خبرنامہ نمبر 3213/2026*
کوئٹہ۔ 21 مارچ:وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے عیدالفطر کے پُرمسرت موقع پر بلوچستان سمیت پورے پاکستان اور عالمِ اسلام کو دلی مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ عید کا یہ مقدس دن ہمیں بھائی چارے، رواداری، باہمی احترام اور ضرورت مندوں کا خیال رکھنے کا درس دیتا ہے سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر اپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ رمضان المبارک کے بعد آنے والی یہ خوشیوں بھری گھڑیاں ہمیں ایثار، محبت اور اجتماعی فلاح کے جذبے کو مزید فروغ دینے کا موقع فراہم کرتی ہیں وزیر اعلیٰ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ صوبائی حکومت عوام کی فلاح و بہبود، امن و امان کے قیام اور ترقی کے سفر کو تیز کرنے کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے گی انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں ہمیں قومی یکجہتی اور اتحاد کی اشد ضرورت ہے تاکہ ہم درپیش چیلنجز کا مل کر مقابلہ کر سکیں میر سرفراز بگٹی نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ بلوچستان اور پاکستان کو پائیدار امن، ترقی اور خوشحالی سے ہمکنار فرمائے اور ہمیں عید کی حقیقی خوشیوں کو دوسروں کے ساتھ بانٹنے کی توفیق عطا کرے۔
خبرنامہ نمبر 3214/2026
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ جنگلات کسی بھی خطے کی معاشی مضبوطی اور ماحولیاتی توازن کے ضامن ہوتے ہیں، اور بلوچستان کے تناظر میں ان کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ جنگلات نہ صرف قیمتی قدرتی وسائل فراہم کرتے ہیں بلکہ زراعت اور مویشی پالنے جیسے بنیادی شعبوں کو تقویت دیتے ہوئے عوام کے معیارِ زندگی کو بہتر بنانے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں جنگلات کے عالمی دن کی مناسبت سے اپنے ایک پیغام میں انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے چیلنجز کے پیش نظر جنگلات کا تحفظ ناگزیر ہو چکا ہے۔ حکومت بلوچستان اس حوالے سے جامع حکمت عملی کے تحت عملی اقدامات کر رہی ہے، جن میں ساحلی مینگروز جنگلات کی بحالی، کاربن کریڈٹ منصوبوں کا فروغ اور جنگلاتی اراضی کے مؤثر انتظام و انصرام شامل ہیں، تاکہ قدرتی وسائل کے تحفظ کو پائیدار معاشی مواقع میں تبدیل کیا جا سکے وزیر اعلیٰ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ صوبائی حکومت جنگلات کے فروغ، تحفظ اور دانشمندانہ استعمال کو یقینی بنانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے گی، تاکہ آنے والی نسلوں کو ایک محفوظ، سرسبز اور پائیدار ماحول فراہم کیا جا سکے انہوں نے عوام الناس، خصوصاً نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ شجرکاری مہمات میں بھرپور حصہ لیں اور جنگلات کے تحفظ کو اپنی قومی و سماجی ذمہ داری سمجھیں، کیونکہ جنگلات کی بقا ہی ہماری خوشحالی، ماحولیاتی استحکام اور روشن مستقبل کی ضمانت ہے۔
خبرنامہ نمبر 3215/2026
کوئٹہ، 22 مارچ: وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے سینیٹر شیری رحمان کی بیٹی کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے اپنے تعزیتی پیغام میں انہوں نے کہا کہ مرحومہ کی اچانک وفات سے بہت افسوس اور گہرا دکھ ہوا اور وہ اس دکھ کی گھڑی میں سوگوار خاندان کے ساتھ برابر کے شریک ہیں وزیر اعلیٰ نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحومہ کو اپنی جوارِ رحمت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور اہلِ خانہ کو یہ صدمہ برداشت کرنے کی ہمت اور صبرِ جمیل عطا کرے۔
خبرنامہ نمبر 3216/2026
کوئٹہ۔ 21 مارچ:وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے عیدالفطر کی نماز میر غلام قادر اسپورٹس کمپلیکس قادر آباد بالائی ڈیرہ بگٹی میں ادا کی جہاں عوام کی بڑی تعداد نے بھی ان کے ہمراہ نماز عید ادا کی اس موقع پر نماز اور خطبے کے بعد وزیر اعلیٰ نے صوبے، ملک اور امتِ مسلمہ کی سلامتی، پائیدار امن، ترقی اور خوشحالی کے لیے خصوصی دعائیں کیں نماز عید کے بعد وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی عوام میں گھل مل گئے اور شہریوں کے ساتھ عید کی مبارکباد کا پرتپاک تبادلہ کیا اس موقع پر شہریوں کی بڑی تعداد نے وزیر اعلیٰ سے مصافحہ کیا انہیں عید کی مبارکباد دی اور نیک تمناؤں کا اظہار کیا عوام نے وزیر اعلیٰ کو اپنے درمیان پا کر خوشی کا اظہار کیا جبکہ نوجوانوں اور دیگر شہریوں نے ان کے ساتھ یادگاری سیلفیاں بھی بنوائیں بعد ازاں وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے اپنی رہائش گاہ پر قبائلی عمائدین، معتبرین اور معزز مہمانوں سے ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران روایتی حال احوال کے ساتھ ساتھ علاقائی صورتحال، عوامی مسائل اور جاری ترقیاتی منصوبوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا قبائلی عمائدین نے وزیر اعلیٰ کو عیدالفطر کی مبارکباد پیش کرتے ہوئے علاقے میں جاری ترقیاتی کاموں پر ان کا شکریہ ادا کیا اور حکومتی اقدامات کو سراہا اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ عیدالفطر کا مقدس موقع ہمیں اتحاد، اخوت، بھائی چارے اور ضرورت مند طبقات کا احساس کرنے کا درس دیتا ہے انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت عوام کی فلاح و بہبود، سماجی تحفظ اور خوشحالی کو یقینی بنانے کے لیے سنجیدہ اور عملی اقدامات کر رہی ہے وزیر اعلیٰ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ بلوچستان میں دیرپا امن و استحکام کا قیام حکومت کی اولین ترجیح ہے اور عوام کے تعاون سے ترقی کا سفر مزید تیز کیا جائے گا انہوں نے زور دیا کہ باہمی ہم آہنگی، رواداری اور یکجہتی کو فروغ دے کر ہی ایک مضبوط، مستحکم اور خوشحال معاشرہ تشکیل دیا جا سکتا ہے۔
خبرنامہ نمبر 3217/2026
اپر ڈیرہ بگٹی, 22 مارچ :وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے عید کے دوسرے دن بھی شہریوں کے مسائل سننے اور حل کے لیے موقع پر ہی احکامات جاری کئے، پاکستان ہاؤس اپر ڈیرہ بگٹی میں انہوں نے عمائدین اور شہریوں سے ملاقات کی اور روایتی قبائلی حال احوال دریافت کیا عید کے اس دوسرے دن عوامی کھلی کچہری میں وزیر اعلیٰ نے شہریوں کے مسائل سنے اور موقع پر ہی شنوائی کی اس موقع پر ضلع کوہلو، ضلع بارکھان اور ضلع ڈیرہ بگٹی سمیت دیگر علاقوں کے قبائلی عمائدین اور شہریوں نے وزیر اعلیٰ سے ملاقات کی وزیر اعلیٰ نے پانچ گھنٹے سے زائد وقت عوامی مجمع میں گزارا اور براہِ راست شہریوں سے ملاقاتیں کیں جس سے عوام کو ان کے مسائل کے حل میں فوری سہولت اور اعتماد ملا وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ صوبائی حکومت کی اولین ترجیح عوامی مسائل کا حل ہے اور بلوچستان کی بکھری آبادیت تک بنیادی سہولیات کی فراہمی کسی چیلنج سے کم نہیں انہوں نے کہا کہ بنیادی مواصلاتی ڈھانچے سے لیکر تمام سہولیات کی فراہمی منظم حکمت عملی کے تحت کی جا رہی ہے اور دستیاب وسائل عوام کی ضروریات کے اجتماعی منصوبوں کے لیے بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ آئندہ بجٹ میں بھی عوام کی بہبود کے قابل عمل منصوبے شامل کیے جائیں گے، اور عوامی ضروریات کے حامل منظور شدہ ترقیاتی منصوبے بجٹ کا حصہ ہوں گے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ “وسائل کی ایک ایک پائی عوام کی امانت ہے منصوبوں کی تشکیل سے تکمیل تک میں خود جائزہ لوں گا تاکہ عوام کو حقیقی فائدہ پہنچے عمائدین اور عوام نے بلوچستان میں جاری ترقیاتی منصوبوں اور عوامی مسائل کے بروقت حل پر وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی کا شکریہ ادا کیا اور انہیں خراجِ تحسین پیش کیا
خبرنامہ نمبر 3218/2026
نصیرآباد:عید الفطر کے پُرمسرت موقع پر وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے احکامات کی روشنی میں ضلعی انتظامیہ نصیرآباد کی جانب سے انسانیت دوستی اور ہمدردی کی ایک خوبصورت مثال قائم کی گئی، جس کے تحت ڈسٹرکٹ جیل میں قید افراد کو بھی عید کی خوشیوں میں شامل کیا گیا۔ڈپٹی کمشنر نصیرآباد کیپٹن ریٹائرڈ ذوالفقار علی کرار کی خصوصی ہدایت پر اسسٹنٹ کمشنر ڈیرہ مراد جمالی بہادر خان کھوسہ نے عید کے پہلے روز ڈسٹرکٹ جیل کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے قیدیوں میں بریانی تقسیم کی اور ان کے ساتھ عید کی خوشیاں بانٹیں۔اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر بہادر خان کھوسہ نے قیدیوں سے فرداً فرداً ملاقات کی، ان کی خیریت دریافت کی اور انہیں عید الفطر کی مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے قیدیوں کو یقین دلایا کہ حکومت اور ضلعی انتظامیہ ان کی فلاح و بہبود کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے اور انہیں معاشرے کا کار آمد شہری بنانے کے لیے ہر ممکن سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔اس موقع پر قیدیوں نے ضلعی انتظامیہ کے اس اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ عید کے موقع پر اس طرح کی توجہ اور شفقت ان کے لیے باعثِ مسرت ہے اور انہیں اپنے اہل خانہ کی کمی کسی حد تک محسوس نہیں ہوئی۔
خبرنامہ نمبر 3219/2026
کوئٹہ: ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی نے عید کے پہلے دن انسانیت دوستی اور سماجی ذمہ داری کی عمدہ مثال قائم کرتے ہوئے ڈسٹرکٹ جیل اور ایس او ایس یتیم خانے کا دورہ کیا۔ڈپٹی کمشنر نے ڈسٹرکٹ جیل میں قیدیوں سے ملاقات کی، انہیں عیدی دی اور مٹھائیاں تقسیم کیں۔ اس موقع پر انہوں نے جیل کے میڈیکل وارڈ کا بھی دورہ کیا اور زیرِ علاج قیدیوں کی خیریت دریافت کی۔بعد ازاں ڈپٹی کمشنر نے ایس او ایس یتیم خانے کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے یتیم بچوں کے ساتھ وقت گزارا، ان میں عیدی اور مٹھائیاں تقسیم کیں اور ان کے ساتھ عید کی خوشیاں بانٹیں۔ڈپٹی کمشنر کا کہنا تھا کہ عید خوشیاں بانٹنے کا نام ہے اور ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی خوشیوں میں ان افراد کو بھی شامل کریں جو خصوصی توجہ کے مستحق ہیں۔
خبرنامہ نمبر 3220/2026
لورالائی 21 مارچ:ڈپٹی کمشنر لورالائی کیپٹن(ر) محمد حسیب شجاع کی خصوصی ہدایات پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) نور علی کاکڑ نے عید کے پُرمسرت موقع پر ٹیچنگ ہسپتال کا دورہ کیا۔ جہاں انہوں نے زیرِ علاج مریضوں کی عیادت کی اور ان میں عید کی خوشیاں بانٹتے ہوئے مٹھائی تقسیم کی۔ اس موقع پر انہوں نے مریضوں کی جلد صحت یابی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا اور ہسپتال انتظامیہ کو بہترین طبی سہولیات کی فراہمی جاری رکھنے کی ہدایت بھی کی۔ انہوں نے کہا کہ عید کے مبارک موقع پر جب لوگ اپنے پیاروں کے ساتھ خوشیاں منا رہے ہوتے ہیں، اس وقت انسانیت کی خدمت کے لیے اپنی ڈیوٹی پر موجود رہنا انتہائی قابلِ ستائش عمل ہے۔ڈپٹی میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر زین اللہ کاکڑ، ڈاکٹر محمد کلیم اور دیگر سٹاف کی موجودگی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ طبی عملہ ہر حال میں مریضوں کی دیکھ بھال اور ہسپتال کے انتظامات کو ترجیح دیتا ہے۔
عید کے دن ڈیوٹی کرنا پیشہ ورانہ لگن کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
: ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل سٹاف کا یہ ایثار مریضوں اور ان کے لواحقین کے لیے اطمینان کا باعث بنتا ہے۔اور ڈی ایم ایس کی موجودگی سے ہسپتال کے انتظامی امور اور ایمرجنسی سروسز کی بروقت فراہمی بھی یقینی ہوتی ہے۔
خبرنامہ نمبر 3221/2026
کوئٹہ 21 مارچ۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی نے عید کے پہلے دن انسانیت دوستی اور سماجی ذمہ داری کی عمدہ مثال قائم کرتے ہوئے ڈسٹرکٹ جیل ہدہ اور ایس او ایس یتیم خانے کا دورہ کیا۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر نے ڈسٹرکٹ جیل میں قیدیوں سے ملاقات کی، انہیں عیدی دی اور مٹھائیاں تقسیم کیں۔ اس موقع پر انہوں نے جیل کے میڈیکل وارڈ کا بھی دورہ کیا اور زیرِ علاج قیدیوں کی خیریت دریافت کی۔بعد ازاں ڈپٹی کمشنر نے ایس او ایس یتیم خانے کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے یتیم بچوں کے ساتھ وقت گزارا، ان میں عیدی اور مٹھائیاں تقسیم کیں اور ان کے ساتھ عید کی خوشیاں بانٹیں۔ڈپٹی کمشنر کا کہنا تھا کہ عید خوشیاں بانٹنے کا نام ہے اور ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی خوشیوں میں ان افراد کو بھی شامل کریں جو خصوصی توجہ کے مستحق ہیں۔
خبرنامہ نمبر 3222/2026
بارکھان 21 مارچ:مرکزی عیدگاہ میں عید کی نماز باجماعت ادا، سیکیورٹی کے سخت انتظامات بارکھان میں عیدالفطر کی نماز مرکزی عیدگاہ میں نہایت عقیدت و احترام کے ساتھ باجماعت ادا کر دی گئی۔ نماز عید کے موقع پر شہر اور گردونواح سے آنے والے شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی، جس کے باعث عیدگاہ میں روح پرور منظر دیکھنے میں آیا۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر عبداللہ کھوسہ سمیت علاقے کے معززین، سرکاری افسران اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد بھی موجود تھے۔ شہریوں نے ایک دوسرے کو عید کی مبارکباد دی اور خوشی کا اظہار کیا۔نماز عید کی ادائیگی کے بعد خطیب نے اپنے خطاب میں عید کے پیغام، اخوت، بھائی چارے اور اسلامی تعلیمات پر روشنی ڈالی۔ بعد ازاں عالمِ اسلام، پاکستان کی سلامتی، ترقی، خوشحالی اور امن و استحکام کے لیے خصوصی دعائیں کی گئیں۔ ملکی حالات میں بہتری، عوام کی فلاح و بہبود اور امتِ مسلمہ کے اتحاد کے لیے بھی دعا مانگی گئی۔عید نماز کے دوران سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔ پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے الرٹ رہے اور عیدگاہ کے داخلی و خارجی راستوں پر چیکنگ کا موثر نظام قائم کیا گیا تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے اور شہریوں کو پرامن ماحول فراہم کیا جا سکے۔
خبرنامہ نمبر 3223/2026
لورالائی21مارچ:ڈی آئی جی لورالائی، جنید احمد شیخ نے عیدالفطر کے پہلے روز ضلع لورالائی میں سیکیورٹی انتظامات کا جامع اور تفصیلی جائزہ لینے کے لیے مختلف پولیس تنصیبات کا دورہ کیا۔ اس سلسلے میں انہوں نے پولیس لائنز ، پولیس اسٹیشن محمد اشرف شہید اور پولیس اسٹیشن صادق علی کا معائنہ کیا، جہاں انہیں متعلقہ افسران کی جانب سے سیکیورٹی پلان، نفری کی تعیناتی، گشت کے نظام اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے کیے گئے اقدامات پر بریفنگ دی گئی۔ڈی آئی جی لورالائی نے ڈیوٹی پر موجود افسران و اہلکاروں کی پیشہ ورانہ تیاری، مستعدی اور نظم و ضبط کا بغور جائزہ لیتے ہوئے مجموعی سیکیورٹی انتظامات پر اطمینان کا اظہار کیا۔ اس موقع پر انہوں نے افسران و جوانوں سے فرداً فرداً ملاقات کی، انہیں عیدالفطر کی دلی مبارکباد پیش کی اور ماہِ رمضان المبارک اور عید کے دوران عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے ان کی انتھک خدمات، قربانیوں اور فرض شناسی کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ عید کے پرمسرت موقع پر شہریوں کو پُرامن اور محفوظ ماحول کی فراہمی پولیس کی اولین ذمہ داری ہے، جس کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لاتے ہوئے الرٹ اور متحرک رہنا ناگزیر ہے۔ مزید برآں، انہوں نے ہدایت جاری کی کہ حساس مقامات، عبادت گاہوں، عوامی مقامات اور داخلی و خارجی راستوں پر سیکیورٹی کو مزید مؤثر بنایا جائے اور کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بروقت نمٹنے کے لیے ہمہ وقت تیار رہا جائے۔
خبرنامہ نمبر 3224/2026
عیدالفطر کے پر مسرت موقع پر ڈپٹی کمشنر دکی محمد نعیم خان نے پولیس تھانہ سٹی سب جیل کا دورہ کیا اور قیدیوں کو عید کی مبارکباد دی جبکہ ان میں مٹھائی اور تحائف بھی تقسیم کیے گئے۔ ڈپٹی کمشنر نے جیل کے مختلف حصوں کا معائنہ کیا اور قیدیوں کو فراہم کی جانے والی سہولیات کا جائزہ لیا، ساتھ ہی جیل انتظامیہ کو ضروری ہدایات جاری کیں۔بعد ازاں ڈپٹی کمشنر دکی نے شہداء پولیس (سابقہ لیویز) اہلکاروں کے اہلخانہ سے ملاقاتیں کیں اور انہیں عید کی مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ امن و امان کے قیام کے لیے ان کی خدمات ناقابلِ فراموش ہیں۔ اس موقع پر اہلخانہ میں تحائف بھی تقسیم کیے گئے اور ان کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا گیا۔
خبرنامہ نمبر 3225/2026
تربت: وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر صحت بخت محمد کاکڑ کی خصوصی ہدایت پر اسپیشل سیکریٹری صحت شیہک شہداد بلوچ نےعید کے موقع پر ٹیچنگ سول اسپتال تربت کا ہنگامی دورہ کیا۔ دورے کے دوران انہوں نے ایمرجنسی، مختلف وارڈز، صفائی ستھرائی، ڈاکٹرز و عملے کی حاضری اور طبی سہولیات کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر انہوں نے مریضوں سے ملاقات کی اور ادویات کی فراہمی سمیت دیگر مسائل کے بارے میں دریافت کیا۔انہوں نے کہا کہ صوبائی وزیر صحت کی ہدایت پر ایمرجنسی شعبے میں 12 کنٹریکٹ ڈاکٹرز تعینات کر دیے گئے ہیں تاکہ اب 24 گھنٹے کم از کم دو ڈاکٹرز ہر وقت موجود ہوں گے۔اسپیشل سیکریٹری صحت شیہک شہداد بلوچ نے کہا کہ یہ تربت کے عوام کا دیرینہ مطالبہ تھا، جس پر سنجیدگی سے عمل کرتے ہوئے فوری حل نکالا گیا ہے تاکہ عوام کو مستقل بنیادوں پر بہتر طبی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ سول اسپتال تربت میں اس وقت 150 سے زائد ڈاکٹرز خدمات انجام دے رہے ہیں، جن میں سرجن، اسپیشلسٹ، آئی اسپیشلسٹ، آرتھوپیڈک اور گائناکالوجسٹ شامل ہیں۔ تمام ڈاکٹرز کی باقاعدہ شیڈولنگ بھی کی جا رہی ہے تاکہ عوام کو ہر وقت سہولت میسر ہو۔شیہک شہداد بلوچ کا مزید کہنا تھاکہ ہماری کوشش ہے کہ تمام سرکاری اسپتالوں کو 24 گھنٹے فعال بنایا جائے تاکہ عام عوام کو بہتر اور فوری علاج کی سہولیات مل سکیں۔عوامی حلقوں نے اس اقدام کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے صوبائی وزیر صحت اور اسپیشل سیکریٹری صحت شیہک شہداد بلوچ کی کاوشوں کو سراہا ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ صحت کے شعبے میں مزید بہتری آئے گی۔
خبرنامہ نمبر 3226/2026
کوئٹہ، 22 مارچ:معاون برائے محکمہ داخلہ حکومت بلوچستان بابر یوسفزئی نے 23 مارچ یومِ قراردادِ پاکستان کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ یہ دن ہماری قومی تاریخ کا ایک عظیم، تاریخی اور فیصلہ کن سنگِ میل ہے جس نے برصغیر کے مسلمانوں کو ایک آزاد اور خودمختار وطن کے حصول کی واضح سمت عطا کی۔ انہوں نے کہا کہ یومِ قراردادِ پاکستان ہمیں اتحاد، ایمان اور نظم و ضبط کے ان سنہری اصولوں کی یاد دلاتا ہے، جو قیامِ پاکستان کی بنیاد بنے اور آج بھی ہماری قومی ترقی کا محور ہیں بابر یوسفزئی نے کہا کہ 23 مارچ محض ایک تاریخی دن نہیں بلکہ ایک زندہ پیغام ہے جو ہمیں اپنے اسلاف کی عظیم قربانیوں، عزمِ مصمم اور بے مثال جدوجہد کی یاد دلاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسی جذبے کو بروئے کار لاتے ہوئے ہمیں آج کے چیلنجز کا مقابلہ کرنا ہے اور پاکستان کو ایک مستحکم، خوشحال اور ترقی یافتہ ریاست بنانے کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرنی ہیں انہوں نے کہا کہ اس سال بھی صوبہ بھر میں یومِ قراردادِ پاکستان کو قومی جوش و جذبے کے ساتھ منایا جائے گا۔ بلوچستان کے مختلف شہروں میں ریلیاں، سیمینارز، تقاریب اور خصوصی پروگرامز منعقد کیے جائیں گے جن کا مقصد بالخصوص نئی نسل کو اس تاریخی دن کی اہمیت، نظریۂ پاکستان اور ہمارے اکابرین کی قربانیوں سے آگاہ کرنا ہے معاون برائے داخلہ نے کہا کہ موجودہ حالات ہم سے اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ ہم باہمی اختلافات سے بالاتر ہو کر قومی اتحاد و یکجہتی کو فروغ دیں اور ایک مشترکہ مقصد کے تحت ملک کی ترقی، استحکام اور دیرپا امن کے لیے متحد ہو جائیں انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت بلوچستان عوام کے تعاون سے صوبے میں امن، ترقی اور خوشحالی کے لیے اپنی کاوشیں جاری رکھے گی بابر یوسفزئی نے بلوچستان کے عوام سے اپیل کی کہ وہ 23 مارچ کی تقریبات میں بھرپور شرکت کریں اور اس دن کی روح کے مطابق اس عہد کی تجدید کریں کہ ہم سب مل کر پاکستان کو ایک مضبوط، پرامن اور خوشحال ملک بنانے میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں گے۔
خبرنامہ نمبر 3227/2026
تربت: 22 مارچ 2026: ریڈیو اسٹیشن تربت سے ایف ایم چینل “صوتُ القرآن” کی ٹیسٹنگ سروس کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے، جو ادارے کے لیے ایک اہم پیش رفت ہے۔ یہ کامیابی اسٹیشن ڈائریکٹر عبدالحمید شاکر کی قیادت میں حاصل ہوئی ہے۔ریڈیو پاکستان تربت میں ایف ایم 93.4 پر شروع کیا گیا “صوتُ القرآن” چینل ایک خصوصی نشریاتی سروس ہے، جس میں قرآنِ مجید کی دلنشین تلاوت اور اس کا اردو ترجمہ پیش کیا جاتا ہے۔ اس چینل کا مقصد سامعین تک قرآن پاک کی تعلیمات کو مؤثر اور آسان انداز میں پہنچانا ہے۔یہ ایف ایم چینل تربت شہر سمیت ضلع کیچ کے بیشتر علاقوں میں واضح طور پر سنا جا سکتا ہے۔ چینل روزانہ اٹھارہ گھنٹے کی طویل نشریات پر مشتمل ہے، جو صبح 6 بجے سے شروع ہو کر رات 12 بجے تک جاری رہتی ہیں۔ اس دوران سامعین کے لیے ایمان افروز قرآنی نشریات پیش کی جاتی ہیں، جو روحانی سکون اور رہنمائی کا ذریعہ ہیں۔
خبرنامہ نمبر 3229/2026
کوئٹہ، 22 مارچ :انسپکٹر جنرل آف پولیس بلوچستان محمد طاہر گذشتہ روز عیدالفطر کے موقع پر پولیس لائن گئے ان کے ہمراہ ڈی آئی جی کوئٹہ عمران شوکت ،کمانڈنٹ بی سی اشفاق احمد ،ڈی آی جی ہیڈ کوارٹر حسن اسد علوی اور ایس ایس پی آپریشنز آصف خان تھے آئی جی نے پولیس یادگارِ شہداء گئے پھول چڑھائے اور ان کے عظیم قربانیوں کو شاندار خراجِ عقیدت پیش کیا۔انہوں نے عید کے پُرمسرت موقع پر شہداء کے درجات کی بلندی، مغفرت اور اہلخانہ کے صبرِ جمیل کیلئے شہداء پولیس بلوچستان کے خاندانوں سے ملاقات کی۔ شہداء کے لواحقین آئی جی پولیس محمد طاہر کا محکمے کی جانب بھرپور تعاون پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے شکریہ ادا کیا۔آئی جی پولیس بلوچستان محمد طاہر پشہید ڈی ایس پی میر فیصل، شہید انسپکٹر زبیر احمد اور شہید سب انسپکٹر مٹھا خان کے گھر کے گئے ان اہلخانہ سے ملاقات کی اور دلی ہمدردی و یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بہادر شہداء قوم کا فخر ہیں جن کی لازوال قربانیاں تاریخ میں سنہری حروف سے لکھی جائیں گی انہوں نے کہا کہ شہداء اور غازی ہمارے حقیقی ہیرو ہیں ان کی لازوال قربانیوں کی وجہ سے آج عوام چین و سکوں کی نیند سوتے ہیں ان کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھی جائے گی ۔ آئی جی پولیس بلوچستان نے سی ایم ایچ ہسپتال گئے جہاں انہوں نے فرائض کے دوران زخمی ہونے والے غازی پولیس ملازمان کی عیادت کی اور ان کی جلد صحت یابی کیلئے دعا کی۔
آئی جی پولیس محمد طاہر نے سریاب، نیو سریاب اورصدر پولیس تھانوں کے دورے کے موقع پر پولیس جوانوں سے ملاقات کی اور انہیں بہترین کارکردگی پر شاباشی دی اور حوصلہ افزائی کی ۔آئی جی پولیس بلوچستان محمد طاہر نے موقع پر موجود شہریوں سے ملاقات کی، شہریوں نے آئی جی پولیس کو اپنے مابین دیکھ کر خوشی اور مسرت کا اظہار کرتے ہوئے ان سے عید ملے۔آئی جی پولیس بلوچستان اس موقع پر شہریوں سے گھل مل گئے۔ انہوں نے ایک عام شہری اور پولیس کےماببین تحفظ کے حوالے سے قائم مضبوط رشتےپر محبت اوراعتماد کا اظہار کیا۔
خبرنامہ نمبر 3230/2026
ضلع ہرنائی میں حالیہ تیز بارشوں کے پیش نظر ممکنہ سیلابی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے ضلعی انتظامیہ متحرک رہی۔ اس سلسلے میں مختلف ندی نالوں اور حفاظتی پشتوں کا معائنہ کیا گیا تاکہ عوام کی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔آج ہونے والی موسلادھار بارش کے دوران ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ہرنائی محمد سلیم ترین(جنرل) نے ایس ڈی او ایریگیشن کے ہمراہ مختلف سیلابی حفاظتی بندوں اور پشتوں کا دورہ کیا۔ اس موقع پر ہرنائی شہر کے گرد و نواح میں واقع مختلف دریاؤں اور برساتی نالوں کا تفصیلی معائنہ کیا گیا تاکہ موجودہ صورتحال کا درست اندازہ لگایا جا سکے۔
معائنے کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ اس وقت کسی بھی مقام پر شدید سیلابی کیفیت موجود نہیں ہے۔ تمام دریا اور ندی نالے معمول کے مطابق بہہ رہے ہیں اور پانی کا بہاؤ قابو میں ہے۔ انتظامیہ مسلسل صورتحال کی نگرانی کر رہی ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے بروقت نمٹا جا سکے۔مجموعی طور پر ضلع ہرنائی میں سیلابی صورتحال قابو میں ہے اور فی الحال کسی خطرے کی اطلاع نہیں۔ ضلعی انتظامیہ مکمل طور پر چوکس ہے اور عوام کی حفاظت کے لیے تمام ضروری اقدامات بروقت یقینی بنائے جا رہے ہیں۔
خبرنامہ نمبر 3231/2026
صوبائی وزیر برائے پی ایچ ای سردار عبداہرحمن کھتیران نے عالمی دن برائے پانی کے موقع پر کہا ہے کہ پانی زندگی کا بنیادی جزو ہے اور صاف پانی تک رسائی صحت، وقار اور پائیدار ترقی کے لیے نہایت ضروری ہے۔ محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ صوبے کے تمام اضلاع میں پانی کی دستیابی کو بہتر بنانے اور اس شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے مختلف اہم منصوبوں پر عمل پیرا ہے۔سردار کھتیران نے کہا کہ محکمے کی جانب سے پانی کے تحفظ اور فراہمی کو مستحکم بنانے کے لیے متعدد اقدامات کیے جا رہے ہیں، جن میں بجلی سے چلنے والی واٹر سپلائی اسکیموں کی سولرائزیشن، جدید واٹر پیوریفکیشن پلانٹس کے ذریعے صاف پانی کی فراہمی، کوئٹہ کے لیے سطحی پانی کے نئے ذرائع کی تلاش، اور پسماندہ علاقوں میں نئی اسکیموں کے ذریعے رسائی کو بڑھانا شامل ہے صوبائی وزیر نے کہا کہ سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹس کے ذریعے گندے پانی کو قابلِ استعمال بنا کر متبادل آبی وسائل فراہم کیے جا رہے ہیں، جبکہ موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے کے لیے واٹر سپلائی انفراسٹرکچر کو مضبوط اور پائیدار بنایا جا رہا ہے۔صوبائی وزیر اور سیکریٹری پی ایچ ای ہاشم غلزئی نے ورلڈ واٹر ڈے کی مناسبت سے اس عزم کا اظہار کیا کہ یہ اقدامات ایک صحت مند اور پائیدار بلوچستان کے وژن کی عکاسی کرتے ہیں، جہاں ہر شہری کو صاف پانی تک مساوی رسائی حاصل ہو۔انہوں نے کہا کہ عوام کو پانی کے ضیاع سے گریز کریں اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوے پانی کے تحفظ کے لیے حکومتی اقدامات کا ساتھ دیں، تاکہ آنے والی نسلوں کے لیے اس قیمتی وسیلے کو محفوظ بنایا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ مشترکہ کاوشوں اور مؤثر حکمت عملی کے ذریعے بلوچستان کو پانی کے حوالے سے محفوظ اورمستحکم مستقبل کی جانب گامزن کیا جا سکتا ہے
خبرنامہ نمبر 3232/2026
بارکھان: صوبائی وزیر سردار عبد الرحمن کھتیران نے عید الفطر اپنے آبائی گاؤں بارکھان میں منائی، جہاں انہوں نے عید کے موقع پر عوام سے ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رکھا۔اس موقع پر صوبائی وزیر نے مختلف وفود اور شہریوں سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کیں اور ان کے مسائل تفصیل سے سنے۔ اس موقع پر انہوں نے کھلی کچہری کا انعقاد بھی کیا، جہاں عوام نے بلا جھجھک اپنے مسائل اور شکایات پیش کیں۔سردار عبدالرحمن کھتیران نے شہریوں کو یقین دہانی کرائی کہ ان کے مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں گے اور متعلقہ حکام کو فوری ہدایات جاری کی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ عوام کی خدمت اور ان کے مسائل کا حل حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ عید جیسے خوشی کے موقع پر عوام کے درمیان موجود رہنا اور ان کے مسائل سننا ان کی ذمہ داری کا حصہ ہے، اور وہ ہر ممکن کوشش کریں گے کہ بارکھان /موسی خیل سمیت پورے صوبے کے عوام کو بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں۔علاقہ مکینوں نے صوبائی وزیر کی جانب سے کھلی کچہری کے انعقاد اور براہ راست رابطے کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ ان کے مسائل جلد حل ہوں گے۔
خبرنامہ نمبر 3233/2026
کوئٹہ 22مارچ: ڈپٹی کمشنر موسیٰ خیل عبدالرزاق خجک نے یومِ پاکستان کے موقع پر ضلع بھر میں تقریبات کے انعقاد اور سکیورٹی انتظامات کے حوالے سے اہم اجلاس کی صدارت کی۔اجلاس میں مختلف محکموں کے افسران نے شرکت کی، جہاں 23 مارچ کی تقریبات کو شایانِ شان طریقے سے منانے اور امن و امان کی صورتحال کو یقینی بنانے کے لیے تفصیلی حکمت عملی ترتیب دی گئی۔ ڈپٹی کمشنر نے ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا کہ یومِ پاکستان قومی اتحاد، قربانیوں اور جدوجہد کی علامت ہے، اس لیے اس دن کو بھرپور قومی جذبے کے ساتھ منایا جائے۔
انہوں نے کہا کہ تمام سرکاری و نجی اداروں میں پرچم کشائی کی تقریبات، ریلیاں فٹ بال میچز اور دیگر پروگرامز منعقد کیے جائیں گے، جبکہ طلباء کی شرکت کو بھی یقینی بنایا جائے گا تاکہ نئی نسل میں حب الوطنی کا جذبہ مزید مضبوط ہو۔عبدالرزاق خجک نے سکیورٹی کے حوالے سے سخت احکامات جاری کرتے ہوئے کہا کہ ضلع بھر میں سکیورٹی ہائی الرٹ رہے گی، اہم مقامات، سرکاری عمارتوں اور تقریبات کے مقامات پر اضافی نفری تعینات کی جائے گی۔ انہوں نے پولیس اور لیویز فورس کو ہدایت کی کہ وہ گشت میں اضافہ کریں اور کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لیے ہمہ وقت تیار رہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ضلعی انتظامیہ عوام کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لا رہی ہے، جبکہ شہریوں سے بھی اپیل کی گئی کہ وہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مکمل تعاون کریں اور کسی بھی مشکوک سرگرمی کی فوری اطلاع دیں۔ڈپٹی کمشنر نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ یومِ پاکستان کی تقریبات کو پرامن، محفوظ اور بھرپور قومی جوش و جذبے کے ساتھ منایا جائے گا۔
خبرنامہ نمبر 3234/2026
کوئٹہ، 22 مارچ:حکومت بلوچستان نے صوبے بھر کے تعلیمی اداروں کی تعطیلات میں 31 مارچ تک توسیع کا اعلان کر دیا ہے اور اس ضمن میں باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دئیے گئے ہیں وزیر اعلیٰ بلوچستان کے معاون شاہد رند کے مطابق تعلیمی اداروں کی بندش میں توسیع قومی سطح پر کیے گئے فیصلوں کے تناظر میں کی گئی ہے حکومت صورتحال کا مسلسل اور باریک بینی سے جائزہ لے رہی ہے اور حالات کے مطابق آئندہ کے لائحہ عمل کا بروقت فیصلہ کیا جائے گا شاہد رند نے والدین سے اپیل کی کہ وہ تعطیلات کے دوران اپنے بچوں کی تعلیمی سرگرمیوں کو گھروں میں جاری رکھنے میں معاونت کریں تاکہ طلبہ کا تعلیمی تسلسل متاثر نہ ہو انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت بلوچستان حالات میں بہتری کے ساتھ ہی تعلیمی سرگرمیوں کی بحالی کے لیے مؤثر اقدامات کرے گی۔
خبرنامہ نمبر 3235/2026
ہرنائی :عیدالفطر کے دوسرے دن ضلعی انتظامیہ ہرنائی کی جانب سے خوشیوں کو عام کرنے اور باہمی ہم آہنگی کے فروغ کے لیے ایک اہم اقدام کیا گیا، جس میں پولیس اہلکاروں اور قیدیوں کے ساتھ خصوصی ملاقات کا اہتمام کیا گیا۔اعلیٰ حکام کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر(جنرل) ہرنائی محمد سلیم ترین نے پولیس اسٹیشن سٹی ہرنائی کا دورہ کیا۔ اس موقع پر انہوں نے پولیس افسران و اہلکاروں کے ساتھ ملاقات کی اور عید کی خوشیاں ان کے ساتھ بانٹیں۔
دورے کے دوران جیل میں موجود قیدیوں سے بھی ملاقات کی گئی اور انہیں عید کی مبارکباد پیش کی گئی۔ اس خوشگوار موقع پر قیدیوں اور پولیس اہلکاروں میں مٹھائیاں اور پھول تقسیم کیے گئے، جس کا مقصد انسانی ہمدردی، بھائی چارے اور خیرسگالی کے جذبات کو فروغ دینا تھا۔ اس اقدام کو دونوں جانب سے سراہا گیا اور اس نے عید کی خوشیوں کو مزید بڑھا دیا۔یہ اقدام اس بات کا عکاس ہے کہ ضلعی انتظامیہ نہ صرف امن و امان کے قیام کے لیے سرگرم ہے بلکہ معاشرے کے تمام طبقات کے ساتھ مثبت روابط اور انسانی اقدار کے فروغ کے لیے بھی کوشاں ہے۔ ایسے اقدامات باہمی اعتماد اور ہم آہنگی کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔





