خبرنامہ نمبر 530/2026
کوئٹہ، 26 جنوری :وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ بلوچستان اس وقت شدید موسمی ہنگامی صورتحال سے دوچار ہے جس کے باعث صوبے بھر میں انسانی جانوں کے تحفظ اور متاثرہ علاقوں تک بنیادی ضروریات کی فراہمی کے لیے صوبائی حکومت کی پوری مشینری غیر معمولی اور ہمہ گیر آپریشن میں مصروف ہے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ موجودہ صورتحال محض ایک قدرتی آفت نہیں بلکہ یہ براہِ راست انسانی جانوں کے بچاؤ کا مرحلہ ہے جس میں ہر لمحہ قیمتی ہے۔ ایسے نازک وقت میں مجھے اطلاع ملی ہے کہ بعض سیاسی اور غیر سیاسی عناصر آئندہ دنوں میں احتجاج اور سڑکوں کی بندش کا ارادہ رکھتے ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے واضح الفاظ میں کہا کہ اس بحرانی کیفیت میں احتجاج کی کال دینا سیاست نہیں بلکہ جان بوجھ کر انسانی جانوں کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے انہوں نے کہا کہ سڑکوں کی بندش اور احتجاج نہ صرف ریسکیو سرگرمیوں میں رکاوٹ بنیں گے بلکہ متاثرہ افراد تک امدادی سامان، خوراک اور طبی سہولیات کی فراہمی کو بھی سبوتاژ کرنے کے مترادف ہوں گے۔ ایسی کسی بھی کوشش کا نتیجہ براہِ راست عوام کی زندگیوں پر پڑے گا، جس کی اجازت کسی صورت نہیں دی جا سکتی وزیر اعلیٰ بلوچستان نے دوٹوک انداز میں کہا کہ صوبائی حکومت کی توجہ مکمل طور پر عوام کے تحفظ پر مرکوز ہے اور اس ہدف سے توجہ ہٹانے کی کوئی گنجائش نہیں۔ انہوں کہا کہ مطالبات اور اختلافات بعد میں بھی زیر بحث آ سکتے ہیں، لیکن عوام کی جانیں انتظار نہیں کر سکتیں میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ اس نازک گھڑی میں عوام کے راستے میں رکاوٹ بننے کے بجائے ان کے شانہ بشانہ کھڑا ہونا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے انہوں نے اپیل کی کہ تمام سیاسی و سماجی قوتیں ذمہ داری کا مظاہرہ کریں، حکومت کے ساتھ تعاون کریں اور عوام کی بقا اور سلامتی کو ہر چیز پر مقدم رکھیں۔
خبرنامہ نمبر 531/2026
کوئٹہ، 26 جنوری :وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ بلوچستان کے کھیل کے میدان ایک بار پھر آباد ہو رہے ہیں اور صوبے میں فٹبال سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ خوش آئند امر ہے سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر اپنے ایک پیغام میں انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں کی جانب راغب کرنا اور کھیلوں کے فروغ کے ذریعے ان کی صلاحیتوں کو نکھارنا صوبائی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ 63 فٹبالرز کی بین الاقوامی معیار کی تربیت کے لیے 6 رکنی غیر ملکی کوچنگ ٹیم کوئٹہ پہنچ چکی ہے، جو جدید اور پروفیشنل خطوط پر تربیتی سیشنز کا انعقاد کرے گی۔ اس تربیتی پروگرام میں 12 خواتین کھلاڑیوں کی شمولیت اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ صوبائی حکومت کھیلوں کے میدان میں بھی خواتین کو مساوی مواقع فراہم کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ غیر ملکی کوچز کی نگرانی میں ہونے والی یہ جدید ٹریننگ نہ صرف فٹبالرز کی فنی صلاحیتوں میں اضافہ کرے گی بلکہ ان کے حوصلے، اعتماد اور پیشہ ورانہ مہارتوں کو بھی نئی بلندیوں تک لے جائے گی۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ بلوچستان کے نوجوان کھلاڑیوں کو عالمی معیار کے مطابق تیار کر کے انہیں قومی اور بین الاقوامی سطح پر متعارف کرایا جائے گا وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ صوبائی حکومت کھیلوں کے فروغ اور نوجوان ٹیلنٹ کو آگے لانے کے لیے بھرپور سرمایہ کاری کر رہی ہے، تاکہ بلوچستان کے کھلاڑیوں کو آگے بڑھنے کے زیادہ سے زیادہ مواقع میسر آ سکیں۔ انہوں نے کہا کہ کھیل نہ صرف صحت مند معاشرے کی علامت ہیں بلکہ نوجوانوں کے روشن مستقبل کی ضمانت بھی ہیں، اور حکومت اس شعبے میں اصلاحات اور ترقی کا عمل مزید تیز کرے گی انہوں نے اس یقین کا اظہار کیا کہ جاری تربیتی پروگرام صوبے میں فٹبال کے فروغ اور کھیلوں کے مجموعی ماحول کو بہتر بنانے میں اہم سنگِ میل ثابت ہوگا۔
خبرنامہ نمبر 532/2026
کوئٹہ۔ علاقائی موسمیاتی مرکز بلوچستان کے مطابق پیر کے روز صوبے کے مختلف اضلاع میں درمیانی شدت کی بارش، گرج چمک اور تیز ہواؤں کا امکان ہے۔ گوادر (جیوانی، گوادر، پسنی، اورماڑہ)، خضدار، کیچ (تربت)، چاغی (تفتان، نوکنڈی، دالبندین)، پنجگور، قلات، واشک، سوراب، کوئٹہ، ژوب، مستونگ، خاران، قلعہ سیف اللہ، نوشکی، لورالائی (موسیٰ خیل) اور آواران میں بارش متوقع ہے۔محکمہ موسمیات کے مطابق آئندہ 12 گھنٹوں کے دوران گوادر، خضدار،آواران، چاغی، پنجگور، واشک اور کیچ کے بعض علاقوں میں موسلا دھار بارش بھی ہو سکتی ہے۔ اس کے علاوہ کچھی، سبی، زیارت، ہرنائی، دکی، کوہلو، جھل مگسی اور لورالائی میں ہلکی بارش اور گرج چمک کے ساتھ تیز ہوائیں چلنے کا امکان ہے۔اسی طرح کوئٹہ، زیارت، قلات، چمن، پشین، ہرمازئی، خانوزئی، کان مہترزئی، مسلم باغ، لوئی بند، قلعہ عبداللہ، گلستان اور دوبندی میں ہلکی سے درمیانی برفباری کی پیش گوئی بھی کی گئی ہے۔محکمہ موسمیات کے مطابق بعض علاقوں میں شدید بارش کے باعث شہری ندی نالوں اور پہاڑی علاقوں میں طغیانی کا خطرہ ہے، جبکہ برفباری والے علاقوں میں سڑکیں پھسلن کا شکار ہو سکتی ہیں جس سے ٹریفک متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ متعلقہ اداروں اور ضلعی انتظامیہ کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔محکمے کے مطابق منگل کے روز کوئٹہ، مستونگ، سوراب، ژوب، قلعہ سیف اللہ، قلعہ عبداللہ، نوشکی، پشین، پنجگور، چاغی، واشک، خاران اور قلات میں ہلکی سے درمیانی بارش اور گرج چمک متوقع ہے، جبکہ پہاڑی علاقوں میں برفباری کا امکان برقرار رہے گا۔گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران قلات میں 4.7 انچ برفباری جبکہ کوئٹہ کے مختلف علاقوں میں ہلکی برفباری ریکارڈ کی گئی۔ قلات میں 34 ملی میٹر بارش جبکہ زیارت میں 17.25 ملی میٹر، دالبندین میں 15.2 ملی میٹر اور دیگر علاقوں میں مختلف مقدار میں بارش ریکارڈ کی گئی۔سب سے کم درجہ حرارت قلات میں منفی 5 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔
خبرنامہ نمبر 533/2026
نصیرآباد26جنوری:ڈپٹی کمشنر نصیرآباد کیپٹن (ر) ذوالفقار علی کرار کی زیر صدارت بلوچستان اسپیشل ڈیولپمنٹ انیشیٹو (بی ایس ڈی آئی) فیز ون اور فیز ٹو کی پیشرفت سے متعلق اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ایگزیکٹو انجینیئر پبلک ہیلتھ انجینیئرنگ محمد عثمان مینگل اور سب ڈویژنل آفیسر عابد علی پہنور شریک تھے۔ اجلاس کے دوران بی ایس ڈی آئی فیز ون اور فیز ٹو کے جاری ترقیاتی منصوبوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر نصیرآباد کیپٹن (ر) ذوالفقار علی کرار نے ہدایت کی کہ فیز ون کی تمام ترقیاتی اسکیموں کو جلد از جلد مقررہ معیار کے مطابق مکمل کیا جائے اور انجینیئرز اپنی نگرانی میں تمام منصوبوں کی کڑی مانیٹرنگ کو یقینی بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ عوامی مفاد سے جڑے ان منصوبوں کی بروقت اور معیاری تکمیل انتہائی ضروری ہے، جبکہ فیز ون کی تمام ترقیاتی اسکیموں کے بلز کی ادائیگی مکمل جائزے کے بعد ہی ممکن بنائی جائے گی۔ ڈپٹی کمشنر نے مزید کہا کہ ایک کمیٹی جلد تمام ترقیاتی اسکیموں کا دورہ کرے گی اور تفصیلی رپورٹ مرتب کی جائے گی تاکہ آئندہ پیش رفت کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔ اجلاس کے اختتام پر ڈپٹی کمشنر نے احکامات جاری کرتے ہوئے کہا کہ بی ایس ڈی آئی فیز ٹو کے حوالے سے بھی تمام تر امور کو بروقت مکمل کیا جائے، کیونکہ اس ضمن میں اقدامات کرنا ناگزیر ہو چکا ہے، جس کے لیے ہر ممکن وسائل بروئے کار لائے جائیں۔
خبرنامہ نمبر 534/2026
گوادر:اسسٹنٹ کمشنر گوادر سعد کلیم ظفر نے شہر کے مختلف علاقوں کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے حالیہ بارشوں کے پیشِ نظر ڈی واٹرنگ، صفائی ستھرائی، ایس او پیز پر عملدرآمد اور دیگر احتیاطی تدابیر کا تفصیلی جائزہ لیا۔دورے کے دوران اسسٹنٹ کمشنر نے بلدیہ اور متعلقہ محکموں کے عملے کو ہدایت کی کہ شہر بھر میں صفائی اور ڈی واٹرنگ کے عمل کو مزید تیز کیا جائے تاکہ شہریوں کو درپیش مشکلات میں کمی لائی جا سکے۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ تمام ادارے باہمی رابطے کے ساتھ مؤثر اقدامات یقینی بنائیں اور عوامی سہولت کو اولین ترجیح دی جائے۔
خبرنامہ نمبر 535/3036
گوادر:ڈپٹی کمشنر گوادر نقیب اللہ کاکڑ نے ضلع میں جاری بارشوں اور محکمۂ موسمیات و پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ الرٹس کے پیشِ نظر شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کی ہدایت کی ہے۔ انہوں نے بالخصوص ماہی گیروں کو سختی سے تاکید کی ہے کہ وہ خراب موسم کے باعث سمندر میں مچھلی کے شکار کے لیے نہ جائیں تاکہ کسی بھی ممکنہ جانی یا مالی نقصان سے محفوظ رہا جا سکے۔ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ شہریوں کی جان و مال کا تحفظ ضلعی انتظامیہ کی اولین ذمہ داری ہے اور اس سلسلے میں تمام متعلقہ اداروں کو الرٹ رہنے کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ضلعی انتظامیہ مکمل طور پر متحرک ہے اور شہریوں کی حفاظت و مدد کے لیے 24 گھنٹے اسٹینڈ بائی ہے۔
خبرنامہ نمبر 536/2026
چمن 26 جنوری:ڈپٹی کمشنر حبیب احمد بنگلزئی نے اج کوئٹہ چمن شاہراہ کوژک ٹاپ کے دونوں اطراف ضلعی انتظامیہ پی ڈی ایم اے اور این ایچ اے کی جانب سے روڈ کلئیرنس آپریشن کا دورہ کیا جہاں چوکی انچارج محمدحنیفیا کی نگرانی میں ضلعی انتظامیہ اور دیگر متعلقہ اداروں نے ہیوی مشینری سے قومی شاہراہ کو ہر قسم کی ٹریفک کی آمد رفت کیلئے بحال کر دیا گیا ہے انہوں نے روڈ کلیئرنس آپریشن میں مصروف افسران اور جوانوں کی کام کی تعریف کی اور انھیں سراہا گیا انہوں نے مزید کہا کہ عوام کی آمد و رفت کو جاری رکھنا اور انکی جان و مال کی حفاظت ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے، جس کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔
خبرنامہ نمبر 537/2026
کوئٹہ، 26 جنوری۔ نیشنل پروجیکٹ ڈائریکٹر یو جی پی پی (UGPP) ڈاکٹر سعد ایس خان نے صوبہ بلوچستان کا دورہ کیا، جہاں یو جی پی پی فارسٹڑی اور وائلڈ لائف پروجیکٹ ڈائریکٹرز کے ساتھ مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن (M&E) ٹیم نے منصوبے سے متعلق ایک جامع پریزنٹیشن پیش کی۔ پریزنٹیشن میں بلوچستان میں منصوبے کی مجموعی پیش رفت، اہم کامیابیوں اور درپیش چیلنجز پر تفصیلی روشنی ڈالی گئی۔اس موقع پر بتایا گیا کہ یو جی پی پی منصوبہ صوبہ بلوچستان میں جنگلات، جنگلی حیات اور قدرتی وسائل کے تحفظ کے لیے اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ منصوبے کے تحت مختلف ماحولیاتی اقدامات، تحفظِ حیاتیاتی تنوع، اور قدرتی وسائل کے پائیدار استعمال کے لیے متعدد سرگرمیاں جاری ہیں۔پریزنٹیشن کے بعد چیف کنزرویٹر آف فاریسٹ اور چیف کنزرویٹر آف وائلڈ لائف نے منصوبے کی جاری سرگرمیوں پر مزید تفصیل سے روشنی ڈالی۔ انہوں نے خاص طور پر سمندری ماحولیاتی نظام سے متعلق کامیابیوں، میرین پروٹیکٹڈ ایریاز (Marine Protected Areas)، اور جزیرہ استولا کے لیے تیار کردہ مینجمنٹ پلان پر بریفنگ دی۔ انہوں نے بتایا کہ جزیرہ استولا کے تحفظ اور پائیدار انتظام کے لیے عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں، جن سے سمندری حیاتیاتی تنوع کے تحفظ میں مدد ملے گی۔اس موقع پر ڈاکٹر سعد ایس خان نے منصوبے کی ٹیم اور صوبائی محکموں کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ یو جی پی پی منصوبہ بلوچستان میں ماحولیاتی تحفظ، جنگلات اور جنگلی حیات کے فروغ کے لیے ایک اہم سنگِ میل ثابت ہو رہا ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ مستقبل میں بھی وفاقی اور صوبائی ادارے باہمی تعاون سے قدرتی وسائل کے تحفظ اور پائیدار ترقی کے لیے اقدامات جاری رکھیں گے۔دورے کے اختتام پر اس بات پر زور دیا گیا کہ یو جی پی پی منصوبے کے تحت جاری اقدامات نہ صرف ماحول کے تحفظ میں مددگار ثابت ہوں گے بلکہ مقامی آبادی کے لیے معاشی مواقع پیدا کرنے اور پائیدار ترقی کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کریں گے۔
خبرنامہ نمبر 538/2026
نصیرآباد26 جنوری:کمشنر نصیرآباد ڈویژن صلاح الدین نورزئی کی زیرِ صدارت جوائنٹ انٹیلی جنس کوآرڈینیشن کمیٹی (JICC)، ڈویژنل تھریٹ اسیسمنٹ کمیٹی اور ڈویژنل مانیٹرنگ کمیٹی کے اہم اجلاس منعقد ہوئے اجلاسوں میں ڈویژن بھر کی مجموعی امن و امان کی صورتحال درپیش چیلنجز اور عوامی مسائل کے مؤثر و پائیدار حل کے لیے مختلف امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا
اجلاس میں ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس نصیرآباد ڈویژن آصف منیر، ڈپٹی کمشنر نصیرآباد کیپٹن (ر) ذوالفقار علی کرار سینیئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس نصیرآباد، سی ٹی ڈی، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور دیگر متعلقہ محکموں کے اعلیٰ افسران نے شرکت کی
اجلاس کے دوران زمینی تنازعات، امن و امان کی مجموعی صورتحال، منشیات کی پیداوار اور سمگلنگ میں ملوث عناصر کے خلاف کارروائی، مدارس کی رجسٹریشن، ٹریفک نظام میں بہتری، ڈیرہ مراد جمالی شہر میں بس ٹرمینل کی منتقلی اور ریڑھی بانوں کے لیے مناسب متبادل جگہ کی فراہمی سمیت دیگر اہم عوامی و انتظامی امور پر تفصیلی غور و خوض کیا گیاڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس آصف منیر اور ڈپٹی کمشنر نصیرآباد کیپٹن (ر) ذوالفقار علی کرار نے اجلاس کو مختلف امور پر تفصیلی بریفنگ دی جس میں امن و امان کی صورتحال جاری اقدامات اور مستقبل کے لائحہ عمل سے آگاہ کیا گیااجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کمشنر نصیرآباد ڈویژن صلاح الدین نورزئی نے کہا کہ عوامی مسائل اور مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے مؤثر مربوط اور پائیدار اقدامات کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے زمینی تنازعات کے حل پر خصوصی توجہ دینے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ باہمی مشاورت قانونی دائرہ کار اور عوامی اعتماد کو مدنظر رکھتے ہوئے ان مسائل کا مستقل حل نکالا جائے
کمشنر نصیرآباد نے ہدایت کی کہ ڈیرہ مراد جمالی شہر کے وسط میں قائم بس ٹرمینل کو شہر سے باہر تعمیر شدہ بس ٹرمینل میں منتقل کیا جائے تاکہ شہر میں ٹریفک کے دباؤ میں کمی لائی جا سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ ریڑھی بانوں کو مناسب متبادل جگہ فراہم کرنے کی بھی ہدایت کی گئی تاکہ ان کا روزگار متاثر نہ ہو اور شہری نظام میں بہتری آئےانہوں نے غیر ضروری چیک پوسٹوں کے قیام کی اجازت نہ دینے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ صرف جوائنٹ چیک پوسٹیں قائم رکھی جائیں جہاں تمام متعلقہ اداروں کے نمائندگان موجود ہوں، تاکہ عوام کو بلاوجہ مشکلات اور پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے کمشنر نصیرآباد نے عوام کی جانب سے پورٹل پر موصول ہونے والی شکایات کا بغور جائزہ لینے اور ان کے بروقت و پائیدار حل کے لیے مؤثر اقدامات کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ عوام کی جان و مال کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہے اور اس ضمن میں تمام ضروری اقدامات کو یقینی بنایا جائے تاکہ شہری بلا خوف و خطر سفر کر سکیں اجلاس میں منشیات کے بڑھتے ہوئے رجحان پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کمشنر نصیرآباد نے منشیات کی پیداوار اور سمگلنگ میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز اور سخت کارروائی کی ہدایت کی اس کے علاوہ تعلیمی نظام کی بہتری اور آنے والے امتحانات کے منظم انعقاد کو یقینی بنانے کے لیے متعلقہ محکموں کو پیشگی انتظامات کرنے کی بھی ہدایت دی.
خبرنامہ نمبر 539/2026
: کوئٹہ 26 جنوری ۔صوبائی مشیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیات نسیم الرحمان خان ملا خیل سے مختلف وفود نے ان کے دفتر میں ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران وفود نے اپنے علاقوں میں درپیش مسائل پر تفصیل سے گفتگو کی اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کے لیے صوبائی حکومت کے اقدامات کو سراہتے ہوئے ان پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا۔
نسیم الرحمان خان ملا خیل نے وفود کو بتایا کہ صوبائی حکومت ترقی اور عوامی فلاح کے ساتھ ساتھ ماحول کے تحفظ کو بھی اپنی پالیسیوں کا اہم حصہ بنا چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبے میں تعلیم، صحت، روزگار، پینے کے صاف پانی کی فراہمی اور بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے ساتھ ساتھ ماحول دوست منصوبوں پر تیزی سے عمل جاری ہے۔ شجرکاری مہمات، آلودگی کے خاتمے اور قدرتی وسائل کے مؤثر استعمال جیسے اقدامات موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کم کرنے میں مددگار ثابت ہو رہے ہیں۔صوبائی مشیر نے کہا کہ حکومت کا مقصد صرف ترقیاتی منصوبے مکمل کرنا نہیں بلکہ عوام کے لیے ایک صاف، سرسبز اور محفوظ ماحول فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ عوامی شمولیت کے بغیر ترقی کا عمل ادھورا ہے، اس لیے ضروری ہے کہ ہر شہری ماحولیاتی بہتری کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔ وفود نے اس موقع پر حکومت کی ماحولیاتی پالیسیوں اور عملی اقدامات پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان اقدامات سے عوامی زندگی میں بہتری اور صوبے میں پائیدار ترقی کے نئے امکانات پیدا ہوں گے۔
خبرنامہ نمبر 540/2026
کوئٹہ 26 جنوری۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہر اللہ بادینی کی زیرِ نگرانی ایم بی بی ایس اور بی ڈی ایس کے امیدواران کے انٹرویوز کا عمل جاری ہے۔ اس موقع پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) اور ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (ریوینیو) نے بھی امیدواران کے انٹرویوز لیے اور ان کی تعلیمی اسناد کی مکمل جانچ پڑتال کی۔انٹرویو کے دوران امیدواران کی تعلیمی دستاویزات، ڈومیسائل اور دیگر مطلوبہ اسناد کو باریک بینی سے چیک کیا گیا تاکہ شفاف اور میرٹ پر مبنی انتخاب کو یقینی بنایا جا سکے۔ضلعی انتظامیہ کے مطابق تمام امیدواران کی اسناد کی مکمل جانچ پڑتال کے بعد حتمی فہرستیں باقاعدہ طور پر جاری کی جائیں گی۔ضلعی انتظامیہ کوئٹہ میرٹ، شفافیت اور انصاف پر مبنی داخلہ عمل کو یقینی بنانے کے لیے پُرعزم ہے۔
خبرنامہ نمبر 541/2026
سبی 26 جنوری :ڈپٹی کمشنر سبی میجر(ر) الیاس کبزئی کی نگرانی میں ضلع سبی کے مقررہ کوٹہ پر بولان میڈیکل کالج سمیت مختلف میڈیکل کالجز میں ایم بی بی ایس اور بی ڈی ایس پروگرامز کے لیے اپلائی کرنے والے امیدواروں کے کوائف کی جانچ پڑتال کی گئی۔ اسسٹنٹ کمشنر سبی منصور علی شاہ نے امیدواروں کے اصل شناختی کارڈ، لوکل و ڈومیسائل سرٹیفکیٹس اور دیگر تعلیمی اسناد کی تفصیلی جانچ پڑتال کی، تاکہ تمام مراحل شفاف اور میرٹ کی بنیاد پر مکمل کیے جا سکیں۔ اس موقع پر ایڈیشنل ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر زیشان بشیر سمیت دیگر متعلقہ افسران بھی موجود تھے، جنہوں نے ضلع سبی سے تعلق رکھنے والے امیدواروں کے اصل کاغذات کی تصدیق کی۔ ضلعی انتظامیہ سبی کے مطابق اس عمل کا مقصد مستحق اور اہل امیدواروں کو ان کا حق فراہم کرنا اور میرٹ کو ہر صورت یقینی بنانا ہے۔
خبرنامہ نمبر 542/2026
زیارت26جنوری:وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کی ہدایت پرڈپٹی کمشنر عبدالقدوس اچکزئی کی زیر صدارت موجودہ برف باری کے پیش نظر افسران کا جائزہ اجلاس منعقد ہوا اجلاس میں پی ڈی ایم اے کے ریلیف اور ریسکیو افسر نوید خان، اسسٹنٹ کمشنر سجاد الرحمان، پولیس،واپڈا،گیس صحت، روڈ، پی ایچ ای، ایر یگیشن اور تمام محکموں کے افسران نے اجلاس میں شرکت کی اجلاس میں موجودہ برف باری کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ اجلاس سے ڈپٹی کمشنر عبدالقدوس اچکزئی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ برف باری کے دوران تمام محکمے الرٹ اور مشینری کو بائی پاس رکھیں، محکمہ روڈ مین شاہراہ اور لنک روڈوں کو کھول رکھے، محکمہ صحت کے ہسپتال کسی بھی غیر معمولی صورت حال میں مکمل طور پر الرٹ ریے انہوں نے کہا کہا کہ سیاح اور عوام کسی بھی غیر ضروری سفر سے گریز کریں عوام اور سیاح کسی بھی ایمرجنسی کی صورت حال میں ڈسٹرکٹ انتظامیہ اور ڈی سی آفس سے رابطہ کرسکتے ہیں، ڈسٹرکٹ انتظامیہ عوام کی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے تمام دستاب وسائل کو بروے کار لاکر بھر پور اقدامات کرے گی۔
خبرنامہ نمبر 543/2026
خضدار 26 جنوری ۔ ضلعی انتظامیہ کی بڑی کاروائی، 10 غیر قانونی کلینکس سیل ڈپٹی کمشنر خضدار عبدالرزاق ساسولی کی خصوصی ہدایت پر عوامی صحت کے تحفظ کے لیے ضلعی انتظامیہ نے غیر قانونی طبی مراکز کے خلاف بڑا کریک ڈاون کیا ہے۔اسسٹنٹ کمشنر خضدار حفیظ اللہ کاکڑ اور ڈرگ انسپکٹرخضدار ڈاکٹر رشید احمد کی نگرانی میں شہر کے مختلف علاقوں میں اچانک چھاپے مارے۔ اس مہم کے دوران 26 میں سے مجموعی طور پر 10 غیر قانونی کلینکس کو موقع پر سیل کر دیا گیا۔کاروائی ان مراکز کے خلاف کی گئی جو بغیر لائسنس، غیر مستند عملے اور ناقص طبی سہولیات کے ساتھ کام کر رہے تھے۔کئی مراکز سے ادویات بھی برآمد کی گئیں۔اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر حفیظ اللہ کاکڑ نے کہا کہ انسانی زندگیوں سے کھیلنے والے عطائی ڈاکٹروں اور غیر قانونی کلینکس کے خلاف کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ ڈپٹی کمشنر خضدار کے ہدایت پر یہ مہم پورے ضلع میں جاری رہے گی تاکہ عوام کو معیاری اور قانونی طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔اسسٹنٹ کمشنر خضدار نے عوام سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ عطائیوں کے پاس جانے کے بجائے مستند ڈاکٹروں سے رجوع کریں اور ایسے غیر قانونی مراکز کی نشاندہی کر کے انتظامیہ کا ساتھ دیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر544/2026
لورالائی 26جنوری ۔ ڈی آئی جی لورالائی رینج اور ایس ایس پی لورالائی کی مشترکہ پریس کانفرنسلورالائی میں ڈی آئی جی لورالائی رینج جنید احمد شیخ اور ایس ایس پی لورالائی ملک محمد اصغر عثمان نے ایس ایس پی آفس لورالائی میں اہم مشترکہ پریس کانفرنس کی۔ اس موقع پر ڈی ایس پی لیگل سردار نصراللہ خان حمزازئی، ایس ڈی پی او کریم مندوخیل، ایس ایچ او تھانہ شہید محمد اشرف ترین سٹی سب انسپکٹر محمد شریف موسخیل اور ایس ایچ او مڑہ تنگی نور محمد بھی موجود تھے۔پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈی آئی جی جنید احمد شیخ نے بتایا کہ لورالائی پولیس نے گزشتہ شب کامیاب کارروائی کرتے ہوئے چوروں اور ڈکیتوں کے دو منظم بین الاضلاعی نیٹ ورکس کو گرفتار کر لیا ہے، جن میں ڈکیت گروہ کا سرغنہ صدیق ونیچی بھی شامل ہے۔انہوں نے بتایا کہ کارروائی کے دوران لورالائی کے معروف چور و ڈکیت صحبت ولد ولی قوم جلالزئی ساکن ہسپتال محلہ اور حنیف عرف شین قوم ترہ کی ساکن مرغی خانہ محلہ کو گرفتار کیا گیا۔ ملزمان کے قبضے سے شہر کے مختلف علاقوں سے چوری شدہ موٹر سائیکلیں اور گاڑیاں برآمد کی گئیں۔ڈی آئی جی کے مطابق چند روز قبل محمدان مارکیٹ میں ایک دکان سے ڈکیتی کے دوران تقریباً 1600 کلوگرام تار چوری کیا گیا تھا جس کی مالیت تقریباً 75 لاکھ روپے بنتی ہے، وہ مال بھی مکمل طور پر برآمد کر لیا گیا ہے۔گرفتار ملزمان کے قبضے سے دو پستول، ایک شاٹ گن اور ایک ایکس کرولا گاڑی بھی برآمد ہوئی ہے۔ ملزمان نے بلوچستان کے مختلف اضلاع میں متعدد چوری اور ڈکیتی کی وارداتوں کا انکشاف کیا ہے، جن سے متعلق مزید برآمدگیاں متوقع ہیں۔ڈی آئی جی جنید احمد شیخ نے بتایا کہ گرفتار ملزمان صحبت اور صدیق ونیچی بین الاضلاعی ڈکیت گروہوں کے سرغنہ ہیں اور ان کے خلاف لورالائی، زیارت، قلعہ سیف اللہ، پشین اور کرائم برانچ میں متعدد مقدمات درج ہیں۔ ملزمان کی نشاندہی پر ان کے گروہوں کے دیگر ارکان کی گرفتاری بھی جلد عمل میں لائی جائے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ لورالائی پولیس نے منشیات کے خلاف سخت آپریشن شروع کر رکھا ہے، جس کے باعث ضلع بھر میں پوست (تاریک) کی کاشت نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہے۔ منشیات فروشوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں جاری ہیں جبکہ لیویز سے پولیس میں ضم ہونے والے علاقوں میں بھی منشیات کے ٹھکانوں کے خلاف سخت آپریشن اور مقدمات درج کیے جائیں گے۔آخر میں ڈی آئی جی نے کہا کہ لورالائی پولیس عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں آئندہ بھی جاری رہیں گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر546/2026
نصیرآباد26جنور ی۔ صوبائی پارلیمانی سیکرٹری برائے ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن حاجی محمد خان لہڑی نے کہا ہے کہ عوام سے کیے گئے وعدوں کی تکمیل کا عمل جاری ہے اور دیہی علاقوں کو شہری آبادی سے جوڑنے کے لیے لنک شاہراہوں کی تعمیر پر کام تیزی سے جاری ہے۔ ان شاہراہوں کی تعمیر سے نہ صرف زرعی اجناس کی منڈیوں تک رسائی ممکن ہو گی بلکہ عوام کو بہتر سفری سہولتیں بھی فراہم کی جا سکیں گی۔ انہوں نے کہا کہ میگا پروجیکٹس کے ساتھ ساتھ چھوٹے ترقیاتی منصوبوں پر بھی تیز رفتاری سے کام ہو رہا ہے۔ حاجی محمد خان لہڑی نے اس موقع پر کہا کہ ہم عوام پر کوئی احسان نہیں کر رہے بلکہ یہ ہمارا سیاسی فریضہ ہے جو ہم سرانجام دے رہے ہیں۔انہوں نے گوٹھ بزدار خان پندرانی، گوٹھ خان محمد مینگل، گوٹھ وحید آباد مینگل کا افتتاح کیا جبکہ ربیع ٹو نوتال گوٹھ بہرام خان پتافی کے سنگ بنیاد رکھا۔ افتتاحی تقاریب کے دوران ان کے ہمراہ سابق صوبائی وزیر میر عبدالغفور لہڑی، حاجی احمد سلطان لہڑی، عبدالروف لہڑی، عبدالغفار پندرانی، حاجی رستم علی پندرانی، غلام نبی نیچاری، وڈیرہ قدیر احمد بنگلزئی، وحید احمد مینگل، ارشاد علی مینگل، میر بہرام خان پتافی، محمد صدیق پرکانی،محمد سلیم پرکانی غلام رسول لہڑی خالد خان لہڑی جلیل احمد لہڑی حاجی کریم لہڑی زاہد حسین سولنگی سمیت دیگر معززین بھی موجود تھے۔اس موقع پر ایگزیکٹو انجینئر بی اینڈ آر عبدالرحمن خان کاکڑ نے حاجی محمد خان لہڑی اور دیگر حکام کو ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے بریفنگ دی۔ سب ڈویژنل آفیسران ذوالفقار علی لہڑی، نادر علی پہنور، اصغر علی چنہ، امتیاز علی منجھو، صابر علی بھٹو بھی اس موقع پر موجود تھے۔حاجی محمد خان لہڑی نے مزید کہا کہ حکومت کی جانب سے دیہاتوں کی ترقی پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے اور آنے والے دنوں میں ان علاقوں میں مزید ترقیاتی منصوبوں کا آغاز ہوگا تاکہ عوام کی زندگی میں بہتری آئے اور انہیں بنیادی سہولتیں میسر ہوں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر547/2026
قلات 26جنوری۔ بولان میڈیکل کالج میں MBBSاور BDS شعبوں کے داخلے کے لیئے ڈپٹی کمشنر منیراحمددرانی کی سربراہی میں انٹرویو کمیٹی نےامیدواروں کے قومی شناختی کارڈز لوکل سرٹیفیکٹس اور دیگر دستاویزات چیک کئے انٹرویو کمیٹی میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر شاہنواز بلوچ ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر انجم بلوچ ایم ایس ٹیچنگ ہسپتال ڈاکٹرنصراللہ لانگو ڈاکٹر شیرین گل شامل تھے۔بولان میڈیکل کالج کے داخلے کے لیئے مجموعی طورپرضلع قلات کے پچاس مرد اور خواتین امیدوار کمیٹی کے روبرو پیش ہوئے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
پریس ریلیز
کوہلو 26جنوری ۔ سابق صوبائی وزیر میر نصیب اللہ مری نے وزیر اعلٰی بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی جانب سے کوہ سلیمان ڈویژن بنانے کے اقدام کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ کوہ سلیمان ڈویژن رکھنی کے مقام پر قیام سے کوہلو ،قادر آباد اور بارکھان کے لوگوں کو یکساں فائدہ پہنچے گا یہ اقدام عوام کا ایک دیرینہ خواب تھا جو اب وزیر اعلٰی بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی کاوشوں سے پورا ہوا ہے جس سے امن و امان اور ترقی کے نئے دور کا آغاز ہوگا انہوں نے مزید کہا وزیر اعلٰی بلوچستان عوام کے فلاح و بہبود کیلئے جو اقدامات اٹھا رہے ہیں ان کی بھرپور حمایت کرتے ہیں جو قابل ستائش ہیں ۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر548/2026
چمن26 جنوری ۔ چمن سے ایم بی بی ایس، بی ڈی ایس کیلئے میرٹ پر کوالیفائی کرنے والے سٹوڈنٹس کی تعلیمی اسناد اور لوکل ویریفیکیشن کے حوالےسے اے ڈی سی چمن فدا بلوچ کی زیر صدارت اجلاس منعقد کیا گیا اجلاس میں ایم بی بی ایس، بی ڈی ایس کیلئے کوالیفائی کرنے والے سٹوڈنٹس سے انٹرویو لیا گیا اور امیدواروں کی لوکل سرٹیفکیٹس، تعلیمی اسناد اور دیگر مطلوبہ تمام اسناد کی جانچ پڑتال کی گئی اس موقع پر اے ڈی سی چمن نے کہا کہ امیدواران کی اسناد کی مکمل جانچ پڑتال کا سلسلہ مکمل کر دیا گیا ہے اور حتمی فہرستیں بعد میں باقاعدہ طور پر جاری کی جائیں گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر549/2026
کیچ/ تربت 27 جنوری۔ پارلیمانی سیکرٹری فشریز حاجی برکت رند سے انکے حلقہ انتخاب کیچ تربت میں علاقے کے قبائلی عمائدین اور عوام نے ملاقات کی اور انہیں اپنے مسائل سے آگاہ کیا اس موقع پر پارلیمانی سیکرٹری فشریز حاجی برکت رند نے کہا کہ انکی ہمیشہ سے کوشش رہءہے کہ پورے صوبہ بالخصوص اپنے حلقہ انتخاب کے عوام کے مسائل کے حل اور انکی آواز کو متعلقہ اداروں کے حکام تک پہنچایا جائے اور اس میں انکو قابل قدر کامیابیاں بھی حاصل ہورہی ہے اور وزیر اعظم پاکستان محمد شہباز شریف اور وزیر اعلٰی بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے ہمیشہ بلوچستان خصوصا کیچ مکران کے عوام کو دور جدید کی سہولیات فراہم کرنے کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ ملکر اقدامات کررہءہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر 549/2026
لسبیلہ 26جنوری ۔ سیکرٹری لائیو سٹاک و ڈیری ڈولپمنٹ محمد طیب لہڑی نے لسبیلہ میں فیکلٹی آف ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنسز کا دورہ کیا اور تعلیمی و تحقیقی سرگرمیوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس دورے کا بنیادی مقصد صوبے میں ویٹرنری کے معیار کو بہتر بنانا اور لائیو سٹاک کے شعبے میں جدید ریسرچ کے مواقع پیدا کرنا تھا۔سیکرٹری لائیو سٹاک نے فیکلٹی کی سرجیکل لیبارٹری کا خصوصی معائنہ کیا۔ اس موقع پر ماہرین اور ڈاکٹرز نے انہیں جدید جراحی آلات اور آپریشنز کے طریقہ کار کے بارے میں بریفنگ دی۔ محمد طیب لہڑی نے ڈاکٹرز کی پیشہ ورانہ مہارت اور لگن کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ فیکلٹی کے ماہرین صوبے میں لائیو سٹاک کی ترقی کے لیے کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔فیکلٹی انتظامیہ سے گفتگو کرتے ہوئے سیکرٹری نے اس بات پر زور دیا کہ دورِ حاضر کے تقاضوں کے مطابق تحقیق (Research) کے بغیر ترقی ممکن نہیں۔ انہوں نے یقین دلایا کہ فیکلٹی کی تمام مالی اور تکنیکی ضروریات کو ترجیحی بنیادوں پر پورا کیا جائے گا۔ادارے کو ایک مضبوط ریسرچ سینٹر بنانے کے لیے ہر ممکن سرکاری وسائل فراہم کیے جائیں گے نیز تحقیقی منصوبوں کے لیے درکار جانور (Experimental Animals) محکمہ لائیو سٹاک کی جانب سے مہیا کیے جائیں گے۔علاوہ ازیں سیکرٹری نے کہا کہ محکمہ لائیو سٹاک کے زیرِ انتظام “ٹیارو فارم” کو تعلیمی اور تحقیقی مقاصد کے لیے فعال کیا جا رہا ہے۔ اس فارم میں جانوروں کی افزائش (Breeding) کے جدید طریقے متعارف کروائے جائیں گے اور بیماریوں کی بروقت تشخیص کے لیے تشخیصی سرگرمیوں کا دائرہ کار بڑھایا جائے گا۔محمد طیب لہڑی نے کہا کہ حکومت بلوچستان لائیو سٹاک کے شعبے کو معیشت کی ریڑھ کی ہڈی سمجھتی ہے۔ فیکلٹی اور محکمہ لائیو سٹاک کے درمیان اشتراکِ عمل سے نہ صرف مقامی مالداروں کو فائدہ پہنچے گا بلکہ طلبہ کو بھی فیلڈ میں کام کرنے کے بہترین مواقع میسر آئیں گے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ ریسرچ کے عمل کو مزید تیز کیا جائے تاکہ صوبے میں جانوروں کی پیداوار میں اضافہ اور بیماریوں کا خاتمہ ممکن ہوسکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر550
موسیٰ خیل 26 جنوری .ڈپٹی کمشنر عبدالرزاق خجک کی زیرِ صدارت ڈسٹرکٹ ہیلتھ کمیٹی کا جائزہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں اسسٹنٹ کمشنر موسیٰ خیل نجیب اللہ کاکڑ اور کمیٹی کے دیگر اراکین نے شرکت کی۔ اجلاس کا مقصد ضلع میں صحت کی سہولیات کا معائنہ اور انتظامی مسائل کا حل نکالنا تھا ڈپٹی کمشنر نے گزشتہ میٹنگ میں کیے گئے فیصلوں کی موجودہ صورتحال کا سخت جائزہ لیا اور زیرِ التوا امور کو فوری مکمل کرنے کی ہدایت جاری کی ضلع کے مختلف طبی مراکز میں عملے کی کمی، ادویات کی فراہمی اور دیگر درپیش مسائل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا ڈپٹی کمشنر نے دوٹوک الفاظ میں ہدایت کی کہ ڈیوٹی سے غیر حاضر عملے کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے اور تمام مراکزِ صحت میں ادویات کا اسٹاک ہر وقت برقرار رکھا جائے انہوں نے متعلقہ حکام کو پابند کیا کہ عوام کو علاج معالجے میں کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے اور ہیلتھ کمیٹی کے ممبران باقاعدگی سے فیلڈ وزٹس کریں.
…





