خبرنامہ نمبر 313/2026
کوئٹہ، 15 جنوری .وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے شدید سردی کے دوران کوئٹہ، زیارت، سوئی اور قلات میں گیس کی کم پریشر اور عدم دستیابی پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ عوام کو اس شدید سرد موسم میں اس طرح مشکلات سے دوچار کرنا کسی صورت قابلِ قبول نہیں ، وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت پی پی ایل اور سوئی سدرن گیس کمپنی کے حکام کا اعلیٰ سطحی اجلاس چیف منسٹر سیکرٹریٹ میں منعقد ہوا جس میں اراکین بلوچستان اسمبلی نے خصوصی شرکت کی اجلاس میں مختلف علاقوں میں گیس پریشر میں کمی، طویل بندش اور عدم فراہمی سے متعلق شکایات پر تفصیلی غور کیا گیا وزیر اعلیٰ بلوچستان نے گیس حادثات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکام کو ہدایت کی کہ حفاظتی اقدامات کو مزید مؤثر، سخت اور نتیجہ خیز بنایا جائے تاکہ قیمتی انسانی جانوں کا تحفظ یقینی ہو۔ انہوں نے واضح کیا کہ صارفین کے لیے گیس کی عدم دستیابی اور کم پریشر ناقابلِ قبول ہے اور اس کا فوری، مستقل اور قابلِ عمل حل نکالا جائے میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ وفاقی وزارت توانائی کی جانب سے بلوچستان کے لیے گیس کی محدود ایلوکیشن صوبے کے عوام کے ساتھ ناانصافی کے مترادف ہے جس کے باعث عوام شدید اذیت میں مبتلا ہیں انہوں نے کہا کہ اس سنگین صورتحال سے وزیر اعظم پاکستان کو باضابطہ طور پر خط لکھ کر آگاہ کیا جائے گا۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ افسوس کا مقام ہے کہ سوئی، جہاں سے ملک بھر کو گیس فراہم کی جاتی ہے، وہیں آج بھی گیس کے سنگین مسائل موجود ہیں اور خواتین لکڑیوں پر روٹی پکانے پر مجبور ہیں انہوں نے کہا کہ کوئٹہ اور دیگر سرد علاقوں میں عوام شدید سردی میں ٹھٹھر رہے ہیں جبکہ گیس دستیاب نہیں یہ صورتحال ہرگز برداشت نہیں کی جا سکتی وزیر اعلیٰ بلوچستان نے پی پی ایل اور سوئی سدرن گیس کمپنی کے حکام کو دو ٹوک الفاظ میں ہدایت دی کہ بلوچستان میں گیس بحران کو ہر صورت حل کیا جائے انہوں نے کہا کہ حکومت عوامی مسائل سے مکمل طور پر آگاہ ہے اس معاملے میں گیس کمپنیوں کا کسی قسم کا حیلہ بہانہ یا غفلت برداشت نہیں کی جائے گی لہذا متعلقہ حکام عوام کی مشکلات کے فوری ازالے کے لیے موثر اقدامات اٹھائیں.
…
خبرنامہ نمبر 314/2026
کوئٹہ 15جنوری ۔بولان میڈیکل کالج کے پرنسپل کے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق محکمہ صحت کے احکامات کی روشنی میں ڈاکٹر ہدایت اللہ، سینئر رجسٹرار کو ریڈیوتھراپی‘آنکولوجی ڈیپارٹمنٹ کا سربراہ مقرر کر دیا گیا ۔ وہ فوری طور پر بولان میڈیکل کمپلیکس ہسپتال کوئٹہ میں مذکورہ شعبے کی سربراہی کے فرائض انجام دیں گے اور یہ تقرری تاحکمِ ثانی موثر رہے گی۔
۔۔۔
خبرنامہ نمبر315/2026
کوہٹہ 15جنوری ۔علاقائی موسمیاتی مرکز بلوچستان کے مطابق جمعرات کو صوبے کے بیشتر اضلاع میں موسم سرد اور جزوی ابر آلود رہنے کا امکان ہے، جبکہ شمالی اضلاع میں موسم شدید سرد رہے گا۔جمعہ کو صوبے کے بیشتر اضلاع میں موسم سرد اور خشک رہنے کی توقع ہے، جبکہ شمالی اضلاع میں شدید سردی برقرار رہے گی۔گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران صوبے کے بیشتر اضلاع میں موسم خشک اور سرد رہا، جبکہ شمالی اور شمال مغربی اضلاع میں رات اور صبح کے اوقات میں شدید سردی ریکارڈ کی گئی۔زیارت میں کم سے کم درجہ حرارت منفی 3.7 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔
۔۔۔
خبرنامہ نمبر316/2026
کوئٹہ15 جنوری۔ سیکرٹری زراعت و کوآپریٹوز بلوچستان نور احمد پرکانی کی صدارت میں محکمہ زراعت کے مختلف شعبہ جات کا ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا، جس میں صوبے میں زرعی ترقیاتی منصوبوں، پی ایس ڈی پیز (PSDPs) اور ایس این ایز (SNEs) سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں محکمہ زراعت (توسیع)، زراعت (تحقیق)، آن فارم واٹر مینجمنٹ (OFWM)، زراعت (انجینئرنگ)، ڈائریکٹوریٹ جنرل CRS، زرعی کالج کوئٹہ و پنجگور اور گرین پاکستان انیشی ایٹو بلوچستان کے نمائندوں نے شرکت کی۔
اجلاس کے دوران مالی سال 2025-26 کی دوسری سہ ماہی کے ترقیاتی منصوبوں اور پی ایس ڈی پیز کی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا، جبکہ مالی سال 2024-25 کے لیے مجوزہ پی ڈی پی پیراز (جولائی 2025 تا نومبر 2025) پر بھی غور کیا گیا جو آئندہ ڈی اے سی اجلاس میں پیش کیے جائیں گے۔ اس کے علاوہ مالی سال 2026-27 کے لیے ایس این ایز سے متعلق امور پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا، جنہیں بجٹ ترجیحی کمیٹی کے آئندہ اجلاس میں زیر بحث لایا جائے گا۔سیکرٹری زراعت نور احمد پرکانی نے تمام متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ ترقیاتی اسکیموں، پی ایس ڈی پیز اور ایس این ایز پر عملدرآمد کو تیز کیا جائے اور آئندہ اجلاسوں میں مکمل تیاری، درست اعداد و شمار اور مطلوبہ دستاویزات کے ساتھ شرکت کو یقینی بنایا جائے تاکہ زرعی شعبے کی مجموعی کارکردگی کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔
۔۔۔
خبرنامہ نمبر 317/2026
شیرانی15جنوری ۔یونیسف اور سی پی ڈی کی اشتراک سے اساتذہ کو اے آئی کے ذریعے طلبا کی حاضری اور نگرانی کے حوالے سے دو روزہ تربیت کا اہتمام کیا گیا ماسٹرز ٹرینرز ایمل خان اور نور محمد نے اساتذہ کو تربیت فراہم کی اس موقع پر ٹیچرز ایسوسی ایٹ اکرام اللہ اور پراجیکٹ اسسٹنٹ شعیب سالار نے تربیت کے عمل کی نگرانی کی ماسٹرز ٹرینرز نے بتایا کہ اسکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ بلوچستان یونیسیف اور گلوبل پارٹنرشپ فار ایجوکیشن (GPE) کے اشتراک سے کی گئی ایک جامع تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ بلوچستان میں پرائمری سطح پر اسکول چھوڑنے کی شرح نہایت تشویشناک ہے تحقیق کے مطابق صوبے میں لڑکوں میں اسکول چھوڑنے کی شرح 59 سے 61 فیصد جبکہ لڑکیوں میں یہ شرح 56 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے۔یہ تحقیق اسٹڈی آن اسکول ڈراپ آؤٹس بلوچستان کے عنوان سے کی گئی جس میں 2016 سے 2021 کے دوران بلوچستان کے 20 اضلاع کا جائزہ لیا گیا رپورٹ کے مطابق بچوں سے متعلق مسائل والدین کی عدم دلچسپی معاشرتی دباؤ اسکولوں سے جڑے مسائل نظام کی خامیاں اور معاشی و سماجی حالات اسکول چھوڑنے کی بڑی وجوہات ہیں رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ بچوں کو مرکز بنا کر اقدامات کیے جائیں والدین کی معاونت بڑھائی جائے اسکولوں کے انفراسٹرکچر اور تدریسی معیار کو بہتر بنایا جائے اور ایک مؤثر ڈراپ آؤٹ روک تھام نظام تشکیل دیا جائے دوسری جانب موجودہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے اس وقت بلوچستان میں اساتذہ کی خصوصی تربیت کا سلسلہ جاری ہے جس میں جدید ٹیکنالوجی خصوصاً آرٹیفیشل انٹیلیجنس (اے آئی) کے استعمال پر توجہ دی جا رہی ہے تربیتی سیشنز کے دوران اساتذہ کو اے آئی کے ذریعے طلبا کی حاضری تعلیمی کارکردگی کی نگرانی اور جامع جائزہ رپورٹس تیار کرنے کی عملی تربیت دی جا رہی ہے حکام کے مطابق اے آئی پر مبنی یہ نظام اسکول چھوڑنے کے رجحان کو بروقت شناخت کرنے اور مؤثر حکمت عملی اپنانے میں مددگار ثابت ہوگا جس سے مستقبل میں بلوچستان میں تعلیمی بہتری اور ڈراپ آؤٹ کی شرح میں کمی لانے کی امید ہے تربیت کے اختتام پر اساتذہ میں اسناد تقسیم کی گئی۔
۔۔۔
خبرنامہ نمبر 318/2026
گوادر : 15 جنوری ۔جامعہ گوادر میں وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر عبدالرزاق صابر کی زیر صدارت ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا، جس میں تعلیمی پیش رفت، مستقبل کی منصوبہ بندی اور ادارے کے اہم اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں پرو وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر سید منظور احمد، ڈین فیکلٹی سوشل سائنسز پروفیسر ڈاکٹر جان محمد، رجسٹرار ڈاکٹر دولت خان، ڈین فیکلٹی اف انجینئیرنگ ڈاکٹر محب اللہ کے علاوہ مختلف شعبہ جات کے چیئرپرسنز نے شرکت کی۔
وائس چانسلر نے جامعہ کی محض چار سالہ قلیل مدت میں حاصل کی گئی کامیابیوں پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جامعہ گوادر خطے کی ضروریات اور عالمی رجحانات کے مطابق بلیو اکانومی، ساحلی ترقیاتی مطالعات، سی پیک، میری ٹائم، میرین اور سمندر امور سے متعلق علوم پر خصوصی توجہ مرکوز کر رہی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ یہ شعبہ جات گوادر اور ملحقہ ساحلی علاقوں کی پائیدار ترقی کے لیے نہایت اہم ہیں۔وائس چانسلر نے پاک چائنا ٹیکنیکل اینڈ ووکیشنل انسٹیٹیوٹ کے تحت پیش کیے جانے والے مختلف اسکل ڈویلپمنٹ کورسز کے آغاز اور پیش رفت پر بھی اطمینان کا اظہار کیا اور انہیں طلبہ کی ملازمت کے مواقع اور عملی مہارتوں میں اضافے کے لیے ایک اہم قدم قرار دیا۔ اجلاس میں نئے سمسٹر کی کلاسز کے آغاز پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا، جس میں فیکلٹی اور طلبہ کی باقاعدہ حاضری، اور تعلیمی نظم و ضبط کو یقینی بنانے کے لیے بایومیٹرک حاضری نظام کے مؤثر استعمال پر خصوصی زور دیا گیا۔ اجلاس میں شعبہ مینجمنٹ سائنسز کے زیر اہتمام ایم ایس کلاسز کے آغاز، کلاس اسٹرکچر اور شیڈولنگ سے متعلق امور پر بھی تفصیلی غور کیا گیا۔ اس کے علاوہ یونیورسٹی کے زیر اہتمام دوسرے روایتی بزنس گالا 2026 کی تیاریوں کا بھی جائزہ لیا گیا اور جلد از جلد منعقدکرنے کا فیصلہ ہوا ، جس سے طلبہ کو کاروباری سرگرمیوں، صنعت سے روابط اور عملی تجربات حاصل کرنے کے مواقع میسر آئیں گے۔ اجلاس میں جامعہ گوادر کی پہلی کانووکیشن 2026 کی پہلی سہ ماہی میں منعقد کرنے کے منصوبے پر بھی گفتگو کی گئی۔ وائس چانسلر نے متعلقہ کمیٹیوں کو ہدایت کی کہ وہ اس تاریخی تقریب کے انعقاد کے لیے باضابطہ تیاریوں کا آغاز کریں تاکہ یہ اولین اور تاریخی تقریب جامعہ کے تعلیمی وقار کے شایانِ شان انداز میں منعقد کی جا سکے۔ آخر میں وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر عبدالرزاق صابر نے تمام انتظامی اور تعلیمی شعبہ جات کے سربراہان پر زور دیا کہ اجلاس میں کیے گئے فیصلوں پر باہمی ہم آہنگی، عزم اور بروقت عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ واضح تعلیمی وژن، ابھرتے ہوئے شعبہ جات پر توجہ اور معیار کی پاسداری جامعہ گوادر کو ساحلی خطے میں ایک نمایاں اعلیٰ تعلیمی ادارہ بنانے میں مزید مضبوط کردار ادا کرے گی۔
۔۔۔
خبرنامہ نمبر 319/2026
قلات 15جنوری ۔ ضلعی انتظامیہ قلات کی جانب سے اسسٹنٹ کمشنر قلات طاہرسنجرانی کے زیر صدارت کھلی کچہری کا انعقادکیا گیا
کھلی کچہری میں ڈی ایس پی ماہیوال خان ایف سی میجر طلحہ سمیت تمام محکموں کے سربراہان علاقہ معززین سیاسی سماجی رہنماوں صحافی برادری سمیت عوام کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔کھلی کچہری میں لوگوں نے کھل کر اپنے مسائل بیان کئے۔
کھلی کچہری سے اسکلکو کے کونسلر چیرمین عبدالواحد پندرانی ایم سی کونسلر احمد نواز بلوچ سابقہ کونسلر بی بی نور محمدحسنی رحیم خان عبدالغفور شاہوانی عبدالمجید ٹکری ظریف خان سینیئرصحافی شادی خان مینگل امجدسلامی محمدعارف رئیس ظہور احمد اوردیگرنے اہم مسائل اجاگر کیئے۔کھلی کچہری میں شیخڑی کے زمینداروں کے لیئے یوریا کھاد کی فراہمی سیلاب متاثرین کی بحالی اسکلکو چشمہ چیل کی صفائی ٹیچنگ ہسپتال قلات میں صفائی ستھرائی کےفقدان مغلزئی میں نکاسی آب کی درستگی قلات شہر میں چوری ڈکیتی وارداتوں کی روک تھام کیلئے مئوثر چوکیداری کے نفاذ پرائس کنٹرول کمیٹی کی فعالی بیت المال کےزیرنگرانی چلنے والے دستکاری سینٹر کی بندش بجلی کی طویل لوڈ شیڈنگ گیس کی عدم فراہمی ٹیچنگ ہسپتال کے بجلی کو سٹی فیڈرپر منتقلی تجاوزات کے خاتمے مختلف محکموں کے سربراہان کی دفاتر میں عدم موجودگی احمدآباد میں حیوانات ہسپتال کی فعالی قلات کے زمینداروں کے لیئے بلڈوزر مشینری کی کمی اور دیگر اہم مسائل بیان کیئے گئے۔
کھلی کچہری سے اسسٹنٹ کمشنر طاہر سنجرانی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کھلی کچہری کے امعقاد کا مقصد عوام کا ضلعی انتظامیہ کے ساتھ برائے راست رابطے کویقینی ننانا ہے اس سے عوام محکموں کے سربراہان کو برائے راست اپنے مسائل سے آگاہ کرتے ہیں ڈپٹی کمشنر منیردرانی کے سربراہی میں کھلی کچہریوں کا سلسلہ جاری ہے اس سے لوگوں کو درپیش مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کئے جارہےہیں قلات کے علاقائ عمائدین اور عوام نے ضلعی انتظامیہ قلات کی جانب سے کھلی کچہریوں کے تسلسل کو برقرار رکھنے کو خوش آئند اقدام قرار دیا ضلعی انتظامیہ قلات کے کارکردگی کوسراہا گیا انہوں نے کہا کہ کھلی کچہریوں سے عوامی مسائل اور مشکلات میں نمایاں کمی ہوئی ہے ڈپٹی کمشنر اور اسسٹنٹ کمشنر عوامی مسائل کے حل کے لیئے سنجیدگی سے کام کررہے ہیں ۔
۔۔۔
خبرنامہ نمبر320/2026
لورالائی 15جنوری ۔حکومت بلوچستان اور وزیراعلی بلوچستان جناب سرفراز بگٹی کے ویژن کے مطابق کمشنر لورالائی ڈویژن ولی محمد بڑیچ اور ڈپٹی کمشنر لورالائی میران بلوچ کی خصوصی ہدایت پر اسسٹنٹ کمشنر لورالائی ندیم اکرم صاحب نے آج میختر (تودہ چنا اور کچ چاخی)میں پوست (تاریک) کے خلاف آپریشن کیا گیا
اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر لورالائی ندیم اکرم نے کہا کہ منشیات کے ناسور کے خاتمے تک بھرپور کارروائی کی جائے گی اور آگے یہ اپریشن میں مزید تیزی عمل میں لایا جائے گا اسسٹنٹ کمشنر کے ہمراہ FCمیختر فورس اور اینٹی نارکوٹکس فورس نے بھی حصہ لیا
مشترکہ طور پر 22ایکڑ پر مشتمل پوست کی کاشت پر ٹریکٹر چلا کر ختم اور کچھ کو جلا کر ختم کردیا ضلعی انتظامیہ لورالائی نے اس عزم کاا عادہ کیا کہ منشیات کی کاشت اور کاروبار کسی صورت برداشت نہیں کیا جاۓ گا اور منشیات کے خاتمے کے لیے زیرہٹالرنس پالیسی کے تحت کاروائیاں أئندہ جاری رہیں گی۔
۔۔۔
خبرنامہ نمبر 321/2026
کوئٹہ، 15 جنوری. وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی جمعرات کو یہاں میجر انور کاکڑ شہید کی رہائش گاہ پہنچے جہاں دونوں رہنماؤں نے شہید کی والدہ، بھائیوں اور کمسن بیٹوں سے ملاقات کر کے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا اس موقع پر وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے شہید میجر انور کاکڑ کی عظیم قربانی کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ میجر انور کاکڑ نے وطن کے دفاع میں اپنی قیمتی جان قربان کر کے شہادت کا اعلیٰ ترین رتبہ حاصل کیا انہوں نے کہا کہ شہداء قوم کا فخر ہیں اور قوم اپنے ہیروز کی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کرے گی وزیر اعلیٰ بلوچستان نے شہید کے ایصالِ ثواب کے لیے فاتحہ خوانی کی اور شہید کی والدہ کے بلند حوصلے کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایسی باہمت مائیں قوم کی اصل طاقت اور سرمایۂ افتخار ہیں میر سرفراز بگٹی نے اعلان کیا کہ شہید میجر انور کاکڑ کے بھائی خدائیداد خان کو سرکاری ملازمت فراہم کی جائے گی جبکہ ایک سرکاری اسکول کو شہید میجر انور کاکڑ کے نام سے منسوب کیا جائے گا تاکہ ان کی عظیم قربانی کو ہمیشہ یاد رکھا جا سکے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اس موقع پر شہید کی والدہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آپ پاکستان کے بہادر بیٹے کی باہمت والدہ ہیں اور پوری قوم کو آپ پر فخر ہے آپ جیسے بلند حوصلہ والدین کا جذبہ ہی قوم کی اصل قوت ہے۔ انہوں نے شہید کے کمسن بیٹوں سے شفقت کا اظہار کرتے ہوئے انہیں دلاسہ دیا اور پیار کیا وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے شہید میجر انور کاکڑ کی عظیم قربانی کو سلام پیش کرتے ہوئے کہا کہ شہداء کے خون کا ایک ایک قطرہ وطن کے تحفظ کی ضمانت ہے دونوں رہنماؤں نے شہید میجر انور کاکڑ کے اہل خانہ کے لیے صبر، استقامت اور درجات کی بلندی کی دعا بھی کی اس موقع پر صوبائی وزراء، چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان اور آئی جی پولیس بلوچستان محمد طاہر خان بھی موجود تھے.
…
خبرنامہ نمبر 322/2026
کوئٹہ 15 جنوری. گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل یونیورسٹی آف تربت کے تیسرے کانووکیشن میں گولڈ مڈلز جیتنے والے گریجویٹس کیلئے ایک ایک لاکھ کیش رقم دینے کا اعلان کیا جس سے یونیورسٹی کے تمام اسٹوڈنٹس اور وہاں موجود والدین میں خوشی کی لہر دوڑی۔ تربت یونیورسٹی اپنے قیام سے ہی جنوبی بلوچستان میں بہت اہم کردار ادا کرتی ارہی ہے۔ ہزاروں نوجوانوں کو اعلیٰ تعلیم کی روشنی پہنچانے اور جدید تعلیم کے ذریعے معاشرے میں مثبت تبدیلی لانے پر وائس چانسلر ڈاکٹر گل حسن اور ان کی پوری ٹیم خراج تحسین کی مستحق ہے۔ یہ پاکستان کی واحد یونیورسٹی جہاں ٪59 فیصد طالبات مستفید ہو رہی ہیں ۔یہ بات بہت خوش آئند ہے کہ تربت یونیورسٹی نے مختصر عرصے میں قومی سطح پر ایک قابل فخر نام اور مقام پیدا کیا ہے۔ صوبہ کی تمام سرکاری یونیورسٹیاں وہ بنیادیں ہیں جن پر ایک جدید اور تکنیکی اعتبار سے مضبوط معاشرہ آسانی سے تعمیر کیا جا سکتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے یونیورسٹی آف تربت کے تیسرے کانووکیشن کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔اس موقع پر صوبائی وزیر تعلیم راحیلہ حمید خان درانی، وزیر منصوبہ بندی میر ظہور احمد بلیدی، ممبر قومی اسمبلی پھلین بلوچ، پارلیمانی سیکرٹری حاجی برکت رند، وائس چانسلر گوادر یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر عبدالرزاق صابر، وائس چانسلر مکران یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر سعادت بلوچ، سیکرٹری ہائر ایجوکیشن صالح محمد بلوچ، تربت یونیورسٹی کے فیکلٹی ممبران اور انتظامی افسران، ماہرین تعلیم، علاقائی معتبرین کے علاوہ یونیورسٹی اسٹوڈنٹس کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ واضح رہے کہ یونیورسٹی آف تربت کے تیسرے کانووکیشن میں گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے 765 گریجویٹس اور 24 ایم فل میں اسناد تقسیم کیے اور نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والوں کو گولڈ میڈلز پہنائے گئے ۔ شرکاء سے خطاب میں گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ آج ہم یہاں محض ایک رسمی تقریب کیلئے جمع نہیں ہیں بلکہ یہ وہ سنگ میل ہے جو اکیڈمک ایکسیلینس ، پختہ عزم اور تعلیم کیلئے ہمارے فارغ التحصیل ہونے والے گریجویٹس کی انتھک کوششوں کا نتیجہ ہے۔ کانووکیشن صرف ڈگریاں تقسیم کرنے کا نام نہیں ہے بلکہ یہ ہمارے نوجوانوں کے خوابوں کی تکمیل اور عملی زندگی میں قدم رکھنے کا ایک اہم موقع ہے۔ انہوں نے کہا اس یونیورسٹی کی ترقی اس بات کا ثبوت ہے کہ جغرافیائی فاصلہ کبھی بھی ہنر اور ذہانت کی راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکتا۔ جدید معاشرے میں تعلیم کا مقصد صرف ذاتی فائدہ یا روزگار نہیں ہوتا بلکہ اس کا اصل مقصد معاشرے میں رواداری، امن اور انسانی وقار کی اقدار کو فروغ دینا بھی ہے۔ آپ ایک ایسے دور میں قدم رکھ رہے ہیں جہاں ٹیکنالوجی تیز رفتاری سے بدل رہی ہے۔ گورنر مندوخیل نے توقع ظاہر کی کہ آپ سماجی اور معاشی مسائل کو حل کرنے کیلئے یہاں حاصل کی گئی ڈیجیٹل مہارتوں، تنقیدی سوچ اور اعلیٰ اقدار کو استعمال کریں گے۔ فارغ التحصیل ہونے والے گریجویٹس سے کہا کہ آپ کو امن کا سفیر اور ترقی کا ہر اول دستہ بننا ہے۔ یاد رکھیں، تعلیم ہی واحد راستہ ہے جو نوجوانوں کو بااختیار بنا سکتا ہے اور بلوچستان میں امن، ترقی اور خوشحالی کی ضمانت دیتا ہے۔ میں اس کانووکیشن کے کامیاب انعقاد پر وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر گل حسن اور ان کی پوری ٹیم کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔ تربت جیسے دور افتادہ علاقے میں معیاری تعلیم کو ہر طالب علم کی دہلیز تک پہنچانا ایک مشکل مرحلہ تھا جس میں آپ کی کامیابی قابل ستائش ہے۔ موجودہ حکومت بلوچستان میں اعلیٰ تعلیم کے فروغ کیلئے پوری طرح پرعزم ہے۔ ہم اپنی پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں کو درپیش مالی اور انتظامی مسائل کو حل کرنے کیلئے سنجیدہ اقدامات کر رہے ہیں۔ اس وقت تربت یونیورسٹی میں جدید ترین آرٹیفیشل انٹیلیجنس سنٹر کے قیام کی اشد ضرورت ہے۔ جس کے قیام کے بعد جنوبی بلوچستان کے طلباء جدید ٹیکنالوجی کے میدان میں مقابلہ کر سکیں گے۔ گورنر مندوخیل نے آخر میں فارغ التحصیل ہونے والے گریجویٹس ایک بار پھر مبارکباد دی اور ایک کامیاب کانووکیشن کے انعقاد پر یونیورسٹی آف تربت کی پوری ٹیم کی شعوری کاوشوں کو سراہا قبل ازیں گورنر بلوچستان نے بلیدہ کے طلبہ کیلئے بس کی چابیاں وائس چانسلر کے حوالے کیں، یونیورسٹی کے صحن درخت لگایا اور تربت یونیورسٹی کے سینیٹ ہال کا افتتاح کیا۔
…
خبرنامہ نمبر323/2026
کوئٹہ:- زیارت کے علاقے کلی منہ میں پیش آنے والے افسوسناک واقعے کے زخمیوں کی عیادت کے لیے صوبائی وزیر خوراک و چیئرمین فوڈ اتھارٹی بلوچستان حاجی نور محمد خان دومڑ سول اسپتال کوئٹہ کے ٹراما سینٹر پہنچے۔ اس موقع پر انہوں نے زیرِ علاج زخمیوں کی خیریت دریافت کی اور ان سے فرداً فرداً ملاقات کی صوبائی وزیر خوراک حاجی نور محمد خان دومڑ نے مریضوں اور ان کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی۔ انہوں نے اسپتال انتظامیہ سے علاج و معالجے کی مجموعی صورتحال سے متعلق تفصیلی بریفنگ لی اور واضح ہدایات دیں کہ زخمیوں کو ہر ممکن اور معیاری طبی سہولیات فوری اور بلا تعطل فراہم کی جائیں، علاج میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی اس موقع پر ڈسٹرکٹ چیئرمین زیارت عبدالستار کاکڑ بھی صوبائی وزیر خوراک کے ہمراہ موجود تھے۔ انہوں نے بھی زخمیوں کی عیادت کی اور انتظامیہ کو مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی اہل خانہ اور لواحقین نے صوبائی وزیر خوراک کی جانب سے زخمیوں کی عیادت اور ان کے مسائل کے حل کے لیے ذاتی دلچسپی لینے پر اظہارِ تشکر کیا اور اس اقدام کو قابلِ تحسین قرار دیا۔
۔۔۔
خبرنامہ نمبر 324/2026
جعفرآبادڈپٹی کمشنر جعفرآباد خالد خان کی زیر صدارت گرین پاکستان انیشیٹو کے تحت ضلع جعفرآباد میں زرعی زمین کی نشاندہی کے حوالے سے خصوصی اجلاس منعقد ہوا اجلاس میں ڈپٹی ڈائریکٹر زراعت توسیع جعفرآباد مہر دل ابڑو، تحصیلدار جھٹ پٹ عبداللہ لاشاری، نائب تحصیلدار جھٹ پٹ عبدالغنی چاچڑ، قانون گو فخرالدین عمرانی، سپرنٹینڈنٹ کیٹل فارم امیر بخش سومرو سمیت دیگر متعلقہ افسران و ممبران نے شرکت کی اجلاس میں گرین پاکستان انیشیٹو کے مقاصد، زرعی پیداوار میں اضافے، بنجر اور قابلِ کاشت سرکاری و نجی اراضی کی نشاندہی اور اس کے مؤثر استعمال پر تفصیلی غور کیا گیا اجلاس کے دوران محکمہ زراعت اور ریونیو افسران نے ضلع میں موجود زرعی زمین، آبپاشی سہولیات اور ممکنہ ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے بریفنگ دی ڈپٹی کمشنر جعفرآباد خالد خان نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گرین پاکستان انیشیٹو حکومت کا ایک اہم منصوبہ ہے جس کا مقصد زرعی شعبے کو مضبوط بنا کر خوراک میں خودکفالت، روزگار کے مواقع پیدا کرنا اور معیشت کو مستحکم کرنا ہے انہوں نے ہدایت کی کہ زرعی زمین کی شفاف اور درست نشاندہی کی جائے اور تمام متعلقہ محکمے باہمی تعاون سے کام کرتے ہوئے عملی اقدامات کو یقینی بنائیں تاکہ منصوبے کے ثمرات عام کاشتکار تک پہنچ سکیں اجلاس کے اختتام پر زرعی زمین کی نشاندہی، ریکارڈ کی تکمیل اور آئندہ کے لائحہ عمل کے حوالے سے اہم فیصلے کیے گئے تاکہ گرین پاکستان انیشیٹو کے تحت ضلع جعفرآباد میں زرعی ترقی کو فروغ دیا جا سکے۔
۔۔۔
خبرنامہ نمبر 325/2026
خضدار 15 جنوری.ڈسٹرکٹ ہیلتھ افیسر ڈاکٹر محمد نسیم لانگو کی صدارت میں پی پی ایچ ائی کے ماہانہ کارکردگی رپورٹ کے حوالے سے اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ڈی ایم پی پی ایچ آئی ڈاکٹر منیر احمد بلوچ ڈویژنل انفارمیشن افیسر شبیر احمد بلوچ سمیت دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران بی ایچ یوز میں دستیاب سہولیات، درپیش مسائل اور مجموعی کارکردگی کے حوالے سے ڈسٹرکٹ ہیلتھ افیسر کو پی پی ایچ ائی کے ڈسٹرکٹ منیجر منیر احمد بلوچ نے تفصیلی بریفنگ دی۔ جبکہ ڈسٹرکٹ منیجر ڈاکٹر منیر احمد بلوچ پی پی ایچ آئی نے ضلع بھر کے تمام بی ایچ یوز کے بارے میں تفصیلی آگاہی فراہم کی۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈسٹرکٹ ہیلتھ افیسرخضدار ڈاکٹر محمد نسیم لانگو نے کہا کہ عوامی خدمت میں غفلت ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔ ڈی ایچ او خضدار نے مزید ہدایت کی کہ تمام بی ایچ یوز کے مراکز میں ادویات کی کسی قسم کی کمی نہیں ہونی چاہیے اور عوام کو علاج معالجے کی تمام بنیادی سہولیات بروقت اور مؤثر انداز میں فراہم کی جائیں۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت دی کہ فیلڈ میں اپنی موجودگی یقینی بنائیں اور صحت کے نظام کو مزید بہتر بنانے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔اجلاس کے اختتام پر ڈسٹرکٹ ہیلتھ افیسر ڈاکٹر محمد نسیم لانگو نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ضلع خضدار میں صحت کی سہولیات کی بہتری کے لیے ضلعی صحت اور پی پی ایچ ائی انتظامیہ تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے گی اور عوام کو معیاری طبی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا۔
…
خبرنامہ نمبر 326/2026
زیارت 15جنوری۔ عبدالقدوس اچکزئی(BCS/B19) نے ڈپٹی کمشنر زیارت کا چارج سنبھال کر فرائض کی ادائیگی شروع کردی ہے۔
۔۔۔
خبرنامہ نمبر 327/2026
استا محمد ۔15 جنوری ۔ ڈپٹی کمشنر استامحمد محمد رمضان پلال کی نگرانی میں فوڈ گودام کی عمارت کی نیلامی مکمل کر لی گئی جس کے نتیجے میں گورنمنٹ گرلز کالج استامحمد کی تعمیر کی راہ ہموار ہوگئی
نیلامی میں ملک بھر سے بولی دہندگان نے حصہ لیا، جبکہ شبیر ٹریڈرز (میان چنوں پنجاب) نے 1 کروڑ 61 لاکھ روپے کی کامیاب بولی دی جس پر 28 فیصد ٹیکس وصول کیا جائے گا عمل شفاف کھلا اور مکمل مسابقتی ماحول میں انجام دیا گیافوڈ گودام جو سالہا سال سے غیر فعال اور ناقابل استعمال حالت میں موجود تھا اس کی زمین 2018 میں گورنمنٹ گرلز کالج کے لیے مختص کر دی گئی تھی۔ تاہم متعلقہ مقام ٹھیکیدار کے حوالے نہ کیے جانے کے باعث منصوبہ گزشتہ سات سال سے تعطل کا شکار رہا اور ہر مالی سال میں مختص فنڈز خرچ نہ ہونے کے باعث واپس ہوتے رہے، جس سے تعمیراتی لاگت بڑھتی گئی شہریوں کی جانب سے یہ معاملہ مسلسل کھلی کچہریوں اور اجلاسوں میں اٹھایا جاتا رہا۔ اس وقت کالج پرانی سیشن کورٹ کی محض چار کمروں والی عمارت میں کلاسز جاری رکھے ہوئے ہے جو تقریباً 1200 طالبات کے لیے ناکافی ہے۔ مستقل عمارت نہ ہونے کے باعث کالج بی ایس پروگرامز کے لیے الحاق حاصل کرنے سے بھی محروم رہا جس سے مقامی طالبات کی تعلیم متاثر ہوئی نیلامی کی تکمیل کے بعد گودام کی عمارت خالی کرائی جائے گی اور کالج کی تعمیر کے لیے مقررہ مقام باقاعدہ طور پر ٹھیکیدار کے حوالے کر دیا جائے گا ڈپٹی کمشنر استامحمد محمد رمضان پلال نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ تعلیم کے فروغ سرکاری منصوبہ جات میں تاخیر کے خاتمے اور عوامی مسائل کے حل کے لیے مربوط اور سنجیدہ کوششیں جاری رہیں گی تاکہ علاقے کی بچیوں کو معیاری اور بہتر تعلیمی ماحول میسر آ سکے۔
۔۔۔
خبرنامہ نمبر 328/2026
کوئٹہ 15 جنوری ۔لیبر اینڈ مین پاور ڈیپارٹمنٹ نے عوام کی فلاح و بہبود کے لیے ایک اہم اقدام کے تحت جدید طبی سہولیات سے آراستہ اسٹیٹ آف دی آرٹ ہسپتال حکومت بلوچستان کے محکمہ صحت کے حوالے کر دیے۔ ہسپتالوں کی حوالگی کی تقریب پشین میں منعقد ہوئی جس کے مہمانِ خصوصی وفاقی وزیر چوہدری سالک حسین تھے۔تقریب میں صوبائی وزیر لیبر اینڈ مین پاور غلام رسول عمرانی، رکن صوبائی اسمبلی اصغر ترین، سیکریٹری ورکرز ویلفیئر عبدالستار بگٹی سمیت قبائلی عمائدین اور دیگر معزز شخصیات نے شرکت کی۔
یہ جدید ہسپتال بلوچستان کے چار پسماندہ علاقوں چمالانگ، پشین، موسیٰ خیل اور دالبندین میں قائم کیے گئے ہیں، جہاں جدید مشینری اور معیاری طبی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ ان ہسپتالوں سے متعلقہ علاقوں کے عوام کو علاج معالجے کی بہتر سہولیات میسر آئیں گی۔
مہمانانِ خصوصی نے اس اقدام کو صوبے میں صحت کے شعبے میں ایک اہم پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت مزدوروں اور عام شہریوں کی فلاح و بہبود کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے گی۔
۔۔۔
خبرنامہ نمبر 329/2026
کوہٹہ 15جنوری ۔وزیر اعلیٰ بلوچستان کے مشیر برائے محکمہ لیبر اینڈ مین پاور سردار بابا غلام رسول خان عمرانی نے کہا ہے کہ مزدور ہماری معیشت کا پہیہ چلاتے ہیں، ان کی خوشحالی ہی صوبے کی خوشحالی ہے۔ہمارا عزم ہے کہ محکمہ لیبر کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے تاکہ بلوچستان کے مزدور کو بھی یکساں سہولیات میسر ہوں ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے پشین ، مسلم باغ، چمالانگ اور دالبندین میں قائم کیے گئے لیبر ہسپتالوں کے مشترکہ افتتاح کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کے دوران کیا۔ تقریب میں وفاقی وزیر برائے بیرون ملک مقیم پاکستانی و انسانی وسائل کی ترقی چوہدری سالک حسین، صوبائی وزیر انڈسٹریز سردار کوہیار خان ڈومکی، صوبائی وزیر نور محمد دومڑ، سابق صوبائی وزیر کمال الدین، اسفندیار خان کاکڑ، اصغر خان ترین، سیکرٹری ورکرز ویلفیئر فنڈ ذوالفقار خان، سیکرٹری لیبر نیاز احمد نیچاری اور سیکرٹری ورکرز ویلفیئر عبدالستار بگٹی سمیت دیگر اہم شخصیات نے شرکت کی۔بابا غلام رسول عمرانی نے کہا کہ 25 بستروں پر مشتمل جدید لیبر ہسپتالوں کا قیام علاقے کے مزدوروں اور ان کے اہل خانہ کے لیے صحت کی بنیادی اور معیاری سہولیات کی فراہمی میں ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوگا۔ ان ہسپتالوں میں نہ صرف عمارتیں کھڑی کی گئی ہیں بلکہ جدید مشینری اور ادویات کی بلا تعطل فراہمی کو بھی یقینی بنایا جائے گا تاکہ غریب محنت کش اپنے ہی علاقے میں مفت اور معیاری علاج حاصل کر سکیں۔ہماری کوشش ہے کہ بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں بسنے والے محنت کشوں کو ان کی دہلیز پر علاج کی سہولیات میسر آئیں۔تقریب کے دوران ویلفیئر بورڈ بلوچستان کی جانب سے مستحق ورکرز کی مالی معاونت کے لیے ڈیتھ گرانٹ اور میرج گرانٹ کے چیکس بھی تقسیم کیے گئے۔ علاقائی عمائدین نے بھی کثیر تعداد میں تقریب میں شرکت کی اور بلوچستان کی روایتی مہمان نوازی کا مظاہرہ کرتے ہوئے آنے والے معزز مہمانوں کو روایتی دستار پہنائی۔ سردار بابا غلام رسول عمرانی نے دیگر مہمانوں کے ہمراہ ہسپتال کے مختلف شعبہ جات کا تفصیلی دورہ کیا اور وہاں فراہم کی جانے والی سہولیات اور انتظامات پر مکمل اطمینان کا اظہار کیا۔
۔۔۔
خبرنام نمبر330/2026
خضدار 15 جنوری۔ ڈپٹی کمشنر خضدار عبدالرزاق ساسولی کا ہندو محلہ کا دورہ، ہندو کمیونٹی کی فلاح و بہبود کیلئے کام کرنے اور ان کے مسائل حل کرنے کی یقین دھانی* ڈپٹی کمشنر خضدار عبدالرزاق ساسولی نے آج شہر کے تاریخی ہندو محلہ کا دورہ کیا اور مختلف مقامات کا تفصیلی معائنہ کیا۔ اس موقع پر انہوں نے ہندو برادری کو شہر کا اہم اور لازمی حصہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ برادری نہ صرف معاشرتی ہم آہنگی کی علامت ہے بلکہ علاقے کی معیشت میں بھی کلیدی کردار ادا کر رہی ہے۔ ڈپٹی کمشنر خضدار عبدالرزاق ساسولی نے یقین دلایا کہ ہندو برادری کی فلاح و بہبود اور تحفظ کے لیئے ضلعی انتظامیہ ہر ممکن اقدامات اٹھائے گی، جن میں بنیادی سہولیات کی فراہمی، صحت اور تعلیم کے شعبوں میں بہتری شامل ہے۔ ڈپٹی کمشنر خضدار عبدالرزاق ساسولی نے ہندو محلہ کی مرکزی گلیوں کا جائزہ لیا۔ ان کے ہمراہ روی کمار سمیت مقامی ہندو برادری کے نمائندے بھی موجود تھے۔ معائنے کے دوران انہوں نے صفائی ستھرائی، پینے کے پانی کی فراہمی، سیوریج سسٹم اور سڑکوں کی حالت پر خصوصی توجہ دی۔ مختلف مقامات پر انہوں نے مقامی رہائشیوں سے بات چیت کی اور ان کے مسائل سنے۔ڈپٹی کمشنر خضدار عبدالرزاق سسولی کا کہنا تھاکہ خضدار ایک ہم آہنگ شہر ہے جہاں مختلف برادریاں مل جل کر رہتی ہیں۔ ہندو برادری کو اس شہر بنیادی حیثیت حاصل ہے، جو تجارت، کاروبار اور ثقافتی ورثے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ ہماری حکومت کی پالیسی ہے کہ تمام اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ کیا جائے اور انہیں برابر کے مواقع فراہم کیئے جائیں۔ ہندو برادری کے نمائندوں نے ڈپٹی کمشنر خضدار عبدالرزاق سقسولی کے دورے کو خوش آئند قرار دیاان کا کہنا تھاکہ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے ہمارے مسائل کو سننا اور حل کرنے کی یقین دہانی سے ہم مطمئن ہیں۔ خضدار میں ہندو برادری صدیوں سے رہائش پذیر ہے اور ہم اس شہر کی ترقی میں اپنا حصہ ڈالتے رہیں گے۔
یاد رہے کہ خضدار بلوچستان کا ایک اہم ضلع ہے جہاں ہندو برادری کی ایک قابل ذکر آبادی موجود ہے، جو زیادہ تر تجارت اور چھوٹے کاروبار سے وابستہ ہے۔ حالیہ برسوں میں صوبائی حکومت نے اقلیتوں کی فلاح و بہبود کے لیئے مختلف پروگرامز شروع کیے ہیں، جن میں خضدار جیسے علاقوں کو خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔
…
خبرنامہ نمبر 331/2026
کوئٹہ، 15 جنوری ۔وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے پاکستان پیپلز پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری ربانی خان کاکڑ کی والدہ ماجدہ کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے اپنے ایک تعزیتی پیغام میں وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ ماں جیسی عظیم نعمت کا کوئی نعم البدل نہیں ہوتا، والدہ کا بچھڑ جانا ایک ایسا صدمہ ہے جسے الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہے انہوں نے کہا کہ دکھ کی اس گھڑی میں وہ ربانی خان کاکڑ اور ان کے اہلِ خانہ کے غم میں برابر کے شریک ہیں میر سرفراز بگٹی نے مرحومہ کی مغفرت، درجات کی بلندی اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام کے لیے دعا کی جبکہ سوگوار خاندان کے لیے صبرِ جمیل اور اجرِ عظیم کی دعا کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ لواحقین کو یہ صدمہ برداشت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
۔۔۔
خبرنامہ نمبر 332/2026
موسیٰ خیل 15 جنوری .ڈپٹی کمشنر عبد الرزاق خجک کی زیرِ صدارت زرعی انکم ٹیکس (AIT) اور ضلعی شماریات کے حوالے سے جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں اسسٹنٹ کمشنر موسیٰ خیل نجیب اللہ کاکڑ، اسسٹنٹ کمشنر درگ گل نواز بلوچ، تحصیلدار موسیٰ خیل اور پٹوار عملے نے شرکت کی.ڈپٹی کمشنر نے ہدایت کی کہ زرعی رقبے اور پیداوار کا ڈیٹا مکمل شفافیت سے مرتب کیا جائے، کیونکہ درست اعداد و شمار ہی بہتر منصوبہ بندی کی بنیاد ہیں .زرعی انکم ٹیکس کی وصولی کے لیے پٹوار حلقوں کی کارکردگی بہتر بنانے اور ٹیکس نیٹ کو بڑھانے کے احکامات جاری کیے گئے۔فیلڈ اسٹاف کو خبردار کیا گیا کہ ڈیٹا میں ہیر پھیر یا فرائض میں غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔ تمام افسران مقررہ وقت میں اپنی کارکردگی رپورٹ جمع کرانے کے پابند ہوں گے۔ڈپٹی کمشنر نے زور دیا کہ بروقت ٹیکس کی ادائیگی اور درست ڈیٹا کی فراہمی ضلع موسیٰ خیل کی معاشی خوشحالی کے لیے ناگزیر ہے۔
…
خبرنامہ نمبر 333/2026
گوادر15جنوری۔ ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر یاسر طاہر نے ڈسٹرکٹ سپورٹ منیجر پی پی ایچ آئی ڈاکٹر مرشد دشتی کے ہمراہ بی ایچ یو پیشکان کا مشترکہ مانیٹرنگ دورہ کیا۔ دورے کے دوران انہوں نے طبی مرکز میں دستیاب سہولیات اور جاری صحت خدمات کا تفصیلی جائزہ لیا۔مانیٹرنگ کے دوران عملے کی حاضری، او پی ڈی رجسٹر، ای پی آئی سائیٹس، ایم این سی ایچ سینٹر اور بی ایچ یو سے متعلق دیگر اہم ریکارڈز کی جانچ پڑتال کی گئی۔ اس موقع پر مریضوں کو فراہم کی جانے والی سہولیات، ویکسینیشن کے عمل، ماں اور بچے کی صحت سے متعلق خدمات اور مجموعی کارکردگی کا بھی جائزہ لیا گیا۔ڈاکٹر یاسر طاہر اور ڈاکٹر مرشد دشتی نے عملے کو ہدایت کی کہ وہ اپنی حاضری کو یقینی بنائیں، ریکارڈ کی بروقت تکمیل کریں اور عوام کو معیاری و بروقت طبی سہولیات کی فراہمی میں کسی قسم کی غفلت نہ برتی جائے۔ انہوں نے کہا کہ بنیادی صحت مراکز میں بہتری اور شفاف نگرانی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، تاکہ عوام کو ان کی دہلیز پر بہتر علاج میسر آ سکے۔
…
خبرنامہ نمبر 334/2025
صوبائی وزیر خزانہ میر شعیب نوشیروانی نے کہا ہے کہ خاران میں پیش آنے والے افسوسناک واقعے کی بھرپور مذمت کرتے ہیں اور اس واقعے میں زخمی ہونے والے بچوں اور دیگر معصوم افراد کے لیے دلی ہمدردی اور نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہیں۔ عوامی اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانا، راکٹ حملوں میں معصوم جانوں کو خطرے میں ڈالنا کسی بھی صورت قابلِ قبول نہیں انہوں نے کہا کہ تشدد اور خوف و ہراس کسی مسئلے کا حل نہیں۔ طاقت کے استعمال سے نہ تو دل جیتے جا سکتے ہیں اور نہ ہی دیرپا امن قائم ہو سکتا ہے۔ بلوچستان کے عوام نے ہمیشہ امن، برداشت اور باہمی احترام کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔میر شعیب نوشیروانی نے کہا کہ موجودہ حالات میں صوبائی حکومت تمام فریقین کو ساتھ لے کر چلنے، عوامی مسائل سننے اور ان کے حل کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔ کھلی کچہریوں کے ذریعے عام شہریوں کو براہِ راست سنا جا رہا ہے، جبکہ لاپتہ افراد کے معاملے پر بھی قانونی اور مستقل حل کی جانب پیش رفت ہو رہی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ایسے نازک وقت میں ضروری ہے کہ اختلافات کو بات چیت اور مفاہمت کے ذریعے حل کیا جائے، تاکہ بلوچستان کو امن، استحکام اور ترقی کی راہ پر گامزن کر سکے۔صوبائی وزیر خزانہ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت عوام کے جان و مال کے تحفظ اور صوبے میں امن و امان کے قیام کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی، اور دعا کی کہ اللہ تعالیٰ بلوچستان کو امن و سکون کا گوارا بنا سکے اور زخمیوں کو جلد صحت یابی نصیب عطا فرمائے ۔




