خبرنامہ نمبر450/2026
کوئٹہ 21 جنوری ۔ وزیر اعلیٰ ہاوس بلوچستان میں صوبائی وزیرِ خوراک و چیئرمین بلوچستان فوڈ اتھارٹی حاجی نور محمد خان دمڑ سے ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر دکی بختیار اچکزئی اور بلوچستان ریزیڈنشل کالج (بی آر سی) لورالائی کے استقبالیہ آفیسر بشیر خدرزئی نے ملاقات کی ملاقات کے دوران صوبے میں تعلیمی امور کی بہتری، عوامی فلاح و بہبود کے اقدامات، اور شہریوں کو معیاری و محفوظ خوراک کی فراہمی سے متعلق مختلف اہم امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر شرکاءنے بلوچستان کی مجموعی ترقی، نوجوانوں کے روشن مستقبل اور ادارہ جاتی نظام کو مزید موثر بنانے کے لیے باہمی تعاون اور مشترکہ کاوشوں کے عزم کا اعادہ کیا صوبائی وزیر خوراک حاجی نور محمد خان دمڑ نے کہا کہ تعلیم، صحت اور معیاری خوراک کسی بھی معاشرے کی مضبوط بنیاد ہوتے ہیں، اور موجودہ حکومت وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن کے مطابق عوامی خدمت، گڈ گورننس اور ادارہ جاتی بہتری کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے ملاقات خوشگوار ماحول میں ہوئی جو باہمی ہم آہنگی، تعاون اور مثبت پیش رفت کی ایک خوبصورت مثال ثابت ہوئی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر451/2026
کوئٹہ، 21 جنوری۔قومی کمیشن برائے حقوقِ اطفال (این سی آر سی) نے اقوامِ متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی) پاکستان کے اشتراک سے اور یورپی یونین کے تعاون سے حقوقِ پاکستان فیز ٹو (Huqooq-e-Pakistan II) منصوبے کے تحت بلوچستان میں نجی شعبے میں چائلڈ لیبر کی نگرانی کے حوالے سے صوبائی سطح کا مشاورتی اجلاس منعقد کیا۔اس اجلاس میں وفاقی وزارتوں اور اداروں کے نمائندوں کے علاوہ چیمبرز آف کامرس، سول سوسائٹی، مزدور تنظیموں اور کاروباری انجمنوں کے اسٹیک ہولڈرز نے شرکت کی۔ شرکاءنے صوبے میں چائلڈ لیبر کے رجحانات، قوانین پر عملدرآمد میں حائل رکاوٹوں اور ادارہ جاتی ہم آہنگی کے فقدان پر تفصیلی غور کیا اور اس مسئلے کے حل کے لیے مستقبل کی حکمتِ عملی پیش کی، جو نیشنل ایکشن پلان برائے بزنس اینڈ ہیومن رائٹس اور جی ایس پی پلس (GSP+) وعدوں سے ہم آہنگ ہو۔مشاورتی اجلاس میں خاص طور پر غیر رسمی شعبوں میں نگرانی کے نظام کو مضبوط بنانے، سپلائی چین میں نجی شعبے کی قانونی پابندیوں کے موثر جائزے، اور ایسے سماجی تحفظ کے نظام پر تبادلہ خیال کیا گیا جو چائلڈ لیبر کے خاتمے میں معاون ثابت ہو سکیں۔یہ اجلاس قومی اور صوبائی سطح پر ہونے والی مشاورتی نشستوں کے سلسلے کا حصہ تھا، جن کے نتائج نجی شعبے میں چائلڈ لیبر سے متعلق ایک آئندہ قومی رپورٹ کی تیاری میں شامل کیے جائیں گے۔ این سی آر سی صوبائی شواہد اور اسٹیک ہولڈرز کی آراء کو یکجا کر کے ایسی قابلِ عمل اور شواہد پر مبنی سفارشات مرتب کرے گا جو قوانین کے موثر نفاذ، کاروباری اداروں کی جوابدہی اور ادارہ جاتی تعاون کو مضبوط بنانے میں مددگار ہوں۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے این سی آر سی کے رکن بلوچستان ایڈووکیٹ عبدالحئی نے کہا کہ“چائلڈ لیبر صرف بچوں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی نہیں بلکہ ایک گورننس چیلنج بھی ہے، جو قانون کے نفاذ، احتساب اور سماجی تحفظ کے نظام میں موجود خلا کی عکاسی کرتا ہے۔ چائلڈ لیبر کا خاتمہ نہ صرف اقوام متحدہ کے کنونشن برائے حقوقِ اطفال اور پائیدار ترقیاتی اہداف کے تحت پاکستان کی بین الاقوامی ذمہ داری ہے بلکہ ہمارے بچوں کے تحفظ کے لیے ایک اخلاقی اور آئینی فرض بھی ہے۔”یو این ڈی پی پاکستان کی کنسلٹنٹ زینب مصطفیٰ نے اس موقع پر کہا کہ“چائلڈ لیبر کی خلاف ورزیوں سے نمٹنے کے لیے اسٹیک ہولڈرز کے درمیان بہتر تعاون اور ہم آہنگی ناگزیر ہے، تاکہ ایک جامع اور کثیر شعبہ جاتی حل فراہم کیا جا سکے۔ ہمیں امید ہے کہ یہ رپورٹ اس شعبے میں کام کرنے والے تمام فریقین کے لیے ایک رہنما دستاویز ثابت ہوگی۔”نیشنل کمیشن برائے حقوقِ اطفال اور یو این ڈی پی نے وفاقی و صوبائی حکومتوں، محکمہ محنت، سول سوسائٹی اور نجی شعبے کے ساتھ مسلسل تعاون جاری رکھنے اور بچوں کے حقوق کے تحفظ کے ساتھ ہر قسم کی چائلڈ لیبر کے خاتمے کے عزم کا اعادہ کیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
rQuetta, 20th January, 2026: The National Commission on the Rights of Child (NCRC), in partnership with UNDP Pakistan and financed by the European Union under the Huqooq-e-Pakistan II project, convened the Balochistan Provincial Consultation on Monitoring Child Labour in the Private Sector. The event brought together a diverse group of government representatives from federal ministries and agencies, as well as stakeholders from chambers of commerce, civil society, workers’ federations and business associations.Participants deliberated upon child labour trends across the province, highlighted enforcement and coordination gaps, and presented a way forward aligned with the National Action Plan on Business and Human Rights and GSP+ commitments. In particular, the consultation focused on how to strengthen and expand monitoring in informal sectors, approaches for better evaluation of private sector compliance across supply chains, and best practices for social protection schemes that can serve to eradicate child labour.Part of a series of national and provincial consultations, the outcomes of this engagement will inform a forthcoming national report on child labour in the private sector. By consolidating provincial evidence and stakeholder insights, the NCRC aims to develop actionable, evidence-based recommendations to support stronger enforcement, enhanced accountability of business actors, and improved inter-institutional coordination.Speaking at the event, Advocate Abdul Hayee, Member Balochistan, NCRC, stated, “Child labour is not only a violation of the fundamental rights of children; it is also a governance challenge that reflects gaps in enforcement, accountability, and social protection systems. Ending child labour is not only essential to fulfilling Pakistan’s international commitments under the UN Convention on the Rights of the Child and the Sustainable Development Goals, but more importantly, it is our moral and constitutional obligation to protect our children.”Additionally, Zainab Mustafa, Consultant at UNDP Pakistan, said, “Improved stakeholder collaboration and coordination are imperative for strengthening our response to child labour violations in the private and providing a holistic and multi-sectoral remedy process. We hope that this report can serve as a guiding tool for stakeholders who are working on this issue.”NCRC and UNDP reaffirmed their commitment to continued collaboration with federal and provincial governments, labour departments, civil society, and the private sector to protect children’s rights and work towards the elimination of child labour in all its forms.
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر451/2026
لورالائی21 جنوری ۔میونسپل کمیٹی لورالائی کی جانب سے شہر میں صفائی ستھرائی کے عمل کو مزید موثر بنانے کے لیے مختلف علاقوں میں بھرپور کارروائیاں جاری ہیں۔ چیف آفیسر میونسپل کمیٹی لورالائی محیب اللّٰہ بلوچ کی ہدایت پر عملہ صفائی نے شہر کے مختلف زونز میں نالیوں اور گلی محلوں کی صفائی کا کام انجام دیا۔تفصیلات کے مطابق عملہ صفائی نے ٹریکٹر ٹرالی اور سوزوکی کے ذریعے شہر بھر سے کچرا اٹھایا، جبکہ عجب زون لیویز لائن محلہ جکشن میں نالیوں کی صفائی کی گئی۔ اسی طرح خالو زون سلطانی ٹپ لیویز لائن محلہ کامران میں کچرے کے ڈھیروں کو صاف کیا گیا، جبکہ سلیم داد کمپلینٹ زون ہزارہ محلہ اور باران زون محمدان گلی میں نالیوں کی مکمل صفائی عمل میں لائی گئی۔میونسپل کمیٹی کے عملہ صفائی نے مختلف مقامات پر جمع شدہ گندگی اور کوڑا کرکٹ کو بروقت اٹھا کر شہر کو صاف ستھرا رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔ اس موقع پر شہریوں نے صفائی کے اقدامات کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ یہ سلسلہ آئندہ بھی باقاعدگی سے جاری رکھا جائے گا۔میونسپل کمیٹی حکام کا کہنا ہے کہ شہر کو صاف، صحت مند اور خوبصورت بنانے کے لیے صفائی مہم بلا تعطل جاری رہے گی اور شہریوں سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ وہ صفائی کے عمل میں انتظامیہ سے تعاون کریں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر452/2026
لورالائی 21 جنوری ۔ کمشنر لورالائی ڈویژن ولی محمد بڑیچ نے جامعہ دارالعلوم اسلامیہ کٹوی موڑ لورالائی کا تفصیلی دورہ کیا، جہاں انہوں نے وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے زیرِ اہتمام منعقدہ سالانہ امتحانات کے انتظامات کا باریک بینی سے معائنہ کیا۔دورے کے دوران کمشنر لورالائی ڈویژن ولی محمد بڑیچ نے امتحانی ہال کا جائزہ لیا، طلبہ سے امتحانی ماحول، سہولیات اور نظم و ضبط سے متعلق دریافت کیا جبکہ نگران عملے سے انتظامی امور پر بریفنگ بھی لی۔ طلبہ نے پرسکون اور منظم امتحانی ماحول پر مکمل اطمینان کا اظہار کیا۔کمشنر لورالائی ڈویژن نے امتحانات کے شفاف، منظم اور مثالی انعقاد پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے نگران اساتذہ اور انتظامیہ کی کارکردگی کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ شفاف امتحانی نظام طلبہ کے مستقبل کی ضمانت ہوتا ہے اور اس میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔اس موقع پر کمشنر کے ہمراہ مولانا عطاء اللہ شاہ ایڈووکیٹ، مولوی محمد انور اور دیگر معزز شخصیات بھی موجود تھیں۔ کمشنر ولی محمد بڑیچ نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دینی مدارس معاشرے میں علم، اخلاق اور کردار سازی میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں، اور حکومت دینی و عصری تعلیمی اداروں کی تعلیمی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے ہر ممکن تعاون جاری رکھے گی۔آخر میں کمشنر نے طلبہ کے لیے نیک تمناوں کا اظہار کرتے ہوئے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ انہیں کامیابی اور روشن مستقبل سے نوازے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر453/2026
کوئٹہ21جنوری ۔ علاقائی موسمیاتی مرکز بلوچستان کے مطابق بدھ اور جمعرات کوصوبے کے جنوب مغربی علاقوں میں شدید سرد لہر کے ساتھ تیز ہوائیں داخل ہونے کا امکان ہے۔کوئٹہ، مستونگ، قلات، زیارت، چمن، پشین، قلعہ عبداللہ، قلعہ سیف اللہ، لورالائی، ژوب، ہرنائی، خاران، چاغی، سوراب، واشک، موسیٰ خیل، بارکھان، خضدار اور نوشکی اضلاع میں تیز ہواوں کے ساتھ وقفے وقفے سے بارش اور گرج چمک کا امکان ہے۔کوئٹہ، زیارت، چمن، پشین، حرمزئی، خانوزئی، قلعہ سیف اللہ، کان مہترزئی، مسلم باغ، قلعہ عبداللہ، گلستان، اور قلات کے علاقوں میں شام اور رات کے اوقات میں تیز ہواوں کے ساتھ ہلکی سے درمیانی برفباری متوقع ہے۔گوادر (جیوانی، پسنی، گوادر)، پنجگور، کیچ (تربت)، سبی، نصیرآباد، آواران، کچھی، ڈیرہ بگٹی اضلاع میں بھی ہلکی بارش اور گرج چمک کا امکان ہے۔گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران صوبے کے بیشتر اضلاع میں موسم خشک اور سرد رہا، جبکہ شمالی اور شمال مغربی اضلاع میں رات اور صبح کے اوقات میں شدید سردی رہی۔سب سے کم درجہ حرارت منفی 4.8 ڈگری سینٹی گریڈ زیارت میں ریکارڈ کیا گیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر454/2026
خبرنامہ نمبر454/2026
کوئٹہ، 21 جنوری۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی سے اقوام متحدہ کے ریزیڈنٹ کوآرڈینیٹر محمد یحییٰ کی قیادت میں اقوام متحدہ کے ایک اعلیٰ سطحی وفد نے ملاقات کی، جس میں باہمی دلچسپی کے امور، صوبے میں انسانی ترقی، مفادِ عامہ، انسانی حقوق، افغان مہاجرین کے معاملات، موسمیاتی تبدیلیوں اور ترقیاتی تعاون پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ملاقات کے دوران اقوام متحدہ کے وفد نے بلوچستان میں کم عمری کی شادی کی ممانعت سے متعلق قانون سازی، یوتھ اسکلز ڈویلپمنٹ پروگرام، ویمن انڈومنٹ فنڈ کے قیام اور انسانی حقوق و مفادِ عامہ سے متعلق اصلاحاتی اقدامات کو سراہتے ہوئے حکومتِ بلوچستان کو ان کامیاب قانون سازیوں پر مبارکباد دی اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان کو موسمیاتی تبدیلیوں اور دہشت گردی جیسے سنگین چیلنجز کا سامنا ہے، تاہم حکومتِ بلوچستان نے ان مسائل سے نمٹنے کے لیے جامع اور موثر حکمتِ عملی اختیار کی ہے، جس کے نتیجے میں صوبے میں دہشت گردی کے واقعات میں نمایاں کمی آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے منفی اثرات سے نمٹنے کے لیے بلوچستان میں پہلی مرتبہ کلائمیٹ فنڈ کا قیام عمل میں لایا گیا ہے، جو ایک تاریخی اور دور رس اقدام ہے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ غیر ملکی تارکین وطن کے انخلاء کے حوالے سے حکومتِ بلوچستان وفاقی پالیسیوں پر مکمل عمل درآمد کر رہی ہے، اور اس عمل کے دوران صوبائی انتظامیہ کو واضح ہدایات دی گئی ہیں کہ خواتین، ضعیف العمر افراد اور بچوں کے ساتھ خصوصی رعایت اور احترام کا برتاو کیا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ انخلاءکے پورے عمل کے دوران خواتین کو ہراسگی کا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا، جو حکومتِ بلوچستان کی موثر نگرانی اور حساس طرزِ حکمرانی کا مظہر ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی روایات مہمان نوازی اور قبائلی اقدار پر مبنی ہیں، اور سندھ و پنجاب سے بلوچستان کے راستے انخلاء کیے جانے والے افغان مہاجرین کی حکومتِ بلوچستان بھرپور میزبانی کر رہی ہے وزیر اعلیٰ بلوچستان نے اقوام متحدہ بالخصوص یو این ایچ سی آر کے تعاون کو سراہتے ہوئے کہا کہ تعلیم، صحت،سولرائزیشن اور دیگر عوامی شعبوں میں اقوام متحدہ کی شراکت داری قابلِ تحسین ہے۔ انہوں نے کہا کہ یو این ایچ سی آر کی جانب سے ایک ارب روپے مالیت کی 48 شمسی توانائی سے چلنے والی عوامی سہولیات حکومتِ بلوچستان کے حوالے کیا جانا صاف توانائی کے فروغ، ادارہ جاتی استحکام اور عوامی خدمات کی پائیداری کی جانب ایک اہم سنگِ میل ہے، جس سے افغان مہاجرین کے ساتھ ساتھ مقامی میزبان آبادی بھی مستفید ہو رہی ہے اس موقع پر یو این ایچ سی آر کی کنٹری نمائندہ فلپا کینڈلر نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عوامی خدمات کے تسلسل اور ان اداروں کے استحکام کے لیے قابلِ اعتماد توانائی ناگزیر ہے جو افغان مہاجرین اور میزبان کمیونٹیز دونوں کی خدمت کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یو این ایچ سی آر کے طور پر ہم اس جذبہ ہمدردی کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور اس بات پر زور دیتے رہیں گے کہ مہاجرین کی ضروریات، وقار اور تحفظ کو ہر حال میں مرکزی حیثیت حاصل رہے، جبکہ ساتھ ہی ساتھ تمام طبقات کے لیے عوامی خدمات کو مشترکہ طور پر مزید مضبوط بنایا جائے اقوام متحدہ کے ریزیڈنٹ کوآرڈینیٹر محمد یحییٰ نے بلوچستان میں اصلاحاتی اقدامات، انسانی حقوق کے تحفظ اور افغان مہاجرین کی میزبانی کے حوالے سے حکومتِ بلوچستان کے کردار کو سراہتے ہوئے صوبائی حکومت کے ساتھ تعاون کو مزید وسعت دینے کے عزم کا اظہار کیا ملاقات میں شریک وفد میں یو این ایچ سی آر کی کنٹری نمائندہ فلپا کینڈلر، آئی او ایم کی کنٹری نمائندہ ساتو میو، یو این ایچ سی آر سب آفس کے سربراہ تیسفائے بیکلے، کمشنر افغان ریفیوجیز ارباب طالب المولا، یو این ایچ سی آر کے سینئر پروٹیکشن آفیسر ارکادی لیبووسکی، ایسوسی ایٹ رپورٹنگ آفیسر مہوش سعید، ایسوسی ایٹ ایکسٹرنل ریلیشنز آفیسر قیصر خان آفریدی اور اسسٹنٹ پروگرام آفیسر جلال خان بھی شامل تھے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
Quetta, January 21Chief Minister of Balochistan, Mir Sarfaraz Bugti, on Tuesday held a meeting with a United Nations delegation led by UN Resident Coordinator Mohamed Yahya, during which matters of mutual interest, human development, public welfare, human rights, refugee management, climate change, and development cooperation in the province were discussed in detail.During the meeting, the UN delegation appreciated the Government of Balochistan for its progressive legislative and policy initiatives, including the law banning child marriage, the Youth Skills Development Program, the establishment of the Women Endowment Fund, and broader legislation aimed at promoting public welfare and protecting human rights. The delegation congratulated the provincial government on these reforms, terming them significant steps toward inclusive and sustainable development.Speaking on the occasion, Chief Minister Mir Sarfaraz Bugti stated that Balochistan faces serious challenges, particularly those posed by climate change and terrorism. However, he emphasized that the provincial government has taken comprehensive and effective measures to address these challenges, resulting in a marked decline in terrorist incidents across the province. He further noted that, for the first time, the Government of Balochistan has established a dedicated Climate Fund to mitigate the impacts of climate change, describing it as a historic and far-reaching initiative.The Chief Minister reiterated that the Government of Balochistan is fully implementing federal policies regarding the repatriation of foreign nationals. He said clear instructions have been issued to provincial authorities to ensure special care and protection for women, elderly persons, and children during the repatriation process. He underscored that no incidents of harassment against women have been reported throughout the process, reflecting the government’s vigilant oversight and sensitive approach.Highlighting Balochistan’s cultural values, Chief Minister Bugti said that hospitality and tribal traditions are deeply rooted in the province. He added that Afghan refugees repatriated through Balochistan from Sindh and Punjab are being treated with dignity and extended full hospitality by the provincial government.The Chief Minister also lauded the support of the United Nations, particularly UNHCR, in various sectors including solarization, education, health, and other public services. Referring to a recent initiative, he noted that UNHCR’s handover of 48 solar-powered public facilities worth PKR 1 billion to the Government of Balochistan represents a major step toward clean energy adoption, institutional resilience, and improved public service delivery, benefiting millions of people across the province.Speaking on the occasion, UNHCR Representative in Pakistan Ms. Philippa Candler highlighted that reliable energy is essential for sustaining public services and strengthening institutions that serve both Afghan refugees and host communities.She said that UNHCR deeply values the compassion demonstrated by the Government and people of Pakistan and continues to encourage that the needs, dignity, and protection of refugees remain central, while jointly strengthening services for all.UN Resident Coordinator Mohamed Yahya commended the Government of Balochistan for its reform agenda, commitment to the protection of human rights, and its longstanding role in hosting Afghan refugees. He reaffirmed the United Nations’ commitment to continued cooperation and partnership with the provincial government in advancing shared development and humanitarian objectives.The meeting was attended by UNHCR Representative Ms. Philippa Candler, IOM Country Representative Ms. Sato Mio, Head of UNHCR Sub-Office Mr. Tesfaye Bekele, Commissioner Afghan Refugees Arbab Talib-ul-Maula, UNHCR Senior Protection Officer Mr. Arkadiy Leybovskiy, UNHCR Associate Reporting Officer Ms. Mahwish Saeed, Associate External Relations Officer Mr. Qaisar Khan Afridi, and Assistant Programme Officer Mr. Jalal Khan.
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر455/2026
لورالائی 21 جنوری ۔چیف آفیسر میونسپل کمیٹی لورالائی محب اللہ خان بلوچ اور ڈی ایس پی لورالائی عبدالکریم مندوخیل نے میونسپل کمیٹی لورالائی کے تعاون سے باچا خان چوک کی کشادگی کے جاری کام کا معائنہ کیا۔ اس موقع پر متعلقہ افسران اور عملہ بھی ان کے ہمراہ موجود تھا۔معائنہ کے دوران چیف آفیسر نے کام کی رفتار اور معیار کا جائزہ لیتے ہوئے ہدایت کی کہ منصوبہ مقررہ مدت میں مکمل کیا جائے اور تعمیراتی معیار پر کوئی سمجھوتہ نہ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ باچا خان چوک کی کشادگی سے ٹریفک کے مسائل میں کمی آئے گی اور شہریوں کو آمدورفت میں سہولت میسر آئے گی۔ڈی ایس پی لورالائی عبدالکریم مندوخیل نے کہا کہ ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے اور عوام کی جان و مال کے تحفظ کے لیے تمام اقدامات کیے جا رہے ہیں، جبکہ قانون نافذ کرنے والے ادارے میونسپل کمیٹی کے ساتھ مکمل تعاون کر رہے ہیں۔آخر میں افسران نے اس عزم کا اظہار کیا کہ عوامی مفاد کے تمام ترقیاتی منصوبوں کو بروقت اور شفاف طریقے سے مکمل کیا جائے گا۔تاکہ لورالائی کو آیک خوبصورت اور سہولیات سے آراستہ شہر بنایا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر456/2026
ا±ستامحمد21جنوری ۔ آج ڈپٹی کمشنر استامحمد محمد رمضان پلال نے گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول رستم خان جمالی میں کے این کے جاپان (KnK Japan) کے تعاون سے مکمل ہونے والی اسکول عمارت اور جدید سہولیات سے آراستہ عمارت کا باقاعدہ افتتاح کیا۔ اس موقع پر ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر استامحمد بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔یہ منصوبہ KnK Japan اور مقامی شراکت دار تنظیم YMSESDO کے تعاون سے مکمل کیا گیا، جس کے تحت اسکول میں معیاری اور جدید تعلیمی سہولیات فراہم کی گئیں۔ منصوبے کی تکمیل کے بعد اسکول عمارت کو باضابطہ طور پر اسکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ ضلع ستامحمد کے حوالے کر دیا گیا۔منصوبے کے تحت فراہم کی گئی نمایاں سہولیات میں سات کمروں پر مشتمل سنگل اسٹوری ریٹروفٹڈ اسکول عمارت، چار انکلو سیو ٹوائلٹ یونٹس (بحالی اور سولرائزیشن کے ساتھ)، اندرونی الیکٹریفیکیشن، طلبہ کے لیے ریمپس اور ہینڈ ریلز، ایلومینیم کھڑکیاں حفاظتی گرلز کے ساتھ، معیاری اسکول فرنیچر اور گرین بورڈز شامل ہیں۔ اس کے علاوہ 5.6 کے وی اے ہائبرڈ سولر سسٹم بمعہ بیٹریاں اور سولر پلیٹس، واٹر ٹینک، راہداری/برآمدہ، چھت کی ٹریٹمنٹ اور دیگر ضروری سہولیات بھی فراہم کی گئی ہیں۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر استامحمد نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ معیاری تعلیمی ماحول کی فراہمی ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے، اور ایسے ترقیاتی منصوبے بچیوں کی تعلیم کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے KnK Japan اور YMSESDO کے تعاون کو سراہتے ہوئے ان کا شکریہ ادا کیا اور اسکول انتظامیہ کو ہدایت کی کہ فراہم کردہ سہولیات کی مو¿ثر دیکھ بھال کو یقینی بنایاجائےآخر میں ڈپٹی کمشنر محمد رمضان پلال نے اسکول کی بہتر کارکردگی، اساتذہ کی محنت اور طالبات کے روشن مستقبل کے لیے نیک تمناو¿ں کا اظہار کیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر457/2026
کوئٹہ 21 جنوری۔ انسپکٹر جنرل پولیس بلوچستان محمد طاہر نے کہا ہے کہ منشیات فروشوں اور خرید اروں کے خلاف گزشتہ ایک ماہ سے جاری مہم کے دوران کوئٹہ ، خضدار، کیچ تربت، اور پنجگور کے ایس ایس پیزاور ماتحت عملے نے موثر کاروائیاں کرتے ہوئے شہریوں کو اس لعنت سے بچانے کیلئے جو کردار ادا کیا ہے وہ قابل تحسین ہے بہتر کارکردگی کامظاہرہ کرنے پر انہیں نقد انعام دیا گیا ہے تاکہ دوسرے آفیسران اور اہلکار بھی اپنے علاقوں سے منشیات کے ناسور کو ختم کرنے کیلئے اپنا کردار ادا کریں گے انہوں نے کہا کہ انسداد منشیات مہم 12 دسمبر 2025 سے 11 جنوری 2026 تک کی گئی کاروائیوں میں مہم کے دوران صوبے بھر میں کامیابی کے ساتھ جاری رہی جس میں پولیس آفسران اور ما تحت اہلکاروں نے نتیجہ خیز کاروائیاں کر کے ثابت کیا کہ انہوں نے اپنے اپنے علاقوں میں منشیات فروشوں اور خریداروں کے خلاف بغیر کسی روک ٹوک کے شہریوں کو منشیات کی لعنت سے بچانے کیلئے جو کردار ادا کیا وہ قابل تحسین ہے ان چار سر فہرست اضلاع کے پولیس آفسران کی جانب سے بہتر کارکردگی دیکھائی گئی جس میں کوئٹہ ، خضدار، پنجگور اور تربت میں جو کاروائیاں کی گئیں ان کے دوررس نتائج آنے والے وقت میں ملیں گئے مجموعی اثرات کو مد نظر رکھتے ہوئے ضلع کوئٹہ کے پولیس آفیسر ڈی آئی جی کوئٹہ عمران شوکت ، ایس ایس پی خضدار شہزادہ عمر عباس بابر ،ایس ایس پی کیچ تربت ذوہیب محسن اور ایس ایس پی پنجگوردوست محمد کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے ضلع کوئٹہ کے کیلئے ڈھائی لاکھ ، خضدار کیلئے 2لاکھ ، کیچ کیلئے ڈیڑھ لاکھ، اور پنجگور کیلئے 1لاکھ روپے نقد انعام اور آفسران کو تعریفی اسناد دی ہیں جبکہ نقد انعامات کی رقوم آفیسران اپنے ماتحت اہلکاروں میں رقوم تقسیم کریں۔جنہوں نے فیلڈ میں سخت محنت اور کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نظم و ضبط اور نہایت دیانت داری کے ساتھ اپنے فرائض منصبی کو احسن طریقے سے نبھایا ہے انکی حوصلہ افزائی کرنا آفسیران کی ذمہ داری ہے تاکہ وہ مستقبل میں بھی اپنے کام کو بہتر طور پر سر انجام دیں اور معاشرے کو منشیات جیسے ناسور سے پاک کر کے عوام کو اس لعنت سے بچانے میں اپنا کلیدی کردار ادا کر تے رہیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر458/2026
جعفرآباد21جنوری ۔ڈپٹی کمشنر جعفراباد خالد خان کی کاوشوں سے دیہی علاقوں کی عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر سننے کے لیے جعفرآباد ضلعی انتظامیہ کی جانب سے عوامی مسائل کا مشاہدہ کرنے اور ان کے بہتر حل کے تلاش کے لیے جعفر آباد کے علاقے گوٹھ اسماعیل چھلگری میں کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا کھلی کچہری میں صوبائی پارلیمانی سیکرٹری برائے ایس اینڈ جی اے ڈی انجینئر عبدالمجید بادینی تمام ڈسٹرکٹ ہیڈز سمیت علاقہ معتبرین بھی کثیر تعداد میں موجود تھے ضلع انتظامیہ کی جانب سے تمام سائلین کے فردآ فردآ مسائل سننے کے لیے بہتر معنوں میں انتظامات کیے گئے تھے تمام شرکاء نے اپنے علاقوں کے مسائل کے متعلق آگاہی فراہم کی ڈپٹی کمشنر جعفرآباد خالد خان نے موقع پر ہی متعدد مسائل کے حل کرنے کے احکامات دیے جبکہ دیگر مسائل حل کرنے کی بھرپور طریقے سے یقین دہانی کروائی کھلی کچہری سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی پارلیمانی سیکرٹری برائے ایس اینڈ جی اے ڈی انجینئر عبدالمجید بادینی نے کہا کہ ہم عوام کو کسی صورت مسائل تلے نہیں چھوڑیں گے عوام کے تمام بنیادی مسائل حل کرنا اور انہیں تمام سہولیات ان کی دہلیز پر فراہم کرنا ہماری اولین ترجیحات کا حصہ ہے ہم نے جو عوام سے وعدے کیے تھے انہیں اب پورا کر رہے ہیں کھلی کچہری کے موقع پر جن جن مسائل کے متعلق اگاہی فراہم کی گئی ہے وہ خوش ائند اقدام ہے تاکہ بہتر معنوں میں عوام کے مسائل حل کیے جا سکیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر459/2026
قلات21جنوری ۔ محکمہ خزانہ قلات آفس کی نئی عمارت کاڈپٹی کمشنر منیراحمددرانی نے فیتہ کاٹ کرباقائدہ افتتاح کردیاافتتاحی تقریب کے موقع پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر شاہنواز بلوچ ڈسٹرکٹ اکاونٹس آفیسر عبدالفتاح اسسٹنٹ ڈسٹرکٹ اکاونٹس آفیسر عبدالحق کمپیوٹر آپریٹر عبدالواحد سب اکاونٹنٹ نثاراحمد جونیئر کلرک آفتاب احمد اور دیگرسرکاری محکموں کے افسران ملازمین بھی موجودتھے ڈسٹرکٹ اکاونٹس آفیسر عبدالفتاح نے ڈپٹی کمشنر اور ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر کو محکمہ خزانہ کے نئے دفتر کے تمام شعبوں کا تفصیلی دورہ کرایا اور محکمہ کے کارکردگی اور دیگر امور سے متعلق بریفنگ دی اس موقع پر ڈپٹی کمشنر منیراحمددرانی درانی نے ڈسٹرکٹ اکاونٹس آفیسر اور دیگر اسٹاف کو مبارکباد دی ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ محکمہ خزانہ کے نئے عمارت کے تعمیر سے دفتری اسٹاف کے لیئے جگہ کی کمی کا مسئلہ حل ہوگیا ہے اسٹاف خوش اسلوبی سے اپنے فرائض انجام دےسکیں گے اسٹاف دفتر کی صفائی ستھرائی کا خاص خیال رکھیں ملازمین کو سہولیات کی فراہمی کے لیئے ہرممکن کوشش کررہے ہیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
Quetta, January 21Chief Minister of Balochistan, Mir Sarfaraz Bugti, on Tuesday held a meeting with a United Nations delegation led by UN Resident Coordinator Mohamed Yahya, during which matters of mutual interest, human development, public welfare, human rights, refugee management, climate change, and development cooperation in the province were discussed in detail.During the meeting, the UN delegation appreciated the Government of Balochistan for its progressive legislative and policy initiatives, including the law banning child marriage, the Youth Skills Development Program, the establishment of the Women Endowment Fund, and broader legislation aimed at promoting public welfare and protecting human rights. The delegation congratulated the provincial government on these reforms, terming them significant steps toward inclusive and sustainable development.Speaking on the occasion, Chief Minister Mir Sarfaraz Bugti stated that Balochistan faces serious challenges, particularly those posed by climate change and terrorism. However, he emphasized that the provincial government has taken comprehensive and effective measures to address these challenges, resulting in a marked decline in terrorist incidents across the province. He further noted that, for the first time, the Government of Balochistan has established a dedicated Climate Fund to mitigate the impacts of climate change, describing it as a historic and far-reaching initiative.The Chief Minister reiterated that the Government of Balochistan is fully implementing federal policies regarding the repatriation of foreign nationals. He said clear instructions have been issued to provincial authorities to ensure special care and protection for women, elderly persons, and children during the repatriation process. He underscored that no incidents of harassment against women have been reported throughout the process, reflecting the government’s vigilant oversight and sensitive approach.Highlighting Balochistan’s cultural values, Chief Minister Bugti said that hospitality and tribal traditions are deeply rooted in the province. He added that Afghan refugees repatriated through Balochistan from Sindh and Punjab are being treated with dignity and extended full hospitality by the provincial government.The Chief Minister also lauded the support of the United Nations, particularly UNHCR, in various sectors including solarization, education, health, and other public services. Referring to a recent initiative, he noted that UNHCR’s handover of 48 solar-powered public facilities worth PKR 1 billion to the Government of Balochistan represents a major step toward clean energy adoption, institutional resilience, and improved public service delivery, benefiting millions of people across the province.Speaking on the occasion, UNHCR Representative in Pakistan Ms. Philippa Candler highlighted that reliable energy is essential for sustaining public services and strengthening institutions that serve both Afghan refugees and host communities.She said that UNHCR deeply values the compassion demonstrated by the Government and people of Pakistan and continues to encourage that the needs, dignity, and protection of refugees remain central, while jointly strengthening services for all.UN Resident Coordinator Mohamed Yahya commended the Government of Balochistan for its reform agenda, commitment to the protection of human rights, and its longstanding role in hosting Afghan refugees. He reaffirmed the United Nations’ commitment to continued cooperation and partnership with the provincial government in advancing shared development and humanitarian objectives.The meeting was attended by UNHCR Representative Ms. Philippa Candler, IOM Country Representative Ms. Sato Mio, Head of UNHCR Sub-Office Mr. Tesfaye Bekele, Commissioner Afghan Refugees Arbab Talib-ul-Maula, UNHCR Senior Protection Officer Mr. Arkadiy Leybovskiy, UNHCR Associate Reporting Officer Ms. Mahwish Saeed, Associate External Relations Officer Mr. Qaisar Khan Afridi, and Assistant Programme Officer Mr. Jalal Khan.
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر455/2026
لورالائی 21 جنوری ۔چیف آفیسر میونسپل کمیٹی لورالائی محب اللہ خان بلوچ اور ڈی ایس پی لورالائی عبدالکریم مندوخیل نے میونسپل کمیٹی لورالائی کے تعاون سے باچا خان چوک کی کشادگی کے جاری کام کا معائنہ کیا۔ اس موقع پر متعلقہ افسران اور عملہ بھی ان کے ہمراہ موجود تھا۔معائنہ کے دوران چیف آفیسر نے کام کی رفتار اور معیار کا جائزہ لیتے ہوئے ہدایت کی کہ منصوبہ مقررہ مدت میں مکمل کیا جائے اور تعمیراتی معیار پر کوئی سمجھوتہ نہ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ باچا خان چوک کی کشادگی سے ٹریفک کے مسائل میں کمی آئے گی اور شہریوں کو آمدورفت میں سہولت میسر آئے گی۔ڈی ایس پی لورالائی عبدالکریم مندوخیل نے کہا کہ ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے اور عوام کی جان و مال کے تحفظ کے لیے تمام اقدامات کیے جا رہے ہیں، جبکہ قانون نافذ کرنے والے ادارے میونسپل کمیٹی کے ساتھ مکمل تعاون کر رہے ہیں۔آخر میں افسران نے اس عزم کا اظہار کیا کہ عوامی مفاد کے تمام ترقیاتی منصوبوں کو بروقت اور شفاف طریقے سے مکمل کیا جائے گا۔تاکہ لورالائی کو آیک خوبصورت اور سہولیات سے آراستہ شہر بنایا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر456/2026
ا±ستامحمد21جنوری ۔ آج ڈپٹی کمشنر استامحمد محمد رمضان پلال نے گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول رستم خان جمالی میں کے این کے جاپان (KnK Japan) کے تعاون سے مکمل ہونے والی اسکول عمارت اور جدید سہولیات سے آراستہ عمارت کا باقاعدہ افتتاح کیا۔ اس موقع پر ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر استامحمد بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔یہ منصوبہ KnK Japan اور مقامی شراکت دار تنظیم YMSESDO کے تعاون سے مکمل کیا گیا، جس کے تحت اسکول میں معیاری اور جدید تعلیمی سہولیات فراہم کی گئیں۔ منصوبے کی تکمیل کے بعد اسکول عمارت کو باضابطہ طور پر اسکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ ضلع ستامحمد کے حوالے کر دیا گیا۔منصوبے کے تحت فراہم کی گئی نمایاں سہولیات میں سات کمروں پر مشتمل سنگل اسٹوری ریٹروفٹڈ اسکول عمارت، چار انکلو سیو ٹوائلٹ یونٹس (بحالی اور سولرائزیشن کے ساتھ)، اندرونی الیکٹریفیکیشن، طلبہ کے لیے ریمپس اور ہینڈ ریلز، ایلومینیم کھڑکیاں حفاظتی گرلز کے ساتھ، معیاری اسکول فرنیچر اور گرین بورڈز شامل ہیں۔ اس کے علاوہ 5.6 کے وی اے ہائبرڈ سولر سسٹم بمعہ بیٹریاں اور سولر پلیٹس، واٹر ٹینک، راہداری/برآمدہ، چھت کی ٹریٹمنٹ اور دیگر ضروری سہولیات بھی فراہم کی گئی ہیں۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر استامحمد نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ معیاری تعلیمی ماحول کی فراہمی ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے، اور ایسے ترقیاتی منصوبے بچیوں کی تعلیم کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے KnK Japan اور YMSESDO کے تعاون کو سراہتے ہوئے ان کا شکریہ ادا کیا اور اسکول انتظامیہ کو ہدایت کی کہ فراہم کردہ سہولیات کی مو¿ثر دیکھ بھال کو یقینی بنایاجائےآخر میں ڈپٹی کمشنر محمد رمضان پلال نے اسکول کی بہتر کارکردگی، اساتذہ کی محنت اور طالبات کے روشن مستقبل کے لیے نیک تمناو¿ں کا اظہار کیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر457/2026
کوئٹہ 21 جنوری۔ انسپکٹر جنرل پولیس بلوچستان محمد طاہر نے کہا ہے کہ منشیات فروشوں اور خرید اروں کے خلاف گزشتہ ایک ماہ سے جاری مہم کے دوران کوئٹہ ، خضدار، کیچ تربت، اور پنجگور کے ایس ایس پیزاور ماتحت عملے نے موثر کاروائیاں کرتے ہوئے شہریوں کو اس لعنت سے بچانے کیلئے جو کردار ادا کیا ہے وہ قابل تحسین ہے بہتر کارکردگی کامظاہرہ کرنے پر انہیں نقد انعام دیا گیا ہے تاکہ دوسرے آفیسران اور اہلکار بھی اپنے علاقوں سے منشیات کے ناسور کو ختم کرنے کیلئے اپنا کردار ادا کریں گے انہوں نے کہا کہ انسداد منشیات مہم 12 دسمبر 2025 سے 11 جنوری 2026 تک کی گئی کاروائیوں میں مہم کے دوران صوبے بھر میں کامیابی کے ساتھ جاری رہی جس میں پولیس آفسران اور ما تحت اہلکاروں نے نتیجہ خیز کاروائیاں کر کے ثابت کیا کہ انہوں نے اپنے اپنے علاقوں میں منشیات فروشوں اور خریداروں کے خلاف بغیر کسی روک ٹوک کے شہریوں کو منشیات کی لعنت سے بچانے کیلئے جو کردار ادا کیا وہ قابل تحسین ہے ان چار سر فہرست اضلاع کے پولیس آفسران کی جانب سے بہتر کارکردگی دیکھائی گئی جس میں کوئٹہ ، خضدار، پنجگور اور تربت میں جو کاروائیاں کی گئیں ان کے دوررس نتائج آنے والے وقت میں ملیں گئے مجموعی اثرات کو مد نظر رکھتے ہوئے ضلع کوئٹہ کے پولیس آفیسر ڈی آئی جی کوئٹہ عمران شوکت ، ایس ایس پی خضدار شہزادہ عمر عباس بابر ،ایس ایس پی کیچ تربت ذوہیب محسن اور ایس ایس پی پنجگوردوست محمد کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے ضلع کوئٹہ کے کیلئے ڈھائی لاکھ ، خضدار کیلئے 2لاکھ ، کیچ کیلئے ڈیڑھ لاکھ، اور پنجگور کیلئے 1لاکھ روپے نقد انعام اور آفسران کو تعریفی اسناد دی ہیں جبکہ نقد انعامات کی رقوم آفیسران اپنے ماتحت اہلکاروں میں رقوم تقسیم کریں۔جنہوں نے فیلڈ میں سخت محنت اور کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نظم و ضبط اور نہایت دیانت داری کے ساتھ اپنے فرائض منصبی کو احسن طریقے سے نبھایا ہے انکی حوصلہ افزائی کرنا آفسیران کی ذمہ داری ہے تاکہ وہ مستقبل میں بھی اپنے کام کو بہتر طور پر سر انجام دیں اور معاشرے کو منشیات جیسے ناسور سے پاک کر کے عوام کو اس لعنت سے بچانے میں اپنا کلیدی کردار ادا کر تے رہیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر458/2026
جعفرآباد21جنوری ۔ڈپٹی کمشنر جعفراباد خالد خان کی کاوشوں سے دیہی علاقوں کی عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر سننے کے لیے جعفرآباد ضلعی انتظامیہ کی جانب سے عوامی مسائل کا مشاہدہ کرنے اور ان کے بہتر حل کے تلاش کے لیے جعفر آباد کے علاقے گوٹھ اسماعیل چھلگری میں کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا کھلی کچہری میں صوبائی پارلیمانی سیکرٹری برائے ایس اینڈ جی اے ڈی انجینئر عبدالمجید بادینی تمام ڈسٹرکٹ ہیڈز سمیت علاقہ معتبرین بھی کثیر تعداد میں موجود تھے ضلع انتظامیہ کی جانب سے تمام سائلین کے فردآ فردآ مسائل سننے کے لیے بہتر معنوں میں انتظامات کیے گئے تھے تمام شرکاء نے اپنے علاقوں کے مسائل کے متعلق آگاہی فراہم کی ڈپٹی کمشنر جعفرآباد خالد خان نے موقع پر ہی متعدد مسائل کے حل کرنے کے احکامات دیے جبکہ دیگر مسائل حل کرنے کی بھرپور طریقے سے یقین دہانی کروائی کھلی کچہری سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی پارلیمانی سیکرٹری برائے ایس اینڈ جی اے ڈی انجینئر عبدالمجید بادینی نے کہا کہ ہم عوام کو کسی صورت مسائل تلے نہیں چھوڑیں گے عوام کے تمام بنیادی مسائل حل کرنا اور انہیں تمام سہولیات ان کی دہلیز پر فراہم کرنا ہماری اولین ترجیحات کا حصہ ہے ہم نے جو عوام سے وعدے کیے تھے انہیں اب پورا کر رہے ہیں کھلی کچہری کے موقع پر جن جن مسائل کے متعلق اگاہی فراہم کی گئی ہے وہ خوش ائند اقدام ہے تاکہ بہتر معنوں میں عوام کے مسائل حل کیے جا سکیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر459/2026
قلات21جنوری ۔ محکمہ خزانہ قلات آفس کی نئی عمارت کاڈپٹی کمشنر منیراحمددرانی نے فیتہ کاٹ کرباقائدہ افتتاح کردیاافتتاحی تقریب کے موقع پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر شاہنواز بلوچ ڈسٹرکٹ اکاونٹس آفیسر عبدالفتاح اسسٹنٹ ڈسٹرکٹ اکاونٹس آفیسر عبدالحق کمپیوٹر آپریٹر عبدالواحد سب اکاونٹنٹ نثاراحمد جونیئر کلرک آفتاب احمد اور دیگرسرکاری محکموں کے افسران ملازمین بھی موجودتھے ڈسٹرکٹ اکاونٹس آفیسر عبدالفتاح نے ڈپٹی کمشنر اور ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر کو محکمہ خزانہ کے نئے دفتر کے تمام شعبوں کا تفصیلی دورہ کرایا اور محکمہ کے کارکردگی اور دیگر امور سے متعلق بریفنگ دی اس موقع پر ڈپٹی کمشنر منیراحمددرانی درانی نے ڈسٹرکٹ اکاونٹس آفیسر اور دیگر اسٹاف کو مبارکباد دی ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ محکمہ خزانہ کے نئے عمارت کے تعمیر سے دفتری اسٹاف کے لیئے جگہ کی کمی کا مسئلہ حل ہوگیا ہے اسٹاف خوش اسلوبی سے اپنے فرائض انجام دےسکیں گے اسٹاف دفتر کی صفائی ستھرائی کا خاص خیال رکھیں ملازمین کو سہولیات کی فراہمی کے لیئے ہرممکن کوشش کررہے ہیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر467/2026
کوئٹہ، 21 جنوری.۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ بلوچستان کا تقریباً ایک ہزار ارب روپے کا سالانہ بجٹ ایک تلخ حقیقت کی عکاسی کرتا ہے جس میں قریب 80 فیصد نان ڈیولپمنٹ اخراجات میں صرف ہو جاتے ہیں۔ نان ڈیولپمنٹ بجٹ کا بڑا حصہ تقریباً ڈھائی لاکھ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن پر خرچ ہوتا ہے جبکہ صوبے کی 1.3 کروڑ عوام کی فلاح و ترقی کے لیے محض 200 ارب روپے دستیاب ہیں سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس غیر متوازن نظام کو درست کرنے کے لیے گزشتہ دو برسوں کے دوران متعدد متروک اور غیر موثر سرکاری دفاتر بند کیے گئے ہیں، جن میں زکوٰ، مذہبی امور اور سول ڈیفنس کے غیر فعال محکمے شامل ہیں اس کے علاوہ آٹھ ہزار غیر ضروری سرکاری آسامیاں ختم کی گئیں اور غیر حاضر ملازمین کے خلاف بلاامتیاز سخت کارروائی عمل میں لائی گئی تاکہ سرکاری مشینری میں شفافیت، موثریت اور جوابدہی کو یقینی بنایا جا سکے وزیر اعلیٰ بلوچستان نے واضح کیا کہ اصلاحات کا عمل ابھی مکمل نہیں ہوا تاہم دباو احتجاج یا بلیک میلنگ حکومت کو عوام کے حقوق کے تحفظ اور اصلاحات کے تسلسل سے نہیں روک سکتی انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے عوام کے مفاد پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور اصلاحات کا عمل ہر صورت جاری رہے گا وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ صوبائی حکومت عوام کی خدمت، بہتر حکمرانی اور شفافیت کو اپنی اولین ترجیح کے طور پر جاری رکھے گی۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ یہ اصلاحاتی اقدامات بلوچستان میں گڈ گورننس، مالی استحکام اور عوامی خدمات کی بہتری کے لیے طویل مدتی نتائج پیدا کریں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر468/2026
کوئٹہ، 21 جنوری۔ حکومتِ بلوچستان نے معروف سینئر صحافی اور تجزیہ نگار شاہد حمید رند کو وزیر اعلیٰ کے لیے سیاسی و میڈیا امور کا معتمد (Aide to the Chief Minister for Political and Media Affairs) مقرر کر دیا ہے۔ اس ضمن میں سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے شاہد رند کا شمار بلوچستان اور قومی سطح کے سینئر صحافیوں اور تجزیہ نگاروں میں ہوتا ہے وہ طویل عرصے سے قومی و صوبائی سیاست، گڈ گورننس، عوامی مسائل اور ریاستی پالیسیوں پر گہری نظر رکھتے ہیں ان کی صحافت متوازن تجزیے اور ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی پہچان رکھتی ہے جبکہ وہ مختلف قومی و علاقائی میڈیا پلیٹ فارمز پر اپنی پیشہ ورانہ بصیرت کے باعث ایک معتبر آواز کے طور پر جانے جاتے ہیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر469/2026
کوئٹہ، 21 جنوری۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے معروف صحافی و تجزیہ نگار شاہد رند کو نئی زمہ داریاں سنبھالنے پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ بلوچستان کی حقیقی کہانی عوام، میڈیا اور سیاسی حلقوں تک موثر انداز میں پہنچانے کے لیے دوبارہ سرگرم ہو رہے ہیں جس پر انہیں خوش آمدید کہتے ہیں سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر اپنے ایک پیغام میں وزیر اعلیٰ نے امید ظاہر کی کہ شاہد رند سابقہ عزم، جذبے اور پیشہ ورانہ لگن کے ساتھ بلوچستان کے اہم سیاسی، سماجی اور عوامی مسائل پر روشنی ڈالیں گے اور شفاف اور ذمہ دارانہ رپورٹنگ کے ذریعے عوام کو بروقت معلومات فراہم کرتے رہیں گے وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ صحافت کی سچائی اور بصیرت بلوچستان میں گڈ گورننس، عوامی شعور اور مثبت تبدیلی کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4670/2026
موسیٰ خیل 21 جنوری ۔ ڈپٹی کمشنر موسیٰ خیل عبد الرزاق خجک کی زیر صدارت ایک جرگہ منعقد ھوا جس میں ایس پی کلیم اللہ کاکڑ اور ایس ڈی پی او عارف اور قبائلی عمائدین شریک تھے اس ملاقات میں مرغہ کبزئی کے مقام پر موسیٰ خیل قبائل کی گاڑیوں کی چوری اور امن و امان کی مجموعی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا.قبائلی عمائدین نے آئے روز پیش آنے والے گاڑیوں کی چوری کے واقعات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ شاہراہوں پر عدم تحفظ کی وجہ سے نہ صرف لوگ خوفزدہ ہیں بلکہ مقامی تجارت اور نقل و حمل بھی شدید متاثر ہو رہی ہے۔ انہوں نے انتظامیہ کو باور کرایا کہ ان وارداتوں سے قبائل میں بے چینی بڑھ رہی ہے، لہٰذا مسافروں کے مال و اسباب کے تحفظ کے لیے فوری اور عملی اقدامات وقت کی اہم ضرورت ہیں.اس موقع پر ڈپٹی کمشنر نے واضح کیا کہ انتظامیہ موجودہ صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے اور شہریوں کے تحفظ کے لیے پوری طرح متحرک ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ مستقبل میں ایسے واقعات کو روکنے کے لیے سخت اقدامات کیے جائیں گے اور چوری میں ملوث عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ ملاقات کے اختتام پر قبائلی عمائدین نے انتظامیہ کے ساتھ مکمل تعاون کا یقین دلایا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4671/2026
موسیٰ خیل 21 جنوری ۔ڈپٹی کمشنر موسیٰ خیل عبد الرزاق خجک کی زیرِ صدارت ڈسٹرکٹ ایجوکیشن گروپ (DEG) کا اجلاس منعقد ہوا۔ اس اجلاس میں چیئرمین ڈسٹرکٹ کونسل موسیٰ خیل، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر (DEO) اور کمیٹی کے دیگر اراکین نے شرکت کی۔ اجلاس کا بنیادی مقصد ضلع میں تعلیمی معیار کی بلندی اور نئے تعلیمی سال کے لیے فول پروف منصوبہ بندی کرنا تھا۔اجلاس میں درج ذیل اہم ایجنڈا پوائنٹس پر تفصیلی تبادلہ خیال اور فیصلے کیے گئے آئندہ تعلیمی سال 2026 کے لیے ضلع کے تمام اسکولوں کو سو فیصد فعال بنانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔ ڈپٹی کمشنر نے واضح کیا کہ اسکولوں کی غیر فعالیت کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گیکلسٹر بجٹ کے استعمال سے متعلق تفصیلی پوچھ گچھ کی گئی۔ مالی معاملات میں شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے تمام متعلقہ افسران کو ریکارڈ کی درستگی اور فنڈز کے برحق استعمال کی ہدایات جاری کی گئیں.نئے تعلیمی سال 2026 کے لیے درسی کتب کی کل ضرورت کا تخمینہ لگایا گیا۔ انتظامیہ نے متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ تعلیمی سال کے پہلے دن بچوں کے پاس کتابیں ہونی چاہئیں.گزشتہ سال کی DEG میٹنگز کے دوران کیے گئے فیصلوں پر عملدرآمد کی رپورٹ پیش کی گئی اور مجموعی فیڈ بیک کی روشنی میں مستقبل کی حکمتِ عملی کو مزید بہتر بنانے پر غور کیا گیا۔کلسٹر بجٹ کی منصفانہ تقسیم اور اسکولوں کی بنیادی ضروریات کے حل کے لیے فنڈز کے فوری اجراءپر مشاورت مکمل کی گئی۔اجلاس کے اختتام پر ڈپٹی کمشنر عبدالرزاق خجک نے کہا کہ ہمارا مقصد موسیٰ خیل کے ہر بچے کو اسکول کی دہلیز تک لانا ہے۔ تعلیمی بجٹ امانت ہے جس کا ایک ایک پیسہ اسکولوں کی بہتری پر خرچ ہوگا۔ اساتذہ کی حاضری اور تعلیمی معیار کی نگرانی میں کوئی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی.۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿




