لیے امدادی سامان روانہ کر دیا گیا ہے۔ضلعی انتظامیہ کیچ اور پی ڈی ایم اے حکام کے مطابق متاثرہ علاقوں میں فوری امداد کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے خوراک، خیمے اور دیگر ضروری اشیاء بھجوائی جا رہی ہیں۔ حکام نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ مشکل حالات میں متاثرہ خاندانوں کو ہر ممکن سہولیات فراہم کی جائیں گی اور امدادی سرگرمیاں بلا تعطل جاری رہیں گی۔مزید برآں، ضلعی انتظامیہ اور پی ڈی ایم اے کی ٹیمیں علاقے میں صورتحال کی مسلسل نگرانی کر رہی ہیں تاکہ ضرورت کے مطابق مزید امدادی اقدامات بروقت یقینی بنائے جا سکیں۔

خبرنامہ نمبر3317/2026
لورالائی: 27 مارچ:ڈپٹی کمشنر لورالائی کیپٹن (ر) محمد حسیب شجاع کی خصوصی ہدایت پر اسسٹنٹ کمشنر لورالائی ندیم اکرم نے آج شہر میں قائم مختلف BYCO اور PSO پیٹرول و ڈیزل پمپوں کا اچانک معائنہ کیا۔معائنے کے دوران اسسٹنٹ کمشنر نے پیٹرول اور ڈیزل میں ممکنہ طور پر ایرانی پیٹرول کی ملاوٹ، کم گیج اور دیگر امور کا تفصیلی جائزہ لیا۔ مختلف پیٹرول پمپوں سے پیٹرول کے نمونے بھی حاصل کیے گئے جنہیں لیبارٹری ٹیسٹ کے لیے بھجوا دیا گیا ہے تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ ان میں کسی قسم کی ملاوٹ تو موجود نہیں۔اس موقع پر پمپ مالکان کو سختی سے ہدایت کی گئی کہ اگر کسی بھی پمپ پر ملاوٹ شدہ پیٹرول فروخت کرتے ہوئے پایا گیا تو متعلقہ پمپ کو سیل کر دیا جائے گا اور اس کا لائسنس منسوخ کر دیا جائے گا۔

خبرنامہ نمبر3318/2026
لورالائی27 مارچ:حالیہ بارشوں کے بعد لورالائی شہر میں صفائی اور نکاسی آب کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے میونسپل کمیٹی کا عملہ متحرک ہو گیا ہے۔ کمشنر لورالائی ڈویژن ولی محمد بڑیچ کے احکامات اور چیف آفیسر میونسپل کمیٹی محب اللہ خان بلوچ کی خصوصی ہدایت پر شہر بھر میں صفائی کا عمل تسلسل کے ساتھ جاری ہے۔میونسپل کمیٹی کے عملے نے مختلف علاقوں میں بند نالیوں کو کھولنے، جمع شدہ کچرے کو ٹھکانے لگانے اور گلی محلوں کی صفائی کا کام شروع کر دیا ہے تاکہ بارش کے بعد پیدا ہونے والی مشکلات پر قابو پایا جا سکے۔ اس سلسلے میں ٹریکٹر ٹرالیوں کے ذریعے کچرے کی اٹھان بھی جاری ہے۔تفصیلات کے مطابق سلیم داد ولی کمپلینٹ زون میں ہاشم کالونی، ڈاکٹر صالح کالونی، جلال افغان وارڈ اور نالیوں کی صفائی کا کام مکمل کیا گیا۔ اسی طرح خالو زون میں حریف گلی، چھوٹی پہاڑی محلہ، رشید لیبارٹری، ایکسائز دفتر کے اطراف اور دیگر مقامات سے کچرے کی صفائی کی گئی۔اسی طرح باران زون میں دارالعلوم روڈ، صدر بازار، باگی بازار اور کاکڑی مسجد روڈ پر نالیوں کی صفائی اور نکاسی آب کی بحالی کے لیے خصوصی اقدامات کیے گئے۔چیف آفیسر میونسپل کمیٹی محب اللہ خان بلوچ نے کہا کہ شہریوں کو صاف ستھرا ماحول فراہم کرنا میونسپل کمیٹی کی اولین ترجیح ہے اور شہر بھر میں صفائی مہم بھرپور انداز میں جاری رہے گی۔ انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ صفائی کے عمل میں میونسپل کمیٹی کے ساتھ تعاون کریں اور کچرا مقررہ مقامات پر ہی پھینکیں۔

خبرنامہ نمبر3319/2026
ڈپٹی کمشنر خضدار عبدالرزاق ساسولی کی صدارت میں ضمنی الیکشن حلقہ این اے 256 خضدار کے حوالے سے کانفرنس روم میں اجلاس منعقد ہوا ڈپٹی کمشنر نے خضدار کے قومی اسمبلی حلقہ این اے 256 خضدار میں ہونے والے ضمنی انتخابات کے تمام انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا اجلاس میں کمانڈنٹ قلات سکاؤٹ کرنل عرفان ریٹرننگ افیسر این اے 256 خضدار اکبر علی مزار زئی ایس ایس پی خضدار شہزادہ عمر عباس بابر اسسٹنٹ کمشنر خضدار حفیظ اللہ کاکڑ ایم ایس ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر اسپتال ڈاکٹر سرمد سعید خان ڈسٹرکٹ ایجوکیشن افیسر عابد حسین بلوچ ڈسٹرکٹ ہیلتھ افیسر ڈاکٹر محمد نسیم لانگو ڈپٹی کمشنرخضدار کے اسٹاف افیسر مراد گزو زئی اور تمام ڈسٹرکٹ ہیڈذ موجود تھے۔ اس موقع پر ریٹرننگ آفیسر اکبر علی مزارزئی نے ڈپٹی کمشنر خضدار عبدالرزاق ساسولی کو ضمنی الیکشن این نے 256 خضدار کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ حلقہ میں کل رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 319217 ہے۔ان میں مرد ووٹرز کی تعداد 174336 جبکہ خواتین ووٹرز کی تعداد 144881 ہے۔ حلقہ بھر میں انتخابات کے انعقاد کے لیئے 298 پولنگ اسٹیشنز قائم کیے گئے ہیں جن میں کل 961 پولنگ بوتھز بنائے گئے ہیں۔ ان میں سے 504 بوتھ مرد ووٹرز کے لیئے اور 457 بوتھ خواتین ووٹرز کے لیئے مختص ہیں۔اجلاس سے ڈپٹی کمشنر خضدار عبدالرزاق ساسولی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ این اے 256 خضدار کے ضمنی الیکشن کے حوالے سے ڈی ایچ او خضدار کو سختی سے ہدایت کی کہ ضمنی الیکشن میں تمام پولنگ اسٹیشنز پر صحت کی سہولیات کو یقینی بنائیں اور تمام ایمبولنسز کو کسی بھی ایمرجنسی کی صورت میں ان روڈ رکھا جائے اور تمام پولنگ اسٹیشنز پر سیکورٹی کی فل پروف انتظامات کیے جائیں انہوں نے تمام محکموں کے سربراہان کو بھی سختی سے ہدایت کی کہ ضمنی الیکشن کے ختم ہونے تک کسی بھی سرکاری ملازم کی چھٹی کی درخواست کو منظور نہ کریں اور تمام سرکاری ملازمین کی الیکشن ڈیوٹیز کو یقینی بنائیں انہوں نے کہا کہ ضمنی الیکشن کی ڈیوٹی سے جو بھی ملازم غیر حاضر ہوا تو اس ملازم اور اس محکمے کے سربراہ کے خلاف سخت قانونی کاروائی کیا جائے گا اور کسی بھی ملازم کو ضمنی الیکشن میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ پیدا کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی تاکہ ووٹنگ کا عمل شفاف اور اسان رہے.

خبرنامہ نمبر3320/2026
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم بلوچ کے خصوصی ہدایات پر اسسٹنٹ کمشنر مستونگ محمد جان جمالدینی نے اے سی انڈر ٹریننگ اسرار شاہوانی۔ندیم بنگلزئی۔ میونسپل کمیٹی ٹیکس محرر شاہ محمد و سٹی پولیس کے اے ایس آئی امجد پولیس و میونسپل کمیٹی کے دیگر افیشلز نے پولیس فورسز کی بھاری نفری کے ہمراہ میجر چوک اور ہائی وے پر کاروائی کرتے ہوئے روڈ کنارے قائم قبضے ختم اور ناجائز تجاوزات کے خلاف سخت کریک ڈاون کیاگیا۔قبضہ مافیاں اور قائم ناجائز تجاوزات کو مسمار کرکے ملبہ قبضے میں لے لیاگیا۔اس دوران روڈ کنارے تڑوں ریڑیوں اور چابڑیوں کو بھی ہٹا دیاگیا۔جبکہ پیٹرول کے دکانوں کیسامنے لگائے گئے تیل یونٹس کو دو دن میں ہٹانے کا نوٹس بھی دیا۔اور وارننگ دی کہ از خود انہیں ہٹادے۔اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنرمستونگ محمد جان جمالدینی نے گفتگوکرتے ہوئے کہاکہ قومی شاہراہ پر میجرچوک سمیت دیگرملحقہ آبادی والے علاقوں میں کئی عرصہ سے قبضہ مافیاں نے غیرقانونی قبضہ کیاہوا تھا اور ناجائز تجاوزات قائم کئے گئے تھے جس سے ٹریفک کے مسائل اور عوام کو سخت دشواری کاسامنا تھاہم نے انہیں پہلے ہی متنبہ کیاتھا کہ وہ رضاکارانہ طور پر از خود تجاوزات ختم کرے۔جس کے خلاف سخت کاروائی عمل میں لائی گئی۔ناجائز تجاوزات کے خلاف کاروائی مزید تیز کی جارہی ہیں۔انھوں نے کہاکہ مستونگ شہر میں بہت جلد ناجائز تجاوزات کے خلاف کریک ڈاون کیاجائے گا۔۔اور ناجائزتجاوزات قائم کرنے والے فوری طور پر ازخود تجاوزات ہٹادے بصورت دیگر انکے خلاف سخت کاروائی عمل میں لائی جائیگی اور سامان بھی ضبت کیاجائے گا۔قانون سے کوئی بالاتر نہیں ہے۔

خبرنامہ نمبر3321/2026
دکی: وزیرِ اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن کے مطابق ڈپٹی کمشنر دکی محمد نعیم خان کی زیرِ صدارت ایک اہم کھلی کچہری منعقد ہوئی، جس میں کمانڈر 87 ونگ کرنل شاہد بلال، ایس پی دکی منصور احمد بزدار، مختلف سرکاری محکموں کے افسران اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ تقریب کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے کیا گیا، جس کے بعد شہریوں کو اپنے مسائل پیش کرنے کا موقع دیا گیا۔ کھلی کچہری کے دوران عوام نے صحت کی سہولیات کی کمی، صاف پانی کی فراہمی، اسٹریٹ لائٹس، نکاسی آب کے مسائل، سڑکوں کی خستہ حالی، منشیات کی روک تھام، ٹریفک کے مسائل، سپورٹس سہولیات، انٹرنیٹ سروسز اور دیگر بنیادی مسائل کھل کر بیان کیے۔ ڈپٹی کمشنر نے مسائل کو نہایت توجہ اور سنجیدگی سے سنا اور موقع پر موجود متعلقہ محکموں کے افسران کو فوری کارروائی کے احکامات جاری کیے، جبکہ چند پیچیدہ مسائل کے حل کی آئندہ چند دنوں میں یقین دہانی بھی کرائی گئی۔ ایس پی دکی نے منشیات کی روک تھام میں شہری تعاون کی اہمیت پر زور دیا اور کرنل شاہد بلال نے امن و امان کی مضبوطی کے لیے تجاویز پیش کیں۔ ڈپٹی کمشنر نے غیر قانونی افغان باشندوں کے حوالے سے واضح کیا کہ جس نے بھی غیر قانونی افغان باشندوں کو مکان دیا یا کاروبار میں شامل کیا، اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ آخر میں شہریوں کو اعتماد دلایا گیا کہ ضلعی انتظامیہ عوامی خدمت کے لیے ہر وقت کوشاں ہے اور کھلی کچہریوں کا یہ سلسلہ عوام اور انتظامیہ کے درمیان براہِ راست رابطے کے لیے جاری رہے گا تاکہ مسائل بروقت اور مؤثر طریقے سے حل کیے جا سکیں۔

خبرنامہ نمبر3322/2026
کوئٹہ میں PDMA کے دفتر میں آج صوبائی سطح پر ایک اہم اسٹیک ہولڈرز ویلیڈیشن ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا۔ اس ورکشاپ کا موضوع ”خشک سالی سے نمٹنے کے لیے پیشگی اقدامات (Anticipatory Action Planning) کے لیے کانٹیکسٹ اینالیسس کی توثیق” تھا، جس میں مختلف سرکاری و غیر سرکاری اداروں کے نمائندگان نے شرکت کی۔یہ ورکشاپ FAO، WFP اور SCAP بلوچستان کے تعاون سے منعقد کی گئی، جس کا مقصد ضلع نوشکی میں خشک سالی کے اثرات، خطرات اور ان سے نمٹنے کے لیے مؤثر حکمت عملی مرتب کرنا تھا۔ورکشاپ کا آغاز رجسٹریشن اور تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جس کے بعد شرکاء کو خوش آمدید کہا گیا۔ ابتدائی سیشن میں ریزیلینس بلڈنگ پروجیکٹ (IDP) کا تعارف پیش کیا گیا جبکہ PDMA کے نمائندوں نے افتتاحی کلمات ادا کرتے ہوئے ادارے کے کردار اور ذمہ داریوں پر روشنی ڈالی۔اس موقع پر SCAP بلوچستان کے سی ای او Mr. Hassan نے بھی ورکشاپ میں شرکت کی، جہاں انہوں نے منصوبے کی تفصیلات شرکاء کے ساتھ شیئر کیں۔
انہوں نے اپنے خطاب میں کہا:”خشک سالی جیسے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے بروقت اور پیشگی اقدامات نہایت ضروری ہیں، اور یہ صرف مضبوط ادارہ جاتی تعاون اور کمیونٹی کی شمولیت سے ہی ممکن ہے۔”تکنیکی سیشن میں ڈاکٹر محمد عادل نے نوشکی کے موسمی خطرات، قدرتی آفات اور ان کے سماجی و معاشی اثرات پر تفصیلی پریزنٹیشن دی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ خشک سالی خوراک کی قلت، روزگار اور ماحولیاتی نظام پر گہرے اثرات مرتب کرتی ہے۔ورکشاپ کے دوران اینٹیسیپیٹری ایکشن (AA) کے اہم پہلوؤں پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا، جن میں ابتدائی وارننگ سسٹم، پیشگی منصوبہ بندی اور مالی وسائل کی فراہمی شامل ہیں۔ گروپ ورک سیشن میں شرکاء نے ادارہ جاتی تیاری، مستحق افراد کے انتخاب کے معیار، اور آئندہ کے اقدامات پر تفصیلی گفتگو کی۔آخر میں ورکشاپ کے اختتام پر شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ خشک سالی جیسے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔

خبرنامہ نمبر3323/2026
اسلام آباد،27 مارچ:بلوچستان سرمایہ کاری بورڈ کے وائس چیئرمین بلال خان کاکڑ نے جمہوریہ ازبکستان کے سفیر علی شیر تختایوف سے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں باہمی دلچسپی کے مختلف شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے اور دوطرفہ تجارتی و سرمایہ کاری تعلقات کو مزید مستحکم بنانے پر تفصیلی تبادلہ خیال اور خصوصاً گوادر بندرگاہ میں سرمایہ کاری کے مواقع کا جائزہ لیاگیا ا،س موقع پر اس امر پر زور دیا گیا کہ گوادر بندرگاہ خطے میں تجارتی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے نہایت اہم حیثیت رکھتی ہے اور ازبک سرمایہ کاروں کے لیے یہاں وسیع امکانات موجود ہیں۔ملاقات میں زرعی شعبے خصوصاً زیتون کی کاشت کے فروغ پر بھی گفتگو کی گئی اور اس بات پر اتفاق کیاگیا کہ بلوچستان کے موسمی اور جغرافیائی حالات زیتون کی کاشت کے لیے نہایت موزوں ہیں اور اس شعبے میں مشترکہ منصوبے نہ صرف زرعی پیداوار میں اضافہ کریں گے بلکہ مقامی معیشت کو بھی مضبوط بنائیں گے۔ بلال خان کاکڑ نے اس موقع پر کہا کہ حکومت بلوچستان ازبکستان کے ساتھ اقتصادی تعاون کو نئی بلندیوں تک لے جانا چاہتی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان مضبوط تعلقات خطے میں اقتصادی ترقی کے لیے نہایت اہم ہیں۔اس موقع پر سفیر ازبکستان علی شیر تختایوف نے بلوچستان میں سرمایہ کاری کے مواقع میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا اور کہا کہ ازبکستانپاکستان کے ساتھ اپنے اقتصادی تعلقات کو مزید وسعت دینا چاہتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعاون سے باہمی فوائد حاصل ہوں گے اور خطے میں خوشحالی کو فروغ ملے گا۔

خبرنامہ نمبر3324/2026
کوئٹہ، 26 مارچ 2026 صوبائی سیکرٹری وومن ڈویلپمنٹ متحرمہ سائر ہ عطاء نے کہا کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی خصوصی ہدایات پر بلوچستان میں خواتین کو صنفی امتیاز کے خاتمے اور اْن کو معاشرے میں باعزت اور محفوظ ماحول میں تعلیم، ملازمت اور ہنرمند بنانے کے لئے مواقع فراہم کررہی ہے۔ یہ بات انہوں نے جمعہ کے روز محکمہ پولیس کے تحت خواتین، بچوں اور نابالغوں کے تحفظ اور صنفی امتیاز کے خلاف قائم سینٹر اور مختلف سرکاری اور غیرسرکاری اداروں کی جانب سے عالمی خواتین کے دن کی مناسبت سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ تقریب میں صوبائی خاتون محتسب برائے ہرانسگی محترمہ طاہر ہ بلوچ، ڈی آئی جی ہیڈکوارٹر بلوچستان پولیس حسن اسد علوی، اے آئی جی جنیڈر اسرار احمد عمرانی، ریذیڈینٹ ڈائریکٹر عورت فاؤنڈیشن بلوچستان علاؤالدین خلجی، کوآرڈینیٹر عورت فا?نڈیشن بلوچستان یاسمین مغل، صوبائی لیڈ یو این وومن برائے بلوچستان عائشہ ودود، یواین آئی ایف پی اے شمائلہ، منیجر بینظیر وومن کراسس سینٹر کوئٹہ روبینہ زہری، نیشنل کمیشن وومن رائٹس محمد علی، بی آر ایس پی سائمہ جاوید، ڈبلیو جے ایف سی سائیکالوجسٹ عمہ عطاء، انچارچ ڈبلیو جے ایف سی شازیہ عمران، اسلامک ریلیف روبینہ کوثر اور پی ڈی ایم اے کے رابعہ ذاکر سمیت دیگر نمائندے بھی موجود تھے۔صوبائی سیکرٹری ویمن ڈویلپمنٹ سائرہ عطائنے کہا کہ خواتین کے حقوق کو تقریروں سے آگے بڑھ کر عملی اقدام تک جانا چاہیے کیونکہ خواتین پہلے ہی بہت سے شعبوں میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کر رہی ہیں۔اس تاریخی اقدام نے پاکستان کے معتبر، معیاری صنفی رپورٹنگ اور طویل مدتی احتساب کی طرف سفر کا آغاز کیا۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں خواتین کو کام کی جگہ پر ہراساں کرنے کے خلاف تحفظ کا قانون 2016 اس خیال کے ساتھ متعارف کیا گیا کہ اداروں کے اندر ایسا محفوظ ماحول قائم کیا جائے جہاں خواتین اور مرد بلا خوف و خطر کام کر سکیں۔ اس قانون کے ذریعے ہراسانی کی شکایات درج کروانے کے لیے باقاعدہ نظام فراہم کیا گیا ہے۔ہر ادارے کے لیے لازم ہے کہ وہ اس قانون کے تحت ایک انکوائری کمیٹی تشکیل دے اور ہراسانی کے خلاف واضح پالیسی اپنائے۔یہ قانون اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ کام کی جگہ پر پیش آنے والے واقعات کی بروقت اور شفاف تحقیقات ہوں اور متاثرہ افراد کو انصاف فراہم کیا جائے۔ اس کے علاوہ اداروں پر یہ ذمہ داری بھی عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے ملازمین کو اس حوالے سے آگاہی فراہم کریں اور ایک باوقار، محفوظ اور پیشہ ورانہ ماحول کو فروغ دیں۔ بلوچستان میں خواتین کے حقوق کے حوالے سے مختلف اقدامات کیے جا رہے ہیں، تاہم عملی سطح پر ابھی بھی بہت سے مسائل موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اعداد و شمار کے مطابق 2025 تک خواتین کے خلاف تشدد کے متعدد واقعات رپورٹ ہوئے، جن میں گھریلو تشدد، ہراسانی اور دیگر جرائم شامل ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان مسائل کے حل کے لیے نہ صرف قانون سازی بلکہ اس پر موثر عملدرآمد بھی ضروری ہے۔بلوچستان میں خواتین کی ترقی کے لیے ضروری ہے کہ تعلیم، صحت اور روزگار کے شعبوں میں مزید سرمایہ کاری کی جائے اور خواتین کو فیصلہ سازی کے عمل میں شامل کیا جائے۔ اس کے بغیر پائیدار ترقی کا حصول ممکن نہیں۔تقریب میں موجود غیرسرکاری تنظیموں کے نمائندوں نے اپنے خیالات کا اظہار کر تے ہوئے کہا کہ خواتین پر تشدد کے خاتمے کے لئے قائم ایو اجی الائنس عورت فاؤنڈیشن، یو این وومن، بلوچستان رورل سپورٹ پروگرام، ترقی فاؤنڈیشن اور سوسائٹی فارکمیونٹی سٹرئننگ اینڈپروموشن آف ایجوکیشن بلوچستان اور احساس پی کے بلوچستان نے سال 2026میں اس دن کے حوالے سے مختلف سرگرمیوں کا اہتمام کیا ہے اس طرح مختلف اضلاع کے نوجوان طلباء اور طالبات کے ساتھ صنفی تشدد کے خاتمے، خواتین کے حقوق، انصاف اور اس کے لیے عملی اقدامات کے موضوع پر پروگرام منعقد کیے گئے ہیں ان سرگرمیوں کا مقصد نوجوان نسل کو صنفی برابری، خواتین کے حقوق اور انصاف کی فراہمی کے حوالے سے آگاہ کرنا ہے۔اس موقع پر ڈی آئی جی پولیس ہیڈکوارٹر بلوچستان پولیس حسن اسد علوی نے کہا ہے کہ صوبے میں خواتین کو بااختیار بنانے اور پولیس نظام کو عوام دوست بنارہے ہیں۔سینٹر ل پولیس آفس اور مختلف اضلاع میں اعلیٰ اور کلاس فور کے عہدوں پر تعینات خواتین اپنی اہم ذمہ داریاں خوش اسلوبی اور ذمہ داری سے انجام دے رہی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ خواتین پولیس اہلکار اب مختلف تھانوں میں کمپلینٹ آفیسر، نائب محرر، کمپیوٹر آپریٹر سمیت دیگر انتظامی و فیصلہ ساز ذمہ داریاں انجام دے رہی ہیں۔ ان تعیناتیوں کے نتیجے میں خواتین اہلکاروں نے گھریلو تشدد سمیت خواتین اور عام شہریوں کو درپیش مسائل کی شنوائی اور فوری حل کے لیے فعال اور متحرک کردار ادا کرنا شروع کر دیا ہے، جس سے عوامی اعتماد میں نمایاں اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان اصلاحات کے ذریعے پولیس اسٹیشنز میں خواتین سمیت تمام سائلین کے لیے ایک محفوظ، باوقار اور اعتماد پر مبنی ماحول کی فراہمی ممکن بنائی جا رہی ہے، تاکہ عوام بلا خوف و جھجک اپنی شکایات درج کروا سکیں گے۔مختلف شعبوں میں پاکستانی خواتین کی خدمات کو سراہتے ہوئے ڈی آئی جی ہیڈکوارٹرز نے کہا کہ مساوی مواقع ملنے سے خواتین کسی بھی شعبے میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کر سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا مذہب اسلام خواتین کے حقوق کے تحفظ اورحسن سلوک کا درس دیتا ہے۔ہماری معاشرتی و خاندانی اقدار اور روایات ایک ایسے مہذب معاشرے کی تشکیل کی علمبردار ہیں، جہاں عورت کو حقوق،آزادی،اہمیت اور احترام حاصل ہو، تاکہ وہ اپنی بہترین ذہنی و جسمانی صلاحیتیں اور استعداد کار بروئے کار لا کر تعلیم،صحت اور روزگار سمیت تمام شعبہ ہائے زندگی میں تعمیر و ترقی کے لئے دستیاب مواقعوں اور سہولیات سے بھرپور استفادہ کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کو ہمارے معاشرے میں نہایت اہم مقام حاصل ہے ملکی ترقی میں خواتین کے کردار سے انکار نہیں کیا جا سکتاتاہم خواتین کو معاشرے میں اپنے امور بلا خوف و خطر سرانجام دینے کیلئے ایک سازگار ماحول فراہم کرنا ہم سب کی انفرادی اور اجتماعی ذمہ داری ہے تاکہ خواتین اپنے آپ کو محفوظ سمجھیں خواتین کا تحفظ اور ان کے مسائل کا فوری حل بلوچستان پولیس کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔خواتین کی عزت و تکریم اور عصمت و عفت کی حفاظت،معاشی خود مختاری اورجنسی استحصال سے تحفظ یقینی بناناخواتین کو معاشرے میں تمام حیثیتوں میں اس کا جائز مقام دلوانا ہمارا بنیادی فریضہ ہے۔ تقریب میں صوبائی خاتون محتسب برائے انسدادہرانسگی طاہر ہ بلوچ نے کہا کہ بلوچستان میں خواتین کی ایک بڑی تعداد اب بھی بنیادی سہولیات سے محروم ہے، خصوصاً دیہی علاقوں میں تعلیم اور صحت کی سہولیات کا فقدان نمایاں ہے۔ اگر خواتین کو مساوی مواقع فراہم کیے جائیں تو وہ معاشرے کی ترقی میں بھرپور کردار ادا کر سکتی ہیں۔سرکاری اور غیر سرکاری ادارے خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے مختلف پروگرامز پر کام کر رہے ہیں۔ ان پروگرامز کا مقصد خواتین کو تعلیم، ہنر اور روزگار کے مواقع فراہم کرنا ہے تاکہ وہ خود کفیل بن سکیں۔ اس کے ساتھ ساتھ خواتین کے خلاف تشدد کے خاتمے اور ان کے قانونی حقوق کے تحفظ کے لیے بھی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لیے معاشرتی رویوں میں تبدیلی ناگزیر ہے۔ جب تک خواتین کو برابر کا شہری تسلیم نہیں کیا جائے اس وقت تک حقیقی ترقی ممکن نہیں ہو سکے گی۔ اس دن کے حوالے سے خواتین کی جد و جہد، قربانیوں اور کامیابیوں کو خراج تحسین پیش کرنے کے ساتھ ساتھ صنفی مساوات، خواتین کے حقوق اور ان کے خلاف ہونے والے تشدد کے خاتمے کے عزم کی تجدید کے ساتھ مٹایا جاتاہے۔ انہوں نے کہا کہ انسداد ہرانسگی کے لئے ادارہ موجود ہیں اور ہمارے دروازے تمام خواتین کے لئے کھُلے اور ان کی شکایات کا فوری ازالے کے لئے موجود نظام کے تحت داد رسی کی جائے گی۔

خبرنامہ نمبر3325/2026
کوہلو27 مارچ۔بلوچستان ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام ضلع کوہلو کے تحصیل کاہان میں پہلی بار داخلہ مہم کا انعقاد کرتے ہوئے تعلیمی میدان میں ایک اہم سنگِ میل عبور کر لیا گیا۔ اس مہم کا مقصد علاقے میں شرحِ خواندگی بڑھانا اور اسکول سے باہر بچوں کو تعلیم کے دھارے میں شامل کرنا ہے۔ ڈسٹرکٹ سپروائزر بی ای ایف کی زیر نگرانی کمیونٹی اسکول گہنڑازئی جنتلی میں ایک بڑی آگاہی ریلی نکالی گئی، جس میں پی ٹی ایس ایم سی نمائندگان، اساتذہ، طلبہ، والدین اور مختلف سماجی حلقوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے بھرپور شرکت کی۔ شرکاء نے تعلیم کی اہمیت کو اجاگر کرنے کیلئے بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے، جبکہ علاقے میں داخلہ مہم کے حوالے سے شعور بیدار کیا گیا۔ یہ ریلی تحصیل کاہان کی تاریخ میں اپنی نوعیت کی پہلی سرگرمی تھی جسے عوامی سطح پر بے حد سراہا گیا۔ ریلی کے بعد کمیونٹی اسکول جنتلی میں ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں اساتذہ اور پی ٹی ایس ایم اراکین نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران داخلہ مہم کو مزید مؤثر بنانے، گھر گھر جا کر والدین سے رابطہ کرنے اور ہر بچے کو اسکول تک لانے کیلئے عملی حکمت عملی طے کی گئی۔ شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ مشترکہ کاوشوں سے علاقے میں تعلیمی انقلاب برپا کرنے میں اپنا کردار ادا کریں گے۔ مزید برآں، بی ای ایف حکام نے مختلف کمیونٹی گروپس کے ساتھ علیحدہ ملاقاتیں بھی کیں، جن میں مہم کی کامیابی کیلئے باہمی تعاون، رابطوں کے فروغ اور کمیونٹی کی بھرپور شمولیت پر زور دیا گیا۔ مقامی عمائدین نے بھی بی ای ایف کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ علاقائی عمائدین نے بی ای ایف کے کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس نوعیت کی سرگرمیاں نہ صرف والدین میں شعور بیدار کرتی ہیں بلکہ بچوں کے روشن مستقبل کی بنیاد بھی فراہم کرتی ہیں۔ بلوچستان ایجوکیشن فاؤنڈیشن کی جانب سے اٹھایا گیا یہ قدم پسماندہ علاقوں میں تعلیم کے فروغ اور سماجی ترقی کیلئے نہایت اہمیت کا حامل ہے، جس کے مثبت اثرات مستقبل میں نمایاں طور پر سامنے آئیں گے۔

خبرنامہ نمبر3326/2026
چمن 27 مارچ:ضلعی انتظامیہ چمن نے UNICEF کے اشتراک سے ضلع بھر میں نوجوان لڑکیوں اور لڑکوں کو بااختیار بنانے کے لیے اسکل ڈویلپمنٹ پروگرامز کا کامیابی سے آغاز کیا ہے۔ ان اقدامات میں بیکنگ اور کوکنگ ٹریننگ پروگرام ایک نمایاں کامیابی کے طور پر سامنے آیا ہے۔اسکول ڈیولپمنٹ پروگرام جولائی 2025 میں گورنمنٹ گرلز مڈل اسکول سباؤن میں شروع کیا گیا تھا، جو اب تکمیل کے قریب ہے۔ اس پروگرام کے تحت مختلف اسکولوں سے تعلق رکھنے والی 50 سے زائد طالبات کو پیشہ ورانہ بیکنگ اور کوکنگ کی تربیت دی گئی ہے۔ ضلعی انتظامیہ کے ایک افسر نے کہا کہ ہمیں اس بات پر فخر ہے کہ ان طالبات نے نہ صرف قیمتی ہنر سیکھے بلکہ انہیں عملی طور پر استعمال کرتے ہوئے مالی خودمختاری بھی حاصل کر لی ہے۔ ان میں سے اکثریت نے گھریلو سطح پر کاروبار شروع کر دیا ہے اور خاطر خواہ آمدن حاصل کر رہی ہیں، جس سے وہ اپنے گھریلو اخراجات میں بھی نمایاں کردار ادا کر رہی ہیں۔یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ اسکول کی سطح پر (خصوصاً لڑکوں کے لیے) دو مزید ٹیکنیکل سینٹرز قائم کیے گئے ہیں، جہاں ریفریجریشن، ہیٹنگ اینڈ کولنگ سسٹمز، اور میڈیکل ٹیکنیکل کورسز کی تربیت فراہم کی جا رہی ہے۔ یہ مراکز نوجوانوں کو عملی اور مارکیٹ میں طلب رکھنے والی مہارتوں سے آراستہ کر رہے ہیں، جو روزگار اور کاروبار کے نئے مواقع پیدا کریں گے۔ضلعی انتظامیہ چمن کی مسلسل کوششیں بتدریج معاشرتی سوچ میں مثبت تبدیلی لا رہی ہیں، اعتماد کو فروغ دے رہی ہیں، اور نئی نسل کو علم اور ہنر کے ذریعے ترقی کی راہ پر گامزن کر رہی ہیں۔

خبرنامہ نمبر3327/2026
دکی27مارچ:ڈپٹی کمشنر دکی محمد نعیم خان کی زیر صدارت ایک اہم مشاورتی اجلاس منعقد ہوا جس میں کمانڈر 87 ونگ کرنل شاہد بلال، اسسٹنٹ کمشنر دکی محمد اکرم حریفال، تحصیلدار دکی سردار عبدالرازق دمڑ، کول سپلائرز ایسوسی ایشن اور ٹرک ایسوسی ایشن کے نمائندگان نے شرکت کی۔ اجلاس میں گزشتہ چند دنوں سے کول سپلائرز اور ٹرک ایسوسی ایشن کے درمیان کرایوں اور لوڈنگ کے معاملات پر پیدا ہونے والے تنازعات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ ڈپٹی کمشنر نے دونوں فریقین کے مسائل سنے اور باہمی مشاورت کے ذریعے معاملات کو خوش اسلوبی سے حل کرنے کی ہدایت جاری کی، جبکہ واضح کیا کہ کسی بھی قسم کی بدامنی یا غیر قانونی اقدام ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت دی کہ آئندہ ایسے مسائل کے تدارک کے لیے مؤثر حکمت عملی اپنائی جائے تاکہ کاروباری سرگرمیاں بلا تعطل جاری رہیں اور علاقے میں امن و امان برقرار رہے۔

خبرنامہ نمبر 3328/2026
گوادر: ڈپٹی کمشنر نقیب اللہ کاکڑ کی ہدایت پر ضلع بھر میں حالیہ بارشوں کے بعد نکاسی آب، صفائی اور ہنگامی ریلیف سرگرمیوں کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے۔ اسسٹنٹ کمشنر گوادر سعد کلیم ظفر اور اسسٹنٹ کمشنر پسنی خسرو دلاوری کی زیر نگرانی بلدیہ گوادر، بلدیہ پسنی اور بلدیہ جیوانی کی ٹیمیں متحرک ہیں اور مختلف متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔انتظامیہ کے مطابق نیاآباد، شمبے اسماعیل اور دیگر نشیبی علاقوں میں بلدیہ گوادر اور نیوٹاؤن ہاؤسنگ اسکیم کی ٹیمیں مشترکہ طور پر نکاسی آب میں مصروف ہیں، جہاں بھاری مشینری اور دستی وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں تاکہ شہریوں کو فوری ریلیف فراہم کیا جا سکے۔ ٹیموں نے رات گئے تک آپریشن جاری رکھتے ہوئے جمع شدہ پانی کے اخراج کو یقینی بنایا۔
دریں اثناء اسماعیلیہ وارڈ سمیت مختلف علاقوں میں بھی نکاسی آب کا عمل جاری ہے جبکہ جیوانی میں بلدیہ کی ٹیم مسلسل فیلڈ میں موجود رہ کر صورتحال کو کنٹرول کرنے میں مصروف ہے۔ضلعی انتظامیہ نے ممکنہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ایمرجنسی کنٹرول روم بھی قائم کر دیا ہے اور شہریوں سے اپیل کی ہے کہ کسی بھی نقصان یا پریشانی کی صورت میں فوری طور پر اطلاع دیں تاکہ بروقت کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔انتظامیہ کا کہنا ہے کہ صورتحال معمول پر آنے تک صفائی، نکاسی آب اور ریلیف سرگرمیاں بلا تعطل جاری رہیں گی تاکہ عوام کو درپیش مشکلات کا جلد ازالہ ممکن بنایا جا سکے۔

خبرنامہ نمبر 3329/2026
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن کے مطابق زیارت کی خوبصورتی کو مزید نکھارنے اور ماحول دوست اقدامات کو فروغ دینے کے لیے ایک محکمہ زراعت زیارت کی جانب سے اہم شجرکاری مہم کا انعقاد کیا گیا۔ڈپٹی کمشنر عبدالقدوس اچکزئی نے ڈپٹی کمشنر ہاؤس اور افس زیارت میں پودے لگانے اور پھولوں کی افزائش (Plantation & Flowering) کا کام کیا گیا۔ اس موقع پر ڈپٹی ڈائریکٹر زراعت توسیعی حاجی نذیر احمد انیزئی بھی موجود تھےڈپٹی کمشنر عبدالقدوس اچکزئی نے کہا کہ درخت اور پھول نہ صرف ہماری زمین کا زیور ہیں بلکہ یہ آنے والی نسلوں کے لیے ایک صحت مند ماحول کی ضمانت بھی ہیں۔ زیارت کی قدرتی خوبصورتی کو برقرار رکھنا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ آئیے! مل کر اپنے حصے کا ایک پودا لگائیں اور اس کی حفاظت کا عہد کریں تاکہ ہمارا شہر کلین اور گرین رہے۔

خبرنامہ نمبر 3330/2026
ڈپٹی کمشنر قلعہ سیف اللہ ساگر کمار سے نواب ایاز خان جوگیزئی کی ملاقات ، اس دوران علاقے کے مسائل پر تفصیلی گفتگو ہوئی اور عوام کو درپیش بنیادی مسائل پر روشنی ڈالی گئی۔ ملاقات میں خاص طور پر پینے کے صاف پانی ، صحت کی سہولیات، تعلیم، سڑکوں کی پختگی کے حوالے تبادلہ خیال کیا گیا ۔ ڈپٹی کمشنر ساگر کمار نے یقین دہانی کروائی کہ موجودہ صوبائی حکومت اور ضلعی انتظامیہ عوامی مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پانی کی فراہمی کو بہتر بنانے کے لیے نئے منصوبے زیر غور ہیں جبکہ صحت اور تعلیم کے شعبوں میں بھی مزید بہتری کے لیے متعلقہ محکموں کے ساتھ رابطہ کیا جا رہا ہے۔مزید برآں، سڑکوں کی تعمیر و مرمت کے لیے فنڈز کے حصول اور بجلی کے مسائل کے حل کے لیے متعلقہ اداروں سے بات چیت جاری رکھنے کا بھی عندیہ دیا گیا۔ ڈپٹی کمشنر نے اس بات پر زور دیا کہ عوامی نمائندوں اور انتظامیہ کے درمیان رابطہ مضبوط ہونا چاہیے تاکہ مسائل کو بروقت حل کیا جا سکے۔ملاقات کے اختتام پر دونوں رہنماؤں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ قلعہ سیف اللہ کی ترقی اور عوام کی فلاح و بہبود کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔

خبرنامہ نمبر 3331/2026
دکی: لونی کے علاقے کلی بختیار خان میں پولیس اور اے ٹی ایف نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے فائرنگ کے تبادلے میں دو مطلوب دہشتگرد ہلاک کر دیے۔ ڈی آئی جی لورالائی رینج جنید احمد شیخ کے مطابق ہلاک دہشتگردوں کی شناخت ثناء اللہ ولد ہیبت مری اور جمالہان ولد دولت عرف دولے مری کے نام سے ہوئی ہے، جو متعدد وارداتوں میں مطلوب تھے۔کارروائی کے دوران اے ٹی ایف کا ایک اہلکار زخمی بھی ہوا جبکہ دہشتگردوں سے بھاری مقدار میں اسلحہ برآمد کیا گیا۔ ڈی آئی جی کے مطابق دونوں دہشتگرد ماہ رمضان میں سیکیورٹی اہلکاروں پر حملوں اور ان کی شہادت میں بھی ملوث تھے۔ڈی آئی جی نے کامیاب کارروائی پر اے ٹی ایف اور پولیس اہلکاروں کے لیے تعریفی اسناد اور نقد انعامات کا اعلان کیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *