22nd-January-2026

خبرنامہ نمبر472/2026
کوئٹہ 22 جنوری ۔تحصیل شاہرگ میں عوامی فلاح و بہبود کے سلسلے میں ایک اور اہم ترقیاتی منصوبہ تیزی سے پائی تکمیل کی جانب گامزن ہے۔ صوبائی وزیر خوراک و چیئرمین بلوچستان فوڈ اتھارٹی حاجی نورمحمد خان دومڑ کی جانب سے منظور شدہ فنڈز سے، فوکل پرسن ہرنائی حاجی باز محمد دومڑ کی خصوصی دلچسپی، مسلسل نگرانی اور بھرپور کوششوں کے باعث بصیر شاہ ولد سید موسے جان تالاب پر تعمیراتی کام نہایت تیز رفتاری اور اعلیٰ معیار کے مطابق جاری ہے ذرائع کے مطابق یہ منصوبہ تحصیل شاہرگ کے عوام کے لیے ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوگا، جو نہ صرف علاقے کی بنیادی ضروریات کو پورا کرے گا بلکہ صاف پانی کی فراہمی اور بہتر سہولیات کے قیام میں بھی کلیدی کردار ادا کرے گا۔ منصوبے کی تکمیل کے بعد علاقے کے مکینوں کو دیرپا فوائد حاصل ہوں گے اور ان کے معیارِ زندگی میں نمایاں بہتری آئے گی عوامی حلقوں نے صوبائی وزیر خوراک حاجی نورمحمد خان دومڑ اور فوکل پرسن ہرنائی حاجی باز محمد دومڑ کی عوام دوست پالیسیوں، خلوصِ نیت اور عملی اقدامات کو سراہتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ مستقبل میں بھی اسی جذبے کے تحت مزید ترقیاتی منصوبے شروع کیے جائیں گے تاکہ علاقے میں پائیدار ترقی کا عمل جاری رہے جبکہ تحصیل شاہرگ تیزی سے ترقی کی راہ پر گامزن ہے اور جاری ترقیاتی منصوبے عوامی خوشحالی کی روشن علامت بن رہے ہیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر473/2026
کوئٹہ، 22 جنوری۔محکمہ موسمیات پاکستان (PMD) اور محکمہ زراعت و کوآپریٹوز، حکومت بلوچستان کے درمیان آج ایک لیٹر آف کوآپریشن (LoC) پر دستخط کیے گئے۔ اس معاہدے کا مقصد کسانوں کے لیے فارم سطح پر مخصوص موسمی و زرعی مشوروں کو محکمہ موسمیات کی موبائل ایپلیکیشن “پاک ویدر (Pak Weather)” میں شامل کرنا ہے، تاکہ کسانوں کو بروقت زرعی، کیڑوں کے تدارک اور فصلوں سے متعلق رہنمائی فراہم کی جا سکے۔اس تعاون کے تحت نیشنل ایگرو میٹ سینٹر (NAMC)، محکمہ موسمیات پاکستان، محکمہ زراعت بلوچستان کے ساتھ مل کر مشترکہ تحقیق کرے گا، جس کے ذریعے کسانوں کے لیے ریئل ٹائم اور فارم مخصوص موسمی و زرعی ایڈوائزریز تیار کی جائیں گی۔اس منصوبے کے ذریعے کسانوں کی ایگریکلچر انفارمیشن مینجمنٹ سسٹم (AIMS) میں رجسٹریشن کو بھی فروغ دیا جائے گا،جس سے انہیں بروقت موسمی اطلاعات اور زرعی مشاورتی خدمات ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے ذریعے حاصل ہوں گی۔تقریب کے موقع پر ڈائریکٹر جنرل Pakistan Meteorological Department صاحبزادہ خان نے سیکرٹری محکمہ زراعت و کوآپریٹوز حکومت بلوچستان نور احمد پرکانی کو یادگاری شیلڈ پیش کی۔اس معاہدے کو بلوچستان میں ڈیجیٹل زرعی نظام، موسمیاتی معلومات کی رسائی اور کسان دوست پالیسیوں کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جو صوبے میں زرعی پیداوار اور کسانوں کے معاشی استحکام میں موثر کردار ادا کرے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر474/2026
زیارت ، 22 جنوری ۔ ڈپٹی کمشنر زیارت عبد القدوس اچکزئی کی ہدایت پر، اسسٹنٹ کمشنر زیارت ساجدالرحمان کوڑو کی نگرانی میں، موجودہ برفباری کے موسم میں مین کوئٹہ ٹو لوڑی ٹاپ زیارت روڈ،کوتل سڑی ٹو چوتیر روڈ، اور دیگر لنک روڈوں کو کھولا رکھنے، گاڑیوں کو نکالنے کیلئے ضلعی انتظامیہ اور C&W کے کوشیش جاری ہیں۔ اس وقت تمام حالات کنٹرول میں ہیں۔ ڈپٹی کمشنر زیارت عبد القدوس اچکزئی نے کہا کہ زیارت میں برف باری کے وقت ڈسٹرکٹ انتظامیہ الرٹ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عوام کی مشکلات کا خاتمہ ہماری اولین ترجیح ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر475/2026
نصیرآباد22جنوری۔کمشنر نصیرآباد ڈویژن صلاح الدین نورزئی نے کہا ہے کہ نصیرآباد ڈویژن میں 2 فروری سے 6 فروری تک جاری رہنے والی انسداد پولیو مہم کو ہر صورت کامیاب بنایا جائے گا، اس مہم کے دوران چار لاکھ سے زائد بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے جس کے حصول کے لیے مزید سنجیدہ، موثر اور مربوط اقدامات ناگزیر ہیں، پولیو مہم کے دوران کسی بھی قسم کی کوتاہی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی اور فیلڈ میں کام کرنے والی ٹیموں کی کڑی مانیٹرنگ کو یقینی بنایا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ڈویژنل ٹاسک فورس برائے انسداد پولیو کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس کے موقع پر ڈبلیو ایچ او کے ڈویژنل کوآرڈینیٹر ڈاکٹر یاسر بلوچ نے ڈویژن بھر میں پولیو مہم کی تیاریوں، اہداف اور درپیش چیلنجز پر تفصیلی بریفنگ دی۔ اجلاس میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر ایاز حسین جمالی، ڈاکٹر ظاہر حسین عمرانی، ڈاکٹر غلام یاسین داجلی، ڈاکٹر نعمان، صدام حسین سمیت ڈویژن کے تمام اضلاع کے افسران اور ڈاکٹرز ویڈیو لنک کے ذریعے شریک ہوئے۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کمشنر صلاح الدین نورزئی نے کہا کہ پولیو مہم کے مائیکرو پلان پر خصوصی توجہ دی جائے اور جن اضلاع میں ہاوس ہول ٹارگٹ یا مائیکرو پلان کے حوالے سے خامیاں سامنے آ رہی ہیں وہ فوری طور پر ان مسائل کی نشاندہی کرکے موثر اصلاحی اقدامات کریں تاکہ ڈویژن بھر میں انسداد پولیو مہم کو سو فیصد کامیاب بنایا جا سکے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ آئندہ اجلاس سے قبل سابقہ مہم کے دوران سامنے آنے والی تمام خامیوں کو دور کیا جائے تاکہ مقررہ اہداف کے حصول کو یقینی بنایا جا سکے۔ کمشنر نے مزید کہا کہ انسداد پولیو مہم کے ساتھ ساتھ ای پی آئی پروگرام پر بھی خصوصی توجہ دی جائے تاکہ بچوں کو پولیو سمیت دیگر وبائی امراض سے محفوظ رکھا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر476/2026
لورالائی 22 جنوری ۔ کمشنر لورالائی ڈویژن ولی محمد بڑیچ کی خصوصی ہدایات پر چیف آفیسر میونسپل کمیٹی لورالائی محب اللہ خان بلوچ نے گزشتہ رات ہونے والی بارش کے بعد شہر میں پیدا ہونے والی صورتحال کا خود موقع پر جائزہ لیا۔ بارش کے باعث بند ہونے والے روڈز اور پانی جمع ہونے والے مقامات پر نکاسی آب کے کاموں کی براہِ راست نگرانی کی گئی۔چیف آفیسر محب اللہ خان بلوچ کی ہدایت پر فیلڈ میں موجود عملے کو رین کوٹس فراہم کی گئیں تاکہ بارش کے دوران کام بلا تعطل جاری رکھا جا سکے۔ نشیبی علاقوں میں ممکنہ پانی کھڑا ہونے کے خدشے کے پیش نظر ڈی واٹرنگ مشین کو فعال کر کے مکمل طور پر الرٹ کر دیا گیا۔اس دوران ٹیچنگ ہسپتال، پولیس تھانہ اور شہر کے دیگر حساس مقامات پر بند نالوں اور پانی کی نکاسی کے راستوں کو فوری طور پر کھول دیا گیا، جس سے عوام کو شدید مشکلات سے بچا لیا گیا۔شہری حلقوں نے کمشنر لورالائی ولی محمد بڑیچ اور چیف آفیسر محب اللہ خان بلوچ کی بروقت اقدامات اور ذاتی نگرانی کو سراہتے ہوئے اسے ایک ذمہ دار اور عوام دوست انتظامیہ کی مثال قرار دیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿

خبرنامہ نمبر477/2026
کوئٹہ22 جنوری۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت صوبائی محکموں کی مجموعی ششماہی کارکردگی اور ترقیاتی منصوبوں پر پیش رفت سے متعلق جائزہ اجلاس منعقد ہوا اجلاس میں صوبائی وزیر راحیلہ حمید درانی ، چیف سیکریٹری بلوچستان شکیل قادر خان اور متعلقہ صوبائی محکموں کے سکریٹریز نے شرکت کی اجلاس میں وزیر اعلیٰ کو صوبائی سرکاری محکموں کی ششماہی کارکردگی اور ترقیاتی منصوبوں پر پیشرفت سے متعلق رپورٹ پیش کی گئی وزیر اعلیٰ نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ہدایت کی کہ محکمے تمام اسٹاف کی حاضری کو یقینی بناتے ہوئے اپنے ترقیاتی منصوبوں کی اونر شپ لیں انہوں نے ہدایت کی کہ محکمے عوامی شکایات پر فوری عمل درآمد کے لئے موثر میکنزم تشکیل دیں انہوں نے محکمہ قانون کو ہدایت کی کہ دو ہفتوں کے دوران صوبائی کنٹریکٹ پالیسی کا ڈرافٹ پیش کیا جائے انہوں نے کہا کہ محکمہ تعلیم سے متعلق کانٹریکچول ریکروٹمنٹ میں 100 فیصد میرٹ کو یقینی بنایا جائے اور جعلی ڈگری ہولڈرز پر ایف آئی آر کی جائے ۔وزیر اعلیٰ کو صوبے میں ہونے والے ششماہی کھلی کچہریوں کی رپورٹ بھی پیش کی گئی وزیر اعلیٰ نے ہدایت کی کہ مفاد عامہ سے متعلق سمریوں کو ترجیحی بنیادوں پر نمٹایا جائے اور شکایت سیل کو بھر پور انداز سے فعال کرتے ہوئے عوامی سطح پر اسکی بھرپور تشہیر بھی کی جائے وزیر اعلیٰ نے ششماہی محکمانہ رینکنگ میں ٹاپ 10 کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والوں کے لیے محکموں کے سکریٹریز میں تعریفی اسناد بھی تقسیم کی اجلاس کو متعلقہ حکام کی جانب سے محکمانہ ترقیاتی منصوبوں پر پیشرفت سے متعلق بھی بریفنگ دی گئی وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے اس موقع پر واضح ہدایات دی کہ تمام صوبائی محکمے مقررہ وقت کے اندر اپنے ترقیاتی اسکیمات کی تکمیل کو یقینی بنائیں انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ترقیاتی اسکیمات کی بروقت تکمیل پر قطعی کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا انہوں نے زور دیا کہ جن ترقیاتی اسکیمات پر اب تک کوئی پیشرفت نہیں ہے انہیں رواں مالی سال میں ہر صورت پورا کیا جائے انہوں اس موقع پر سیکریٹری سوشل ویلفیئر کو ہدایت کی کہ منشیات کے عادی افراد کی مکمل بحالی کےلئے تمام ضروری اقدامات تیز کیے جائیں انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں بلڈنگ کوڈز کی خلاف ورزی کے مرتکب ذمہ داران کے خلاف کاروائی عمل میں لائی جائے انہوں نے کہا کہ بلڈنگ کوڈز کی خلاف ورزی مختلف حادثات کا سبب بنتی ہے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ صوبائی حکومت کی ترجیح اچھی طرز حکمرانی ہے عوامی نوعیت کے تمام منصوبوں کو وقت پہ مکمل کرنا حکومت کی ترجیحات میں سر فہرست ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر478/2026
خضدار21 جنوری 2026 : ڈپٹی کمشنر خضدار عبدالرزاق ساسولی نے سب ڈویژن ہیڈ کوارٹر ہسپتال وڈھ کا اچانک دورہ کیا جہاں ہسپتال کا تمام عملہ موجود پایا گیا۔ اس موقع پر ایس ایس پی خضدار شہزادہ عمر عباس بابر اور اسسٹنٹ کمشنر خضدار اکبر علی مزار زئی و دیگر آفیشلز بھی ان کے ہمراہ تھے۔ دورے کا مقصد طبی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانا اور عوامی مسائل کا بروقت حل تھا۔ اس موقع پر ڈاکٹروں کے رہائشی کوارٹرز پر قبضہ ختم کرانے اور ایک ہفتے کے اندر اندر ڈاکٹروں کو ان کے کوارٹرز میں رہائش دینے کی ہدایت جاری کردیئے ۔ڈپٹی کمشنر خضدار عبدالرزاق ساسولی نے ہسپتال کے مختلف شعبوں بشمول ایمرجنسی، او پی ڈی، وارڈز اور دیگر کلیدی ڈیپارٹمنٹس کا معائنہ کیا۔ ار ایچ سی وڈھ کے انچارج ڈاکٹر عبدالروف مینگل نے انہیں ہسپتال کی حالت اور چیلنجز کے بارے میں بریفنگ دی۔ ڈی سی خضدار عبدالرزاق ساسولی نے ہسپتال انتظامیہ کو ہدایت کی کہ عملے کی مکمل حاضری کو یقینی بنایا جائے، تمام شعبے فعال رکھے جائیں اور مریضوں کو بلاتعطل طبی امداد فراہم کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ آپریشن تھیٹر کی اپ گریڈیشن کے لیے فنڈز مختص کیے گئے ہیں جو جراحی کی صلاحیت کو بڑھائے گی اور مریضوں کو ریلیف ملے گا۔اس دورے کے دوران ڈپٹی کمشنر نے طبی سہولیات کی بہتری پر زور دیتے ہوئے کہا کہ عوام کو بہترین صحت کی دیکھ بھال فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے عملے کو ہدایت کی کہ مریضوں کے ساتھ احسن سلوک کیا جائے اور کوئی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ ایس ایس پی اور اسسٹنٹ کمشنر نے بھی ہسپتال کی سیکیورٹی اور انتظامی امور پر تبادلہ خیال کیا تاکہ ہسپتال کا ماحول محفوظ اور موثر بنایا جا سکے۔ڈپٹی کمشنر عبدالرزاق ساسولی عوامی مسائل کے حل کے لیے فیلڈ وزٹس کے ذریعے فعال کردار ادا کر رہے ہیں۔ حال ہی میں انہوں نے سب ڈویڑن کرخ کا دورہ کیا جہاں سول ایڈمنسٹریشن اور پولیس کے درمیان ہم آہنگی کو فروغ دینے پر زور دیا۔ بلوچستان اسپیشل ڈویلپمنٹ انیشی ایٹو بی ایس ڈی آئی کے منصوبوں کی نگرانی کے لیئے فیلڈ وزٹس کر رہے ہیں، جہاں پراجیکٹس کی بروقت تکمیل، کوالٹی اسٹینڈرڈز کی پاسداری اور عوامی فائدے کو ترجیح دینے کی ہدایات جاری کی جا رہی ہیں۔ان فیلڈ وزٹس کے ذریعے گراونڈ ریئلٹیز کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور مسائل کو فوری طور پر حل کیا جا رہا ہے، جس سے ضلع خضدار میں ترقیاتی کاموں میں تیزی آئی ہے۔ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ عوامی مسائل کے حل کے لیئے ایسے دورے جاری رکھے جائیں گے تاکہ حکومت کی پالیسیاں براہ راست عوام تک پہنچیں اور ان کی زندگیوں میں مثبت تبدیلی آئے۔ ہسپتال انتظامیہ نے یقین دلایا کہ دی گئی ہدایات پر عمل درآمد کیا جائے گا اور طبی خدمات کو مزید بہتر بنایا جائے گا۔ یہ دورہ ضلع میں صحت کی سہولیات کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر479/2026
کوئٹہ 22 جنوری۔کمشنر کوئٹہ ڈویژن شازیب خان کاکڑ نے آج لیاقت بازار میں آتشزدگی سے متاثرہ پلازہ کا تفصیلی معائنہ کیا۔ اس موقع پر صدر انجمن تاجران بلوچستان رحیم خان کاکڑ سمیت دیگر تاجر رہنما اور دکاندار بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔کمشنر کوئٹہ ڈویژن نے متاثرہ پلازہ کے مختلف حصوں اور دکانوں کا جائزہ لیا جبکہ انجمن تاجران کی جانب سے انہیں واقعے کی نوعیت اور آگ لگنے سے ہونے والے نقصانات سے تفصیلی طور پر آگاہ کیا گیا۔کمشنر نے متاثرہ تاجروں اور دکانداروں سے ملاقات کی اور ان کے مسائل سنے۔اس موقع پر کمشنر شازیب خان کاکڑ نے متاثرہ تاجروں کو ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ ضلعی انتظامیہ اور پولیس کی جانب سے مکمل تحقیقاتی رپورٹ اور قانونی کارروائی مکمل ہونے کے بعد تاجروں کے نقصانات کے ازالے کے لیے سفارشات اعلیٰ حکام کو ارسال کی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت بلوچستان متاثرہ افراد کو تنہا نہیں چھوڑے گی اور ان کی ہر ممکن مدد کی جائے گی۔کمشنر کوئٹہ ڈویژن نے بتایا کہ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو 1122، فائر بریگیڈ، ضلعی انتظامیہ اور دیگر متعلقہ اداروں کی ٹیموں نے بروقت اور مربوط کارروائی کرتے ہوئے کئی گھنٹوں کی جدوجہد کے بعد آگ پر مکمل طور پر قابو پا لیا۔ خوش قسمتی سے واقعے میں کوئی جانی نقصان رپورٹ نہیں ہوا، تاہم آگ لگنے کے باعث تجارتی سامان اور املاک کو بھاری مالی نقصان پہنچا ہے، جس کے ازالے کے لیے حکومت بلوچستان اعلیٰ سطح پر اقدامات کرے گی۔ انہوں نے تمام اداروں کی بروقت کارروائی کو سراہتے ہوئے کہا کہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے حفاظتی اقدامات کو مزید موثر بنایا جائے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر480/2026
چمن 22جنوری ۔ چمن سمیت شمالی بلوچستان کے بیشتر اضلاع میں برفباری کا سلسلہ جاری ضلعی انتظامیہ چمن، این ایچ اے اور محکمہ پی ڈی ایم اے نے ہیوی مشینری اور کیمیکل اور نمک پاشی کے ذریعے کوئٹہ چمن شاہراہ کوڑک ٹاپ، کے دونوں اطراف کو ہر قسم کی ٹریفک کیلئے بحال کر دیا گیا ہے گزشتہ رات سے چمن کے میدانی و پہاڑی علاقے خواجہ عمران ، توبہ اچکزئی، قلعہ عبداللہ، گلستان، جنگل پیرعلیزئی ،شیلاباغ ،میزئی اڈا برفباری سے ڈھکے ہوئے ہیں برفباری سے سردی کی شدت میں اضافہ ہوگیا ہے اور درجہ حرارت نقطہ انجماد سے نیچے چلا گیا ہے۔ تاہم ڈی سی چمن حبیب احمد بنگلزئی نے عوام سے اپیل کی ہے اور انھیں مشورہ دیا ہے کہ شدید سردی اور برفباری کے دوران اپنے گھروں میں اپنے اہل و عیال کے ساتھ وقت گزاریں اور غیر ضروری سفر سے گریز کریں کیونکہ جان ہے تو جہان ہے انہوں نے کہا ہے کہ شدید سردی کی وجہ سے پہاڑی علاقے برف جمنے کی وجہ سے گاڑیوں کی پھسلنے کی چانسز ہوتی ہیں لہذا جب تک موسم صاف نہ ہو ہمیں احتیاط کرنا چاہئے کیونکہ احتیاطی تدابیر اختیار کرنے سے ہماری زندگی لامحالہ خطرات سے بچ سکتی ہیں برفباری کے دوران ضلعی انتظامیہ چمن اور دیگر متعلقہ محکموں کے افسران کی کاوشوں سے کویٹہ چمن شاہراہ ہر قسم کی آمد ورفت کیلئے بحال ہے اور چمن کی تمام رابطہ سڑکیں اور قومی شاہراہیں کھولنے اور صاف کرنے کی آپریشن جاری ہے علاوہ ازیں اے ڈی سی چمن فدا بلوچ ڈی ایچ او چمن ڈاکٹر نوید بادینی اور ایم ایس نیو ڈی ایچ کیو ہسپتال چمن اویس اور ہیلتھ سٹاف نے کسی بھی ایمرجنسی صورتحال سے نمٹنے کیلئے کوڑک ٹاپ اور اس سے ملحقہ سڑکوں پر جاری برف کلئیر کرنے کی آپریشن کا جائزہ لیا انہوں نے روڈ کلئیرنس آپریشن میں حصہ لینے والے آفیسرز و اہلکاروں کی کام کو سراہا اور انھیں داد اور شاباش دی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر481/2026
زیارت 22 جنوری ۔ڈپٹی کمشنر زیارت عبد القدوس اچکزئی کی قیادت میں، اسسٹنٹ کمشنر زیارت ساجدالرحمان کوڑو اور تحصیلدار زیارت نور احمد پانیزئی کے زیر نگرانی، موجودہ برفباری میں مین کوئٹہ ٹو لوڑی ٹاپ زیارت روڈ، کوتل سڑی ٹو چوتیر روڈ اور دیگر لنک روڈز کو کھولنے اور برف میں پھنسے ہوئے گاڑیوں کو نکالنے کے لیے ضلعی انتظامیہ، محکمہ سی اینڈ ڈبلیو اور پی ڈی ایم اے کی جانب سے بھرپور کوششیں جاری ہیں۔ہیوی مشینری مسلسل سڑکوں کو کلیئر کرنے میں مصروف عمل ہے تاکہ عوام کو کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ڈپٹی کمشنر زیارت عبد القدوس اچکزئی نے کہا کہ موجودہ برفباری کے دوران ڈسٹرکٹ انتظامیہ زیارت عوام کی خدمت کے لیے 24 گھنٹے الرٹ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ عوام کی مشکلات کا بروقت خاتمہ ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے۔ڈسٹرکٹ انتظامیہ متعلقہ محکموں کے ساتھ ملکر زیارت ٹو کوئٹہ مین شاہراہ کو چھوٹی گاڑیوں کے لیے ٹریفک کو بحال کردیا ہے جبکہ زیارت ٹو سنجاوی روڈ سڑی کے مقام پر روڈ کھولنے کے لیے ڈسٹرکٹ انتظامیہ اور متعلقہ ڈیپارٹمنٹ کام کررہی ہے اور روڈ کو ٹریفک کے لیے بحال کرے گی،ڈپٹی کمشنر عبدالقدوس اچکزئی اور اسسٹنٹ کمشنر عبدالقدوس اچکزئی ٹریفک کھولنے کے کام کی نگرانی کررہے ہیں۔ ڈپٹی کمشنر عبدالقدوس اچکزئی نے کہا کہ زیارت کے لنک روڈوں کو بھی جلد ہی ٹریفک کے لیے بحال کیا جائے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر482/2026
کچھی22جنوری ۔ ڈپٹی کمشنر کچھی کیپٹن (ر) جمعہ داد خان مندوخیل کی خصوصی ہدایات پر گزشتہ روز اسسٹنٹ کمشنر مچھ میر لیاقت علی جتوئی نے ضلع کچھی کے علاقے بولان گوکرت میں منشیات کے خلاف ایک موثر اور بھرپور کارروائی عمل میں لائی کارروائی کے دوران تقریباً چار ایکڑ رقبے پر غیرقانونی طور پر کاشت کی گئی پوست کی فصل کو مکمل طور پر اکھاڑ کر تلف کر دیا گیا۔ انتظامیہ کو خفیہ ذرائع سے مصدقہ اطلاعات موصول ہوئی تھیں کہ مذکورہ علاقے میں ممنوعہ فصل کی کاشت کی جا رہی ہے جس پر فوری ایکشن لیتے ہوئے اسسٹنٹ کمشنر مچھ نے موقع پر پہنچ کر کارروائی کی قیادت کی اس دوران پوست کی فصل کو مکمل طور پر ضائع کیا گیا جبکہ زمین کے مالک کو موقع سے گرفتار کر لیا گیاانتظامیہ کے مطابق ملزم کے خلاف مقدمہ درج کر کے قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی اس موقع پر ڈپٹی کمشنر کچھی کیپٹن (ر) جمعہ داد خان مندوخیل نے مقامی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ضلع کچھی میں منشیات کی کاشت ترسیل اور پھیلاو کے خلاف ضلعی انتظامیہ زیرو ٹالرینس پالیسی پر سختی سے عمل پیرا ہے اور کسی بھی فرد یا گروہ کو قانون کی خلاف ورزی کی اجازت نہیں دی جائے گی انہوں نے واضح کیا کہ نوجوان نسل کو منشیات جیسے ناسور سے محفوظ رکھنے کے لیے ہر ممکن اور موثر اقدامات کیے جا رہے ہیں اور آئندہ بھی ایسی غیرقانونی سرگرمیوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں جاری رہیں گی۔ ضلعی انتظامیہ عوام کے تعاون سے معاشرے کو منشیات سے پاک بنانے کے لیے پرعزم ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿

خبرنامہ نمبر483/2026
کوئٹہ 22جنوری ۔ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی خصوصی ہدایت پر ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے بلوچستان جہانزیب خان نے کان مہترزئی اور مسلم باغ کا دورہ کیا اور حالیہ بارشوں و برفباری سے متاثرہ علاقوں میں جاری امدادی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ڈی جی پی ڈی ایم اے جہانزیب خان کو ریسکیو ٹیموں نے بتایا کہ برفباری کے باعث شاہراہوں پر جمی برف ہٹانے کا عمل تیزی سے جاری ہے، جبکہ کوئٹہ سے لورالائی تک شاہراہ کو آمدورفت کے لیے کھلا رکھا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کان مہترزئی اور مسلم باغ میں پی ڈی ایم اے کا عملہ اور بھاری مشینری اس وقت بھی متحرک ہے اور سڑکوں کی بحالی، پھسلن کے خاتمے اور ٹریفک کی روانی کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات جاری ہیں۔ڈی جی پی ڈی ایم اے نے کہا ہے کہ حالیہ بارشوں اور برفباری کے پیش نظر ممکنہ طور پر متاثرہ علاقوں میں پیشگی بنیادوں پر مشینری اور امدادی سامان بھجوا دیا گیا تھا، تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری اور موثر ردِعمل دیا جا سکے۔ مسلم باغ کے علاقے میں قومی شاہراہ پر پھسلن کے باعث ٹریفک کی بحالی کے لیے خصوصی کارروائیاں جاری ہیں۔ڈی جی پی ڈی ایم اے نے مزید کہا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے برفباری کے دوران فوری امدادی کارروائیوں اور عوام کو ہر ممکن ریلیف فراہم کرنے کی واضح ہدایات جاری کی ہیں۔ ان ہدایات کی روشنی میں تمام متعلقہ ادارے ہمہ وقت الرٹ ہیں اور فیلڈ میں خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔انہوں نے عوام کو آگاہ کیا کہ محکمہ پی ڈی ایم اے کا کنٹرول روم 24 گھنٹے فعال ہے، جہاں سے صورتحال کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے اور کسی بھی ہنگامی اطلاع پر فوری کارروائی عمل میں لائی جا رہی ہے۔ ٹرانسپورٹ اور عوام سے اپیل ہے کہ دورانِ سفر احتیاطی تدابیر اختیار کریں اور کسی بھی ایمرجنسی کی صورت میں پی ڈی ایم اے کے کنٹرول روم سے رابطہ کریں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر484/2026
کوئٹہ22 جنوری۔وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے منعقدہ اجلاس میں لاپتہ افراد سے متعلق حکومت کے موقف کو واضح کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت نے باقاعدہ قانون سازی کرتے ہوئے لاپتہ افراد کے مسئلہ کو ہمیشہ کے لئے ختم کر دیا ہے اب اگر کوئی خودساختہ لاپتہ ہوتا ہے تو اس کی ذمہ داری ریاست پہ عائد نہیں ہوتی انہوں نے کہا کہ شدت پسندوں اور علیحدگی پسند تنظیموں کا انتخاب کرنے والوں کو کو ریاستی طور جبری گمشدگیوں سے وابستہ نہ کیا جائے وزیر اعلیٰ نے واضح کیا کہ بدقسمتی سے اس حوالے سے ہمیشہ ریاستی اداروں پہ الزامات لگتے رہے لیکن اب مزید ایسے کسی بھی موقف کو پراپگینڈا کے آلے کے طور استعمال نہیں کیا جاسکتا اور لاپتہ افراد سے متعلق اقوام متحدہ میں بھی ایک طریقہ کار موجود ہے
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر485/2026
کوئٹہ 22جنوری ۔ وزیراعظم کی فوکل پرسن فار پولیو سینیٹر عائشہ رضا نے کہاہے کہ بلوچستان میں پولیو کا وائرس موجود ہے موثر حکمت عملی کے باعث گزشتہ 15 ماہ سے صوبے میں پولیو کا کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا، والدین 2فروری سے شروع ہونی والی انسداد پولیو مہم میں پانچ سال سے کم عمر کے بچوں کو قطرے ضرور پلائیں۔یہ بات انہوں نے کوئٹہ میں پولیو ورکرز سے ملاقات کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہی ،عائشہ رضا کا کہنا تھاکہ ورکرز کی ہمت کو سلام پیش کرتی ہوں،خواتین ورکرز مشکل حالات میں گھر سے نکل کر گھر گھر جاکر ویکسین کرتی ہیں ورکرز کی کوششوں سے پولیو کے وائرس کا خاتمہ کرسکتے ہیںاس سلسلے میں غفلت برتنے والے افراد کا احتساب بھی کیاگیاہے او ڈی اے کی فنڈنگ کم ہوئی ہے مگر فنڈنگ پر کٹ کو پولیو پروگرام پر اثرانداز نہیں ہونے دیں گے ورکر کی سیلریز کو بڑھانے کےلئے اقدام کررہے ہیں ، عائشہ رضا کا کہنا تھاکہ پولیو کے خاتمے کے لئے ایک انتہائی اہم علاقہ ہے، اور میرا یہ کوئٹہ کا دورہ وزیر اعظم کے اس واضح پیغام کی عکاسی کرتا ہے کہ بلوچستان قومی سطح پر ہماری اولین ترجیح ہے،بلوچستان میں مضبوط اور مسلسل پیش رفت کے بغیر پاکستان سے پولیو کا مکمل خاتمہ ممکن نہیں ،میں نے وزیراعلیٰ بلوچستان اور چیف سیکرٹری بلوچستان سے ملاقات کی اور بلوچستان میں پولیو کے خاتمے کے لئے وفاقی حکومت کے مکمل تعاون کی یقین دہانی کروائی،صوبائی حکومت کے عزم کو سراہتی ہوں، جس نے انسداد پولیو کی کوششوں کو مسلسل آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا ہے،فرنٹ لائن ورکرز پاکستان انسداد پولیو پروگرام کی اصل طاقت ہیں,عائشہ رضا نے بتایا کہ بلوچستان سمیت ملک بھر میں 4 لاکھ سے زائد فرنٹ لائن ور رز انسداد پولیو پروگرام سے وابستہ ہیں مشل حالات کے باوجود ورکر کی محنت اور لگن ہمارے پولیو کے خلاف جاری اقدامات کی اصل طاقت ہیں،خوا تین فرنٹ لائن ورکرز پر بچے تک رسائی میں اہم کردار ادرت ہں، خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں پولیو ویکسین کے حوالے سے تحفظات پائے جاتے ہیں،جی پی ای آئی کی جینڈر چیمپئن کے طور پر، میں خواتین کے لئے محفوظ، باعزت اور معاون کام کے ماحول کو یقینی بنانے کے لئے پرعزم ہوں،اپنے دورے کے دوران میں نے خواتین فرنٹ لائن ورکرز کے ساتھ براہ راست بات چیت کی ،یہاں ملاقات کا مقصد ان کی رائے جاننا، ان سے سیکھنا اور ان کے مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات کرنا ہےتاکہ وہ باعزت طریقے سے اپنی ذمہ داریاں سرانجام دے ،خواتین ورکرز کو قومی سطح پر پالیسی سازی اور فیصلوں میں براہ راست شامل کیا جا سکے، تاکہ ان کے کام سے متعلق مسائل موثر طریقے سے حل کیے جا سکیں،انسداد پولیو پروگرام سے وابستہ خواتین، چاہے وہ فرنٹ لائن وررز ہوں یا کسی بھی سطح پر خدمات انجام دے رہی ہوں، ان کی معاونت کرنا اور ان کا حوصلہ بڑھانا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر486/2026
بارکھان22جنوری ۔ ایس پی بارکھان ڈاکٹر سعد آفریدی نے قانون کی بالادستی اور قیدیوں کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے سب جیل بارکھان کا اچانک دورہ کیا۔ دورے کے دوران جیل میں قیدیوں کو فراہم کی جانے والی سہولیات، خوراک اور سیکیورٹی انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا، جس میں انتظامیہ کی سنگین غفلت سامنے آنے پر فوری کارروائی عمل میں لائی گئی۔ایس پی بارکھان نے قیدیوں کو دی جانے والی خوراک کا خود معائنہ کیا جو معیار کے لحاظ سے انتہائی ناقص پائی گئی، جس پر انہوں نے شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے فوری انکوائری کے احکامات جاری کیے اور واضح ہدایت دی کہ قیدیوں کی صحت پر کسی قسم کا سمجھوتہ برداشت نہیں کیا جائے گا جبکہ ذمہ دار افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ دورانِ معائنہ جیل کی سیکیورٹی صورتحال بھی غیر تسلی بخش پائی گئی۔ سیکیورٹی انتظامات میں کوتاہی اور ڈیوٹی میں غفلت پر سب جیل انچارج کو شوکاز نوٹس جاری کر دیا گیا۔اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے ایس پی بارکھان ڈاکٹر سعد آفریدی نے کہا کہ قیدی بھی انسان ہیں اور انہیں حکومت کی جانب سے مقرر کردہ معیار کے مطابق سہولیات فراہم کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔ جیل مینوئل کی خلاف ورزی کرنے والے کسی افسر یا اہلکار کو معاف نہیں کیا جائے گا۔ایس پی بارکھان کے اس اچانک دورے اور بروقت کارروائی کو عوامی حلقوں میں سراہا جا رہا ہے اور اسے ضلع میں اصلاحات اور شفافیت کی جانب ایک مثبت قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر487/2026
پشین 22جنوری ۔ پشین، ترجمان پولیس کے مطابق پشین پولیس نے گزشتہ روز پشین کے نواحی علاقے کلی کربلا میں اشتہاری اور انتہائی خطرناک مجرمان کی گرفتاری کے لیے ان کے مختلف ٹھکانوں پر چھاپے مارے۔ترجمان نے بتایا کہ مطلوب اشتہاری مجرمان ثناء اللہ اور نصیر احمد وردیگران دہشت گردی، قتل، اغواء برائے تاوان، بھتہ خوری، ڈکیتی، کارِ سرکار میں مداخلت سمیت دیگر 10 سے زائد سنگین نوعیت کے مقدمات میں پولیس کو مطلوب ہیں۔ پولیس نے تمام قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے منظم انداز میں کارروائی کی، تاہم ریڈ کی اطلاع ملنے پر مجرمان اندھیرے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے ٹھکانوں سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ترجمان پولیس کا کہنا ہے کہ پشین پولیس ان خطرناک مفرور مجرمان کی گرفتاری اور انہیں قانون کے کٹہرے میں لانے کے لیے پرعزم ہے اور اس مقصد کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔ ترجمان کے مطابق پشین اور دیگر اضلاع میں ریاست کی بالادستی اور قانون کی عملداری کو یقینی بنانے کے لیے پولیس ہمہ وقت مصروفِ عمل ہے۔ترجمان پولیس نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ بھرپور تعاون کریں تاکہ جرائم پیشہ عناصر کا خاتمہ ممکن بنایا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر488/2026
موسیٰ خیل 22 جنوری ۔ ڈپٹی کمشنر موسیٰ خیل عبد الرزاق خجک کی زیرِ صدارت نادرا کے بلاک شدہ شناختی کارڈز کی تصدیق کے لیے تشکیل دی گئی ڈسٹرکٹ لیول ویری فکیشن کمیٹی (DLC) کا اجلاس منعقد ہوااجلاس میں ایس پی پولیس کلیم اللہ کاکڑ، اسسٹنٹ کمشنر درگ گل نواز بلوچ، اور اسسٹنٹ ڈائریکٹر نادرا نے شرکت کی۔ اس موقع پر بلاک شدہ شناختی کارڈز کے حوالے سے متعدد سائلین خود کمیٹی کے سامنے پیش ہوئے، جن کے کوائف اور شہریت سے متعلق دستاویزات کا باریک بینی سے معائنہ کیا گیا۔ڈپٹی کمشنر عبد الرزاق خجک نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شفافیت کو برقرار رکھنے کے لیے سائلین کی ذاتی پیشی اور ان کے بیانات کا براہِ راست جائزہ لینا ضروری ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ بلاک شدہ کارڈز کا مسئلہ میرٹ پر حل ہو تاکہ کسی بھی پاکستانی شہری کی حق تلفی نہ ہو۔ تمام افسران کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انسانی ہمدردی اور قانونی ضوابط کے تحت ان کیسز کو جلد از جلد نمٹائیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ سائلین کی خود پیشی سے حقائق کو سمجھنے میں آسانی ہوتی ہے اور اس عمل سے جعل سازی کا راستہ بھی بند ہوتا ہےکمیٹی نے مختلف کیسز کی موقع پر ہی تصدیق مکمل کی اور باقی ماندہ کیسز کے لیے متعلقہ حکام کو ہدایات جاری کیں.۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿

خبرنامہ نمبر489/2026
کوئٹہ 22 جنوری.۔ ( اے پی پی )وفاقی محتسب اعجازا حمد قریشی نے کہاہے کہ وفاقی محتسب کا ادارہ آج اپنے قیام کے 43 سال مکمل کرچکا ہے، اپنے اس طویل سفر کے دوران اس نے سا ڑھے25 لاکھ سے زائد گھرانوں کو ریلیف فراہم کیا، اپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ جن کا تعلق معاشرے کے پسماندہ طبقات سے ہے، آج یہ ادارہ انتظامی احتساب کا سب سے بڑا ادارہ بن کر کھڑا ہے۔ بدانتظامی، نااہلی اور غفلت کے مسائل کو جامع طریقے سے حل کرنے کے لئے اس ادارے کی صلا حیت پرعوام النا س کو بھر پور اعتماد ہے۔43بر سوں کے دوران یہ ادارہ غریب آدمی کی عدالت کے طور پر ابھرا ہے، جو آبادی کے بڑے حصے کو ان کی دہلیز پر انتظامی انصاف فراہم کر رہا ہے۔ ادارے نے ملک بھر میں مختلف نئے علاقائی دفاتر اور شکایت جمع کرنے کے مراکز کھول کر اپنی پہنچ اور رسائی میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔ اب اس کی موجودگی 28 شہروں میں ہے۔ اس کے مختلف اقدامات جیسے کھلی کچہر یوں کا انعقاد،Outreach Complaint Resolution(او سی آر) پروگرام جو زیادہ تر چھوٹی تحصیلوں اور قصبوں میں منعقد ہوتے ہیں اور تنازعات کے غیر رسمی حل کا پروگرام (IRD) عام لوگوں کے لئے بہت مفید ثابت ہو رہے ہیں۔ آج ادارہ جس بلند مقا م پر فائز ہے وہ ہیڈ آفس اور علا قا ئی دفاتر میں میر ے سا تھیوں کی انتھک محنت کے بغیر ممکن نہ تھا۔ وہ عوامی خدمت، فرض سے لگن اور استقامت کے اعلیٰ ترین معیارات کے مطابق کو شاں ہیں۔ نئے سال کا آغاز کرتے ہوئے، ہمارے لئے یہ ضروری ہے کہ ہم اسی جذبے، محنت، اور لگن کے ساتھ کام کرتے رہیں، جو ہماری پہچان رہی ہے۔ ہم عوامی شکایات کے فوری ازالے کے لیے اپنی کوششوں میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کریں گے۔ یہ محتسب کے مقصد، خاص طور پر اس کی بنیا دی اقدار پر ثابت قدمی کے لئے اپنے غیر متزلزل عزم کی تجدید کا وقت ہے۔ مجھے پور ا یقین ہے کہ استقامت کے اس راستے پر چلتے ہوئے ہم نہ صرف عوامی اعتماد کو برقرار رکھ سکیں گے بلکہ عوامی خدمت کے اور بھی اعلیٰ معیا رات قائم کر سکیں گے۔ میں مستقبل میں آپ سب کی کا میا بیوں کے لئے دعا گوء ہوں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر490/2026
کوئٹہ22جنوری ۔ ، بلوچستان – اقوامِ متحدہ کے سینئر نمائندگان نے بلوچستان میں جاری ڈیجیٹل ہیلتھ اصلاحات اور نظامِ صحت کی جدیدکاری کا جائزہ لینے کے لیے ڈائریکٹوریٹ جنرل ہیلتھ سروسز بلوچستان کے دفتر کا دورہ کیا۔وفد میں پاکستان میں اقوامِ متحدہ کے ریزیڈنٹ کوآرڈینیٹر و ہیومینیٹیرین کوآرڈینیٹر جناب محمد یحییٰ، پاکستان میں یو این ایچ سی آر کی کنٹری ریپریزنٹیٹو محترمہ فلیپا کینڈلر، اور پاکستان میں انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن (IOM) کی چیف آف مشن محترمہ میو ساتو شامل تھیں۔وفد کا استقبال ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سروسز بلوچستان ڈاکٹر غلام فاروق ہوتھ اور متعلقہ صحت پروگرامز کے صوبائی کوآرڈینیٹر ڈاکٹر عمران خان نے کیا۔دورے کے دوران بلوچستان ہیلتھ مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم (BHMIS) کے ڈپٹی صوبائی کوآرڈینیٹر ڈاکٹر ملک جہانگیر نے ایک جامع پریزنٹیشن پیش کی، جس میں صوبے بھر میں نافذ کیے گئے اہم ڈیجیٹل ماڈیولز اور پلیٹ فارمز پر روشنی ڈالی گئی، جن میں شامل ہیں، 1ہیلتھ منسٹر شکایات سیل, 2 DHIS-2 (ڈسٹرکٹ ہیلتھ انفارمیشن سسٹم ,3 AI FRAMS (آٹومیٹڈ انٹیگریٹڈ فریم ورک فار رپورٹنگ اینڈ مینجمنٹ سسٹم), 4 HRMIS (ہیومن ریسورس مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم), 5 فارمیسی ماڈیول, 6 اور دیگر مربوط ڈیجیٹل ہیلتھ ٹولز ,ان اقدامات کو صوبے میں صحت کے ڈیٹا کے نظام کو ڈیجیٹل بنانے، حقیقی وقت میں رپورٹنگ بہتر بنانے، خدمات کی فراہمی میں بہتری لانے اور مجموعی طور پر نظامِ صحت کی گورننس کو مضبوط کرنے کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا گیا۔جناب محمد یحییٰ نے حاصل شدہ پیش رفت کو سراہتے ہوئے BHMIS ٹیم کی کاوشوں کی تعریف کی۔ انہوں نے بہتر صحت نتائج اور موثر وسائل کے استعمال کے لیے ٹیکنالوجی کے استعمال کے عزم کو قابلِ تحسین قرار دیا۔اس موقع پر یونیسف بلوچستان کے نمائندگان بھی وفد کے ہمراہ موجود تھے، جن میں ڈاکٹر محمد ہمایوں امیری (CSD مینیجر) اور ڈاکٹر عامر اکرم (ہیلتھ اسپیشلسٹ) شامل تھے۔یہ اعلیٰ سطحی دورہ حکومتِ بلوچستان، اقوامِ متحدہ کے نظام اور دیگر ترقیاتی شراکت داروں کے درمیان مضبوط اشتراکِ عمل کی عکاسی کرتا ہے، جس کا مقصد خصوصاً پسماندہ علاقوں میں ڈیجیٹل جدت اور استعداد کار میں اضافے کے ذریعے پائیدار نظامِ صحت کو مضبوط بنان۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
Quetta,22.2026 Balochistan – Mr. Mohamed Yahya, United Nations Resident Coordinator and Humanitarian Coordinator in Pakistan, expressed strong appreciation for the ongoing digitalization of the health system in Balochistan and extended congratulations to Dr. Ghulam Farooq Hoth, Director General Health Services (DGHS), Balochistan, for the province’s remarkable progress in this area.The commendation came during a recent high-level visit by senior UN officials to the Directorate General Health Services office, where the delegation reviewed advancements in the Balochistan Health Management Information System (BHMIS) and related digital platforms.Mr. Yahya highlighted the significance of these initiatives in strengthening health system governance, enabling real-time data-driven decision-making, and improving service delivery across the province—particularly in remote and underserved areas. He congratulated Dr. Ghulam Farooq Hoth and the entire health department team on their dedication and achievements in modernizing the health sector through technology.The visit underscored the United Nations’ continued support for Pakistan’s provincial health reforms and the collaborative efforts between the Government of Balochistan and international partners to build resilient, inclusive, and efficient health systems.This recognition aligns with Balochistan’s broader push toward digital health governance, including full implementation of tools such as DHIS2, AI
FRAMS, HRMIS, and integrated complaint and pharmacy modules, positioning the province as a model for digital innovation in health management.
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر491/2026
کوئٹہ: بلوچستان کے محکمہ صحت اور اقوامِ متحدہ کے ہائی کمشنر برائے پناہ گزین (UNHCR) نے سولرائزیشن پراجیکٹ کے قیام کے لیے ایک اہم مفاہمت کی یادداشت (MOU) پر دستخط کیے۔ یہ اقدام صوبے میں صحت کے شعبے میں توانائی کی ضروریات کو موثر اور پائیدار انداز میں پورا کرنے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔اس موقع پر صوبائی وزیرِ صحت بخت محمد کاکڑ، اقوامِ متحدہ کے ریزیڈنٹ کوآرڈینیٹر محمد یحییٰ، پاکستان میں UNHCR کی نمائندہ محترمہ فلپا کینڈلر، IOM کے کنٹری نمائندہ مِیو ساتو (Mio Sato)، UNHCR سب آفس کوئٹہ کے ہیڈ ٹیسفائے بیکلے (Tesfaye Bekele) اور UNDP سب آفس کوئٹہ کے ہیڈ ذوالفقار درانی نے شرکت کی۔اس MOU کے تحت صحت کی سہولیات کی فراہمی بہتر بنانے کے لیے بلوچستان کے صحت کے مراکز میں سولرائزیشن کے ذریعے توانائی کی مستقل فراہمی یقینی بنائی جائے گی۔ اس سے مریضوں کو بروقت اور موثر طبی سہولیات فراہم کرنے میں مدد ملے گی۔ اس منصوبے کے ذریعے توانائی کے اخراجات میں کمی آئے گی اور پائیدار ترقی اور ماحولیاتی اثرات کو کم کرنے کے لیے بھی اہم قدم اٹھایا جا رہا ہے۔صوبائی وزیرِ صحت بخت محمد کاکڑ نے کہا، “یہ شراکت داری بلوچستان میں صحت کے شعبے میں ایک نمایاں قدم ہے اور ہم اپنی خدمات کو مزید موثر اور ماحولیاتی دوستانہ بنانے کے لیے پرعزم ہیں۔”
﴾﴿﴾﴿﴾﴿

خبرنامہ نمبر492/2026
تربت22جنوری ۔ : صوبائی وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقیات میر ظہور احمد بلیدی نے تربت–بلیدہ روڈ کا باقاعدہ افتتاح کر دیا۔ افتتاحی تقریب میں صوبائی مشیر برائے کھیل و امورِ نوجوانان مینا مجید بلوچ، پارلیمانی سیکرٹری برائے توانائی میر اصغر بلوچ، پارلیمانی سیکرٹری برائے ماہی گیری حاجی برکت رند، سابق صوبائی وزیر سید احسان شاہ، چیئرمین ڈسٹرکٹ کونسل کیچ میر ہوتمان بلوچ، پیپلز پارٹی کے ڈویڑنل صدر ڈاکٹر برکت بلوچ، ضلعی رہنما نواب شمبے زئی اور صادق تاجر، پی این پی عوامی کے رہنما میر عبدالغفور بزنجو، تحصیل بلیدہ کی سماجی شخصیت حاجی برکت بلیدی سمیت ہزاروں افراد نے شرکت کی۔اس موقع پر پروجیکٹ ڈائریکٹر بلیدہ ٹاون بہرام گچکی نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ 33 کلومیٹر طویل بلیک ٹاپ سڑک کی چوڑائی 20 فٹ ہے جبکہ شولڈر اور برم کے ساتھ مجموعی چوڑائی 32 فٹ بنتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ منصوبے کی ابتدائی لاگت 2 ارب 74 کروڑ روپے تھی تاہم 13 کروڑ روپے کی بچت کے ساتھ یہ سڑک 2 ارب 61 کروڑ روپے میں مکمل کی گئی۔ منصوبے میں 5 بڑے پل اور 67 چھوٹے کلورٹس پل بھی شامل ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پہاڑی علاقہ ہونے کے باعث سڑک کے شولڈر کنکریٹ سے تعمیر کیے گئے ہیں تاکہ بارشوں کے دوران نقصان سے بچایا جا سکے۔افتتاح کے بعد منعقدہ بڑے جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر میر ظہور احمد بلیدی نے تحصیل بلیدہ اور ضلع کیچ کے عوام کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ہزاروں افراد کی شرکت اس بات کا ثبوت ہے کہ عوام بلوچستان حکومت کے ترقیاتی منصوبوں کی بھرپور حمایت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دشوار گزار پہاڑی علاقے اور امن و امان کی مشکلات کے باوجود تربت–بلیدہ روڈ کی تکمیل ایک بڑا کارنامہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ منصوبہ محض ایک سڑک نہیں بلکہ علاقے کی ترقی کی کنجی ہے۔ انہوں نے بلیدہ اور ضلع کیچ کے عوام کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے سخت سردی کے باوجود افتتاحی تقریب میں شرکت کرکے ثابت کردیا کہ بلیدہ کے عوام علاقے میں حکومت بلوچستان کی ترقیاتی منصوبوں کی حمایت کرتے ہیں اور خوشحالی چاہتے ہیں . میر ظہور احمد بلیدی نے کہا کہ تربت–بلیدہ روڈ کے ساتھ ساتھ پورے حلقے کے لیے ترقیاتی منصوبوں کا ایک جامع پیکج تیار کیا گیا ہے جس میں ہسپتال، اسکول، واٹر سپلائی اسکیمیں، ڈیم اور دیگر بنیادی سہولیات شامل ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وہ اپنے حلقے میں 40 سے 50 ارب روپے کے ترقیاتی منصوبوں پر کام کر رہے ہیں جن میں عبدوئی اور سرکزی سرحدی شاہراہ پر 8 ارب روپے کا منصوبہ سرفہرست ہے۔ اس کے علاوہ گیشکور ڈیم، بلیدہ–بالگتر روڈ، بلیدہ–پروم روڈ اور زعمران کے علاقوں کو سڑکوں کے ذریعے بلیدہ سے منسلک کرنے کے منصوبے بھی شامل ہیں۔انہوں نے اعلان کیا کہ ترقیاتی منصوبوں کا دائرہ بلیدہ کے ساتھ ساتھ ضلع کیچ کی دیگر تحصیلوں تربت، دشت اور تمپ تک بڑھایا جائے گا تاکہ تمام علاقوں کو یکساں ترقی دی جا سکے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ 26 جنوری کو تربت میں گرین بس سروس کا آغاز کیا جا رہا ہے تاکہ شہریوں کو بہتر سفری سہولیات میسر آ سکیں۔صوبائی مشیر مینا مجید بلوچ نے تربت–بلیدہ روڈ کی تکمیل پر عوام کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ یہ منصوبہ بلیدہ کی معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گا۔ انہوں نے میر ظہور احمد بلیدی کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ عوام کی بڑی تعداد کی شرکت اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ ایک مقبول عوامی رہنما ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ صوبائی حکومت نوجوانوں کی تعلیم، تربیت اور ہنر مندی کے لیے بڑے منصوبوں پر کام کر رہی ہے، جن کے تحت 30 ہزار نوجوانوں کو بیرونِ ملک روزگار کے مواقع فراہم کیے جائیں گے۔پارلیمانی سیکرٹری برائے توانائی میر اصغر بلوچ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عوام کا بڑا اجتماع میر ظہور احمد بلیدی کی مقبولیت کا واضح ثبوت ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی قیادت اور صوبائی وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقیات کی وڑن بصیرت سے جنوبی بلوچستان ترقیاتی پیکج کے تحت متعدد منصوبے شروع کیے گئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ محکمہ توانائی علاقے میں گرڈ اسٹیشنز اور سولرائزیشن منصوبوں پر بھی کام کر رہا ہے۔ پارلیمانی سیکرٹری برائے ماہی گیری حاجی برکت رند نے کہا کہ اس سڑک کی تکمیل سے عوام کو سفری سہولیات میں نمایاں بہتری آئے گی اور آج کی تقریب سے ثابت ہو گیا ہے کہ بلیدہ کے عوام میر ظہور احمد بلیدی کے ساتھ کھڑے ہیں اور حکومت کے خلاف منفی پروپیگنڈے کو مسترد کرتے ہیں ۔ سابق صوبائی وزیر سید احسان شاہ نے میر ظہور احمد بلیدی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اس سڑک سے لاکھوں افراد مستفید ہوں گے اور امید ظاہر کی کہ آئندہ بھی علاقے میں ترقیاتی منصوبوں اور سڑکوں کا جال بچھایا جائے گا۔تقریب سے پیپلز پارٹی کے ضلعی رہنما نواب شمبے زئی، ڈویژنل صدر ڈاکٹر برکت بلوچ، سماجی رہنما حاجی برکت بلیدی، معروف وکیل ایڈووکیٹ مجید شاہ اور دیگر نے بھی خطاب کیا اور تربت–بلیدہ روڈ کی تکمیل کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ مزید ترقیاتی منصوبوں سے تحصیل بلیدہ میں خوشحالی آئے گی اور عوام کی زندگیوں میں آسانیاں پیدا ہوں گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿

خبرنامہ نمبر 493/2026
کوئٹہ22جنوری۔محکمہ کھیل حکومتِ بلوچستان کے زیر اہتمام 35ویں نیشنل گیمز میں نمایاں کارکردگی دکھانے والے بلوچستان کے 48 میڈلسٹ کھلاڑیوں کے اعزاز میں پروقار تقریب منعقد کی گئی تقریب ایوب اسپورٹس کمپلیکس کے مگسی بیڈمنٹن ہال میں ہوئی جس کی مہمان خصوصی صوبائی وزیر تعلیم راحیلہ حمید خان درانی تھیں تقریب میں بلوچستان اولمپک ایسوسی ایشن کے عہدیداران، ڈائریکٹر جنرل کھیل بلوچستان ڈاکٹر یاسر خان بازئی مختلف کھیلوں کی ایسوسی ایشنز کے نمائندگان، کوچز اور میڈلسٹ کھلاڑیوں نے شرکت کی اس موقع پر کھلاڑیوں میں نقد انعامات تقسیم کیے گئے اور ان کی قومی سطح پر شاندار خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا انفرادی مقابلوں میں گولڈ میڈل حاصل کرنے والے کھلاڑیوں کو 5 لاکھ روپے سلور میڈلسٹ کو 3 لاکھ جبکہ براؤنز میڈلسٹ کو ڈیڑھ لاکھ روپے دیے گئے جبکہ ٹیم ایونٹس میں گولڈ میڈل حاصل کرنے والی ٹیم کو 8 لاکھ روپے سلور ٹیم کو 6 لاکھ اور براؤنز ٹیم کو 4 لاکھ روپے کے انعامات دیے گئے جن کی رقم فی کھلاڑی تقسیم کی گئی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر تعلیم راحیلہ حمید خان درانی نے میڈلسٹ کھلاڑیوں کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے نوجوانوں نے محدود وسائل کے باوجود قومی سطح پر صوبے کا نام روشن کیا ہے انہوں نے امید ظاہر کی کہ کھلاڑی آئندہ بھی محنت، لگن اور نظم و ضبط کے ساتھ کھیل کے میدان میں کامیابیاں سمیٹیں گے انہوں نے صوبائی مشیر کھیل و امورِ نوجوانان مینا مجید بلوچ کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی قیادت میں محکمہ کھیل نے مختصر عرصے میں نمایاں پیش رفت کی ہے اور صوبے بھر میں کھیلوں کے متعدد ایونٹس کا انعقاد ممکن ہوا ہے ان کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن کے مطابق نوجوانوں کو کھیلوں کے مواقع فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے واضح رہے کہ کراچی میں منعقد ہونے والے 35ویں نیشنل گیمز میں بلوچستان کے کھلاڑیوں نے مجموعی طور پر 48 میڈلز حاصل کیے جن میں 4 گولڈ، 14 سلور اور 30 براؤنز میڈلز شامل ہیں یہ کارکردگی بلوچستان کی نیشنل گیمز کی تاریخ کی بہترین کارکردگی قرار دی جا رہی ہے جس پر محکمہ کھیل کی جانب سے کھلاڑیوں کو خصوصی اعزازات سے نوازا گیا.

Leave feedback about this

  • Quality
  • Price
  • Service

PROS

+
Add Field

CONS

+
Add Field
Choose Image
Choose Video