18th-January-2026

خبرنامہ نمبر 371/2026
گوادر/اورماڑہ:ڈپٹی کمشنر گوادر نقیب اللہ کاکڑ کی ہدایت پر ضلعی صحت افسر ڈاکٹر یاسر طاہر نے اپنی میڈیکل ٹیم کے ہمراہ کراچی سے جیوانی جانے والی مسافر بس کے حادثے کے مقام پر پہنچ کر زخمیوں کو فوری طبی اور ایمرجنسی امداد فراہم کی۔واضح رہے کہ یہ افسوسناک حادثہ اورماڑہ ہڈ کے مقام پر پیش آیا، جس کے نتیجے میں 10 افراد موقع پر ہی جان بحق جبکہ 36 مسافر زخمی ہو گئے۔ حادثے کا شکار بس میں مجموعی طور پر 46 مسافر سوار تھے۔زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے کے بعد محکمہ صحت کی ایمبولینسز کے ذریعے کراچی منتقل کیا گیا، جبکہ پانچ تشویشناک حالت میں زخمی مسافروں کو پاک بحریہ کے اے ٹی آر طیارے کے ذریعے فوری طور پر کراچی شفٹ کیا گیا۔
اس موقع پر ضلعی انتظامیہ نے پاک بحریہ کی بروقت کوششوں، زخمیوں کو فراہم کی گئی طبی امداد، اور پاک بحریہ کے زیرانتظام اورماڑہ درمان جاہ ہسپتال کی کارکردگی کو سراہا، جبکہ میڈیکل ٹیم کی خدمات کو بھی بھرپور انداز میں خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔
اس ایمرجنسی اور ریسکیو آپریشن کے دوران ضلعی انتظامیہ، محکمہ صحت، کوسٹل ہائی وے پولیس، پاکستان نیوی اور ریسکیو 1122 نے مشترکہ طور پر بھرپور کردار ادا کیا۔

خبرنامہ نمبر 372/2026
ڈپٹی کمشنر خضدار ایس ایس پی خضدار چیف آفیسر خضدار کی خصوصی شرکت ، وڈیرہ مولا بخش جاموٹ اینڈ برادرز نے میزبانی کے فرائض سرانجام دیئے۔خضدارکے علاقہ کرخ سب ڈویژن میں ایک ملکی سطح کے اعلیٰ معیار کا فری آئی میڈیکل کیمپ منعقد کیا گیا۔ اس کیمپ میں دو ہزار سے زائد مریضوں کا مفت علاج کیا گیا، جبکہ 200 سے زیادہ افراد کے آنکھوں کے آپریشن سرجریاں کامیابی سے مکمل کی گئیں۔ یہ کیمپ ‘دی سوسائٹی فار دی پریوینشن اینڈ کیور آف بلائنڈنیس (SPCB) اور اپوا شیریں بانو آئی ہسپتال کراچی کے تعاون سے قائم کیا گیا تھا، جو مقامی آبادی کو جدید طبی سہولیات فراہم کرنے کا ایک اہم ذریعہ بنا۔کیمپ کی نگرانی آئی اسپیشلسٹ سرجن ڈاکٹر ابرار حسین تنیو اور ڈاکٹر زاہد حسین سمیت 14 طبی عملے نے کی، جنہوں نے اوپی ڈی یعنی آؤٹ پیشنٹ ڈیپارٹمنٹ اور آپریشن تھیٹر میں پورا دن خدمات سرانجام دیں۔ مریضوں کو آنکھوں کی مختلف بیماریوں جیسے موتیا بند، گلوکوما اور دیگر پیچیدگیوں کا علاج فراہم کیا گیا۔ SPCB کی ٹیم نے جدید آلات اور ادویات کے ساتھ کام کیا، جس سے علاقے کے غریب اور دور دراز دیہاتوں سے آنے والے مریضوں کو بڑی راحت ملی۔ کیمپ کے منتظمین کا کہنا ہے کہ یہ پروگرام نہ صرف طبی امداد فراہم کرتا ہے بلکہ آنکھوں کی صحت کے بارے میں آگاہی بھی پھیلاتا ہے، جو خضدار جیسے پسماندہ علاقوں میں انتہائی ضروری ہے۔تقریب میں ڈپٹی کمشنر خضدار عبدالرزاق ساسولی، ایس ایس پی خضدار شہزادہ عمر عباس بابر وڈیرہ صالح جاموٹ اسسٹنٹ کمشنر وڈھ اکبر علی مزار زئی کی خصوصی شرکت ہوئی، اور انہوں نے فیتہ کاٹ کر فری آئی کیمپ کا افتتاح بھی کردیا۔جبکہ میزبانی کے فرائض وڈیرہ مولا بخش جاموٹ نے سرانجام دی ۔ اس کے علاوہ ڈی ایچ او خضدار ڈاکٹر نسیم لانگو بھی ان کے ہمراہ تھے۔ مہمان آفیسرز نے کیمپ کا دورہ کیا، مریضوں سے بات چیت کی اور طبی عملے کی کاوشوں کو سراہا۔ یہ کیمپ گزشتہ چار سالوں سے تواتر کے ساتھ جاری ہے، جو خدمت انسانیت کی اعلیٰ مثال ہے۔ یہ خدمت کا ورثہ مرحوم وڈیرہ محمد فاروق جاموٹ کا ہے، جنہوں نے اس کا آغاز کیا اور اب یہ خدمت آگے بڑھ رہی ہے۔ یہاں کے مریضوں کو بڑے شہروں جیسے کراچی یا کوئٹہ جانے کی ضرورت نہیں پڑتی، کیونکہ ان کا علاج خضدار کرخ میں ہی دستیاب ہے، جو مقامی سطح پر طبی سہولیات کی دستیابی کو یقینی بناتا ہے۔ڈپٹی کمشنر خضدار عبدالرزاق ساسولی نے بات چیت کرتے ہوئے کہاکہ یہ فری آئی میڈیکل کیمپ دور دراز علاقوں میں صحت کی سہولیات کی کمی کو پورا کرنے کا ایک شاندار اقدام ہے۔ وڈیرہ محمد فاروق جاموٹ کی خدمت کے تسلسل کو برقرار رکھنا احسن اقدام اور علاقے کے عوام کے ساتھ اہم تعاون ہے کرخ میں منعقد ہونے والا آئی کیمپ نہ صرف مریضوں کو مفت علاج فراہم کرتا ہے بلکہ علاقے کی مجموعی صحت کی سطح کو بہتر بنانے میں معاون ہے۔ حکومت ایسے اقدامات کی مکمل حمایت کرتی ہے، کیونکہ یہ عوامی فلاح و بہبود کا براہ راست ذریعہ ہیں۔ میں نے کیمپ کا دورہ کرتے ہوئے دیکھا کہ طبی عملہ انتہائی پیشہ ورانہ انداز میں کام کر رہا ہے، اور مریضوں کی تعداد اس کی کامیابی کی عکاس ہے۔ یہ کیمپ گزشتہ چار سالوں سے جاری ہے، جو تسلسل کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔ ایسے پروگراموں سے نہ صرف آنکھوں کی بیماریوں کا خاتمہ ممکن ہے بلکہ علاقے کے لوگوں میں صحت کی آگاہی بھی بڑھتی ہے۔ ہم مزید ایسے کیمپوں کی حوصلہ افزائی کریں گے تاکہ ضلع کے ہر کونے تک طبی سہولیات پہنچیں۔ایس ایس پی خضدار شہزادہ عمر عباس بابر کا کہنا تھاکہ سب سے زیادہ خوش آئندہ بات یہ ہے کہ کرخ ایک پرامن ریجن ہے میں مہمان آئی اسپیشلسٹس اور میزبان وڈیرہ مولا بخش جاموٹ اور وڈیرہ صالح جاموٹ کی خدمات ہو سرہتاہوں کہ وہ بغیر کسی مفاد کے غریب عوام کی خدمت کررہے ہیں۔ وڈیرہ فاروق جاموٹ کی بے مثل خدمت کے تسلسل کو برقرار رکھنا عوام کو قریب لانے کا ایک بہترین ذریعہ ہے، اور پولیس ایسے فلاحی کاموں کی حفاظت اور تعاون کو یقینی بناتی ہے۔ میری نظر میں یہ کیمپ آنکھوں کی صحت کے علاوہ سماجی ہم آہنگی کو بھی فروغ دیتا ہے۔ 200 سے زیادہ آپریشنز مکمل ہونا ایک بڑی کامیابی ہے، جو طبی ٹیم کی محنت کا نتیجہ ہے۔ پولیس کا کردار صرف قانون نافذ کرنا نہیں بلکہ عوامی خدمت میں شراکت داری کرنا بھی ہے، اور ہم ایسے پروگراموں کو مزید وسعت دینے کے لیئے تیار ہیں۔ یہ تسلسل کے ساتھ چلنے والا پروگرام ضلعی کی ترقی کی علامت ہے۔فری آئی کیمپ کی میزبانی کرنے والے قبائلی و سیاسی رہنماء وڈیرہ مولا بخش جاموٹ ، مرحوم وڈیرہ محمد فاروق جاموٹ کے فرزبد ہیں ان کا کہنا تھاکہ کرخ میں فری آئی کیمپ منعقد کرنا ہمارے خاندان کی روایت ہے، جو خدمت انسانیت کو فوقیت دیتی ہے۔ کرخ جیسے دور دراز علاقے میں عوام کو آنکھوں کا مفت علاج فراہم کرنا ایک مقدس فریضہ ہے، اور یہ کیمپ اسی کا تسلسل ہے۔ ہم SPCB اور اپوا شیریں بانو ہسپتال کے شکر گزار ہیں جنہوں نے اپنی خدمات پیش کیں۔ گزشتہ چار سالوں سے یہ پروگرام جاری ہے، جو ہمارے بزرگوں کا ورثہ ہے۔ دو ہزار مریضوں کا علاج اور 200 آپریشنز مکمل ہونا اس کی افادیت کو ثابت کرتا ہے۔ یہ کیمپ نہ صرف طبی امداد دیتا ہے بلکہ لوگوں کو بڑے شہروں کے سفر سے بچاتا ہے۔ ہم اسے مزید بڑھانے کا ارادہ رکھتے ہیں تاکہ مزید لوگ مستفید ہوں۔ میں ڈپٹی کمشنر خضدار عبدالرزاق ساسولی ایس ایس پی خضدار شہزادہ عمر عباس بابر و دیگر تمام مہمانوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ وہ ہماری دعوت پر کرخ آئے ۔اس موقع پر چیف آفیسر خضدار وڈیرہ محمد صالح جاموٹ نے کہا کہ یہ فری آئی میڈیکل کیمپ ہمارے لیئے فخر کی بات ہے، کیونکہ یہ مقامی سطح پر ضرورت مند افراد کو بے حد فائدہ پہنچاتا ہے ۔ ہم بے خوشی محسوس کررہے ہیں کہ ہمارے بڑے بھائی وڈیرہ فاروق جاموٹ نے ہمیں جو سوچ اور فکر دی تھی اس کی ہم پیروی کررہے اور اس کا نیک اجر انہیں ضرور ملیگا۔ یہ آئی کیمپ عوام کی خدمت کا ایک روشن مثال ہے، اور ہماری ٹیم نے اس کی میزبانی میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ ڈاکٹرز کی ٹیم نے شاندار کام کیا، جو علاقے کی ضرورت کو پورا کر رہا ہے۔
چار سالوں سے جاری یہ سلسلہ اب ایک روایت بن چکا ہے، جو خدمت کا ورثہ ہے۔ مریضوں کو کراچی یا دیگر شہروں میں جانے کی بجائے یہیں علاج ملنا ایک بڑی سہولت ہے۔ ہماری یہی تمنا ہے کہ جب تک اللہ تعالیٰ نے توفیق دی عوام کی خدمت کرتے رہیں گے۔اس موقع پر ڈی ایس پی کرخ محمد زمان رئیس ارباب عبداللہ رند چیئرمین سٹی حاجی غلام یاسین جتک چیئرمین بھلونک غلام سرور موسیانی وائس چیئرمین آباد عبد الرسول چانڈیو سابقہ چیئرمین آباد نزیر احمد چھٹہ ، سیاسی و سماجی رہنماء سیف اللہ شاہوانی عبدالکریم اودی شاہوانی وڈیرہ محمد رفیق جاموٹ پروفیسر محمد حسن جاموٹ جمعیت علمائے اسلام کے مولانا محمد انور جاموٹ وڈیرہ ارشاد احمد جتک پیرامیڈیکل اسٹاف کے محمد خان چھٹہ عطاء اللہ شیخ محمد اشرف موسیانی محمد عارف رند و دیگر موجود تھے ۔
میزبانوں کی جانب سے مہمان آفیسرز ڈاکٹرز اور دیگر کے اعزاز میں پر تکلف ظہرانہ دیا گیا۔

خبرنامہ نمبر 373/2026
کوئٹہ۔18جنوری:پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی کمیٹی کے رکن و صوبائی اسمبلی کے ممبر حاجی علی مدد جتک اپنے حلقے سریاب کے عوام کے حقیقی خادم بن کر دن رات عوامی مسائل کے حل کے لیے سرگرم ہیں۔ آصف آباد میں واقع جتک ہاؤس میں مختلف علاقوں کے عوامی وفود اور شخصیات نے ان سے ملاقات کی، جہاں لوگوں نے اپنے مسائل، شکایات اور علاقے کے ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے تفصیل سے آگاہ کیا۔حاجی علی مدد جتک نے تمام وفود کی باتیں نہ صرف تحمل سے سنیں بلکہ موقع پر ہی متعلقہ محکموں کے افسران کو ہدایات جاری کیں تاکہ عوام کے مسائل فوری طور پر حل ہوں۔ عوامی وفود نے پانی، بجلی، سڑکوں اور دیگر بنیادی سہولیات کے حوالے سے اپنے مسائل پیش کیے جن پر حاجی علی مدد جتک نے یقین دہانی کرائی کہ وہ ہر ممکن اقدامات کریں گے تاکہ علاقے کے عوام کو ریلیف دیا جا سکے۔اس موقع پر علاقے کے لوگوں نے کہا کہ حاجی علی مدد جتک نے ہمیشہ ایک عوامی خادم کا کردار ادا کیا ہے اور بغیر کسی تفریق کے ہر شہری کے مسائل حل کرنے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حاجی علی مدد جتک کی کاوشوں سے علاقے میں ترقیاتی منصوبے شروع ہوئے ہیں اور عوام کو حقیقی ریلیف مل رہا ہے۔عوام نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حاجی علی مدد جتک جیسے نمائندے ہی علاقے کے لیے امید کی کرن ہیں جو ہر وقت عوام کے ساتھ کھڑے ہیں اور عوامی خدمت کو اپنا مشن سمجھتے ہیں۔

خبرنامہ نمبر 374/2026
گوادر:ضلعی آفیسر ایجوکیشن (فیمیل) ضلع گوادر محترمہ زرّاتون بی بی نے ضلع کے مختلف سرکاری گرلز تعلیمی اداروں کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے تعلیمی سرگرمیوں، اساتذہ کی کارکردگی اور بنیادی سہولیات کا تفصیلی جائزہ لیا۔
دورے کے دوران انہوں نے گورنمنٹ گرلز ہائر سیکنڈری اسکول سربندن کا معائنہ کیا، جہاں دسویں جماعت کی طالبات کے لیے فیکلٹی ممبران کی شاندار کاوشوں سے ایک خوبصورت تفریحی پروگرام (پکنک) کا اہتمام کیا گیا تھا۔ طالبات نہایت خوشی اور نظم و ضبط کے ساتھ پروگرام سے لطف اندوز ہو رہی تھیں۔ ضلعی آفیسر ایجوکیشن نے اساتذہ اور طالبات کے درمیان دوستانہ اور خوشگوار تعلیمی ماحول کو سراہا اور اساتذہ کی محنت کی تعریف کی۔اس کے بعد زراتون بی بی نے گورنمنٹ گرلز مڈل اسکول بلوچ محلہ کا دورہ کیا، جہاں 250 سے زائد طالبات زیرِ تعلیم ہیں۔ اسکول کی عمارت کی موجودہ حالت تشویشناک پائی گئی۔ فی الحال اسکول میں صرف دو کمروں اور چار دیواری کی تعمیر جاری ہے، جبکہ مکمل اور محفوظ عمارت کی اشد ضرورت ہے۔ اسکول میں صرف تین اساتذہ خدمات سرانجام دے رہے ہیں جو محدود وسائل کے باوجود تعلیمی سرگرمیاں احسن انداز میں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ضلعی آفیسر ایجوکیشن نے تعلیمی ماحول کو تسلی بخش قرار دیتے ہوئے مزید اساتذہ کی تعیناتی اور عمارت کی فوری تکمیل پر زور دیا۔مزید برآں، انہوں نے گورنمنٹ گرلز پرائمری اسکول حاجی قاسم محلہ گورنمنٹ گرلز پرائمری اسکول کپّری بازار اور گورنمنٹ گرلز پرائمری اسکول گراب کا بھی دورہ کیا، جہاں تدریسی عمل، حاضری، صفائی ستھرائی اور دستیاب سہولیات کا جائزہ لیا گیا۔ضلعی آفیسر ایجوکیشن (فیمیل) زرّاتون بی بی نے اس موقع پر اساتذہ کو ہدایت کی کہ وہ بچوں کی معیاری تعلیم پر خصوصی توجہ دیں اور محکمہ تعلیم کی جانب سے درپیش مسائل کے حل کے لیے متعلقہ اعلیٰ حکام کو سفارشات پیش کی جائیں گی۔

خبرنامہ نمبر 375/2026
کوئٹہ، 18 جنوری :وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ صوبے کی تاریخ میں پہلی مرتبہ محکمہ خزانہ میں سب اکاؤنٹنٹ کی آسامیوں پر مکمل طور پر پیپر لیس، ڈیجیٹل اور آن لائن نظام کے تحت شفاف بھرتیوں کا عمل کامیابی سے مکمل کیا گیا، جس کے تحت ایک ہی دن میں آن لائن ٹیسٹ، انٹرویوز، نتائج کا اعلان اور تقرر ناموں کی تقسیم عمل میں لائی گئی۔ یہ اقدام بلوچستان میں میرٹ، شفافیت اور ادارہ جاتی اصلاحات کی جانب ایک تاریخی اور فیصلہ کن پیش رفت ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے اتوار کے روز محکمہ خزانہ میں سب اکاؤنٹنٹ کی آسامیوں پر آن لائن ٹیسٹ کے ذریعے کامیاب ہونے والے امیدواروں میں تقرر نامے تقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ انہوں نے صوبائی اسمبلی میں اپنے پہلے خطاب کے دوران قوم سے یہ واضح وعدہ کیا تھا کہ بلوچستان میں سرکاری نوکریوں کی خرید و فروخت کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ کیا جائے گا، اور آج کا دن اسی وعدے کی عملی تعبیر اور تسلسل کا ایک بڑا ثبوت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب صوبے میں سفارش اور رشوت کی بنیاد پر نہیں بلکہ صرف اور صرف میرٹ پر نوجوانوں کو روزگار کے مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ ایک وقت تھا جب بلوچستان کے عوام میں یہ امید تقریباً دم توڑ چکی تھی کہ یہاں کبھی میرٹ نافذ ہو سکے گا، لیکن آج ہم نے سب کے سامنے عملی طور پر یہ ثابت کر دیا ہے کہ اگر نیت مضبوط اور نظام شفاف ہو تو میرٹ کو یقینی بنایا جا سکتا ہے ا نہوں نے کہا کہ آج بلوچستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایسا منظر دیکھنے میں آیا ہے کہ ایک عام مزدور کا بیٹا، ایک استاد کا بیٹا اور ایک وزیر کا بیٹا ایک ہی امتحانی نظام، ایک جیسی نشستوں اور یکساں ماحول میں امتحان دے رہے ہیں اور کامیابی کا واحد معیار میرٹ ہے۔ یہ حقیقی مساوات اور انصاف پر مبنی نظام کی واضح مثال ہے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ حکومت آئندہ دنوں میں ڈویژنل، ضلعی اور تحصیل سطح پر بھی اسی طرز کا جدید اور شفاف ڈیجیٹل میکانزم متعارف کرائے گی تاکہ میرٹ ہر سطح پر نظر آئے اور عوام کا اعتماد مستقل بنیادوں پر بحال ہو انہوں نے کہا کہ اس وقت کمیشن میں ہزاروں آسامیاں طویل عرصے سے زیر التواء ہیں، جس کے باعث صوبائی ادارے شدید افرادی وسائل کی کمی کا شکار ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ پبلک سروس کمیشن کی تشکیل نو، اصلاحات اور مکمل ڈیجیٹلائزیشن کی جائے گی تاکہ اسے ایک فعال، شفاف اور پاکستان کا بہترین پبلک سروس کمیشن ادارہ بنایا جا سکے میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ حکومت نے بلوچستان میں حقیقی اور دیرپا تبدیلی لانے کا پختہ عزم کر رکھا ہے اور آج کا دن اسی تبدیلی کا عملی اور نمایاں مظہر ہے۔ انہوں نے کامیاب امیدواروں کو دلی مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ یہ تمام نوجوان خالصتاً میرٹ کی بنیاد پر گریڈ 14 میں بھرتی ہو رہے ہیں، جو ان کی محنت، قابلیت اور شفاف نظام پر عوامی اعتماد کا ثبوت ہے وزیر اعلیٰ بلوچستان نے چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان، سیکرٹری خزانہ عمران زرکون، پرنسپل سیکرٹری بابر خان، محکمہ خزانہ کی پوری ٹیم اور بیوٹمز کی ٹیم کو اس تاریخی اور شفاف بھرتی کے عمل کو کامیاب بنانے پر خصوصی طور پر سراہا اور مبارکباد پیش کی تقریب کے اختتام پر وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کامیاب امیدواروں میں تقرر نامے تقسیم کیے اس موقع پر صوبائی وزیر سردار کوہیار خان ڈومکی، رکن صوبائی اسمبلی حاجی علی مدد جتک، چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان، سیکرٹری خزانہ عمران زرکون، پرنسپل سیکرٹری بابر خان اور دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔

خبرنامہ نمبر 376/2026
کوئٹہ، 18 جنوری:وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے محکمہ خزانہ میں سب اکاؤنٹنٹ کی آسامیوں کے لیے آن لائن ٹیسٹ کے ذریعے کامیاب ہونے والے امیدواروں سے براہِ راست ٹیلی فونک رابطہ کیا اور انہیں کامیابی پر مبارکباد پیش کی۔ وزیر اعلیٰ نے گفتگو کے دوران امیدواروں سے ٹیسٹنگ کے عمل اور اس کی شفافیت سے متعلق دریافت کیا۔کامیاب امیدواروں نے وزیر اعلیٰ بلوچستان کو آگاہ کیا کہ آن لائن ٹیسٹ اور بھرتی کا پورا عمل مکمل طور پر شفاف، منصفانہ اور میرٹ پر مبنی تھا امیدواروں نے مسرت اور اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں یقین نہیں آرہا کہ انہیں بغیر کسی سفارش اور رشوت کے سرکاری نوکری ملی ہے امیدواروں نے اس شفاف نظام پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ پہلی مرتبہ انہیں یہ احساس ہوا ہے کہ بلوچستان میں بھی خالصتاً میرٹ کی بنیاد پر روزگار کے مواقع فراہم کیے جا سکتے ہیں وزیر اعلیٰ بلوچستان نے اس موقع پر کہا کہ حکومت کا عزم ہے کہ صوبے میں سرکاری ملازمتوں کے نظام کو مکمل طور پر شفاف بنایا جائے اور سفارش و رشوت کے کلچر کا خاتمہ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کا اعتماد بحال کرنا اور انہیں باعزت روزگار فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔

خبرنامہ نمبر 377/2026
کوئٹہ، 18 جنوری : وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے محکمہ خزانہ میں سب اکاؤنٹنٹ کی آسامیوں پر آن لائن ٹیسٹ کے کامیاب انعقاد پر صوبائی وزیر خزانہ میر شعیب نوشیروانی، چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان، سیکرٹری خزانہ عمران زرکون اور متعلقہ ٹیم کو مبارکباد پیش کی ہے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ یہ اقدام صوبے میں شفاف، میرٹ پر مبنی اور ڈیجیٹل بھرتی نظام کے نفاذ کی اہم مثال ہے، جس سے نوجوانوں کا اعتماد بحال ہوگا اور سرکاری اداروں کی کارکردگی بہتر بنے گی۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ آئندہ بھی تمام بھرتیاں جدید ٹیکنالوجی اور خالص میرٹ کی بنیاد پر کی جائیں گی۔

خبرنامہ نمبر 378/2026
کوئٹہ، 18 جنوری :وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کراچی کے علاقے گل پلازہ میں شاپنگ سینٹر میں آگ لگنے کے افسوسناک واقعے پر گہرے رنج و غم اور دلی افسوس کا اظہار کیا ہے وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ شاپنگ سینٹر میں آتشزدگی کے نتیجے میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع اور بڑے پیمانے پر ہونے والے مالی نقصان نے دل کو بے حد افسردہ کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک المناک سانحہ ہے جس نے نہ صرف متاثرہ خاندانوں بلکہ پوری قوم کو غمزدہ کر دیا ہے میر سرفراز بگٹی نے واقعے میں جاں بحق ہونے والے افراد کے لواحقین سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحومین کو جوارِ رحمت میں جگہ عطا فرمائے اور سوگوار خاندانوں کو صبرِ جمیل عطا کرے۔ انہوں نے زخمیوں کی جلد اور مکمل صحت یابی کے لیے بھی دعا کی وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ وہ شاپنگ سینٹر میں آگ لگنے کے باعث ہونے والے جانی و مالی نقصان پر متاثرہ خاندانوں، تاجروں اور تمام متعلقہ افراد کے غم میں برابر کے شریک ہیں اور اس دکھ کی گھڑی میں ان سے مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں۔

Leave feedback about this

  • Quality
  • Price
  • Service

PROS

+
Add Field

CONS

+
Add Field
Choose Image
Choose Video