خبرنامہ نمبر3123/2026
کوئٹہ، 17 مارچ۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے ایران سے پاکستانی شہریوں کی بڑے پیمانے پر وطن واپسی کو ایک منظم اور مربوط حکومتی کاوش کا نتیجہ قرار دیا ہے سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر انہوں نے بتایا کہ 28 فروری سے گزشتہ رات تک مجموعی طور پر 5615 پاکستانی شہری ایران سے ضلع گوادر اور ضلع چاغی کے راستے بحفاظت وطن واپس پہنچ چکے ہیں جبکہ 2117 ایرانی ڈرائیورز سمیت 431 دیگر غیر ملکی شہری بھی ایران سے پاکستان میں داخل ہوئے ہیں وزیر اعلیٰ بلوچستان نے ضلعی انتظامیہ گوادر اور چاغی کی بروقت اور موثر کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ آنے والے مسافروں کی بہترین انداز میں دیکھ بھال کی گئی، انہیں قیام، خوراک اور دیگر ضروری سہولیات فراہم کی گئیں اور ان کی محفوظ منتقلی کو یقینی بنایا گیا انہوں نے کہا کہ حکومت بلوچستان سرحدی کراسنگ پوائنٹس پر مسافروں کی سہولت، تحفظ اور آرام کے لیے مکمل طور پر متحرک ہے اور تمام متعلقہ ادارے باہمی ہم آہنگی کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے سرانجام دے رہے ہیں وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت سرحدی امور کے موثر انتظام، عوامی سہولیات کی فراہمی اور مسافروں کی فلاح و بہبود کو ہر صورت یقینی بنانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3124/2026
کوئٹہ، 17 مارچ ۔وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے رکن صوبائی اسمبلی ملک نعیم بازئی کے والد کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے منگل کو وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی مرحوم کے ایصالِ ثواب کے لیے فاتحہ خوانی اور لواحقین سے تعزیت کے لیے ان کی رہائش گاہ پہنچے، جہاں انہوں نے سوگوار خاندان سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا اس موقع پر وزیر اعلیٰ نے مرحوم کے درجات کی بلندی اور پسماندگان کے لیے صبرِ جمیل کی دعا کی انہوں نے کہا کہ دکھ کی اس گھڑی میں وہ سوگوار خاندان کے ساتھ برابر کے شریک ہیں وزیر اعلیٰ بلوچستان نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور اہلِ خانہ کو یہ صدمہ برداشت کرنے کا حوصلہ دے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3125/2026
ہرنائی17مارچ۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی ہدایت پر ضلع ہرنائی میں رمضان پیکج کے تحت مستحقین میں راشن کی تقسیم جاری ہے، جہاں ڈپٹی کمشنر ارشد حسین جمالی نے ایک مثالی اقدام کرتے ہوئے رات کے وقت معذور، بیواوں اور انتہائی نادار افراد کے گھروں تک خود راشن پہنچا کر خدمتِ انسانیت کی اعلیٰ مثال قائم کی۔ضلع ہرنائی میں رمضان ریلیف پیکج کے تحت انتظامیہ کی جانب سے مستحق افراد تک راشن کی فراہمی کا سلسلہ جاری ہے، تاہم ڈپٹی کمشنر ارشد حسین جمالی نے اس عمل کو مزید موثر اور انسان دوست بنانے کے لیے ایک منفرد حکمت عملی اپنائی۔ انہوں نے نہ صرف انتظامی امور کی نگرانی کی بلکہ خود رات کے اوقات میں معذور، بیواوں اور انتہائی لاچار افراد کے گھروں پر جا کر انہیں راشن فراہم کیا۔یہ اقدام ان افراد کے لیے انتہائی مددگار ثابت ہوا جو جسمانی معذوری یا معاشی مجبوری کے باعث خود جا کر راشن حاصل کرنے سے قاصر تھے۔ انتظامیہ کے اس عمل سے نہ صرف مستحقین کی بنیادی ضروریات پوری ہوئیں بلکہ ان میں احساسِ تحفظ اور اعتماد بھی پیدا ہوا کہ حکومت اور ضلعی انتظامیہ ان کے مسائل سے باخبر ہے اور ان کے حل کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔مقامی سطح پر اس اقدام کو بھرپور سراہا جا رہا ہے اور شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ اس طرح کی سرگرمیاں معاشرے میں ہمدردی، بھائی چارے اور باہمی تعاون کو فروغ دیتی ہیں۔ یہ طرزِ عمل عوام اور انتظامیہ کے درمیان فاصلے کم کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ڈپٹی کمشنر ہرنائی کا یہ اقدام ایک مثالی فلاحی طرزِ حکمرانی کی عکاسی کرتا ہے، جو دیگر اضلاع کے لیے بھی قابلِ تقلید ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت کے ساتھ ساتھ معاشرے کا ہر فرد بھی مستحق اور نادار افراد کی مدد میں اپنا کردار ادا کرے تاکہ ایک ہمدرد اور متوازن معاشرہ تشکیل دیا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3126/2026
ہرنائی17مارچ۔ ہرنائی کے ضلعی ہیڈکوارٹر ہسپتال میں نئے ایم ایس ڈاکٹر سیف اللہ خان مری کی تعیناتی کے بعد طبی سہولیات کی بہتری کا عمل تیزی سے جاری ہے، جہاں غیر فعال شعبوں کو فعال بنانے کے ساتھ جدید ڈینٹل یونٹ کی تنصیب نے عوام کو بڑی سہولت فراہم کر دی ہے۔ضلعی ہیڈکوارٹر ہسپتال ہرنائی میں نئے تعینات ہونے والے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر سیف اللہ خان مری نے چارج سنبھالتے ہی ہسپتال کی بہتری کے لیے عملی اقدامات کا آغاز کر دیا۔ انہوں نے مرحلہ وار ان شعبوں کو فعال کیا جو کافی عرصے سے غیر فعال تھے۔ابتدائی طور پر ایمبولینس سروس کو بحال کیا گیا تاکہ ایمرجنسی مریضوں کو فوری سہولت فراہم کی جا سکے۔ اس کے ساتھ خواتین کے لیے علیحدہ وارڈ مختص کرکے فعال کیا گیا جبکہ لیبر روم اور ایم سی ایچ سنٹر کو بھی دوبارہ فعال بنایا گیا۔ مزید برآں آپریشن تھیٹر کو قابلِ استعمال بنایا گیا، جس سے سرجیکل سہولیات میں نمایاں بہتری آئی ہے۔اسی تسلسل میں ایک اہم پیش رفت ڈینٹل سیکشن میں دیکھنے میں آئی، جہاں نئے ڈینٹل یونٹ کی تنصیب کے بعد یہ شعبہ مکمل طور پر فعال ہو گیا ہے۔ ماضی میں دانتوں کے علاج کی سہولت نہ ہونے کے باعث غریب عوام کو شدید مشکلات کا سامنا تھا، تاہم اب انہیں مقامی سطح پر ہی بہتر علاج میسر آ رہا ہے۔ڈاکٹر سیف اللہ خان مری نے قلیل مدت میں ہسپتال میں جدید طبی آلات کی تنصیب اور مجموعی نظام کی بہتری پر خصوصی توجہ دی ہے، جس کے باعث مریضوں کو معیاری طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔عوامی و سماجی حلقوں نے ہسپتال کی بہتری کے اقدامات کو سراہتے ہوئے صوبائی وزیر صحت بخت محمد کاکڑ، صوبائی وزیر حاجی نور محمد خان دمڑ اور دیگر حکام کا شکریہ ادا کیا۔ ماہرین کے مطابق اگر یہی رفتار برقرار رہی تو جلد ہی ہرنائی کا ضلعی ہسپتال ایک مثالی طبی مرکز بن سکتا ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3127/2026
کوئٹہ 17 مارچ۔کمشنر کوئٹہ ڈویژن شاہ زیب خان کاکڑ کی زیر صدارت عیدالفطر کے پیش نظر شہر میں صفائی ستھرائی اور سیکیورٹی انتظامات کے حوالے سے اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہر اللہ بادینی، ایڈمنسٹریٹر میٹروپولیٹن کارپوریشن کوئٹہ زاہد خان،اپریشنل مینیجر صفاءکوئٹہ محمد کامران ،ڈی ڈی ایس میٹروپولیٹن کارپوریشن محمد انور خان اور اسسٹنٹ کمشنر پولیٹیکل کوئٹہ ڈویژن محمد کلیم اللہ کے علاوہ دیگر نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران کمشنر کوئٹہ ڈویژن شاہ زیب خان کاکڑ نے صفا کوئٹہ پروجیکٹ کے نمائندگان سے شہر میں جاری صفائی کے انتظامات پر تفصیلی بریفنگ لی۔ انہوں نے استفسار کیا کہ شہر میں صفائی کی صورتحال اور ڈور ٹو ڈور کچرا کلیکشن، مشینری اور فیلڈ فورس کی موجودہ صورتحال کے بارے میں بھی جواب طلب کی۔کمشنر شاہ زیب خان کاکڑ نے اس موقع پر کہا کہ صفا کوئٹہ پروجیکٹ سے جس معیار کے نتائج کی توقع کی جا رہی تھی وہ حاصل نہیں ہوئی، لہٰذا ادارہ اپنی منصوبہ بندی اور انتظامی امور کو مزید بہتر بنائے تاکہ اس ماڈل منصوبے کے مثبت نتائج جلد سامنے آئیں اور شہر میں صفائی ستھرائی کے مسئلے میں مستقل بنیادوں پر بہتری لائی جا سکے۔اس موقع پر صفا کوئٹہ کے نمائندگان نے بتایا کہ اس وقت ان کے پاس 36 سے 38 کچرا اٹھانے والی گاڑیاں موجود ہیں جبکہ مزید 20 نئی گاڑیاں جلد ہی پروجیکٹ میں شامل کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ زون ون کے کئی علاقوں میں صفائی کے دائرہ کار کو بڑھایا جا رہا ہے جن میں ملتانی محلہ اور کاسی قلعہ سمیت دیگر علاقے شامل ہیں۔ تاہم بعض علاقوں میں ریکوری کے مسائل درپیش ہیں۔کمشنر کوئٹہ ڈویڑن نے ہدایت کی کہ صفا کوئٹہ باقاعدہ سروے کے ذریعے شہریوں تک پہنچے اور گھروں میں بیگز تقسیم کر کے ایک مناسب ماہانہ فیس مقرر کرے تاکہ ڈور ٹو ڈور کچرا کلیکشن کے نظام کو موثر بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ شہری عام طور پر 250 سے 500 روپے ماہانہ ادا کرنے کے لیے تیار ہوتے ہیں، اس لیے ریکوری کے نظام کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔اجلاس میں عیدالفطر کے موقع پر صفائی کے خصوصی انتظامات پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ صفا کوئٹہ کے نمائندگان نے بتایا کہ عید کے موقع پر شہر کی تمام مرکزی عیدگاہوں اور امام بارگاہوں میں اضافی عملہ تعینات کیا جائے گا۔ ہر مقام پر تقریباً 15 سے 20 صفائی ورکر تعینات ہوں گے جو صفائی، جھاڑو اور چونا ڈالنے کا کام انجام دیں گے، جبکہ یہ اقدامات عید سے دو روز قبل شروع کر دیے جائیں گے۔انہوں نے مزید بتایا کہ چاند رات کے موقع پر شہر کے کمرشل علاقوں میں سرگرمیاں رات گئے تک جاری رہتی ہیں جس کے باعث کچرے کے ڈھیر لگ جاتے ہیں۔ اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے صفائی عملہ وقفے وقفے سے صفائی کرتا رہے گا۔کمشنر شاہ زیب خان کاکڑ نے اجلاس کے دوران ممکنہ بارشوں کے پیش نظر بھی متعلقہ اداروں کو پیشگی اقدامات کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ بارش کے باعث بعض علاقوں میں پانی کھڑا ہونے کے مسائل سامنے آتے ہیں، جن میں زرغون روڈ، کواری روڈ، جناح روڈ اور ایئرپورٹ روڈ سمیت دیگر علاقے شامل ہیں، اس لیے متعلقہ ادارے پہلے سے اپنی تیاری مکمل رکھیں۔اس پر صفا کوئٹہ کے نمائندگان نے بتایا کہ سیوریج اور پانی کی نکاسی کے لیے مشینری اور خصوصی گاڑیاں اسٹینڈ بائی پر رکھی جائیں گی تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری کارروائی کی جا سکے۔انہوں نے مزید ہدایت کی کہ مجسٹریٹس، ضلعی انتظامیہ اور صفاء کوئٹہ کی ٹیم مشترکہ طور پر فیلڈ میں کام کریں اور صفائی ستھرائی کے انتظامات کی مسلسل نگرانی کریں۔ اس سلسلے میں ڈپٹی کمشنر کو ہدایت دی گئی کہ مجسٹریٹس کو فیلڈ میں متحرک رکھا جائے تاکہ صفائی کے عمل کو موثر بنایا جا سکے۔اجلاس کے اختتام پر کمشنر کوئٹہ ڈویژن نے کہا کہ عیدالفطر کے موقع پر سیکیورٹی انتظامات بھی یقینی بنائے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے پولیس حکام سے رابطہ کر کے اضافی اہلکاروں کی تعیناتی اور جامع سیکیورٹی پلان مرتب کیا جائے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3128/2026
کوئٹہ 17مارچ۔ ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کی زیر صدارت 13 اپریل سے شروع ہونے والی انسداد پولیو مہم کے سیکیورٹی اور دیگر انتظامات کے حوالے ڈی پیک ک ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر کوئٹہ ڈاکٹر عامل خان مندوخیل،ڈپٹی ڈی ایچ او کوئٹہ ڈاکٹر بابر شاہد،ڈویژنل کوارڈینیٹر ڈبلیو ایچ او ڈاکٹر صفدر زرغون کے علاوہ دیگر متعلقہ اداروں کے افسران موجود تھے۔اجلاس میں متعلقہ افسران کو گزشتہ پولیو مہمات میں ٹیموں کی کارکردگی اور مقررہ اہداف کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ بتایا گیا کہ آئندہ مہم کے دوران ضلع بھر میں 4 لاکھ 20 ہزار سے زائد بچوں کو پولیو سے بچاو کے قطرے پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جس کے لیے 140 0 سکیورٹی اہلکار ڈیوٹی سرانجام دیں گے تاکہ ٹیموں کو مکمل تحفظ فراہم کیا جا سکے۔ڈپٹی کمشنر کو بریفنگ میں آگاہ کیا گیا کہ مہم کے دوران فیلڈ ٹیموں کی کارکردگی کو بہتر بنانے، فیک فنگرز مارکنگ کی روک تھام اور مس شدہ بچوں کی نشاندہی پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔ اس کے علاوہ انکاری والدین تک موثر انداز میں رسائی حاصل کرنے اور انہیں قائل کرنے کے لیے بھی جامع حکمت عملی اپنائی جائے گی۔اجلاس میں ڈپٹی کمشنر مہراللہ بادینی نے ہدایت کی کہ والدین اور علماءکرام کو متحرک کیا جائے تاکہ پولیو مہم کو کامیاب بنایا جا سکے اور کوئی بھی بچہ حفاظتی قطروں سے محروم نہ رہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام ٹیمیں اپنے اپنے علاقوں میں بھرپور ذمہ داری کا مظاہرہ کریں اور ہر بچے تک رسائی کو یقینی بنائیں۔ ڈپٹی کمشنر نے مزید نے کہا کہ انسداد پولیو مہم ایک قومی فریضہ ہے اور اس میں کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ سیکیورٹی، مانیٹرنگ اور فیلڈ ٹیموں کے درمیان مکمل ہم آہنگی کو یقینی بنایا جائے تاکہ مہم کو کامیابی سے ہمکنار کیا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3129/2026
لورالائی17مارچ۔ ڈی جی ایگریکلچر ریسرچ بلو چستان ڈاکٹر محمد قاسم کاکڑ کا لورالائی کے ریسرچ فارم کا دورہ، ڈپٹی کمشنر سے ملاقات۔جرم پلازم یونٹ کے قیام سے تصدیق شدہ پودوں کی افزائش کو فروغ، بی ایس ڈی آئی اسکیم کے تحت ڈپٹی کمشنر کی دو ٹیوب ویلوں کی فراہمی کی یقین دہانی کروائی۔ ڈائریکٹر جنرل ایگریکلچر ریسرچ بلوچستان ڈاکٹر محمد قاسم کاکڑ نے ضلع لورالائی میں ایگریکلچر ریسرچ ڈائریکٹوریٹ، ریسرچ کٹوی فارم اور ایڈاپٹیو ریسرچ فارم کا دورہ کیا۔ اس موقع پر اولیو کمرشل پروجیکٹ کے انچارج وارث بلوچ، افزائش آفیسر معراج خان دومڑ، ماہرین ڈاکٹر نعمان اور عربی اعوان جبکہ فیڈرل سیڈ سرٹیفکیشن اینڈرجسٹریشن ڈیپارٹمنٹ کے نمائندے کی موجودگی کے ساتھ ایڈاپٹیو ریسرچ کے انچارج محمد نواز کی تفیصلی بریفنگ دی گئی۔دورے کے دوران جاری زرعی تحقیق، زیتون کی افزائش اور مختلف فیلڈ ٹرائلز کا جائزہ لیا گیا جبکہ مقامی زمینداروں کے ساتھ نشست میں زرعی مسائل اور جدید تحقیق کی اہمیت پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ بعد ازاں ڈپٹی کمشنر لورالائی سے ملاقات کے دوران انہیں محکمہ زراعت ریسرچ کی جاری سرگرمیوں اور کٹوی ریسرچ فارم میں جرم پلازم یونٹ (GPU) کے قیام کے منصوبے پر بریفنگ دی گئی، جس کے تحت زیتون کی اقسام کی ڈی این اے کے ذریعے تصدیق ممکن ہوگی اور مستقبل میں کاشتکاروں کو تصدیق شدہ پودے فراہم کیے جا سکیں گے۔اجلاس میں علاقے میں خشک سالی اور پانی کی کمی کے پیش نظر ریسرچ کٹوی فارم کے لیے دو ٹیوب ویلوں کی درخواست کی گئی جس پر ڈپٹی کمشنر نے بی ایس ڈی آئی اسکیم کے تحت تعاون کی یقین دہانی کرواتے ہوئے دو ٹیوب ویل فراہم کرنے کا اعلان کیا۔ انہوں نے محکمہ زراعت کی تحقیقاتی کاوشوں کو سراہتے ہوئے اسے علاقے کی زرعی ترقی کے لیے اہم قرار دیا۔ آخر میں ڈاکٹر محمد قاسم کاکڑ نے ڈپٹی کمشنر کا زراعت کے منصوبوں میں دلچسپی لینے پر شکریہ ادا کیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3130/2026
نصیرآباد17مارچ ۔ ڈپٹی کمشنر نصیرآباد کیپٹن ریٹائرڈ ذوالفقار علی کرار کی زیر صدارت سرکاری واجبات کی وصولی کے حوالے سے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، اجلاس میں اسسٹنٹ کمشنر بہادر خان کھوسہ، تحصیلدار، نائب تحصیلداروں سمیت محکمہ مال کے دیگر افسران اور عملے نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران تمام تحصیلوں کے افسران نے فرداً فرداً اپنی اپنی تحصیلوں میں سرکاری واجبات کی وصولی سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی اور اب تک کی پیش رفت سے آگاہ کیا۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر کیپٹن ریٹائرڈ ذوالفقار علی کرار نے کہا کہ سرکاری واجبات کی بروقت اور مکمل وصولی حکومت کی اولین ترجیح ہے اور اس ضمن میں کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے تمام متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کوایمانداری اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے ساتھ ادا کریں اور واجبات کی وصولی کے عمل کو مزید تیز اور موثر بنائیں تاکہ مقررہ اہداف کا حصول یقینی بنایا جا سکے۔انہوں نے مزید کہا کہ ریونیو کی وصولی سے ہی ترقیاتی منصوبوں کو پایہ تکمیل تک پہنچایا جا سکتا ہے، لہٰذا تمام افسران اپنی کارکردگی کو بہتر بناتے ہوئے فیلڈ میں متحرک کردار ادا کریں اور بقایا جات کی وصولی کے لیے ٹھوس اقدامات کریں۔ اجلاس میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ ریکارڈ کو مکمل طور پر اپ ڈیٹ رکھا جائے اور شفافیت کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔ڈپٹی کمشنر نے خبردار کیا کہ ناقص کارکردگی دکھانے والے افسران کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی جبکہ بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والوں کی حوصلہ افزائی بھی کی جائے گی۔ اجلاس کے اختتام پر سرکاری واجبات کی وصولی کے عمل کو مزید بہتر بنانے کے لیے مختلف تجاویز پر بھی غور کیا گیا اور متعلقہ افسران کو واضح ہدایات جاری کی گئیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3131/2026
نصیرآباد:17مارچ۔ ڈپٹی کمشنر نصیرآباد کیپٹن ریٹائرڈ ذوالفقار علی کرار کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ ہیلتھ کمیٹی کا اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں ضلع بھر میں صحت کی سہولیات، درپیش مسائل اور کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں اسسٹنٹ کمشنر بہادر خان کھوسہ، ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر ایاز حسین جمالی، پی پی ایچ آئی کے ڈی ایس ایم طارق شہباز کٹوہر، ایم ایس ڈاکٹر حبیب پندرانی، ڈرگ انسپیکٹر ڈاکٹر اعجاز علی اور ڈپٹی کمشنر کے پرنسپل سیکرٹری منظور شیرازی سمیت متعلقہ افسران نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران ڈی ایچ او ڈاکٹر ایاز حسین جمالی نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ضلع بھر کے ہسپتالوں اور بنیادی مراکز صحت میں عوام کو طبی سہولیات کی فراہمی کو بہتر بنانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں تاہم بعض مقامات پر عملے کی کمی، ادویات کی عدم دستیابی اور غیر حاضر ملازمین جیسے مسائل درپیش ہیں، جن کے حل کے لیے حکمت عملی ترتیب دی جا رہی ہے۔ انہوں نے غیر حاضر عملے کے خلاف کی جانے والی کارروائیوں اور جاری مانیٹرنگ سسٹم سے بھی آگاہ کیا۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر نصیرآباد کیپٹن ریٹائرڈ ذوالفقار علی کرار نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عوام کو معیاری اور بروقت طبی سہولیات کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے اور اس سلسلے میں کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی، انہوں نے واضح ہدایات جاری کیں کہ تمام طبی مراکز میں ڈاکٹرز اور عملے کی حاضری کو یقینی بنایا جائے اور غیر حاضر ملازمین کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ادویات کی دستیابی، صفائی ستھرائی اور مریضوں کے ساتھ بہتر رویہ ہر صورت یقینی بنایا جائے تاکہ عوام کو ریلیف مل سکے۔ ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ وہ فیلڈ وزٹس کو بڑھائیں اور تمام مراکز صحت کی مسلسل نگرانی کریں تاکہ کسی بھی قسم کی کوتاہی کی فوری نشاندہی اور ازالہ ممکن بنایا جا سکے۔ اجلاس میں صحت کے شعبے کی بہتری کے لیے مختلف تجاویز پر بھی غور کیا گیا اور فیصلہ کیا گیا کہ عوامی شکایات کے فوری ازالے کے لیے موثر نظام قائم کیا جائے گا تاکہ ضلع نصیرآباد میں صحت کی سہولیات کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3132/2026
کوئٹہ 17مارچ۔ صوبائی وزیر پی ایچ ای سردار عبدالرحمن کھتیران اور آئی جی پولیس کے درمیان پہلی ملاقات منعقد ہوئی، جس میں دونوں شخصیات آمنے سامنے بیٹھ کر ضلع بارکھان سمیت صوبے میں امن و امان کی مجموعی صورتحال پر تفصیلی اور جامع تبادلہ خیال کیا گیا۔ملاقات کے دوران بارکھان میں امن و امان کو درپیش چیلنجز، جرائم کی بڑھتی ہوئی وارداتوں کی روک تھام، عوام کے جان و مال کے تحفظ اور سیکیورٹی نظام کو مزید موثر بنانے کے حوالے سے مختلف امور زیر غور آئے۔ اس موقع پر قانون نافذ کرنے والے اداروں اور ضلعی انتظامیہ کے درمیان بہتر کوآرڈینیشن کو ناگزیر قرار دیا گیا تاکہ علاقے میں پائیدار امن کو یقینی بنایا جا سکےصوبائی وزیر پی ایچ ای سردار عبدالرحمن کھتیران نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بارکھان میں قیامِ امن حکومت کی اولین ترجیح ہے اور اس سلسلے میں کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے ہدایت دی کہ جرائم پیشہ عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں عمل میں لائی جائیں اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت پولیس کو درکار وسائل اور ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی تاکہ امن و امان کی صورتحال کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔آئی جی پولیس نے اس موقع پر صوبائی وزیر کو بارکھان اور دیگر علاقوں میں امن و امان کی موجودہ صورتحال، جاری سیکیورٹی اقدامات، پولیس کی کارکردگی اور درپیش چیلنجز کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ امن کے قیام کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائیاں مزید تیز کی جا رہی ہیں۔ملاقات میں اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ امن و امان کے قیام کے لیے مشترکہ حکمت عملی اپنائی جائے گی، اداروں کے درمیان قریبی رابطہ رکھا جائے گا اور بارکھان سمیت صوبے بھر میں عوام کو محفوظ ماحول فراہم کرنے کے لیے موثر اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3133/2026
کوئٹہ17 مارچ ۔گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے حکومت بلوچستان کے وزارت داخلہ کو ہدایت کی ہے کہ بلوچستان میں چینی شہریوں اور منصوبوں کی مکمل حفاظت کو یقینی بنانے کیلئے سخت اقدامات کیے جائیں۔ پورے خطے کی صورتحال کی حساسیت کو مدنظر رکھتے ہوئے موثر حفاظتی انتظامات کی نگرانی کریں اور ڈیوٹی پر تعینات اہلکاروں کو الرٹ رکھیں۔ انہوں نے کہا پاکستان اور چین کے درمیان دیرینہ دوستی پر زور دیتے ہوئے گورنر مندوخیل نے دونوں ممالک کے روشن مستقبل کو محفوظ بنانے پر زور دیا۔ قبل ازیں چینی قونصلیٹ جنرل کراچی نے گورنر بلوچستان سے ٹیلیفونک رابطہ کیا۔ انہوں نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ چین کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنانے سے بلوچستان کی ترقی کی رفتار تیز ہو سکتی ہے۔ گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے عوام پر زور دیا کہ وہ صوبے بھر میں امن و آشتی کو برقرار رکھنے کیلئے حکومتی کوششوں میں تعاون کریں کیونکہ حکومت اور عوام کی مشترکہ کاوشیں ہی بلوچستان کو دیرپا امن اور محبت کا گہوارہ بنا سکتی ہیں۔ گورنر مندوخیل نے قانون نافذ کرنے والے اداروں پر زور دیا کہ وہ ایک دوسرے کے ساتھ موثر رابطے برقرار رکھیں تاکہ صوبے میں امن و امان کی مجموعی صورتحال برقرار رہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3134/2026
قلات 17مارچ ۔زیراعلی بلوچستان کی خصوصی ہدایت پر ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن کے زیرنگرانی محکمہ تعلیم کی عارضی آسامیاں میرٹ پر بھرتی کا ایک اورسنگ میل عبورکرلیا ہے ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن قلات اورمحکمہ تعلیم کےزیرنگرانی عارضی آسامیوں پر کامیاب مردوخواتین اساتذہ میں تعیناتی آرڈرز تقسیم کرنے کی پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیاتقریب کے مہمان خاص ڈپٹی کمشنر منیراحمددرانی تھےجبکہ تقریب کی صدارت ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر نثاراحمدنورزئی نے کی دیگرمہمانوں میں ڈسٹرکٹ آفیسر ایجوکیشن ثناء اللہ ثناء ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسرعید محمدملازئی ڈسٹرکٹ اکاونٹس آفیسر عبدالفتاح تھےاسٹیج کے فرائض سماجی کارکن فضل الرحمن رحمانی نےسرانجام دیئے تقریب میں نئےتعینات ہونے والے اساتزہ کرام نےمہمان خاص ڈپٹی کمشنرمنیراحمددرانی نثاراحمدنورزئی ثناء اللہ ثناءعبالفتاح کو بلوچی دستار پہنائے تقریب میںقلات۔ وزیراعلی بلوچستان کی خصوصی ہدایت پر ضلعی انتظامیہ قلات کے زیرنگرانی میں محکمہ تعلیم نے عارضی آسامیوں پر میرٹ پر بھرتی کا ایک اورسنگ میل عبورکرلیا ہے۔ ضلعی انتظامیہ قلات اورمحکمہ تعلیم کےزیرنگرانی عارضی آسامیوں پر کامیاب مردوخواتین اساتذہ میں تعیناتی آرڈرز تقسیم کرنے کی پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیاتقریب کے مہمان خاص ڈپٹی کمشنر منیراحمددرانی تھے۔ جبکہ تقریب کی صدارت ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر نثاراحمدنورزئی نے کی دیگرمہمانوں میں ڈسٹرکٹ آفیسر ایجوکیشن ثناء اللہ ثناءڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسرعید محمدملازئی ڈسٹرکٹ اکاونٹس آفیسر عبدالفتاح تھے۔ نئے تعینات ہونے والے اساتذہ کرام نےمہمان خاص ڈپٹی کمشنرمنیراحمددرانی نثاراحمدنورزئی ثناء اللہ ثناء عبدالفتاح کو بلوچی دستار پہنائے تقریب میں ڈپٹی کمشنر منیراحمددرانی ڈسٹرکٹ آفیسر ایجوکیشن نثاراحمدنورزئی نے مہمانوں اور انتظامیہ کمیٹی ممبران کو شیلڈ پیش کئے۔ ڈپٹی کمشنر منیراحمددرانی DEO نثاراحمدنورزئی DOE ثناءاللہ ثناءDDEO عید محمدملازئی ڈسٹرکٹ اکاﺅنٹس افسر عبدالفتاح نے نئے تعینات ہونے والے مرد اور خواتین اساتذہ میں تعیناتی آرڈرز تقسیم کئے۔ تقریب سے ڈپٹی کمشنر منیراحمددرانی اورڈسٹرکٹ ایجوکیشن افسر نثاراحمدنورزئی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلی بلوچستان سرفرازبگٹی کے تعلیم دوست وڑن پرضلعی انتظامیہ اورمحکمہ تعلیم نے میرٹ کو مقدم رکھتے ہوئے باصلاحیت اساتذہ کا انتخاب کیا ہے جو قلات میں تعلیمی پسماندگی کے خاتمے اور نوجوان نسل کو بہترتعلیم کے زیورسے آراستہ کرنے میں کلیدی کرداراداکریں گے۔ ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ اساتذہ کبھی بھی ریٹائرڈ نہیں ہوتے بلکہ انکے اخلاق رویے کردار سے لوگ سیکھ جاتے ہیں حالیہ بھرتیوں سے ضلع قلات کے غیرفعال سکولز فعال ہوگئےسکولوں میں اساتذہ کی کمی کامسئلہ حل ہوگیا ہے۔ ضلع میں تعلیمی معیارکو مزید بہتربنانے کے لیئے ضلعی انتظامیہ قلات اور محکمہ تعلیم قلات تمام تروسائل بروے کار لارہی ہے۔ ڈپٹی کمشنر قلات منیر درانی نے کہا کہ نئے تعینات ہونے والے اساتذہ کرام مبارکباد کے مستحق ہیں جنھوں نےاپنی قابلیت کی بنیادپر محکمہ تعلیم کے ٹیسٹ انٹرویو میں کامیابی حاصل کی ہم امیدکرتے ہیں کہ نئے تعینات ہونے والے اساتذہ اپنے فرائض خوش اسلوبی کے ساتھ سرانجام دیکر قلات میں تعلیمی ترقی کی بنیاد رکھیں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3135/2026
سبی 17مارچ ۔ جس میں ایس ایس پی سبی شاہنواز چاچڑ، اسسٹنٹ کمشنر بختیار آباد میر بہادر خان بنگلزئی، اسسٹنٹ کمشنر یوٹی انضمام قاسم، اسسٹنٹ کمشنر یوٹی ڈاکٹر حمزہ لاشاری، سینئر اکاونٹس آفیسر میر گہرام لاشاری، ڈی ایچ او ڈاکٹر اکبر سولنگی، ڈپٹی ڈی ایچ او ڈاکٹر قادر ہارون، ایم ایس ڈی ایچ کیو ڈاکٹر جہانزیب گشکوری، ڈی ایم پی پی ایچ آئی ممتاز علی رند سمیت دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں ضلع بھر کے ہسپتالوں، آر ایچ سیز اور بنیادی مراکز صحت کی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ متعلقہ افسران نے صحت کی سہولیات، عملے کی حاضری، ادویات کی دستیابی اور عوام کو فراہم کی جانے والی سہولیات کے حوالے سے ڈپٹی کمشنر کو بریفنگ دی۔ ڈپٹی کمشنر سبی میجر(ر) الیاس کبزئی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ غیر حاضر عملے اور ڈاکٹروں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے اور ان کی تنخواہوں سے کٹوتی یقینی بنائی جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سرکاری اداروں میں غفلت اور لاپرواہی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے مزید ہدایت دی کہ تمام ہسپتالوں اور بنیادی مراکز صحت میں ادویات کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے اور کسی بھی قسم کی کمی کو فوری طور پر پورا کیا جائے تاکہ مریضوں کو علاج معالجے میں مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ ڈپٹی کمشنر نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ڈاکٹرز اور طبی عملہ اپنی ذمہ داریوں کو احسن طریقے سے انجام دیں اور مریضوں کے ساتھ بہتر رویہ اختیار کریں۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ صحت کے مراکز کی باقاعدہ مانیٹرنگ کو یقینی بنایا جائے اور سہولیات کی بہتری کے لیے فوری اقدامات اٹھائے جائیں تاکہ عوام کو معیاری طبی سہولیات میسر آ سکیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3136/2026
سبی، 17 مارچ،۔ڈپٹی کمشنر سبی میجر(ر) الیاس کبزئی کی صدارت میں ڈسٹرکٹ ایجوکیشن گروپ کمیٹی کا اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں ایس ایس پی سبی شاہنواز چاچڑ، اسسٹنٹ کمشنر بختیار آباد میر بہادر خان بنگلزئی، اسسٹنٹ کمشنر یوٹی انضمام قاسم، اسسٹنٹ کمشنر یوٹی ڈاکٹر حمزہ لاشاری، سینئر اکاو¿نٹس آفیسر میر گہرام لاشاری، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر عبدالستار لانگو، ڈسٹرکٹ مانیٹرنگ کوآرڈینیٹر آر ٹی ایس ایم مرزا اطہر بیگ، ڈی ڈی ای او میل طارق الماس، ڈی او ای فیمل اور ڈی ڈی ای او فیمل سمیت دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں ضلع بھر کے تعلیمی اداروں کی کارکردگی، اساتذہ کی حاضری اور تعلیمی معیار کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ ڈسٹرکٹ مانیٹرنگ کوآرڈینیٹر آر ٹی ایس ایم نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ تین ماہ کے دوران 282 دورے کیے گئے جن میں 39 اسکول بند پائے گئے۔ ڈپٹی کمشنر سبی میجر(ر) الیاس کبزئی نے اس صورتحال پر نارضگی کا اظہار کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ جن اساتذہ کی عدم حاضری کے باعث اسکول بند پائے گئے، ان کی تنخواہوں سے 15 دن کی کٹوتی کی جائے اور ان کے خلاف مزید محکمانہ کارروائی بھی عمل میں لائی جائے۔ اجلاس میں ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر عبدالستار لانگو نے بھی تعلیمی اداروں کی کارکردگی، درپیش مسائل اور بہتری کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ ڈپٹی کمشنر نے ہدایت دی کہ تمام تعلیمی اداروں میں اساتذہ کی حاضری یقینی بنائی جائے اور تعلیمی سرگرمیوں کو فعال رکھا جائے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بچوں کو معیاری تعلیم کی فراہمی اولین ترجیح ہے اور اس سلسلے میں کسی بھی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3137/2026
لورالائی17 مارچ ۔کمشنر لورالائی ڈویژن ولی محمد بڑیچ کے خصوصی احکامات پر چیئرمین میونسپل کمیٹی لورالائی طاہر خان ناصر اور چیف آفیسر میونسپل کمیٹی لورالائی محب اللہ بلوچ کی ہدایت پر شہر بھر میں صفائی ستھرائی کی بھرپور مہم جاری ہے۔ اس سلسلے میں میونسپل کمیٹی کا عملہ صفائی مختلف علاقوں میں متحرک ہے اور کیری ڈبہ، ٹریکٹر ٹرالی اور دیگر مشینری کے ذریعے کچرے کی بروقت تلفی کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔صفائی مہم کے دوران چیئرمین ہاوس عربسین محلہ، ندی کی صفائی کا باقاعدہ آغاز کیا گیا جبکہ سلیم داد کمپلینٹ زون امیر زمان محلہ میں کچرا اور نالیوں کی صفائی کی گئی۔ اسی طرح عجب زون نزد امیر خان اسکول دوبیگاٹ محلہ میں نالیوں کی صفائی، خالوزون لیویز لائن محلہ میں کچرے کی صفائی اور باران زون میں مرکزی عیدگاہ کے اطراف صفائی ستھرائی کا خصوصی اہتمام کیا گیا۔میونسپل کمیٹی کے عملے کی جانب سے رمضان المبارک کے پیش نظر سستا بازار میں روزانہ کی بنیاد پر صفائی ستھرائی، جراثیم کش اسپرے اور جھاڑو مہم جاری ہے تاکہ شہریوں کو صاف اور صحت مند ماحول فراہم کیا جا سکے۔ اس کے علاوہ شہر کے اہم شاہراہوں، بازاروں اور گلی محلوں میں بھی صفائی کا عمل تیزی سے جاری ہے۔چیئرمین میونسپل کمیٹی طاہر خان ناصر نے اس موقع پر کہا کہ رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں شہریوں کو صاف ستھرا ماحول فراہم کرنا ہماری اولین ترجیح ہے اور اس مقصد کے لیے صفائی عملہ دن رات اپنی ذمہ داریاں انجام دے رہا ہے۔چیف آفیسر میونسپل کمیٹی لورالائی محب اللہ بلوچ نے کہا کہ صفائی مہم کو مزید موثر بنانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں اور عملے کی کارکردگی کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ شہر کے ہر علاقے میں بروقت صفائی کو یقینی بنایا جا سکے۔انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ صفائی عملے کے ساتھ تعاون کریں اور کچرا مقررہ مقامات پر ڈال کر شہر کو صاف رکھنے میں اپنا کردار ادا کریں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3138/2026
پشین 17مارچ ۔ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج پشین جناب رحیم داد خان خلجی نے جوڈیشل کمپلیکس پشین میں پودا لگا کر شجر کاری مہم کا باقاعدہ افتتاح کردیا۔ اس موقع پر سینئر سول جج-I جناب محمد ابراہیم، سینئر سول جج-II جناب فیصل حمید، میڈی ایٹر-II جناب محمد اقبال دوتانی، جوڈیشل مجسٹریٹس حضرت بلال، کامران جیلانی اور زوہیب رفیق سمیت وکلاء برادری اور سپرنٹنڈنٹ سیشن کورٹ کریم اللہ نے بھی پودے لگا کر مہم میں حصہ لیا۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج پشین جناب رحیم داد خان خلجی نے کہا کہ درخت لگانا نہ صرف سنتِ نبوی ہے بلکہ صدقہ جاریہ بھی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ہمیں زیادہ سے زیادہ درخت لگا کر ماحول کو سرسبز و شاداب بنانا چاہیے تاکہ آنے والی نسلوں کے لیے آلودگی سے پاک اور صحت مند ماحول کو یقینی بنایا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3139/2026
موسیٰ خیل17 مارچ ۔ ڈپٹی کمشنر موسیٰ خیل عبدالرزاق خجک کی زیرِ صدارت ڈسٹرکٹ پولیو ایریڈیکیشن کمیٹی کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں آئندہ پولیو مہم کی حکمت عملی اور انتظامات کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں عالمی ادارہ صحت (WHO) کے ڈسٹرکٹ پولیو آفیسر ڈاکٹر نورا خان، یو سی ایم اوز اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی اجلاس کے دوران ڈاکٹر نورا خان نے 13 اپریل 2026 سے شروع ہونے والی انسدادِ پولیو مہم کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی اور مہم کے اہداف پر روشنی ڈالی۔ ڈپٹی کمشنر عبدالرزاق خجک نے گزشتہ مہم کے دوران بہترین کارکردگی دکھانے والے یو سی ایم اوز کی محنت کو سراہتے ہوئے انہیں تعریفی اسناد دینے کا فیصلہ کیا تاکہ فیلڈ سٹاف کی حوصلہ افزائی کی جا سکے ڈپٹی کمشنر نے ہدایت کی کہ مہم کے دوران ضلع کے تمام بچوں تک رسائی کو یقینی بنایا جائے اور مانیٹرنگ کے عمل میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہ کی جائے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پولیو جیسی موذی بیماری سے پاک معاشرے کی تشکیل کے لیے ضلعی انتظامیہ تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر 3140/2026
قلعہ عبداللہ 17مارچ۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن کے مطابق اور ڈپٹی کمشنر قلعہ عبداللہ منور حسین مگسی کی خصوصی ہدایت پر ماہِ رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں ضلع قلعہ عبداللہ گلستان کے مختلف علاقوں میں مستحق اور نادار خاندانوں میں رمضان راشن پیکج تقسیم کیا گیا۔ راشن کی تقسیم کا عمل ضلعی ڈپٹی چیئرمین محمد اکبر خان کاکڑ کی نگرانی میں مکمل کیا گیا۔ضلعی انتظامیہ اور ضلعی ڈپٹی چیئرمین محمد اکبر خان کاکڑ کی زیر نگرانی راشن کی تقسیم کا عمل منظم اور شفاف انداز میں انجام دیا گیا تاکہ مستحق افراد تک امداد باعزت اور آسان طریقے سے پہنچ سکے۔ اس موقع پر مستحق خاندانوں کو بروقت اور شفاف طریقہ کار کے تحت راشن فراہم کیا گیا تاکہ انہیں ماہِ رمضان میں بنیادی اشیائے خورونوش کی فراہمی میں سہولت حاصل ہو۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر آفس قلعہ عبداللہ کے ترجمان نے کہا کہ حکومت بلوچستان اور ڈپٹی کمشنر قلعہ عبداللہ کی ہدایات کے مطابق رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں مستحق اور نادار طبقے کی مدد اولین ترجیح ہے، تاکہ ضرورت مند خاندانوں کو اس بابرکت مہینے میں بنیادی اشیائے ضروریہ کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔مقامی لوگوں نے وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور ڈپٹی کمشنر قلعہ عبداللہ منور حسین مگسی اور ضلعی انتظامیہ کے اس اقدام کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ رمضان راشن پیکج سے غریب اور ضرورت مندخاندانوں کو خاطر خواہ سہولت میسر آئی ہے۔ عوام نے ضلعی انتظامیہ کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ مستقبل میں بھی ایسے فلاحی اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبرRecast.3129/2026
لورالائی17 مارچ ۔ڈائریکٹر جنرل ایگریکلچر ریسرچ بلوچستان ڈاکٹر محمد قاسم کاکڑ نے ضلع لورالائی کا دورہ کرتے ہوئے ایگریکلچر ریسرچ ڈائریکٹوریٹ، کٹوی ریسرچ فارم اور ایڈاپٹیو ریسرچ فارم کا تفصیلی معائنہ کیا۔ اس موقع پر اولیو کمرشل پروجیکٹ کے انچارج وارث بلوچ، زیتون آفیسر معراج خان دومڑ، ماہرینِ زراعت ڈاکٹر نعمان اور عربی اعوان، فیڈرل سیڈ سرٹیفکیشن اینڈ رجسٹریشن ڈیپارٹمنٹ کے نمائندے اور ایڈاپٹیو ریسرچ کے انچارج محمد نواز بھی موجود تھے، جنہوں نے جاری تحقیقی سرگرمیوں پر تفصیلی بریفنگ دی۔دورے کے دوران ڈاکٹر محمد قاسم کاکڑ نے زیتون کی افزائش، جدید زرعی تحقیق اور مختلف فیلڈ ٹرائلز کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر مقامی زمینداروں کے ساتھ ایک نشست بھی منعقد ہوئی جس میں زرعی مسائل، خشک سالی، پانی کی کمی اور جدید زرعی ٹیکنالوجی کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔بعد ازاں ڈائریکٹر جنرل نے ڈپٹی کمشنر لورالائی میران بلوچ سے ملاقات کی، جس میں محکمہ زراعت ریسرچ کی جاری سرگرمیوں اور کٹوی ریسرچ فارم میں جرم پلازم یونٹ (GPU) کے قیام کے منصوبے پر بریفنگ دی گئی۔ اس یونٹ کے قیام سے زیتون کی اقسام کی ڈی این اے کے ذریعے تصدیق ممکن ہو سکے گی اور کاشتکاروں کو معیاری و تصدیق شدہ پودے فراہم کیے جا سکیں گے۔اجلاس میں علاقے میں پانی کی قلت کے پیش نظر کٹوی ریسرچ فارم کے لیے دو ٹیوب ویلوں کی درخواست کی گئی، جس پر ڈپٹی کمشنر نے بی ایس ڈی آئی اسکیم کے تحت دو ٹیوب ویل فراہم کرنے کی یقین دہانی کروائی۔ انہوں نے محکمہ زراعت کی تحقیقی کاوشوں کو سراہتے ہوئے اسے علاقے کی زرعی ترقی کے لیے نہایت اہم قرار دیا۔اس موقع پر بتایا گیا کہ زیتون پروجیکٹ کے تحت 2007 سے اب تک مختلف صوبائی و وفاقی منصوبوں کے ذریعے لورالائی اوژ ڑوب ڈویژن میں تقریباً 25 لاکھ زیتون کے پودے لگائے جا چکے ہیں جبکہ 20 لاکھ پودوں کی نرسری بھی تیار کی جا رہی ہے جو آئندہ سال کاشتکاروں کو فراہم کی جائے گی۔مزید بتایا گیا کہ لورالائی میں زیتون سے تیل نکالنے کے لیے جدید مشینری بھی فراہم کی گئی ہے، جن میں ایک مشین ایگریکلچر ریسرچ لورالائی، ایک سردار سکندر جوگیزئی، جبکہ چھوٹی مشینیں جبار اور ڈاکٹر سلیم کو دی گئی ہیں۔ علاوہ ازیں وزیر اعلیٰ بلوچستان کے حالیہ دورہ لورالائی کے موقع پر تقریباً 13 کروڑ روپے کی لاگت سے زیتون آئل مل کے قیام کا اعلان بھی کیا گیا۔آخر میں ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر محمد قاسم کاکڑ نے ڈپٹی کمشنر لورالائی کا زراعت کے شعبے میں خصوصی دلچسپی اور تعاون پر شکریہ ادا کیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3141/2026
کوئٹہ 17 مارچ۔ گورنر بلوچستان جعفر خان مندوخیل نے اس بات پر افسوس کیا کہ صوبے کا سب سے بڑا مقابلہ جاتی امتحانی ادارہ ہونے کے باوجود بلوچستان پبلک سروس کمیشن اپنے ایک بڑےامتحان ہال سے محروم ہے۔ پبلک سروس کمیشن نہ صرف ابھرتے ہوئے نوجوانوں کیلئے امید کی کرن ہے بلکہ مختلف سرکاری اداروں کیلئے قابل اور باصلاحیت افسران کے انتخاب میں بھی اس کا کلیدی کردار ہے۔ کمیشن کے ہر ممبر کی ذمہ داری ہے کہ وہ میرٹ کی پاسداری کو یقینی بنانے کیلئے بلا تفریق اور تعصب اپنا کردار ادا کریں تاکہ حق اس کے حقدار تک پہنچ سکے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے چیئرمین بلوچستان پبلک سروس کمیشن جسٹس (ر) مہتا کیلاش ناتھ کوہلی سے گورنر ہاوس کوئٹہ میں ملاقات کے دوران کیا۔ ملاقات میں کمیشن کی کارکردگی، بڑے امتحانی ہال کے قیام، میرٹ کی پاسداری، درپیش مالی مسائل، امتحانات اور انٹرویوز کے طریقہ کار اور مستقبل کے لائحہ عمل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر بلوچستان کے گورنر شیخ جعفر خان مندوخیل نے کہا کہ بلوچستان پبلک سروس کمیشن کو مزید مالی طور پر مستحکم بنانے کی اشد ضرورت ہے تاکہ وہ خود ایک بڑے امتحانی ہال کی تعمیر کے ساتھ ساتھ اپنی دیگر سرگرمیوں کو بھی بڑے پیمانے پر وسعت دے سکے۔ انہوں نے کہا کہ کمیشن کے امتحانات اور انٹرویوز میں خالص میرٹ کو برقرار رکھ کر اور حقدارکے اپنے حق کی فراہمی کو یقینی بنا کر بلوچستان میں بیروزگاری اور خصوصاً نوجوانوں میں مایوسی کو بآسانی ختم کیا جا سکتا ہے۔ گورنر مندوخیل نے کہا کمیشن کے احاطے میں ایک نئے بڑے امتحانی ہال کی فوری تعمیر سے ادارے اور امیدواروں کیلئے بہت سی سہولتیں پیدا ہو سکتی ہیں۔ گورنر مندوخیل نے چیئرمین پبلک سروس کمیشن پر زور دیا کہ وہ اپنے ادارے کی کارکردگی اور طریقہ کار کو مزید موثر اور شفاف بنائیں تاکہ کمیشن سمیت دیگر اداروں پر عوام کا اعتماد مزید بڑھ سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر 3142/2026
کوئٹہ 17 مارچ۔ گورنر lبلوچستان جعفرخان نے ضلع دکی تحصیل لونی کے علاقے کلی بختیار خان میں فرنٹیئر کور (ایف سی) کی گاڑی پر دھماکے میں 5 سیکیورٹی اہلکاروں کی شہادت پر گہرے دکھ و افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبے میں خوف و ہراس پھیلانے کی تمام کوششوں کو ناکام بنایا جائیگا۔ انہوں نے دہشت گردی اور تخریب کاری ہر قسم کو قابل مذمت قرار دیا۔ گورنر بلوچستان نے تمام قانون نافذ کرنے والے اداروں پر زور دیا کہ وہ عوام کے جان و مال کے تحفظ کیلئے سخت اقدامات کریں۔ گورنر مندوخیل نے شہداء سے اظہار تعزیت اور سوگوار خاندانوں سے اظہار یکجہتی کیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3143/2026
کوئٹہ، 17 مارچ۔ ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام خان مندوخیل اور ایڈیشنل سیکرٹری داخلہ میجر ریٹائرڈ بشیر احمد منگل کے روز وزیر اعلیٰ بلوچستان کے اسٹاف افسر سید امین کی رہائش گاہ پر گئے، جہاں انہوں نے ان کے والد کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا انہوں نے مرحوم کے ایصالِ ثواب کے لیے فاتحہ خوانی کی اور دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کو جوارِ رحمت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور سوگوار خاندان کو صبرِ جمیل دے اس موقع پر انہوں نے سید امین سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس دکھ کی گھڑی میں برابر کے شریک ہیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3132/2026;Recast
کوئٹہ 17مارچ ۔ صوبائی وزیر پی ایچ ای سردار عبدالرحمن کھتیران اور آئی جی پولیس نے ملاقات کی جس میں ضلع بارکھان سمیت صوبے میں امن و امان کی مجموعی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ملاقات کے دوران بارکھان میں امن و امان کو درپیش چیلنجز، عوام کے جان و مال کے تحفظ اور سیکیورٹی نظام کو مزید موثر بنانے کے حوالے سے مختلف امور زیر غور آئے۔ صوبائی وزیر پی ایچ ای سردار عبدالرحمن کھتیران نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بارکھان میں قیامِ امن حکومت کی اولین ترجیح ہے انہوں نے کہا کہ جرائم پیشہ عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں عمل میں لائی جائیں اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت پولیس کو درکار وسائل اور ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی تاکہ امن و امان کی صورتحال کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔آئی جی پولیس نے اس موقع پر صوبائی وزیر کو بارکھان اور دیگر علاقوں میں امن و امان کی موجودہ صورتحال، جاری سیکیورٹی اقدامات، پولیس کی کارکردگی اور درپیش چیلنجز کے حوالے سے تفصیلی گفتگو دی۔ انہوں نے کہا کہ امن کے قیام کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائیاں مزید تیز کی جا رہی ہیں۔ملاقات میں اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ امن و امان کے قیام کے لیے مشترکہ حکمت عملی اپنائی جائے گی، اداروں کے درمیان قریبی رابطہ رکھا جائے گا اور بارکھان سمیت صوبے بھر میں عوام کو محفوظ ماحول فراہم کرنے کے لیے موثر اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3144/2026
کوئٹہ، 17 مارچ ۔ چیف جسٹس عدالت عالیہ بلوچستان جسٹس محمد کامران خان ملاخیل اور جسٹس محمد نجم الدین مینگل پر مشتمل دو رکنی بینچ نے صوبے میں بلوچستان رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ 2021 کے تحت صوبائی انفارمیشن کمیشن کے قیام سے متعلق آئینی درخواست کی سماعت کی۔سماعت کے دوران عدالت کو بتایا گیا کہ درخواست گزار وکلاء کی جانب سے دائر پٹیشن میں صوبائی حکومت کو بلوچستان انفارمیشن کمیشن کے قیام، اس کے لیے فنڈز مختص کرنے، مطلوبہ عملہ تعینات کرنے اور ایکٹ کے مطابق کمیشن کے قیام کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کرنے کی ہدایت دینے کی استدعا کی گئی ہے۔عدالت کو آگاہ کیا گیا کہ یہ آئینی درخواست 11 نومبر 2022 کو دائر کی گئی تھی اور 16 نومبر 2022 کو جواب دہندگان کو نوٹس جاری ہونے کے بعد سے اس کی سماعت جاری ہے۔ تاہم عدالت نے اس امر پر برہمی کا اظہار کیا کہ بارہا ہدایات کے باوجود ایڈووکیٹ جنرل کا دفتر معاملے میں واضح پیش رفت کرنے کے بجائے مزید مہلت طلب کرتا رہا ہے۔ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت کو بتایا کہ بلوچستان انفارمیشن کمیشن کے تین ارکان کی تقرری ہو چکی ہے جبکہ دو مزید ارکان اور چیئرمین کی تقرری ابھی باقی ہے اور اس سلسلے میں نام زیر غور ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ کمیشن کے قیام کے لیے نئی اسامیوں اور بھرتیوں سے متعلق سمری وزیر اعلیٰ بلوچستان کو منظوری کے لیے ارسال کی گئی ہے اور اس پر کارروائی جاری ہے، اس لیے حتمی رپورٹ پیش کرنے کے لیے مزید مہلت دی جائے۔عدالت نے ریکارڈ کا جائزہ لیتے ہوئے قرار دیا کہ بلوچستان رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ نمبر II آف 2021 صوبائی اسمبلی سے منظور ہونے کے بعد 16 فروری 2021 کو باقاعدہ نوٹیفائی کیا گیا تھا۔ ایکٹ کی دفعہ 18 کے مطابق حکومت اس قانون کے نفاذ کے 120 دن کے اندر بلوچستان انفارمیشن کمیشن قائم کرنے کی پابند تھی، تاہم پانچ سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود کمیشن تاحال مکمل نہیں کیا جا سکا۔عدالت نے اس تاخیر پر شدید مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ کمیشن کے قیام میں غیر ضروری تاخیر کے باعث شہریوں کو معلومات کے حصول کے حق کے لیے ہائی کورٹ سے رجوع کرنا پڑتا ہے جس سے عدالتوں میں غیر ضروری مقدمات کا بوجھ بڑھ رہا ہے۔ عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ کمیشن کے تین ارکان کی تقرری کے باوجود دیگر ارکان اور چیئرمین کی عدم تقرری کے باعث کمیشن عملی طور پر فعال نہیں ہو پا رہا جبکہ مقرر ارکان تنخواہیں اور مراعات حاصل کر رہے ہیں۔عدالت نے چیف سیکریٹری بلوچستان کو ہدایت کی کہ وہ ذاتی طور پر اس معاملے کا جائزہ لیں اور 30 دن کے اندر بلوچستان انفارمیشن کمیشن کو مکمل طور پر فعال بنایا جائے۔ عدالت نے خبردار کیا کہ عدم تعمیل کی صورت میں چیف سیکریٹری اور متعلقہ حکام کو ذاتی طور پر عدالت میں پیش ہو کر رپورٹ جمع کرانا ہوگی۔عدالت نے حکم نامے کی کاپی ایڈووکیٹ جنرل اور ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کے دفاتر کو ارسال کرنے کی بھی ہدایت دی۔ کیس کی مزید سماعت 16 اپریل 2026 تک ملتوی کر دی گئی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3145/2026
کوئٹہ، 17 مارچ ۔چیف جسٹس عدالت عالیہ بلوچستان جسٹس محمد کامران خان ملاخیل اور جسٹس محمد نجم الدین مینگل پر مشتمل دو رکنی بینچ نے معذور اور متاثرہ وکلائکے بچوں کی تعلیمی معاونت سے متعلق آئینی درخواست کی سماعت کی۔ درخواست بلوچستان ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر عطا اللہ لانگو ایڈووکیٹ نے دائر کی تھی، جس میں کامران مرتضیٰ، ریحان خان بابر، مظفر اعظم عمرانی اور سعید خان ایڈووکیٹ بھی ان کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے۔سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکلاءنے موقف اختیار کیا کہ بعض وکلاءمستقل جسمانی معذوری کا شکار ہیں اور ریڑھ کی ہڈی کی شدید چوٹوں، حادثات یا گولی لگنے کے باعث نقل و حرکت سے قاصر ہیں، جس کی وجہ سے وہ عملی طور پر پیشہ وارانہ سرگرمیاں جاری رکھنے کے قابل نہیں رہے۔ اس لیے عدالت سے استدعا کی گئی کہ بلوچستان ایجوکیشن انڈومنٹ فنڈ (BEEF) کو ہدایت کی جائے کہ ایسے متاثرہ وکلاء اور ان کے بچوں کو فوری مالی و تعلیمی معاونت فراہم کی جائے۔اس موقع پر ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل ذکریا خان، سی ای او بی ای ای ایف کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے اور عدالت کو بتایا کہ بلوچستان ایجوکیشن انڈومنٹ فنڈ 2013 میں قائم کیا گیا تھا، جس کے پاس اس وقت تقریباً 22.5 ارب روپے کا فنڈ موجود ہے، جس سے مختلف تعلیمی اسکالرشپس فراہم کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ وکلائ کی اعلیٰ تعلیم کے لیے 600 ملین روپے جبکہ شہید وکلائ کے بچوں کے مکمل فنڈڈ وظائف کے لیے 230 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ “انتہائی کمزور کمیونٹیز کے لیے اسکیم” کے تحت مستقل جسمانی معذوری اور بڑی دائمی بیماریوں میں مبتلا افراد کی معاونت بھی کی جاتی ہے۔سی ای او بی ای ای ایف نے عدالت کو آگاہ کیا کہ 8 اگست 2016 کے کوئٹہ خودکش حملے میں شدید زخمی ہونے والے وکیل ضمیر احمد چھلگری ایڈووکیٹ کے بچوں کو حال ہی میں بلوچستان بار کونسل کی سفارش پر مکمل فنڈڈ اسکالرشپ فراہم کیا گیا ہے۔ تاہم انہوں نے بتایا کہ موجودہ وسائل اور پالیسی کے محدود دائرہ کار کی وجہ سے مزید مستحقین کو شامل کرنے کے لیے بی ای ای ایف کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی منظوری درکار ہوگی۔عدالت نے قرار دیا کہ درخواست گزار نے بطور صدر بلوچستان ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن یہ درخواست نمائندہ حیثیت میں دائر کی ہے، کیونکہ کئی وکلاء دہشت گردی یا قبائلی دشمنیوں کے باعث اپنے پیشہ ورانہ فرائض کی ادائیگی کے دوران نشانہ بنے یا معذوری کا شکار ہوئے ہیں اور وہ معاشی طور پر شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔عدالت نے عبوری طور پر حکم دیا کہ درج ذیل معذور وکلاءکے بچوں کو فوری طور پر مکمل فنڈڈ اسکالرشپ پروگرام میں شامل کیا جائے۔1۔ محمد اصغر خان پانیزئی ایڈووکیٹ،2۔ غلام رسول ترین ایڈووکیٹ،3۔ نصیب اللہ اچکزئی ایڈووکیٹ،4۔ عطا اللہ خروٹی ایڈووکیٹ عدالت نے مزید ہدایت کی کہ مستقل اور دائمی جسمانی معذوری کے شکار وکلاءکو معاوضے اور تعلیمی سہولتوں کے دائرہ کار میں شامل کرنے کے لیے معاملہ بی ای ای ایف کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے سامنے پیش کیا جائے۔ اس مقصد کے لیے سی ای او بی ای ای ایف کو ٹرمز آف ریفرنسز (TORs) تیار کر کے منظوری کے لیے پیش کرنے کا حکم دیا گیا۔ عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ اسکالرشپ حاصل کرنے کے لیے متعلقہ وکلاءکو شناختی کارڈ، بلوچستان بار کونسل سے رجسٹریشن سرٹیفکیٹ، متعلقہ بار ایسوسی ایشنز سے پریکٹس سرٹیفکیٹ، حکومت بلوچستان کے اسٹینڈنگ میڈیکل بورڈ سے معذوری کا سرٹیفکیٹ، مقامی/ڈومیسائل سرٹیفکیٹ اور بچوں کی تعلیمی دستاویزات فراہم کرنا ہوں گی۔ یہ اسکالرشپ ان کے بچوں کو زیادہ سے زیادہ 16 سالہ تعلیم کی تکمیل تک دی جائے گی۔سماعت کے دوران ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے دیگر جواب دہندگان کی جانب سے جواب داخل کرنے کے لیے مہلت طلب کی جسے عدالت نے منظور کر لیا۔ عدالت نے حکم کی نقل ایڈووکیٹ جنرل اور ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کے دفاتر کو بھی ارسال کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے مزید سماعت یکم اپریل 2026 تک ملتوی کر دی۔1۔ محمد اصغر خان پانیزئی ایڈووکیٹ،2۔ غلام رسول ترین ایڈووکیٹ،3۔ نصیب اللہ اچکزئی ایڈووکیٹ،4۔ عطا اللہ خروٹی ایڈووکیٹ عدالت نے مزید ہدایت کی کہ مستقل اور دائمی جسمانی معذوری کے شکار وکلاءکو معاوضے اور تعلیمی سہولتوں کے دائرہ کار میں شامل کرنے کے لیے معاملہ بی ای ای ایف کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے سامنے پیش کیا جائے۔ اس مقصد کے لیے سی ای او بی ای ای ایف کو ٹرمز آف ریفرنسز (TORs) تیار کر کے منظوری کے لیے پیش کرنے کا حکم دیا گیا۔ عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ اسکالرشپ حاصل کرنے کے لیے متعلقہ وکلاءکو شناختی کارڈ، بلوچستان بار کونسل سے رجسٹریشن سرٹیفکیٹ، متعلقہ بار ایسوسی ایشنز سے پریکٹس سرٹیفکیٹ، حکومت بلوچستان کے اسٹینڈنگ میڈیکل بورڈ سے معذوری کا سرٹیفکیٹ، مقامی/ڈومیسائل سرٹیفکیٹ اور بچوں کی تعلیمی دستاویزات فراہم کرنا ہوں گی۔ یہ اسکالرشپ ان کے بچوں کو زیادہ سے زیادہ 16 سالہ تعلیم کی تکمیل تک دی جائے گی۔سماعت کے دوران ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے دیگر جواب دہندگان کی جانب سے جواب داخل کرنے کے لیے مہلت طلب کی جسے عدالت نے منظور کر لیا۔ عدالت نے حکم کی نقل ایڈووکیٹ جنرل اور ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کے دفاتر کو بھی ارسال کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے مزید سماعت یکم اپریل 2026 تک ملتوی کر دی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3146/2026
تربت- 17 مارچ ۔: ڈپٹی کمشنر کیچ یاسر اقبال دشتی نے آج بروز منگل اپنے دفتر میں ڈی سی آفس تربت کے اسٹاف سے ایک اہم ملاقات کی. جس میں ضلعی امور کی بہتری، دفتری نظم و ضبط اور عوامی خدمات کے معیار کو مزید بہتر بنانے پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر کیچ یاسر اقبال دشتی نے اسٹاف سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری فرائض کی انجام دہی میں ایمانداری، وقت کی پابندی اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا مظاہرہ انتہائی ضروری ہے انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ عوام کو درپیش مسائل کے حل میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی اور ہر ممکن سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا۔ڈپٹی کمشنر کیچ نے مزید کہا کہ دفتر کے تمام شعبہ جات میں باہمی تعاون، ہم آہنگی اور ٹیم ورک کو فروغ دے کر بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا جا سکتا ہے، جس سے نہ صرف ادارے کی ساکھ بہتر ہوگی بلکہ عوام کا اعتماد بھی بحال ہوگا۔ملاقات کے دوران اسٹاف نے بھی اپنے مسائل اور تجاویز پیش کیں، جنہیں ڈپٹی کمشنر کیچ نے غور سے سنا اور ان کے حل کی یقین دہانی کروائی۔آخر میں ڈپٹی کمشنر کیچ یاسر اقبال دشتی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ضلع کیچ میں گورننس کو مزید موثر اور عوام دوست بنایا جائے گا، تاکہ عوام کو بہتر اور بروقت سہولیات فراہم کی جا سکیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3147/2026
قلات خبرنامہ 17مارچ۔ بلوچستان کے تاریخی شہرقلات میں عید الفطر کے مذہبی تہوارکے موقع پروزیراعلی بلوچستان اورآءجی بلوچستان پولیس کے احکامات پرسخت سیکیورٹی پلان کا حکم جاری کیا گیا یے ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن قلات کی گائیڈلائن کےمطابق ضلعی پولیس قلات نے عیدالفطر کے ایام میں سیکیورٹی صورتحال برقراررکھنے بازاروں میں ٹریفک رش سے شہریوں کو محفوظ رکھنے مساجد اور عید گاہوں کے لیے واک تھرو گیٹس اور عوامی جگہوں پر گشت کے لیے اضافی اہلکاروں کی تعیناتی کا فیصلہ کیا گیا ہے قلات بازارمی چاندرات سے زیادہ پولیس اہلکاروں کی ٹیمیں شاپنگ سینٹرز اور پرہجوم علاقوں کی نگرانی کریں گی، اور ٹریفک کے خصوصی منصوبے نافذ ہونگےپولیس اسٹیشن کی سطح پر نگرانی کی ٹیموں کے ساتھ موبائل اور موٹر سائیکل گشت میں بھی اضافہ کیا گیا ہے جوحساس علاقوں پر توجہ مرکوز کرتے ہیں ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن قلات کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق ضلع بھر میں آتشیں اسلحے کی نمائش پر سخت پابندی عائد کی گءہے ایس پی قلات سید زاہد حسین شاہ نےشہر سیکیورٹی پلان پر عملدرآمد کیلئے قلات بازار کادورہ کیا اور شہر میں ٹریفک پلان کے نفاذ شاہراہوں اور بازاروں میں اضافی اہلکارتعینات کرنے کے بھی احکامات جاری کئے ہیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3148/2026
تربت۔ 17 مارچ ۔ ڈپٹی کمشنر کیچ یاسر اقبال دشتی نے منگل کے روز ٹیچنگ ہسپتال تربت کا اچانک دورہ کیا جہاں انہوں نے شعبہ حادثات، ایمرجنسی سیکشن اور گائناکالوجی وارڈ کا معائنہ کیا۔دورے کے دوران ڈپٹی کمشنر نے ہسپتال میں عدم صفائی پر شدید اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ٹیچنگ ہسپتال تربت کو خصوصی طور پر شعبہ حادثات میں فوری اور مو¿ثر صفائی یقینی بنانے کی ہدایت جاری کردیں۔انہوں نے ایمرجنسی اور گائناکالوجی وارڈ میں کچھ ڈاکٹرز کی عدم موجودگی پر بھی ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے ایم ایس کو ہدایت کی کہ تمام ڈاکٹرز اور عملے کی مکمل حاضری رپورٹ فوری طور پر پیش کی جائے تاکہ غیر حاضر عملے کے خلاف کارروائی کی جا سکے۔ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ ہم اس سرزمین کے وارث ہیں اگر ہماری موجودگی میں بھی ہسپتال کی صورتحال بہتر نہ ہو تو یہ بات قابلِ قبول نہیں ہوگا۔اس دوران انہوں نے ہیلتھ کارڈ کے استعمال سے متعلق بھی معلومات حاصل کیں جس پر انہیں بتایا گیا کہ رواں سال تقریباً دو کروڑ روپے کے قریب رقم ہیلتھ کارڈ کے ذریعے خرچ ہوئی ہے۔ اس پر انہوں نے عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ہدایت کی کہ ہیلتھ کارڈ کے استعمال کو مزید بڑھا کر غریب مریضوں کو زیادہ سے زیادہ سہولت فراہم کی جائے۔مزید برآں انہوں نے اسسٹنٹ کمشنر تربت کو ہدایت دی کہ ہسپتال کی کڑی نگرانی کی جائے اور ڈیوٹی کے اوقات میں غیر حاضر یا نجی کلینکس میں مصروف ڈاکٹرز کی رپورٹ پیش کی جائے۔اس موقع پر میئر تربت بلخ شیر قاضی، اسسٹنٹ کمشنر تربت محمد حنیف کبزئی، چیف آفیسر تربت شعیب ناصر، زیر تربیت اسسٹنٹ کمشنرز نعمان منیر، زیر تربیت اسسٹنٹ کمشنر ماہ نور برکت اور پی اے شیرجان بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3149/2026
پنجگور۔ 2026-03-17:ڈپٹی کمشنر پنجگور عبد الکبیر زرکون نے نوک آباد گرمکان میں نئے تعمیر ہونے والے بنیادی مرکز صحت (بی ایچ یو ) کا باقاعدہ افتتاح کر دیا۔افتتاحی تقریب میں ضلعی انتظامیہ محکمہ صحت اور کے نمائندوں کے علاوہ علاقے کے معتبرین اور عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ اس موقع پر لیفٹیننٹ کرنل ریحان کیانی (پنجگور رائفلز)، ڈاکٹر عابد ڈی ایچ او پنجگور اور اکرام نور ڈسٹرکٹ منیجر پی پی ایچ آئی بھی موجود تھے۔تقریب کے دوران ڈپٹی کمشنر پنجگور کو بنیادی مرکز صحت میں فراہم کی جانے والی طبی سہولیات اور انتظامات کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ بھی دی گئی۔ڈپٹی کمشنر پنجگور نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ضلعی انتظامیہ کی کوشش ہے کہ ضلع کے دور دراز علاقوں میں بھی صحت کی بنیادی سہولیات عوام کو ان کی دہلیز پر فراہم کی جائیں انہوں نے کہا کہ نوک آباد گرمکان میں بیسک ہیلتھ یونٹ کے قیام سے نہ صرف مقامی آبادی بلکہ قریبی دیہات کے رہائشیوں کو بھی فائدہ ہوگا اور انہیں علاج معالجے کے لیے دور دراز علاقوں کا سفر نہیں کرنا پڑے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ صحت کے شعبے کی بہتری حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے اور اس مقصد کے لیے تمام متعلقہ ادارے مشترکہ طور پر کام کر رہے ہیں ڈپٹی کمشنر نے اس بات پر زور دیا کہ اس ہیلتھ یونٹ میں فراہم کی جانے والی سہولیات کو بہتر انداز میں برقرار رکھا جائے تاکہ عوام کو معیاری طبی خدمات میسر آسکیں۔اس موقع پر لیفٹیننٹ کرنل ریحان کیانی ڈاکٹر عابد اور اکرام نور نے بھی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دور افتادہ علاقوں میں صحت کے مراکز کا قیام ایک خوش آئند اقدام ہے جس سے عوام کو براہ راست فائدہ پہنچے گا انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ متعلقہ ادارے عوام کو بہتر طبی سہولیات فراہم کرنے کے لیے اپنی خدمات جاری رکھیں گے۔تقریب کے اختتام پر علاقے کے معتبرین نے ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ اداروں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ مستقبل میں بھی ایسے منصوبے متعارف کرائے جائیں گے تاکہ علاقے کی ترقی اور عوام کی فلاح و بہبود کو مزید فروغ مل سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3150/2026
موسیٰ خیل17 مارچ .۔وزیرِ اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز احمد بگٹی کے وڑن کی تکمیل ڈپٹی کمشنر عبدالرزاق خجک غریبوں کی دہلیز پر پہنچ گئے بلوچستان حکومت کے عوامی خدمت مشن کو نئی جلا بخشتے ہوئے ڈپٹی کمشنر موسیٰ خیل عبدالرزاق خجک نے آج ایک منفرد اور دل چھو لینے والا اقدام اٹھایا۔ روایتی دفتری پروٹوکول کو بالائے طاق رکھتے ہوئے، انہوں نے خود گھر گھر جا کر بیواوں، یتیموں اور مستحق خاندانوں میں راشن بیگز تقسیم کیے اس موقع پر انسانیت اور ہمدردی کے مناظر تب دیکھنے کو ملے جب ڈپٹی کمشنر تنگ گلیوں میں خود چل کر نادار افراد کی دہلیز تک پہنچے اور ان کی داد رسی کی تقسیمِ راشن کے دوران گفتگو کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر عبدالرزاق خجک کا کہنا تھا یہ راشن کسی پر احسان نہیں بلکہ ان مستحقین کا حق ہے جو ہم ان کی دہلیز پر پہنچا رہے ہیںوزیرِ اعلیٰ میر سرفراز بگٹی کا واضح حکم ہے کہ خدمت صرف دفتروں تک محدود نہ رہے بلکہ انتظامیہ خود عوام کے پاس جائے۔ جب تک موسیٰ خیل کا ایک بھی گھرانہ بھوکا ہے، ہم چین سے نہیں بیٹھیں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3151/2026
زیارت، 17 مارچ ۔ ڈپٹی کمشنر عبدالقدوس اچکزئی کی زیرِ صدارت انسدادِ پولیو مہم کے سلسلے میں ڈی پیک کا اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر رفیق احمد مستوئی، ڈپٹی ڈائریکٹر لائیوسٹاک ڈاکٹر محمددین، ڈسٹرکٹ پولیو آفیسر ڈبلیو ایچ او ڈاکٹر شہباز پانیزئی، ایم ایس ڈاکٹر عرفان الدین اور ڈی ڈی او ایجوکیشن نقیب اللہ کاکڑ نے شرکت کی۔زیارت اور سنجاوی میں چار روزہ انسدادِ پولیو مہم 13 اپریل کو شروع ہوگی۔ ضلع زیارت میں انسدادِ پولیو مہم کے دوران ستائیس ہزار بچوں کو پولیو سے بچاو کے قطرے پلائے جائیں گے۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر زیارت عبدالقدوس اچکزئی نے کہا کہ انسدادِ پولیو مہم ایک قومی مہم ہے اور اس مہم کو کامیاب بنانے کے لیے سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ اس سلسلے میں میڈیا اور سول سوسائٹی اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ پولیو فری پاکستان ہمار ا وژن ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر ایک بچہ بھی پولیو کے قطروں سے رہ گیا تو یہ مہم کامیاب نہیں ہوگی۔ والدین کی بھی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ پانچ سال تک کے بچوں کو انسدادِ پولیو کے قطرے ضرور پلائیں اور اپنے پھول جیسے بچوں کو معذوری سے بچائیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3152/2026
چمن 17مارچ ۔ ڈپٹی کمشنر چمن حبیب احمد بنگلزئی کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ ہیلتھ کمیٹی کی ماہانہ اجلاس کا انعقاد ڈپٹی کمشنر چمن حبیب احمد بنگلزئی کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ ہیلتھ کمیٹی کا ماہانہ کارکردگی اجلاس منعقد کیا گیا اجلاس میں گزشتہ ایک مہینے کی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور آئندہ کی حکمت عملی انتظامات اور پلاننگ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔اجلاس میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر نوید بادینی ایم ایس نیو ٹیچنگ ہسپتال ڈاکٹر محمد اویس اکاو¿نٹ افسر اسماعیل اور دیگر متعلقہ افسران شریک تھے اجلاس میں ڈی سی چمن کو ڈی ایچ او چمن ڈاکٹر نوید بادینی ایم ایس سول ہسپتال ڈاکٹر اویس اور پولیو افیسر نے چمن کی محکمہ صحت کی کارکردگی درپیش مسائل اور چیلنجز اور حالیہ انسداد پولیو مہم اچیومینٹس حفاظتی ٹیکہ جات اور کارکردگی کے حوالے سے تفصیلی معلومات فراہم کی گئی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈی سی چمن نے کہا کہ محکمہ ہیلتھ کے تمام افیسران ڈاکٹرز پیرامیڈیکس اور سٹاف اپنی جائے تعیناتی پر اپنی حاضریوں کو یقینی بنائیں اور وقت کی پابندی کریں انہوں نے کہا کہ غیر حاضر ڈاکٹرز سٹاف اور آفیسران کیخلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی انہوں نے کہا کہ چمن کویٹہ سے کافی دور ہے جسکی وجہ سے مریضوں کی علاج و معالجہ میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھا جائے انہوں نے کہا موجود آلات مشینری اور ادویات کی صحیح استعمال کو یقینی بنائیں اور مریضوں کی بروقت طبی امداد اور علاج و معالجہ کو یقینی بنایا جائے انہوں نے پولیو آفیسرز پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وہ انسداد پولیو مہم کے دوران ہر بار 5 سال تک کی بچوں کو پولیو ویکسین ضرور پلائیں اور اس حوالےسے کسی قسم کی مصلحت پسندی اور نرمی کا مظاہرہ نہیں کیا جائے انہوں نے کہا کہ وہ محکمہ صحت چمن کو درپیش ضروری سہولیات اور ادویات کے حوالےسے سیکرٹری صحت اور دیگر متعلقہ افسران سے بات کریں گے انہوں نے کہا کہ موجودہ صوبائی حکومت محکمہ صحت کو تمام ضروری سہولیات اور ایمرجنسی ادویات دینے کے لیے پرعزم ہیں ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ محکمہ صحت کے تمام افسران ڈاکٹرز پیرامیڈیکس اور سٹاف پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے اپنے خدمات دیانتداری اور ایمانداری سے انجام دیں تاکہ ہم ایک خوشحال اور صحت مند ماحول میں پروان چڑھے انہوں نے کہا کہ موجود وسائل مشینری آلات اور ادویات سے حتی الامکان مریضوں کی علاج و معالجہ جاری رکھا جائے اور مریضوں سے خوش اسلوبی اور خندا پیشانی سے پیش آئیں کیونکہ یہ بھی بہت سے بیماریوں کا علاج سمجھا اور مانا جاتا ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3153/2026
چمن17مارچ ۔ ڈپٹی کمشنر چمن حبیب احمد بنگلزئی کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ ہیلتھ کمیٹی کی ماہانہ اجلاس کا انعقاد ۔ڈپٹی کمشنر چمن حبیب احمد بنگلزئی کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ ہیلتھ کمیٹی کا ماہانہ کارکردگی اجلاس منعقد کیا گیا اجلاس میں گزشتہ ایک مہینے کی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور آئندہ کی حکمت عملی انتظامات اور پلاننگ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔اجلاس میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر نوید بادینی ایم ایس نیو ٹیچنگ ہسپتال ڈاکٹر محمد اویس اکاونٹ افسر اسماعیل اور دیگر متعلقہ افسران شریک تھے اجلاس میں ڈی سی چمن کو ڈی ایچ او چمن ڈاکٹر نوید بادینی ایم ایس سول ہسپتال ڈاکٹر اویس اور پولیو افیسر نے چمن کی محکمہ صحت کی کارکردگی درپیش مسائل اور چیلنجز اور حالیہ انسداد پولیو مہم اچیومینٹس حفاظتی ٹیکہ جات اور کارکردگی کے حوالے سے تفصیلی معلومات فراہم کی گئی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈی سی چمن نے کہا کہ محکمہ ہیلتھ کے تمام افیسران ڈاکٹرز پیرامیڈیکس اور سٹاف اپنی جائے تعیناتی پر اپنی حاضریوں کو یقینی بنائیں اور وقت کی پابندی کریں انہوں نے کہا کہ غیر حاضر ڈاکٹرز سٹاف اور آفیسران کیخلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی انہوں نے کہا کہ چمن کویٹہ سے کافی دور ہے جسکی وجہ سے مریضوں کی علاج و معالجہ میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھا جائے انہوں نے کہا موجود آلات مشینری اور ادویات کی صحیح استعمال کو یقینی بنائیں اور مریضوں کی بروقت طبی امداد اور علاج و معالجہ کو یقینی بنایا جائے انہوں نے پولیو آفیسرز پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وہ انسداد پولیو مہم کے دوران ہر بار 5 سال تک کی بچوں کو پولیو ویکسین ضرور پلائیں اور اس حوالےسے کسی قسم کی مصلحت پسندی اور نرمی کا مظاہرہ نہیں کیا جائے انہوں نے کہا کہ وہ محکمہ صحت چمن کو درپیش ضروری سہولیات اور ادویات کے حوالےسے سیکرٹری صحت اور دیگر متعلقہ افسران سے بات کریں گے انہوں نے کہا کہ موجودہ صوبائی حکومت محکمہ صحت کو تمام ضروری سہولیات اور ایمرجنسی ادویات دینے کے لیے پرعزم ہیں ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ محکمہ صحت کے تمام افسران ڈاکٹرز پیرامیڈیکس اور سٹاف پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے اپنے خدمات دیانتداری اور ایمانداری سے انجام دیں تاکہ ہم ایک خوشحال اور صحت مند ماحول میں پروان چڑھے انہوں نے کہا کہ موجود وسائل مشینری آلات اور ادویات سے حتی الامکان مریضوں کی علاج و معالجہ جاری رکھا جائے اور مریضوں سے خوش اسلوبی اور خندا پیشانی سے پیش آئیں کیونکہ یہ بھی بہت سے بیماریوں کا علاج سمجھا اور مانا جاتا ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3154/2026
لورالائی 17,مارچ ۔صوبائی پارلیمانی سیکرٹری جنگلات سردار مسعود خان لونی نے تحصیل لونی کے علاقے کلی بختیار خان میں ایف سی کی گاڑی پر ہونے والے دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ واقعہ نہایت افسوسناک اور بزدلانہ ہے جس میں ملک کے بہادر سکیورٹی اہلکار شہید ہوئے جتنی مذمت کی جائے وہ کم ہے۔سردار مسعود خان لونی نے کہا کہ ہمارے محافظ وطن کے امن و استحکام کے لیے اپنی جانوں کی قربانی دے رہے ہیں اور پوری قوم ان کی خدمات اور عظیم قربانیوں کو سلام پیش کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشتگرد عناصر اس طرح کی کارروائیوں سے خوف و ہراس پھیلانے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن قوم اور سکیورٹی اداروں کے عزم کو کبھی کمزور نہیں کیا جا سکتا۔سردار مسعود خان لونی نے شہداءکو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی قربانیاں قوم کے لیے باعثِ فخر ہیں۔ انہوں نے شہداء کے اہل خانہ کے ساتھ دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا اور دعا کی کہ اللہ تعالیٰ شہداء کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور زخمیوں کو جلد صحت یاب کرے ۔سردار مسعود خان لونی نے مطالبہ کیا کہ واقعے میں ملوث عناصر کو فوری گرفتار کرکے قانون کے مطابق سخت سزا دی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر 3155/2026
لورالائی:17مارچ۔ ضلع لورالائی کے علاقے لونی کے قریب بختیار خان میں ہونے والے افسوسناک بم دھماکے نے ملک بھر میں سوگ کی فضا قائم کر دی۔ دھماکے کے نتیجے میں فرنٹیئر کور (ایف سی) کے بہادر جوانوں نے وطن کے دفاع میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔شہداءکی نمازِ جنازہ پورے فوجی اعزاز کے ساتھ ادا کی گئی، جس میں وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی، کور کمانڈر بلوچستان، آئی جی ایف سی بلوچستان (نارتھ)، ڈی آئی جی پولیس لورالائی ریجن، کمشنر لورالائی ڈویژن،ڈپٹی کمشنر لورالائی میران بلوچ ،اسسٹنٹ کمشنر لورالائی ندیم اکرم ،قبائلی و سماجی رہنما سردار معصوم خان ترین سمیت اعلیٰ سول و عسکری حکام اور عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔نمازِ جنازہ کے بعد شہداء کو سرکاری اعزاز کے ساتھ سپردِ خاک کیا گیا۔ اس موقع پر فضا سوگوار رہی اور شرکاء نے شہداء کی عظیم قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔اس موقع پر وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس عزم کا اعادہ کیا کہ دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ کو ہر صورت منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا اور شہداءکی قربانیاں ہرگز رائیگاں نہیں جانے دی جائیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ سیکیورٹی فورسز ملک میں پائیدار امن کے قیام کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گی اور دشمن کے ناپاک عزائم کو ناکام بنایا جائے گا۔اس موقع پر شہداء کے درجات کی بلندی اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے خصوصی دعائیں بھی کی گئیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3156/2026
زیارت خبرنامہ 17 فروری ۔وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن کے مطابق ضلع زیارت میں نئے ضم شدہ لیویز فورس کے لیے ریفریشر تربیتی کورس کا انعقاد ۔ضلع پولیس زیارت میں نئے ضم شدہ لیویز فورس کے لیے دو ہفتوں پر مشتمل ریفریشر / اورینٹیشن تربیتی کورس مورخہ 02 مارچ تا 16 مارچ 2026، ایس پی زیارت سردار ایاز خان موسیٰ خیل کی زیر نگرانی کامیابی کے ساتھ منعقد کیا گیا۔کورس میں لیویز فورس کے 100 کیڈٹس نے شرکت کی جنہیں پولیس کے تجربہ کار ٹرینرز کی جانب سے پولیسنگ کے بنیادی اصول، نظم و ضبط، قانون نافذ کرنے کے طریقہ کار، عوام سے موثر برتاو, جسمانی فٹنس اور پیشہ ورانہ ذمہ داریوں سے متعلق تربیت فراہم کی گئی۔کورس کی کامیاب تکمیل پر نمایاں کارکردگی دکھانے والے کیڈٹس اور ٹرینرز کو حوصلہ افزائی کے طور پر تعریفی اسناد اور نقد انعامات سے نوازا گیا۔ اس تربیت سے اہلکاروں میں نظم و ضبط اور پیشہ ورانہ مہارت کو مزید فروغ حاصل ہوا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿







