خبر نامہ نمبر3292/2026
کوئٹہ26 مارچ:۔گورنربلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا ہے کہ بحیثیت گورنر میں نے مکران ڈویژن کی تینوں یونیورسٹیوں کا پچھلے دو سالوں کے دوران کئی مرتبہ دورہ کیے، یونیورسٹی کانووکیشنز میں شرکت کی اور یونیورسٹی آف تربت کے تو مختلف سینیٹ اجلاسوں کی خود صدارت کی۔ جس کے نتیجے میں ہماری شعوری کوششوں اور سخت نگرانی کے شاندار نتائج برآمد ہونے لگے ہیں۔ خوشی کا لمحہ ہے کہ یونیورسٹی آف تربت کی رینکنگ %69 سے بڑھ کر %87 ہو چکی ہے۔ تربت یونیورسٹی کے پورے سسٹم کو ڈیجیٹلائز کرنے اور بجلی کے روایتی نظام کو سولر انرجی پر منتقل کرنے پر وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر گل حسن اور ان کی پوری ٹیم خراج تحسین کے مستحق ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے یونیورسٹی آف تربت کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر گل حسن کے ساتھ ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر گورنربلوچستان جعفرخان مندوخیل نے وائس چانسلر کو مارکیٹ کی نئی ضرورتوں کے مطابق سکل ڈویلپمنٹ پر توجہ مرکوز کرنے والے مختصر کورسز متعارف کرانے کی ہدایت کی۔ انہوں نے تربت کی مقامی معیشت میں کجھور کی پیداوار کے کلیدی کردار کے پیش نظر کجھور کی نئی ورائٹی متعارف کروانے اور عالمی معیار کے مطابق پیکیجنگ سکھانے کیلئے بھی حکمت عملی بنائیں۔ گورنر جعفرخان نے کہا کہ صوبہ میں ہائیر ایجوکیشن کے فروغ کو روز اول سے اولیت دی ہے اور ساتھ یہ بات بھی خوش آئند ہے کہ ہمارے ابھرتے نواجوان اپنے اساتذہ کرام اور تعلیمی اداروں کا بہت احترام کرتے ہیں۔ وائس چانسلر کا عہدہ ایک اعزاز ہونے کے ساتھ ساتھ ایک بڑی ذمہ داری بھی ہے لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ وہ اپنے منصب اور یونیورسٹی میں تمام دستیاب وسائل کو اپنے اعلیٰ تعلیمی ادارے اور متصل علاقوں کے ں ہترین مفاد میں بروئے کار لائیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ بات ہم سب کیلئے باعث فخر و مسرت ہے کہ یونیورسٹی آف تربت میں طالبات کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔ یونیورسٹی کی کارکردگی کو مزید بہتر بنانے کیلئے ٹیم ورک کی اشد ضرورت ہے۔
خبر نامہ نمبر3293/2026
کوئٹہ26مارچ:۔ پی ڈی ایم اے بلوچستان نے صوبے میں ممکنہ مون سون بارشوں اور اس سے پیدا ہونے والی ہنگامی صورتحال سے مؤثر طور پر نمٹنے کے لیے مون سون کنٹیجنسی پلان 2026 جاری کر دیا ہے۔اس جامع منصوبے کا مقصد صوبے بھر میں پیشگی تیاری، بروقت ردعمل، اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ کاری اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ قدرتی آفت کی صورت میں نقصانات کو کم سے کم رکھا جا سکے۔ پی ڈی ایم اے بلوچستان کی جانب سے جاری کردہ اس کنٹیجنسی پلان میں صوبے کے مختلف اضلاع اور حساس علاقوں کا تفصیلی تجزیہ کرتے ہوئے ان مقامات کی نشاندہی کی گئی ہے جو مون سون بارشوں کے دوران سیلابی ریلوں، ندی نالوں میں طغیانی، لینڈ سلائیڈنگ اور دیگر قدرتی خطرات سے زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں۔ منصوبے میں موسمیاتی تبدیلیوں کے تناظر میں گزشتہ برسوں کے تجربات، بارشوں کے رجحانات اور ممکنہ خطرات کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک جامع اور مربوط حکمت عملی مرتب کی گئی ہے تاکہ بروقت اقدامات کے ذریعے انسانی جانوں، املاک، زرعی زمینوں، مواصلاتی نظام اور بنیادی ڈھانچے کو ممکنہ نقصان سے محفوظ رکھا جا سکے۔کنٹیجنسی پلان کے تحت صوبے کے تمام متعلقہ سرکاری محکموں، ضلعی انتظامیہ، امدادی اداروں اور سروس فراہم کرنے والے اداروں کو واضح ذمہ داریاں تفویض کر دی گئی ہیں جبکہ کسی بھی ممکنہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے وسائل کی بروقت فراہمی اور اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ کاری کو یقینی بنانے کے لیے جامع انتظامات کیے گئے ہیں۔ اس سلسلے میں بھاری مشینری، ریسکیو آلات، طبی سہولیات، ادویات، ایمبولینس سروسز، صاف پانی کی فراہمی، نکاسی آب کے انتظامات اور دیگر ہنگامی امدادی سامان کو پہلے سے دستیاب رکھنے کے اقدامات کیے گئے ہیں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال میں فوری اور مؤثر امدادی کارروائیاں ممکن بنائی جا سکیں۔منصوبے کے تحت ممکنہ متاثرہ علاقوں کے لیے محفوظ مقامات اور عارضی پناہ گاہوں کی نشاندہی بھی کر دی گئی ہے جہاں ضرورت پڑنے پر متاثرہ افراد کو فوری طور پر منتقل کر کے انہیں خوراک، طبی امداد، صاف پانی اور دیگر بنیادی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ضلعی سطح پر ہنگامی ردعمل کے نظام کو فعال رکھنے اور امدادی سرگرمیوں کی نگرانی کے لیے مربوط میکنزم وضع کیا گیا ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری فیصلے اور مؤثر اقدامات یقینی بنائے جا سکیں۔پی ڈی ایم اے بلوچستان نے صوبائی، ڈویژنل اور ضلعی سطح پر فوکل پرسنز بھی مقرر کیے ہیں تاکہ تمام متعلقہ اداروں کے درمیان معلومات کے بروقت تبادلے، رابطہ کاری اور امدادی سرگرمیوں میں ہم آہنگی کو یقینی بنایا جا سکے۔ منصوبے میں غیر سرکاری تنظیموں، رضاکارانہ اداروں، اقوام متحدہ کے شراکت دار اداروں اور دیگر امدادی تنظیموں کے ساتھ تعاون کو بھی شامل کیا گیا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ قدرتی آفت کی صورت میں مشترکہ اور مؤثر ردعمل فراہم کیا جا سکے۔پی ڈی ایم اے بلوچستان نے تمام متعلقہ اداروں، ضلعی انتظامیہ اور ریسکیو سروسز کو ہدایت جاری کی ہے کہ وہ مون سون سیزن کے دوران مکمل الرٹ رہیں، پیشگی حفاظتی اقدامات کو یقینی بنائیں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے اپنی تیاری برقرار رکھیں۔ عوام سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ وہ مون سون کے دوران احتیاطی تدابیر اختیار کریں، ندی نالوں اور سیلابی راستوں کے قریب غیر ضروری نقل و حرکت سے گریز کریں، موسمی صورتحال سے متعلق سرکاری ہدایات پر عمل کریں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال کی صورت میں متعلقہ اداروں سے فوری رابطہ کریں تاکہ بروقت اقدامات کے ذریعے کسی بھی ممکنہ نقصان سے بچا جا سکے۔
خبر نامہ نمبر3294/2026
کوئٹہ 26مارچ۔ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل)کوئٹہ محمد انور کاکڑ کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ ایجوکیشن گروپ کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں محکمہ تعلیم سمیت متعلقہ اداروں کے افسران اور اہلکاروں نے شرکت کی۔اجلاس میں ضلع بھر کے نان فنکشنل اسکولوں کو فعال بنانے کے حوالے سے پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اس کے ساتھ ساتھ غیر حاضر اساتذہ و عملے کے خلاف کارروائی، اسکولوں میں تجاوزات کے خاتمے اور تعلیمی نظام کو مزید بہتر بنانے سے متعلق امور زیر غور آئے۔ شرکاء کو ہدایت دی گئی کہ وہ اسکولوں کی فعالیت، حاضری اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) نے اس بات پر زور دیا کہ تعلیم کے شعبے میں بہتری کے لیے تمام متعلقہ محکمے باہمی رابطہ اور تعاون کو مزید مضبوط بنائیں اور درپیش مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ اقدامات اٹھائیں۔
خبر نامہ نمبر3295/2026
اسلام آباد 26مارچ: بلوچستان سرمایہ کاری بورڈ کے وائس چیئرمین بلال خان کاکڑ نے گزشتہ روز یہاں ترکیہ کے سفیر ڈاکٹر عرفان نذیراوغلو سے ملاقات کی، جس میں دوطرفہ تجارت، سرمایہ کاری اور باہمی تعاون کو فروغ دینے کے امکانات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے بلوچستان میں موجود وسیع سرمایہ کاری مواقع پربات چیت کی۔ اس موقع پر اس بات پر زور دیا گیا کہ ماہی گیری (سی فوڈ)، زراعت اور لائیو اسٹاک شعبوں میں مشترکہ منصوبوں (جوائنٹ وینچرز) کے ذریعے نہ صرف مقامی معیشت کو فروغ دیا جا سکتا ہے بلکہ پاکستان اور ترکیہ کے درمیان تجارتی تعلقات کو بھی مزید مستحکم بنایا جا سکتا ہے۔اس موقع پر بلال خان کاکڑ نے کہا کہ بلوچستان قدرتی وسائل، ساحلی پٹی اور زرعی صلاحیتوں کے حوالے سے بے پناہ مواقع رکھتا ہے اور ترکیہ کے سرمایہ کاروں کے لیے یہ ایک موزوں اور پرکشش خطہ ہے۔ انہوں نے ترک کمپنیوں کو دعوت دی کہ وہ بلوچستان میں سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھائیں اور مقامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر پائیدار ترقی میں کردار ادا کریں۔اس موقع پر سفیر ڈاکٹر عرفان نذیراوغلو نے پاکستان خصوصاً بلوچستان میں سرمایہ کاری میں گہری دلچسپی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ترکی پاکستان کے ساتھ اپنے برادرانہ تعلقات کو مزید وسعت دینا چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے نجی شعبے کے درمیان روابط کو مضبوط بنا کر تجارت اور سرمایہ کاری میں نمایاں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔
خبر نامہ نمبر3296/2026
تربت26مارچ:۔ڈپٹی کمشنر کیچ یاسر اقبال دشتی کی خصوصی ہدایت پر یونین کونسل کپکپار بلنگور میں حفاظتی بند کی تعمیر و بحالی کے کام کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے۔حالیہ طوفانی بارشوں کے باعث حفاظتی بند کو شدید نقصان پہنچا تھا جس سے علاقے میں سیلابی صورتحال کا خدشہ پیدا ہو گیا تھا۔ ڈپٹی کمشنر کیچ یاسر اقبال دشتی نے صورتحال کی نزاکت کو مدنظر رکھتے ہوئے فوری نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ محکمہ کو ہنگامی بنیادوں پر موقع پر روانہ کیا اور تعمیراتی کام جلد از جلد شروع کرنے کی ہدایت جاری کی۔ضلعی انتظامیہ کیچ کی بروقت کارروائی کے نتیجے میں حفاظتی بند کی بحالی کا عمل تیزی سے جاری ہے جس سے نہ صرف ممکنہ خطرات کو کم کیا جا رہا ہے بلکہ مقامی آبادی کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے مؤثر اقدامات بھی یقینی بنائے جا رہے ہیں۔ڈپٹی کمشنر کیچ نے واضح کیا کہ عوام کی جان و مال کا تحفظ ضلعی انتظامیہ کیچ کی اولین ترجیح ہے اور اس ضمن میں کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔
خبر نامہ نمبر3297/2026
تربت26مارچ:۔ ڈپٹی کمشنر کیچ یاسر اقبال دشتی کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ ایجوکیشن کمیٹی کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ضلع بھر کی تعلیمی صورتحال، اسکولوں کی فعالیت، اساتذہ کی حاضری اور جاری ترقیاتی منصوبوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر کیچ امجد شہزاد سمیت متعلقہ افسران اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے شرکت کی۔اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ضلع میں 102 کلسٹرز کے تحت 718 اسکول فعال ہیں، جن میں 116 شیلٹر لیس ہیں جبکہ 70 اسکول مختلف منصوبوں کے تحت چلائے جا رہے ہیں۔ ڈپٹی کمشنر نے شہری حدود سے باہر متعدد اسکولوں کی بندش پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری گراؤنڈ ویری فکیشن کے احکامات جاری کیے۔ڈپٹی کمشنر نے کرونک غیر حاضر اساتذہ کی رپورٹ طلب کرتے ہوئے سخت کارروائی کی ہدایت کی اور واضح کیا کہ نئے تعینات اساتذہ کی غیر حاضری ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے ہدایت دی کہ ہیڈماسٹرز، معتبرین اور مقامی آبادی سے رابطہ کرکے اسکولوں کی حقیقی صورتحال، حاضری اور داخلہ سے متعلق جامع رپورٹ مرتب کی جائے۔اجلاس میں ترقیاتی اسکیموں میں تاخیر پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ ٹھیکیداروں کو بلیک لسٹ کرنے اور ایکسین بی اینڈ آر سے تفصیلی رپورٹ طلب کرنے کا حکم دیا گیا۔ تعلیمی منصوبوں کے تحت تعمیر شدہ اسکولوں کی آن گراؤنڈ تصدیق اور یونیسف فنڈز کے شفاف استعمال کو یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی گئی۔داخلہ مہم کے حوالے سے بتایا گیا کہ 18 ہزار کے ہدف کے مقابلے میں اب تک 3 ہزار سے زائد بچوں کا داخلہ ہو چکا ہے، جبکہ ڈراپ آؤٹ ڈیٹا کی عدم دستیابی پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے فوری ڈیٹا فراہمی کی ہدایت جاری کی گئی۔ مزید بتایا گیا کہ درسی کتب کی ترسیل مکمل ہو چکی ہے اور اساتذہ کی تربیت بھی جاری ہے۔اجلاس کے اختتام پر ڈپٹی کمشنر نے تمام متعلقہ افسران کو ایک ہفتے کے اندر تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے اعلان کیا کہ آئندہ جائزہ اجلاس آئندہ ہفتے منعقد ہوگا۔
خبر نامہ نمبر3298/2026
لورالائی26مارچ:۔لورالائی میں عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے ضلعی انتظامیہ کی جانب سے ناجائز منافع خوروں کے خلاف کارروائیاں تیز کر دی گئی ہیں۔ ڈپٹی کمشنر لورالائی کیپٹن (ر) محمد حسیب شجاع کی ہدایت پر اسسٹنٹ کمشنر بوری ندیم اکرم کی سربراہی میں مختلف بازاروں کا دورہ کیا گیا۔کارروائی کے دوران سرکاری نرخوں سے تجاوز کرنے پر ایک قصاب کی دکان کو موقع پر سیل کر دیا گیا، جبکہ صفائی کے ناقص انتظامات اور گوشت کو محفوظ رکھنے کے لیے جالی نہ لگانے پر جرمانے بھی عائد کیے گئے۔ اس کے علاوہ متعدد دکانداروں کو سخت وارننگ جاری کی گئی کہ وہ سرکاری نرخنامے کی پابندی کریں اور صفائی کے نظام کو بہتر بنائیں۔اسسٹنٹ کمشنر نے اس موقع پر کہا کہ عوامی شکایات کے ازالے کے لیے ایسے اقدامات کا سلسلہ جاری رہے گا اور کسی کو بھی ناجائز منافع خوری کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے دکانداروں کو ہدایت کی کہ وہ نرخنامے نمایاں جگہوں پر آویزاں کریں بصورت دیگر سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔دوسری جانب ضلعی انتظامیہ نے شہر کے مختلف علاقوں میں اشیائے خوردونوش کی قیمتوں کا بھی جائزہ لیا۔ متعدد سبزی فروشوں اور کریانہ اسٹور مالکان کو مقررہ نرخوں سے زائد قیمتیں وصول کرنے پر جرمانے کیے گئے، جبکہ کچھ دکانوں کو عارضی طور پر بند بھی کیا گیا۔انتظامیہ کے مطابق رمضان المبارک کے پیش نظر قیمتوں کو کنٹرول میں رکھنے کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں جو روزانہ کی بنیاد پر مارکیٹوں کی نگرانی کر رہی ہیں۔ شہریوں سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ وہ کسی بھی شکایت کی صورت میں ضلعی انتظامیہ سے فوری رابطہ کریں تاکہ بروقت کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
خبر نامہ نمبر3299/2026
گوادر26مارچ:۔ ڈپٹی کمشنر گوادر نقیب اللہ کاکڑ کی ہدایات کی روشنی میں ضلعی انتظامیہ، میونسپل کمیٹی گوادر اور پسنی کی ٹیموں نے گزشتہ شب گوادرمیں ہونے والی بارش کے فوراً بعد مؤثر اور بروقت کارروائیاں کرتے ہوئے شہر کے مختلف علاقوں میں نکاسی آب کے نظام کو بحال کر دیا۔اس سلسلے میں اسسٹنٹ کمشنر گوادر سعد کلیم ظفر اور اسسٹنٹ کمشنر پسنی خسرو دلاوری کی نگرانی میں ضلعی انتظامیہ کی ٹیمیں متحرک رہیں، جبکہ چیئرمین میونسپل کمیٹی گوادر ماجد جوہر اور چیف آفیسر مکتوم موسی کی زیرِ نگرانی بلدیہ کے عملے نے پانی کے بہاؤ میں رکاوٹ بننے والے مقامات کی صفائی کے ساتھ ساتھ نکاسی آب کا عمل بھی مسلسل جاری رکھا۔علی الصبح بھی ضلعی انتظامیہ اور بلدیہ کی ٹیمیں فیلڈ میں موجود رہیں اور شہر کے مختلف علاقوں سے بارش کے جمع شدہ پانی کی نکاسی کے لیے مشینری اور دستی وسائل بروئے کار لائے گئے تاکہ شہریوں کو درپیش مشکلات کا فوری ازالہ ممکن بنایا جا سکے۔ضلعی انتظامیہ گوادر کے ہدایت کے مطابق بلدیہ گوادر کے عملے نے عوامی خدمت کے جذبے کے تحت اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے جاری رکھے ہوئے ہیں۔ڈپٹی کمشنر نقیب اللہ کاکڑ نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ضلعی انتظامیہ اور میونسپل کمیٹی کی جانب سے جاری کردہ ایس او پیز پر عملدرآمد کو یقینی بنائیں اور صفائی و نکاسی آب کے عمل میں تعاون کریں۔ انہوں نے کہا کہ شہریوں کی جان و مال کا تحفظ ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے اور تمام متعلقہ ادارے ہمہ وقت عوامی خدمت کے لیے تیار ہیں۔
خبر نامہ نمبر3300/2026
قلعہ سیف اللہ 26مارچ:۔ڈپٹی کمشنر ساگر کمارقلعہ سیف اللہ نے ضلع بھر میں محکمہ جنگلات اور پولیس کی جانب سے کرین پرندے کے غیر قانونی شکار کے خلاف کی جانے والی کامیاب کارروائیوں کو سراہتے ہوئے افسران اور اہلکاروں کی کارکردگی کو قابلِ تحسین قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ جنگلی حیات کا تحفظ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے اور اس ضمن میں متعلقہ اداروں کی بروقت اور مؤثر کارروائیاں نہایت اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔انہوں نے محکمہ جنگلات اور پولیس ٹیموں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں، مستعدی اور فرض شناسی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ان کی کوششوں کی بدولت غیر قانونی شکار میں ملوث عناصر کے خلاف سخت اقدامات ممکن ہوئے ہیں۔ ڈپٹی کمشنر نے اس موقع پر مقامی مکینوں کے تعاون کو بھی سراہا اور کہا کہ عوام کی جانب سے بروقت اطلاع اور معاونت کے بغیر ایسی کامیابیاں حاصل کرنا ممکن نہیں ہوتا۔انہوں نے مزید کہا کہ ضلعی انتظامیہ جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے پُرعزم ہے اور اس سلسلے میں کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ ضلع کے مختلف علاقوں میں اسی طرح کی کارروائیاں آئندہ بھی تسلسل کے ساتھ جاری رکھی جائیں گی تاکہ غیر قانونی شکار کی روک تھام کو یقینی بنایا جا سکے اور قدرتی ماحول کا توازن برقرار رہے۔آخر میں انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ جنگلی حیات کے تحفظ میں اپنا کردار ادا کریں، غیر قانونی سرگرمیوں کی اطلاع فوری طور پر متعلقہ اداروں کو دیں، اور ایک محفوظ و متوازن ماحول کے قیام میں ضلعی انتظامیہ کا ساتھ دیں۔
خبر نامہ نمبر3301/2026
لورالائی26مارچ:۔پولیس تھانہ شہید محمد اشرف ترین سٹی لورالائی کی کامیاب کارروائی، رمضان المبارک میں ڈاکٹر صالح کالونی سے چوری ہونے والی جی ایل آئی گاڑی برآمد کر لی گئی۔ایس ایچ او تھانہ شہید محمد اشرف ترین سٹی سب انسپکٹر محمد شریف موسخیل کی سربراہی میں پولیس ٹیم نے مؤثر کارروائی کرتے ہوئے چوری شدہ گاڑی برآمد کر لی۔ مذکورہ گاڑی رمضان المبارک کے دوران ڈاکٹر صالح کالونی لورالائی سے نامعلوم ملزمان نے چوری کی تھی، جس پر پولیس تھانہ شہید محمداشرف ترین سٹی میں مقدمہ فرد نمبر 69/026 بجرم 381Aدرج کر لیا گیا تھا۔لورالائی پولیس نے عید کے موقع پر میانی نامی ملزم کو گرفتار کیا، جس نے دوران تفتیش انکشاف کرتے ہوئے چوری شدہ جی ایل آئی گاڑی کی نشاندہی کی، جسے برآمد کر لیا گیا۔لورالائی پولیس کی بروقت اور کامیاب کارروائی کو عوامی حلقوں کی جانب سے سراہا جا رہا ہے۔ پولیس حکام کے مطابق جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائیاں بلا امتیاز جاری رہیں گی تاکہ عوام کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
HANDOUT NO3302/2026
Islamabad, March 26: Mr. Bilal Khan Kakar, Vice Chairman of the Balochistan Board of Investment, met with Dr. Irfan Neziroglu, Ambassador of Turkey to Pakistan, both sides held detailed discussions on promoting bilateral trade, investment, and mutual cooperation.During the meeting, they discussed the vast investment opportunities available in Balochistan. It was emphasized that through joint ventures in the sectors of fisheries (seafood), agriculture, and livestock, not only can the local economy be strengthened, but trade relations between Pakistan and Turkey can also be further enhanced.Mr. Bilal Khan Kakar stated that Balochistan offers immense opportunities due to its natural resources, coastal belt, and agricultural potential, making it an attractive destination for Turkish investors. He invited Turkish companies to explore investment opportunities in Balochistan and to collaborate with local partners for sustainable development.Ambassador Dr. Irfan Neziroglu expressed keen interest in investing in Pakistan, particularly in Balochistan, and stated that Turkey is eager to further strengthen its brotherly relations with Pakistan. He noted that stronger linkages between the private sectors of both countries could significantly boost trade and investment.
خبر نامہ 2026/3303
کوئٹہ26 مارچ :ـوزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت صوبے میں ٹیلی ہیلتھ کی سہولیات، اپر ڈیرہ بگٹی میں عوامی ماڈل ہیلتھ پلان پر عملدرآمد اور دیگر متعلقہ امور سے متعلق ایک اہم جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں صوبائی وزیر بخت محمد کاکڑ، چیف سیکریٹری بلوچستان شکیل قادر خان، سیکریٹری صحت مجیب الرحمٰن پانیزئی سمیت دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی اجلاس کو متعلقہ حکام کی جانب سے صوبے میں ٹیلی ہیلتھ کے نظام، اپر ڈیرہ بگٹی میں ماڈل ہیلتھ ڈسٹرکٹ کے قیام اور اس پر عملدرآمد کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان نے اس موقع پر ہدایت کی کہ اپر ڈیرہ بگٹی اور سوئی کے ہسپتالوں میں درکار افرادی قوت کی بھرتی میں میرٹ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے اور اس ضمن میں کسی بھی قسم کے انتظامی یا سیاسی دباؤ کو ہرگز برداشت نہ کیا جائے وزیر اعلیٰ نے صوبے میں ٹیلی ہیلتھ کے نظام کو مزید وسعت دینے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے دور دراز علاقوں میں طبی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ ضلعی سطح پر معیاری طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے انتظامی امور کو جلد از جلد حتمی شکل دی جائے تاکہ عوام کو بروقت اور مؤثر طبی خدمات میسر آ سکیں اجلاس کو زرغون ہاؤسنگ اسکیم کوئٹہ میں قائم باچا خان میموریل ہسپتال کے امور سے متعلق بھی بریفنگ دی گئی۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ بنیادی مراکز صحت کی بہتری کے ذریعے عوام کو ان کی دہلیز پر معیاری طبی سہولیات فراہم کی جا سکتی ہیں، جو حکومت کی اولین ترجیح ہےانہوں نے کہا کہ صوبہ بھر میں ٹیلی ہیلتھ کے نظام کو مزید مؤثر اور فعال بنایا جائے گا، تاہم اس کے لیے ایک مضبوط اور مؤثر مانیٹرنگ نظام ناگزیر ہے تاکہ خدمات کی فراہمی میں شفافیت اور معیار برقرار رکھا جا سکے
خبر نامہ نمبر 2026/3304
کوئٹہ 26 مارچ:ـوزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت رکھنی تا بیکڑ بلیک ٹاپ روڈ کی تعمیر سے متعلق پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں متعلقہ حکام نے منصوبے پر جاری کام کے حوالے سے بریفنگ دی اجلاس کے دوران وزیر اعلیٰ بلوچستان نے منصوبے میں سست روی پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا کہ ترقیاتی منصوبوں میں تاخیر کسی صورت قابل قبول نہیں۔ انہوں نے ہدایت کی کہ متعلقہ تعمیراتی کمپنی، سپرنٹنڈنگ انجینئر (ایس سی) اور ایکسیئن منصوبے کی تکمیل تک موقع پر موجود رہیں تاکہ کام کی رفتار کو تیز کیا جا سکے اور معیار پر کوئی سمجھوتہ نہ ہو۔ وزیر اعلیٰ نے ہدایت کی کہ رکھنی تا بیکڑ روڈ پر بلیک ٹاپ اور پلوں کی تعمیر مقررہ مدت کے اندر ہر صورت مکمل کی جائے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ منصوبے کی بروقت تکمیل سے علاقے میں آمدورفت میں بہتری آئے گی اور عوام کو سہولت میسر ہوگی وزیر اعلیٰ بلوچستان نے سیکرٹری مواصلات و تعمیرات کو ہدایت کی کہ وہ ہر ماہ متعلقہ سائٹ کا دورہ کریں اور پیش رفت کی خود نگرانی کریں تاکہ منصوبے کی بروقت اور معیاری تکمیل یقینی بنائی جا سکے۔
خبر نامہ نمبر 2026/3305
سوراب 26مارچ :ـوزیراعلی بلوچستان سرفرازبگٹی اورڈپٹی کمشنر شہید سکندر آبادسوراب صاحبزادہ نجیب اللہ کی خصوصی ہدایت پراسسٹنٹ کمشنر سوراب شئے اکبر علی بلوچ کی زیر صدارت ایک اہم کھلی کچہری کا انعقاد کیا جا رہا ہےجو 28 مارچ 2026 بروز ہفتہ صبح 11:00 بجے، ڈپٹی کمشنر کمپلیکس میں منعقد ہوگی اس موقع پر عوام کو اپنے مسائل براہ راست ضلعی انتظامیہ کے سامنےپیش کرنے کا موقع دیا جائےگاتاکہ ان کے فوری اور مؤثر حل کو یقینی بنایا جاسکےڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن کے جاری کردہ اعلامیے میں تمام معززین علاقہ سیاسی و سماجی شخصیات سے گزارش کیگئ ہی ک بروقت کھلی کچہری میں شرکت کرکےاپنے مسائل ضلعی حکام کے علم میں لا کر ان کے حل میں اپنا کردار ادا کریں.
خبرنامہ نمبر3306/2026
کوئٹہ 26مارچ۔ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) محمد انور کاکڑ کے زیر صدارت ڈسٹرکٹ ہیلتھ کمیٹی کا ایک جائزہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں محکمہ صحت سے وابستہ متعلقہ افسران، مختلف ہسپتالوں کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹس (MS)، خزانہ آفیسر اور پی پی ایچ آئی (PPHI) کے نمائندوں نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران ضلع بھر میں قائم بنیادی مراکز صحت (BHUs)، دیہی مراکز صحت (RHCs) اور سرکاری ہسپتالوں کی مجموعی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ متعلقہ حکام کی جانب سے صحت کے مراکز میں دستیاب سہولیات، ادویات کی فراہمی، طبی آلات کی حالت، مریضوں کو دی جانے والی سہولیات اور درپیش مسائل کے حوالے سے جامع رپورٹس پیش کی گئیں۔اجلاس میں خاص طور پر ادویات کی بلا تعطل فراہمی، ڈاکٹرز اور طبی عملے کی حاضری، صفائی ستھرائی کے انتظامات اور مریضوں کو بروقت علاج کی سہولیات کی فراہمی پر زور دیا گیا۔ اس موقع پر بعض مراکز میں عملے کی غیر حاضری اور سہولیات کے فقدان پر تشویش کا اظہار بھی کیا گیا۔ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) محمد انور کاکڑ نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ہدایت کی کہ تمام صحت مراکز میں عوام کو معیاری اور فوری طبی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ فرائض میں غفلت اور غیر حاضری کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور ایسے عملے کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ صحت کے شعبے میں بہتری حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، لہٰذا تمام متعلقہ افسران اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے سرانجام دیں اور عوامی شکایات کے ازالے کے لیے فوری اقدامات کریں۔ اجلاس کے اختتام پر مختلف امور پر عملدرآمد کے لیے متعلقہ حکام کو ہدایات جاری کی گئیں تاکہ عوام کو بہتر اور بروقت طبی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔
خبرنامہ نمبر3307/2026
قلات: آئندہ ماہ اپریل 2026 میں ہونیوالی NIDکیلئے UCMOs اور ایریا انچارجز کی تربیتی پروگرام DHQ ٹریننگ ہال قلات میں منعقد کی گئی ڈی ایچ او قلات ڈاکٹر انجم ضیاکی زیرنگرانی ڈبلیو ایچ او ٹیم اور ضلع کے ماسٹر ٹرینرز نے ٹیم ممبرزکو ٹریننگ کی سہولت فراہم کی تربیتی نشست میں مائیکرو پلان بنانے اور AICs اور ٹیموں کے آپریشنل پلانز پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے کم کوریج والے ایریاز میں رساء یقینی بنانے اورزیادہ سے زیادہ کوریجز پر توجہ مرکوز کرنے کی ہدایت کی گء شرکاء کوبتایاگیا کہ موسم سرما کے اختتام اورموسم بہارکے آغازپر لوگوں کی گرم علاقوں سے واہسی کا عمل شروع ہوگیا ہیپولیو مہم مہم کیاین اے کی ریکارڈنگ اور کوریجز پر تفصیل سے تبادلہ خیال کیا گیا شرکاء کو زیرو ڈوز ریکارڈنگ اور درست ڈیٹا جمع کرانے کے بعد مہم کے دوسرے دن سے ویکسینیٹروں کو متحرک کرنے زیرو ڈوز فوکسڈ کوریجزپر توجہ دینے کی جانب آگاہی دی گء مہم کے دوران UCMOs کی طرف سے مناسب کلسٹر لینا اور NEOC ایپس میں ان کی اپ لوڈ اور مطابقت پذیری مہم کے پہلے دن سے ٹیم کی تربیت کے دوران، تمام مانیٹروں اور UCMOs کو NEOC ایپس کو بھرنے کی گائیڈلائن بھی دی گئی۔
خبرنامہ نمبر3308/2026
تربت: صوبائی اسپیشل سیکریٹری صحت بلوچستان شیہک شہداد بلوچ نے جمعرات کے روز مکران میڈیکل کالج تربت کا دورہ کیا۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر کیچ یاسر اقبال دشتی، صوبائی کوآرڈینیٹر بی ایچ ایم آئی ایس ڈاکٹر ابوبکر بلوچ اور دیگر حکام بھی ان کے ہمراہ تھے۔دورے کے دوران پرنسپل ڈاکٹر افضل خالق نے کالج کی مجموعی کارکردگی، تعلیمی سرگرمیوں اور درپیش مسائل پر تفصیلی بریفنگ دی۔ انہوں نے بتایا کہ کالج کا آغاز 2017 میں ہوا جبکہ 2020 میں مستقل عمارت میں منتقل کیا گیا۔ اس وقت 326 طلبہ زیر تعلیم ہیں اور سالانہ 50 طلبہ داخلہ لیتے ہیں۔ کالج 300 ایکڑ اراضی پر قائم ہے، جس میں سے 200 ایکڑ تک چار دیواری مکمل ہوچکی ہے جبکہ باقی اراضی کی حفاظت درکار ہے۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ کالج میں 143 آسامیاں خالی ہیں، جن میں تدریسی اور نان ٹیچنگ اسٹاف شامل ہے۔ بجلی کے بقایاجات، لیبارٹری کے آلات خصوصاً اناٹومی ٹیبل اور لائبریری کے لیے کتب کی کمی بھی درپیش ہے۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر نے لائبریری اور لیبارٹری کے لیے ضروری سامان کی فراہمی کی یقین دہانی کرائی جبکہ اسپیشل سیکریٹری نے مسائل کے حل کے لیے متعلقہ حکام کو ہدایات جاری کیں۔پروجیکٹ انجینئر ظہور احمد نے جاری ترقیاتی کاموں پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ منصوبے جون تک مکمل کر لیے جائیں گے، جس پر کام کی رفتار مزید تیز کرنے کی ہدایت کی گئی۔ بعد ازاں وفد نے کانفرنس ہال اور زیر تعمیر 200 بستروں پر مشتمل اسپتال کا معائنہ بھی کیا۔ انجینئر نے بتایا کہ فنڈز کی بروقت فراہمی کی صورت میں اسپتال 2027 تک مکمل ہو جائے گا۔اس موقع پر اسپیشل سیکریٹری صحت نے کہا کہ مکران میڈیکل کالج کی بہتری کے لیے ٹیچنگ اسپتال کو معیاری بنانا ناگزیر ہے۔ انہوں نے ڈاکٹرز کے کردار کو سراہتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ اداروں کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے مشترکہ کوششیں ضروری ہیں تاکہ مکران سمیت بلوچستان کے اسپتالوں کو مثالی بنائیں بنایا جاسکے۔
خبرنامہ نمبر3309/2026
تربت: ڈپٹی کمشنر کیچ یاسر اقبال دشتی کی سربراہی میں ضلع کیچ میں جاری ترقیاتی اسکیمات کا جائزہ لینے کے لیے ایک اہم اجلاس ڈپٹی کمشنر آفس تربت میں منعقد ہوا۔اجلاس میں محکمہ آبپاشی، لوکل گورنمنٹ، بی اینڈ آر (B&R) اور اربن پلاننگ ڈیپارٹمنٹ سمیت دیگر متعلقہ محکموں کے ضلعی سربراہان نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران ڈپٹی کمشنر نے رواں مالی سال کے تحت مختلف محکموں کی ترقیاتی منصوبوں کا تفصیلی جائزہ لیا اور ان منصوبوں کو درپیش مسائل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر یاسر اقبال دشتی نے ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل کو ہر صورت یقینی بنایا جائے اور کام کے معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کیا جائے۔انہوں نے مزید ہدایت جاری کی کہ بی ایس ڈی آئی (BSDI) فیز ون کے جاری منصوبوں کو 15 اپریل تک مکمل کیا جائے، جبکہ پی ایس ڈی پی (PSDP) کے تحت اسکیمات کو 30 جون تک ہر صورت پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے۔
Handout NO 3310-2026
Quetta March 25, Governor Balochistan Jaffar Khan Mandokhel, said that as Governor, he had visited the three universities of Makran division numerous times during the last two years, participated in university convocations and personally presided over various senate meetings of the University of Turbat. As a result, his conscious efforts and strict monitoring mechanism had started yielding excellent results. It is gratifying to note that the University of Turbat’s ranking has improved from 69% to 87%. Vice Chancellor Prof. Dr. Gul Hasan and his entire team deserve tribute for digitizing the entire system of Turbat University and transferring the traditional electricity system to solar energy. He expressed these views in a meeting with VC of Turbat University Prof Dr. Gul Hasan. The Governor directed the Vice-Chancellor to introduce short courses focused on Skill Development according to the new needs of the market. Considering the significant role of date production in Turbat’s local economy, he also suggested strategies to introduce a new variety of date palms and teach packaging according to international standards. Governor Jaffar Khan said it is gratifying that teachers and educational institutions are highly respected in their society. The post of Vice-Chancellor is an honor as well as a great responsibility, so there is a need for him to utilize his position and all available university resources in the best interest of the institution and neighboring areas. He said it is a matter of pride and joy that the number of female students at the University of Turbat is the highest. At this juncture, there is a dire need for teamwork to further improve the university’s performance.
خبرنامہ نمبر 3311/2026
کوئٹہ26 مارچ 2026: صوبہ بلوچستان میں نایاب اور مہاجر پرندوں کے غیر قانونی شکار کے بڑھتے ہوئے واقعات پر حکومت نے زیرو ٹالرنس پالیسی اپناتے ہوئے بڑا کریک ڈاؤن شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ سیکرٹری جنگلات و جنگلی حیات میر عمران گچکی نے خصوصی احکامات جاری کرتے ہوئے چیف کنزرویٹر فاریسٹ کو ہدایت دی ہے کہ فوری، مؤثر اور دیرپا اقدامات کے ذریعے اس غیر قانونی عمل میں ملوث عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔ ذرائع کے مطابق ضلع ژوب، ڈیرہ بگٹی اور دیگر اضلاع کے متعدد علاقوں میں ہر سال سردیوں کے موسم میں آنے والے مہاجر پرندوں خصوصاً کرینز (Cranes)، تیتر (Partridge)، تلور اور دیگر نایاب اقسام کا بڑے پیمانے پر غیر قانونی شکار کیا جاتا رہا ہے۔ یہ پرندے طویل سفر کے بعد مختصر وقت کے لیے ان علاقوں میں قیام کرتے ہیں، جس دوران شکاری گروہ ان کا بے دریغ شکار کرتے ہیں۔ سیکرٹری جنگلات میر عمران گچکی نے اس عمل کو نہ صرف قانون کی سنگین خلاف ورزی بلکہ ماحولیاتی توازن کے لیے خطرناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ مہاجر پرندے ہماری قدرتی وراثت ہیں، ان کا تحفظ ہماری ذمہ داری ہے۔ کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے مزید ہدایت کی کہ حساس علاقوں میں خصوصی ٹیمیں تشکیل دی جائیں، نگرانی کے نظام کو جدید بنایا جائے اور مقامی انتظامیہ کے ساتھ قریبی رابطہ رکھا جائے تاکہ کسی بھی غیر قانونی سرگرمی کو فوری طور پر روکا جا سکے۔ محکمہ جنگلی حیات کے حکام کے مطابق آئندہ دنوں میں مشترکہ آپریشنز، اچانک چھاپے اور سخت قانونی کارروائیاں عمل میں لائی جائیں گی۔ اس کے ساتھ ساتھ عوام میں آگاہی مہم بھی شروع کی جائے گی تاکہ شہری خود بھی اس قومی فریضے میں حکومت کا ساتھ دیں۔ ماہرین ماحولیات نے اس اقدام کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایسے اقدامات تسلسل کے ساتھ جاری رہے تو بلوچستان میں حیاتیاتی تنوع (Biodiversity) کو محفوظ بنایا جا سکتا ہے اور نایاب پرندوں کی نسل کو معدوم ہونے سے بچایا جا سکتا ہے۔ یہ پیش رفت اس عزم کا واضح اظہار ہے کہ حکومت بلوچستان غیر قانونی شکار کے خاتمے اور جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے ہر ممکن قدم اٹھانے کے لیے پُرعزم ہے۔





