20th-January-2026

خبرنامہ نمبر 415/2026
کوئٹہ، 20 جنوری:وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ بلوچستان میں مسنگ پرسنز کے مسئلے کو طویل عرصے سے ریاستِ پاکستان کے خلاف ایک منظم پروپیگنڈہ ٹول کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا حالانکہ ملک کے دیگر صوبوں بالخصوص خیبرپختونخوا میں اس نوعیت کے کیسز بلوچستان سے کہیں زیادہ ہیں انہوں نے کہا کہ صوبے میں بعض عناصر اور جماعتیں اس حساس معاملے پر محض سیاست کرتی رہیں مگر مسئلے کے مستقل اور قانونی حل کے لیے کبھی سنجیدہ کوشش نہیں کی گئی ان خیالات کا اظہار وزیر اعلیٰ نے چیف منسٹر سیکرٹریٹ کوئٹہ میں منعقد ہونے والے صوبائی کابینہ کے 22ویں اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں صوبے کے انتظامی، قانونی، سماجی، تعلیمی اور ترقیاتی امور سے متعلق متعدد اہم فیصلے کیے گئے اور کئی کلیدی قوانین اور رولز کی منظوری دی گئی۔ وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ صوبائی حکومت، کابینہ، اراکینِ اسمبلی اور چیف سیکرٹری بلوچستان کو یہ کریڈٹ جاتا ہے کہ مسنگ پرسنز کے مسئلے کے مستقل حل کے لیے ایک جامع اور مؤثر قانون بلوچستان اسمبلی سے منظور کرایا گیا انہوں نے واضح کیا کہ یکم فروری کے بعد ریاست یا حکومت کی جانب سے کسی بھی قسم کی جبری گمشدگی نہیں ہوگی اور اس حوالے سے واضح قانونی فریم ورک موجود ہوگا انہوں نے کہا کہ ہم نے اس مسئلے کو ہمیشہ کے لیے دفن کر دیا ہے جس سے ریاستِ پاکستان پر لگنے والے جبری گمشدگی کے الزامات اور اس بنیاد پر ہونے والے منفی پروپیگنڈے کا خاتمہ ہوگا وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز گرے زونز میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے دوران تفتیش اور پوچھ گچھ کرتی ہیں مشتبہ افراد کو حراست میں بھی لیا جاتا ہے تاہم یکم فروری کے بعد مسنگ پرسنز کا مسئلہ ختم ہو جائے گا اور اس ضمن میں ایک لیگل فریم ورک موجود ہوگا اگر کوئی فرد دہشت گرد تاہم تنظیموں کے ہاتھوں غائب ہوتا ہے یا خود ساختہ طور پر روپوش ہوتا ہے تو اس کی ذمہ داری ریاست پر عائد نہیں کی جا سکتی وزیر اعلیٰ نے کہا کہ گمشدگی کے دعوؤں کی جانچ کے لیے عدالتیں اور متعلقہ کمیشن موجود ہیں مگر بدقسمتی سے بلوچستان میں خود ساختہ گمشدگی کا تاثر قائم کر کے فوری طور پر ریاست کے خلاف پروپیگنڈا شروع کر دیا جاتا ہے۔ اس رجحان کے تدارک کے لیے بلوچستان پریوینشن آف ڈیٹینشن اینڈ ریڈیکلائزیشن ایکٹ (ڈبل ون ٹیٹرا ای) منظور کیا گیا ہے اور صوبائی کابینہ نے اس کے رولز 2025 کی بھی منظوری دے دی ہے انہوں نے بتایا کہ اس قانون کے تحت قائم کردہ مخصوص مراکز میں مشتبہ افراد سے مجاز پولیس افسران کی نگرانی میں تفتیش ہوگی، ساتھ ہی ان کی کونسلنگ بھی کی جائے گی تاکہ انتہا پسندی، گمراہ کن بیانیے اور ریاست مخالف سوچ کا تدارک ممکن بنایا جا سکے۔ زیرِ تفتیش افراد کے اہلِ خانہ کو 24 گھنٹوں کے اندر اطلاع دی جائے گی، ملاقات کی اجازت ہوگی، طبی سہولیات فراہم کی جائیں گی اور کسی فرد کو ان مراکز سے باہر منتقل نہیں کیا جائے گا جس بھی قانون نافذ کرنے والے ادارے نے تفتیش کرنی ہوئی وہ اسی مراکز میں کرے گا وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ہماری حکومت کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اس نے ایک ایسے مسئلے کو حل کیا جس پر برسوں سیاست کی جاتی رہی، اب وہ لوگ جو اس معاملے پر سیاست چمکاتے تھے ان کی سیاست ہمیشہ کے لیے دفن ہو رہی ہے اجلاس کے دوران صوبائی کابینہ نے بلوچستان وٹنیس پروٹیکشن ترمیمی بل 2025 کی منظوری دی وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ماضی میں گواہان کے تحفظ کا مؤثر نظام نہ ہونے کے باعث دہشت گردی اور سنگین جرائم میں سزاؤں کی شرح ایک سے دو فیصد تھی نئی اصلاحات کے تحت “فیس لیس” کورٹس قائم کی گئی ہیں جہاں گواہان کی شناخت مکمل طور پر خفیہ رہے گی اور جج کے سوا کسی پر شناخت واضح نہیں ہوگی جس سے انصاف کی فراہمی مؤثر اور بروقت ہو گی اور سزاؤں کی شرح میں پچاس تا ساٹھ فیصد سے زائد اضافہ متوقع ہے اجلاس میں محکمہ خزانہ میں آن لائن ٹیسٹ کے ذریعے میرٹ پر بھرتیوں کے عمل پر اطمینان کا اظہار کیا گیا اور دیگر محکموں میں بھی مرحلہ وار ڈیجیٹلائزڈ بھرتیوں پر اتفاق کیا گیا صوبائی کابینہ نے محکمہ مذہبی امور کو ختم کرنے اور اس کے ملازمین کو دیگر محکموں میں ایڈجسٹ کرنے کی منظوری دی صوبائی کابینہ نے دو نئے ڈویژن پشین اور کوہِ سلیمان کے قیام، زیارت کو انتظامی طور پر لورالائی کا حصہ بنانے، ضلع پشین میں میونسپل کمیٹی کربلا کے قیام، لاء افسران کی ایوالوشن پالیسی، محکمہ اقلیتی امور میں گرانٹ اِن ایڈ ترمیمی پالیسی، چائلڈ لیبر کے خاتمے، ہائیر ٹیکنیکل ایجوکیشن کو لازمی سروس قرار دینے اور کنٹریکٹ اساتذہ کی تعلیمی اسناد کی تصدیق کے فیصلے بھی کیے وزیر اعلیٰ نے چیف منسٹر انسپیکشن ٹیم کو حال ہی میں کنٹریکٹ پر بھرتی ہونے والے اساتذہ کی تعلیمی ڈگریوں کی تصدیق کا ٹاسک دیتے ہوئے ہدایت کی کہ جعلی ڈگری ہولڈرز کے خلاف ایف آئی آر درج کی جائے اور اس عمل کا آغاز نصیر آباد اور ڈیرہ بگٹی سے کیا جائے۔ اجلاس میں قومی نصاب کو تعلیمی سال27-2026 سے صوبائی نصاب کا حصہ بنانے، چیف منسٹر اکیڈمک ایکسیلینس پروگرام کے تحت مڈل، ہائی و ہائیر سیکنڈری اسکولوں میں ریاضی، سائنس اور انگریزی کے اساتذہ کی ایڈہاک بنیادوں پر بھرتی کا فیصلہ بھی کیا گیا صوبائی کابینہ نے سماجی شعبے میں ایک اور اہم پیش رفت کرتے ہوئے بلوچستان تحفظ و فروغِ تولیدی صحت حقوق بل 2026 کی منظوری بھی دے دی اس قانون سازی کا مقصد صوبے میں ماں اور بچے کی صحت کو بہتر بنانا، خاندانی منصوبہ بندی کی سہولیات کو مؤثر اور قابلِ رسائی بنانا اور تولیدی صحت سے متعلق بنیادی انسانی حقوق کا تحفظ یقینی بنانا ہے ، صوبائی کابینہ نے سلیم میڈیکل کمپلیکس سے امداد چوک اور ٹیکسی اسٹینڈ سے لیاقت اسکوائر تک فوڈ اسٹریٹ قائم کرنے کے منصوبے کا جائزہ لینے کیلئے سیکرٹریز سطح کی کمیٹی قائم کردی جو منصوبے کے قابل عمل ہونے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لے گی وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے صوبائی کابینہ کے تمام فیصلوں کو گڈ گورننس کی عملی مثال قرار دیتے ہوئے کہا کہ مؤثر قانون سازی اور بروقت عملدرآمد کے ذریعے ہی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کیا جا سکتا ہے۔

خبرنامہ نمبر 416/2026
کوئٹہ، 20 جنوری:وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور وفاقی وزیر ریلویز حنیف عباسی کی زیرِ صدارت حکومت بلوچستان اور پاکستان ریلویز کے مابین ایک اہم مشترکہ اجلاس منگل کو یہاں چیف منسٹر سیکرٹریٹ میں منعقد ہوا جس میں بلوچستان میں ریلوے کے نظام کی بحالی، پیپلز ٹرین سروس کے آغاز اور مختلف جوائنٹ وینچر منصوبوں پر تفصیلی غور کیا گیا اجلاس کے دوران بلوچستان میں پیپلز ٹرین سروس سمیت مشترکہ ترقیاتی منصوبوں کے آغاز پر اصولی اتفاق کیا گیا۔ وفاقی وزیر ریلویز حنیف عباسی نے اس موقع پر کہا کہ پاکستان ریلویز کی 78 سالہ تاریخ میں پہلی مرتبہ صوبائی سطح پر ڈیولوشن کا تاریخی فیصلہ کیا گیا ہے جو وفاق اور صوبوں کے درمیان اعتماد اور اشتراکِ عمل کی مضبوط مثال ہے انہوں نے کہا کہ مقامی ریلوے سروسز کے منصوبوں میں تینوں صوبوں نے دلچسپی ظاہر کی تاہم عملی قیادت بلوچستان نے سنبھالی، جو وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی مؤثر قیادت اور واضح وژن کا ثبوت ہے انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی کی قیادت میں بلوچستان میں ریلویز جدید، مؤثر اور پائیدار حکمت عملی کے تحت آگے بڑھ رہی ہے وفاقی وزیر ریلویز نے پیپلز ٹرین سروس کو پاکستان ریلویز اور حکومت بلوچستان کے باہمی اشتراک کا حسین امتزاج قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ منصوبہ عوام کو سستی، محفوظ اور معیاری سفری سہولیات کی فراہمی میں سنگِ میل ثابت ہوگا اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ حکومت بلوچستان پیپلز ٹرین سروس منصوبے پر تیز رفتار اور عملی پیش رفت کی خواہاں ہے انہوں نے واضح کیا کہ نئے ریلوے اسٹیشنز کی تعمیر اور موجودہ انفراسٹرکچر کی اپ گریڈیشن کے لیے حکومت بلوچستان مطلوب وسائل فراہم کرے گی وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پیپلز ٹرین سروس منصوبے کے لیے ایک ارب چالیس کروڑ روپے رواں ہفتے جاری کر دیے جائیں گے تاکہ منصوبے پر بلا تاخیر عملدرآمد ممکن بنایا جا سکے انہوں نے کہا کہ سریاب تا کچلاک پیپلز ٹرین سروس کی کامیابی کے بعد مستونگ سے پشین اور دیگر علاقوں تک اس سروس کا دائرہ وسیع کیا جائے گا وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور وفاقی وزیر ریلویز حنیف عباسی نے ریلویز فٹ بال گراؤنڈ کا دورہ بھی کیا، جہاں کھیلوں کے فروغ اور پاکستان ریلویز کی اراضی پر مشترکہ ترقیاتی منصوبے شروع کرنے پر اتفاق کیا گیا وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ریلوے سسٹم کی بحالی اور عوام کو سستی، محفوظ اور بااعتماد سفری سہولیات کی فراہمی حکومت بلوچستان کی ترجیحات میں سرفہرست ہے، اور اس مقصد کے لیے وفاقی حکومت کے ساتھ قریبی اور مؤثر اشتراک جاری رکھا جائے گا۔

خبرنامہ نمبر 417/2026
لورالائی 20 جنوری:انسپکٹر جنرل آف پولیس بلوچستان محمد طاہر خان کے وژن کی روشنی میں لیویز سے پولیس میں انضمام کے بعد لورالائی رینج میں کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم کو مزید مؤثر بنانے، افسران و اہلکاروں کی حاضری، نظم و ضبط اور زیرو ٹالرنس پالیسی پر سختی سے عملدرآمد کے حوالے سے ڈی آئی جی لورالائی جنید احمد شیخ نے واضح اور سخت ہدایات جاری کیں۔ڈی آئی جی آفس لورالائی میں ڈی آئی جی لورالائی جنید احمد شیخ کی زیرِ صدارت ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ایس ایس پی لورالائی ملک محمد اصغر، ایس پی دکی محمد انور بادینی، ایس پی بارکھان ڈاکٹر سعاد آفریدی، ایس پی موسیٰ خیل کلیم اللہ کاکڑ، لورالائی رینج کے ڈی ایس پیز، ایس ڈی پی اوز، لیویز سے پولیس میں ضم شدہ ایس ایچ اوز، تفتیشی افسران اور دیگر پولیس افسران نے شرکت کی۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈی آئی جی لورالائی نے کہا کہ پولیس ایک منظم، پیشہ ور اور باقاعدہ کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم کے تحت کام کرنے والی فورس ہے، لہٰذا لیویز سے پولیس میں ضم ہونے والے تمام افسران و اہلکار پولیس کمانڈ کے مطابق اپنی ذمہ داریاں انجام دیں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی قسم کا غیر رسمی یا وِزہ سسٹم ناقابلِ قبول ہوگا اور تمام افسران و اہلکار اپنی مقررہ جائے تعیناتی پر حاضری کو یقینی بنائیں۔ کسی بھی انتظامی یا پیشہ ورانہ مسئلے کی صورت میں فوری طور پر متعلقہ اعلیٰ حکام کو آگاہ کیا جائے۔
ڈی آئی جی لورالائی نے سیکیورٹی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے ممکنہ خطرات سے نمٹنے کے لیے پولیس کو ہر وقت الرٹ اور چوکس رہنا ہوگا۔ انہوں نے سختی سے ہدایت کی کہ پولیس اہلکاروں سے اسلحہ چھننے کا کوئی واقعہ ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا، جبکہ غفلت یا لاپروائی کے مرتکب اہلکاروں کے خلاف سخت محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔انہوں نے آئی جی بلوچستان کے وژن کے مطابق منشیات کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر عملدرآمد پر زور دیتے ہوئے کہا کہ منشیات کے ناسور کے خلاف کسی قسم کی رعایت نہیں دی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ لورالائی رینج میں مؤثر کارروائیوں کے باعث منشیات کے خاتمے میں نمایاں کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں، اور یہ سلسلہ مزید شدت کے ساتھ جاری رکھا جائے گا۔ جس ایس ایچ او کے دائرہ اختیار میں افیون یا دیگر منشیات کی کاشت پائی گئی، اس کے خلاف سخت محکمانہ کارروائی کی جائے گی۔ڈی آئی جی لورالائی نے اشتہاریوں اور مفرور ملزمان کے خلاف بلاامتیاز کریک ڈاؤن کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ایسے عناصر کے لیے کسی قسم کی رعایت نہیں ہوگی۔ انہوں نے تفتیشی عمل کو شفاف، غیر جانبدار اور قانون کے مطابق رکھنے پر زور دیا اور کہا کہ انصاف کے تقاضے ہر صورت پورے کیے جائیں۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ لیویز سے پولیس میں ضم شدہ افسران کی ترقیوں کا عمل حکومتی پالیسی کے مطابق مکمل کیا جائے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ پولیس نفری صرف سرکاری و محکمانہ مقاصد کے لیے استعمال کی جائے گی، جبکہ نوٹیبلز کو نفری صرف ایس او پیز کے تحت فراہم کی جائے گی۔اجلاس کے دوران لیویز سے پولیس میں ضم ہونے والے افسران، جن میں ایس ایچ او چنجن، ایس ایچ او میختر، ایس ایچ او ویٹاکڑی اور ڈی ایس پی بارکھان شامل تھے، نے تھانوں کی گاڑیوں کے فیول کوٹہ اور نفری سے متعلق مسائل کی نشاندہی کی۔ اس موقع پر ڈی آئی جی لورالائی نے آگاہ کیا کہ ان مسائل کے حل کے لیے محکمہ پہلے ہی عملی اقدامات کر رہا ہے۔اجلاس کے اختتام پر ڈی آئی جی لورالائی جنید احمد شیخ نے تمام افسران پر زور دیا کہ وہ باہمی تعاون، نظم و ضبط اور پیشہ ورانہ جذبے کے ساتھ فرائض انجام دیتے ہوئے عوام کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ لورالائی رینج میں امن و امان کے قیام کے لیے پولیس مزید مؤثر اور فعال کردار ادا کرے گی۔

خبرنامہ نمبر 418/2026
کوئٹہ: صوبائی وزیر خوراک حاجی نور محمد دمڑ نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت کی اصلاحاتی کاوشیں وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن کے عین مطابق ہیں، جو صوبے میں گڈ گورننس کے فروغ کا عملی ثبوت ہیں انہوں نے کہا کہ حکومت شفافیت، میرٹ اور ادارہ جاتی اصلاحات پر یقین رکھتی ہے اور اسی سوچ کے تحت مختلف شعبوں میں مؤثر اقدامات کیے جا رہے ہیں صوبائی وزیر خوراک نے کہا کہ محکمہ خزانہ میں میرٹ اور شفافیت پر مبنی ڈیجیٹل بھرتیوں کے عمل سے بلوچستان کے نوجوانوں میں اعتماد بحال ہوا ہے، ان کی حوصلہ افزائی ہوئی ہے اور میرٹ پر روزگار حاصل کرنے کی امید مزید مضبوط ہوئی ہے ان کا کہنا تھا کہ تعلیم یافتہ نوجوانوں کو میرٹ کی بنیاد پر روزگار فراہم کرنا موجودہ حکومت کی واضح اور اولین ترجیح ہے حاجی نور محمد دمڑ نے وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور ان کی ٹیم کی اجتماعی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت محدود وسائل کے باوجود بہتر حکمرانی، شفاف نظام اور نوجوانوں کے روشن مستقبل کے لیے سنجیدہ اور عملی اقدامات کر رہی ہے، جس کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں۔

خبرنامہ نمبر 419/2026
جعفرآباد۔ڈپٹی کمشنر جعفرآباد خالد خان کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ ایجوکیشن گروپ کا اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جعفرآباد حضور بخش بگٹی، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر میڈم عائشہ بگٹی، ڈسٹرکٹ اکاؤنٹس آفیسر رسول بخش بلوچ، پرنسپل بوائز کالج حافظ حبیب مگسی، ڈسٹرکٹ آفیسر ایجوکیشن محمد صلاح پہنور سمیت محکمہ تعلیم اور دیگر متعلقہ محکموں کے افسران و نمائندگان نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر اور دیگر افسران کی جانب سے محکمہ تعلیم کی ماہانہ کارکردگی رپورٹ پیش کی گئی جبکہ گزشتہ اجلاس میں دی گئی ہدایات پر ہونے والی پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں RTS کی حالیہ کارکردگی، اساتذہ کی حاضری کے ریکارڈ اور غیر حاضر اساتذہ کے کیسز کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا اور متعلقہ افسران کو سختی سے ہدایات جاری کی گئیں کہ اساتذہ کی حاضری کو ہر صورت یقینی بنایا جائے اور غیر حاضری کے ذمہ داروں کے خلاف قواعد کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے۔اجلاس میں ضلع جعفرآباد کے مختلف سرکاری تعلیمی اداروں میں جاری ترقیاتی منصوبوں کی رفتار سے متعلق پراگریس رپورٹ بھی پیش کی گئی جس پر ڈپٹی کمشنر نے کام کی رفتار اور معیار کو مزید بہتر بنانے کی ہدایت کی۔ اسی طرح غیر سرکاری فلاحی تنظیم یونیسف (UNICEF) کو ضلع جعفرآباد میں دیے گئے تعلیمی و فلاحی ٹاسک کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا اور باہمی تعاون کو مزید مؤثر بنانے پر زور دیا گیاڈسٹرکٹ ایجوکیشن گروپ اجلاس میں محکمہ تعلیم کے اساتذہ کے ٹائم اسکیل کیسز پر بھی غور کیا گیا جبکہ ضلع کے مختلف کالجز سے متعلق کیسز اور مسائل کا جائزہ لیتے ہوئے متعلقہ حکام کو بروقت اقدامات کی ہدایت کی گئی۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر جعفرآباد خالد خان نے کہا کہ تعلیم کسی بھی قوم کی ترقی کی بنیاد ہے اور حکومت تعلیمی نظام کو بہتر بنانے کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری اسکولوں اور کالجز میں اساتذہ کی حاضری، طلبہ کو معیاری تعلیم کی فراہمی اور ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے۔ ڈپٹی کمشنر نے واضح کیا کہ غفلت یا لاپرواہی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور تمام افسران اپنی ذمہ داریاں دیانت داری اور محنت سے ادا کریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ یونیسف سمیت دیگر فلاحی اداروں کے تعاون سے ضلع میں تعلیمی معیار کو مزید بلند کیا جائے گا اور عوام کو تعلیم کے بہتر مواقع فراہم کیے جائیں گے۔

خبرنامہ نمبر 420/2026
نصیرآباد20جنوری:ڈپٹی کمشنر نصیرآباد کیپٹن ریٹائرڈ ذوالفقار علی کرار کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ ایجوکیشن گروپ کا اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں خزانہ آفس سے امجد بہرانی، محکمہ ایجوکیشن کے ضلعی و تحصیل سطح کے افسران، ڈپٹی کمشنر کے پی ایس منظور شیرازی، آر ٹی سی ایم اور دیگر متعلقہ افراد نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران سابقہ اجلاس میں کیے گئے فیصلوں اور اقدامات پر عملدرآمد کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور متعلقہ افسران کی جانب سے پیش رفت سے آگاہ کیا گیا۔ ڈپٹی کمشنر نصیرآباد کیپٹن ریٹائرڈ ذوالفقار علی کرار نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تعلیمی اداروں میں غیر حاضری کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور اس حوالے سے زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی جائے گی۔ انہوں نے واضح ہدایات دیتے ہوئے کہا کہ عادی غیر حاضر اساتذہ کے خلاف بیڈا ایکٹ کے تحت سخت کارروائی عمل میں لائی جائے اور انہیں فوری طور پر شوکاز نوٹسز جاری کیے جائیں۔ ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ اساتذہ کی حاضری یقینی بنانا تعلیمی معیار کی بہتری کے لیے ناگزیر ہے اور اس ضمن میں کسی بھی قسم کی کوتاہی ناقابل قبول ہوگی۔ انہوں نے محکمہ ایجوکیشن کے افسران کو ہدایت کی کہ اسکولوں کی مانیٹرنگ کو مزید مؤثر بنایا جائے، طلبہ و طالبات کی تعلیم پر خصوصی توجہ دی جائے اور تمام سرکاری تعلیمی اداروں میں نظم و ضبط کو یقینی بنایا جائے تاکہ ضلع نصیرآباد میں تعلیمی نظام کو بہتر بنایا جا سکے۔

خبرنامہ نمبر 421/2026
لورالائی ۔20, جنوری:کمشنر لورالائی ڈویژن ولی بڑیچ نے زیر تعمیر ڈسٹرکٹ جیل لورالائی کاتفصیلی دورہ کیا ان کے ہمراہ سپرنٹینڈنٹ جیل سکندر خان ، ایکسین سی اینڈ ڈبلیو بلڈنگ احمد دین ، ایس ڈی او محمد انور لونی ، ایس ڈی او نادر شاہ و دیگر بھی تھے ۔ ایکسین سی اینڈ ڈبلیو نے اس موقع پر بتایا کہ ڈسٹرکٹ جیل کا باقاعدہ کام 2019 سے شروع ہوا، کل لاگت 250 ملین روپے ہیں اس کا کل ایریا 50, ایکڑ ہیں اس میں آ فس میل فیمیل و بچوں کے لئے علیحدہ بارکس ہیں ہر بارک 10 یونٹ پر مشتمل ہیں اس کے علاوہ سرکل ، ٹاور ، لائبریری ، کیچن ، بنگلے و کوارٹرز شامل ہیں یہ کام فنانشل مکمل ہیں تاہم فزیکل کچھ کام رہتا ہے جسے جلد مکمل کیا جائے گا ۔
کمشنر لورالائی ڈویژن ولی محمد بڑیچ نے کہا کہ یہ ایک بڑا اور کھلا ایریا پر مشتمل جیل ہوگا جسے جلد مکمل کر کے جیل حکام کے حوالے کیا جائے تاکہ قیدیوں کو یہاں منتقل کیا جائے انہوں کہا کہ قیدی بھی انسان ہیں انھیں بھی مناسب سہولیات کی فراہمی ضروری ہیں کمشنر نے کہا کہ کسی بھی سکیم میں تاخیر ناقابل برداشت ہیں ایک چیز مکمل ہیں اسے ہینڈ اوور کیا جائے انہوں بقیہ کام 15, دن کے اندر اندر مکمل کر نے کی سختی سے ہدایت کی بصورت دیگر قانون کے مطابق سخت کاروائی عمل میں لائی جائے گی ۔
بعد کمشنر لورالائی ڈویژن نے سی ٹی ڈی ریجنل کمپلیکس کا معائنہ بھی کیا جس میں مختلف دفاتر ، سیلز ، ٹیوب ویل و دیگر شعبے شامل تھے ایکسین احمد دین نے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ یہ کام نومبر ، 2023 میں شروع ہوا اس کا کل بجٹ 720 ملین روپے ہیں تقریباً 78 فیصد کام ہوا ہے اسے اگلے سال تک مکمل کیا جائے گا ۔کمشنر نے جاری سکیم کے کام پر اطمینان کا اظہار کیا ۔

خبرنامہ نمبر 421/2026
کوئٹہ۔عالمی شہرت یافتہ اسٹیون جیرارڈ اکیڈمی (Steven Gerrard Academy) کے اسکالرشپ پروگرام کے تحت محکمہ کھیل حکومت بلوچستان کے زیراہتمام کوئٹہ میں فٹبال ٹرائلز کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ یہ ٹرائلز 22 اور 23 جنوری کو قیوم پاپا فٹبال گراؤنڈ میں ہوں گے، جن میں کوئٹہ سمیت صوبے بھر سے گراس روٹ سطح کے کھلاڑی حصہ لے سکتے ہیں، ٹرائلز کے پہلے دن 17 سے 21 سال جبکہ دوسرے دن 5 سے 12 سال کی عمر کے فٹبالرز کے ٹرائلز ہونگے، ان فٹبال ٹرائلز کا مقصد نوجوان ٹیلنٹ کی نشاندہی اور باصلاحیت کھلاڑیوں کو بین الاقوامی معیار کی تربیت کے مواقع فراہم کرنا ہے، منتخب ہونے والے کھلاڑیوں کیلٸے اسٹیون جیرارڈ اکیڈمی کے تحت پہلا تربیتی کیمپ 26 جنوری سے 8 فروری تک منعقد کیا جائے گا، جس میں دونوں عمر کے گروپس سے گول کیپرز، ڈیفینڈرز، مڈفیلڈرز اور اٹیکرز شامل ہوں گے۔ پہلے تربیتی کیمپ میں ہر عمر کے گروپ سے 36، 36 کھلاڑی جبکہ 5 کوچز حصہ لیں گے۔ جبکہ دوسرا تربیتی کیمپ 27 اپریل سے 10 مئی تک منعقد ہوگا، جو پہلے کیمپ میں نمایاں کارکردگی دکھانے والے کھلاڑیوں کے لیے مخصوص ہوگا۔ دوسرے مرحلے میں ہر عمر کے گروپ سے دو کھلاڑی اور دو کوچز منتخب کیے جائیں گے، جنہیں اسٹیون جیرارڈ اکیڈمی اسکالرشپ پروگرام کے تحت لیورپول (برطانیہ) میں بین الاقوامی معیار کی تربیت حاصل کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ محکمہ کھیل حکومتِ بلوچستان نے نوجوان فٹبالرز سے اپیل کی ہے کہ وہ مقررہ تاریخوں پر قیوم پاپا فٹبال گراؤنڈ میں بروقت پہنچ کر ان ٹرائلز میں شرکت کریں اور اس اہم موقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں، مزید معلومات کیلئے محکمہ کھیل کے فٹبال کوچ محمد نعمان سے رابطہ کیا جاسکتا ہے۔

خبر نامہ نمبر 422/2026
کوہلو 20 جنوری :کوہلو میں ضلعی انتظامیہ اور فرنٹیئر کور (ایف سی) کے زیرِ اہتمام جیونی میں کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا جس کا مقصد عوامی مسائل کو براہِ راست سننا اور ان کے فوری حل کے لیے مؤثر اقدامات کو یقینی بنانا تھا۔ کھلی کچہری میں ونگ کمانڈر 79 ونگ لیفٹیننٹ کرنل سلمان خالد، اسسٹنٹ کمشنر کوہلو کیپٹن (ر) کبیر مزاری، مختلف محکموں کے افسران اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔کھلی کچہری کے دوران شہریوں نے صحت، تعلیم، پینے کے صاف پانی کی قلت، زراعت سے متعلق مشکلات، رابطہ سڑکوں کی ابتر حالت اور دیگر بنیادی سہولیات سے متعلق مسائل کھل کر پیش کیے۔ اس موقع پر ونگ کمانڈر لیفٹیننٹ کرنل سلمان خالد اور اسسٹنٹ کمشنر کیپٹن (ر) کبیر مزاری نے عوام کے مسائل بغور سنے اور متعلقہ محکموں کے افسران کو موقع پر ہی ہدایات جاری کیئے کہ عوامی شکایات کا بروقت اور عملی حل یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ اور ایف سی عوامی خدمت کو اپنی اولین ترجیح سمجھتے ہیں اور ایسے کھلی کچہریوں کے انعقاد کا مقصد عوام اور اداروں کے درمیان فاصلے کم کرنا اور اعتماد کو فروغ دینا ہے۔ انتظامیہ کی جانب سے شہریوں کو یقین دہانی کرائی گئی کہ اٹھائے گئے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے گا اور ترقیاتی و فلاحی منصوبوں کے ذریعے عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں گے۔ شرکاء نے کھلی کچہری کے انعقاد کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے ضلعی انتظامیہ اور ایف سی کے اس اقدام کو سراہا۔۔

خبرنامہ نمبر 423/2026
سبی 20 جنوری :ڈپٹی کمشنر سبی میجر(ر) الیاس کبزئی کی صدارت میں سبی میلہ مویشیاں واسپاں 2026 کے حوالے سے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ونگ کمانڈر کرنل شہریار، ایس ایس پی سبی شاہنواز چاچڑ، اسسٹنٹ کمشنر سبی منصور علی شاہ، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر عبدالستار لانگو، ڈپٹی ڈائریکٹر امور حیوانات ڈاکٹر فاروق لونی، ڈپٹی ڈائریکٹر سوشل ویلفیئر امجد لاشاری، ڈپٹی ڈائریکٹر زراعت غلام مصطفیٰ، ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر اکبر سولنگی، ایگزیکٹو انجینیئر کیسکو سبی ڈویژن ظفر سمیت تمام متعلقہ محکموں کے افسران نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران ڈپٹی کمشنر سبی نے تمام محکموں سے سبی میلے کے انعقاد کے دوران ان کی جانب سے انجام دیے جانے والے امور، ذمہ داریوں اور کردار کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ لی۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر سبی میجر(ر) الیاس کبزئی نے کہا کہ ہر سال کی طرح اس سال بھی سبی میلہ عوام کے لیے جوش و خروش اور بھرپور انداز میں منایا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ سبی میلے کی سمری وزیراعلیٰ بلوچستان کی جانب سے منظور ہو چکی ہے، اس لیے تمام محکمے فوری طور پر اپنی تیاریوں کا آغاز کریں۔ افسران نے میلے کے حوالے سے فنڈز اور دیگر درپیش مسائل سے بھی ڈپٹی کمشنر کو آگاہ کیا۔ ڈپٹی کمشنر سبی نے ہدایت کی کہ اس مرتبہ سبی میلہ روایتی انداز سے ہٹ کر منایا جائے اور تمام محکمے نئی سوچ، جدید آئیڈیاز اور انوویشن کے ساتھ اپنی کارکردگی پیش کریں تاکہ عوام کو ایک یادگار اور منفرد تفریحی ماحول فراہم کیا جا سکے۔ واضح رہے کہ سبی میلہ میں ہارس اینڈ کیٹل شو، بچوں کی جانب سے فلاور شو، ملی نغمے، نیزہ بازی، چلڈرن اکیڈمی کے پروگرامز، آتش بازی، ٹیبلو، میوزیکل نائٹ شو سمیت دیگر ثقافتی و تفریحی سرگرمیاں شامل ہوں گی، جبکہ میلے سے ایک روز قبل خواتین کے لیے پبلک پارک میں مینا بازار کا بھی انعقاد کیا جائے گا۔ ڈپٹی کمشنر سبی نے مزید ہدایت کی کہ یکم فروری تک تمام محکمے اپنی تیاریاں مکمل کر لیں اور باہمی تعاون کے ساتھ ایک منظم، پرامن اور عوام دوست میلے کے انعقاد کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ کی کوشش ہوگی کہ سبی میلہ 2026 نہ صرف ضلع بلکہ پورے صوبے میں اپنی مثال آپ ہو اور سبی کی ثقافتی پہچان کو مزید اجاگر کرے۔

خبرنامہ نمبر 424/2026
زیارت، 20 جنوری:حکومت بلوچستان کے احکامات کی روشنی میں، ڈپٹی کمشنر زیارت عبد القدوس اچکزئی نے لیویز فورس زیارت کا کمانڈ سپرنٹینڈنٹ آف پولیس زیارت آیاز خان موسیٰ خیل کے حوالے کر دیا۔ اب ضلع زیارت کا کل رقبہ اے ایریا ہو گیا ہے، جس کی نگرانی سپرنٹینڈنٹ آف پولیس کریں گے۔ ڈپٹی کمشنر عبدالقدوس اچکزئی نے کہا کہ پولیس فورس کو مزید مستحکم کریں گے انہوں نے کہا کہ اس اقدام کے تحت پورے ضلع زیارت کو اقدام قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مزید مستحکم کرنے اور عوامی تحفظ کو یقینی بنانے کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔
اس موقع پر سپرنٹینڈنٹ آف پولیس، ضلع زیارت نے امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے، علاقے میں استحکام پیدا کرنے اور عوام کے ساتھ مل کر کام کرنے کے عزم کا اظہار کیا،

خبرنامہ نمبر 425/2026
نصیرآباد20 جنوری :ڈپٹی کمشنر استامحمد محمد رمضان پلال کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ ڈویلپمنٹ کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر محمد اسماعیل لاشاری، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر شاہ بخش پندرانی، اسسٹنٹ ڈائریکٹر لوکل گورنمنٹ محمد یاسین جمالی، پرنسپل بوائز ڈگری کالج استامحمد عبیداللہ خان زہری اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔
اجلاس میں بلوچستان اسپیشل ڈیولپمنٹ انیشیٹو (BSDI) کے فیز ون اور فیز ٹو کے تحت جاری ترقیاتی منصوبوں، مکمل شدہ منصوبوں اور نئے شروع ہونے والے ترقیاتی جن میں سکولز میں سولر سسٹم کی تنصیب، نئی عمارتوں کی تعمیر، گلیوں و روڈز کی ٹرف ٹائل سے تعمیر و دیگر امور پر تفصیل سے تبادلہ خیال کیا گیا۔ڈپٹی کمشنر نے اجلاس میں زور دیا کہ حکومت بلوچستان کی جانب سے عوام کی فلاح و بہبود کے لیے شروع کیے گئے تمام منصوبے معیار کے مطابق اور مقررہ مدت کے اندر مکمل کیے جائیں تاکہ عوام بروقت ان منصوبوں سے مستفید ہو سکیں اس کے علاوہ یہ بھی واضح کیا گیا کہ اگر کسی ٹھیکیدار کی جانب سے منصوبوں کی تکمیل میں سستی یا تاخیر کا مظاہرہ کیا گیا تو متعلقہ منصوبہ اس سے واپس لے کر کسی اور ٹھیکیدار کو سونپ دیا جائے گا تاکہ کام مقررہ وقت میں مکمل ہو
ڈپٹی کمشنر نے افسران کو ہدایت کی کہ دیے گئے ٹائم فریم کے اندر منصوبوں کی نگرانی اور بروقت تکمیل کو یقینی بنایا جائے تاکہ ترقیاتی کام شفاف اور مؤثر انداز میں عوام تک پہنچ سکے۔

خبرنامہ نمبر 426/2026
کوئٹہ۔ بلوچستان دیہی ترقیاتی اکیڈمی میں ’’Essentials of KPIs‘‘ کے عنوان سے ایک روزہ تربیتی پروگرام منعقد ہوا۔ بلوچستان دیہی ترقیاتی اکیڈمی کے زیرِ اہتمام ’’Essentials of KPIs‘‘ کے عنوان سے ایک روزہ تربیتی پروگرام منعقد ہوا۔ افتتاحی تقریب کے مہمانِ خصوصی ڈائریکٹر جنرل بلوچستان دیہی ترقیاتی اکیڈمی عبدالصادق بلوچ تھے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل نے کہا کہ بدلتے ہوئے دور میں ادارہ جاتی کارکردگی کو جانچنے اور بہتر بنانے کے لیے Key Performance Indicators (KPIs) کی اہمیت بڑھ چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ KPIs نہ صرف اداروں کو اپنے اہداف کے حصول میں مدد فراہم کرتے ہیں بلکہ شفافیت، جوابدہی اور مؤثر فیصلہ سازی میں بھی کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ دیہی ترقیاتی اکیڈمی نے اس تربیتی پروگرام کے ذریعے شرکاء کو KPIs کی تیاری، ان کے عملی نفاذ اور مانیٹرنگ کے جدید طریقہ کار سے آگاہ کیا ہے، جو مستقبل میں مختلف محکموں کی کارکردگی کو بہتر بنانے میں معاون ثابت ہوں گے۔پروگرام کے دوران ماہرین نے KPIs کے بنیادی تصورات، ان کی اہمیت، ڈیٹا کے درست استعمال، کارکردگی کے تجزیے اور عملی مثالوں کے ذریعے شرکاء کو تفصیلی آگاہی فراہم کی۔ شرکاء نے تربیتی سیشنز کو معلوماتی اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں اضافے کا مؤثر ذریعہ قرار دیا۔آخر میں ڈائریکٹر جنرل بلوچستان دیہی ترقیاتی اکیڈمی نے ٹرینرز اور شرکاء کا شکریہ ادا کیا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ اکیڈمی مستقبل میں بھی اس نوعیت کے تربیتی پروگرامز کا انعقاد جاری رکھے گی۔

خبرنامہ نمبر 427/2026
کوئٹہ 20 جنوری :انسپکٹر جنرل آف پولیس بلوچستان محمد طاہر نے کہا کہ صوبے میں دہشت گردی اور دیگر چیلنجز سے نبرد آزما ہونے کے لئے بلوچستان پولیس کو امن و امان کی جدید تربیت دیتے ہوئے تمام دستیاب وسائل بروئے کا لاکر سہولیات فراہم کی جارہی ہیں تاکہ پولیس اہلکاروں کو جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ کرکے ان کی صلاحیتوں کو بڑھایا جاسکے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدرلائن کوئٹہ میں بلوچستان کانسٹیبلری کے لیے نئے تعمیر ہونے والے جدید سہولیات سے آراستہ 10کروڑ 60لاکھ کی لاگت سے اہلکاروں کے لئے جدید عمار ت کا افتتاح ایڈمن بلاک اور نئے تعمیر ہونے والے رہائشی بیرکس کا معائنہ کرتے ہوئے کیا اس موقع پر ایڈیشنل آئی جی پولیس جاوید علی مہر،ایڈیشنل آئی جی پولیس و کمانڈنٹ بلوچستان کانسٹیبلری اشفاق احمد، ڈی آئی جی ہیڈکوارٹرز ایا ز احمد بلوچ، کمانڈنٹ پی ٹی سی شہزاد اکبر، ڈی آئی جی کوئٹہ عمران شوکت، ڈپٹی کمانڈنٹ شاد ابن مسیح، ڈی آئی جی اسپیشل برانچ طاہر علاؤ الدین کاسی، اے آئی جی ڈویلپمنٹ احمد سلطان، پی ایس او اعتزاز احمد، ایس ایس پی ایڈمن دوستن دشتی سمیت دیگر افسران بھی موجود تھے۔ آئی جی پولیس بلوچستان نے کہاکہ امن و امان کو قائم رکھنے کے لئے ہمارے جوان عوام دشمن عناصر کے خلاف صف ِ اول کا کردار ادا کررہے ہیں۔ اور ہم جوانوں کی فلاح و بہبود کے لئے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لارہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پولیس کے تمام شعبوں کے معیار کو بہتر بنایاجارہا ہے جبکہ بی ایریا سے پولیس میں ضم ہونے کے بعد اہلکاروں کو جدید جسمانی کے علاوہ جدید ہتھیاروں کی تربیت اور تفتیشی نظا م سمیت شعبوں میں انہیں تربیت فراہم کی جارہی ہے تاکہ ان کی صلاحیتوں کو مزید بہتر بنایا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت سیکیورٹی اداروں کی استعداد کار اور بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کے لیے سنجیدہ اور ٹھوس اقدامات کر رہی ہے۔ جس سے پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی کو مضبوط اور بہتر بنایا جائے گا۔ پولیس اور سیکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کو بہتر رہائشی سہولیات کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے کیونکہ بہتر ماحول اہلکاروں کی پیشہ ورانہ کارکردگی اور اعتماد پر مثبت اثر ڈالتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ نئی بیرکس کی تعمیر سے بلوچستان کانسٹیبلری کے اہلکاروں کو جدید، محفوظ اور معیاری رہائشی سہولیات میسر اور ان کی فلاح و بہبود میں بہتری آئے گی بلکہ فورس کی مجموعی کارکردگی میں بھی اضافہ ہوگا۔ اس موقع پر انہیں بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ نئے تعمیر ہونے والی عمارت میں موجود پانچ بیرکوں میں 150اہلکاروں کے لیے رہائش کے علاوہ کینٹن، ٹی و ی ہال، انتظارگاہ اور دیگر سہولیات فراہم کی جارہی ہیں۔

خبرنامہ نمبر 428/2026
ڈپٹی کمشنر خضدار عبدالرزاق ساسولی نے چیف آفیسر خضدار وڈیرہ صالح جاموٹ کے ہمراہ وفاق المدارس العربیہ کے سالانہ امتحانات کے ایک اہم سینٹر مدرسہ علوم الشرعیہ کوشک خضدار کا دورہ کیا۔ جہاں دینی طلبہ اپنے امتحانی پرچے حل کر رہے تھے۔ دورے کے دوران ڈپٹی کمشنر خضدار عبدالرزاق ساسولی اور چیف آفیسر خضدار وڈیرہ صالح جاموٹ نے امتحانی ہال کا جائزہ لیا، طلبہ کے پرچوں کے حل کرنے کے عمل اور مجموعی نظم و ضبط کو دیکھا۔ انہوں نے امتحانات کے بہترین انتظامات، شفافیت اور طلبہ کی سنجیدگی کی تعریف کی اور خوشی کا اظہار کیا۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر خضدار عبدالرزاق ساسولی نے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ عصری علوم کی اہمیت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے منتظمین کو کہاکہ عصری تعلیم حاصل کرنے، معیشت کے اصولوں کو سمجھنے، باوقار روزگار کمانے کے جدید طریقوں کے بارے میں طلباء کو تعلیم دی جائے، خود پر انحصار کرنے اور کمپیوٹر سمیت جدید ٹیکنالوجی اور تعلیم پر توجہ دینے کی تلقین کریں ۔ انہوں نے مزید کہا کہ آج کے دور میں دینی طلبہ کو بھی دنیاوی علوم میں مہارت حاصل کر کے معاشرے میں مثبت کردار ادا کرنا چاہیے تاکہ وہ نہ صرف اپنی بلکہ پورے معاشرے کی ترقی میں حصہ ڈال سکیں۔چیف آفیسر خضدار وڈیرہ صالح جاموٹ نے گفتگو کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ دینی اور عصری تعلیم کا امتزاج ہی نوجوانوں کو مستقبل کے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے قابل بناتا ہے۔ انہوں نے طلبہ کو حوصلہ افزائی کی کہ وہ اپنی دینی تعلیم کو مضبوط بنیاد بنا کر جدید مہارتوں کو اپنائیں اور خود کفیل بنیں۔مدرسہ علوم الشرعیہ کوشک خضدار کے منتظم مولانا نوراللہ سمانی نے مہمانوں کو مدرسے کی سرگرمیوں، طلبہ کی تعداد، نصاب اور دیگر تفصیلات سے آگاہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ یہ ادارہ علاقے میں دینی تعلیم کا ایک معتبر و قدیم مرکز ہے جو قرآن، حدیث اور دیگر شرعی علوم کی تعلیم فراہم کر رہا ہے۔وفاق المدارس العربیہ کے ڈویژنل ترجمان حافظ بلال احمد مردوئی اور امتحانی سینٹر کے نگران مولانا ہدایت اللہ رودینی نے وفاق المدارس کے امتحانی نظام، پرچوں کی تیاری، مرکزی کنٹرول اور شفاف چیکنگ کے طریقہ کار پر تفصیلی بریفنگ دی۔ انہوں نے واضح کیا کہ بورڈ معیاری دینی تعلیم کو یقینی بنانے کے لیئے سخت ضابطوں پر عمل پیرا ہے۔ اس موقع پر مولانا محمد ، قاضی اللہ بخش مینگل اور مدرسے کے دیگر اساتذہ و عملہ بھی موجود تھے۔ انتظامی آف وفاق المدارس کے مقامی منتظمین علماء اور طلبہ نے ڈپٹی کمشنر خضدار عبدالرزاق ساسولی اور چیف آفیسر خضدار وڈیرہ صالح جاموٹ کو امتحانی سینٹر آمد کا خیرمقدم کیا ہے ۔

خبرنامہ نمبر 429/2026
نصیرآباد، 20 جنوری:ڈپٹی کمشنر استامحمد محمد رمضان پلال کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن کمیٹی (DCC) کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں اسسٹنٹ کمشنر محمد رمضان اشتیاق، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر محمد اسماعیل لاشاری، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر شاہ بخش پندرانی، ایجوکیشن آفیسران، ایریگیشن، میونسپل کارپوریشن، سی ٹی ڈی، پولیس اور دیگر متعلقہ محکموں کے اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔اجلاس میں امن و امان کے قیام، ناجائز تجاوزات، غیر قانونی اسلحہ کی نمائش، بغیر لائسنس پیٹرول پمپس کی روک تھام، مدارس کی رجسٹریشن اسمگلنگ کی روک تھام، بھیک منگنے کے بہانے ہونے والی چوری کی وارداتوں، بجلی کی چوری کی روک تھام، اور عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں میں تاخیر کے مسائل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔اپنے خطاب میں ڈپٹی کمشنر محمد رمضان پلال نے کہا کہ محکموں کو اپنے فرائض کی ادائیگی میں کسی بھی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی انہوں نے افسران سے تاکید کی کہ وہ اپنی ذمہ داریاں خلوص دل کے ساتھ نبھائیں اور اجلاس میں زیرِ بحث تمام مسائل کے فوری اور سنجیدہ حل کے لیے اقدامات کریں ڈپٹی کمشنر نے عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں میں تاخیر کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے کہا کہ متعلقہ محکمے اپنی ذمہ داریاں بروقت پوری کریں تاکہ عوام کو بہتر سہولیات فراہم کی جا سکیں۔ انہوں نے ٹریفک نظام کی بہتری کے لیے اقدامات کی ضرورت پر بھی زور دیامزید برآں، ڈپٹی کمشنر نے اسسٹنٹ کمشنر کو ہدایت دی کہ وہ مدارس کی رجسٹریشن کے حوالے سے منتظمین کا اجلاس طلب کریں، تمام صورتحال سے آگاہ ہوں اور غیر رجسٹرڈ مدارس کو رجسٹرڈ کرنے کے اقدامات کو یقینی بنائیں

خبرنامہ نمبر432/2026
گوادر/پسنی: اسسٹنٹ کمشنر پسنی خسرو دلاوری نے شہر کے اہم علاقے کہدہ امان وارڈ کا تفصیلی دورہ کیا۔ اس موقع پر مقامی سیاسی اور سماجی شخصیات بھی ان کے ہمراہ تھیں۔دورے کے دوران مقامی رہنماؤں نے اسسٹنٹ کمشنر کو علاقے کے دیرینہ مسائل سے آگاہ کیا اور مچھلی مارکیٹ کی اہمیت کے پیش نظر راستوں کی بحالی اور بہتری کی ضرورت پر زور دیا۔اس دورے کا مقصد علاقے میں موجود تجاوزات کا خاتمہ، سیوریج لائنوں کی صورتحال کا جائزہ اور عوامی سہولیات کی بہتری کے لیے عملی اقدامات اٹھانا تھا۔اسسٹنٹ کمشنر کے ہمراہ تحصیلدار پسنی محمد امین، تحصیلدار اورماڑہ نور خان بلوچ، نائب تحصیلدار عبدالرحمن، چیف آفیسر میونسپل کمیٹی پسنی عادل بشیر دیگر مقامی سیاسی وسماجی شخصیات بھی موجود تھے۔دورے کے دوران اسسٹنٹ کمشنر نے مچھلی مارکیٹ تک جانے والے راستوں کی ابتر صورتحال کا خاص طور پر معائنہ کیا۔ اس موقع پر ان راستوں پر ٹف ٹائلز لگانے کے لیے باقاعدہ سروے بھی کیا گیا تاکہ مچھلی کے کاروبار سے وابستہ افراد اور عام شہریوں کے لیے آمد و رفت آسان بنائی جا سکے۔علاوہ ازیں، ٹیم نے علاقے میں سیوریج لائنوں کی صفائی اور بہتری کا بھی جائزہ لیا تاکہ گندے پانی کے نکاس کا مسئلہ مستقل بنیادوں پر حل کیا جا سکے۔انتظامیہ نے یقین دہانی کرائی ہے کہ سروے کے نتائج کی روشنی میں مچھلی مارکیٹ کے راستوں کی تعمیر و مرمت اور ٹف ٹائلز کی تنصیب آنے والے بلدیاتی بجٹ میں شامل کی جائے گی تاکہ منصوبوں کی بروقت منظوری اور تکمیل ممکن ہو سکے۔

خبرنامہ نمبر433/2026
سبی 20 جنوری :ڈپٹی کمشنر سبی میجر(ر) الیاس کبزئی کی صدارت میں سبی میلہ مویشیاں واسپاں 2026 کے حوالے سے اجلاس منعقد ہوا، جس میں تمام متعلقہ محکموں کے افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں سبی میلے کے انعقاد کے دوران محکموں کی ذمہ داریوں اور تیاریوں کا جائزہ لیا گیا۔ سبی میلہ روایتی انداز سے ہٹ کر نئی انوویشن اور بھرپور عوامی جوش و خروش کے ساتھ منایا جائے گا۔واضح رہے کہ سبی میلہ میں ہارس اینڈ کیٹل شو، ثقافتی و تفریحی پروگرامز، آتش بازی اور خواتین کے لیے مینا بازار کا بھی انعقاد کیا جائے گا۔

خبرنامہ نمبر434/2026
چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان نے کہا کہ صوبے میں صحت کے شعبے میں ڈیجیٹل انقلاب لانے کی کوششیں تیز تر ہو رہی ہیں، ہیلتھ لیڈرشپ کانفرنس 2026 کا انعقاد کیا جارہا ہے جوکلیدی صحت اشاریوں اور ڈیجیٹائزیشن انیشیٹوز پر پیشرفت کا جائزہ لے گی۔ اس کانفرنس کا مقصد صوبے بھر میں صحت سہولیات کی نگرانی، شفافیت اور کارکردگی کو بہتر بنانا ہے، جو محکمہ صحت میں شروع ہونے والے اصلاحات کی توسیع ہوگی۔ اور محکمہ صحت میں گزشتہ دو سالوں سے نمایاں بہتری آئی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بلوچستان ہیلتھ لیڈر شپ کانفرنس 2026 کے شرکائ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ چیف سیکرٹری نے کہا کہ اصلاحات سے صحت کی شفافیت، نگرانی اور شہری مددگار خدمات میں اضافہ متوقع ہے۔ محکمہ صحت میں انقلابی اصلاحات کا سلسلہ جاری ہے، جو ڈیجیٹائزیشن، ڈی سینٹرلائزیشن اور سروس ڈلیوری پر مبنی ہیں جس سے صوبے بھر کی صحت سہولیات میں نمایاں بہتری آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ عوام کی خدمت صوبائی حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے، حکومت عوام کی فلاح و بہبود کے لیے متعدد اقدامات کر رہی ہے، جن میں صحت پر خاص توجہ مرکوز کی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ خوش آئند اور قابل فخر بات ہے کہ بنگلہ دیش، نیپال بھی محکمہ صحت بلوچستان کے ساتھ کام کرنے کے خواہشمند ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریئل ٹائم سسٹم مینجمنٹ سے ہسپتالوں میں ڈاکٹرز اور سٹاف کی حاضری، ادویات کی دستیابی اور ایمرجنسی رسپانس کی نگرانی ہو رہی ہے۔ اس موقع پر سیکرٹری صحت نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ HISP پاکستان اور UNICEF نے بلوچستان کو قومی اور عالمی سطح پر ڈیجیٹل ہیلتھ کا رول ماڈل قرار دیا۔

خبرنامہ نمبر435/2026
کوئٹہ20 جنوری:وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے خصوصی ہدایات کی روشنی میں سیکرٹری مواصلات و تعمیرات بابر خان نے چمن پھاٹک تا کوئلہ پھاٹک روڈ منصوبے پر پیش رفت کا جائزہ لیا اس موقع پر چیف انجینئر فیڈرل پروجیکٹس ڈاکٹر سجاد بلوچ چیف انجینئر ای اینڈ ایم ورکس ڈویژن مہر اللّٰہ جوگیزئی اور ایگزیکٹو انجینئر ای اینڈ ایم ورکس ڈویژن کاکا محمد انور کے علاؤہ دیگر متعلقہ حکام بھی موجود تھے اس موقع پر ایگزیکٹو انجینئر ای اینڈ ایم ورکس ڈویژن کاکا محمد انور نے سیکرٹری مواصلات و تعمیرات بابر خان کو منصوبے کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی سیکرٹری مواصلات و تعمیرات بابر خان نے جاری منصوبے کی رفتار کو تیز کرنے کی ہدایات دیتے ہوئےکہا کہ کو مذکورہ منصوبے کے حوالے سے وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے خصوصی ہدایات ہیں کہ ریکارڈ مدت میں اس منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچائیں لہذا محکمہ مواصلات و تعمیرات کی یہ اولین ترجیح ہونی چاہیے کہ اس منصوبے کو اپنے وقت مقررہ سے بھی پہلے مکمل کریں تاکہ شہر کے گنجان آبادی والے علاقے میں ٹریفک کی روانی میں بہتری آجائے سیکرٹری مواصلات و تعمیرات نے مذید کہا کہ مذکورہ منصوبے پر میعار کا خاص خیال رکھا جائے اور اس حوالے کسی بھی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی انہوں نے کہا کہ ترقی اور خوشحالی کا دارومدار محکمہ مواصلات و تعمیرات کی بہتر کارکردگی پر منحصر ہے اور یہ بہترین کارکردگی اس وقت ہوگی کہ جب ان منصوبوں کو اپنے وقت مقررہ سے بھی پہلے مکمل کیا جائے سیکرٹری مواصلات و تعمیرات بابر خان نے مذید کہا کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے بھی یہی ہدایات ہیں کہ اس منصوبے کو جلد از مکمل کیا جائے تاکہ عوام کو ٹریفک کے مساہل سے چھٹکارا حاصل ہو اور شہر کی آبادی کو اپنے منزل مقصود تک پہنچنے میں کوئی دشواری نا ہو۔

خبرنامہ نمبر 436/2026
کوئٹہ:حکومتِ بلوچستان نے بلوچستان تحفظ و فروغِ تولیدی صحت حقوق بل، 2026 کی منظوری دے دی-اس سے صوبے میں تولیدی صحت کی خدمات کو مؤثر، منظم اور قابلِ رسائی بنانے کی جانب ایک اہم قدم اٹھایا گیاہے۔یہ بل صوبے میں ماں اور بچے کی صحت کو بہتر بنانے، خاندانی منصوبہ بندی کی سہولیات کی فراہمی، اور تولیدی صحت سے متعلق بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے پیش کیا گیا ہے۔ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق بلوچستان میں زچگی کے دوران اموات کی شرح ملک میں سب سے زیادہ ہے، جس کے پیشِ نظر اس قانون کی ضرورت مزید بڑھ جاتی ہے۔بل کے تحت سرکاری و نجی صحت کے تمام اداروں میں تولیدی صحت کی خدمات اور مانع حمل سہولیات کی دستیابی کو لازمی بنایا جائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی، معیاری خدمات، نگرانی، تربیت، اور خواتین و خاندانوں کی عزت، رازداری اور خودمختاری کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے گا۔یہ قانون صوبے میں آبادی میں تیزی سے اضافے، محدود وسائل اور صحت کے موجودہ چیلنجز سے نمٹنے میں مدد دے گا اور پائیدار سماجی و معاشی ترقی کے اہداف کے حصول میں معاون ثابت ہوگا۔

خبرنامہ نمبر 437/2026
لورالائی 20 جنوری 2026: پولیس کو موصولہ مصدقہ اطلاع کی بنیاد پر آج مورخہ 20 جنوری 2026 کو پولیس پارٹی نے ایک خطرناک اشتہاری ملزم کی گرفتاری کے لیے علاقہ میں کارروائی کی۔ اطلاع کے مطابق اشتہاری ملزم عبدالشکور ولد عبداللہ قوم اوتمانخیل ساکن مہول لورالائی ، جو لورالائی پولیس مختلف تھانوں میں چھ سنگین مقدمات میں مطلوب تھا، اپنے چند نامعلوم مسلح ساتھیوں کے ہمراہ موجود تھا۔پولیس پارٹی کے موقع پر پہنچ کر ملزمان کو گھیرنے اور قانون کے مطابق گرفتار کرنے کی کوشش کے دوران ملزمان نے پولیس کو دیکھتے ہی کلاشنکوف اور پسٹل سے اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔ پولیس کی جانب سے بارہا بلند آواز میں ملزمان کو اسلحہ پھینک کر سرنڈر کرنے کی وارننگ دی گئی، تاہم ملزمان کی فائرنگ میں مزید شدت آ گئی۔فائرنگ کے نتیجے میں اشتہاری ملزم عبدالشکور اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ کی زد میں آ کر شدید زخمی ہو گیا، جبکہ اس کے دیگر نامعلوم ساتھی فائرنگ کی آڑ میں موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔زخمی ملزم عبدالشکور کو فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا گیا، تاہم وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہو گیا۔موقع واردات سے کلاشنکوف، پسٹل اور ایمونیشن برآمد کر کے قبضہ پولیس میں لے لیا گیا ہے۔ لاش کو قانونی تقاضوں کے مطابق پوسٹ مارٹم کے لیے روانہ کر دیا گیا ہے، جبکہ فرار شدہ ملزمان کی گرفتاری کے لیے علاقے میں سرچ آپریشن جاری ہے۔واقعہ سے متعلق قانونی کارروائی عمل میں لائی جا رہی ہے۔

خبرنامہ نمبر 438/2026
قلات :ڈپٹی کمشنر منیر احمد درانی سے شیخڑی کےعلاقہ وفد نے ماسٹر سیف اللہ جتک اسکلکو کونسلر عبدالواحدپندرانی کی سربراہی میں ملاقات کی وفد میں ادیب دانشور حاجی اللہ بخش لہڑی حکیم غلام اکبرپندرانی کنٹریکٹرعبدالخالق نیچاری حافظ ظفراللہ پندرانی محمدافضل پندرانی ظہور احمدپندرانی اور دیگر شامل تھے۔ ملاقات میں قلات کے تاریخی علاقہ شیخڑی مورگند گیڈی اور دیگر علاقوں کو درپیش اہم مسائل زمینداروں کے لیئے یوریا کھاد کے لیئے اجازت نامہ گیڈی کے مکینوں کو پینے کے پانی کی فراہمی اور بنیادی سہولیات کی فراہمی سے متعلق تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ڈپٹی کمشنر منیراحمددرانی نے کہا کہ قلات کے عوام کو درپیش مسائل کے حل کے لیئے ضلعی انتظامیہ قلات تمام تروسائل بروے کار لارہاہے مسائل کے حل کے لیئے علاقے کے لوگ ضلعی انتظامیہ سے بھرپور تعاون کریں.

خبرنامہ نمبر 439/2026
چمن20 جنوری :ضلع چمن میں ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن کمیٹی (DCC) کا ایک اہم اجلاس ڈپٹی کمشنر چمن حبیب احمد بنگلزئی کی زیرِ صدارت منعقد ہوا۔اجلاس میں ہیڈکوارٹر چمن اسکاو?ٹس، کمانڈنگ افیسر 40 فرنٹیئر فورس (FF) چمن، ایس پی چمن، کمانڈنگ افیسر آئی ایس آئی چمن، آئی ڈبلیو چمن، کمانڈنگ افیسر سی ٹی چمن، کمانڈنگ افیسر ایم آئی 304 چمن، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (ADC) چمن، اسسٹنٹ کمشنر (AC) چمن، اسسٹنٹ ڈائریکٹر آئی بی چمن، ڈسٹرکٹ آفیسر سی ٹی ڈی چمن، سرکل آفیسر اسپیشل برانچ چمن، ڈسٹرکٹ آئی ٹی آفیسر چمن کے علاوہ لائن ڈیپارٹمنٹس کے تمام ضلعی سربراہان اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔اجلاس میں ضلع چمن میں امن و امان کی مجموعی صورتحال، سرحدی سیکیورٹی، انسدادِ جرائم، خفیہ معلومات کے تبادلے، عوامی تحفظ کے اقدامات، انتظامی امور میں باہمی رابطہ کاری اور ضلعی سطح پر درپیش سیکیورٹی و انتظامی چیلنجز پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔اس موقع پر ڈی سی چمن نے کہا کہ چمن جیسے حساس اور سرحدی ضلع میں تمام سول و عسکری اداروں کے مابین مؤثر رابطہ اور ہم آہنگی نہایت ضروری ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ عوام کے جان و مال کے تحفظ، امن کے قیام اور ریاستی رِٹ کو مضبوط بنانے کے لیے تمام ادارے مشترکہ حکمت عملی کے تحت کام کریں۔ڈپٹی کمشنر چمن حبیب احمد بنگلزئی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن کمیٹی کے پلیٹ فارم کے تحت ہونے والے فیصلوں پر بروقت اور مؤثر عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے گا۔ انہوں نے تمام محکموں کو ہدایت کی کہ وہ اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے ادا کریں اور عوامی مسائل کے حل کے لیے باہمی تعاون کو مزید فروغ دیں۔ انہوں نے کہا کہ امن و امان کی قیام قانون شکن اور شرپسند عناصر راہزنوں غرضیکہ ہر قسم کی غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کو یقینی بنانے کیلئے رابطہ سڑکوں اور شہر و اطراف میں اچانک سنیپ چیکنگ اور گشت کے دوران تمام مشکوک گاڑیوں موٹر سائیکل سواروں اور پیدل چلنے والوں کی جامع تلاشی اور تفتیش کا سلسلہ جاری رکھا جائے تاکہ امن و امان کی قیام یقینی بنایا جائے.

خبرنامہ نمبر 440/2026
چمن20 جنوری : ڈی سی چمن حبیب احمد بنگلزئی کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ ایجوکیشن کمیٹی کا اجلاس منعقد کیا گیا۔ اجلاس میں ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر عبدالقدوس اچکزئی، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر فیمیل، ڈپٹی ڈسٹرکٹ آفیسر ایجوکیشن و دیگر افسران شریک تھے۔۔اجلاس میں ضلع چمن کی تمام تعلیمی درسگاہوں اور افسران کی کارکردگی اور انتظامی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا اجلاس میں ڈی سی چمن کو ڈی ای او میل اور فیمیل نے ضلع چمن محکمہ تعلیم کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی اجلاس میں ضلع چمن کو محکمہ تعلیم کو درپیش ضروری سہولیات کی کمی اور فراہمی کے حوالےسے بھی تفصیلی رپورٹ پیش کی گئی اور مختلف تعلیمی اداروں کو درپیش مسائل اور مشکلات پر بحث کی گئی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈی سی چمن نے کہا کہ محکمہ تعلیم کی تمام آفیسران اور سٹاف کی حاضریوں اور وقت کی پابندی کے حوالے سے زیرو ٹالرنس پالیسی پر ہم سختی سے کار بند رہیں گے کیونکہ طلبائ و طالبات کی پڑھائی اور درس وتدریس کا دارومدار اساتذہ کی حاضریوں اور کلاسوں میں موجودگی پر منحصر ہے انہوں نے کہا کہ اس حوالےسے ہم کسی قسم کی مصلحت پسندی اور نرمی کا مظاہرہ نہیں کریں گے ڈی سی چمن نے کہا کہ تمام مانیٹرنگ ٹیمیں مانیٹرنگ کی عمل کو تیز کریں ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تعلیمی اداروں کی حالت سدھارنے کیلئے کمیونٹی اور ڈیپارٹمنٹ کا ایک دوسرے کیساتھ روابط بڑھانے اور کوآپریشن کرنا بے حد ضروری ہے انہوں نے کہا کہ جدید تعلیم حاصل کیے بغیر ہم ترقی یافتہ ممالک کی صف میں شامل نہیں ہو سکتے لہذا ہم سب کو تعلیمی اہداف کو حاصل کرنے کیلئے پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے اپنے خدمات دیانتداری اور ایمانداری سے انجام دینا ہوں گے انہوں نے کہا کہ آج کی دنیا میں کسی بھی ملک و قوم جدید سائنسی وٹیکنیکل تعلیم حاصل کیے بغیر ترقی حاصل نہیں کر سکتی۔

خبرنامہ نمبر 441/2026
چمن 20 جنوری :ڈی سی چمن حبیب احمد بنگلزئی کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ ہیلتھ کمیٹی کا اجلاس منعقد کیا گیا اجلاس میں ڈپٹی ڈی ایچ او چمن ڈاکٹر عبدالرشید پی پی ایچ آئی ضلعی سربراہ ضیائ اور دیگر افسران شریک تھے اجلاس میں ڈی سی چمن کو محکمہ صحت چمن کی مجموعی صورتحال جس میں نیو ڈی ایچ کیو ہسپتال چمن ڈسپنسریز، بی ایچ یوز محکمہ صحت کی تمام یونٹس میں ادویات کی سٹاک طبی آلات مشینری اور ہسپتالوں میں ایمرجنسی ادویات اور دیگر ضروری سامان و سہولیات انفراسٹرکچر ڈاکٹرز پیرا میڈیکس سٹاف کی حاضریوں پرفارمینس کے حوالے سے معلومات فراہم کی گئیں اجلاس سے اپنے خطاب میں ڈی سی چمن نے تمام ہیلتھ یونٹس میں ڈاکٹروں پیرامیڈیکس اور سٹاف کی حاضریوں اور وقت کی پابندی کو ازحد ضروری قرار دیا انہوں نے کہا کہ ڈاکٹرز پیرامیڈیکس اور تمام سٹاف عوام کی علاج و معالجہ کو ایک مقدس فریضہ سمجھ کر اپنی ڈیوٹیاں استقامت کیساتھ ایمانداری اور دیانتداری سے انجام دیں کیونکہ حکومت ہمیں تنخواہیں اور دیگر مراعات اسی مد میں ادا کر رہے ہیں انہوں نے کہا کہ محکمہ صحت اور ہیلتھ یونٹس میں ڈاکٹروں اور سٹاف کی حاضریوں پر ہم کسی قسم کی مصلحت پسندی کا مظاہرہ نہیں کریں گے کیونکہ ڈاکٹرز اور سٹاف کی تھوڑی سی غفلت لاپروائی سے مریضوں کی جان کو شدید نقصان پہنچنے اور خطرات لاحق ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے لہذا ہم سب کو بحیثیت مجموعی ذمہداری کا مظاہرہ کر کے بہترین کارکردگی دکھانا ہوگا تاکہ ہم ممکن حد تک مریضوں کی علاج و معالجہ میں کامیابی سے ہمکنار ہوں۔

خبرنامہ نمبر 442/2026
زیارت (20 جنوری :ڈپٹی کمشنر زیارت عبد القدوس اچکزئی نے آج زیارت ماسٹر پلان پروجیکٹ کے تحت زیرِ تعمیر مختلف ترقیاتی منصوبوں کا دورہ کیا۔ دورے کے دوران ٹورسٹ پارک، ٹورسٹ ریسٹورنٹ، ڈسٹرکٹ کمپلیکس اور ڈسٹرکٹ آڈیٹوریم کے تعمیراتی کاموں کا جائزہ لیا گیا۔ اس کے علاوہ فروٹ اینڈ ویجیٹیبل مارکیٹ نزد پیچی ڈیم کا بھی معائنہ کیا گیا۔دورے کے موقع پر اسسٹنٹ کمشنر زیارت سجادالرحمان کوڑو، پروجیکٹ ڈائریکٹر زیارت ماسٹر پلان پروجیکٹ صنم زیب خان اور تحصیلدار زیارت نور احمد پانیزئی بھی ہمراہ تھے۔ پروجیکٹ ڈائریکٹر نے ڈپٹی کمشنر زیارت کو جاری ترقیاتی منصوبوں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر زیارت عبد القدوس اچکزئی نے ہدایت کی کہ زیارت ڈیویلپمنٹ پروجیکٹ کو بروقت اور معیار کے مطابق مکمل کیا جائے، ترقیاتی کام عوام کی امانت ہے اس پر کوئی کمپرومائز نہیں کیا جائے گا۔ ترقیاتی کام میں سستی اور ناقص مٹیریل کو ہرگز برداشت نہیں کریں گے۔ماسٹر پلان زیارت اس مقام کو پرکشش مقام بنانے میں بہت اہم کردار ادا کرے گا، زیارت کی خوبصورتی میں اضافہ کرے گا زیارت ایک سیاحتی اور پر فضا ئ مقام ہےزیارت ڈویلپمنٹ پروجیکٹ کی تکمیل سے زیارت شہر مزید خوبصورت اور دلکش ہوگا۔ انہوں نے پروجیکٹ کے افسران کو ہدایت کی کام کی کوالٹی بہترین ہو کام کو تیزی سے اور بروقت مکمل کیا جائے۔

خبرنامہ نمبر 443/2026
کوئٹہ 20 جنوری: بلوچستان دیہی ترقی اکیڈمی کے زیرِ اہتمام پانچ روزہ تربیتی پروگرام بعنوان “Essentials of KPIs” کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہو گیا۔ تربیتی پروگرام کی اختتامی تقریب کے مہمانِ خصوصی ڈائریکٹر جنرل دیہی ترقی اکیڈمی عندالمناف تھے۔ اس پروگرام کا مقصد سرکاری افسران اور ملازمین کو کلیدی کارکردگی اشاریوں (Key Performance Indicators) کے مؤثر استعمال اور عملی اطلاق سے روشناس کرانا تھا، تاکہ دیہی ترقی سے متعلق منصوبوں اور ادارہ جاتی کارکردگی کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔ تربیتی پروگرام میں مختلف سرکاری محکموں سے تعلق رکھنے والے افسران نے شرکت کی۔ ماہر ٹرینرز نے شرکائ کو KPIs کی تیاری، ان کی نگرانی، کارکردگی کے تجزیے اور پالیسی سازی میں ان کے مؤثر کردار کے حوالے سے تفصیلی لیکچرز دیے۔ عملی مثالوں کے ذریعے بتایا گیا کہ KPIs کی مدد سے شفافیت، جوابدہی اور گڈ گورننس کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔ شرکائ کا کہنا تھا کہ اس تربیت سے انہیں اپنے اداروں میں کارکردگی ناپنے، منصوبہ بندی بہتر بنانے اور عوامی خدمات کے معیار کو بلند کرنے میں نمایاں مدد ملے گی پروگرام کے دوران دیہی ترقی کے منصوبوں میں KPIs کے اطلاق پر خصوصی توجہ دی گئی۔اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اکیڈمی کے ڈائریکٹر جنرل نے کہا کہ ایسے تربیتی پروگرام وقت کی اہم ضرورت ہیں، کیونکہ KPIs کے ذریعے ادارہ جاتی اصلاحات اور بہتر سروس ڈیلیوری ممکن ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ مستقبل میں بھی اس نوعیت کے تربیتی پروگراموں کا انعقاد جاری رکھا جائے گا۔ آخر میں شرکائ میں اسناد تقسیم کی گئیں۔

خبرنامہ نمبر 444/2026
قلات20جنوری:قلات سبزی منڈی کی بحالی زمینداروں اور عوام کے دیرینہ مطالبہ کے تکمیل سے قلات شہر کوتجارتی معاشی سرگرمیوں کامرکزبننے جارہاہےڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن کی کوششوں سے کاروباری سرگرمیوں میں اضافے کیساتھ عوام کو بھی بہتر سہولیات میسر آئیں گی قلات میں کئی سالوں سے غیر فعال سبزی منڈی کو دوبارہ فعال بنانے کے لیے ضلعی انتظامیہ کی جانب سے باقاعدہ اقدامات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ اسی سلسلے میں آج سبزی منڈی کی مزید دکانوں کی بولی کا عمل کامیابی کے ساتھ جاری رہا۔بولی کا یہ عمل ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر قلات شاہنواز بلوچ اور چیئرمین میونسپل کمیٹی قلات نوابزادہ شعیب جان زہری کی زیر نگرانی منعقد ہوا۔ اس موقع پر چیف آفیسر میونسپل کمیٹی قاضی سراج احمد دہوار اور محکمہ بلدیات کے دیگر افسران بھی موجود تھے، جنہوں نے بولی کے عمل کی شفاف اور منظم نگرانی کی ڈپٹی کمشنر قلات منیر احمد درانی کاکہنا ہے کہ کئی سال بعد سبزی منڈی کی بحالی کاروباری افرادکودکانوں کی بولی کے ذریعے الاٹ منٹ کاعمل شفافیت اورکامیابی سے جاری ہے دکان نمبر 51 سے دکان نمبر 60 تک مقامی سبزی فروشوں نے بولی میں حصہ لیا۔ بولی کا عمل پرامن، شفاف اور نظم و ضبط کے ساتھ مکمل کیا گیا۔اس موقع پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر شاہنواز بلوچ چیئرمین میونسپل کمیٹی نوابزادہ شعیب جان زہری نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ کے مطابق آئندہ مرحلے میں باقی دکانوں کی بولی کا عمل مکمل کیا جائے گا، جس کے بعد سبزی منڈی کو مکمل طور پر فعال کر دیا جائے گا۔ اس اقدام سے قلات شہر میں تجارتی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا اور مقامی تاجروں و عوام کو فائدہ پہنچے گا۔

خبرنامہ نمبر 445/2026
گوادر: ڈپٹی کمشنر نقیب اللہ کاکڑ نے گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج گوادر کا دورہ کیا۔ اس دورے کا مقصد ادارے کے تعلیمی ماحول، تدریسی سرگرمیوں اور مجموعی کارکردگی کا جائزہ لینا تھا۔دورے کے دوران ڈپٹی کمشنر نے انٹرمیڈیٹ اور اے ڈی پی پروگرامز کی مختلف کلاسز کا معائنہ کیا اور طالبات سے براہِ راست گفتگو کرتے ہوئے ان سے نصابی سوالات کیے۔ انہوں نے طالبات کے اعتماد، تعلیمی دلچسپی اور بہتر کارکردگی کو سراہا۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر نے کالج فیکلٹی سے ایک تفصیلی اجلاس بھی کیا، جس میں تعلیمی امور، ادارے کو درپیش مسائل اور مستقبل کے ترقیاتی منصوبوں پر تبادلہ? خیال کیا گیا۔ اجلاس کے دوران پرنسپل گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج گوادر سبین بلوچ نے کالج کی تعلیمی سرگرمیوں، نمایاں کامیابیوں اور درپیش ضروریات پر مشتمل جامع بریفنگ پیش کی۔بعد ازاں ڈپٹی کمشنر نے کالج میں زیرِ تعمیر عمارت کا بھی دورہ کیا اور تعمیراتی کام کا جائزہ لیتے ہوئے منصوبے کی بروقت تکمیل کے لیے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔دورے کے اختتام پر پرنسپل گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج گوادر نے ڈپٹی کمشنر گوادر کا قیمتی وقت، رہنمائی اور تعلیمی شعبے کے لیے مسلسل تعاون پر شکریہ ادا کیا۔ ڈپٹی کمشنر کا یہ دورہ طالبات اور اساتذہ کے لیے حوصلہ افزا اور نہایت مفید ثابت ہوا۔

خبرنامہ نمبر 446/2026
موسیٰ خیل 20 جنوری :ڈپٹی کمشنر موسیٰ خیل عبد الرزاق خجک کی زیرِ صدارت ڈسٹرکٹ ریکروٹمنٹ کمیٹی (DRC) فیز تھری کے حوالے سے اجلاس منعقد ہوا جس میں کمیٹی ممبران اور متعلقہ شعبہ جات کے آفیسرانِ بالا نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران فیز تھری کے تحت موصول ہونے والے امیدواروں کے کاغذات کی تفصیلی جانچ پڑتال کی گئی اور بھرتی کے عمل کو شفاف بنانے کے لیے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا اس موقع پر ڈپٹی کمشنر عبد الرزاق خجک نے بذاتِ خود امیدواروں کے اعتراضات اور شکایات سنے اور ان کے فوری حل کے لیے موقع پر ہی ضروری احکامات جاری کیے۔ ڈپٹی کمشنر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ضلعی انتظامیہ بھرتیوں کے تمام مراحل میں شفافیت اور غیر جانبداری کو ہر صورت یقینی بنا رہی ہے۔میرٹ کی پامالی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور یہ کوشش کی جا رہی ہے کہ ہر حقدار کو اس کا حق ملے۔ انہوں نے مزید کہا کہ تمام کاغذات کی جانچ پڑتال حکومتی ضوابط کے عین مطابق کی گئی ہے تاکہ مستقبل میں کسی بھی قسم کی انتظامی دشواری سے بچا جا سکےاجلاس کے اختتام پر میرٹ کی سربلندی اور عوامی اعتماد کی بحالی کے لیے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا گیا تاکہ باصلاحیت اور محنتی نوجوانوں کو آگے بڑھنے کے بھرپور اور یکساں مواقع میسر آسکیں اور ضلع کی ترقی میں بہترین انسانی وسائل اپنا کردار ادا کر سکیں۔

Handout NO 447/2026
kalat: 20 January*
*Revival of kalat Vegetable Market: With the fulfillment of the long-standing demand of the landowners and the public, kalat city is going to become a center of commercial and economic activities. With the efforts of the District Administration, along with the increase in business activities, the public will also get better facilities. The District Administration has started regular steps to reactivate the vegetable market in Kalat, which has been inactive for many years. In this regard, the bidding process for more shops in the vegetable market continued successfully today. The bidding process was held under the supervision of Additional Deputy Commissioner Qalat Shahnawaz Baloch and Chairman Municipal Committee Kalat Nawabzada Shoaib Jan Zehri. On this occasion, Chief Officer Municipal Committee Qazi Siraj Ahmed Dehwar and other officers of the Local Government Department were also present, who supervised the bidding process in a transparent and organized manner. Deputy Commissioner Kalat Munir Ahmed Durrani said that after many years, the allotment process through the bidding of shops by businessmen and vendors is going on transparently and successfully. Local vegetable vendors from shop number 51 to shop number 60 participated in the bidding. The bidding process was completed peacefully, transparently and in an orderly manner. On this occasion, Additional Deputy Commissioner Shahnawaz Baloch, Chairman Municipal Committee Nawabzada Shoaib Jan Zehri said that according to the district administration, the bidding process of the remaining shops will be completed in the next phase, after which the vegetable market will be fully functional. This step will promote commercial activities in Kalat city and benefit the local traders and the public.

خبرنامہ نمبر 448/2026
کوئٹہ 20 جنوری ۔ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) محمد انور کاکڑ کی زیرِ صدارت شہر میں آٹے کی قیمتوں میں استحکام اور پرائس کنٹرول کے حوالے سے ایک اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں عوام کو آٹے کی مقررہ سرکاری نرخوں پر فراہمی کو یقینی بنانا اور ذخیرہ اندوزی و منافع خوری کے تدارک کے لیے مؤثر اقدامات کا جائزہ لیا گیا اس موقع پر محکمہ انڈسٹری، محکمہ فوڈ، اسسٹنٹ کمشنر کچلاک، تمام متعلقہ مجسٹریٹس، انجمن تاجران کے نمائندگان رحیم کاکڑ اور رحیم آغا، فلور مل ایسوسی ایشن، فلور ریٹیلر ایسوسی ایشن، چیمبر آف کامرس اور دیگر متعلقہ اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شہر میں آٹے کی مقررہ قیمتوں پر عملدرآمد ہر صورت یقینی بنایا جائے گا، اور خلاف ورزی کے مرتکب عناصر کے خلاف بلاامتیاز قانونی کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے واضح ہدایات جاری کیں کہ ناجائز منافع خوری اور ذخیرہ اندوزی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔اجلاس میں تمام اسٹیک ہولڈرز نے ضلعی انتظامیہ کے ساتھ تعاون کی یقین دہانی کرائی اور عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے مشترکہ اقدامات پر اتفاق کیا گیا۔

خبرنامہ نمبر 449/2026
کوئٹہ 20 جنوری: قائمقام گورنر بلوچستان غزالہ گولہ نے کہا ہے کہ خواتین ہماری آبادی کا نصف ہیں، انہیں یکساں مواقع اور سہولیات فراہم کرکے ہی ہم ان تمام پوشیدہ صلاحیتوں کو ملک و قوم کے بہترین مفاد میں بروئے کار لا سکتے ہیں۔ بلوچستان کی خواتین ذہانت اور قابلیت میں کسی بھی طرح دوسرے صوبوں کی خواتین سے کم نہیں ہیں لیکن غربت اور ضروری سہولیات کی عدم دستیابی ان کی راہ میں رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔ مواقع کی کمی دراصل ہماری خواتین کو اپنی پوری صلاحیت تک پہنچنے سے روکتی ہے۔ موجودہ حکومت صوبے کی تمام خواتین کی ترقی اور ان کیلئے تعلیم اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کیلئے ٹھوس اقدامات کر رہی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گورنر ہاؤس کوئٹہ میں سیکرٹری وویمن ڈیویلپمنٹ سائرہ عطا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر قائمقام گورنر بلوچستان غزالہ گولا نے کہا کہ یہ امر باعث اطمینان ہے کہ ہماری خواتین زندگی کے تمام شعبوں میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ بات یقینی ہے کہ معاشی طور پر خود مختار عورت ہی اپنے اور دیگر خواتین کے حقوق اور اختیارات کے حصول کیلئے کلیدی کردار ادا کر سکتی ہے۔ قبل ازیں سیکرٹری وویمن ڈیویلپمنٹ سائرہ عطا نے انہیں قائممقام گورنر کا عہدہ سنبھالنے پر مبارکباد دی۔

Leave feedback about this

  • Quality
  • Price
  • Service

PROS

+
Add Field

CONS

+
Add Field
Choose Image
Choose Video