خبرنامہ نمبر 525/2026
کوئٹہ۔ علاقائی موسمیاتی مرکز بلوچستان کے مطابق اتوار کو صوبے کے مختلف اضلاع میں شام اور رات کے دوران ہلکی سے درمیانی بارش، تیز ہوائیں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔جس سے گوادر (جیوانی، گوادر، پسنی)، کیچ (تربت)، چاغی (تفتان، نوکنڈی، دالبندین)، پنجگور، خضدار، خاران، نوشکی اور واشک کے اضلاع متاثر ہونے کا امکان ہے۔موسمی نظام آدھی رات کے بعد شدت اختیار کرے گا اور صوبے کے وسطی، مغربی اور شمالی علاقوں کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔ پیر کو گوادر (جیوانی، گوادر، پسنی، اورماڑا)، خضدار، کیچ، چاغی، پنجگور، قلات، واشک، سوراب، کوئٹہ، ژوب، مستونگ، خاران، قلعہ سیف اللہ، نوشکی، لورالائی (موسیٰ خیل) اور آواران میں درمیانی بارش، گرج چمک اور تیز ہواؤں کا امکان ہے۔گوادر، خضدار، آواران، چاغی، پنجگور اور کیچ کے اضلاع میں بعض مقامات پر موسلا دھار بارش بھی ہو سکتی ہے۔کچھی، سبی، زیارت، ہرنائی، دکی، کوہلو، جھل مگسی اور لورالائی میں ہلکی بارش اور تیز ہوائیں چلنے کا امکان ہے۔کوئٹہ، زیارت، قلات، چمن، پشین، حرمزئی، خانوزئی، کان مہترزئی، مسلم باغ، لوئی بند، قلعہ عبداللہ اور گلستان کے علاقوں میں پیر سے منگل کے دوران ہلکی سے درمیانی برفباری اور تیز ہواؤں کی پیش گوئی کی گئی ہے۔بعض مقامات پر شدید بارش سے شہری ندی نالوں اور پہاڑی علاقوں میں طغیانی کا خدشہ ہے، خاص طور پر گوادر، جیوانی، پسنی، آواران، چاغی اور کیچ میں برفباری کے باعث سڑکوں پر پھسلن پیدا ہو سکتی ہے جس سے ٹریفک متاثر ہونے کا امکان ہے۔متعلقہ اداروں اور مقامی انتظامیہ کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران صوبے کے شمالی اور شمال مغربی اضلاع میں موسم شدید سرد رہا۔کم سے کم درجہ حرارت قلات میں منفی 8 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔
خبرنامہ نمبر 527/2026
زیارت حالیہ شدید برف باری کے باعث سڑکوں اور شاہراہوں کی بحالی کے لیے بلدیاتی اداروں نے فوری اور مؤثر اقدامات کا آغاز کر دیا ہے۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی مشیر بلدیات و دیہی ترقی و سیکرٹری بلدیات و دیہی ترقی عبدالروف بلوچ کی خصوصی ہدایات پر میونسپل کمیٹی زیارت کی جانب سے ہنگامی بنیادوں پر برف ہٹانے کا عمل مسلسل جاری ہے۔میونسپل کمیٹی زیارت کے چیئرمین حزب اللہ خان کاکڑ اور چیف آفیسر محمد جعفر مکسی کی براہِ راست نگرانی میں بلدیاتی عملہ اور مشینری شہر کی سڑکوں، شاہراہوں اور اہم رابطہ راستوں سے برف صاف کرنے میں مصروف ہے، تاکہ شہریوں کو آمد و رفت میں کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ضلعی انتظامیہ کے مطابق شدید سردی اور برف باری کے باعث عوامی نقل و حرکت متاثر ہونے کا خدشہ تھا، جس کے پیش نظر بلدیاتی عملے کو پیشگی الرٹ رکھا گیا اور برف ہٹانے کا کام بلا تعطل جاری رکھا گیا ہے۔ اس عمل میں ہیوی مشینری کے ساتھ ساتھ دستی عملہ بھی حصہ لے رہا ہے، جبکہ شہریوں کی سہولت کو مدنظر رکھتے ہوئے اہم شاہراہوں، بازاروں اور عوامی مقامات کو ترجیحی بنیادوں پر کلیئر کیا جا رہا ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومت عوامی سہولت اور حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے، جبکہ خراب موسمی حالات کے دوران کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تمام متعلقہ اداروں کو مکمل طور پر متحرک رکھا گیا ہے۔دوسری جانب شہریوں نے بروقت اور مؤثر اقدامات پر صوبائی حکومت، ضلعی انتظامیہ اور بلدیاتی اداروں کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ برف ہٹانے کے عمل سے معمولاتِ زندگی بحال رکھنے میں نمایاں مدد مل رہی ہے۔
خبرنامہ نمبر 528/2026
کوئٹہ، 25 جنوری :وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے ضلع پنجگور میں سیکیورٹی فورسز کی جانب سے کامیاب انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے فورسز کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں، جرات اور بروقت کارروائی کو سراہا ہے اپنے ایک بیان میں وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بھارتی سرپرستی میں سرگرم دہشت گردوں کے خلاف یہ کامیاب کارروائی اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ پاکستان کی سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ملک کے دفاع اور عوام کے تحفظ کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سیکیورٹی فورسز کی قربانیاں ناقابلِ فراموش ہیں اور پوری قوم ان کے شانہ بشانہ کھڑی ہے میر سرفراز بگٹی نے واضح کیا کہ بلوچستان میں بدامنی پھیلانے والے ریاست دشمن عناصر کے لیے کوئی جگہ نہیں، اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں بلا تفریق اور پوری قوت کے ساتھ جاری رہیں گی۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت سیکیورٹی فورسز کے ساتھ مکمل تعاون جاری رکھے گی تاکہ امن و امان کو مزید مستحکم بنایا جا سکے وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ وفاقی ایپکس کمیٹی کی منظور کردہ نیشنل ایکشن پلان کے تحت “عزمِ استحکام” کے وژن پر عملدرآمد کرتے ہوئے غیر ملکی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کا مکمل خاتمہ یقینی بنایا جائے گا انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ بلوچستان میں پائیدار امن، ترقی اور خوشحالی کے لیے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کیا جائے گا وزیر اعلیٰ نے کامیاب آپریشن میں حصہ لینے والے سیکیورٹی اہلکاروں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے ان کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔
خبرنامہ نمبر 529/2026
کوئٹہ، 25 جنوری:وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ حکومت بلوچستان جانوروں کے تحفظ اور فلاح و بہبود کے لیے سنجیدہ اور مؤثر اقدامات کر رہی ہے، اور اس سلسلے میں کوئٹہ میونسپل انتظامیہ کو واضح ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ کتوں اور بلیوں کو نہ مارا جائے اور نہ ہی جعلی یا غیر معیاری ویکسین استعمال کی جائیں، بلکہ بین الاقوامی معیار کے مطابق TNVR (Trap, Neuter, Vaccinate & Release) طریقہ کار پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر اپنے ایک پیغام میں وزیر اعلیٰ نے کہا کہ “پناہ کوئٹہ” کے تعاون سے کوئٹہ شہر میں آوارہ کتوں اور بلیوں کو محفوظ، انسانی اور سائنسی طریقے سے سنبھالنے کا عمل جاری ہے، جس کا مقصد نہ صرف جانوروں کا تحفظ بلکہ شہریوں کو ایک محفوظ اور صحت مند ماحول فراہم کرنا ہے میر سرفراز بگٹی نے واضح کیا کہ آوارہ جانوروں کے مسئلے کا حل قتل یا تشدد نہیں بلکہ جدید، سائنسی اور انسانی طریقہ کار اپنانا ہے، جو مہذب معاشروں کی پہچان ہے۔ انہوں نے کہا کہ جانوروں پر ظلم یا غیر انسانی سلوک کسی صورت قابلِ قبول نہیں اور اس حوالے سے پالیسی پر عملدرآمد کو مؤثر اور مستقل بنایا جا رہا ہے وزیر اعلیٰ بلوچستان نے عوام سے اپیل کی کہ وہ جانوروں کے تحفظ کے لیے حکومتی اقدامات میں تعاون کریں اور ذمہ دار شہری ہونے کا ثبوت دیں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان اب صرف انسانوں کے لیے نہیں بلکہ جانوروں کے لیے بھی ایک محفوظ صوبہ بنتا جا رہا ہے، جہاں فلاح، ہمدردی اور قانون کی بالادستی کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔





