خبرنامہ نمبر1609/2026
کوئٹہ، 25 فروری : وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کے 23ویں اجلاس میں امن و امان، معاشی استحکام، زرعی اصلاحات، ادارہ جاتی بہتری اور عوامی فلاح سے متعلق اہم امور پر تفصیلی غور و خوض کے بعد متعدد اہم اور دور رس فیصلے کیے گئے ، وزیر اعلیٰ بلوچستان کے معاون شاہد رند نے دو روزہ کابینہ اجلاس کی تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ صوبائی کابینہ نے 31 جنوری کو بلوچستان میں پیش آنے والے دہشت گردی کے افسوسناک واقعات کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہدائ کو خراجِ عقیدت پیش کیا، ان کے درجات کی بلندی کے لیے دعا کی اور متاثرہ خاندانوں سے مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔ اجلاس میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ دہشت گردی کے ناسور کے مکمل خاتمے کے لیے حکومت اور سیکیورٹی فورسز متحد اور پُرعزم ہیں۔ حالیہ واقعات کے بعد بروقت اور مؤثر ردعمل پر سیکیورٹی اداروں کی کارکردگی کو سراہا گیا زرعی شعبے میں بہتری کے لیے کابینہ نے “واٹر کنزرویشن اینڈ پروڈکٹیویٹی انہانسمنٹ اِن بلوچستان تھرو کلائمیٹ اسمارٹ ایگریکلچر” منصوبے کی منظوری دی جو کورین ایگزم بینک کے قرض کے تحت شروع کیا جائے گا۔ اس منصوبے کے ذریعے پانی کے مؤثر استعمال، جدید زرعی طریقوں کے فروغ اور موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں گے جس سے زرعی پیداوار اور کسانوں کی آمدن میں نمایاں اضافہ متوقع ہے سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے بلوچستان لینڈ لیز پالیسی 2026 کی منظوری دی گئی، جس کے تحت زمینوں کے شفاف اور منصفانہ استعمال کو یقینی بنایا جائے گا تاکہ صنعتی و تجارتی سرگرمیوں میں اضافہ اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں غذائی تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے کابینہ نے انٹیرم نیشنل ویٹ پالیسی 2025-26 برائے اسٹریٹجک ریزروز کی منظوری دی گئی ۔ اس فیصلے کے تحت محکمہ خوراک بلوچستان 0.50 ملین میٹرک ٹن گندم خریدے گا تاکہ صوبے میں گندم کی مسلسل دستیابی برقرار رہے اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں بروقت اقدامات ممکن ہوں۔ وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے سرکاری گندم سے متعلق بے ضابطگیوں کی اطلاعات کا سختی سے نوٹس لیتے ہوئے پارلیمانی سب کمیٹی قائم کر دی ہے جو تمام معاملات کا جائزہ لے کر رپورٹ پیش کرے گی۔ وزیر اعلیٰ نے واضح کیا کہ اگر کسی بھی سطح پر بے ضابطگی ثابت ہوئی تو ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔ سرکاری گوداموں میں موجود پرانی گندم کی فروخت کے لیے قیمت کے تعین کی غرض سے چیئرمین سی ایم آئی ٹی کی سربراہی میں کمیٹی قائم کی گئی ہے، جو مارکیٹ ریٹ اور گندم کی حالت کو مدنظر رکھتے ہوئے سفارشات پیش کرے گی۔اس کے علاوہ ماضی میں محکمہ خوراک میں بدعنوانی کے الزامات میں ملوث اہلکاروں کی گرفتاری اور فوری برطرفی کے احکامات بھی جاری کیے گئے ہیں بلوچستان ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی کے لیے فنڈز کے اجرا کی منظوری دی گئی ساتھ ہی فیصلہ کیا گیا کہ بی ڈی اے سمیت تمام خودمختار اداروں اور اتھارٹیز کی جامع تنظیمِ نو کی جائے گی تاکہ مالی نظم و ضبط بہتر ہو، صوبائی خزانے پر بوجھ کم کیا جا سکے اور اداروں کو مرحلہ وار خود کفیل بنایا جائے کابینہ نے بلوچستان پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ایکٹ 2025 اور بلوچستان لیویز فورس ترمیمی بل 2025 کی منظوری بھی دی۔ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ایکٹ کے ذریعے ترقیاتی منصوبوں میں نجی شعبے کی شمولیت بڑھے گی شفافیت کو فروغ ملے گا اور بڑے منصوبوں کی تکمیل میں تیزی آئے گی۔ لیویز فورس ترمیمی بل کے تحت 50 سال سے زائد عمر کے وہ ملازمین جو رضاکارانہ طور پر وفاقی لیویز سے ریٹائرمنٹ لینا چاہتے ہیں، انہیں قواعد کے مطابق سہولت فراہم کی جائے گی جبکہ وفاقی لیویز کا اگر کوئی بھی ایسا ملازم جو پولیس میں خدمات سرانجام دینے سے قاصر ہو تو اسے بھی رضاکارانہ ریٹائرمنٹ دی جائے گی اجلاس میں انسپکٹر جنرل پولیس بلوچستان نے سبی، نصیرآباد اور کچھی قومی شاہراہ کی امن و امان کی صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دی۔ صوبائی کابینہ نے آئی جی پولیس کو ہدایت کی کہ قومی شاہراہوں پر مؤثر اور پائیدار سیکیورٹی انتظامات یقینی بنائے جائیں اور سات روز کے اندر جامع اور قابلِ عمل رپورٹ پیش کی جائے وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ کہ صوبے میں قیامِ امن، معاشی استحکام، زرعی ترقی، غذائی تحفظ اور ادارہ جاتی اصلاحات کے لیے سنجیدہ، ٹھوس اور نتیجہ خیز اقدامات جاری رکھے جائیں گے تمام فیصلے صوبے کے وسیع تر مفاد اور عوامی بہبود کو مدنظر رکھتے ہوئے کیے جا رہے ہیں۔
خبرنامہ نمبر1610/2026
سبی 24 فروری:وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن کے مطابق رمضان المبارک کے بابرکت ماہ میں ضلعی انتظامیہ سبی کی جانب سے سرکٹ ہاؤس سبی میں خصوصی افراد، بیواؤں اور مستحقین میں رمضان پیکج کے تحت راشن بیگز تقسیم کیے گئے۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر سبی میجر(ر) الیاس کبزئی، اسسٹنٹ کمشنر سبی منصور علی شاہ اور ڈویژنل ڈائریکٹر سماجی بہبود امجد لاشاری موجود تھے۔ راشن کی تقسیم کے تمام عمل کی نگرانی اسسٹنٹ کمشنر سبی منصور علی شاہ نے کی اور مستحقین میں شفاف اور منظم طریقے سے راشن بیگز تقسیم کیے گئے۔ڈپٹی کمشنر سبی میجر(ر) الیاس کبزئی نے اس موقع پر کہا کہ صوبائی حکومت کی ہدایات کے مطابق مستحق اور نادار افراد تک بروقت اور باعزت انداز میں امداد کی فراہمی کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ رمضان پیکج کا مقصد معاشرے کے کمزور اور ضرورت مند طبقات کو ریلیف فراہم کرنا ہے تاکہ وہ بھی ماہِ صیام کی برکتوں سے مستفید ہو سکیں۔ صوبائی حکومت عوامی فلاح و بہبود کو اولین ترجیح دے رہی ہے اور وزیر اعلیٰ بلوچستان کی قیادت میں عوامی ریلیف کے اقدامات کو مؤثر انداز میں عملی جامہ پہنایا جا رہا ہے۔ ضلعی انتظامیہ سبی بھی حکومتی وژن کے تحت عوامی خدمت، شفافیت اور میرٹ کو یقینی بناتے ہوئے ہر ممکن سہولیات کی فراہمی کے لیے کوشاں ہے۔ راشن تقسیم کا یہ سلسلہ ضلع سبی کے تمام علاقوں میں جاری رہے گا تاکہ زیادہ سے زیادہ مستحق خاندانوں کو مستفید کیا جا سکے۔ خصوصی افراد اور دیگر مستحقین نے راشن کی فراہمی پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے صوبائی حکومت اور ضلعی انتظامیہ سبی کا شکریہ ادا کیا۔
خبرنامہ نمبر1611/2026
بارکھان 25 فروری :ڈپٹی کمشنر / چیئرمین ڈسٹرکٹ کمیٹی بارکھان عبداللہ کھوسہ نے رمضان سستا بازار کا تفصیلی اور اچانک دورہ کرتے ہوئے مجموعی انتظامات کا جائزہ لیا۔ ان کے ہمراہ اسسٹنٹ کمشنر خادم حسین بھنگر، ایس ایچ او بارکھان منور خان اور تحصیلدار بارکھان فاضل خان بھی موجود تھے۔ڈپٹی کمشنر نے بازار میں قائم مختلف اسٹالز اور دکانوں پر جا کر سرکاری نرخ نامے آویزاں ہونے کا جائزہ لیا اور اشیائے خوردونوش کی قیمتوں، معیار اور مقدار کو چیک کیا۔ انہوں نے موقع پر موجود دکانداروں کو سختی سے ہدایت جاری کی کہ مقررہ سرکاری نرخوں کی مکمل پابندی کی جائے اور کسی بھی قسم کی ناجائز منافع خوری سے گریز کیا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کرنا ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے۔دورے کے دوران ڈپٹی کمشنر نے بازار میں خریداری کے لیے آئے شہریوں سے کھل کر گفتگو کی، ان کے مسائل سنے اور سرکاری نرخوں سے متعلق دریافت کیا۔ شہریوں نے انتظامات کو تسلی بخش قرار دیتے ہوئے کہا کہ سستا بازار کے قیام سے عام آدمی کو ریلیف مل رہا ہے۔ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ افسران کو ہدایت دی کہ سستا بازار کی باقاعدہ نگرانی کو یقینی بنایا جائے، نرخ ناموں کی روزانہ بنیاد پر چیکنگ کی جائے اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ رمضان کے دوران اشیائے ضروریہ کی دستیابی اور قیمتوں میں استحکام برقرار رکھنا انتظامیہ کی ذمہ داری ہے اور اس سلسلے میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔
خبرنامہ نمبر1612/2026
قلات 24فروری :سیکرٹری ہیلتھ بلوچستان اور ڈپٹی کمشنر قلات منیر احمد درانی کےاحکامات کی روشنی میں یونیسیف کے جوائنٹ اپریزل سپورٹ اور ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر، قلات کے تعاون سے سول ڈسپنسری دلو یوسی چھپڑ میں فری میڈیکل ہیلتھ کیمپ کا انعقاد کیا گیامعروف طبی ماہرین ڈاکٹر علی نواز، نجیب اللہ، مفتی علی حسن، ویکسینیٹر صفیہ، اسٹاف نرس خالدہ اور میر نذیر جتک فری میڈیکل کیمپ میں شریک ہوئے اور مریضوں کا معائنہ کیا بلوچستان کے دوردراز ایریازمیں قبل از پیدائش کی دیکھ بھال، جنرل اور پیڈز او پی ڈی اور ویکسینیشن کی مہم پہلی مرتبہ شروع کی گئی ہےحکومت بلوچستان کی صحت عامہ پالیسی کے تحت دور دراز کی یوسیوں میں فری میڈیکل کیمپس کا انعقاد کمیونٹی کے دروازے پر صحت کی دیکھ بھال کی خدمات فراہم کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے ڈی ایچ او قلات ڈاکٹر انجم بلوچ کاکہنا ہیکہ اس طرح کے میڈیکل کیمپ مستقبل میں بھی ضلع قلات کیے دورافتادہ دیہی یونین کونسلوں میں جاری رہیںنگی سول ڈسپنسری ڈلو، یو سی چھپر میں فری میڈیکل کیمپ کے انعقاد پرقلات کے عوامی حلقوں نے حکومت بلوچستان سیکرٹری ہیلتھ ضلعی انتظامیہ اورڈی ایچ اوقلات کی کاوشوں کو خراج تحسین پیش کیا ہے اوراس امید کا اظہار کیا ہے کہ برمک جویان اوردیگر ایرہازمیں بھی نیشنل ہیلتھ پالیسی کےتحت اس کے میڈیکل کیمپ منعقد کئے جائینگے۔
خبرنامہ نمبر1613/2026
لورالائی 25 فروری: ریکٹر بائٹمز لورالائی انجینئر عزیز اللہ کی سربراہی میں ادارے کے اسٹاف نے شجر کاری مہم کے سلسلے میں بائٹمز کے احاطے میں مختلف اقسام کے پودے لگا کر مہم کا باقاعدہ آغاز کر دیا۔ اس موقع پر اساتذہ، انتظامی عملے اور طلبہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور ماحول کو سرسبز و شاداب بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انجینئر عزیز اللہ نے کہا کہ موجودہ دور میں ماحولیاتی آلودگی اور موسمیاتی تبدیلیاں ایک سنگین چیلنج کی صورت اختیار کر چکی ہیں، جن سے نمٹنے کے لیے شجر کاری ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ درخت نہ صرف ماحول کو صاف و شفاف بناتے ہیں بلکہ درجہ حرارت میں کمی، بارشوں کے نظام کی بہتری اور انسانی صحت کے تحفظ میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک درخت لگانا دراصل آنے والی نسلوں کے محفوظ اور روشن مستقبل کی ضمانت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بائٹمز لورالائی ایک تعلیمی ادارہ ہونے کے ساتھ ساتھ معاشرتی ذمہ داریوں کی ادائیگی پر بھی یقین رکھتا ہے، اسی لیے شجر کاری جیسی مثبت سرگرمیوں کو باقاعدگی سے فروغ دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے اساتذہ اور طلبہ پر زور دیا کہ وہ پودے لگانے کے ساتھ ساتھ ان کی نگہداشت کو بھی یقینی بنائیں تاکہ یہ پودے تناور درخت بن کر علاقے کی خوبصورتی اور ماحولیاتی بہتری میں اپنا مؤثر کردار ادا کر سکیں۔ اس موقع پر ادارے کے اسٹاف نے شجر کاری مہم میں بھرپور حصہ لیا اور کیمپس کے مختلف حصوں میں پودے لگائے۔ شرکائ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ سبز لورالائی کے خواب کو حقیقت میں بدلنے کے لیے مزید درخت لگانے کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔ مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ اگر ہر فرد سال میں کم از کم ایک پودا بھی لگائے تو ماحولیاتی مسائل پر قابو پانے میں نمایاں مدد مل سکتی ہے۔تقریب کے اختتام پر ملک و قوم کی سلامتی اور علاقے کی سرسبزی کے لیے دعا کی گئی۔ شجر کاری مہم کو علاقے میں ماحولیاتی بہتری اور صحت مند ماحول کے فروغ کی جانب ایک اہم اور مثبت قدم قرار دیا گیا۔
خبرنامہ نمبر1614/2026
کوئٹہ، 25 فروری:سیکرٹری مواصلات و تعمیرات بابر خان نے کہا ہے کہ کچھ موڑ تا کارڈیک سینٹر روڈ کی تکمیل سے نہ صرف اہلِ علاقہ کو آمد و رفت میں آسانی میسر آئے گی بلکہ کارڈیک سینٹر آنے والے مریضوں اور ان کے تیمارداروں کے لیے بھی یہ منصوبہ ایک بڑی سہولت ثابت ہوگاانہوں نے ان خیالات کا اظہار کچھ موڑ تا کارڈیک سینٹر روڈ منصوبے کے دورے اور جائزہ اجلاس کے موقع پر کیااس موقع پر عبدالرحیم بنگلزئی چیف انجینئر کوئیٹہ زون میر محمد کھوسہ ایس ای کوئیٹہ میر محمد کھوسہ ایگزیکٹو انجینئر روڈز کچلاک ڈویژن قاضی ثنائاللہ سمیت دیگر متعلقہ حکام بھی موجود تھےایگزیکٹو انجینئر روڈز کچلاک ڈویژن قاضی ثنائاللہ نے منصوبے پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ منصوبہ تکمیل کے آخری مراحل میں داخل ہوچکا ہے اور چند معمولی کام باقی ہیں جنہیں جلد مکمل کرلیا جائے گا انہوں نے کہا کہ جاری کام میں روڈ کی فائنل لیئر شولڈرز کی بہتری اور دیگر تکنیکی امور شامل ہیں اس موقع پر سیکرٹری مواصلات و تعمیرات بابر خان نے متعلقہ حکام کو ہدایت جاری کی کہ منصوبے کے باقی ماندہ تمام کام خصوصاً روڈ کے شولڈرز جہاں جہاں ریٹرننگ وال کی ضرورت ہے وہاں تعمیر اور سویٹ ارتھ (Soft Earth) کے کام کو فوری طور پر مکمل کیا جائے تاکہ منصوبہ مقررہ معیار کے مطابق پایہ تکمیل تک پہنچ سکے انہوں نے واضح کیا کہ آخری مراحل میں رک جانے والے ترقیاتی منصوبوں کو مکمل کرنے میں کسی قسم کی سستی یا کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی کیونکہ معمولی غفلت بھی منصوبے کے معیار کو متاثر کر سکتی ہے انہوں نے افسران کو ہدایت کی کہ کام کی رفتار کو تیز کرتے ہوئے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہ کیا جائےسیکرٹری مواصلات و تعمیرات نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت بلوچستان عوام کو بہتر سفری سہولیات کی فراہمی کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے اور اس نوعیت کے منصوبے شہریوں کی مشکلات میں کمی لانے میں اہم کردار ادا کریں.
خبرنامہ نمبر1615/2026
بارکھان 25 فروری :وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے احکامات اور کمشنر لورالائی ڈویژن ولی محمد بڑیچ کی ہدایت پر ڈپٹی کمشنر و چیئرمین ڈسٹرکٹ پرائس کمیٹی ضلع بارکھان عبداللہ کھوسہ نے رمضان سستا بازار اور مرکزی بازار کا اچانک اور تفصیلی دورہ کر کے انتظامات کا جائزہ لیا۔ دورے کے موقع پر اسسٹنٹ کمشنر خادم حسین بھنگر، ایس ایچ او بارکھان منور خان اور تحصیلدار بارکھان فاضل خان بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔ڈپٹی کمشنر نے مختلف اسٹالز اور دکانوں کا معائنہ کرتے ہوئے سرکاری نرخ ناموں کی دستیابی، اشیائے خوردونوش کے معیار، مقدار اور قیمتوں کو خود چیک کیا۔ انہوں نے دکانداروں کو سختی سے ہدایت جاری کی کہ سرکاری نرخوں کی مکمل پابندی کو یقینی بنایا جائے اور ناجائز منافع خوری سے ہر صورت گریز کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کرنا ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے۔دورے کے دوران ڈپٹی کمشنر عبداللہ کھوسہ نے بازار میں موجود شہریوں سے براہِ راست گفتگو کی، ان کے مسائل سنے اور سرکاری نرخوں کے بارے میں دریافت کیا۔ شہریوں نے انتظامات کو تسلی بخش قرار دیتے ہوئے کہا کہ سستا بازار کے قیام سے عام آدمی کو حقیقی ریلیف مل رہا ہے۔ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ افسران کو ہدایت دی کہ سستا بازار کی باقاعدہ اور موثر نگرانی جاری رکھی جائے، نرخ ناموں کی روزانہ بنیادوں پر چیکنگ کی جائے اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف بلاامتیاز قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ رمضان کے دوران اشیائے ضروریہ کی فراہمی اور قیمتوں میں استحکام برقرار رکھنا ضلعی انتظامیہ کی ذمہ داری ہے، اس ضمن میں کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔
خبرنامہ نمبر1616/2026
نصیرآباد۔ذوالفقار علی کرار ڈپٹی کمشنر ضلع نصیرآباد نے ڈپٹی کمشنر آفس کے احاطے میں پودے لگا کر ضلع بھر میں شجرکاری مہم کا باضابطہ افتتاح کر دیا، افتتاحی تقریب میں حفیظ اللہ کھوسہ، عبداللہ رند، اعجاز علی ساسولی، منظور شیرازی سمیت دیگر افسران نے بھی پودے لگا کر مہم میں حصہ لیا جبکہ محمد یعقوب لہڑی، عطائ اللہ ساسولی، دھنی بخش رند، شمن علی سیال اور محمد خان پندرانی بھی اس موقع پر موجود تھے۔ شجرکاری مہم کے حوالے سے ڈسٹرکٹ فاریسٹ آفیسر عبدالنعیم لہڑی نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ضلع نصیرآباد میں مجموعی طور پر 25 ہزار پودے تقسیم کیے جائیں گے جبکہ 5 ہزار پودے لگانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، محکمہ جنگلات کی جانب سے تمام سرکاری و نجی اسکولوں، سرکاری دفاتر، سرکاری رہائش گاہوں اور مقامی زمینداروں کو مفت پودے فراہم کیے جائیں گے تاکہ زیادہ سے زیادہ شجرکاری کو فروغ دیا جا سکے۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر ذوالفقار علی کرار نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ضلع نصیرآباد میں شجرکاری مہم کو کامیاب بنانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے اور متعلقہ اداروں کو ہدایت جاری کی گئی ہے کہ وہ اپنے اپنے دائرہ کار میں زیادہ سے زیادہ پودے لگائیں تاکہ ماحولیاتی آلودگی میں کمی اور قدرتی حسن میں اضافہ ممکن بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ ضلع نصیرآباد بلوچستان کے گرین بیلٹ میں شمار ہوتا ہے اور یہاں پانی کی وافر دستیابی کے باعث شجرکاری کے وسیع مواقع موجود ہیں، اس لیے نہروں کی پشتوں، اسکولوں، مدارس، درسگاہوں، سرکاری دفاتر اور رہائشی علاقوں میں زیادہ سے زیادہ پودے لگا کر علاقے کو سرسبز و شاداب بنانے میں اجتماعی کردار ادا کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
خبرنامہ نمبر1617/2026
نصیرآباد۔۔۔کمشنر نصیر آباد ڈویژن صلاح الدین نورزئی نے کہا ہے کہ موسمیاتی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے زیادہ سے زیادہ پودے لگانا وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے کیونکہ پاکستان سمیت دنیا بھر موسمیاتی تبدیلیوں کی شدید زد میں ہے، اس لیے ہمیں شجرکاری مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا ہوگا تاکہ آنے والی نسلوں کو موسمیاتی نقصانات سے محفوظ بنایا جا سکے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کمشنر آفس کے احاطے میں شجرکاری مہم کے افتتاح کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی اور چیف سیکرٹری شکیل قادر خان کی ہدایات کی روشنی میں شجرکاری مہم کو صوبہ بلوچستان کے اس اہم گرین بیلٹ یعنی نصیر آباد ڈویژن میں مزید وسعت دی جائے گی تاکہ علاقے کو سرسبز و شاداب بنایا جا سکے۔ اس موقع پر ایس ایس پی نصیر آباد اسداللہ ناصر، سیاسی و قبائلی رہنما میر سرفراز خان کھوسہ اور میر سیف اللہ خان کھوسہ نے بھی پودے لگا کر شجرکاری مہم میں حصہ لیا۔ تقریب کے دوران ڈسٹرکٹ فارسٹ آفیسر عبدالنعیم لہڑی نے کمشنر کو شجرکاری مہم کے تحت کیے گئے اقدامات اور آئندہ حکمت عملی کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی۔ کمشنر نصیر آباد ڈویژن صلاح الدین نورزئی نے ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا کہ محکمہ جنگلات زیادہ سے زیادہ پودے کاشتکاروں، زمینداروں اور عام شہریوں میں تقسیم کرے تاکہ سرکاری دفاتر، رہائش گاہوں، زرعی زمینوں اور دیگر مقامات پر بڑے پیمانے پر شجرکاری کو فروغ دیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ زیادہ پودے لگانا ہم سب کے وسیع تر مفاد میں ہے تاہم پودے لگانے کے ساتھ ساتھ ان کی نشوونما اور باقاعدہ آبیاری پر خصوصی توجہ دینا بھی انتہائی ضروری ہے کیونکہ پودا لگانا آسان مرحلہ ہے جبکہ اس کی حفاظت اور نگہداشت ایک مسلسل ذمہ داری ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر پودوں کی مناسب دیکھ بھال کی جائے تو یہی پودے کچھ ہی عرصے میں تناور درخت بن کر ماحول کو بہتر بنانے، آلودگی میں کمی لانے اور موسمیاتی اثرات کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔ تقریب کے اختتام پر شجرکاری مہم کو کامیاب بنانے کے لیے عوامی سطح پر آگاہی بڑھانے اور متعلقہ محکموں کے درمیان مؤثر رابطہ رکھنے پر بھی زور دیا گیا۔
خبرنامہ نمبر1618/2026
صوبائی وزیر مواصلات و تعمیرات میر سلیم احمد کھوسہ نے کہا ہے کہ محکمہ مواصلات و تعمیرات میں بھرتیوں کا عمل خالصتاً میرٹ اور شفافیت کی بنیاد پر مکمل کیا جائے گا اور اس ضمن میں کسی قسم کی سفارش یا دباؤ کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا یہ بات انہوں نے محکمہ مواصلات و تعمیرات میں خالی آسامیوں پر بھرتیوں کے حوالے سے منعقدہ ایک اہم اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی اجلاس میں سیکرٹری مواصلات و تعمیرات بابر خان سمیت صوبے کے تمام چھ زونز کے چیف انجینئرز اور متعلقہ افسران نے شرکت کی اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ محکمہ میں درجہ چہارم اور دیگر خالی آسامیوں پر بھرتیوں کے لیے ابتدائی ورکنگ مکمل کر لی گئی ہے اور اشتہارات جلد جاری کیے جائیں گےاس موقع پر سیکرٹری مواصلات و تعمیرات بابر خان نے کہا کہ بھرتیوں کے عمل کو مؤثر منظم اور مکمل طور پر شفاف بنانے کے لیے واضح طریقہ کار اختیار کیا جائے گا تاکہ کسی بھی قسم کے ابہام یا شکایت کی گنجائش نہ رہےصوبائی وزیر میر سلیم احمد کھوسہ نے اپنے خطاب میں زور دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ صوبائی حکومت کی اولین ترجیح میرٹ کی بالادستی کو یقینی بنانا ہےانہوں نے واضح کیا کہ بھرتیوں کے تمام مراحل کی نگرانی خود سیکرٹری مواصلات و تعمیرات کریں گے تاکہ شفافیت پر کوئی سمجھوتہ نہ ہو انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ آسامیوں کو فوری طور پر مشتہر کیا جائے تاکہ بھرتیوں کا باقاعدہ آغاز کیا جا سکےانہوں نے مزید کہا کہ صوبائی حکومت صوبے میں بے روزگاری کے خاتمے کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے اور محکمہ مواصلات و تعمیرات میں میرٹ کی بنیاد پر نئی بھرتیاں اس سلسلے کی ایک اہم کڑی ہیں ان کا کہنا تھا کہ نوجوانوں کو مساوی مواقع فراہم کرنا اور اداروں کو مضبوط بنانا حکومت کی پالیسی کا بنیادی حصہ ہے اجلاس کے اختتام پر اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ تمام تقرریاں مکمل شفافیت اور قواعد و ضوابط کے مطابق عمل میں لائی جائیں گی تاکہ اہل اور مستحق امیدواروں کو آگے آنے کا موقع مل سکے.
خبرنامہ نمبر1619/2026
لورالائی 25فرروی 2026وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے احکامات کی روشنی میں حکومتِ بلوچستان کی جانب سے ماہِ صیام کی برکتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے مستحق اور نادار افراد کے لیے خصوصی رمضان ریلیف پیکیج پر عملدرآمد جاری ہے۔لورالائی میں ڈپٹی کمشنر میران بلوچ کی خصوصی ہدایات پر اسسٹنٹ کمشنر بوری ندیم اکرم نے ہوٹلوں میں کام کرنے والے لیبر اور سینکڑوں مستحق افراد میں راشن تقسیم کیا۔ضلعی انتظامیہ کی جانب سے شفافیت اور منظم حکمتِ عملی کے تحت لورالائی کے مختلف علاقوں میں راشن کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے ویژن کے مطابق اس رمضان المبارک میں مستحقین تک امداد کی فراہمی شفاف اور باعزت طریقے سے جاری رہے گی اسسٹنٹ کمشنر لورالائی ندیم اکرم کے زیر نگرانی میں سینکڑوں مستحقین افراد میں راشن تقسیم کیا گیا اس دوران غریب،نادار،معذور،اور لاچار خاندانوں کو ترجیحی بنیادوں پر امدادی سامان و راشن فراہم کیا گیا رمضان راشن پیکج میں ایک ماہ کے لیے بنیادی اشیائے ضروریہ شامل تھے جن میں آٹا چاول گھی چینی چائے پتی اور مختلف اقسام کی دالیں شامل ہیں تا کہ وہ رمضان المبارک میں اپنی بنیادی ضروریات باعزت طریقے سے پوری کرسکیں جو معاشرے میں کمزور طبقات کی معاونت اور ان کی مشکلات کے ازالے کی جانب ایک اہم اور قابل تحسین قدم ہے.
خبرنامہ نمبر1620/2026
لورالائی 25فرروی :کمشنر لورالائی ڈویژن ولی محمد بڑیچ کہا کہ درخت زمین کا زیور اور معاش کا اہم ذریعہ ہیں قدرتی آفات روکنے میں مددگار ہیں جہاں درخت زیادہ ہوتے ہیں وہاں بارشیں بھی زیادہ ہوتی ہیں ان خیالات کا اظہار انہوں نے یونیورسٹی آف لورالائی کے سبزہ زار میں شجر کاری مہم کے درخت لگا کر افتتاح کے موقع پر بات چیت کرتے ہوئے کیا اس موقع پر یونیورسٹی آف لورالائی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر احسان اللہ کاکڑ،پرنسپل بی آر سی ڈاکٹر عبد الصمد اچکزئی،ڈپٹی کمشنر لورالائی میران بلوچ،ایس ایس پی لورالائی،پرووائس چانسلر پروفیسر عادل خان بازئی ودیگر موجود تھے انہوں نے کہا کہ اس بار شجر کاری مہم کے دوران سکولوں،کالجوں سرکاری دفاتر مرکز صحت،پبلک مقامات اور قومی شاہراہوں پر بھی زیادہ سے زیادہ درخت لگائے جائیں گے انہوں نے کہا کہ درختوں کی دیکھ بھال بھی ضروری ہے کسی بھی ملک میں 25فیصد جنگلات ضروری ہیں بد قسمتی سے ہمارے ملک میں صرف 5فیصد درخت ہیں جو بہت کم ہے اساتذہ سمت تمام سرکاری ملازمین اور معاشرے کا فرد شجر کاری مہم کے دوران نئے عزم کے ساتھ کردار ادا کریں اور کم از کم ہر شخص ایک درخت ضروری لگا کر دیکھ بھال پر توجہ دیے ڈپٹی کمشنر لورالائی میران بلوچ نے اس موقع پر کہا کہ درخت لگانا صدقہ جاریہ اور وقت کی اہم ضرورت ہے انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ پودے لگانے کے ساتھ ساتھ ان کی حفاظت اور آبیاری پر خصوصی توجہ دی جائے تاکہ ضلعی سطح پر گرین بیلٹ میں اضافہ ہو سکے یونیورسٹی آف لورالائی کی جانب سے شجر کاری مہم خوش آئند اقدام ہے اس سلسلے میں ضلعی انتظامیہ ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی.
خبرنامہ نمبر1621/2026
ڈپٹی کمشنر نصیر آباد کیپٹن ریٹائرڈ ذوالفقار علی کرار کی زیر صدارت ضلع نصیر آباد میں اسکول داخلہ مہم اور شجرکاری مہم کے حوالے سے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں محکمہ تعلیم، جنگلات اور ضلعی انتظامیہ کے افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر حفیظ اللہ کھوسہ، ڈسٹرکٹ فارسٹ آفیسر عبدالنعیم لہڑی، ڈی ڈی اوز عبدالواحد سومرو، خانزادی بلوچ، یونیسیف کے نمائندہ شوکت علی مستوئی، بشیر احمد لہڑی، اعجاز احمد ساسولی اور ڈپٹی کمشنر کے پی ایس منظور شیرازی سمیت دیگر افسران موجود تھے۔ اجلاس کے موقع پر ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر حفیظ اللہ کھوسہ نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ضلع نصیر آباد میں داخلہ اور شجرکاری مہم کو صوبائی احکامات کے مطابق مزید مؤثر بنایا جا رہا ہے اور تحصیل سطح پر دونوں مہمات کے لیے خصوصی کمیٹیاں تشکیل دی جا رہی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ 2 مارچ کو داخلہ مہم کے سلسلے میں پریس کانفرنس منعقد کی جائے گی جبکہ 2 مارچ سے 15 اپریل تک علمائ کرام، سول سوسائٹی نمائندگان اور مختلف مکاتب فکر سے ملاقاتوں کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی کے لیے واکس اور سیمینارز کا انعقاد کیا جائے گا، جبکہ 15 مارچ سے 17 اپریل تک داخلہ مہم کا مکمل ڈیٹا اکٹھا کیا جائے گا تاکہ اہداف کے حصول کا جامع جائزہ لیا جا سکے۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر ذوالفقار علی کرار نے کہا کہ ضلع نصیر آباد میں 11 ہزار سے زائد بچوں اور بچیوں کو اسکولوں میں داخل کروانے کا جو ہدف مقرر کیا گیا ہے اس کے حصول کے لیے ضلعی انتظامیہ محکمہ تعلیم اور محکمہ صحت کے ساتھ مکمل تعاون کو یقینی بنائے گی تاکہ ضلع بھر سے جہالت کے خاتمے کے لیے عملی اقدامات کیے جا سکیں۔ انہوں نے ہدایت کی کہ داخلہ مہم کے ساتھ ساتھ شجرکاری مہم کو بھی بھرپور انداز میں جاری رکھا جائے اور تمام سرکاری اسکولوں میں پودے لگانے کے واضح اہداف مقرر کیے جائیں، جس کے تحت پرائمری اسکولوں میں کم از کم پانچ، مڈل اسکولوں میں دس جبکہ ہائی اسکولوں میں تیس پودے لگائے جائیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ “ہر بچہ ایک درخت” مہم کے تحت طلبہ کو شجرکاری میں شامل کیا جائے تاکہ ماحول کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ طلبہ میں ذمہ داری کا احساس بھی پیدا ہو۔ ڈپٹی کمشنر نے اس بات پر زور دیا کہ پودے لگانے کے ساتھ ان کی حفاظت اور باقاعدہ آبیاری کو بھی یقینی بنایا جائے تاکہ شجرکاری مہم کے مثبت نتائج سامنے آ سکیں۔ اجلاس کے اختتام پر دونوں مہمات کو کامیاب بنانے کے لیے بین الادارہ تعاون بڑھانے اور مسلسل نگرانی کا فیصلہ بھی کیا گیا۔
خبرنامہ نمبر1622/2026
خضدار 26 فروری :ڈپٹی کمشنر خضدار عبدالرزاق سا سولی کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ ایجوکیشن گروپ کا اجلاس منعقد ہوا اجلاس میں ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر عابد حسین بلوچ ڈسٹرکٹ ہیلتھ افیسر خضدار ڈاکٹر محمد نسیم لانگو ،ڈسٹرکٹ ایجوکیش افیسر فیمیل پرنسپل ایلیمنٹری کالج خضدار ڈپٹی ڈسٹرکٹ افیسر ایجوکیشن وڈھ طارق بلوچ ڈپٹی کمشنر خضدار کے اسٹاف افیسر عنایت اللہ بلوچ اور دیگر افسران نے شرکت کی اجلاس میں تمام ڈی ڈی اوز نے رپورٹ پیش کیں ڈپٹی کمشنر کو بریفنگ دی گئی اجلاس میں ڈپٹی کمشنر خضدار عبدالرزاق ساسولی نے فیلڈ افسران کو ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ وہ روزانہ کہ بنیادوں پر ڈسٹرکٹ میں جاری نہم اور دہم کے سالانہ میٹرک امتحانات کا وزٹ کریں نقل کے خاتمے کےلئے کردار ادا کریں ۔امتحانی سینٹرز میں سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے ڈپٹی کمشنر خضدار عبدالرزاق سا سولی نے کہا کہ نان فنکشنل اسکول جو اب فنکشنل ہوئے ہیں ان کے لیے کمیٹی بنا کے یکم مارچ تک کھول دیں گے انہوں نے کہا کہ تعلیم ایک اہم شعبہ ہے اس پر کسی قسم کا کمپرومائز نہیں کیا جائے گا اور میرٹ پر فیصلے کئے جائیں گے انہوں نے کہا کہ پورے ڈسٹرکٹ میں تعلیم کے فروغ کے لیے اقدامات کئے جائیں گے اور اس سلسلے کوئی غفلت برداشت نہیں کریں گے۔
خبرنامہ نمبر1623/2026
کوئٹہ۔ محکمہ پراسیکیوشن حکومت بلوچستان کے ایک اعلامیہ کے مطابق ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکیوٹر خضدار (بی پی ایس 19) شبیر احمد شیخ ولد عبدالرحمان مورخہ 24 اکتوبر 2026 کو عمر کی بالائی حد یعنی 60 کو پہنچ کر ریٹائر ہوجائیں گے.
خبرنامہ نمبر 1624/2026
کوئٹہ25فروری:گورنربلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ بلوچستان میں ہائیر ایجوکیشن سیکٹر کو کامیابی سے آگے بڑھانا ہم سب کیلئے ایک اعزاز ہے۔ الحمدللہ، بلوچستان کی تمام سرکاری یونیورسٹیوں کی رینکنگ اینڈ اسکورنگ میں مسلسل اضافہ ہو رپا ہے۔ بولان میڈیکل یونیورسٹی کی رینکنگ دو سال میں %15 سے %58.5 تک پہنچانا ایک قابل ذکر کارنامہ ہے۔ نئے داخلوں کے بعد بولان میڈیکل یونیورسٹی میں زیرتعلیم میڈیکل اسٹوڈنٹس کی تعداد تقریباً 4000 تک پہنچانے پر وائس چانسلر ڈاکٹر شبیراحمد لہڑی اور انکی پوری ٹیم خراجِ تحسین کے مستحق ہیں۔ ہمارے صوبے کے نوجوانوں کے روشن مستقبل کا تحفظ دراصل پاکستان اور بلوچستان دونوں کیلئے ایک قابل فخر لمحہ ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے بولان یونیورسٹی آف میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنسز کے وائس چانسلر ڈاکٹر شبیر احمد لہڑی سے گورنر ہاؤس کوئٹہ میں گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے اس یقین کا اظہار کیا کہ بولان میڈیکل یونیورسٹی مستقبل قریب میں اعلیٰ تعلیمی منظرنامے میں ایک اہم قوت کے طور پر ابھرے گی، میڈیکل ایجوکیشن کو آگے بڑھائے گی اور طبی اور صحت کے علوم میں باصلاحیت پیشہ ور افراد کی پرورش کریگی۔ گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ پچھلے برس بولان یونیورسٹی آف میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنسز میں نرسنگ، میڈیکل لیبارٹری، ڈینٹل اور سرجری سمیت بارہ مختلف ڈسپلنز میں نئے میڈیکل کورسسز متعارف کروائے تھے اور حال ہی میں استھیٹک سرجری کو متعارف کرانے پر زبردست پذیرائی مل رہی ہے۔ہم نوجوانوں کو بین الاقوامی طلب کے مطابق طبی مہارتوں سے آراستہ کرکے بیرون ملک روزگار کے مواقع پیدا کر رہے ہیں۔ ہماری یونیورسٹی کے فارغ التحصیل افراد بیرون ملک مواقع سے فائدہ اٹھانے کیلئے بہتر پوزیشن میں ہوں گے۔ آگر یہی سلسلہ جاری رہا تو بہت جلد ہم بےروزگاری کے مسئلہ پر قابو پانے میں کامیاب ہو جائیں گسردست ہمیں میڈیکل کورسز پڑھانے اور جدید ریسرچ رحجان کو فروغ دینے کے درمیان توازن قائم کرنے کیلئے مزید ٹھوس عملی اقدامات کرنے ہونگے۔
خبرنامہ نمبر 1625/2026
کوئٹہ /25 فروری: صوبائی سیکرٹری خوراک ارشد حسین بگٹی نے بلوچستان فوڈ اتھارٹی کے ہیڈکوارٹر کا دورہ کیا جہاں انہیں ادارے کی مجموعی کارکردگی اور جاری سرگرمیوں پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اس موقع پر تعارفی اجلاس منعقد ہوا جس میں ڈائریکٹر جنرل بی ایف اے حبیب اللہ خان نے فوڈ سیفٹی مہمات، پالیسی اقدامات اور اصلاحاتی و دیگر امور سے متعلق سیکرٹری کو آگاہ کیا۔اتھارٹی کے مختلف شعبہ جات کے سربراہان نے اپنے اپنے محکموں کی پیش رفت، طے شدہ اہداف اور درپیش چیلنجز پر روشنی ڈالی۔ سیکرٹری خوراک نے بعد ازاں سائنٹیفک لیبارٹری اور جدید موبائل فوڈ ٹیسٹنگ لیبارٹریوں کا معائنہ کیا اور معیار کی جانچ کے نظام اور فیلڈ آپریشنز کو سراہا۔اس موقع پر سیکرٹری خوراک نے کہا کہ عوام کو محفوظ اور معیاری خوراک کی فراہمی حکومت کی اولین ذمہ داری ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ملاوٹ اور ناقص اشیاء خوردونوش کے خاتمے کیلئے اتھارٹی کی سرگرمیوں کو مزید وسعت دے کر انہیں مؤثر اور منظم بنایا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبہ بھر کے تمام خوراک مراکز اور پیداواری یونٹس کو مرحلہ وار اتھارٹی کے دائرہ کار میں لایا جائے گا تاکہ خوراک کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہ ہو۔انہوں نے بلوچستان فوڈ اتھارٹی کی جاری کارروائیوں کو قابل تحسین قرار دیتے ہوئے اصلاحات کے تسلسل اور فوڈ سیفٹی کے فروغ کیلئے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ صحت عامہ کے تحفظ کیلئے ادارے کی کاوشوں کو مزید مضبوط اور مربوط بنایا جائے گا۔
خبرنامہ نمبر 1626/2026
نصیرآباد۔۔ڈپٹی کمشنر ضلع نصیرآباد کیپٹن ریٹائرڈ ذوالفقار علی کرار کی ہدایت کی روشنی میں اسسٹنٹ کمشنر ڈیرہ مراد جمالی بہادر خان کھوسہ کی سربراہی میں پرائس کنٹرول کمیٹی نے شہر کے مختلف بازاروں کا اچانک دورہ کرتے ہوئے گراں فروشوں کے خلاف کارروائیاں کیں۔ کارروائی کے دوران سرکاری نرخناموں کی خلاف ورزی کرنے والے متعدد دکانداروں پر جرمانے عائد کیے گئے جبکہ دودھ، دہی، گوشت اور سبزی فروخت کرنے والے کئی دکانداروں کو سختی کے ساتھ تنبیہ بھی کی گئی کہ آئندہ زائد قیمت وصول کرنے کی صورت میں قانونی کارروائی مزید سخت کی جائے گی۔ اس موقع پر تحصیلدار معظم علی جتوئی، سید سجاد شاہ اور اصغر رند بھی اسسٹنٹ کمشنر کے ہمراہ موجود تھے اور انہوں نے مختلف دکانوں پر نرخناموں اور اشیائے خوردونوش کے معیار کا جائزہ لیا۔ دورے کے موقع پر اسسٹنٹ کمشنر بہادر خان کھوسہ نے گراں فروشوں کو سختی سے ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ضلعی انتظامیہ عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے متحرک ہے اور کسی صورت گراں فروشی برداشت نہیں کی جائے گی، سرکاری نرخنامے پر عملدرآمد ہر صورت یقینی بنایا جائے گا جبکہ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف بلا امتیاز کارروائی جاری رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو معیاری اشیائے خوردونوش مقررہ قیمتوں پر فراہم کرنا انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے اور اس حوالے سے پرائس کنٹرول مہم کو مزید مؤثر بنایا جا رہا ہے۔
خبرنامہ نمبر 1627/2026
کچھی۔۔۔ڈپٹی کمشنر ضلع کچھی کیپٹن (ر) جمعہ داد خان مندوخیل کی زیر صدارت ڈھاڈر میں کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا جس میں شہریوں اور علاقہ معززین کی بڑی تعداد نے شرکت کرکے اپنے مسائل براہِ راست ڈپٹی کمشنر کے سامنے پیش کیے۔ کھلی کچہری کے دوران شہریوں نے امن و امان کی صورتحال، ڈکیتی کے واقعات، پولیس گشت میں مزید بہتری کی ضرورت اور بنیادی سہولیات کی فراہمی سے متعلق امور پر اپنے تحفظات سے آگاہ کیا جبکہ صفائی، سیوریج اور بعض سرکاری دفاتر میں عوامی مسائل کے حل کو مزید مؤثر بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر جمعہ داد خان مندوخیل نے شہریوں کے مسائل تفصیل سے سنے اور متعلقہ محکموں کے افسران کو موقع پر ہی ضروری ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ ضلعی انتظامیہ عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے اور تمام محکمے عوامی مسائل کے حل میں مزید بہتری لائیں۔ انہوں نے کہا کہ امن و امان کے قیام اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مربوط حکمت عملی کے تحت اقدامات جاری ہیں جبکہ شہر میں پولیس گشت کو مزید مؤثر بنایا جائے گا۔ ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ کھلی کچہری کا مقصد عوام کو براہِ راست اپنی شکایات اور مسائل پیش کرنے کا موقع فراہم کرنا ہے تاکہ ان کے فوری اور مؤثر حل کو یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے شہریوں پر زور دیا کہ وہ انتظامیہ کے ساتھ تعاون کریں اور کسی بھی مشکوک سرگرمی کی بروقت اطلاع متعلقہ اداروں کو دیں۔ کھلی کچہری کے اختتام پر موصول ہونے والی درخواستیں متعلقہ محکموں کو کارروائی کے لیے ارسال کر دی گئیں جبکہ بعض مسائل کے فوری حل کے احکامات بھی جاری کیے گئے۔
خبر نامہ نمبر 1628/2026
لورالائی25فروری: وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے احکامات پر کمشنر لورالائی ڈویژن ولی محمد بڑیچ نے رمضان سستا بازار اور مرکزی بازار کا اچانک اور تفصیلی دورہ کر کے انتظامات کا جائزہ لیا۔ دورے کے موقع پر اسسٹنٹ کمشنر بوری ندیم اکرم، انجمن تاجران بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔کمشنر نے مختلف اسٹالز اور دکانوں کا معائنہ کرتے ہوئے سرکاری نرخ ناموں کی دستیابی، اشیائے خوردونوش کے معیار، مقدار اور قیمتوں کو خود چیک کیا۔ انہوں نے دکانداروں کو سختی سے ہدایت جاری کی کہ سرکاری نرخوں کی مکمل پابندی کو یقینی بنایا جائے اور ناجائز منافع خوری سے ہر صورت گریز کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کرنا ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے۔ کمشنر نے سستا بازار میں سرکاری نرخناموں پر عملدرآمد، اشیائے خوردونوش کے معیار، وزن و پیمائش کی درستگی اور صفائی کے انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا۔ انہوں نے دکانداروں کو سختی سے ہدایت کی کہ سرکاری نرخنامے نمایاں جگہوں پر آویزاں رکھے جائیں اور مقررہ قیمتوں سے تجاوز ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔
انہوں نے سستا بازار میں موجود خریداروں سے بھی براہِ راست بات چیت کی اور اشیائے ضروریہ کی دستیابی اور قیمتوں کے حوالے سے رائے لی۔ شہریوں نے انتظامات کو تسلی بخش قرار دیتے ہوئے ضلعی انتظامیہ کی کاوشوں کو سراہا۔اس موقع پر ضلعی انتظامیہ نے دوٹوک انداز میں واضح کیا کہ رمضان المبارک کے دوران ناجائز منافع خوری، ذخیرہ اندوزی اور غیر معیاری اشیاء کی فروخت کے خلاف بلا امتیاز کارروائیاں جاری رہیں گی۔ انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے کہ عوام کو سستی، معیاری اور وافر مقدار میں اشیائے ضروریہ کی فراہمی یقینی بنائی جائے اور بازاروں میں صفائی و نظم و ضبط کو ہر صورت برقرار رکھا جائے۔
خبرنامہ نمبر 1629/2026
جعفرآباد۔ڈپٹی کمشنر ضلع جعفرآباد خالد خان نے سول ہسپتال ڈیرہ اللہ یار کا اچانک دورہ کیا جہاں انہوں نے ہسپتال میں فراہم کی جانے والی طبی سہولیات، ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل اسٹاف کی حاضری اور مجموعی انتظامی امور کا تفصیلی جائزہ لیا۔ دورے کے موقع پر انہوں نے حاضری رجسٹر چیک کیا اور مختلف وارڈز کا معائنہ کرتے ہوئے مریضوں کو دی جانے والی سہولیات کے بارے میں آگاہی حاصل کی۔ اس موقع پر ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر عبدالمنان لاکٹی، پی پی ایچ آئی بلوچستان کے ڈی ایس ایم فیصل اقبال کھوسہ سمیت دیگر ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل اسٹاف بھی موجود تھے۔ ڈپٹی کمشنر نے ہسپتال میں صفائی ستھرائی، ادویات کی دستیابی اور مریضوں کے علاج معالجے کے نظام کا جائزہ لیتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایات جاری کیں کہ عوام کو معیاری اور بروقت طبی سہولیات فراہم کرنے میں کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے ڈاکٹرز کو سختی سے ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ اپنی جائے تعیناتی پر حاضری یقینی بنائیں اور دکھی انسانیت کی خدمت کو اپنی اولین ذمہ داری سمجھتے ہوئے پیشہ وارانہ فرائض احسن انداز میں انجام دیں، آن کال ڈیوٹی کے نام پر غیر حاضری کسی صورت قبول نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ سرپرائز وزٹس کے دوران اگر کوئی ڈاکٹر یا پیرامیڈیکل اسٹاف غیر حاضر پایا گیا تو اس کے خلاف سخت محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ڈپٹی کمشنر خالد خان نے کہا کہ عوام کو صحت کی بہتر سہولیات فراہم کرنا ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیحات میں شامل ہے اور موجودہ حکومتی پالیسی کے تحت صحت کے شعبے میں بہتری کے لیے عملی اقدامات جاری ہیں تاکہ سہولیات عام آدمی کی دہلیز تک پہنچ سکیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ضلع بھر میں طبی نظام کو مزید مؤثر بنانے کے لیے نگرانی کا عمل جاری رکھا جائے گا تاکہ عوام کو بہتر علاج معالجہ کی سہولیات میسر آ سکیں اور سرکاری اداروں پر عوام کا اعتماد مزید مضبوط ہو۔
خبرنامہ نمبر 1630/2026
چمن ڈی سی چمن حبیب احمد بنگلزئی نے اج چمن میں جاری میٹرک کے امتحانات کا تفصیلی دورہ کیا انہوں نے گورنمنٹ بوائز ہائی سیکنڈری سکول چمن ، گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول چمن اور جمال ناصر شھید گراؤنڈ ہال اور امتحانی سنٹرز کا تفصیلی جائزہ لیا اس دوران انہوں نے امتحانی سپرٹنڈنٹ اور عملے کو ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ نقل کی روک تھام کو یقینی بنائیں اور دوران امتحان امتحانی احاطے میں کسی بھی غیر متعلقہ شخص کو نہ چھوڑا جائے انہوں نے امتحانی ہالز میں طلباء و طالبات کے پیپرز حل کرنے کا بھی جائزہ لیا اور تمام امتحانی مراکز میں پانی باتھ رومز اور دیگر سہولیات کا تفصیلی جائزہ لیا انہوں نے امتحانی عملے کو نقل کی روکھ تھام ہر ہال میں یقینی بنانے کی ہدایت کی انہوں نے کہا کہ نقل کی روکھ تھام سے طلباء و طالبات میں اپنے پڑھائی پر دھیان دینے کی رجحان پیدا ہو جائے گی اور وہ پڑھائی پر یکسوئی کے ساتھ عمل پیرا ہوں گے انہوں نے کہا کہ ہمیں محنتی اور پڑھے لکھے اور قابلِ سٹوڈنٹس کی ضرورت ہے اس دوران ڈی سی چمن نے امتحانی مراکز پر تعینات سیکیورٹی افسر اور عملے کو ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ امتحانات کے دوران امتحانی احاطے میں غیر متعلقہ اشخاص کو نزدیک نہ آنے دیں تاکہ امن و امان کی غیر یقینی صورتحال پیدا نہ ہوں
خبرنامہ نمبر 1631/2026 سنجاوی 25 فروری:ڈپٹی کمشنر عبد القدوس اچکزئی کی ہدایت پرتحصیل سنجاوی میں پرائس کنٹرول کے حوالے سے ایک جامع بازار معائنہ کیا گیا۔ اسسٹنٹ کمشنر سنجاوی، شیر شاہ غلزئی نے اس دورے کی قیادت کی، جبکہ ایس ایچ او تھانہ سنجاوی، سجاد احمد بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔معائنہ کے دوران سرکاری نرخ نامہ پر عملدرآمد نہ کرنے پر دو قصاب دکانوں کو سیل کر دیا گیا، جبکہ ایس او پیز کی خلاف ورزی پر ایک بیکری کو بھی سیل کیا گیا۔ اس کے علاوہ مقررہ نرخوں اور ہدایات کی خلاف ورزی کرنے والے دکانداروں پر جرمانے عائد کیے گئے۔تمام دکانداروں کو سختی سے ہدایت کی گئی کہ وہ سرکاری نرخ نامہ، ایس او پیز اور صفائی کے معیار پر مکمل عملدرآمد یقینی بنائیں تاکہ عوام کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔
خبرنامہ نمبر 1632/2026
لورالائی 25 فروری : وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے عوامی فلاح و بہبود پر مبنی وژن کے تحت کمشنر لورالائی ڈویژن ولی محمد بڑیچ نے ماہِ رمضان المبارک کے دوران شہریوں کو زیادہ سے زیادہ ریلیف کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے لورالائی شہر میں قائم رمضان سستا بازار کا تفصیلی دورہ کیا۔ اس موقع پر ان کے ہمراہ اسسٹنٹ کمشنر بوری ندیم اکرم اور دیگر متعلقہ افسران بھی موجود تھے۔دورے کے دوران کمشنر لورالائی نے مرکزی سستا بازار میں سرکاری نرخناموں پر عملدرآمد، اشیائے خوردونوش کے معیار، وزن و پیمائش کی درستگی اور صفائی ستھرائی کے انتظامات کا باریک بینی سے جائزہ لیا۔ انہوں نے دکانداروں کو سختی سے ہدایت کی کہ سرکاری نرخنامے نمایاں جگہوں پر آویزاں رکھے جائیں اور مقررہ قیمتوں سے تجاوز کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔کمشنر ولی محمد بڑیچ نے بازار میں موجود خریداروں سے براہِ راست بات چیت کرتے ہوئے اشیائے ضروریہ کی دستیابی، معیار اور قیمتوں کے حوالے سے ان کی رائے بھی معلوم کی۔ شہریوں نے انتظامات کو تسلی بخش قرار دیتے ہوئے ضلعی انتظامیہ کی کاوشوں کو سراہا اور ریلیف اقدامات پر اطمینان کا اظہار کیا۔اس موقع پر ضلعی انتظامیہ نے دوٹوک انداز میں واضح کیا کہ رمضان المبارک کے دوران ناجائز منافع خوری، ذخیرہ اندوزی اور غیر معیاری اشیاء کی فروخت کے خلاف بلا امتیاز کارروائیاں جاری رہیں گی۔ انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے کہ عوام کو سستی، معیاری اور وافر مقدار میں اشیائے ضروریہ کی فراہمی یقینی بنائی جائے اور بازاروں میں صفائی و نظم و ضبط ہر صورت برقرار رکھا جائے۔
خبرنامہ نمبر 1633/2026
لورالائی 25 فروری:وزیر اعلیٰ بلوچستان کے وژن کے مطابق گھر گھر راشن کی فراہمی کا سلسلہ جاری ہے۔ اس سلسلے میں کمشنر لورالائی ڈویژن ولی محمد ڈپٹی کمشنر لورالائی کی خصوصی ہدایات پر، اسسٹنٹ کمشنر بوری ندیم اکرم کی زیر نگرانی میں لورالائی کے دور دراز علاقوں میں رہائش پذیر خانہ بدوش 60 مستحق خاندانوں میں منظم اور شفاف طریقے سے راشن تقسیم کیا گیا۔اس اقدام کا مقصد محتاج اور غریب خاندانوں کو بنیادی اشیائے ضرورت کی بروقت فراہمی یقینی بنانا اور سماجی بھلائی کو فروغ دینا ہے۔
خبرنامہ نمبر 1634/2026
گوادر، 24 فروری:گوادر ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل معین رحمٰن خان کی زیر صدارت آئندہ مالی سال 2026-27 کے مجوزہ ترقیاتی منصوبوں سے متعلق ایک جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں چیف انجینئر جی ڈی اے حاجی سید محمد، ڈائریکٹر ٹاؤن پلاننگ شاہد علی، سپرنٹنڈنگ انجینئر روڈ نادر بلوچ، سپرنٹنڈنگ انجینئر بلڈنگ شے آصف غنی سمیت دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران آئندہ مالی سال کے لیے صوبائی و وفاقی پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (PSDP) میں شامل کیے جانے والے مختلف ترقیاتی منصوبوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اس موقع پر بنیادی انفراسٹرکچر کی بہتری، شہری سہولیات کی فراہمی، سیاحت کے فروغ، ماحولیاتی بہتری اور عوامی فلاح کو مدنظر رکھتے ہوئے متعدد اہم منصوبوں کی سفارشات مرتب کی گئیں، جنہیں منظوری کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومت کو ارسال کیا جائے گا۔مجوزہ منصوبوں میں قدیم ثقافتی ورثے کی بحالی و تحفظ کے منصوبے کی توسیع، گوادر شہر کے مختلف علاقوں بشمول ٹی ٹی سی کالونی، بخشی کالونی، شمبے اسماعیل وارڈ، نیا آباد اور سربندر میں ڈرینیج، سیوریج اور اسٹریٹ ورک کی فزیبلٹی رپورٹس کی تیاری شامل ہے۔پشکان سرکل تا جیٹی روڈ اور ڈرینیج کی تعمیر، پشکان جیٹی کے بریک واٹر کی توسیع و ڈریجنگ، سربندر جیٹی کی مینٹیننس، کوسٹل ٹورازم ریزورٹس اور فارنرز ریزورٹس کی تعمیر، دیمی زر اور میرین ڈرائیو پر بیچ ڈیولپمنٹ، پبلک اسپیسز، پارکس اور بیچ پلے ایریاز کا قیام، اسماعیلہ محلہ، وشدل محلہ ملا بند میں سیوریج، ڈرینیج اور اسٹریٹس ورک کی تعمیر، جی ڈی اے ہسپتال میں ڈاکٹروں کے لیے رہائشی فلیٹس و بنگلوز کی تعمیر اور گوادر کرکٹ اسٹیڈیم کی توسیع جیسے اہم منصوبے بھی تجاویز میں شامل ہیں۔
ڈائریکٹر جنرل معین رحمٰن خان نے ہدایت کی کہ ترقیاتی منصوبوں کی تیاری اور انتخاب میں پائیدار ترقی، وسائل کے مؤثر اور شفاف استعمال اور عوامی مفاد کو اولین ترجیح دی جائے۔ انہوں نے زور دیا کہ ایسے منصوبوں کو فوقیت دی جائے جو دیرپا ہوں، عوام کو براہِ راست سہولیات فراہم کریں اور جن میں مقامی آبادی کی شمولیت یقینی ہو۔
انہوں نے مزید کہا کہ گوادر کی ترقی کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرتے ہوئے انفراسٹرکچر کی بہتری، سیاحت کے فروغ اور شہری سہولیات کی فراہمی کے ذریعے اسے ایک منظم، ترقی یافتہ اور باوقار ساحلی شہر کے طور پر مزید مستحکم بنایا جائے گا۔
خبرنامہ نمبر 1635/2026
گوادر: عوام کو بہتر اور معیاری طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے ڈسٹرکٹ منیجر پی پی ایچ آئی ڈاکٹر مرشد دشتی نے بنیادی مراکز صحت بی ایچ یو نگور شریف اور بی ایچ یو چب کلمتی کا تفصیلی مانیٹرنگ دورہ کیا۔
دورے کے دوران ڈسٹرکٹ منیجر نے دونوں مراکز میں عملے کی حاضری، او پی ڈی رجسٹر، حفاظتی ٹیکہ جات مرکز (ای پی آئی سائٹ)، ویکسینیشن کے ریکارڈ اور ادویات کی دستیابی کا باریک بینی سے جائزہ لیا۔ انہوں نے مریضوں کو فراہم کی جانے والی طبی سہولیات، صفائی و ستھرائی کی مجموعی صورتحال اور سرکاری ریکارڈ کی درستگی کو بھی چیک کیا۔
ڈاکٹر مرشد دشتی نے عملے کو ہدایت کی کہ وہ ڈیوٹی اوقات کی سختی سے پابندی کریں، مریضوں کے ساتھ خوش اخلاقی اور پیشہ ورانہ ذمہ داری کا مظاہرہ کریں اور تمام ضروری ادویات کی مسلسل دستیابی کو ہر صورت یقینی بنائیں تاکہ دور دراز علاقوں سے آنے والے مریضوں کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پی پی ایچ آئی کے زیر انتظام تمام بنیادی مراکز صحت میں طبی سہولیات کے معیار کو مزید بہتر بنانے کے لیے مانیٹرنگ کا عمل باقاعدگی سے جاری رکھا جائے گا، تاکہ عوام کو ان کی دہلیز پر معیاری اور بروقت طبی خدمات فراہم کی جائے ۔
خبرنامہ نمبر 1639/2026
کوئٹہ، 25 فروری :وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے ضلع کیچ کے علاقے بلیدہ میں ایک رہائشی گھر پر حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے افسوسناک اور بزدلانہ اقدام قرار دیا ہے بلوچستان اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ معصوم خواتین اور بچوں کو نشانہ بنانا کھلی دہشت گردی ہے جس کے ذمہ دار عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا انہوں نے مذمتی قرارداد کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے واقعے میں جاں بحق افراد کے لواحقین کے لیے مالی معاونت دینے کا بھی اعلان کیا۔
خبرنامہ نمبر 1640/2026
کوئٹہ، 25 فروری :ایڈیشنل چیف سیکرٹری ترقیات و منصوبہ بندی، زاہد سلیم نے بدھ کی شب صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں زرغون روڈ پر جاری ترقیاتی منصوبوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔اس موقع پر زاہد سلیم نے متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ منصوبوں میں معیار کو یقینی بناتے ہوئے کام کی رفتار کو تیز کیا جائے تاکہ مقررہ وقت کے اندر یہ منصوبے مکمل ہو سکیں۔اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے ایڈیشنل چیف سیکرٹری ترقیات و منصوبہ بندی نے کہا کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان، میر سرفراز بگٹی کے وژن کے مطابق صوبے میں بنیادی ڈھانچے کی مضبوطی اور شہری سہولیات کی بہتری پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے جبکہ چیف سیکرٹری بلوچستان، شکیل قادر خان کی رہنمائی میں ترقیاتی منصوبوں کی شفاف اور معیار کے مطابق تکمیل کو یقینی بنایا جا رہا ہے زاہد سلیم نے کہا کہ زرغون روڈ کے منصوبے صوبائی حکومت کے شہری سہولیات میں بہتری اور انفراسٹرکچر کی مضبوطی کے عزم کی عملی تصویر ہیں اور ان سے شہر میں نقل و حمل کے مواقع بہتر ہوں گے اور شہری ترقی میں خاطر خواہ اضافہ ہوگا۔
خبرنامہ نمبر 1635/2026
تربت.اسسٹنٹ کمشنر تربت محمد حنیف کبزئی نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی خبر کا فوری نوٹس لیتے ہوئے تربت شہر میں واقع دھوبی گلی کا ہنگامی دورہ کیا خبر میں مبینہ تجاوزات، سیڑھیوں کی غیرقانونی تعمیر اور ٹریفک کی روانی میں خلل ڈالنے سے متعلق شکایات سامنے آئی تھیں.اسسٹنٹ کمشنر تربت نے موقع پر پہنچ کر صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا اور غیرقانونی طور پر تعمیر کی جانے والی سیڑھیوں کا کام فوری طور پر بند کروا دیا۔ انہوں نے واضح الفاظ میں ہدایت جاری کی کہ سڑکوں اور عوامی گزرگاہوں پر کسی قسم کی تجاوزات ہرگز برداشت نہیں کی جائیں گی متعلقہ دکاندار کو وضاحت کے لیے اپنے دفتر طلب کرلیا گیا ہے تاکہ قانونی کارروائی عمل میں لائی جاسکے۔بعدازاں اسسٹنٹ کمشنر تربت محمد حنیف کبزئی نے پرائس کنٹرول کمیٹی کے انچارج نیاز احمد کے ہمراہ تربت شہر کے مختلف بازاروں کا دورہ کیا۔ انہوں نے دکانداروں کو سختی سے ہدایت کی کہ سرکاری نرخ نامے کے مطابق اشیائے ضروریہ کی فروخت یقینی بنائی جائے اور عوام کو ناجائز منافع خوری سے محفوظ رکھا جائے۔اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر تربت محمد حنیف کبزئی نے کہا کہ رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کرنا ضلعی انتظامیہ کیچ کی اولین ذمہ داری ہے انہوں نے خبردار کیا کہ گرانفروشی، ذخیرہ اندوزی اور تجاوزات کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں جاری رہیں گی تاکہ شہریوں کو سہولت اور بہتر ماحول فراہم کیا جا سکے۔ضلعی انتظامیہ تربت شہر میں نظم و ضبط، ٹریفک کی روانی اور عوامی سہولت کو یقینی بنانے کے لیے ہمہ وقت متحرک ہے اور شہریوں کے مسائل کے حل کے لیے فوری اقدامات جاری رکھے.
خبرنامہ نمبر 1636/2026
نصیرآباد25فروری:۔حکومت بلوچستان کے احکامات پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے ضلعی انتظامیہ نصیرآباد کی جانب سے مستحق افراد میں راشن کی تقسیم کا سلسلہ جاری ہے۔ حکومت بلوچستان کی خصوصی ہدایات اور میر سرفراز بگٹی کی جانب سے فراہم کردہ رمضان راشن پیکج کے تحت کیپٹن ریٹائرڈ ذوالفقار علی کرار نے اسسٹنٹ کمشنر بہادر خان کھوسہ کے ہمراہ ڈیرہ مراد جمالی میں میونسپل کمیٹی کے محنت کش خاکروبوں اور دیہاڑی پر کام کرنے والے درجہ چہارم کے ملازمین میں ماہ صیام کا راشن تقسیم کیا۔ اس موقع پر غریب ملازمین نے ضلعی انتظامیہ کے اس اقدام کو بے حد سراہتے ہوئے کہا کہ اس امداد سے ان کے گھروں کے بجھے ہوئے چولہے دوبارہ جل اٹھے ہیں اور رمضان المبارک میں انہیں حقیقی سہارا ملا ہے۔ڈپٹی کمشنر نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نصیرآباد میں مستحق اور نادار طبقے تک سرکاری راشن کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنایا جا رہا ہے اور اس عمل میں شفافیت کو ہر صورت برقرار رکھا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے دی گئی ذمہ داری کو پوری دیانتداری کے ساتھ ادا کرنا ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے اور کسی بھی صورت حقدار افراد کی حق تلفی برداشت نہیں کی جائے گی۔بعد ازاں سلیم خان ڈومکی نے ضلعی انتظامیہ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ میونسپل کمیٹی کے غریب اور مستحق ملازمین کو رمضان پیکج میں شامل کرنا قابل تحسین اقدام ہے جس سے نچلے درجے کے ملازمین کی حوصلہ افزائی ہوئی ہے۔ اس موقع پر اصغر رند بھی موجود تھے.
خبرنامہ نمبر 1637/2026
سبی 25 فروری:کمشنر سبی ڈویژن اسد اللہ فیض نے موسمِ بہار کی شجرکاری مہم کا باقاعدہ افتتاح کمشنر آفس سبی کے سبزہ زار میں پودا لگا کر کیا۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر سبی میجر(ر) الیاس کبزئی، کنزرویٹر فارسٹ زاہد رند، ڈسٹرکٹ فارسٹ آفیسر سید طارق شاہ سمیت دیگر افسران بھی موجود تھے۔ تقریب کے دوران ڈپٹی کمشنر سبی میجر(ر) الیاس کبزئی نے بھی پودا لگا کر شجرکاری مہم میں حصہ لیا جبکہ دیگر تمام افسران نے بھی پودے لگا کر ماحول دوستی کا عملی مظاہرہ کیا۔ کمشنر سبی ڈویژن نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شجرکاری ماحولیاتی تحفظ، موسمیاتی تبدیلی کے اثرات میں کمی اور آئندہ نسلوں کو صاف و شفاف ماحول کی فراہمی کے لیے ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈویژن بھر میں ڈیڑھ لاکھ پودے لگانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے جبکہ ضلع سبی میں 30 ہزار پودے لگائے جائیں گے۔ انہوں نے متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ صرف پودے لگانا ہی نہیں بلکہ ان کی نگہداشت اور بقا کو بھی یقینی بنایا جائے تاکہ شجرکاری مہم کے ثمرات دیرپا ثابت ہوں۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری اداروں کے ساتھ ساتھ تعلیمی اداروں، سماجی تنظیموں اور شہریوں کو بھی اس قومی مہم میں بھرپور کردار ادا کرنا ہوگا۔ درخت ہماری بقائ، صحت مند ماحول اور خوبصورت شہر کی ضمانت ہیں، اس لیے ہر شہری کم از کم ایک پودا لگا کر اس کی حفاظت کو یقینی بنائے۔ قبل ازیں اسی حوالے سے ویڈیو لنک کے ذریعے ڈویژن کے دیگر اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز نے اجلاس میں شرکت کی۔ کمشنر سبی ڈویژن نے واضح ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ شجرکاری مہم کو منظم حکمت عملی کے تحت آگے بڑھایا جائے، مقررہ اہداف کے حصول کے لیے پیش رفت رپورٹ باقاعدگی سے ارسال کی جائے اور تمام محکمے باہمی تعاون سے اس مہم کو کامیاب بنائیں۔
خبرنامہ نمبر 1638/2026
ہرنائی 25 فروری: صوبائی حکومت کی خصوصی ہدایات کی روشنی میں ضلع ہرنائی میں پرائس کنٹرول اور تجاوزات کے خلاف کارروائیاں تیز کر دی گئیں۔ اس سلسلے میں اسسٹنٹ کمشنر ہرنائی عبدالرازق ترین نے ایس ایچ او اور ایڈیشنل ایس ایچ او پولیس اسٹیشن ہرنائی کے ہمراہ ہرنائی بازار کا تفصیلی دورہ کیا۔دورے کے دوران اسسٹنٹ کمشنر نے مختلف دکانوں پر اشیائے خوردونوش کی قیمتوں، وزن اور سرکاری نرخنامے پر عملدرآمد کا جائزہ لیا۔ انہوں نے دکانوں میں صفائی ستھرائی کی صورتحال کا بھی معائنہ کیا اور موقع پر موجود دکانداروں کو حکومتی احکامات پر سختی سے عمل کرنے کی ہدایت کی۔انتظامیہ نے کارروائی کرتے ہوئے مقررہ نرخنامے کی خلاف ورزی، صفائی کے ناقص انتظامات، زائدالمیعاد اشیائ کی فروخت، کم وزن روٹیاں اور دیگر کم وزن اشیائ فروخت کرنے اور غیر قانونی تجاوزات قائم کرنے پر 6 دکانداروں کو گرفتار کر لیا۔ مزید برآں، زائدالمیعاد اشیائ کی موجودگی پر 3 دکانوں کو سیل کر دیا گیا جبکہ متعدد دکانداروں کو جرمانے بھی عائد کیے گئے۔اسسٹنٹ کمشنر ہرنائی عبدالرازق ترین نے واضح کیا کہ عوام کو معیاری اور مقررہ نرخوں پر اشیائ کی فراہمی یقینی بنانا ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ حکومتی احکامات کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری رہے گی اور کسی سے رعایت نہیں برتی جائے گی۔علاقہ مکینوں نے ضلعی انتظامیہ کی جانب سے کی جانے والی کارروائیوں کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ اس طرح کی کارروائیاں تسلسل کے ساتھ جاری رہیں گی تاکہ عوام کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔
Handout No 1639/2026
Quetta, 25 February 2026
Additional Chief Secretary Development & Planning, Zahid Saleem, conducted a detailed review of the ongoing development works on Zarghoon Road in the provincial capital, Quetta, on Wednesday night.
On the occasion, Zahid Saleem directed the concerned departments to ensure that the projects are completed within the stipulated timeline while maintaining high quality standards.
Speaking on the occasion, the Additional Chief Secretary said that under the vision of Chief Minister of Balochistan, Mir Sarfraz Bugti, the provincial government is giving focused attention to strengthening infrastructure and improving civic facilities. Under the guidance of Chief Secretary Balochistan, Shakeel Qadar Khan, development projects are being implemented with transparency and adherence to quality standards.
He further stated that the Zarghoon Road projects reflect the provincial government’s commitment to enhancing urban facilities and infrastructure, which will not only improve transportation in the city but also contribute significantly to overall urban development.







