خبرنامہ نمبر224/2026
کوئٹہ، 12 جنوری:وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ بلوچستان کے عوام سے کیا گیا ان کا پہلا اور دوٹوک وعدہ یہی تھا کہ صوبے میں نہ سرکاری نوکریاں بیچی جائیں گی اور نہ ہی کرپشن یا اقرباء پروری کو کسی صورت برداشت کیا جائے گا انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت عوامی اعتماد کی بحالی اور شفاف طرزِ حکمرانی کے لیے عملی اور مؤثر اقدامات کر رہی ہے سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر اپنے ایک پیغام میں وزیراعلیٰ نے کہا کہ اسی وعدے کی تکمیل کے لیے بلوچستان میں شفافیت کے نظام کو مزید مضبوط بنایا جا رہا ہے اور اس ضمن میں محکمہ خزانہ میں صوبے کی تاریخ میں پہلی مرتبہ 111 سرکاری آسامیوں پر سو فیصد میرٹ اور پیپر لیس بنیادوں پر آن لائن بھرتیوں کا آغاز کیا جا رہا ہے انہوں نے کہا کہ یہ اقدام کرپشن کے خاتمے اور ادارہ جاتی اصلاحات کی جانب ایک تاریخی قدم ہے میر سرفراز بگٹی نے واضح کیا کہ بھرتی کے اس نئے نظام کے تحت امیدواروں سے آن لائن ٹیسٹ لیا جائے گا ان کی قابلیت اور اہلیت کی شفاف انداز میں جانچ کی جائے گی اور کامیاب امیدواروں کو ایک گھنٹے کے اندر اندر تقرری لیٹر جاری کیا جائے گا تاکہ میرٹ پر مبنی تقرریوں کو یقینی بنایا جا سکے۔وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ اس اصلاحاتی نظام کا آغاز محکمہ خزانہ سے کیا جا رہا ہے، جسے مرحلہ وار بلوچستان حکومت کے دیگر تمام محکموں کی سرکاری ملازمتوں تک توسیع دی جائے گی انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے ذریعے گڈ گورننس، شفافیت اور جوابدہی کے فروغ کے لیے پُرعزم ہے میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ میرٹ، شفافیت اور عوام سے کیا گیا وعدہ ہی بلوچستان حکومت کی حکمرانی کی بنیاد ہے اور صوبائی حکومت ہر سطح پر ایسے اقدامات جاری رکھے گی جو نوجوانوں کو بااختیار بنانے اور اہل افراد کو ان کا حق دلانے کا سبب بنیں۔
خبرنامہ نمبر225/2026
کوئٹہ، 12 جنوری:محکمہ خزانہ بلوچستان کے ترجمان نے آن لائن سسٹم سے متعلق سامنے آنے والی شکایات پر وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ محکمہ خزانہ کو بعض امیدواروں کی جانب سے یہ شکایات موصول ہو رہی ہیں کہ آن لائن درخواستوں کا سسٹم بعض اوقات مکمل طور پر اوپن نہیں ہو رہا۔ترجمان نے وضاحت کی کہ محکمہ خزانہ میں چوبیس گھنٹے محکمہ جاتی امور کی انجام دہی، بیک وقت بڑی تعداد میں صارفین کی رسائی اور غیر معمولی ٹریفک کے باعث سسٹم پر دباؤ بڑھ گیا ہے، جس کے نتیجے میں بعض تکنیکی مسائل سامنے آئے ہیں اسسٹنٹ اکاونٹ آفیسر کے لئے مجوزہ فارم درست کام کررہا ہے تاہم اسسٹنٹ کمپیوٹر آپریٹر اور جونیئر کلرک کی آسامی کا فارم ایک گھنٹے کے لئے ڈاؤن ہوتا ہے جس کہ درسگی چند ہی گھنٹے میں کردی جائے گی محکمہ خزانہ کا متعلقہ تکنیکی عملہ ان مسائل کے فوری اور مؤثر حل کے لیے مسلسل کام کر رہا ہے اور سسٹم کی کارکردگی کو مزید بہتر بنایا جا رہا ہے ترجمان نے کہا کہ امیدواروں کی سہولت اور تکنیکی مسائل کے پیشِ نظر محکمہ خزانہ میں اسسٹنٹ کمپیوٹر آپریٹر اور جونیئر کلرک کی آسامیوں پر درخواستیں جمع کرانے کی تاریخ میں توسیع کر دی گئی ہے تاکہ کوئی بھی اہل امیدوار درخواست جمع کرانے سے محروم نہ رہے انہوں نے تمام امیدواروں کو یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں، تمام امیدواروں کی درخواستیں جمع ہوں گی اور آن لائن سسٹم میں درپیش عارضی رکاوٹیں مستقل نوعیت کی نہیں ہیں بلکہ انہیں جلد مکمل طور پر دور کر لیا جائے گا ترجمان نے کہا کہ بلوچستان میں پہلی مرتبہ آن لائن سسٹم کے تحت درخواستیں جمع کرانے کا جدید طریقہ کار متعارف کرایا گیا ہے، جس کے باعث بعض افراد کو ابتدائی طور پر اس نظام کو سمجھنے میں مشکلات کا سامنا ہو رہا ہے۔ محکمہ خزانہ اس ضمن میں رہنمائی فراہم کرنے اور نظام کو مزید آسان بنانے کے لیے بھی اقدامات کر رہا ہے ترجمان نے امیدواروں سے اپیل کی کہ وہ صبر و تحمل کا مظاہرہ کریں، افواہوں پر کان نہ دھریں اور توسیع شدہ مدت کے دوران اپنی درخواستیں مقررہ طریقہ کار کے مطابق مکمل کریں کسی بھی معاونت کے لئے محکمہ خزانہ بلوچستان کے ہیلپ لائن نمبر( 081) 2500096 پر بھی رابطہ کیا جاسکتا ہے محکمہ خزانہ بلوچستان شفافیت، میرٹ اور عوامی سہولت کی فراہمی کے لیے پُرعزم ہے اور اس نظام کے ذریعے صوبے میں ایک جدید، قابلِ اعتماد اور شفاف طریقہ کار کو فروغ دیا جا رہا ہے۔
خبرنامہ نمبر226/2026
موسیٰ خیل12جنوری :موسیٰ خیل پولیس نے منشیات فروشوں کے خلاف مؤثر اور کامیاب کارروائی کرتے ہوئے 10 کلوگرام چرس برآمد کر کے ایک ملزم کو گرفتار کر لیا۔یہ کارروائی ڈی آئی جی پولیس لورالائی رینج جنید احمد شیخ کے احکامات اور ایس پی موسیٰ خیل کلیم اللہ کاکڑ کی ہدایات پر عمل میں لائی گئی۔ تھانہ صدر موسیٰ خیل کے ایس ایچ او انسپکٹر نشاطِ انور کھیتران نے اسپیشل ٹیم کے ہمراہ کارروائی کرتے ہوئے ملزم کریم ولد فیض محمد کو گرفتار کیا۔پولیس کے مطابق ملزم کے قبضے سے 10 کلوگرام چرس برآمد ہوئی، جس پر ملزم کے خلاف منشیات ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کر کے مزید تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔پولیس حکام نے واضح کیا ہے کہ ضلع میں منشیات کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت بلاامتیاز کارروائیاں جاری رہیں گی اور معاشرے کو اس ناسور سے پاک کرنے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔
خبرنامہ نمبر227/2026
لورالائی 12 جنوری :کمشنر لورالائی ڈویژن کی قیادت میں قدرتی وسائل کے تحفظ کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ یورپی یونین کے تعاون سے جاری منصوبے Revival of Balochistan Water Resources Programme – Technical Assistance (RBWRP-TA) کی تین رکنی ماہر ٹیم نے کمشنر لورالائی سے ان کے دفتر میں ملاقات کی۔ماہر ٹیم کی سربراہی محمد یوسف خان کر رہے تھے۔ ملاقات کے دوران ٹیم لیڈر نے کمشنر کو آگاہ کیا کہ 26 جنوری 2026 کو لورالائی میں “بلوچستان رینج لینڈ پالیسی 2025–35” کے حوالے سے ایک اہم مشاورتی ورکشاپ منعقد کی جا رہی ہے، جس میں پالیسی کے مسودے پر تفصیلی غور و خوض کیا جائے گا۔محمد یوسف خان نے بتایا کہ یہ ورکشاپ صوبے کے مختلف ڈویژنوں میں منعقد ہونے والے مشاورتی اجلاسوں کا حصہ ہے، جس کا مقصد رینج لینڈز (چرائی کی زمینوں) کے پائیدار انتظام کے لیے تمام متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کی آرائ کو پالیسی میں شامل کرنا ہے۔انہوں نے بریفنگ کے دوران بتایا کہ بلوچستان کے رینج لینڈز صوبے کے کل رقبے کا تقریباً 64 فیصد حصہ ہیں، جو صوبے کی زرعی اور مویشی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ رینج لینڈز مویشیوں کے لیے چارہ، گوشت اور اون کی فراہمی کے ساتھ ساتھ زیرِ زمین پانی کے تحفظ، مٹی کے کٹاؤ کی روک تھام، جنگلی حیات کے مسکن اور ماحولیاتی توازن میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ٹیم لیڈر کے مطابق صوبے میں مویشی بانی ایک بنیادی معاشی ستون ہے، جس سے 75 فیصد سے زائد دیہی آبادی کا روزگار وابستہ ہے، جبکہ لاکھوں مویشی قومی سطح پر پاکستان کی مویشی معیشت کو مضبوط بنا رہے ہیں۔ملاقات کے دوران اس امر کی نشاندہی بھی کی گئی کہ حد سے زیادہ چرائی، جنگلات کی بے دریغ کٹائی اور موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث رینج لینڈز کو شدید خطرات لاحق ہیں، جن سے نمٹنے کے لیے ایک جامع اور مؤثر پالیسی ناگزیر ہو چکی ہے۔کمشنر لورالائی نے اس موقع پر کہا کہ رینج لینڈز کا تحفظ اور بہتر انتظام نہ صرف صوبائی معیشت بلکہ آنے والی نسلوں کے محفوظ مستقبل سے بھی جڑا ہوا ہے۔ انہوں نے مشاورتی ورکشاپ کے انعقاد کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے ضلعی انتظامیہ کی جانب سے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔یہ مشاورتی عمل بلوچستان میں قدرتی وسائل کے تحفظ، دیہی ترقی اور ماحولیاتی بہتری کی جانب ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوگا۔
خبرنامہ نمبر228/2026
جعفرآباد۔ضلع جعفرآباد میں بڑھتی ہوئی آبادی کی روک تھام اور چھوٹے خاندان خوشحال گھرانے کے تصور کو فروغ دینے کے لیے ڈسٹرکٹ پاپولیشن ویلفیئر آفیسر جعفرآباد حبیب اللہ جوگیزئی کی نگرانی میں کمیونٹی کی سطح پر ایک روزہ تربیتی پروگرام منعقد کیا گیا، جس میں کیمونٹی بیسڈ فیملی پلاننگ ورکر اور فیمل سوشل موبلائزرز اور انچارج فلاحی مرکز کے اسٹاف نے شرکت کی۔ تربیت کا مقصد عوام میں خاندانی منصوبہ بندی، ماں اور بچے کی صحت اور آبادی میں توازن کی اہمیت سے متعلق شعور اجاگر کرنا تھا تاکہ حکومت بلوچستان کے ویژن کے مطابق پاپولیشن ویلفیئر کے مؤثر اقدامات کو عملی جامہ پہنایا جا سکے۔ اس موقع پر ڈپٹی ڈسٹرکٹ پاپولیشن ویلفیئر آفیسر (ٹیکنیکل) ڈاکٹر زاہدہ نے شرکائ کو نہایت سلیس اور مؤثر انداز میں تربیت فراہم کی اور انہیں کمیونٹی سطح پر درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے عملی طریقے بتائے، جبکہ فیلڈ ٹیکنیکل آفیسر نصرت حبیب نے بھی تربیتی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے خاندانی منصوبہ بندی کی افادیت اور اس کے مثبت سماجی و معاشی اثرات پر روشنی ڈالی۔ تربیتی پروگرام میں مقررین نے اس بات پر زور دیا گیا کہ تربیت حاصل کرنے والی ٹیمیں گھر گھر جا کر عوام میں شعور بیدار کریں گی، والدین کو چھوٹے خاندان کے فوائد سے آگاہ کریں گی اور صحت مند و خوشحال معاشرے کے قیام کے لیے پاپولیشن ویلفیئر پروگرام پیغام کو ہر سطح تک پہنچائیں گی۔
خبرنامہ نمبر229/2026
نصیرآباد:ڈپٹی کمشنر نصیرآباد کیپٹن (ر) ذوالفقار علی کرار کی زیر صدارت ڈی پیک انسدادِ پولیو مہم کے حوالے سے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر ایاز حسین جمالی، ڈاکٹر حبیب پندرانی، ڈاکٹر ظاہر حسین عمرانی، عبیداللہ پندرانی، پی پی ایچ آئی کے ڈی ایس ایم طارق شہباز کٹوہر، کامنیٹ کے صدام حسین، ثنائ اللہ چکھڑا سمیت دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔ اجلاس کے موقع پر این اسٹاف ڈاکٹر غلام یاسین داجلی نے انسدادِ پولیو مہم کے انتظامات، اہداف، ٹیموں کی تشکیل، سیکیورٹی، مائیکرو پلاننگ اور درپیش چیلنجز کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر نصیرآباد کیپٹن (ر) ذوالفقار علی کرار نے کہا کہ پولیو کا مکمل خاتمہ حکومت کی اولین ترجیح ہے اور اس قومی فریضے کی ادائیگی میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے ہدایت کی کہ مہم کے دوران ہر بچے کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کو یقینی بنایا جائے، فیلڈ میں ٹیموں کی حاضری، کارکردگی اور مانیٹرنگ کو مزید مؤثر بنایا جائے جبکہ انکاری والدین کو قائل کرنے کے لیے علما، معتبرین اور کمیونٹی رہنماؤں کا کردار بھی فعال کیا جائے۔ ڈپٹی کمشنر نے واضح کیا کہ دور دراز اور حساس علاقوں میں خصوصی توجہ دی جائے، کولڈ چین کی سختی سے نگرانی کی جائے اور سیکیورٹی اداروں کے ساتھ قریبی رابطہ رکھا جائے تاکہ مہم کو کامیابی سے ہمکنار کیا جا سکے۔ انہوں نے تمام محکموں پر زور دیا کہ باہمی تعاون اور ذمہ داری کے احساس کے ساتھ کام کرتے ہوئے نصیرآباد کو پولیو فری بنانے کے ہدف کو ہر صورت حاصل کیا جائے۔اس کے ساتھ ساتھ سکیورٹی کے بھی غیر معمولی انتظامات کیے جائیں۔
خبرنامہ نمبر230/2026
لورالائی 12جنوری :کمشنر لورالائی ڈویژن کی زیر صدارت ڈویژنل مانیٹرنگ کمیٹی کا اہم اجلاس آج کمشنر آفس میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں ، لورالائی اسکاؤٹس، آئی ایس آئی، ایم آئی، آئی بی، نادرا، پاسپورٹ آفس، ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن اور کسٹمز افسران نے شرکت کی۔جبکہ چاروں اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز نے بذریعہ وڈیو لنک شرکت کی ۔ اجلاس میں ڈویژن بھر میں امان وامان ، منشیات و سمگلنگ کی روک تھام ، نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کے خلاف کاروائی ، غیر ملکی باشندوں کی نگرانی ، جعلی شناختی کارڈ کی نشاندہی ، جائداد کی شناخت و ضبطگی ، چھوتے شیڈول میں اندراج ، سرکاری دفاتر میں ملازمین کی حاضری ، صحت و تعلیم کے شعبوں میں بہتری ، و دیگر اہم امور زیر بحث لائے گئے اور متعلقہ افسران نے اس ضمن میں بریفنگ دی ۔ اجلاس میں مذکورہ امور میں مزید بہتری لائے جانے کا اعادہ کیا گیا ۔ کمشنر لورالائی ڈویژن ولی محمد بڑیچ نے اس موقع پر کہا کہ حکومت کسی بھی غیر قانونی اقدام سمگلنگ ، منشیات ، و دیگر تخریبی سرگرمیوں کی اجازت نہیں دے گی ، اس میں ملوث عناصر کے خلاف سخت قانونی کاروائی عمل میں لائی جارہی ہے انہوں نے کہا کہ اگر چہ افیون کی کاشت میں واضح طور پر کمی آئی ہے تاہم اسے بلکل ختم ہی کرنا ہے حکومت کی پالیسی زیرو ٹالرنس ہے اس کے علاوہ سپلائی لائنوں کو بھی بند اور نارکوٹکس ڈیلرز کو گرفتار کر نا ہوگا ۔ کمشنر نے کہا کہ کوئی بھی غیر ملکی باشندہ بغیر کسی قانونی ڈاکومنٹس کے یہاں نہیں رہ سکتا اسے ڈی پورٹ کیا جائے انہوں نے کہا کہ کسی بھی محکمہ میں ملازمین کی غیر حاضری نا قابل برداشت ہیں جو آ فسر و سٹاف ڈیوٹی نہیں کرے گا تو عوام کے مسائل کیسے حل کرے گا جو بھی مستقل غیر حاضر ہیں اسے فارغ کیا جائے کمشنر ولی محمد بڑیچ نے تمام ڈپٹی کمشنرز دور دراز علاقوں میں کھلی کچہریاں منعقد کرنے کی ہدایت کی اور اس میں دیگر اداروں کو بھی شامل کر یں انہوں نے کہا کہ وہ خود بھی کھلی کچہری میں شرکت کریں گے کہ عوام کو سنیں انھیں سکیمات دیں اور ان کے مسائل حل کریں تاکہ ان کا حکومتی اداروں پر اعتماد بحال ہو اور وہ منفی سرگرمیوں میں نہ پڑیں ۔ کمشنر نے کسی بھی علاقے میں بارودی مواد ، یوریا کھاد کی نگرانی کرنے کی ہدایت کی کہ ان کا غلط استعمال نہ ہو، اس کے تمام ڈیلرز رجسٹرڈ ہوں انہوں نے کہا کہ چینی اور آ ٹا روزمرّہ ضرورت کی اشیائ ہیں اور اس کا بین الصوبائی و ضلعی ترصیل کی اجازت ہیں ، بارڈر کی طرف اس کی نگرانی ضروری ہیں کمشنر نے کہا کہ حکومت نے اے اور بی ایریا کا فرق ختم کردیا ہے تمام ڈپٹی کمشنرز لیویز کے تمام رینک کے ملازمین ، تمام مشنری ، گاڑیوں ، بلڈنگ تھانہ جات و دیگر اسیٹس کی فہرست اپنے اضلاع کے ایس ایس پی کو ایک ہفتہ کے اندر ارسال کریں اور کمشنر و ڈی آ ئی جی پولیس کو اطلاع کریں ۔اجلاس میں ڈی آ ئج پولیس جنید احمد ، میجر کامران خان ، اے ڈی نادرا امیر محمد ، اے ڈی نادرا عصمت اللہ ، محمد ظریف ای ٹی او ، میجر احمد ، نجیب اللہ و دیگر نے شرکت کی ۔
خبرنامہ نمبر231/2026
کوئٹہ 12 جنوری۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کی زیر صدارت ضلع کوئٹہ میں نان فنکشنل اسکولوں کو دوبارہ فعال بنانے کے حوالے سے اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) کوئٹہ محمد انور کاکڑ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (ریوینیو)،کوئٹہ حافظ محمد طارق ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر اور ڈسٹرکٹ خزانہ آفیسر نے شرکت کی۔اجلاس میں ضلع کوئٹہ کے نان فنکشنل اسکولوں کی مجموعی اور موجودہ صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور انہیں مرحلہ وار فعال کرنے کے لیے عملی اقدامات پر غور کیا گیا۔ ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ نان فنکشنل اسکولوں میں درپیش مسائل کی نشاندہی کرتے ہوئے فوری حل یقینی بنایا جائے تاکہ تعلیمی سرگرمیاں بحال کی جا سکیں۔اجلاس میں اسکولوں کو مکمل طور پر فنکشنل کرنے کے لیے اساتذہ کی تعیناتی، بنیادی سہولیات کی فراہمی اور مالی امور سے متعلق اقدامات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ڈپٹی کمشنر کوئٹہ نے اس امر پر زور دیا کہ تعلیم کے فروغ کے لیے تمام محکمے باہمی تعاون کو فروغ دیکر اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے ادا کریں۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر نے کہاکہ ضلع بھر میں نان فنکشنل اسکولوں کو جلد از جلد فعال بنا کر طلبہ کو معیاری تعلیمی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔
برنامہ نمبر232/2026
کوئٹہ 12جنوری۔ ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کی زیر صدارت شہر میں روٹی کی قیمتوں میں من مانی اضافہ اور وزن میں کمی کے خلاف کارروائی کے حوالے سے ایک اجلاس منعقد کیا۔ اجلاس میں تمام اسسٹنٹ کمشنرز، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (ریونیو) اور ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران روٹی کی مقررہ قیمتوں اور طے شدہ وزن پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔ اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ سرکاری نرخنامے اور مقررہ وزن پر کسی بھی قسم کی خلاف ورزی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔ ضلعی انتظامیہ نے فیصلہ کیا ہے کہ شہر میں روٹی کے وزن یا قیمت میں کمی بیشی کرنے والے نان بائیوں کے خلاف بلاامتیاز سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی، جس میں جرمانے، دکانوں سیل اور مقدمات کا اندراج بھی شامل ہیں اس حوالے سے تمام اسسٹنٹ کمشنرز کو ہدایت کی گئی کہ وہ اپنے اپنے علاقوں میں روزانہ کی بنیاد پر سخت چیکنگ کو یقینی بنائیں اور عوام کو مقررہ قیمت اور وزن کے مطابق روٹی کی فراہمی ہر صورت ممکن بنائیں۔ اجلاس میں ڈپٹی کمشنر نے سختی سے ہدایت کی کہ عوام کے معاشی استحصال کو کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا اور خلاف ورزی کے مرتکب عناصر کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی جائے گی۔ضلعی انتظامیہ نے واضح کیا کہ عوامی مفاد کے تحفظ کے لیے نگرانی کا عمل مزید مؤثر بنایا جائے گا اور روٹی کی قیمتوں و وزن میں کمی کے خلاف کارروائیاں بلا تعطل جاری رہیں گی۔
خبرنامہ نمبر233/2026
نصیرآباد:صوبائی پارلیمانی سیکرٹری برائے اقلیتی امور سنجے کمار پنجوانی نے کمشنر نصیرآباد ڈویژن صلاح الدین نورزئی کے ہمراہ سرکٹ ہاؤس ڈیرہ مراد جمالی کا دورہ کیا۔ دورے کے موقع پر انہوں نے سرکٹ ہاؤس میں جاری تعمیر و مرمت کے کاموں کا تفصیلی جائزہ لیا۔اس موقع پر صوبائی پارلیمانی سیکرٹری سنجے کمار پنجوانی نے سرکٹ ہاؤس کی تعمیر و مرمت کے عمل کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ نصیرآباد ڈویژن کے واحد سرکٹ ہاؤس کی خستہ حالی کا تدارک ناگزیر تھا اور اس اہم سرکاری عمارت کی بہتری سے سرکاری امور کی انجام دہی میں سہولت میسر آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ میں بھرپور کوشش کروں گا کہ سرکٹ ہاؤس کی تعمیر و مرمت کے لیے جلد از جلد مناسب بجٹ کی فراہمی کو یقینی بنا سکوں تاکہ تزئین و آرائش کا کام مزید بہتر انداز میں مکمل ہو اور یہ عمارت اعلیٰ معیار کے مطابق استعمال کے قابل بن سکے۔اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل اسپورٹس ڈاکٹر یاسر خان بازئی، ڈپٹی کمشنر نصیرآباد کیپٹن (ر) ذوالفقار علی کرار،سیاسی و قبائلی رہنمائ بابو یار محمد لہڑی ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر ایاز حسین جمالی، پی پی ایچ آئی کے ڈی ایس ایم طارق شہباز سمیت دیگر متعلقہ افسران بھی موجود تھے۔ دورے کے دوران کمشنر نصیرآباد ڈویژن صلاح الدین نورزئی نے کہا کہ نصیرآباد ڈویژن میں صوبائی حکومت کی جانب سے مفاد عامہ کے متعدد ترقیاتی منصوبوں پر تیزی سے کام جاری ہے جن کی باقاعدہ اور سخت مانیٹرنگ کی جا رہی ہے تاکہ شفافیت اور معیار کو یقینی بنایا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ سرکاری عمارتوں کی بہتری حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے کیونکہ اس سے عوام اور افسران دونوں کو سہولیات میسر آتی ہیں۔ منسٹر اقلیتی امور نے اپنے فنڈز سے، سرکٹ ہاؤس میں ماربل لگوانے کے کام کی یقین دہانی کروائی۔اور کہا کہ سرکٹ ہاؤس ڈیرہ مراد جمالی کے انتظامات تسلی بخش ہے۔ فنڈز کی کمی کی وجہ سے مرمت کا کام بروقت نہیں ہوا ہے، اس کمی کو دور کرنے کیلئے میں ذاتی طور پہ فنڈز کی فراہمی یقینی بناونگا۔ انہوں نے کمشنر نصیرآباد ڈویژن کی سرکٹ ہاؤس کی بہتری میں ذاتی دلچسپ کو سراہا اور اپنی ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی دہرائی۔
3
خبرنامہ نمبر234/2026
سبی 12 جنوری :ڈپٹی کمشنر سبی میجر(ر) الیاس کبزئی اور ونگ کمانڈر 122 ونگ کرنل عبدلمنان نے گزشتہ روز گورنمنٹ بوائز ہائی اسکول سلطان کوٹ اور بنیادی مرکز صحت سلطان کوٹ کا تفصیلی دورہ کیا۔ اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر سبی منصور علی شاہ، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر عبدالستار لانگو، ڈی ایم پی پی ایچ آئی ممتاز علی رند سمیت دیگر ضلعی افسران بھی ان کے ہمراہ تھے۔ گورنمنٹ بوائز ہائی اسکول کے دورے کے دوران انہوں نے تعلیمی نظام، اساتذہ و طلبہ کی حاضری، صفائی کی صورتحال اور دستیاب سہولیات کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر طلبائ میں کھیلوں کا سامان بھی تقسیم کیا گیا۔ افسران نے اساتذہ کو ہدایت کی کہ طلبہ کی متوازن اور ہمہ گیر نشوونما کے لیے نصابی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ کھیلوں کو بھی فروغ دیا جائے بعدازاں بنیادی مرکز صحت سلطان کوٹ میں مریضوں کو فراہم کی جانے والی طبی سہولیات، طبی عملے کی حاضری اور صفائی کی صورتحال کا معائنہ کیا گیا۔ اس دوران ادویات کے اسٹاک کو بھی چیک کیا گیا اور متعلقہ حکام کو ہدایت کی گئی کہ عوام کو بلا تعطل معیاری طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔ ڈپٹی کمشنر سبی میجر(ر) الیاس کبزئی نے اس موقع پر کہا کہ تعلیم اور صحت عوامی فلاح کے بنیادی شعبے ہیں اور ان میں بہتری کے لیے کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔
خبرنامہ نمبر235/2025
اسلام آباد،12 جنوری :وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے پیر کو یہاں اسلام آباد میں سینئر پارلیمنٹرین اور مسلم لیگ (ن) کے رہنما راجہ ظفر الحق کی عیادت کی اس موقع پر وزیر اعلیٰ نے راجہ ظفر الحق کی خیریت دریافت کی اور ان کی جلد صحتیابی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیاوزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے راجہ ظفر الحق کی طویل سیاسی خدمات اور جمہوری اقدار کے فروغ میں ان کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ قومی سیاست کا ایک معتبر اور قابلِ احترام نام ہیں دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ راجہ ظفر الحق کو جلد صحت یاب فرمائے راجہ ظفر الحق نے وزیر اعلیٰ بلوچستان کی جانب سے ان کی عیادت اور خیرسگالی پر ان کا شکریہ ادا کیا اور نیک خواہشات کے اظہار پر قدردانی کی۔
خبرنامہ نمبر236/2025
چمن 12 جنوری :ڈی سی چمن حبیب احمد بنگلزئی کی زیر صدارت پرائس کنٹرول کمیٹی کااجلاس منعقد کیا گیا اجلاس میں پرائس کنٹرول کمیٹی کے افیسران اور ممبران تاجروں اور دیگر متعلقہ افسران شریک تھے اس موقع پر تمام اشیائ خوردونوش درزیوں حجام اور دیگر چیزوں کی نئے قیمتوں کا تعین کیا گیا اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ تمام دکانداروں میں سرکاری نرخ نامے کو آویزاں جگہ پر لگایا جائے گا اور سرکاری نرخ نامے کی خلاف ورزی کی صورت میں دکانداروں پر باری جرمانے عائد کرنا دکانوں کوتالا لگانا اور دکانداروں کو تھانے میں بند کرنے جیسے اقدامات شامل ہونگے ڈی سی چمن نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ لہذا ضروری ہے کہ تمام تاجر برادری اور دکاندار عوام کی سہولت کی خاطر سرکاری نرخ نامے کی پاسداری کو یقینی بنائیں تاکہ عوام کو کم سے کم اشیائ خوردونوش اور دیگر ضروری سامان تو انصاف اور اصولوں کے مطابق ملیں انہوں نے کہا کہ عوام کو بنیادی ضروریات کی فراہمی سرکاری اصولوں کے مطابق یقینی بنانا ضلعی انتظامیہ کی اولین ذمہ داریوں میں شامل ہے جس کے حوالے سے ضلعی انتظامیہ کسی قسم کی سمجھوتے اور مفاہمت کا شکار نہیں ہوگا۔
خبرنامہ نمبر237/2025
خضدار خبرنامہ 12 جنوری 2026 ۔ڈپٹی کمشنر خضدار عبدالرزاق سا سولی کے زیر صدارت ڈسٹرکٹ پولیو ایریڈیکیشن کمیٹی (DPEC) کا اجلاس منعقد ہوا اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر خضدار عبدالرزاق ساسولی نے واضح کیا کہ انے والی پولیو مہم کو ایک “مشن موڈ” کے تحت چلایا جائے گا جس میں غفلت کی قطعا گنجائش نہیں ہوگی ۔ اجلاس میں ایس ایس پی خضدار عمر عباس بابر اسسٹنٹ کمشنر وڈھ اکبر علی مزار زئی ڈسٹرکٹ ہیلتھ افیسر خضدار ڈاکٹر محمد نسیم لانگو ڈسٹرکٹ منیجر خضدار پی پی ایچ ائی ڈاکٹر منیر احمد بلوچ ایم ایس ٹیچنگ ہسپتال خضدار ڈاکٹر سرمد سعید نیشنل اسٹاف افیسر ڈاکٹر فرمان باجوئی ایریا کارڈینیٹر ڈبلیو ایچ او ڈاکٹر نصرت سمیت محکمہ صحت خضدار اور پی پی ایچ ائی کے نمائندوں نے شرکت کی ڈبلیوایچ او کےایریا کورڈینٹر ڈاکٹر نصرت نے پولیومہم سے متعلق ڈپٹی کمشنر خضدار عبدالرزاق سا سولی کو تفصیلی بریفنگ دیتے ہوے کہا کہ پولیو مہم 02فروری 2026سے شروع ہوکر 05 فروری 2026 چار روز تک جاری رہیگا پولیو کے اس مہم میں ضلع خضدار کے49 یونین کونسلز میں 171820بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے جائیں گےاس مہم میں ضلع خضدار میں تمام یونین کونسلز میں پولیو ٹیمیں پیدائش سے لے کر پانچ سال تک کے عمر کے بچوں کو پولیو کے قطرے پلائیں گے اس موقع پر ڈپٹی کمشنر خضدار عبدالرزاق ساسولی کہا کہ پولیو ایک موذی مرض ہےاس مرض سے بچوں کو بچانے کیلئےپولیو کے قطرے پلانا بہت ضروری ہےایک صحت مندمعاشرے کی تشکیل کیلئے بچوں کا صحت مند ہونا ضروری ہے ڈپٹی کمشنر نے خاص طور پر مسنگ گھروں اور بچوں کے کیسز پر توجہ مرکوز کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ یو سی ایم اوز مقامی علمائ اور عمائدین کے ہمراہ مسنگ بچوں کی والدین سے رابطہ کریں اور انہیں قائل کریں کہ وہ اپنے بچوں کو عمر بھر کی معذوری سے بچانے کے لیے پولیو کے قطرے ضرور پلوائیں انہوں نے اعادہ کیا کہ ضلع خضدار سے پولیو کا خاتمہ ہماری اولین ترجیح ہے اور اس مقصد کی لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے انہوں نے مزید کہا کہ پولیو مہم کوسنجیدگی سے انجام دینے کیلئے مانیٹرنگ ٹیموں کی زمہ داری ہیکہ وہ بھرپور طریقے سے اپناکردار اداکریں پولیو مہم میں بہترین کارکردگی پیش کرنے والے ٹیموں کی حوصلہ افزائی کی جائیگی
.
خبرنامہ نمبر238/2025
سبی 12 جنوری :اسسٹنٹ کمشنر سبی منصور علی شاہ کی صدارت میں لوکل و ڈومیسائل کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں چیئرمین میونسپل کمیٹی سردار محمد خان خجک سمیت متعلقہ افسران، تمام یونین کونسلوں کے چیئرمین اور کمیٹی ممبران نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران لوکل سرٹیفیکیٹس کی کمپیوٹرائزیشن کے عمل کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اس سلسلے میں مختلف علاقوں سے موصول ہونے والے کیسز زیرِ غور آئے جن میں والد کی لوکل سے علیحدہ اپنی لوکل یا ڈومیسائل کے اجرائ، نئی لوکل و ڈومیسائل کے اجرائ اور دیگر متعلقہ معاملات شامل تھے۔ کمیٹی نے جمع شدہ درخواستوں کی جانچ پڑتال کے بعد جن کیسز کا ریکارڈ درست پایا گیا انہیں منظوری دے دی جبکہ جن درخواستوں کا ریکارڈ دستیاب نہ ہونے یا نامکمل پایا گیا انہیں منسوخ کر دیا گیا۔ اسسٹنٹ کمشنر سبی منصور علی شاہ نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ لوکل و ڈومیسائل سرٹیفیکیٹس کا اجرائ مکمل طور پر درست، شفاف اور دستیاب سرکاری ریکارڈ کے مطابق کیا جائے تاکہ کسی بھی قسم کی بے ضابطگی یا غلطی کا احتمال نہ رہے۔
خبرنامہ نمبر238/2026
کوئٹہ۔صوبائی وزیرِ خزانہ میر شعیب نوشیروانی نے کہا ہے کہ صوبے کے عوام سے کیا گیا ایک اور اہم وعدہ پورا کر دیا گیا ہے اور موجودہ صوبائی حکومت شفاف، میرٹ پر مبنی اور عوامی اعتماد کی حامل حکمرانی کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی قیادت میں حکومت نے ایک اہم سنگِ میل عبور کیا ہے اور صوبے میں میرٹ اور شفافیت کو اولین ترجیح دی جا رہی ہے۔اپنے جاری کردہ بیان میں صوبائی وزیر نے کہا کہ بلوچستان میں شفافیت کے نظام کو مزید مضبوط بنایا جا رہا ہے، جس کے تحت صوبے کی تاریخ میں پہلی مرتبہ 111 سرکاری آسامیاں سو فیصد میرٹ اور اوپن میرٹ کی بنیاد پر آن لائن بھرتیوں کے ذریعے فراہم کی جا رہی ہیں۔میر شعیب نوشیروانی نے کہا کہ یہ اقدام کرپشن کے خاتمے اور ادارہ جاتی اصلاحات کی جانب ایک تاریخی پیش رفت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھرتیوں کے اس جدید اور شفاف نظام سے نوجوانوں میں اعتماد بڑھے گا اور اہل و باصلاحیت افراد کو آگے آنے کے مساوی مواقع میسر آئیں گے۔انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ موجودہ صوبائی حکومت بلوچستان میں گڈ گورننس، شفافیت اور میرٹ کی بالادستی کو یقینی بناتے ہوئے عوام کی توقعات پر پورا اترتی رہے گی۔
خبرنامہ نمبر239/2026
لسبیلہ: سیکرٹری, حکومتِ بلوچستان، کالجز، ہائر اینڈ ٹیکنیکل ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ، جناب صالح محمد بلوچ نے 12 جنوری 2026 کو ضلع لسبیلہ کے مختلف تعلیمی اداروں کا دورہ کیا، جس کا مقصد تعلیمی، انتظامی اور ترقیاتی امور کا جائزہ لینا تھا۔اپنے دورے کا آغاز انہوں نے گورنمنٹ بوائز ڈگری کالج وندر سے کیا، جہاں پرنسپل کی موجودگی میں انہوں نے کالج کے تعلیمی و انتظامی معاملات کا تفصیلی معائنہ کیا۔ سیکرٹری تعلیم نے تدریسی و تعلیمی عمل کا جائزہ لیا اور زیرِ تعمیر ترقیاتی منصوبوں بشمول امتحانی ہال، ملٹی پرپز ہال، ایڈمنسٹریٹو بلاک، لیبارٹریز، کلاس رومز، کیفے ٹیریا، پرنسپل لاج، بیچلرز لاج اور ملازمین کے کوارٹرز کا معائنہ کیا۔ انہوں نے اساتذہ سے ملاقات کی اور ادارے میں نظم و ضبط اور تعلیمی سرگرمیوں پر اطمینان کا اظہار کیا، جبکہ تعلیمی معیار کو مزید بہتر بنانے کے لیے ضروری ہدایات بھی جاری کیں۔بعد ازاں سیکرٹری تعلیم نے گورنمنٹ پولی ٹیکنک انسٹیٹیوٹ اُتھل کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے مختلف لیبارٹریز اور کلاس رومز کا معائنہ کیا، طلبہ سے بات چیت کی اور اساتذہ کے ساتھ تبادلہ خیال کیا۔ ادارے کے عملے نے انہیں موجودہ تعلیمی صورتحال اور جاری سرگرمیوں سے آگاہ کیا۔دورے کے آخری مرحلے میں جناب صالح محمد بلوچ نے بلوچستان ریزیڈنشل کالج اُتھل کا دورہ کیا، جہاں پراجیکٹ ڈائریکٹر کی نگرانی میں جاری ترقیاتی کاموں کا جائزہ لیا گیا۔ سیکرٹری تعلیم نے ترقیاتی منصوبوں کی رفتار پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے انہیں مقررہ معیار اور بروقت مکمل کرنے کی ہدایت کی۔یہ دورہ حکومتِ بلوچستان کے اس عزم کی عکاسی کرتا ہے کہ صوبے بھر میں تعلیمی اداروں کو مضبوط بنایا جائے اور معیاری تعلیم کے فروغ کو یقینی بنایا جائے۔
خبرنامہ نمبر240/2026
لورالائی 12جنوری 2026ڈپٹی کمشنر لورالائی میراں بلوچ کی زیر صدارت بی ایس ڈی آئی کے تحت فیز ٹو کے تحت ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے ایک اہم اجلاس ڈپٹی کمشنر آفس میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں ایگزیکٹو انجینئر پبلک ہیلتھ انجینئرنگ اختر محمد مندوخیل، ایگزیکٹو انجینئر بی اینڈ آر بلڈنگز احمد دین،بی اینڈ آر روڑز محمد داود،اسٹنٹ کمشنر ندیم اکرم بلوچ،اے ڈی سی جنرل نور علی کاکڑ،ایف سی کے میجر کامران، میجر احمد، سمیت مختلف محکموں کے افسران اور نمائندگان نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران تمام محکموں کے افسران نے اپنے اپنے اداروں میں جاری فیز ون کے تحت جاری ترقیاتی اسکیموں، کام کی رفتار اور درپیش مسائل کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ ڈپٹی کمشنر میراں بلوچ نے اجلا س میں فیز ٹو کے تحت منظور شدہ منصوبے جن میں میل فیمیل ڈبل سٹوری لائبریری جن کی تخمینہ لاگت 9 کڑوڑ روپے ہے،دوفٹسال گرونڈ جن خہ تخمینہ لاگت 8 کڑورڑروپے، فیمیل جمنازیم جس کئ لاگت 7 کڑوڑ 77 لاکھ روپے ہے،بی ایچ یوز اور آر ایچ سی مختلف دیہات میں دوکڑورڑ 15 لاکھ،شہر میں گلیوں، سیوریج کیلئے 9 کڑورڑ روپے ،باچا خان چوک توسیع اور تازین و آرائش جس کی تخمینہ لاگت 5 کڑوڑ روپے رکھے گئے ہیں جس پے ڈپٹی کمشنر نے ترقیاتی منصوبوں کی پی سی ون جلد ازجلد تیار کرکے ان پر کام معیار کے ساتھ بروقت مکمل کرنا تمام انجینیئرز اور افسران کی اولین ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ترقیاتی امور میں کسی بھی قسم کی کوتاہی یا تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی۔حکومت بلوچستان عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں پر خطیر رقم خرچ کر رہی ہے لہٰذا ضروری ہے کہ اس مشن کو پوری ایمانداری، شفافیت اور ذمہ داری کے ساتھ پائیہ تکمیل تک پہنچایا جائے تاکہ عوام ان منصوبوں کے دیرپا اور حقیقی فوائد حاصل کر سکیں۔ڈپٹی کمشنر نے ہدایت کی کہ تمام محکمے باہمی رابطہ اور کوآرڈینیشن کے ساتھ کام کریں تاکہ ترقیاتی عمل میں تسلسل برقرار رہے اور منصوبے مقررہ مدت میں مکمل ہو سکیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ترقیاتی منصوبوں کا مقصد عوامی سہولتوں میں اضافہ اور بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانا ہے، اس لیے اس ضمن میں کسی قسم کی غفلت ناقابلِ قبول ہوگی۔
خبرنامہ نمبر242/2026
کوئٹہ 12 جنوری ۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ کی ہدایت پر ضلعی انتظامیہ کا تندور، قصاب خانوں اور ممنوعہ پلاسٹک تھیلوں کے خلاف کریک ڈاؤن اس دوران 103 دکانوں اور قصابوں کا معائنہ کی گیا اور خلاف ورزی پر 25 افراد گرفتار جبکہ 20 افراد جیل منتقل کردیا گیا اس کے علاوہ 70 کلو گرام پلاسٹک تھیلے ضبط کے کر متعدد دکانداروں کو سخت وارننگ جاری کر دی گئی تفصیلات کے مطابق ضلعی انتظامیہ کے زیر نگرانی سریاب، صدر، سٹی اور کچلاک میں تندور، قصاب خانوں اور ممنوعہ پلاسٹک تھیلوں کے خلاف کریک ڈاؤن کیا گیا۔ اس دوران وزن میں کمی اور زیادہ قیمتیں وصول کرنے پر 25 افراد کو گرفتار کرکے ان میں 20 افراد کو جیل بھیج دیا گیا۔ ان کاروائیوں میں اسسٹنٹ کمشنر کچلاک احسام الدین کاکڑ، اسپیشل مجسٹریٹ عزت اللہ، اسپیشل مجسٹریٹ حسیب سردار اور اسپیشل مجسٹریٹ اعجاز حسین کھوسہ نے حصہ لیا۔ضلعی انتظامیہ نے کہا کہ کسی کو من مانی کرنے نہیں دیا جائے گا، انتظامیہ نئے تجزیے کے بعد وزن اور قیمتوں کا تعین کرے گی۔ لیکن ڈبل روٹی پر کوئٹہ میں مکمل پابندی عائد ہے۔لہذا تمام دکاندار اور تندور مالکان ضلعی پرائس لسٹ پر عملدرآمد کو ہر صورت یقینی بنائیں۔
خبرنامہ نمبر243/2026
تربت – 12 جنوری 2025 :کیچ اسپورٹس اینڈ فٹنس فیسٹیول کے زیرِ اہتمام اسکول سائیڈ اسپورٹس سرگرمیوں کی اختتامی تقریب پیر کے روز گورنمنٹ بوائز ماڈل ہائی اسکول تربت میں نہایت جوش و خروش اور شاندار ماحول میں منعقد ہوئی۔تقریب کے مہمانِ خصوصی سابق صوبائی مشیر لالا رشید دشتی تھے، جبکہ فیسٹیول سیکرٹری التاز سخی، اسسٹنٹ کمشنر تربت محمد حنیف کبزئی، این آر ایس پی کے ریجنل جنرل منیجر نبیل احمد، ٹھیکیدار ظریف رند، اسپورٹس آفیسر غفار یوسف اور دیگر معزز شخصیات بھی اس موقع پر موجود تھیں۔فیسٹیول کے دوران تربت کے دس مختلف اسکولوں کے طلبہ نے اسپورٹس ایونٹس میں بھرپور حصہ لیا۔ مقابلوں میں فٹ بال، کرکٹ اور دیگر روایتی کھیل شامل تھے۔ فٹ بال ٹورنامنٹ کا فائنل گورنمنٹ بوائز ماڈل ہائی اسکول تربت نے جیتا، جبکہ کرکٹ فائنل میں گورنمنٹ بوائز ہائی اسکول آبسر کامیاب رہا۔ رسہ کشی کا سنسنی خیز مقابلہ ماڈل اسکول اور ہائی اسکول آبسر کے درمیان ہوا جس میں ہائی اسکول آبسر نے فتح حاصل کی۔تقریب کے دوران بلوچی ثقافت کی بھرپور جھلک بھی دیکھنے کو ملی، جہاں روایتی بلوچی دوچاپی پیش کی گئی جسے شرکائ نے بے حد سراہا۔اختتامی تقریب کے اسٹیج سیکرٹری اصغر رسول تھے، جبکہ پروگرام کا آغاز تلاوتِ قرآن پاک سے ہوا جس کی سعادت قاری محمد عباس نے حاصل کی۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مہمانِ خصوصی لالا رشید دشتی نے کہا کہ کیچ اسپورٹس اینڈ فٹنس فیسٹیول ایک مثبت اور قابلِ تحسین اقدام ہے، جس نے نوجوانوں کو صحت مند سرگرمیوں کی جانب راغب کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ کھیل نہ صرف جسمانی بلکہ ذہنی تربیت کا بھی بہترین ذریعہ ہیں اور ایسے ایونٹس نوجوانوں کے اعتماد اور صلاحیتوں کو نکھارنے میں مدد دیتے ہیں۔ انہوں نے اس فیسٹیول کو ڈپٹی کمشنر کیچ بشیر احمد بڑیچ کے نوجوان دوست وژن کا عملی اظہار قرار دیتے ہوئے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ کھیلوں کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں اور منشیات و منفی سرگرمیوں سے دور رہیں۔فیسٹیول سیکرٹری التاز سخی نے اپنے خطاب میں کہا کہ کیچ اسپورٹس اینڈ فٹنس فیسٹیول نوجوانوں کے لیے ایک صحت مند اور مثبت ماحول فراہم کرنے میں کامیاب رہا ہے۔ انہوں نے ماڈل اسکول کے اساتذہ، طلبہ اور انتظامیہ کو کامیاب اسپورٹس ایونٹ کے انعقاد پر مبارکباد دی اور کہا کہ یہ فیسٹیول ڈپٹی کمشنر کیچ کے وژن اور سوچ کی عملی مثال ہے۔اسسٹنٹ کمشنر تربت محمد حنیف کبزئی نے کہا کہ کیچ کی تاریخ میں یہ اپنی نوعیت کا ایک منفرد اور مثالی فیسٹیول ہے جس نے نوجوانوں کو کھیلوں کی جانب متوجہ کیا۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ مستقبل میں بھی ایسے مثبت اور تعمیری پروگراموں کا انعقاد جاری رہنا چاہیے۔پرنسپل گورنمنٹ بوائز ماڈل اسکول تربت اکبر اسماعیل اور این آر ایس پی کے ریجنل جنرل منیجر نبیل احمد نے بھی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے فیسٹیول کو خوش آئند اقدام قرار دیا اور نوجوانوں کے لیے مزید اسپورٹس سرگرمیوں کے مواقع فراہم کرنے پر زور دیا۔اختتام پر مہمانِ خصوصی لالا رشید دشتی، فیسٹیول سیکرٹری التاز سخی، اسسٹنٹ کمشنر محمد حنیف کبزئی، این آر ایس پی کے نبیل احمد، پرنسپل ماڈل اسکول اکبر اسماعیل، پرنسپل بوائز ہائی اسکول آبسر میر احمد، اسپورٹس آفیسر غفار یوسف، سابق پرنسپل حاجی علی جان اور ٹھیکیدار ظریف رند نے نمایاں کارکردگی دکھانے والے طلبہ میں ٹرافیاں، اسناد اور انعامات تقسیم کیے۔اس موقع پر بہترین دوچاپی کا مظاہرہ کرنے والے کمسن طالب علم یوسف کو ٹھیکیدار ظریف رند کی جانب سے پانچ ہزار روپے نقد انعام بھی دیا گیا۔
خبرنامہ نمبر244/2026
بارکھان. 12 جنوری۔ ڈپٹی کمشنر بارکھان عبداللہ کھوسہ سے سپرنٹنڈنٹ پولیس ڈاکٹر سعد آفریدی نے اہم ملاقات کی، جس میں حکومتِ بلوچستان کی جانب سے لیویز فورس کی پولیس میں منتقلی کے عمل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ملاقات کے دوران ضلع بارکھان میں امن و امان کی صورتحال، سیکیورٹی انتظامات اور لیویز فورس کی پولیس میں شمولیت سے متعلق انتظامی و قانونی امور کا جائزہ لیا گیا۔ دونوں افسران نے اس عمل کو شفاف، منظم اور عوامی مفاد کے مطابق مکمل کرنے پر اتفاق کیا۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر عبداللہ کھوسہ نے کہا کہ لیویز فورس کی پولیس میں منتقلی کے لیے تمام ضروری اقدامات تیزی سے مکمل کیے جا رہے ہیں اور بہت جلد یہ عمل پایہ تکمیل تک پہنچا دیا جائے گا۔ انہوں نے یقین دلایا کہ ضلعی انتظامیہ پولیس کے ساتھ مکمل تعاون جاری رکھے گی تاکہ ضلع میں قانون کی عملداری، عوامی تحفظ اور امن و امان کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔ایس پی ڈاکٹر سعد آفریدی نے بھی اس موقع پر ضلعی انتظامیہ کے تعاون کو سراہتے ہوئے کہا کہ لیویز فورس کی پولیس میں شمولیت سے ضلع میں سیکیورٹی نظام مزید مؤثر اور مضبوط ہوگا، جس کا براہِ راست فائدہ عوام کو پہنچے.
خبرنامہ نمبر245/2026
بارکھان 12 جنوری:ڈپٹی کمشنر بارکھان عبداللہ کھوسہ کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ ایجوکیشن گروپ کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ضلع بھر میں تعلیمی امور، اسکولوں کی کارکردگی اور جاری منصوبوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں ڈسٹرکٹ ایجوکیشن افیسر نوید لطیف، ڈسٹرکٹ آفیسر ایجوکیشن سید امیر شاہ، ڈپٹی ڈسٹرکٹ آفیسر بوائز اسکولز طارق محمود کھیتران، ڈسٹرکٹ اکاؤنٹ آفیسر محمد کمال مری اور ڈسٹرکٹ مانیٹرنگ آفیسر محمد نسیم کھیتران نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران اسکولوں میں اساتذہ کی حاضری، طلبہ کی انرولمنٹ، تعلیمی معیار میں بہتری، بنیادی سہولیات کی فراہمی اور سرکاری فنڈز کے شفاف استعمال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ڈپٹی کمشنر عبداللہ کھوسہ نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ تعلیمی نظام کی بہتری کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں اور غفلت یا کوتاہی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ معیاری تعلیم ہی ضلع کی ترقی کی بنیاد ہے، اس لیے فیلڈ میں مانیٹرنگ کا عمل مزید مؤثر بنایا جائے اور عوامی شکایات کا بروقت ازالہ یقینی بنایا جائے۔
خبرنامہ نمبر246/2026
اسلام آباد12 جنوری :قومی پیغامِ امن کمیٹی کا مشاورتی اجلاس وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کی سربراہی میں آج اسلام آباد میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں کورڈینیٹر پیغامِ امن کمیٹی مولانا طاہر اشرفی، ملک بھر کے مختلف مکاتب فکر کے علمائ اور وفاق کے نمائندگان نے شرکت کی۔اجلاس میں ملک میں مذہبی ہم آہنگی اور ریاستی استحکام کو مضبوط کرنے کے لیے جامع حکمت عملی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ شرکائ نے اتفاق کیا کہ پیغامِ پاکستان کو عملی شکل دینے کے لیے تمام مکاتب فکر متحد ہیں اور اس کے فروغ کو قومی ترجیح دی جائے۔اجلاس کے دوران فیصلہ کیا گیا کہ مدارس، مساجد اور جامعات میں پیغامِ پاکستان کے اصولوں کو شامل کیا جائے اور علمائ و مشائخ اسے اپنے خطبات و دروس میں عام کریں گے۔ انتہاپسند نظریات کے خلاف فکری اور شرعی ردعمل کو موثر انداز میں نافذ کرنے کے اقدامات بھی زیر غور آئے۔نوجوانوں تک پیغامِ پاکستان پہنچانے کے لیے خصوصی آؤٹ ریچ مہمات چلانے کا فیصلہ کیا گیا، جبکہ قومی پیغامِ امن کمیٹی پیغامِ پاکستان کی عملداری کی مستقل نگرانی کرے گی۔ اجلاس میں اقلیتی برادریوں کو اس مشن میں باقاعدہ شراکت دار بنانے اور مذہبی آزادی و شہری مساوات کے فروغ کے لیے مشترکہ لائحہ عمل تشکیل دینے پر بھی اتفاق ہوا۔شرکائ نے بین المذاہب مکالمے کو قومی سطح پر وسعت دینے اور انتہاپسندانہ بیانیے کے خلاف متحدہ مذہبی محاذ قائم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ پیغامِ پاکستان کو ہر طبقے تک پہنچانے کی ذمہ داری قومی پیغامِ امن کمیٹی کی ہوگی، تاکہ پاکستان کو امن، برداشت اور ہم آہنگی کی ریاست کے طور پر فروغ دیا جا سکے۔اجلاس کے اختتام پر پشاور کے دورے کا اعلان بھی کیا گیا، جس کا مقصد شدت پسندی کے خلاف نظریاتی محاذ کو مضبوط کرنا اور پیغامِ پاکستان کے فروغ کے لیے عملی اقدامات کرنا ہے۔
خبرنامہ نمبر247/2026
گوادر:ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر یاسر طاہر نے ڈسٹرکٹ منیجر پی پی ایچ آئی ڈاکٹر مرشد دشتی کے ہمراہ بنیادی مراکزِ صحت (BHU) پلیری، بی ایچ یو موجو اور بی ایچ یو گبد کا مانیٹرنگ و سہولتی دورہ کیا۔ دورے کے دوران انہوں نے مراکزِ صحت میں عملے کی حاضری، او پی ڈی رجسٹر، ای پی آئی سائٹس اور دیگر متعلقہ ریکارڈز کا تفصیلی جائزہ لیا۔ڈاکٹر یاسر طاہر نے مریضوں کو فراہم کی جانے والی طبی سہولیات، صفائی ستھرائی، ادویات کی دستیابی اور مجموعی کارکردگی پر بھی اطمینان کا اظہار کیا، جبکہ بعض امور میں مزید بہتری کی ہدایات جاری کیں۔ اس موقع پر انہوں نے صحت عملے کو تاکید کی کہ وہ اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں ایمانداری اور وقت کی پابندی کے ساتھ انجام دیں تاکہ عوام کو معیاری اور بروقت طبی سہولیات میسر آ سکیں۔دورے کے دوران متعلقہ بنیادی مراکزِ صحت کو ادویات بھی فراہم کی گئیں تاکہ مریضوں کو علاج معالجے میں کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ضلع گوادر میں صحت کی سہولیات کو مزید بہتر بنانے کے لیے مانیٹرنگ کا یہ سلسلہ آئندہ بھی جاری رکھا جائے گا۔
خبرنامہ نمبر249/2026
گوادر: ضلعی ایجوکیشن آفیسر (فیمیل) زراتون بی بی نے ضلع کے مختلف سرکاری گرلز مڈل اسکولوں کا تفصیلی دورہ کیا، جس کا مقصد تعلیمی نظام کا جائزہ لینا، تدریسی عمل کو بہتر بنانا اور اسکولوں کو درپیش مسائل کا مشاہدہ کرنا تھا۔
دورے کے دوران ضلعی ایجوکیشن آفیسر (فیمیل) نے گورنمنٹ گرلز مڈل اسکول چیبواری، کلانچ کا معائنہ کیا جہاں انہوں نے اساتذہ کو تعلیم کے معیار کو مزید بہتر بنانے، اساتذہ اور طالبات کی حاضری پر خصوصی توجہ دینے کی ہدایت کی۔ اسکول انتظامیہ نے آگاہ کیا کہ اسکول میں چار دیواری اور نئی کلاس رومز کی اشد ضرورت ہے۔ اس موقع پر بتایا گیا کہ طالبات فرش پر بیٹھنے پر مجبور ہیں اور اسکول میں صرف چار ڈیسک دستیاب ہیں، جبکہ فرنیچر اور سولر سسٹم کی فوری ضرورت ہے۔اس کے بعد ضلعی ایجوکیشن آفیسر (فیمیل) نے گورنمنٹ گرلز مڈل اسکول شینیکانی در کا بھی دورہ کیا، جہاں اساتذہ تدریسی سرگرمیوں میں مصروف نظر آئے۔ طالبات کو درپیش مسائل کے حوالے سے آگاہ کیا گیا کہ اسکول میں فرنیچر کی کمی ہے جبکہ اسکول کے گراؤنڈ کو ہموار کرنے کی فوری ضرورت ہے تاکہ طالبات کو بہتر تعلیمی ماحول فراہم کیا جا سکے۔
دورے کے آخری مرحلے میں ضلعی ایجوکیشن آفیسر (فیمیل) نے گورنمنٹ گرلز مڈل اسکول گھٹی ڈور کا معائنہ کیا، جہاں کلاس رومز کی کمی کے باعث چار سے زائد جماعتوں کی طالبات فرش پر بیٹھنے پر مجبور ہیں۔ اسکول انتظامیہ نے بتایا کہ کلاس رومز اور عارضی شیڈ/شیلٹر کی فوری ضرورت ہے تاکہ طالبات کو محفوظ اور موزوں تعلیمی ماحول فراہم کیا جا سکے۔ضلعی ایجوکیشن آفیسر (فیمیل) نے تمام درپیش مسائل کو نوٹ کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو آگاہ کرنے اور ان کے جلد حل کے لیے عملی اقدامات کی یقین دہانی کرائی۔
Handout no 250/2026
Lasbela: On 12 January 2026, the Secretary, Government of Balochistan, Colleges, Higher and Technical Education Department, Mr. Saleh Muhammad Baloch, paid an official visit to key educational institutions of District Lasbela to review academic, administrative, and development activities.
The Secretary began his visit with a surprise inspection of Government Boys Degree College Winder, in the presence of the Principal. During the visit, he inspected the academic and administrative affairs of the college, reviewed the teaching and learning process, and examined the ongoing development works and infrastructure under construction, including the Examination Hall, Multipurpose Hall, Administrative Block, laboratories and classrooms, cafeteria, Principal’s Lodge, Bachelor’s Lodge, and servants’ quarters. He interacted with faculty members and expressed satisfaction over the overall discipline and smooth functioning of the institution. Necessary instructions and guidance were also issued for further improvement in academic standards and institutional performance.
Subsequently, the Secretary visited Government Polytechnic Institute (GPI), Uthal, where he inspected laboratories and classrooms, interacted with students, and held discussions with faculty members. The staff of GPI Uthal briefed him on the institute’s current academic status and ongoing activities.
Later, the Secretary visited Balochistan Residential College (BRC), Uthal, where he inspected the ongoing development works being carried out under the supervision of the Project Director. He reviewed the progress of the projects and emphasized the importance of timely completion in accordance with approved standards.
The visits highlight the Government of Balochistan’s commitment to strengthening educational institutions and enhancing the quality of education across the province.
خبرنامہ نمبر251/2026
بارکھان 12 جنوری :ڈپٹی کمشنر بارکھان عبداللہ کھوسہ سے سپرنٹنڈنٹ پولیس ڈاکٹر سعد آفریدی نے ایک اہم ملاقات کی، جس میں حکومتِ بلوچستان کی جانب سے لیویز فورس کی پولیس میں منتقلی کے عمل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ملاقات کے دوران ضلع بارکھان میں مجموعی امن و امان کی صورتحال، سیکیورٹی انتظامات اور لیویز فورس کی پولیس میں شمولیت سے متعلق انتظامی و قانونی امور کا جائزہ لیا گیا۔ دونوں افسران نے اس منتقلی کے عمل کو شفاف، منظم اور عوامی مفاد کے مطابق مکمل کرنے پر اتفاق کیا۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر عبداللہ کھوسہ نے کہا کہ لیویز فورس کی پولیس میں منتقلی کے لیے تمام ضروری اقدامات تیزی سے مکمل کیے جا رہے ہیں اور بہت جلد یہ عمل پایہ تکمیل تک پہنچا دیا جائے گا۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ ضلعی انتظامیہ پولیس کے ساتھ مکمل تعاون جاری رکھے گی تاکہ ضلع میں قانون کی عملداری، عوامی تحفظ اور امن و امان کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔سپرنٹنڈنٹ پولیس ڈاکٹر سعد آفریدی نے ضلعی انتظامیہ کے تعاون کو سراہتے ہوئے کہا کہ لیویز فورس کی پولیس میں شمولیت سے ضلع میں سیکیورٹی نظام مزید مؤثر اور مضبوط ہوگا، جس کے مثبت اثرات براہِ راست عوام کو پہنچیں گے۔
خبرنامہ نمبر252/2026
بارکھان 12 جنوری :ڈپٹی کمشنر بارکھان عبداللہ کھوسہ کی زیرِ صدارت ڈسٹرکٹ ایجوکیشن گروپ کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ضلع بھر میں تعلیمی امور، سرکاری اسکولوں کی مجموعی کارکردگی اور جاری تعلیمی منصوبوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر نوید لطیف، ڈسٹرکٹ آفیسر ایجوکیشن سید امیر شاہ، ڈپٹی ڈسٹرکٹ آفیسر بوائز اسکولز طارق محمود کھیتران، ڈسٹرکٹ اکاؤنٹ آفیسر محمد کمال مری اور ڈسٹرکٹ مانیٹرنگ آفیسر محمد نسیم کھیتران نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران اسکولوں میں اساتذہ کی حاضری، طلبہ کی انرولمنٹ، تعلیمی معیار میں بہتری، بنیادی سہولیات کی فراہمی اور سرکاری فنڈز کے شفاف و مؤثر استعمال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ڈپٹی کمشنر عبداللہ کھوسہ نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ تعلیمی نظام کی بہتری کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں اور کسی بھی قسم کی غفلت یا کوتاہی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ معیاری تعلیم ہی ضلع کی پائیدار ترقی کی بنیاد ہے، اس لیے فیلڈ مانیٹرنگ کے عمل کو مزید مؤثر بنایا جائے اور عوامی شکایات کا بروقت اور شفاف ازالہ یقینی بنایا جائے۔




