خبرنامہ نمبر1430/2026
بارکھان 18فروری ۔ صوبائی وزیر برائے پبلک ہیلتھ انجینئرنگ بلوچستان سردار عبدالرحمن خان کھیتران نے کہا ہے کہ بارکھان کی خواتین کو معاشی طور پر خودمختار بنانے اور انہیں بااختیار بنانے کے لیے ہر ممکن عملی اقدامات کر رہی ہے۔ خواتین کا تعلیم کے ساتھ ساتھ مختلف شعبہ ہائے زندگی میں ہنر مند ہونا ایک مضبوط اور ترقی یافتہ معاشرے کی بنیادی ضمانت ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے بارکھان میں ایم بیسی پیپلز ری پبلک آف چائنا کے تعاون سے خواتین کے لیے کچن گارڈننگ پروگرام کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔صوبائی وزیر نے کہا کہ کچن گارڈننگ نہ صرف گھریلو سطح پر غذائی ضروریات پوری کرنے میں معاون ثابت ہوگی بلکہ خواتین کو معاشی استحکام کی جانب بھی گامزن کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں غذائی خودکفالت وقت کی اہم ضرورت ہے، اور اس طرح کےمنصوبے دیہی معیشت کو مضبوط بنانے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔تقریب کے دوران صوبائی وزیر کے خصوصی تعاون اور سردارزادہ اورنگزیب کھیتران کی جانب سے فراہم کردہ وسائل کے تحت علاقے کی خواتین میں 200 کچن گارڈننگ کٹس تقسیم کی گئیں۔ ان کٹس میں مختلف اقسام کے معیاری سبزیوں کے بیج اور ضروری زرعی اوزار شامل تھے تاکہ خواتین اپنے گھروں میں باقاعدہ سبزیوں کی کاشت کا آغاز کر سکیں۔سردار عبدالرحمن کھیتران نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ بارکھان میں خواتین کی فلاح و بہبود، تعلیم اور ہنر مندی کے فروغ کے لیے ایسے عملی اقدامات کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا تاکہ انہیں معاشی اور سماجی طور پر بااختیار بنایا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر1431/2026
کوئٹہ 18فروری ۔ بلوچستان ریونیو اتھارٹی (بی آر اے) نے فضائی ٹکٹوں کے اجراء سے متعلق خدمات فراہم کرنے والے ٹریول ایجنٹس کو ہدایت جاری کی ہے کہ وہ فوری طور پر بی آر اے کے ساتھ اپنی رجسٹریشن مکمل کریں اور ہر ٹیکس پیریڈ کی ریٹرن مقررہ وقت کے اندر جمع کرائیں تاکہ قانونی تقاضوں کی مکمل پاسداری یقینی بنائی جا سکے۔بی آر اے کے مطابق بلوچستان سیلز ٹیکس آن سروسز (BSTS) ایکٹ 2015 کے تیسرے شیڈول، ترمیم شدہ فنانس ایکٹ 2025 کے تحت ٹریول ایجنٹس کی جانب فضائی ٹکٹوں کے اجراءپر فی ٹکٹ 100 روپے ٹیکس مقرر ہے۔ تمام متعلقہ سروس پرووائیڈرز پر لازم ہے کہ وہ مقررہ شرح کے مطابق ٹیکس کی ادائیگی یقینی بنائیں اور بروقت اپنی ٹیکس ریٹرنز جمع کرائیں۔اتھارٹی نے خبردار کیا ہے کہ غیر رجسٹرڈ رہنے، ٹیکس واجبات ادا نہ کرنے یا بروقت ریٹرن جمع نہ کرانے کی صورت میں بی ایس ٹی ایس ایکٹ 2015 کے تحت جرمانے اور قانونی کارروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔ بی آر اے نے ٹریول ایجنٹس کو ہدایت کی ہے کہ وہ ٹیکس قوانین کی مکمل پیروی کریں تاکہ جرمانوں اور قانونی پیچیدگیوں سے بچا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر1432/2026
موسی’ خیل 18 فروری ۔ وزیراعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے تعلیمی ایمرجنسی وڑن کے تحت عملدرآمد کرتے ہوئے اسسٹنٹ کنٹرولر لورالاءبورڈ عبدالسلام ترین نے ضلع موسی’ خیل کی تحصیل درگ میں قائم میٹرک کے سالانہ مراکز کا معائنہ کیا جن میں گورنمنٹ بوائز ہائی اسکول درگ۔گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول درگ اور گورنمنٹ بوائز ہائی اسکول کرکنہ شامل ہیں معائنے کے دوران اسسٹنٹ کنٹرولر نے تمام مراکز کا تفصیلی معائنہ کرتے ہوئے تمام امتحانی عملے کو ہدایات دیتے ہوئے کہا کہ امتحانی عمل کے دوران کسی بھی کوتاہی کی کوءگنجائش نہیں خاص کر نقل کرتے ہوئے اگر کوءامیدوار پکڑا گیا تو امیدوار اور امتحانی عملے کے خلاف سخت کاروائی عمل میں لائی جائے گی نقل ایک ناسور ہے اور اس ناسور کا جڑ سے خاتمہ حکومت بلوچستان کے وژن میں شامل ہے اس ناسور کا خاتمہ کرکے ایک روشن مستقبل کی بنیاد کا تہیہ کر رکھا ہے بلوچستان میں علم کی روشنی پھیلا کر بلوچستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا جاسکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر1433/2026
خضدار 18 فروری ۔ ڈپٹی کمشنر خضدار عبدالرزاق ساسولی کی خصوصی ہدایت پر عوامی صحت کے تحفظ کے لیے اسسٹنٹ کمشنر وڈھ اکبر علی مزار زئی نے تحصیل ہیڈ کوارٹر اسپتال وڈھ کا اچانک دورہ کیا دورے کے دوران انہوں نے ملازمین کا حاضری رجسٹر چیک کیے اس دوران تحصیل ہیڈ کوارٹر اسپتال کے ایم ایس ڈاکٹر عبدالروف مینگل نے اسسٹنٹ کمشنر کو تفصیلی بریفنگ دی اور اسپتال کے مسائل کے بارے میں اگاہ کیا اسسٹنٹ کمشنر وڈھ اکبر علی مزارئی نے اسپتال کو درپیش مسائل کا جائزہ لیا انہوں نے کہاکہ اسپتال کے مسائل اور خالی اسامیوں کے بارے میں حکام بالا کو آگاہ کیا جائے گا اور غیر حاضر ملازمین کی تنخواہوں سے کٹوتی کی جائے گی ڈاکٹرز اور مددگار اسٹاف کی غیر حاضری کو ہرگز برداشت نہیں کریں گے انہوں نے کہا کہ ہسپتال میں صفائی کے نظام کو مزید بہتر بنایا جائے دور دراز علاقوں سے آئے ہوئے مریضوں کا بروقت علاج کیا جائے ان کی داد رسی کی جائے تاکہ مریضوں کو مشکلات نہ ہو۔انہوں نے کہا کہ ہسپتال میں طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے بھرپوراقدامات کیے جائیں گے انہون نے کہا کہ ڈاکٹرز قوم کے مسیحا ہے وہ اپنے قومی فریضہ کوایمانداری سے ادا کریں اور مریضوں کی بروقت علاج کریں تاکہ مریضوں کو کسی بھی قسم کی مشکلات کا سامنا نہ ہو انہوں نے کہا کہ وزیراعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے ویڑن کے مطابق محکمہ صحت کو جدید خطوط پر استوار کریں گے۔اور صحت مند معاشرے کے قیام کے لیے بھرپور اقدامات کریں گے۔
خبرنامہ نمبر1434/2026
کوئٹہ 18 فروری۔ ڈپٹی کمشنر کوئٹہ و چیئرمین ڈسٹرکٹ پرائس کنٹرول کمیٹی نے رمضان المبارک 2026ء کے دوران عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے ضلع کوئٹہ اور کینٹونمنٹ حدود میں مختلف اشیائے خور و نوش کے سرکاری نرخ مقرر کر دیے ہیں، جو فوری طور پر نافذ العمل ہوں گے اور آئندہ احکامات تک برقرار رہیں گے اس سلسلے میں جلیبی فی کلو 550 روپے،آلو پکوڑا فی کلو 530 روپے،مکس پکوڑا فی کلو 530 روپے,سموسہ آلو 30 روپے فی عدد،سموسہ قیمہ 10 روپے فی عدد،چکن کچوری بڑی 120 روپے فی عدد،چکن کچوری چھوٹی 100 روپے فی عدد،ہوٹل پراٹھا 40 روپے فی عدد،دودھ والی چائے (200 ملی لیٹر کپ) 70 روپے، پھینی پیکٹ (250 گرام) 180 روپے،فروٹ چاٹ (پورٹیبل) 170 روپے،چنا چاٹ 120 روپے،دہی بھلے 150 روپے،کھجور درجہ اول (کالی) فی کلو 700 روپےکھجور درجہ دوئم فی کلو 450 روپے،کھجور درجہ سوئم فی کلو 350 روپے،بیسن فی کلو 250 سے 300 روپے،بلیک ٹی(قہوہ) (200 ملی لیٹر کپ)40 روپے،گرین ٹی(سبز چائے) (200 ملی لیٹر کپ) 40 روپے مقرر کردیا گیا۔ضلعی انتظامیہ نے ہدایت کی ہے کہ تمام دکاندار مقررہ نرخ نمایاں جگہ پر آویزاں کریں کسی بھی دکاندار کو مقررہ قیمت سے زیادہ وصولی یا کم وزن دینے کی اجازت نہیں ہوگی خلاف ورزی کرنے والوں کیخلاف پرائس کنٹرول اور ذخیرہ اندوزی قوانین کے تحت کارروائی عمل میں لائی جائے گی انتظامیہ نے عوام سے بھی اپیل کی ہے کہ گرانفروشی یا کم وزن کی صورت میں متعلقہ حکام کو اطلاع دیں تاکہ فوری کارروائی ممکن ہو سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر1435/2026
کوئٹہ 18فروری۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی نے اسسٹنٹ کمشنر سٹی کوئٹہ عبداللہ بن عارف کے ہمراہ رمضان سستا بازار کے انعقاد کے حوالے سے ایوب اسٹیڈیم کا دورہ کیا۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر کوئٹہ نے مجوزہ جگہ، انتظامات، اسٹالز کی ترتیب، سکیورٹی، پارکنگ اور عوامی سہولیات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ افسران کو ہدایت جاری کی کہ رمضان المبارک کے دوران عوام کو معیاری اور سستی اشیائے خوردونوش کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے کوئٹہ کے مختلف علاقوں میں رمضان سستا بازاروں کا انعقاد کیا جائے گا تاکہ شہریوں کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔انہوں نے مزید ہدایت کی کہ رمضان المبارک میں اشیائ خوردونوش کی قیمتوں کی سخت نگرانی، صفائی ستھرائی کے موثر انتظامات، اور سکیورٹی کے فول پروف اقدامات یقینی بنائے جائیں تاکہ شہریوں کو بہترین سہولیات میسر آسکیں۔ ضلعی انتظامیہ رمضان المبارک میں عوام کو ہر ممکن سہولت فراہم کرنے کے لیے متحرک ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر1436/2026
کوئٹہ18 فروری : ڈپٹی کمشنر و چیئرمین ڈسٹرکٹ پرائس کنٹرول کمیٹی نے ضلع کوئٹہ اور کنٹونمنٹ علاقوں میں اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کے تعین کا نیا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے، جس کا اطلاق فوری طور پر ہوگا اور آئندہ احکامات تک نافذ العمل رہے گا۔نوٹیفکیشن کے مطابق شہریوں کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے مختلف اشیائے خوردونوش کی سرکاری قیمتیں مقرر کر دی گئی ہیں جن پر عملدرآمد تمام دکانداروں کے لیے لازمی ہوگا۔جاری کردہ نرخ نامے کے مطابق اہم اشیائ کی قیمتیں درج ذیل ہیں ڈبل اسٹیم چاول 320 روپے فی کلو،باسمتی سپر چاول 300 روپے فی کلو،سیلہ چاول270 روپے فی کلو جبکہ پرانا سیلہ 320 روپے فی کلو،ٹوٹا چاول 150 روپے فی کلو،دال چنا 270 روپے فی کلو،دال مونگ 350 روپے فی کلو،دال ماش 450 روپے فی کلو،دال مسور 300 روپے فی کلو،بیسن(پاکستانی) 300 روپے فی کلو،بیسن(ایرانی) 250 روپے فی کلو،چینی تھوک قیمت 152 روپے فی کلو جبکہ پرچون قیمت 157 روپے فی کلو، بیکری آئٹمز میں سادہ بڑی ڈبل روٹی 170 روپے،میٹھی بڑی ڈبل روٹی 180 روپے،سادہ چھوٹی ڈبل روٹی 100 روپے،میٹھی چھوٹی ڈبل روٹی 110 روپےرسک(پاپے) 380 روپے فی کلو،بسکٹ(مکس) 800 روپے فی کلو،فروٹ کیک (450 گرام) 400 روپے،سادہ کیک (450 گرام) 350 روپے۔گوشت اور دیگر اشیاءمیں مٹن(چھوٹا گوشت) 2000 روپے فی کلو،بیف(بڑا گوشت)ہڈی والا 1050 روپے فی کلو,بغیر ہڈی والا 1200 روپے فی کلو،نان/روٹی (310 گرام) 40 روپے فی عدد (ڈبل روٹی بنانے پر پابندی) تازہ مکس دودھ( گائے،بھینس) ڈیری فارم قیمت 185 روپے فی لیٹرمکس دودھ پرچون قیمت 200 روپے فی لیٹر،خالص گائے کا دودھ ڈیری فارم قیمت 135 روپے فی لیٹر،خالص گائے کا دودھ ریٹیل قیمت 150 روپے فی لیٹر،دہی 200 روپے فی کلو اسکے علاوہ مرغی کا گوشت،انڈے،پھل اور سبزیوں کے نرخ مارکیٹ کمیٹی کی طرف سے روزانہ کی بنیاد پر طے ہونگے۔نوٹیفکیشن کے مطابق تمام دکانداروں کو قیمتوں کی فہرست نمایاں مقام پر آویزاں کرنا لازمی ہوگا جبکہ مقررہ نرخوں سے زیادہ قیمت وصول کرنے یا کم وزن دینے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی ضلعی انتظامیہ نے شہریوں سے بھی اپیل کی ہے کہ گرانفروشی کی صورت میں متعلقہ حکام کو اطلاع دیں تاکہ فوری کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر1437/2026
بارکھان.18فروری ۔ ڈپٹی کمشنر و چیئرمین ڈسٹرکٹ پرائس کنٹرول کمیٹی عبداللہ کھوسہ کی زیر صدارت ایک اہم اور تفصیلی اجلاس منعقد ہوا، جس میں انجمن تاجران کے عہدیداران، مختلف بازاروں کے نمائندگان اور دیگر دکانداروں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ اجلاس کا مقصد ماہِ صیام کے دوران اشیائے خوردونوش کی قیمتوں کو کنٹرول میں رکھنا اور عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کرنا تھا۔اجلاس میں بازاروں کی موجودہ صورتحال، اشیائے ضروریہ کی دستیابی اور قیمتوں کے تعین کے حوالے سے تفصیلی مشاورت کی گئی۔ ڈپٹی کمشنر نے واضح کیا کہ رمضان المبارک میں کسی بھی صورت گراں فروشی، ذخیرہ اندوزی اور منافع خوری برداشت نہیں کی جائے گی، اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔اس موقع پر یہ متفقہ فیصلہ کیا گیا کہ انجمن تاجران اور ضلعی انتظامیہ کے باہمی تعاون سے بارکھان شہر اور رکنی شہر میں پورے ماہِ صیام کے دوران سستا بازار قائم کیا جائے گا، جہاں آٹا، چینی، دالیں، گھی، سبزیاں، پھل اور دیگر اشیائے خوردونوش سرکاری نرخنامے کے مطابق مناسب اور کنٹرول شدہ قیمتوں پر فراہم کی جائیں گی۔ڈپٹی کمشنر عبداللہ کھوسہ نے متعلقہ افسران کو ہدایت جاری کی کہ سستا بازاروں کی باقاعدہ نگرانی، صفائی ستھرائی اور معیاری اشیاء کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے، جبکہ مارکیٹوں میں روزانہ کی بنیاد پر چیکنگ کا نظام مزید موثر بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ عوام کو ریلیف دینے کے لیے ہر ممکن اقدامات اٹھائے گی تاکہ شہریوں کو رمضان المبارک میں سہولت اور آسانی میسر آ سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر1438/2026
جعفرآباد:18فروری ۔ ڈپٹی کمشنر جعفرآباد خالد خان نے کہا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے اثرات سے نمٹنے کا واحد مو¿ثر حل شجرکاری ہے، درخت لگانے سے نہ صرف ماحولیاتی آلودگی میں کمی لائی جا سکتی ہے بلکہ موسمیاتی تبدیلیوں کے مضر اثرات سے بھی تحفظ حاصل کیا جا سکتا ہے اور صاف ستھرے ماحول کی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفس جعفرآباد میں منعقدہ شجرکاری تقریب کے موقع پر پودا لگانے کے بعد گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر عبدالمنان لا کٹی سمیت دیگر افسران اور علاقہ کے معتبرین بھی موجود تھے۔ ڈپٹی کمشنر خالد خان نے کہا کہ ضلع جعفرآباد میں شجرکاری مہم کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کے لیے بھرپور اقدامات کیے جا رہے ہیں اور ضلع بھر میں زیادہ سے زیادہ پودے لگانے کے عمل کو وسعت دی جا رہی ہے تاکہ حکومت بلوچستان کے ویڑن کے مطابق سرسبز و شاداب ماحول کو فروغ دیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری اداروں، تعلیمی اداروں اور عوامی مقامات پر شجرکاری کو ترجیحی بنیادوں پر جاری رکھا جائے گا اور ہر شہری کو چاہیے کہ وہ اس قومی مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے۔ ان کا کہنا تھا کہ درخت ہمارے ماحول کو آلودگی سے پاک کرنے، درجہ حرارت میں کمی لانے اور قدرتی آفات کے اثرات کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، اس لیے ہمیں اجتماعی ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے زیادہ سے زیادہ پودے لگانے اور ان کی نگہداشت کو یقینی بنانا ہوگا۔ ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ شجرکاری مہم کو محض رسمی کارروائی تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ لگائے گئے پودوں کی حفاظت اور آبیاری کا موثر نظام بھی بنایا جائے تاکہ یہ پودے تناور درخت بن کر ماحول کی بہتری میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ جعفرآباد کو سرسبز بنانے کے لیے ضلعی انتظامیہ ہر ممکن اقدامات جاری رکھے گی اور عوام کے تعاون سے اس مہم کو کامیاب بنایا جائے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر1439/2026
جعفرآباد:18فروری ۔ ڈسٹرکٹ سپورٹس آفیسر جعفرآباد نعمت اللہ رند نے کہا ہے کہ حکومت بلوچستان کے احکامات کی روشنی میں سیکرٹری سپورٹس اینڈ یوتھ افیئرز درا بلوچ اور ڈائریکٹر جنرل اسپورٹس ڈاکٹر یاسر خان بازئی کی ہدایات پر ضلع جعفرآباد میں کھیلوں کے شعبے کو مزید فعال اور موثر بنانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں تاکہ نوجوان نسل کو منفی سرگرمیوں سے دور رکھ کر صحت مند اور مثبت سرگرمیوں کی جانب راغب کیا جا سکے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے شہید مراد کرکٹ اسٹیڈیم جعفرآباد کے دورے کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر ڈسٹرکٹ ایسوسی ایشن جعفرآباد کے صدر محمد ندیم بہرانی بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔ ڈسٹرکٹ سپورٹس آفیسر نعمت اللہ رند نے کہا کہ ڈیرہ اللہ یار میں کھیلوں کے میدانوں کو جدید اور بہتر معیار کے مطابق اپ گریڈ کیا جا رہا ہے تاکہ نوجوانوں کو بہترین سہولیات اور معیاری مواقع فراہم کیے جا سکیں۔ انہوں نے کرکٹ گراونڈ میں گراسی سمیت جاری تعمیر و ترقی کے مختلف کاموں کا تفصیلی جائزہ لیا اور پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت بلوچستان صوبے بھر میں کھیلوں کے فروغ کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے اور جعفرآباد میں بھی اسپورٹس انفراسٹرکچر کو مضبوط بنانے کے لیے عملی اقدامات جاری ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ کھیل نوجوانوں کی جسمانی و ذہنی نشوونما میں اہم کردار ادا کرتے ہیں اور ضلعی سطح پر اسپورٹس کے فروغ سے نہ صرف ٹیلنٹ ابھر کر سامنے آئے گا بلکہ معاشرے میں مثبت سوچ کو بھی تقویت ملے گی۔ انہوں نے یقین دلایا کہ محکمہ سپورٹس بورڈ رکن صوبائی اسمبلی عبدالمجید بادینی اور ہادیہ نواز بہرانی کے خصوصی تعاون سے ضلع جعفرآباد میں کھیلوں کی سرگرمیوں کو مزید وسعت دینے کے لیے ہر ممکن اقدامات تسلسل کے ساتھ جاری رکھے جائیں گے تاکہ نوجوان نسل کو صحت مند ماحول میسر آ سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر1440/2026
نصیرآباد18فروری ۔ : کمشنر نصیرآباد ڈویژن صلاح الدین نورزئی نے بلوچستان بھر میں سے سب سے پہلے نصیرآباد ڈویژن کو ضلع جعفرآباد کےلئے پی ٹی ایس ایم سی پروگرام کے تحت ضلع کے 14 گرلز اور بوائز پرائمری اسکولوں میں اضافی کمروں کی تعمیر کے لیے متعلقہ اسکولز کے پی ٹی ایس ایم سیز میں چیکس تقسیم کر دیے۔ چیکس تقسیم کرنے کی تقریب میں ڈپٹی کمشنر جعفرآباد خالد خان،ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر عائشہ بگٹی سمیت دیگر موجود تھے۔اس موقع پر کمشنر نصیرآباد ڈویژن صلاح الدین نورزئی نے کہا کہ ضلع جعفرآباد کے 14 گرلز اور بوائز پرائمری اسکولوں کو پہلی قسط کے طور پر فی اسکول چار لاکھ پچاس ہزار روپے کے چیکس جاری کیے گئے ہیں جبکہ اس پروگرام کے تحت مزید رقوم بھی فراہم کی جائیں گی تاکہ تعمیراتی کام بروقت اور معیاری انداز میں مکمل ہو سکے۔تمام تعمیراتی کام کی مانیٹرنگ کی جائے گی انہوں نے کہا کہ ان اسکولوں میں بچوں اور بچیوں کے لیے اضافی کمروں کی اشدضرورت محسوس کی جا رہی تھی جس کے باعث تعلیمی سرگرمیاں متاثر ہو رہی تھیں، تاہم اس اقدام سے نہ صرف اس کمی کو پورا کیا جا سکے گا بلکہ طلبہ و طالبات کو بہتر تعلیمی ماحول بھی میسر آئے گا۔ کمشنر نے کہا کہ حکومت بلوچستان تعلیمی اداروں کو درپیش مسائل کے حل کے لیے ٹھوس اور دیرپا بنیادوں پر اقدامات کر رہی ہے اور تعلیم کے شعبے میں بہتری موجودہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ تمام اقدامات جہالت کی تاریکی کے خاتمے اور نئی نسل کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہیں، کیونکہ معیاری تعلیم ہی ترقی یافتہ معاشرے کی بنیاد ہے۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ جاری فنڈز کو شفافیت اور میرٹ کے اصولوں کے مطابق خرچ کیا جائے اور تعمیراتی کام کی نگرانی کو یقینی بنایا جائے تاکہ حکومت کی جانب سے فراہم کردہ وسائل کا بھرپور فائدہ بچوں اور بچیوں کو پہنچ سکے۔ تقریب کے اختتام پر اسکول سربراہان نے حکومت بلوچستان اور ضلعی انتظامیہ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ تعلیمی معیار کی بہتری کے لیے اپنی ذمہ داریاں احسن انداز میں ادا کریں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر1441/2026
نصیرآباد:18فروری ۔ڈپٹی کمشنر نصیرآباد کیپٹن (ر) ذوالفقار علی کرار کی زیر صدارت محکمہ تعلیم میں فیز فور کے تحت اساتذہ کی تعیناتی کے عمل پر سامنے آنے والے اعتراضات کے جائزے کے لیے اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں مختلف آسامیوں پر تعینات کیے گئے اساتذہ کے خلاف امیدواروں کی جانب سے دائر کردہ اعتراضات کو باقاعدہ سنا گیا اور متعلقہ ریکارڈ کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر عبدالحفیظ کھوسہ، عمرانہ انجم عبدالوحد سومرو سمیت دیگر متعلقہ افسران اور کمیٹی کے اراکین شریک تھے۔ اس موقع پر اعتراض کنندگان کو موقع فراہم کیا گیا کہ وہ کمیٹی کے روبرو اپنے تحفظات اور شواہد پیش کریں۔ ڈپٹی کمشنر کیپٹن (ر) ذوالفقار علی کرار نے فرداً فرداً تمام امیدواروں کی شکایات تحمل مزاجی سے سنیں اور جمع کرائے گئے دستاویزی ثبوتوں کا باریک بینی سے معائنہ کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ شفافیت اور میرٹ کی بالادستی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا اور کسی بھی امیدوار کے ساتھ ناانصافی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ تمام اعتراضات کا فیصلہ مکمل غیر جانبداری اور قواعد و ضوابط کے مطابق کیا جائے تاکہ حق دار کو اس کا حق مل سکے اور محکمہ تعلیم میں بھرتیوں کا عمل صاف، شفاف اور میرٹ پر مبنی رہے۔ ڈپٹی کمشنر نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ضلعی انتظامیہ عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے گی اور کسی بھی قسم کی بے ضابطگی یا اقربا پروری کی شکایات پر فوری کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ اجلاس کے اختتام پر فیصلہ کیا گیا کہ تمام کیسز کا تفصیلی جائزہ لے کر ضابطے کے مطابق سفارشات مرتب کی جائیں گی تاکہ بھرتیوں کے عمل پر عوام کا اعتماد بحال رہے اور تعلیمی نظام مزید مضبوط ہو سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر1442/2026
کوہلو 18 فروری۔ڈی سی کوہلو عظیم جان دمڑ کے زیر صدارت ضلعی انتظامیہ کی جانب سے ڈپٹی کمشنر آفس میں کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا، کھلی کچہری میں قبائلی عمائدین، سماجی شخصیات اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کرکے اپنے مسائل اور تجاویز پیش کیں۔جہاں ڈپٹی کمشنر نے شہریوں سے انتظامی امور، تعلیم، صحت، پینے کے صاف پانی، سڑکوں کی حالت، بجلی اور دیگر بنیادی سہولیات سے متعلق درپیش مسائل تفصیل سے دریافت کیے۔ شرکاء نے تعلیمی اداروں میں اساتذہ کی کمی، مراکز صحت میں ادویات کی دستیابی، عملے کی حاضری اور دیگر انتظامی امور سے متعلق اپنی آرائ اور تجاویز پیش کیے۔ اس موقع پر ڈی سی کوہلو عظیم جان دمڑ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کھلی کچہری کے انعقاد کا مقصد عوامی مسائل کو براہِ راست سننا، ان کی نشاندہی کرنا اور ان کے فوری حل کے لیے موثر اقدامات اٹھانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ تعلیم و صحت کے شعبوں میں بہتری کے لیے متحرک ہے اور متعدد عملی اقدامات کیے جاچکے ہیں، جبکہ مزید اصلاحات بھی عمل میں لائی جارہی ہیں۔ انہوں نے متعلقہ محکموں کے افسران کو ہدایت کی کہ شہریوں کی شکایات کے ازالے کے لیے بروقت کارروائی کو یقینی بنایا جائے اور پیش کردہ تجاویز پر سنجیدگی سے عملدرآمد کیا جائے۔ ڈپٹی کمشنر نے علاقائی عمائدین اور شہریوں سے اپیل کی کہ وہ تعلیمی اداروں اور مراکز صحت میں سہولیات کی فراہمی اور عملے کی حاضری کی باقاعدہ نگرانی کریں اور کسی بھی کوتاہی کی صورت میں فوری طور پر ضلعی انتظامیہ کو آگاہ کریں۔ کھلی کچہری کے اختتام پر شہریوں نے ضلعی انتظامیہ کے اس اقدام کو سراہا۔ کھلی کچہری میں اسسٹنٹ کمشنر کوہلو کیپٹن (ر) کبیر مزاری ، ڈی ایچ او ڈاکٹر شیر زمان مری ، ایم ایس ڈاکٹر اصغر مری ، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر جعفر خان زرکون ،ڈسٹرکٹ آفیسر ایجوکیشن حفیظ اللہ مری ، ڈی ایس ایم پی پی ایچ آئی مجیب کاکڑ ، ڈسٹرکٹ فاریسٹ آفیسر جان محمد کاکڑ ، ایس ڈی پی او غوث بخش ، سپرٹینڈنٹ ڈی سی آفس حاجی سیف اللہ خان مری سمیت مختلف سرکاری محکموں کے سربراہان نے شرکت کی ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر1443/2026
خضدار : 18 فروری خضدار میں خواتین کی معاشی خود انحصاری کی جانب ایک تاریخی قدم اٹھایا گیا ہے۔ شہر کے وسط میں عمر فاروق چوک اور ڈبل روڈ کے پہلی بار کاروباری اور خود انحصار خواتین کے لیئے “ویمن بزنس فورم” کا باقاعدہ قیام عمل میں لایا گیا ہے۔ یہ فورم ایک صاف ستھرا، با پردہ اور خواتین کے لیئے محفوظ ماحول میں قائم کیا گیا ہے، جہاں کاروباری خواتین اپنے کاروبار کو فروغ دے سکیں گی، نیٹ ورکنگ کر سکیں گی اور معاشی طور پر مضبوط ہو سکیں گی۔اس فورم کا باوقار افتتاحی تقریب منعقد ہوئی، جس میں ڈپٹی کمشنر خضدار عبدالرزاق ساسولی نے فیتہ کاٹ کر باقاعدہ افتتاح کیا۔ تقریب میں ویمن ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ خضدار کی مینیجر روبینہ کریم شاہوانی، انجمن تاجران خضدار کے صدر حافظ حمیداللہ مینگل، ڈپٹی میئر خضدار جمیل قادر زہری، اسپورٹس آفیسر خضدار رقیہ عبید ، لکی بلڈر عبدالطیف شاہوانی ایوب بلوچ اور دیگر معزز شخصیات سمیت کثیر تعداد میں خواتین اور شہری موجود تھے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر خضدار عبدالرزاق ساسولی نے کہا کہ خضدار کی خواتین میں بے پناہ صلاحیت اور ہنر موجود ہے۔ حکومت کی جانب سے انہیں معاشی میدان میں آگے بڑھانے کے لیئے یہ ویمن بزنس فورم ایک اہم پلیٹ فارم فراہم کرے گا۔ یہ فورم نہ صرف کاروباری مواقع پیدا کرے گا بلکہ خواتین کو بااختیار بنانے میں بھی کلیدی کردار ادا کرے گا۔ پرامن، صاف ستھرے اور با پردہ ماحول میں خواتین کی ترقی کو یقینی بنانا اہم پیش رفت ہے۔ویمن ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ کی مینیجر روبینہ کریم شاہوانی نے اپنے خطاب میں کہا کہ یہ فورم بلوچستان میں خواتین کی معاشی خودمختاری کی طرف ایک سنگ میل ہے۔ ہمارا محکمہ خواتین کی ہنرمندی، تربیت اور کاروباری مواقع فراہم کرنے کے لیئے مسلسل کوشاں ہے۔ یہ فورم خواتین کو ایک محفوظ جگہ دے گا جہاں وہ اپنے کاروبار کو وسعت دے سکیں گی، دوسری خواتین سے سیکھ سکیں گی اور اپنی مصنوعات کو مارکیٹ تک پہنچا سکیں گی۔ ہم اسے مزید موثر بنانے کے لیئے تربیتی پروگرامز اور سپورٹ سسٹم بھی متعارف کروائیں گے۔انجمن تاجران خضدار کے صدر حافظ حمیداللہ مینگل نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ تاجر برادری خواتین کے کاروبار کی ہمیشہ حمایت کرتی رہی ہے۔ یہ ویمن بزنس فورم خضدار کی معیشت کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ ہم انجمن تاجران خضدار کی جانب سے خواتین کاروباریوں کو ہر ممکن تعاون فراہم کریں گے، چاہے وہ مارکیٹ تک رسائی ہو یا دیگر سہولیات۔ یہ قدم علاقائی سطح پر کاروبار کی ترقی اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرے گا۔ڈپٹی میئر خضدار جمیل قادر زہری نے کہاکہ مقامی حکومت خواتین کی ترقی اور بااختیاری کے لیئے پرعزم ہے۔ یہ فورم شہر کی خواتین کے لیئے ایک نئی امید کی کرن ہے۔ یہ نہ صرف معاشی بلکہ سماجی تبدیلی کا بھی سبب بنے گا۔یہ ویمن بزنس فورم خضدار کی خواتین کیلئے ایک اہم پلیٹ فارم ثابت ہو گا، جو انہیں معاشی طور پر خودمختار بنانے کے ساتھ ساتھ علاقائی ترقی میں بھی حصہ ڈالے گا۔ تقریب کے شرکاء نے اس اقدام کی تعریف کی اور امید ظاہر کی کہ یہ فورم جلد ہی کامیابی کی نئی منزلیں طے کرے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر1444/2026
وڈھ18فروری ۔ اسسٹنٹ کمشنر وڈھ اکبر علی مزار زئی اور ارگا گدی نشین/ میلہ منجمنٹ کمیٹی شاہ نورانی سب تحصیل سارونہ نے فیصلہ کیا ہے کہ عوام الناس کی علم میں لایا جارہا ہے کہ ملکی وہ علاقائی امن و امان سیکیورٹی خدشات کے باعث حضرت بلاول شاہ نورانی کا سالانہ عرس/ میلہ جو کہ 7 تا 10 رمضان المبارک 2026 ہو رہا ہے کو تا حکم ثانی ملتوی کی جاتی ہے تاکہ عوام الناس کی جان ہو مال کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے اسسٹنٹ کمشنر وڈھ اکبر علی مزار ۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر1446/2026
زیارت 18فروری ۔ ڈپٹی کمشنرعبدالقدوس اچکزئی نےڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال زیارت کادورہ کیا دورے کے دوران انہوں نے ملازمین کا حاضری رجسٹر چیک کیا ہسپتال کے انفارمیشن ڈیسک،مختلف وارڈزکا معائنہ کیا،ہسپتال میں جاری بی ایس ڈی آئی سکیم فیز ون کا معائنہ کیا اور اسکیم کو بروقت اور معیار کے مطابق مکمل کرنے کی ہدایت کی ڈپٹی کمشنرڈپٹی کمشنر زیارت ذکاءاللہ نےکہاکہ غیر حاضر ملازمین کی تنخواہوں سے کٹوتی کی جائے گی ڈاکٹر اور مددگار اسٹاف کی غیر حاضری کو ہرگز برداشت نہیں کریں گے انہوں نے کہا کہ ہسپتال میں صفائی کے نظام کو مزید بہتر بنایا جائے دور دراز علاقوں سے آئے ہوئے مریضوں کا بروقت علاج کیا جائے ان کی داد رسی کی جائے تاکہ مریضوں کو مشکلات نہ ہو۔انہوں نے کہا کہ ہسپتال میں طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے بھرپوراقدامات کیے جائیں گے انہون نے کہا کہ ڈاکٹز قوم کے مسیحا ہے وہ اپنے قومی فریضہ کوایمانداری سے ادا کریں اور مریضوں کی بروقت علاج کریں تاکہ مریضوں کو کسی بھی مشکلات کا سامنا نہ ہو انہوں نے کہا محکمہ صحت کو جدید خطوط پر استوار کریں گے۔انہوں نے کہا کہ صحت مند معاشرے کے قیام کے لیے بھرپور اقدامات کریں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر1447/2026
کوئٹہ، 18 فروری ۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت صوبے میں لیویز فورس کی پولیس میں منتقلی کے بعد فورس کی استعداد کار اور کارکردگی سے متعلق ایک اہم جائزہ اجلاس بدھ کو یہاں چیف منسٹر سیکرٹریٹ میں منعقد ہوا ،اجلاس میں محکمہ داخلہ بلوچستان کے حکام نے لیویز سے پولیس میں منتقلی کے بعد ہونے والی پیش رفت، درپیش چیلنجز اور آئندہ کے لائحہ عمل پر تفصیلی بریفنگ دی۔ اجلاس کے دوران پولیس کو دورِ جدید کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے فوری اور وسیع المدتی منصوبوں کی منظوری دی گئی اور صوبے بھر میں 46 نئے سب ڈویژنل پولیس افسران (ایس ڈی پی اوز) کی تعیناتی کا فیصلہ کیا گیا تاکہ ضلعی اور سب ڈویژنل سطح پر پولیس کی نگرانی اور انتظامی استعداد کو مزید موثر بنایا جا سکے وزیر اعلیٰ بلوچستان نے ڈویژنل اور ضلعی سطح پر نئے پولیس انتظامی ڈھانچے کی فوری تشکیل اور اس کے لیے درکار تمام ضروری وسائل کی فراہمی کی ہدایت کرتے ہوئے واضح کیا کہ پولیس کی استعداد کار میں اضافے کے لیے حکومت ہر ممکن وسائل فراہم کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان پولیس کو معمول کے معاشرتی جرائم کے ساتھ ساتھ دہشت گردی جیسے سنگین چیلنجز کا بھی سامنا ہے، لہٰذا فورس کو پیشہ ورانہ مہارت، جدید تربیت اور جدید ٹیکنالوجی سے لیس کرنا ناگزیر ہے انہوں نے ہدایت کی کہ لیویز فورس کے انضمام کے بعد عوامی سہولیات کی فراہمی اور امن و امان کی بہتری کے لیے پولیس کی انتظامی حدود اور اختیارات میں درکار اصلاحات پر مو¿ثر عمل درآمد یقینی بنایا جائے وزیر اعلیٰ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ عوام کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے اور اس سلسلے میں کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی وزیر اعلیٰ نے تمام اضلاع میں پولیس کی کارکردگی کی باقاعدہ مانیٹرنگ کے لیے ایک موثر نظام وضع کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ قانون کی بالادستی اور میرٹ پر مبنی نظام کے قیام سے عوام کا اعتماد مزید مستحکم ہوگا اور امن و استحکام کو فروغ ملے گا اجلاس میں چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان، ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ حمزہ شفقات، ایڈیشنل چیف سیکرٹری ترقیات زاہد سلیم، آئی جی پولیس بلوچستان محمد طاہر خان ، سیکرٹری خزانہ لعل جان جعفر، سمیت متعلقہ حکام نے شرکت کی اجلاس میں اس امر کا اعادہ کیا گیا کہ لیویز فورس کے پولیس میں انضمام کے عمل کو موثر انداز میں مکمل کرتے ہوئے صوبے میں امن و امان کی صورتحال کو مزید بہتر بنایا جائے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر1448/2026
گوادر/اورماڑہ: 18فروری ۔ ڈپٹی کمشنر گوادر نقیب اللہ کاکڑ کی ہدایت پر اسسٹنٹ کمشنر پسنی خسرو دلاوری نے متعلقہ محکموں کے افسران کے ہمراہ اورماڑہ میں منعقدہ کھلی کچہری میں شرکت کی، جہاں شہریوں کی عوامی شکایات اور درپیش مسائل تفصیل سے سنے گئے۔کھلی کچہری کے انعقاد کا مقصد عوامی مسائل کو دستیاب وسائل اور قانونی اختیارات کے تحت ان کی دہلیز پر فوری اور موثر انداز میں حل کرنا ہے، تاکہ انتظامیہ اور عوام کے درمیان براہِ راست رابطہ مضبوط ہو سکے۔کھلی کچہری میں تحصیلدار اورماڑہ نور خان بلوچ،ڈی ایس پی کوسٹل ہائی وے پولیس ، ایس ایچ او پولیس ، محکمہ تعلیم کے نمائندگان، محکمہ? صحت کے افسران، لوکل باڈیز کے منتخب نمائندگان، چیف آفیسر میونسپل کمیٹی اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔ شہریوں نے اپنے مسائل پیش کیے جنہیں بغور سنا گیا۔اجلاس میں خصوصی طور پر ٹرالنگ کی روک تھام، منشیات جیسے ناسور لعنت کے خاتمے، تعلیمی مسائل، طبی سہولیات کی بہتری، شہر کی صفائی اور دیگر بنیادی شہری مسائل پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ علاوہ ازیں رورل ہیلتھ سینٹر (RHC) اورماڑہ میں ادویات کی قلت کا معاملہ بھی زیرِ بحث آیا، جس کے فوری حل پر زور دیا گیا۔اسسٹنٹ کمشنر پسنی خسرو دلاوری نے تحصیلدار اورماڑہ، پولیس، چیف آفیسر اور دیگر متعلقہ افسران کو ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ جو مسائل مقامی سطح پر حل طلب ہیں انہیں فوری طور پر نمٹایا جائے، ضلعی نوعیت کے معاملات سے ڈپٹی کمشنر گوادر کو آگاہ کیا جائے گا، جبکہ صوبائی سطح کے مسائل اعلیٰ حکام تک پہنچانے کے لیے باقاعدہ رپورٹ ارسال کی جائے گی تاکہ عوامی شکایات کا موثر اور دیرپا حل یقینی بنایا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر1449/2026
کوئٹہ ، 18فروری ۔انسپکٹر جنرل پولیس بلوچستان محمد طاہر نے کہا ہے کہ بلوچستان پولیس کو جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرتے ہوئے انکے استعداد کار کو بڑھانے کے لئے اے ٹی ایف میں ایک ہزار افراد کی بھرتی اور سی ٹی ڈی کو جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ کر کے پولیسنگ کے نظام میںمزید بہتر ی لارہے ہیں پولیس کے جوان دی گئی ذمہ داری عوام کے جا ن و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لئے جانیں قربان کر رہے ہیں ہم قربانی دے کر ملک بھر میں سب سے زیادہ بلوچستان پولیس کے 1120سے زائد افسران اور جوانوں نے خون کا نذرانہ دیا ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے 106ویں پاسنگ آٹ پریڈ کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر ایڈیشنل آئی جی و کمانڈنٹ بی سی اشفاق احمد ، کمانڈنٹ پی ٹی سی شہزاد اکبر، ایس ایس پی ایڈمن دوستین دشتی ، ایس ایس پی ایس سی آئی ڈبلیو ڈاکٹر سمیع ملک ، اے آئی جی ویلفیئر فریال فرید سمیت دیگر سینئر افسران بھی موجود تھے۔پولیس ٹریننگ کالج کے کمانڈنٹ شہزاد اکبر نے بتایا کہ 106ویں پاسنگ آٹ پریڈ میں فارغ ہونے والے اہلکاروں کو سات ماہ پر مشتمل بیسک ٹریننگ کورس کرایا گیاجس میں 868 اہلکاروں نے تربیت مکمل کی، جن میں 826 مرد اور 42 خواتین ریکروٹس شامل ہیں۔ تربیت مکمل کرنے والے اہلکار باقاعدہ طور پر پولیس فورس میں شامل ہو کر اپنی ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔ آئی جی پولیس بلوچستان نے کہا کہ وردی کا وقار اور صاف ذہن ایک اچھے افسر کی پہچان ہیں اپنے رویے میں بہتری لا کر پولیس اور عوام کے درمیان بہتر دوستانہ تعلقات کو مضبوط بنا ئیں گے ہم عوام کے تعاون جرائم پر قابو پائیں گے انہوں نے کہا کہ انسدادِ دہشت گردی فورس (اے ٹی ایف) میں ایک ہزار نئی بھرتیاں جبکہ کوئٹہ پولیس کو بلٹ پروف گاڑیاں ، جدید ساز و سامان فراہم کیا جائے گا اور سی ٹی ڈی کی تربیت میں جدت لائی جائے گی تاکہ دہشت گردی اور سنگین جرائم کا موثر مقابلہ کیا جا سکے۔انہوں نے بتایا کہ خضدار لیویز ٹریننگ سینٹر کو پولیس ٹریننگ سینٹر میں تبدیل کر دیا گیا ہے اور پی ٹی سی میں اس وقت لیویز کے 600 اہلکار بھی زیر تربیت ہیں۔جس سے انکے فرائض کی بجا آوری میں بہتری آئے گی پولیس کی تربیت کو خصوصی ترجیح دی جا رہی ہے کیونکہ پولیس نے ہر قسم کے جرائم، دہشت گردی اور سازشوں کا مقابلہ کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان پولیس نے اب تک 1120 قربانیاں دی ہیں اور آئندہ بھی دہشت گردوں کو منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ کوئٹہ میں عوام کے ساتھ خدمت اور تعاون کا رویہ اپنایا جائے گا اور اس سلسلے میں وفاق کی مکمل حمایت حاصل ہے۔ نئے تربیت مکمل کرنے والے پولیس اہلکاروں کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ پولیس کی نوکری اگر پیشہ ورانہ مہارت، محنت اور دیانتداری کے ساتھ کی جائے تو یہ کسی عبادت سے کم نہیں اپنے رویہ میں بہتری لا کر پولیس اور عوام کے درمیان پولیس کا بنیادی کام امن و امان برقرار رکھنا ہے اور اس مشن میں دہشتگردی اور جرائم کے چیلنجز کا ڈٹ کر مقابلہ ہماری اولین فرائض میں شامل ہے۔ 31 جنوری کے حملوں میں دہشتگردوں کو منہ توڑ جواب دیا گیا اور اس شہید ہونے والے اہلکاروں کی قربانی کامل فخر ہے۔ عوام کے ساتھ رویہ دوستانہ اور شائستہ ہونا چاہیے جبکہ دہشتگردوں اور جرائم پیشہ عناصر کے ساتھ سختی برتی جائے۔ پولیس ٹیم ورک کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا اور دہشتگردی کے خاتمے کے لیے سیکیورٹی فورسز کے ساتھ مل کر کام جاری رکھنا ہوگا۔انہوں نے مزید کہا کہINLاور UNODC کے تعاون سے پولیس ٹریننگ سینٹر میں کافی ترقی ہوئی ہے اور ٹریننگ سینٹر کو درپیش مسائل کے حل کے لیے چند دنوں میں عملی اقدامات کا آغاز کیا جائے گا۔ایک منعقدہ اجلاس میں وزیراعلیٰ کو انفراسٹرکچر کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔تاکہ پولیس کی بہتری کو یقینی بنایا جائے۔انہوں نے مزید کہا کہ ایف ٹی ایف پولیس کو مزید موثر بنایا جائے گا اور محکمہ پولیس میں جدید ٹیکنالوجی کو استعمال میں لایا جائے گا۔ پہلی بار گریڈ 17 سے 18 میں ترقی پانے والے افسران کے لیے خصوصی تربیتی کورس تیار کیا گیا ہیں۔ سربراہ نے اہلکاروں پر زور دیا کہ وہ کرپشن، جھوٹ اور اسمگلنگ سے بچیں اور دیانت، سچائی اور قانون کی پاسداری کو اپنا شعار بنائیں۔ اس موقع پر کمانڈنٹ پی ٹی سی شہزاد اکبر نے کہا کہ کالج میں اب تک تقریباً61,819 سے زائدآفیسران تربیت حاصل کر چکے ہیں اس وقت کالج سے868آفیسران پاس آٹ ہو ئے ہیں سال1963ءسے قبل بلوچستان میں پولیس کا کوئی تربیتی ادارہ موجودنہ تھا۔اسی سال قلات میں اےک رےکروٹ ٹرےننگ سینٹر قائم کےا گیا۔جبکہ سال1978میں اس کوپولیس ٹریننگ کالج کا درجہ دے کر موجودہ مقام پر منتقل کیا گیا۔بعد میں اس کو سال2003ئ میں، پولیس ٹریننگ کالج کا درجہ دیا گےا۔پولیس ٹریننگ کالج کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ اس کے سینئر تجربہ کار انسٹرکٹرز نے ماضی میں دیگر محکموں کے اہلکاروں کو بھی تربیت سے ہمکنار کیا ہے۔جس میں پاکستان ریلوے، ایف آئی اے،ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ،بلوچستان لیویزفورس کیو ڈی اے،اینٹی کرپشن،پاکستان کسٹمز، میونسپل کارپوریشن کے ادارے بھی شامل ہیں۔اس ادارہ میں روٹین کورسز کے علاوہ انوسٹی گیشن، ہیڈ محررکورس، ڈرل اور ڈرائیورز کے اسپیشل کورسز بھی کرائے جاتے ہیںاور پولیس میں ضم ہونے والے لیویز کے605 جوانوں کو بیسک / اورینٹیشن کورس ، اور موجودہ حالات کے پیش نظرمخصوص تعداد میںاے پی سی ڈرائیور ز کو اسپیشل کورس بھی کراےا جارہاہے۔اس موقع پر آئی جی پولیس نے تعمیر ہونے والے نئے 5منصوبوں جن میں ٹینس ، بیڈمنٹن ، فٹسال ، ویمن میس لائبریری ، ڈسپنسری اور جم کا افتتاح کیا جبکہ ٹریننگ کے دوران اچھی کارکردگی کا مظاہر ہ کرنے والے ریکروٹس میں شیلڈ اور نقد انعام دیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر1451/2026
موسی’ خیل 18 فروری ۔ وزیراعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے تعلیمی ایمرجنسی وژن کے تحت عملدرآمد کرتے ہوئے اسسٹنٹ کنٹرولر لورالاءبورڈ عبدالسلام ترین نے ضلع موسی’ خیل کی تحصیل درگ میں قائم میٹرک کے سالانہ مراکز کا معائنہ کیا جن میں گورنمنٹ بوائز ہائی اسکول درگ۔گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول درگ اور گورنمنٹ بوائز ہائی اسکول کرکنہ شامل ہیں معائنے کے دوران اسسٹنٹ کنٹرولر نے تمام مراکز کا تفصیلی معائنہ کرتے ہوئے تمام امتحانی عملے کو ہدایات دیتے ہوئے کہا کہ امتحانی عمل کے دوران کسی بھی کوتاہی کی کوءگنجائش نہیں خاص کر نقل کرتے ہوئے اگر کوءامیدوار پکڑا گیا تو امیدوار اور امتحانی عملے کے خلاف سخت کاروائی عمل میں لائی جائے گی نقل ایک ناسور ہے اور اس ناسور کا جڑ سے خاتمہ حکومت بلوچستان کے وڑن میں شامل ہے اس ناسور کا خاتمہ کرکے ایک روشن مستقبل کی بنیاد کا تہیہ کر رکھا ہے بلوچستان میں علم کی روشنی پھیلا کر بلوچستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا ۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر1447/2026
کوئٹہ، 18 فروری ۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت صوبے میں لیویز فورس کی پولیس میں منتقلی کے بعد فورس کی استعداد کار اور کارکردگی سے متعلق ایک اہم جائزہ اجلاس بدھ کو یہاں چیف منسٹر سیکرٹریٹ میں منعقد ہوا ،اجلاس میں محکمہ داخلہ بلوچستان کے حکام نے لیویز سے پولیس میں منتقلی کے بعد ہونے والی پیش رفت، درپیش چیلنجز اور آئندہ کے لائحہ عمل پر تفصیلی بریفنگ دی۔ اجلاس کے دوران پولیس کو دورِ جدید کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے فوری اور وسیع المدتی منصوبوں کی منظوری دی گئی اور صوبے بھر میں 46 نئے سب ڈویژنل پولیس افسران (ایس ڈی پی اوز) کی تعیناتی کا فیصلہ کیا گیا تاکہ ضلعی اور سب ڈویژنل سطح پر پولیس کی نگرانی اور انتظامی استعداد کو مزید موثر بنایا جا سکے وزیر اعلیٰ بلوچستان نے ڈویژنل اور ضلعی سطح پر نئے پولیس انتظامی ڈھانچے کی فوری تشکیل اور اس کے لیے درکار تمام ضروری وسائل کی فراہمی کی ہدایت کرتے ہوئے واضح کیا کہ پولیس کی استعداد کار میں اضافے کے لیے حکومت ہر ممکن وسائل فراہم کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان پولیس کو معمول کے معاشرتی جرائم کے ساتھ ساتھ دہشت گردی جیسے سنگین چیلنجز کا بھی سامنا ہے، لہٰذا فورس کو پیشہ ورانہ مہارت، جدید تربیت اور جدید ٹیکنالوجی سے لیس کرنا ناگزیر ہے انہوں نے ہدایت کی کہ لیویز فورس کے انضمام کے بعد عوامی سہولیات کی فراہمی اور امن و امان کی بہتری کے لیے پولیس کی انتظامی حدود اور اختیارات میں درکار اصلاحات پر مو¿ثر عمل درآمد یقینی بنایا جائے وزیر اعلیٰ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ عوام کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے اور اس سلسلے میں کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی وزیر اعلیٰ نے تمام اضلاع میں پولیس کی کارکردگی کی باقاعدہ مانیٹرنگ کے لیے ایک موثر نظام وضع کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ قانون کی بالادستی اور میرٹ پر مبنی نظام کے قیام سے عوام کا اعتماد مزید مستحکم ہوگا اور امن و استحکام کو فروغ ملے گا اجلاس میں چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان، ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ حمزہ شفقات، ایڈیشنل چیف سیکرٹری ترقیات زاہد سلیم، آئی جی پولیس بلوچستان محمد طاہر خان ، سیکرٹری خزانہ لعل جان جعفر، سمیت متعلقہ حکام نے شرکت کی اجلاس میں اس امر کا اعادہ کیا گیا کہ لیویز فورس کے پولیس میں انضمام کے عمل کو موثر انداز میں مکمل کرتے ہوئے صوبے میں امن و امان کی صورتحال کو مزید بہتر بنایا جائے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر1452/2026
کوئٹہ، 18 فروری ۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے پوری امتِ مسلمہ کو ماہِ رمضان کی آمد پر د لی مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ رمضان المبارک رحمتوں، برکتوں اور مغفرت کا مقدس مہینہ ہے جو ہمیں صبر، تقویٰ، ایثار اور بھائی چارے کا درس دیتا ہے انہوں نے اپنے پیغام میں کہا کہ اللہ تعالیٰ اس بابرکت ماہ کے صدقے ہماری سرزمینِ بلوچستان اور پاکستان میں امن، خوشحالی اور استحکام عطا فرمائے۔ وزیر اعلیٰ نے دعا کی کہ ربِ کریم ہمارے روزے، عبادات اور دعائیں اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ہمیں دکھی انسانیت کی خدمت، باہمی اتحاد اور اتفاق و یگانگت کو فروغ دینے کی توفیق عطا کرے انہوں نے کہا کہ رمضان المبارک ہمیں باہمی رواداری، برداشت اور اجتماعی فلاح کے جذبے کو مضبوط بنانے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ اس ماہِ مقدس میں ضرورت مندوں کا خصوصی خیال رکھیں اور معاشرے میں محبت اور خیر سگالی کو فروغ دیں وزیر اعلیٰ بلوچستان نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس ماہِ مبارک کی حقیقی برکات سمیٹنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر1453/2026
کوئٹہ 18فروری ۔ چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان کی زیر صدارت صوبے میں اسٹریٹیجک پراجیکٹس پروگریس ریویو اجلاس منعقد ہوا جس میں اسٹریٹیجک پراجیکٹس میں پیشرفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر چیف سیکرٹری نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ تمام پراجیکٹس کی باقاعدہ نگرانی کی جائے اور تمام منصوبوں کی مقررہ وقت میں تکمیل کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت عوام کی فلاح و بہبود اور معاشی ترقی کے لیے پرعزم ہے، اور ان منصوبوں سے نہ صرف بنیادی سہولیات میں اضافہ ہوگا بلکہ صوبے کا مجموعی منظرنامہ بدل جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے صوبے میں بلوچستان ایجوکیشن فاونڈیشن کے ذریعے 1663نئے سکولز کھولے جس کے باعث بچوں کے اندراج میں اضافہ ہوا ہے اور 1 لاکھ سے زائد بچوں نے ان سکولوں میں داخلہ لیا ہے اور مارچ میں ان کی تعداد میں مزید اضافہ ہو جائیگا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ بی ایس ڈی آئی کے تحت صوبے میں 229 ترقیاتی منصوبے مکمل ہو چکے ہیں جبکہ 682 منصوبوں پر کام جاری ہیں اور 3000 سکولوں میں 2 اضافی کمرے بھی تعمیر کیے جائیں گے جن میں ابھی تک 4 اضلاع میں تعمیر کا کام شروع ہو چکا ہے۔ اس کے علاوہ سٹریٹیجک منصوبوں میں رواں سال پہلے مرحلے میں 8 ٹاونز کو سولر سسٹم کے ذریعے بجلی کی فراہمی، کمانڈ ایریا ڈویلپمنٹ، مختلف سکولز اور کالجز میں 1149 جگہوں پر فائبر آپٹک کے ذریعے انٹرنیٹ کی فراہمی، شہروں کے لیے سیف سٹی پروجیکٹ، میونسپل سروسز بہتر کرنے، عوام کی شکایات کے ازالے کا طریقہ کار، پینے کی صاف پانی کی فراہمی اور شہری ترقی کے منصوبوں پر خصوصی توجہ مرکوز کی جائے گی۔ چیف سیکرٹری نے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل سے عوام کی معیار زندگی بہتر ہو جائے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر1454/2026
سبی 18 فروری۔اسسٹنٹ کمشنر سبی منصور علی شاہ کی صدارت میں پرائس کنٹرول کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا جس میں انجمن تاجران کے نمائندگان سمیت کریانہ، دودھ، دہی، گوشت مرغی اور چھوٹا بڑا گوشت فروشوں سمیت دیگر متعلقہ افراد نے شرکت کی۔ اجلاس میں ماہِ رمضان المبارک کے پیش نظر اشیائے خوردونوش کی قیمتوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اسسٹنٹ کمشنر نے تاجروں کو ہدایت کی کہ رمضان کے مقدس مہینے میں عوام کو ہر ممکن ریلیف فراہم کیا جائے اور اشیاء ضروریہ کے نرخوں میں مناسب کمی کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سرکاری نرخنامے پر سختی سے عملدرآمد کیا جائے اور تمام دکانوں پر نمایاں طور پر ریٹ لسٹ آویزاں کی جائے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ذخیرہ اندوزی، منافع خوری اور سرکاری نرخنامے کی خلاف ورزی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی، خلاف ورزی کے مرتکب افراد کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ اجلاس کے شرکاء نے ضلعی انتظامیہ کے ساتھ مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی اور رمضان المبارک میں عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر1455/2026
کوئٹہ 18فروری۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کی زیرِ صدارت ڈسٹرکٹ ایجوکیشن گروپ کاایک اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل کوئٹہ محمد انور کاکڑ ،ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر (میل/فیمیل)، ڈسٹرکٹ خزانہ آفیسر اور متعلقہ ڈی ڈی اوز نے شرکت کی۔اجلاس میں ضلع بھر میں تعلیمی امور، اسکولوں کی کارکردگی، اساتذہ کی حاضری اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ ڈپٹی کمشنر نے ہدایت کی کہ تمام تعلیمی اداروں میں تدریسی عمل کو مزید موثر بنایا جائے اور طلبہ کی حاضری کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات اٹھائے جائیں۔اجلاس میں نان فنکشنل اسکولوں کو فعال (فنکشنل) بنانے کے حوالے سے بھی تفصیلی غور کیا گیا۔ ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ حکام کو ہدایت جاری کی کہ غیر فعال اسکولوں کی وجوہات کا فوری تعین کرکے مرحلہ وار انہیں فعال بنایا جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ بچوں کو معیاری تعلیم کی سہولت میسر آسکے۔ڈپٹی کمشنر نے واضح کیا کہ تعلیم کے شعبے میں بہتری ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے اور اس سلسلے میں کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔ اجلاس کے اختتام پر متعلقہ افسران کو مقررہ اہداف کے حصول کے لیے مربوط حکمت عملی اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر1456/2026
کوئٹہ 18فروری۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی نے سمنگلی روڈ اور سر پل گردونواح میں نالوں کا تفصیلی دورہ کیا۔ دورے کے دوران انہوں نے برساتی نالوں کی صفائی کے کام کا جائزہ لیا اور متعلقہ حکام کو ضروری ہدایات جاری کیں۔ڈپٹی کمشنر نے صفا کوئٹہ کو ہدایت کی کہ تمام بڑے نالوں کو فوری طور پر صاف کیا جائے تاکہ برساتی پانی کا بہاومکمل طور پر بحال رہے اور بارشوں کے باعث کسی بھی قسم کی رکاوٹ یا شہری مسائل پیدا نہ ہوں۔انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ عوام کو درپیش مشکلات کے ازالے کے لیے متحرک ہے اور شہر کے مختلف علاقوں میں نکاسی آب کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے موثر اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ متعلقہ اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ صفائی کے عمل کی مسلسل نگرانی کو یقینی بنایا جائے تاکہ شہریوں کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
Quetta, February 18, 2026:. Inspector General of Police Balochistan Muhammad Tahir has said that in order to align the Balochistan Police with the requirements of the modern era and increase their efficiency, they are recruiting 1,000 people in the ATF and equipping the CTD with modern technology to further improve the policing system. The police personnel are sacrificing their lives to ensure the safety of the lives and property of the people. We are sacrificing our lives to ensure the safety of the lives and property of the people. More than 1,120 officers and personnel of Balochistan Police have sacrificed their lives, the most in the country. He expressed these views while addressing the 106th passing out parade. Additional IG and Commandant BC Ashfaq Ahmed, Commandant PTC Shahzad Akbar, SSP Admin Dosteen Dashti, SSP SCIW Dr Sami Malik, AIG Welfare Faryal Farid and other senior officers were also present on the occasion. Commandant of Police Training College Shahzad Akbar said that the 106th passing out parade The officers underwent a seven-month basic training course, in which 868 officers completed the training, including 826 male and 42 female recruits. The officers who complete the training will formally join the police force and assume their responsibilities. IG Police Balochistan said that the dignity of the uniform and a clear mind are the hallmarks of a good officer. By improving our behaviour, we will strengthen better friendly relations between the police and the public. We will control crimes with the cooperation of the public. He said that 1,000 new recruitments will be made in the Anti-Terrorism Force (ATF), while Quetta Police will be provided with bulletproof vehicles, modern equipment and innovation will be brought in the training of CTD so that terrorism and serious crimes can be effectively combated. He said that the Khuzdar Levies Training Centre has been converted into a police training centre and 600 Levies personnel are currently undergoing training in the PTC. This will improve the performance of their duties. Special priority is being given to the training of the police because the police have to fight all kinds of crimes, terrorism and conspiracies. He said that the Balochistan Police has made 1120 sacrifices so far and terrorists will be given a befitting reply in the future as well. He reiterated the resolve that an attitude of service and cooperation will be adopted with the people in Quetta and the full support of the federation is there in this regard. Congratulating the newly trained police personnel, he said that if the job of the police is done with professionalism, hard work and honesty, it is no less than a worship. By improving our attitude, the main task of the police is to maintain peace and order between the police and the people and in this mission, confronting the challenges of terrorism and crime is one of our primary duties. In the January 31 attacks, the terrorists were given a befitting reply and the sacrifice of these martyred personnel is a matter of complete pride. The attitude towards the people should be friendly and polite, while strict action should be taken against terrorists and criminal elements. The police will have to move forward with teamwork and continue to work with the security forces to eradicate terrorism. He added that with the cooperation of INL and UNODC, considerable progress has been made in the police training center and practical steps will be initiated in a few days to resolve the problems faced by the training centre. In a meeting held, the Chief Minister was given a detailed briefing regarding the infrastructure. So that the improvement of the police is ensured. He added that the FTF police will be made more effective and modern technology will be used in the police department. For the first time, a special training course has been prepared for officers promoted from grade 17 to 18. The chief urged the officials to avoid corruption, lies and smuggling and make honesty, truthfulness and adherence to law their motto. On this occasion, Commandant PTC Shahzad Akbar said that so far more than 61,819 officers have been trained in the college. Currently, 868 officers have graduated from the college. Before 1963, there was no police training institution in Balochistan. In the same year, a Recruit Training Centre was established in Kalat. In 1978, it was given the status of Police Training College and shifted
to its present location. Later, in 2003, it was given the status of Police Training College.
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر1457/2026
کوئٹہ 18 فروری ۔ بلوچستان کے سینئر صوبائی وزیر، پیپلز پارٹی کے سینٹرل کمیٹی کے رکن و پارلیمانی لیڈر اور صوبائی وزیر آبپاشی میر محمد صادق عمرانی نے رمضان المبارک کے آمد پر تمام اہل وطن کو مبارک باد پیش کرتے ہوئے کہا کہ اللّٰہ رب العزت نے ہمیں اپنی زندگی میں ایک بار پھر ماہ صیام کے روزے رکھنے کی توفیق عطا فرمائے ہے، اس پر ہم اللّٰہ پاک کا شکر ادا کریں، میر محمد صادق عمرانی نے کہا کہ رمضان المبارک کے روزے رکھنے کا فلسفہ بھی یہی ہے کہ ہم تقویٰ حاصل کرتے ہوئے رب پاک کی خوشنودی حاصل کریں، صوبائی وزیر نے کہا کہ رمضان المبارک کے بابرکت ایام میں ہم اپنے عزیز و اقارب اور ہمسایوں کی ضرورتوں کا خاص خیال رکھیں تاکہ انہیں کسی قسم کی تنگی اور پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے، انہوں نے اس ضمن میں مزید کہا کہ سحری و افطار کے اوقات میں ہم اپنی ضرورتوں اور دیگر مسائل کے حل کے لیے بارگاہ الٰہی میں مناجات کرتے رہتے ہیں لہذا ان مبارک لمحات میں ہم اپنی دعاوں میں اپنے صوبے اور ملک کی تعمیر و ترقی اور حالات کی مزید بہتری کے لیے بھی دعاوں کا خاص اہتمام کریں تاکہ اللّٰہ پاک ہمارے ملک کو ہر قسم کی خطرات سے محفوظ فرمائے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر1458/2026
گوادر18فروری ۔ حکومتِ بلوچستان اور بلوچستان رورل سپورٹ پروگرام (BRSP) کے اشتراک سے رائز پروگرام کی پروقار افتتاحی تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ تقریب میں رکن صوبائی اسمبلی مولانا ہدایت الرحمٰن بلوچ، وائس چانسلر جامعہ گوادر پروفیسر ڈاکٹر عبدالرزاق صابر، چیئرمین ڈسٹرکٹ کونسل گوادر شے مختار، چیئرمین گوادر میونسپل کمیٹی ماجد جوہر، جامعہ گوادر کے طلبہ و اساتذہ، بلدیاتی نمائندگان، مختلف سرکاری محکموں کے افسران، میڈیا نمائندگان اور سول سوسائٹی کے افراد نے شرکت کی۔تقریب کے آغاز پر ڈسٹرکٹ پروگرام کوآرڈینیٹر زبیر احمد نے خطبہ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ رائز پروگرام غربت کے خاتمے، نوجوانوں کی استعداد کار میں اضافے اور خواتین کی بااختیاری کے لیے ایک جامع اور نتیجہ خیز ترقیاتی اقدام ہے، جس کا مقصد مقامی سطح پر پائیدار معاشی و سماجی استحکام کو فروغ دینا ہے۔رائز پروجیکٹ لیڈ قاہر آغا نے پروگرام کے اغراض و مقاصد، اسٹریٹجک فریم ورک اور مقامی تناظر میں اس کی افادیت پر تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ یہ پروگرام کمیونٹی اداروں کی تشکیل، ہنر مندی کی تربیت، باعزت روزگار کی فراہمی، سماجی ہم آہنگی کے فروغ اور شفاف عملدرآمد کے ذریعے پائیدار ترقی کو یقینی بنانے کے لیے ترتیب دیا گیا ہے۔ریجنل پروگرام مینیجر التاز سخی نے اپنے خطاب میں ضلعی سطح پر سرگرمیوں، مانیٹرنگ و ایویلیوایشن کے موثر نظام اور متوقع نتائج پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ پروگرام کو کمیونٹی کی فعال شمولیت، جوابدہی اور شفافیت کے اصولوں کے تحت نافذ کیا جائے گا تاکہ نوجوانوں اور خواتین کو حقیقی معنوں میں بااختیار بنایا جا سکے۔وائس چانسلر جامعہ گوادر پروفیسر ڈاکٹر عبدالرزاق صابر نے کہا کہ رائز پروگرام نوجوانوں اور خواتین کے لیے ایک امید افزا اقدام ہے۔ جامعہ گوادر نہ صرف تعلیمی بلکہ سماجی و معاشی ترقی کے عمل میں بھی اپنا موثر کردار ادا کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام اکیڈمیا اور کمیونٹی کے درمیان ایک مضبوط ربط قائم کرے گا، جو تحقیق، مہارت اور سماجی ذمہ داری کو یکجا کرے گا۔چیئرمین ڈسٹرکٹ کونسل گوادر شیخ مختار نے کہا کہ پائیدار ترقی کے حصول کے لیے مقامی حکومتوں، کمیونٹی اور ترقیاتی اداروں کے مابین قریبی تعاون ناگزیر ہے۔ رائز پروگرام نچلی سطح سے ترقی کے تصور کو عملی جامہ پہنا رہا ہے، جو ضلع گوادر کے لیے ایک مثبت پیش رفت ہے۔ ضلعی حکومت اس پروگرام کی کامیابی کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی۔مہمانِ خصوصی رکن صوبائی اسمبلی مولانا ہدایت الرحمٰن بلوچ نے اپنے خطاب میں کہا کہ مکران ڈویژن بالخصوص گوادر ترقی کے ایک اہم مرحلے سے گزر رہا ہے اور ضروری ہے کہ ترقی کے ثمرات عام آدمی تک پہنچیں، خصوصاً نوجوانوں اور خواتین تک۔ انہوں نے کہا کہ رائز پروگرام ایک عملی اور موثر اقدام ہے جو غربت کے خاتمے، ہنر مندی کے فروغ اور مقامی وسائل کے موثر استعمال کے ذریعے معاشی استحکام کو فروغ دے گا۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ پروگرام کو شفافیت، دیانت داری اور مکمل احتساب کے ساتھ آگے بڑھایا جائے گا اور اس سلسلے میں مکمل تعاون اور سرپرستی فراہم کی جائے گی۔تقریب کے اختتام پر معزز مہمانوں میں اعزازی شیلڈز تقسیم کی گئیں۔رائز پروگرام کا آغاز گوادر میں نوجوانوں کی صلاحیتوں کے فروغ، خواتین کی بااختیاری اور پائیدار سماجی و معاشی ترقی کی جانب ایک منظم، مربوط اور مستقبل ساز پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جو مقامی سطح پر مثبت تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہوگا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر1459/2026
ہرنائی 18فرور ی ۔ ڈپٹی کمشنر ہرنائی ارشد حسین جمالی نے ضلع ہرنائی میں شجرکاری مہم کا باقاعدہ افتتاح ایک پودا لگا کر کیا۔ اس موقع پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ہرنائی، رینج فارسٹ آفیسر، ڈپٹی رینج فارسٹ آفیسر سمیت محکمہ جنگلات کے افسران، مقامی عمائدین اور دیگر افراد بھی موجود تھے۔افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر ہرنائی نے کہا کہ درخت لگانا نہ صرف ایک قومی اور سماجی فریضہ ہے بلکہ یہ صدقہ جاریہ بھی ہے، جس کا اجر انسان کو طویل عرصے تک ملتا رہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی، ماحولیاتی آلودگی اور بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کے پیشِ نظر شجرکاری وقت کی اہم ضرورت بن چکی ہے۔ درخت ماحول کو صاف رکھنے، زمین کے کٹاو کو روکنے اور قدرتی حسن کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ انسانی زندگی کے لیے درختوں کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں، کیونکہ درخت آکسیجن فراہم کرتے ہیں جو انسان کی بقا کے لیے ناگزیر ہے۔ اس کے علاوہ درخت سایہ، پھل، لکڑی اور دیگر بے شمار فوائد فراہم کرتے ہیں، جو معیشت اور ماحول دونوں کے لیے مفید ہیں۔ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ ضلع بھر میں شجرکاری مہم کو موثر انداز میں جاری رکھا جائے اور زیادہ سے زیادہ پودے لگانے کے ساتھ ساتھ ان کی دیکھ بھال کو بھی یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے عوام الناس، خصوصاً نوجوانوں اور طلبہ پر زور دیا کہ وہ اس مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں اور اپنے علاقوں میں شجرکاری کو فروغ دیں۔تقریب کے اختتام پر شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ضلع میں سرسبز و شاداب ماحول کے قیام کے لیے بھرپور کردار ادا کیا جائے گا اور زیادہ سے زیادہ درخت لگا کر آنے والی نسلوں کو صاف اور صحت مند ماحول فراہم کیا جائے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر1460/2026
سبی 18 فروری ۔رمضان المبارک کے چاند کی رویت کے سلسلے میں مرکزی جامع مسجد سبی میں رویت ہلال کمیٹی کا ضلعی اجلاس منعقد ہوا جس میں کمیٹی کے ممبران صوفی سلیمان نقشبندی، علامہ محمد یحیٰ، مولانا عبدالرزاق سمیت ضلعی انتظامیہ کے نمائندہ اور دیگر متعلقہ افراد نے شرکت کی۔ اجلاس میں رمضان المبارک کے چاند کی رویت کے حوالے سے موصول ہونے والی شہادتوں کا جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر تین اشخاص نے چاند دیکھنے کی باقاعدہ گواہی پیش کی۔ کمیٹی نے شرعی تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے گواہوں سے تفصیلی سوالات کیے اور اطمینان کے بعد گواہی کو درست قرار دیا۔ زیلی کمیٹی نے موصول ہونے والی گواہیاں مرکزی رویت ہلال کمیٹی کو ارسال کر دیں تاکہ حتمی اعلان مرکزی سطح پر کیا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر1460/2026
ہرنائی: 18فروری ۔ ڈپٹی کمشنر ہرنائی ارشد حسین جمالی کی زیر صدارت ماہِ رمضان المبارک کے انتظامات کے سلسلے میں ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ہرنائی، ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر، اسسٹنٹ کمشنر ہرنائی، صدر انجمن تاجران، متعلقہ محکموں کے افسران اور دکانداروں نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران ماہِ رمضان میں عوام کو زیادہ سے زیادہ سہولیات کی فراہمی اور اشیائے خوردونوش کی دستیابی کو یقینی بنانے کے حوالے سے مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ زیرِ غور نکات میں درج ذیل امور شامل تھے:1۔ رمضان سستا بازار کے قیام کے انتظامات,2۔ رمضان ریٹ لسٹ کا اجراء اور اس پر سختی سے عملدرآمد,3۔ رمضان سیکیورٹی پلان کی تیاری،4۔ رمضان کنٹرول روم کے قیام اور فعالیت،اور دیگر متعلقہ معاملات ڈپٹی کمشنر ہرنائی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ماہِ رمضان کے تقدس اور احترام کو ملحوظِ خاطر رکھتے ہوئے تمام تاجر برادری گراں فروشی سے سختی سے اجتناب کرے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جو بھی فرد سرکاری نرخنامے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے گراں فروشی میں ملوث پایا گیا، اس کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت جاری کی کہ مارکیٹوں کی باقاعدہ نگرانی کو یقینی بنایا جائے اور عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے تمام تر اقدامات بروئے کار لائے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿




