خبرنامہ نمبر 352/2026
کوئٹہ، 17 جنوری:پی ڈی ایم اے کرکٹ گراؤنڈ میں ہفتے کے روز چیف منسٹر الیون اور چیف سیکرٹری الیون کے مابین کھیلا جانے والا دوستانہ کرکٹ میچ سنسنی خیز لمحات، شاندار بیٹنگ اور عمدہ بولنگ کا حسین امتزاج ثابت ہوا۔ شائقینِ کرکٹ کی بڑی تعداد نے میچ سے بھرپور لطف اٹھایا میچ کا ٹاس چیف سیکرٹری الیون نے جیت کر چیف منسٹر الیون کو بیٹنگ کی دعوت دی چیف منسٹر الیون کی جانب سے اننگز کا آغاز وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور زاہد خلجی نے کیا۔ دونوں کھلاڑیوں نے پہلی وکٹ کی شراکت میں شاندار کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے 119 رنز کی مضبوط پارٹنرشپ قائم کی اور ٹیم کو بہترین آغاز فراہم کیا وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے پراعتماد اور دلکش بیٹنگ کرتے ہوئے 52 رنز کی شاندار اننگ کھیلی جسے شائقین نے خوب سراہا مقررہ اوورز کے اختتام پر چیف منسٹر الیون نے صرف تین وکٹوں کے نقصان پر 181 رنز کا مضبوط ہدف دیا جواب میں چیف سیکرٹری الیون کی ٹیم ہدف کے تعاقب میں 135 رنز پر آل آؤٹ ہوگئی۔ چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان اور آئی جی پولیس محمد طاہر خان نے مزاحمتی بیٹنگ اور ہمہ جہت کارکردگی کا مظاہرہ کیا تاہم ٹیم مطلوبہ ہدف حاصل نہ کرسکی بولنگ کے شعبے میں ایڈیشنل چیف سیکرٹری ترقیات زاہد سلیم نے شاندار کارکردگی دکھاتے ہوئے دھواں دھار بولنگ کے ذریعے تین اہم وکٹیں حاصل کیں اور میچ کا پانسہ پلٹ دیا اس طرح چیف منسٹر الیون نے 45 رنز سے با آسانی میچ اپنے نام کرلیا وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی آل راؤنڈ شاندار کارکردگی میچ کا نمایاں پہلو رہی جس نے نہ صرف ٹیم کی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا بلکہ شائقین کی بھرپور توجہ بھی حاصل کی دوسری جانب میچ میں فیلڈنگ کے دوران سردار کوہیار خان ڈومکی، بابر خان ، سید امین، حسن میر نے نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔
خبرنامہ نمبر 353/2026
کوئٹہ، 17 جنوری:پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما اور رکنِ صوبائی اسمبلی حاجی علی مدد جتک سے اج یہاں کوئٹہ میں اپنی رہائش گاہ پر قبائیلی معتبرین سمیت لوگوں کی کثیر تعداد نے ملاقات کی ۔ ملاقات کے دوران شہریوں نے درپیش مسائل، شکایات اور تجاویز حاجی علی مدد جتک کے سامنے رکھیں، جنہیں انہوں نے نہایت توجہ، سنجیدگی اور ہمدردی کے ساتھ سنا۔حاجی علی مدد جتک نے عوام کو یقین دلایا کہ ان کے مسائل کے فوری اور مؤثر حل کے لیے متعلقہ محکموں اور اعلیٰ حکام سے رابطہ کیا جائے گا اور عملی اقدامات بھی اٹھائے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ عوامی نمائندے کی حیثیت سے عوام کی خدمت، ان کے حقوق کا تحفظ اور مسائل کا حل ان کی اولین ترجیح ہے۔
حاجی علی مدد جتک نے مزید کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی ہمیشہ عوامی سیاست پر یقین رکھتی ہے اور وہ ہر فورم پر عوام کی آواز بن کر ان کے مسائل اجاگر کرتے رہیں گے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیاکہ عوام کے اعتماد پر پورا اترتے ہوئے خدمت کے اس سلسلے کو آئندہ بھی جاری رکھا جائے گا۔
خبرنامہ نمبر 354/2025
کوہلو 17 جنوری ۔۔ رکن صوبائی اسمبلی نواب چنگیز مری نے کہا ہے کہ علاقے میں جاری تمام ترقیاتی کاموں کے معیار اور ان کی بروقت تکمیل پر کسی قسم کا سمجھوتا نہیں کیا جائے گا حلقے کے دور دراز علاقوں میں عوام کے دہلیز پر بنیادی سہولیات فراہم کررہے ہیں جس سے لوگوں کے دیرینہ مسائل حل ہوں گے انہوں نے واضح کیا کہ عوامی فلاح و بہبود کے منصوبے حکومت کی اولین ترجیح ہیں اور ان منصوبوں میں غفلت، لاپرواہی یا غیر ضروری تاخیر کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔ کوہلو کے شہری و دور افتادہ علاقوں میں معیاری سڑکوں کی تعمیر سے نہ صرف عوام کو آمدورفت کے موثر، محفوظ اور پائیدار ذرائع میسر آئیں گے بلکہ تجارتی سرگرمیوں کو بھی فروغ ملے گا جس سے مقامی معیشت مستحکم ہوگی جبکہ دیگر جاری ترقیاتی منصوبوں کی مؤثر اور بروقت تکمیل سے عوام کو پینے کے صاف پانی، بجلی کی بلا تعطل فراہمی، صحت اور تعلیم جیسی بنیادی سہولیات ہمہ وقت دستیاب ہوں گے جو کسی بھی ترقی یافتہ علاقے کےلئے ناگزیر ہوتی ہیں۔رکن صوبائی اسمبلی نے مزید کہا کہ متعلقہ محکموں اور ٹھیکیداروں کو واضح ہدایات دی گئی ہیں کہ وہ ترقیاتی کاموں میں شفافیت، معیار اور بروقت تکمیل کو ہر صورت یقینی بنائیں ناقص تعمیر یا مقررہ مدت سے تجاوز کرنے والے ترقیاتی کاموں کے ٹھیکیداروں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل سے علاقے میں خوشحالی آئے گا اور عوام کے معیارِ زندگی میں نمایاں تبدیلیاں رونما ہوں گے ۔۔۔
خبرنامہ نمبر355/2026
ضلع بارکھان میں سرکاری اراضی پر غیر قانونی قبضوں کے خلاف مؤثر اور بلاامتیاز کارروائی عمل میں لائی جا رہی ہے۔ اس سلسلے میں سپرنٹنڈنٹ آف پولیس بارکھان ڈاکٹر سعد آفریدی نے قانون کی بالادستی کو یقینی بناتے ہوئے فوری اقدامات جاری کیے ہیں۔تفصیلات کے مطابق مورخہ 16 جنوری 2026 کو تھانہ رکنی کی حدود میں سرکاری زمین پر قبضے کے حوالے سے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی پوسٹ کا ایس پی بارکھان نے فوری نوٹس لیا اور ڈی ایس پی رکنی اور ایس ایچ او رکنی کو واضح ہدایات جاری کیں کہ سرکاری اراضی کو فوری طور پر واگزار کرایا جائے اور قابضین کے خلاف مقدمہ درج کر کے قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
تاہم احکامات کے باوجود ایف آئی آر کے اندراج میں تاخیر اور فرائض میں غفلت برتنے پر ایس پی بارکھان ڈاکٹر سعد آفریدی نے سخت نوٹس لیتے ہوئے ڈی ایس پی اور ایس ایچ او رکنی کے خلاف محکمانہ تادیبی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔اس موقع پر ایس پی بارکھان نے واضح کیا کہ سرکاری املاک پر قبضہ اور سرکاری فرائض میں کسی قسم کی کوتاہی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی، جبکہ قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف بلا تفریق سخت کارروائی جاری رہے گی۔عوامی حلقوں نے پولیس کی اس بروقت اور جرات مندانہ کارروائی کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ ایسے اقدامات سے سرکاری اراضی کا تحفظ اور قانون کی عملداری مزید مضبوط ہوگی۔
خبرنامہ نمبر 356/2026
بارکھان 17 جنوری:۔ ڈی ایس ایم پی پی ایچ آئی غلام رسول کھیتران نے بنیادی مرکز صحت ناہڑ کوٹ کا تفصیلی دورہ کیا۔ دورے کے دوران انہوں نے مرکز صحت میں تعینات عملے کی حاضری اور دستیابی کا جائزہ لیا جبکہ مختلف شعبہ جات کے ریکارڈ کی جانچ پڑتال بھی کی۔ اس موقع پر او پی ڈی کے امور کا معائنہ کیا گیا اور مریضوں کو فراہم کی جانے والی سہولیات کا قریب سے مشاہدہ کیا گیا۔دورے کے دوران مرکز صحت میں صفائی ستھرائی کے انتظامات تسلی بخش پائے گئے۔ ڈی ایس ایم غلام رسول کھیتران نے عملے کی مجموعی کارکردگی کو سراہتے ہوئے مریضوں کو بہتر اور معیاری طبی سہولیات کی فراہمی پر زور دیا۔انہوں نے دورانِ ڈیوٹی عملے کو عملی تربیت بھی فراہم کی تاکہ خدمات کے معیار میں مزید بہتری لائی جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ پی پی ایچ آئی کی جانب سے بنیادی مراکز صحت کی باقاعدہ نگرانی کا مقصد عوام کو بروقت، معیاری اور مؤثر طبی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔ یہ دورہ عوامی صحت کے نظام کو مزید مستحکم بنانے کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
خبرنامہ نمبر 357/2026
سبی 17 جنوری :کمشنر سبی ڈویژن اسد اللہ فیض نے ای روزگار انیشیٹو کے تحت ڈویژنل پبلک سکول سبی میں جدید ڈیجیٹل کمپیوٹر لیب کا باقاعدہ افتتاح کیا۔ اس موقع پر ای روزگار پروگرام کے حوالے سے ایک پروقار تقریب بھی منعقد کی گئی۔ تقریب میں مس سکینہ عبداللہ خان (سی ای او ویب آرگنائزیشن، چیئرپرسن کمک فاؤنڈیشن، ممبر ورکر ویلفیئر بورڈ)، پرنسپل ڈویژنل پبلک سکول حافظ اسد، خواتین اساتذہ اور طالبات کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ تقریب کا باقاعدہ آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا جبکہ نعتِ رسولِ مقبول ﷺ بھی پیش کی گئی۔تقریب کے آغاز میں مس سکینہ عبداللہ خان نے شرکاء کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ای روزگار انیشیٹو حکومتِ پاکستان کا ایک اہم پروگرام ہے جس کا مقصد نوجوانوں بالخصوص خواتین کو فری لانسنگ، ڈیجیٹل مارکیٹنگ، ویب ڈیولپمنٹ، گرافک ڈیزائننگ اور ای کامرس کے شعبوں میں مفت تربیت فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام خصوصی طور پر خواتین کو ڈیجیٹل مہارتیں سکھا کر خود روزگاری کے مواقع فراہم کرنے کا ایک مؤثر اقدام ہے، جسے کمشنر سبی ڈویژن کی خصوصی دلچسپی اور کاوشوں سے عملی جامہ پہنایا گیا ہے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کمشنر سبی ڈویژن اسد اللہ فیض نے کہا کہ موجودہ دور میں ڈیجیٹل مہارتیں وقت کی اہم ضرورت ہیں اور ای روزگار جیسے پروگرام خواتین کو بااختیار بنانے میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کو باعزت روزگار کے مواقع فراہم کرنا حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے اور سبی ڈویژن میں اس پروگرام کا آغاز اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ کمشنر سبی نے اعلان کیا کہ ای روزگار پروگرام کے تحت پہلی خاتون جو فری لانسنگ یا ای روزگار کے ذریعے 200 ڈالر کمائیں گی، انہیں بطور انعام ایک لیپ ٹاپ دیا جائے گا۔ واضح رہے کہ ٹیکنیکل ٹریننگ سبی کی ایک معلمہ نے کمشنر سبی ڈویژن کو درخواست کی تھی جس میں انہوں نے کمپیوٹر لیپ ٹاپ کی عدم دستیابی کے باعث طلباء کو تدریسی عمل میں درپیش مشکلات سے آگاہ کیا تھا، جس پر کمشنر سبی نے اس مسئلے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے آج منعقدہ پروگرام کے دوران خود متعلقہ معلمہ کو لیپ ٹاپ فراہم کیا۔ آخر میں کمشنر سبی ڈویژن اسد اللہ فیض نے اس امید کا اظہار کیا کہ ای روزگار انیشیٹو خواتین کے لیے روشن مستقبل کی بنیاد ثابت ہوگا اور وہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے نہ صرف خود مختار ہوں گی بلکہ ملکی معیشت میں بھی مثبت کردار ادا کریں گی۔
خبرنامہ نمبر 358/2026
کوئٹہ۔ علاقائی موسمیاتی مرکز بلوچستان کے مطابق ہفتہ کے روز صوبے کے بیشتر اضلاع میں موسم سرد اور خشک رہنے کا امکان ہے، تاہم شمالی اضلاع میں موسم شدید سرد اور جزوی طور پر ابر آلود رہنے کی توقع ہے۔اسی طرح اتوار کے روز بھی صوبے کے بیشتر اضلاع میں سرد اور خشک موسم برقرار رہے گا، جبکہ شمالی علاقوں میں شدید سردی کے ساتھ جزوی ابر آلود موسم متوقع ہے۔گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران صوبے کے بیشتر اضلاع میں موسم سرد اور خشک رہا، جبکہ شمالی اور شمال مغربی اضلاع میں رات اور صبح کے اوقات میں شدید سردی ریکارڈ کی گئی۔گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران صوبے میں سب سے کم درجہ حرارت زیارت میں منفی 1.4 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔
خبرنامہ نمبر 359/2026
موسیٰ خیل 17جنوری حکومت بلوچستان کے احکامات اور ڈپٹی کمشنر کی ہدایات کی روشنی پر اسسٹنٹ کمشنر درگ نے بی ایس ڈی آئی (BSDI) کے زیرِ اہتمام زیرِ تعمیر سابقہ لیویز موجودہ پولیس چیک پوسٹ ‘تنگی سر اور شبوزئ ٹو تونسہ شریف روڈ پہ سائیڈ پروٹیکشن دیوار کے کام کا معائنہ کیا دورے کے دوران اسسٹنٹ کمشنر نے جاری ترقیاتی کاموں کی رفتار اور معیار کا باریک بینی سے جائزہ لیا۔ انہوں نے کام کے مجموعی معیار پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ ٹھیکیداروں کو سخت ہدایات جاری کیں کہ تعمیراتی کام میں بہترین میٹریل کا استعمال اور منصوبوں کی مقررہ وقت کے اندر تکمیل کو ہر صورت یقینی بنایا جائےانہوں نے مزید کہا کہ عوامی مفاد کے ان منصوبوں میں کسی بھی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی تاکہ پولیس فورس کو اپنی پیشہ ورانہ خدمات کی انجام دہی کے لیے بہتر ماحول میسر آ سکے اور روڈ کی تکمیل سے لوگ فائدہ اٹھا سکیں
خبرنامہ نمبر 360/2026
عوام کو معیاری اور بروقت طبی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانے کے سلسلے میں ڈسٹرکٹ سپورٹ منیجر پی پی ایچ آئی بارکھان غلام رسول کھیتران نے بنیادی مرکز صحت ناہڑ کوٹ کا جامع اور تفصیلی دورہ کیا۔ دورے کے دوران انہوں نے مرکز صحت میں تعینات طبی و انتظامی عملے کی حاضری، دستیابی اور پیشہ ورانہ کارکردگی کا باریک بینی سے جائزہ لیا، جبکہ مختلف شعبہ جات کے ریکارڈ کی جانچ پڑتال بھی کی۔ڈی ایس ایم پی پی ایچ آئی نے او پی ڈی کے نظام، مریضوں کے اندراج، ادویات کی دستیابی اور فراہم کی جانے والی طبی سہولیات کا قریب سے مشاہدہ کیا۔ اس موقع پر مرکز صحت میں صفائی ستھرائی اور مجموعی انتظامات تسلی بخش پائے گئے، جس پر انہوں نے متعلقہ عملے کی کاوشوں کو سراہا۔غلام رسول کھیتران نے عملے کی مجموعی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ہدایت کی کہ مریضوں کے ساتھ خوش اخلاقی، بروقت علاج اور معیاری خدمات کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے دورانِ ڈیوٹی عملے کو عملی تربیت اور رہنمائی بھی فراہم کی تاکہ عوام کو بہتر سے بہتر طبی سہولیات میسر آ سکیں۔
اس موقع پر انہوں نے کہا کہ پی پی ایچ آئی بلوچستان کی جانب سے بنیادی مراکز صحت کی مسلسل نگرانی کا مقصد عوام کو مؤثر، معیاری اور قابلِ اعتماد طبی سہولیات کی فراہمی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس نوعیت کے دورے عوامی صحت کے نظام کو مزید مضبوط اور فعال بنانے کے عزم کی عملی عکاسی ہیں۔
خبرنامہ نمبر 361/2025
کوئٹہ:- 17 جنوری:صوبائی وزیر خوراک و چیئرمین بلوچستان فوڈ اتھارٹی حاجی نور محمد خان دمڑ نے مکران کوسٹل ہائی وے پر مسافر بس کے افسوسناک ٹریفک حادثے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے اپنے جاری کردہ بیان میں صوبائی وزیر خوراک نے حادثے میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر دلی رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ المناک واقعہ انتہائی افسوسناک اور دل دہلا دینے والا ہے، جس نے پورے صوبے کو سوگوار کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ معصوم جانوں کا یوں ضائع ہونا ناقابلِ تلافی نقصان ہے حاجی نورمحمد خان دمڑ نے جاں بحق افراد کے لواحقین سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے مرحومین کے درجات کی بلندی اور پسماندگان کیلئے صبرِ جمیل کی دعا کی انہوں نے حادثے میں زخمی ہونے والے افراد کی جلد اور مکمل صحت یابی کیلئے بھی دعا کی اور متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں صوبائی وزیر خوراک نے کہا کہ اللہ تعالیٰ متاثرہ خاندانوں کو یہ صدمہ برداشت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
خبرنامہ نمبر 362/2025
کوئٹہ، 17 جنوری :وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے مکران کوسٹل ہائی وے پر اوماڑہ کے قریب پیش آنے والے افسوسناک مسافر بس حادثے پر وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ سے ٹیلی فونک رابطہ کیا۔ رابطے کے دوران حادثے میں زخمی ہونے والے مسافروں کی حالت، جاری علاج معالجے اور فوری طبی امداد سے متعلق تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا وزیر اعلیٰ بلوچستان نے انسانی جانوں کے تحفظ کو اولین ترجیح قرار دیتے ہوئے ہدایت کی کہ حادثے میں شدید زخمی ہونے والے مسافروں کو فوری طور پر کراچی کے معیاری نجی اسپتالوں میں ایئر لفٹ کیا جائے۔ وزیر اعلیٰ سیکرٹریٹ کے اعلامیے کے مطابق یہ عمل فوری بنیادوں پر جاری ہے تاکہ زخمیوں کو بروقت اور بہترین طبی سہولیات فراہم کی جا سکیں وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے ڈپٹی کمشنر گوادر اور متعلقہ انتظامی حکام کو ہدایت کی کہ زخمی مسافروں کی فوری شفٹنگ، طبی دیکھ بھال اور تمام انتظامی امور میں کسی قسم کی کوتاہی نہ برتی جائے اور تمام اقدامات بروقت مکمل کیے جائیں۔ ڈپٹی کمشنر گوادر نقیب اللہ خان کے مطابق حادثے میں زخمی ہونے والے تمام مسافروں کا تعلق صوبہ سندھ سے ہے وزیر اعلیٰ بلوچستان نے مکران کوسٹل ہائی وے پر پیش آنے والے اس المناک حادثے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر دلی رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی۔ انہوں نے سوگوار خاندانوں سے دلی تعزیت کا اظہار بھی کیا وزیر اعلیٰ نے جاں بحق افراد کے جسدِ خاکی ان کے آبائی علاقوں تک پہنچانے کے لیے ایمبولینس سروس فراہم کرنے کی ہدایت جاری کی، تاکہ لواحقین کو اس مشکل گھڑی میں سہولت فراہم کی جا سکے وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے مکران کوسٹل ہائی وے حادثے کی تفصیلی رپورٹ طلب کرتے ہوئے واقعے کی مکمل انکوائری کا حکم دے دیا ہے، تاکہ حادثے کی وجوہات کا تعین کیا جا سکے اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کیے جا سکیں۔
خبرنامہ نمبر363/2026
استامحمد ۔ڈپٹی کمشنر استامحمد محمد رمضان پلال نے آج ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر استامحمد شاہ بخش پندرانی کے ہمراہ زیرِ تعمیر تعلیمی عمارت کا معائنہ کیا اس دوران تعمیراتی سرگرمیوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا جس میں کام کی رفتار، معیار ڈیزائن کی پیروی اور استعمال ہونے والے میٹریلز کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا ڈپٹی کمشنر نے واضح کیا کہ ابتدائی مرحلے میں تعمیراتی کام کے دوران ادارہ کو غیر معیاری تعمیر اور ناقص میٹریل سے متعلق شکایات موصول ہوئی تھیں۔جس کا فوری نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ ٹیم نے نہ صرف نقص کی نشاندہی کی بلکہ خامیوں کو بھی درست کروایا گیا اور کام کو تجویز کردہ معیار کے مطابق دوبارہ مکمل کرانے کی ہدایت کی جس پہ ابھی ہدایت کے مطابق کام جاری ہے ۔ آمدہ رپورٹ کے مطابق اس وقت منصوبے پر جاری کام مجموعی طور پر تسلی بخش ہے۔ اس دورے میں ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر شاہ بخش پندرانی اور ایس ڈی او بلڈنگ عاشق علی بوہر بھی انکے ہمراہ تھے جنہوں نے ڈپٹی کمشنر کو تعمیراتی پیش رفت ، مالی وسائل کے استعمال، مٹیریل ٹیسٹنگ، اور منصوبے کی تکمیل کے مختلف مراحل سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی ڈپٹی کمشنر محمد رمضان پلال نے موقع پر واضح ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ کہ منصوبے کی تکمیل میں تاخیر ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی نہ منصوبے کے تعمیراتی معیار پر کوئی سمجھوتہ کیا جائے گا انہوں نے اس بات پہ زور دیا کہ ادارے کی عمارت کو طلبہ و اساتذہ کے لیے محفوظ، مضبوط اور معیار کے مطابق پائے تکمیل تک پہنچایا جائے گا انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ تعلیمی انفراسٹرکچر کی بہتری کو اولین ترجیح دیتی ہے اور اس مقصد کے حصول کے لیے فیلڈ وزٹ مانیٹرنگ مشاہدہ اورجوابدہی کا عمل باقاعدگی سے جاری رہے گا تاکہ تمام سرکاری منصوبے شفافیت اور معیار کے ساتھ مکمل ہوں۔
خبرنامہ نمبر364/2026
کوئٹہ، 17 جنوری : وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور کور کمانڈر بلوچستان لیفٹیننٹ جنرل راحت نسیم احمد خان کی مشترکہ زیر صدارت ریاستی دفاعی کانفرنس (ہارڈننگ آف دی اسٹیٹ کانفرنس) کا 21 واں اجلاس کوئٹہ میں منعقد ہوا وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ کانفرنس گزشتہ ڈیڑھ سال سے باقاعدگی سے ہو رہی ہے جو صوبے میں امن و استحکام کے لیے ایک موثر پلیٹ فارم ثابت ہوئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ تقریباً ہر 21 دن بعد ہونے والے اس اجلاس کا بنیادی مقصد پچھلی کانفرنس میں کیے گئے فیصلوں پر عمل درآمد کی پیشرفت کو یقینی بنانا ہے اجلاس میں وفاقی و صوبائی اداروں اور محکموں کے علاوہ سیکورٹی فورسز (پاکستان آرمی، فرنٹیئر کور، پاکستان کوسٹ گارڈ) کے نمائندگان نے شرکت کی۔ اجلاس میں صوبے میں اینٹی سمگلنگ اور اینٹی نارکوٹکس آپریشنز پر خصوصی توجہ دی گئی اور ان مضر سرگرمیوں کے خلاف کارروائیوں کو تیز کرنے پر زور دیا گیا شرکائ نے “بی ایریاز ٹو اے ایریاز کنورژن”کے حوالے سے اطمینان کا اظہار کیا۔ اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ صوبے کے تمام ڈویژنز میں اس حکمت عملی کی مؤثریت کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کی جائے گی تاکہ ترقیاتی فوائد ہر علاقے تک پہنچ سکیں اور امن و خوشحالی کی فضا کو مستحکم کیا جا سکے اجلاس میں صوبے میں مجموعی سلامتی کی صورتحال، ترقیاتی منصوبوں کی پیشرفت اور عوام کی فلاح و بہبود کے امور پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیااور اس امر کا اعادہ کیا گیا کہ بلوچستان کے درخشندہ مستقبل کیلئے اب ایسی ہی موثر حکمت عملی پر عمل پیرا ہوا جائے گا۔
خبرنامہ نمبر 365/2026
تربت ۔ صوبائی وزیر منصوبہ بندی و ترقیات میر ظہور احمد بلیدی ، تربت یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر گل حسن بلوچ ، جسٹس ریٹائرڈ بلوچستان ہائی کورٹ شکیل بلوچ ، ڈویژنل مانیٹرنگ آفیسر کالجز مکران برکت اسماعیل ، ڈاکٹر امیر بخش بلوچ ، سابقہ ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر محمد جان رضا اور گورنمنٹ عطاء شاد ڈگری کالج تربت کے پرنسپل پروفیسر ظہیر بلوچ گورنمنٹ عطاء شاد ڈگری کالج تربت کے ابتدائی بیچز کے فارغ التحصیل طلبہ (Alumni) کے اعزاز میں منعقدہ تقریب سے خطاب کررہے ہیں
خبرنامہ نمبر366/2026
کوئٹہ: 17 جنوری :عدالت عالیہ بلوچستان کے جج جسٹس نجم الدین مینگل کی بطور مستقل جج حلف برداری کی تقریب 19 جنوری 2026 بروز پیر صبح 11:30 بجے ہائی کورٹ آف بلوچستان کے آڈیٹوریم ہال میں منعقد ہوگی۔ چیف جسٹس عدالت عالیہ بلوچستان جسٹس محمد کامران خان ملاخیل مستقل ہونے والے جج جسٹس نجم الدین مینگل سے حلف لیں گے۔ حلف برداری کی تقریب کے موقع پر معزز ججز، اعلیٰ عدالتی افسران، وکلائ اور دیگر معزز شخصیات شرکت کریں گی۔
خبرنامہ نمبر367/2026
قلات:مذہب کے عالمی دن کی مناسبت سے ضلعی انتظامیہ کی جانب سے قرآن خوانی کا اہتمام اسسٹنٹ کمشنرقلات طاہرسنجرانی کی رہائش گاہ پر کیاگیا۔اسسٹنٹ کمشنرطاہزسنجرانی اوردیگرانتظامی افسران علاقہ عمائدین نے بھی قرآن خوانی میں شرکت کی قرآن خوانی کے بعد ملک کی سلامتی اسٹحکام اور خوشحالی کے لیئے اجتماعی دعاکی گئی۔یوم مذہب کی مناسبت سے اسسٹنٹ کمشنر طاہر سنجرانی نےاپنے پیغام میں کہاکہ یومِ مذہب ہمیں اس بنیادی حقیقت کی یاد دہانی کراتا ہے کہ تمام مذاہب انسانیت، امن، محبت، رواداری اور باہمی احترام کا درس دیتے ہیں دنیا میں پائیدار امن اسی وقت ممکن ہے جب مختلف مذاہب اورعقائد کے ماننے والے ایک دوسرےکےعقائد کا احترام کریں اورنفرت،تعصب اور انتہا پسندی سےاجتناب کریں اسلام سمیت تمام الہامی مذاہب انسانوں کےدرمیان بھائی چارے، انصاف اور مساوات کا پیغام دیتے ہیں یومِ مذہب منانے کا مقصد یہی ہےکہ ہم اختلافات کے باوجودبرداشت اور ہم آہنگی کو فروغ دیں تاکہ ایک پرامن اور متحد معاشرہ تشکیل دیا جا سکے۔
خبرنامہ نمبر368/2026
گوادر/پسنی: ڈپٹی کمشنر گوادر نقیب اللہ کاکڑ نے مقامی ماہی گیروں اور فش کمپنی مالکان کے مابین گزشتہ پانچ سالوں سے جاری تنازعہ کو صرف دو ہفتوں میں کامیابی کے ساتھ حل کر دیا۔ تنازعہ کے حل کے موقع پر رکن صوبائی اسمبلی گوادر مولانا ہدایت الرحمان، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر گوادر ڈاکٹر عبدالشکور اور اسسٹنٹ کمشنر پسنی خسرو دلاوری بھی موجود تھے۔واضح رہے کہ تمام فریقین نے باہمی رضامندی سے ڈپٹی کمشنر گوادر کو واحد ثالث تسلیم کرتے ہوئے معاملہ حل کرنے کا اختیار دیا تھا۔ ڈپٹی کمشنر گوادر نے خود پسنی کا دورہ کر کے متعلقہ فریقین سے تفصیلی مشاورت کے بعد اس دیرینہ مسئلے کو ہمیشہ کے لیے حل کر دیا۔تنازعہ کے خاتمے کے بعد پسنی میں جاری ہڑتال ختم کر دی گئی جبکہ سمندر میں ماہی گیری کا عمل بھی بحال ہو گیا، جس سے مقامی ماہی گیروں اور کاروباری طبقے میں اطمینان کی لہر دوڑ گئی۔فیصلہ سازی کے موقع پر ڈپٹی کمشنر گوادر نقیب اللہ کاکڑ، ایم پی اے گوادر مولانا ہدایت الرحمان، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ڈاکٹر عبدالشکور، اسسٹنٹ کمشنر پسنی خسرو دلاوری، ڈی ایس پی پولیس ملک احمد، انجمن تاجران پسنی کے صدر لیاقت بلوچ، کشتی مالکان کے نمائندہ شیخ عطا بلوچ، فش کمپنی مالکان کے نمائندہ امام بخش عثمان اور ماہی گیروں کے نمائندے ناخدا عنایت بلوچ اور ناخدا رزاق بلوچ موجود تھے۔ اجلاس میں غیر مقامی ناخداؤں سے متعلق معاملات پر بھی اتفاقِ رائے سے فیصلہ کیا گیا۔یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ دونوں فریقین گزشتہ پانچ برسوں سے اپنے مؤقف پر قائم تھے اور عدالتی کارروائی کے باوجود مسئلہ حل نہیں ہو سکا تھا، تاہم موجودہ ڈپٹی کمشنر گوادر کی مؤثر حکمتِ عملی اور سنجیدہ کاوشوں کے باعث تنازعہ خوش اسلوبی سے انجام کو پہنچا۔مقامی ماہی گیروں، فش کمپنی مالکان، کشتی مالکان اور انجمن تاجران پسنی نے ڈپٹی کمشنر گوادر نقیب اللہ کاکڑ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ضلعی انتظامیہ نے بروقت اور مؤثر کردار ادا کر کے علاقے میں امن، ہم آہنگی اور معاشی سرگرمیوں کو بحال کیا ہے۔
خبرنامہ نمبر 369/2026
گوادر/پسنی:ڈپٹی کمشنر گوادر نقیب اللہ کاکڑ نے محکمہ فشریز پسنی میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر میرین سمیت دیگر غیر حاضر ملازمین کے خلاف کارروائی کے لیے اسسٹنٹ کمشنر پسنی خسرو دلاوری کو باقاعدہ انکوائری کرنے کی ہدایات جاری کر دی ہیں۔یہ احکامات پسنی میں منعقدہ کھلی کچہری کے دوران ماہی گیروں کی جانب سے سامنے آنے والی شکایات پر جاری کیے گئے۔ ماہی گیروں نے شکایت کی کہ محکمہ فشریز پسنی میں منظور شدہ تقریباً 170 ملازمین میں سے صرف چند ملازمین حاضر رہتے ہیں جبکہ اکثریت غیر حاضر ہے، جس کے باعث ماہی گیروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔شکایت کنندگان کا کہنا تھا کہ محکمہ فشریز ماہی گیروں کو تحفظ فراہم کرنے کے بجائے بعض کاروباری عناصر کی حمایت کر رہا ہے، جبکہ اعلیٰ افسران دفتری امور انجام دینے کے بجائے گھروں میں بیٹھے رہتے ہیں۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر گوادر نے واضح کیا کہ آج کی کھلی کچہری میں بھی محکمہ فشریز کے وہ افسران موجود نہیں تھے جن کی شرکت ضروری تھی، جو کہ سنگین غفلت کے مترادف ہے۔ڈپٹی کمشنر نے اسسٹنٹ کمشنر پسنی کو ہدایت کی کہ وہ معاملے کی مکمل انکوائری کرکے تفصیلی رپورٹ پیش کریں، جس کے بعد اسسٹنٹ ڈائریکٹر میرین سمیت تمام غیر حاضر ملازمین کے خلاف قواعد و ضوابط کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
خبرنامہ نمبر 370/2026
گوادر/پسنی:ڈپٹی کمشنر گوادر نقیب اللہ کاکڑ کی زیرِ صدارت پسنی شہر اور گردونواح کے علاقوں کے عوامی مسائل کے حل کے لیے ایک کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا، جس میں رکن صوبائی اسمبلی مولانا ہدایت الرحمان بلوچ، سول و عسکری اداروں کے افسران، متعلقہ محکموں کے سربراہان اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔کھلی کچہری کے دوران شہریوں نے صحت، تعلیم، پانی، روزگار، امن و امان، منشیات، ماہی گیری، کھیلوں، بلدیاتی امور اور بنیادی سہولیات سے متعلق اپنی شکایات اور مسائل ڈپٹی کمشنر اور دیگر افسران کے سامنے پیش کیے۔اس موقع پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل ڈاکٹر عبدالشکور، اسسٹنٹ کمشنر پسنی خسرو دلاوری، ڈی ایس پی پولیس ملک احمد اور دیگر متعلقہ افسران بھی موجود تھے۔ کھلی کچہری میں پسنی اور گردونواح کے علاقوں کو درپیش عمومی مسائل، خصوصاً صحت، تعلیم، پینے کے پانی کی قلت، بے روزگاری، امن و امان اور منشیات جیسی لعنت پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ڈپٹی کمشنر نقیب اللہ کاکڑ نے منشیات کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کی ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ منشیات کے کاروبار میں ملوث عناصر کے خلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی اپنائی جائے گی اور کسی کو بھی معاشرے کو تباہ کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
کھلی کچہری میں پسنی ریک پشت کے واٹر سپلائی مسائل، خصوصاً سولرائزیشن کے منصوبوں پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ انہیں پسنی شہر کی بڑھتی ہوئی آبادی اور شہری حدود میں گنجائش کی کمی کا مکمل ادراک ہے۔ زرین ہاؤسنگ اسکیم کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ اس منصوبے کی انکوائری مکمل ہو چکی ہے اور آئندہ دو ماہ کے اندر اس کے بارے میں باضابطہ اعلان کیا جائے گا۔شہریوں کی جانب سے موٹروے پولیس سے متعلق شکایات پر ڈپٹی کمشنر نے یقین دہانی کرائی کہ اس معاملے کو اعلیٰ حکام کے ساتھ اٹھایا جائے گا۔ اسی طرح پسنی میں بڑھتے ہوئے ریت کے ٹیلوں سے متاثرہ گھروں کے حوالے سے بھی شہریوں نے تحفظات کا اظہار کیا، جس پر متعلقہ محکموں کو مسئلے کے حل کی ہدایات دی گئیں۔کھلی کچہری میں نوجوانوں اور کھلاڑیوں کے مسائل، خصوصاً فٹ بال اور دیگر کھیلوں کے فروغ پر بھی گفتگو کی گئی۔ ڈپٹی کمشنر نے یقین دہانی کرائی کہ کھیلوں کے فروغ کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں گے۔اس کے علاوہ پسنی فش ہاربر اور جیٹی کے مسائل بھی زیر بحث آئے۔ فش ہاربر کے منیجنگ ڈائریکٹر کی طویل غیر حاضری اور پسنی جیٹی کے طویل عرصے سے غیر فعال ہونے پر بھی تفصیلی بات چیت کی گئی۔ ماہی گیروں نے سمندری طوفانوں کے دوران کشتیوں اور دیگر نقصانات کا ذکر کیا۔کھلی کچہری میں بلدیاتی مسائل، شہر کی صفائی، جھاڑیوں کی کٹائی، سڑکوں کی ٹوٹ پھوٹ، پسنی بلڈ بینک اور پاک عمان ہسپتال میں طبی مشینری کی کمی، جبکہ چربندن کے اسکولوں کی مرمت اور دیگر تعلیمی مسائل پر بھی غور کیا گیا۔ڈپٹی کمشنر نقیب اللہ کاکڑ نے تمام مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کی یقین دہانی کراتے ہوئے متعلقہ افسران کو واضح ہدایات جاری کیں کہ عوامی شکایات کا فوری اور مؤثر ازالہ یقینی بنایا جائے۔




