11th-April-2026

خبرنامہ نمبر2891/2026
کوئٹہ11 اپریل؛ گورنربلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ پاکستان نے امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی میں سہولت کاری کر کے عالمی سطح پر سفارتکاری کی ایک نئی تاریخ رقم کرتے ہوئے یہ ثابت کر دیا کہ دانشمندانہ سفارت کاری پر قسم کی جنگی صورتحال اور کشیدگی پر غالب آسکتی ہے۔ تقریباً پچاس سال کے بعد پاکستان نے امریکہ اور ایران کو براہ راست مذاکرات کی میز پر لانے میں کامیاب رہا۔ پاکستان نے حالیہ چالیس روزہ تباہ کن جنگ کے بعد عارضی جنگ بندی میں ثالثی کرکے کلیدی کردار ادا کیا۔ اس سلسلے میں وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور ڈپٹی وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار خراجِ تحسین کے مستحق ہیں۔ اس وقت پوری دنیا کی نظریں وفاقی دارالحکومت اسلام آباد پر لگی ہوئی ہیں جہاں دونوں ممالک سنجیدہ اور معنی خیز مذاکرات کیلئے موجود ہیں۔ امریکی وفد میں نائب صدر جے ڈی وینس، جیرڈ کشنر اور خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف شامل ہیں جبکہ ایران کی نمائندگی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر اور وزیر خارجہ سید عباس عراقچی کر رہے ہیں۔ گورنر جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ دنیابھر ممالک خاصکر ایران اور عرب ممالک کے عوام بھی کامیاب مذاکرات اور دیرپا امن کی خبروں کے منتظر ہیں۔ پاکستان کامیاب مذاکرات اور پرامن مستقبل کیلئے پرعزم ہے۔ ہمیں امید ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کے جلد مثبت نتائج برآمد ہونگے۔

خبرنامہ نمبر2892/2026
لورالائی۔11اپریل:ای پی آئی ٹرینگ ہال میں سی پی ڈی آئی کے زیر اہتمام ایک روزہ بجٹ میں شفافیت اور عملدرآمد کے احتساب میں موجودگی خلا کی رپورٹ پیش کی گئی یہ رپورٹ سی پی ڈی آئی نے اپنے سٹیزن نیٹ ورک فار بجٹ ا کاؤنٹی بیلیٹی کے زریعے اپنی سٹیٹ آف بجٹ ٹرانسپیرٹی رپورٹ 2025 کے نتائج میڈیا بریفینگ کے دوران ضلع لورالائی میں سالار فاؤنڈیشن کے جانب سے شئیر کئیے۔رپورٹ میں مالی سال 2024.2025 تجربہ بجٹ شفافیت کی کی حالیہ صورتحال کو سمجھنے کے لئیے کیا گیا اور موجودگی سال ابھی جاری ہے اسکا رپورٹ سال کے اختتام پر رپورٹ جاری کیا جائیگا رپورٹ کے نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان میں بجٹ کی شفافیت محدود اور غیر معیاری ہے انہوں نے کہا کہ بجٹ میں عوام کی شرکت نہ ہونے کے برابر ہر اور شفافیت احتساب بھی کمزور ہے خواتین معزور اقلیت کو توبلکل شامل نہیں کیا گیا۔بجٹ کے مواد دستاویزات عوام کے سامنے پیش نہیں کئیے جاتے اسی وجہ سے بجٹ کے اثرات عوام پر اثر انداز نہیں ہوتے رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ سارے ملک کے بنسبت پنجاب کی کارکردگی بہتر ہے اور سب سے کمزور بلوچستان اور سندھ کی حکومت کی ہے،رپورٹ میں حکومت سے مطالبہ کیا کہ بجٹ رپورٹ میں عوام اقلیت خواتین کو شامل کیا جائیں اور بجٹ کو عوام کے سامنے لایا جائیں۔اور نگرانی احتساب اور شفافیت کے سسٹم کو مضبوط کیا جائیں۔تاکہ عوام کا بجٹ عوام پر خرچ ہوسکیں اور عوام ان سے مستفید ہوسکیں دیگر مقررین میں محمد عثمان موسی خیل اور وحید الرحمن نے بجٹ اسکی اہمیت اور اسکی ضرورت پر تفصیلا گفتگو کی۔سی پی ڈی آئی نے پاکستان بھر میں 101 اضلاع میں 64 سول سوسائیٹی کے تنظیموں کے نیٹ ورک سی این بی اے کے پلیٹ فارم سے ایک طویل مدت سے پاکستان میں وفاقی اور صوبائی بجٹ کے متعلق ریسرچ رپورٹس جاری کرتے ہیں تاکہ عوام ان رپورٹس کے حوالے سے انکے معلومات میں اصافہ ہوسکیں۔اور وہ بجٹ کے عمل میں شعوری طور پر شامل ہوسکیں۔

خبرنامہ نمبر2893/2026
موسی خیل11 اپریل: ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر محمد حسن ڈومکی نے BHU کنگری کا اچانک دورہ کیا۔ اس دورے کا بنیادی مقصد (ILR) کی حالت اور اس کی بروقت مینٹیننس، ویکسین کے اسٹاک اور کولڈ چین سسٹم کا تفصیلی جائزہ لینا تھا تاکہ ویکسین کو محفوظ طریقے سے ذخیرہ کیا جا سکے اور بچوں کو بروقت حفاظتی ٹیکے فراہم کیے جا سکیں دورے کے دوران ویکسینیٹرز کی حاضری اور کارکردگی کا بھی بغور معائنہ کیا گیا۔ اس کے ساتھ ساتھ یو سی میپ، ای پی آئی روم، ویکسین اسٹاک رجسٹر، ڈیلی رجسٹر اور دیگر متعلقہ ریکارڈ کو بھی چیک کیا گیا اس موقع پر ڈاکٹر صاحب نے عملے کو ہدایت دی کہ وہ اپنی ذمہ داریاں دیانتداری اور محنت کے ساتھ ادا کریں۔ مزید برآں، کولڈ چین سسٹم کو مؤثر بنانے اور ویکسینیشن پروگرام کی بہتری کے لیے اچانک دورے مستقبل میں بھی جاری رہیں گے.

    خبرنامہ نمبر2894/2026   
قلات 11اپریل:ضلع قلات میں 13 تا 16 اپریل 2026 چار روزہ پولیو مہم کا افتتاح کردیا اس موقع پے انکے ساتھ ڈی ایچ او قلات، ڈاکٹر انجم ضیاء، ڈبلیو ایچ او سے ڈسٹرکٹ پولیو آفیسر قلات، ڈاکٹر مجتبی، ڈسٹرکٹ منیجر پی پی ایچ آئی، مجیب بلوچ و دیگر اسٹاف موجود رہے  ضلعی ناظم صحت قلات نے ڈپٹی کمشنر صاحب کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ اس بار پولیو مہم میں گھروں میں بچوں کو پولیو پلانے کا ٹارگٹ 30694 ہے اور دیگر متوقع کوریجز جیسا کے ٹرانڑٹ پوائنٹس، مہمان بچے اور خانہ بدوش ملا کے تقریبا 2000 کے قریب اہداف ہو سکتے ہیں۔ ضلعی ناظم صحت نے مزید بتایا کہ ہماری ٹیم کی ٹریننگز مکمل ہو گئی ہیں اور بروز ہفتہ یو سی ایم اوز کو ویکسین و دیگر لاجسٹک دیا جائے گا۔ اس بار پولیو قطروں کے ساتھ 6 تا 59 ماہ کے بچوں کووٹامن اے کے قطرے بھی پلائی جائینگے جو بچوں کی قوت مدافعت کومضبوط بنانے میں اہم کرداراداکرتی ہے۔ ڈپٹی کمشنر نے افتتاحی تقریب کے موقع پر تمام یو سی ایم اوز، ایریا انچارجز اور فرنٹ لائن ورکرز کے لئے ڈائریکشنز دیتے ہوئے  بتایا کہ یہ تمام لوگ اپنا کام محنت اور ایمانداری سے کریں دوران پولیومہم کوئی گھر اور کوئی ایریانظراندازنہ کریں اور صحیح طریقے سے ٹیلی شیٹس، ڈور مارکنگز، زیرو ڈوز اور این ایز ریکارڈ کریں اور انہیں اسی دن ذیادہ سے ذیادو کور کرنے کی کوشش کریں۔ اسکے ساتھ انہوں نے تمام ہیلتھ منیجمنٹ آفیسرز و لائن ڈیپارٹمنٹ آفیسرز کو سختی سے ہدایات دی ہیں کہ وہ فیلڈ میں اچھا ٹائم دیں، ٹیموں کو چیک کریں اور روزانہ کم سے کم 35 سے 40 گھروں پے مشتمل مختلف ایریاز سے کلسٹرز لیں تا کہ ٹیموں کی کاکرکردگی و کیمپین کوالٹی کا پتہ چلے ڈپٹی کمشنر قلات نے قلات و خالق آباد کی  عوام الناس سے اپیل کی ہے کہ وہ گھر گھر آنے والی پولیو ٹیمز سے تعاون کریں اور اپنے تمام پانچ سال سے کم عمر بچوں کو پولیو و وٹامن اے کے قطرے ضرور پلائیں۔ اس کار خیر میں ڈی سی نے تمام قبائلی عمائدین، سیاسی و سماجی اکابرین و کارکنان، علماء کرام، اساتذہ کرام،لوکل میڈیا سے اس پولیو کیمپین  کیلئے بھر پور تعاون کی اپیل کی ہے تا کہ ہمارا معاشرہ پولیو جیسی بیماری سے محفوظ رہے اور ہم اپنے بچوں کیلیئے انکا مستقبل معذوری و اپاہجپن سے محفوظ بنائیں۔

خبرنامہ نمبر2895/2026
دکی: حکومت بلوچستان کی جاری کردہ ہدایات پر عملدرآمد کے سلسلے میں ڈپٹی کمشنر دکی محمد نعیم خان کی زیر صدارت ایک اہم اور تفصیلی اجلاس منعقد ہوا، جس میں ضلع بھر کے تمام مدارس کے مہتمم و ناظمین نے شرکت کی۔ اجلاس میں مدارس کی رجسٹریشن کے عمل، نظم و ضبط، اور سرکاری پالیسیوں پر عملدرآمد کے مختلف پہلوؤں پر سیر حاصل گفتگو کی گئی۔ ڈپٹی کمشنر نے واضح ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ تمام غیر رجسٹرڈ مدارس فوری طور پر اپنی رجسٹریشن مکمل کریں، بصورت دیگر ان کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ انہوں نے مزید ہدایت کی کہ تمام مدارس اپنے زیر تعلیم طلباء اور تدریسی عملے کا مکمل اور مستند ڈیٹا مرتب کریں، خصوصاً افغان طلباء اور اساتذہ کی تفصیلات بشمول شناختی کوائف، رہائشی معلومات اور دیگر ضروری ریکارڈ ضلعی انتظامیہ کو فراہم کیا جائے تاکہ ایک جامع ڈیٹا بیس تیار کیا جا سکے۔ اجلاس میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ حکومت بلوچستان کی پالیسی کے مطابق غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کے خلاف سخت اقدامات کیے جا رہے ہیں، لہٰذا مدارس اس ضمن میں ضلعی انتظامیہ کے ساتھ مکمل تعاون کریں۔ ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ قانون کی پاسداری اور ریاستی ہدایات پر عملدرآمد ہر ادارے کی ذمہ داری ہے، اور کسی بھی قسم کی غفلت یا کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ اجلاس کے اختتام پر تمام شرکاء نے حکومتی ہدایات پر مکمل عملدرآمد اور انتظامیہ کے ساتھ تعاون کی یقین دہانی کرائی۔

خبرنامہ نمبر2896/2026
ہرنائی: 11 اپریل:ڈپٹی کمشنر ہرنائی ارشد حسین جمالی نے ضلعی ہیڈ کوارٹر ہسپتال (DHQ) کا تفصیلی دورہ کیا، جہاں انہوں نے حال ہی میں فعال کیے گئے جدید ای سی جی یونٹ کا معائنہ کیا اور ہسپتال کے مختلف شعبوں میں فراہم کی جانے والی طبی سہولیات کا جائزہ لیا؛ اس موقع پر ان کے ہمراہ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ہرنائی محمد سلیم ترین، ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر اور دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے، جبکہ میڈیکل سپرنٹنڈنٹ نے ہسپتال کی مجموعی کارکردگی اور حالیہ اصلاحات پر مفصل بریفنگ دی۔ دورے کے دوران میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر سیف اللہ خان مری نے ڈپٹی کمشنر کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ چارج سنبھالنے کے بعد ہسپتال کی حالت زار بہتر بنانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیے گئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ خواتین مریضوں کی سہولت کے لیے فی میل وارڈ کو الگ کر کے زچہ بچہ سینٹر (Labor Room) کو 24 گھنٹے فعال کر دیا گیا ہے۔ایم ایس نے مزید تفصیلات فراہم کرتے ہوئے کہا کہ ہسپتال میں ڈینٹل یونٹ کو جدید طبی آلات سے آراستہ کرنے کے ساتھ ساتھ ڈائیلاسز یونٹ، آئی سی یو (ICU) اور آپریشن تھیٹر کو بھی مکمل طور پر فنکشنل کر دیا گیا ہے۔ مریضوں کی منتقلی کے لیے ایمبولینس سروس کو بھی 24 گھنٹے الرٹ کر دیا گیا ہے تاکہ ہنگامی صورتحال میں بروقت امداد فراہم کی جا سکے۔ڈپٹی کمشنر ارشد حسین جمالی نے ای سی جی یونٹ سمیت دیگر شعبوں کی فعالی پر اطمینان کا اظہار کیا۔ انہوں نے عملے کی حاضری کے رجسٹر اور ڈیوٹی روسٹر کا معائنہ کرتے ہوئے ہدایت کی کہ ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل سٹاف کی 24 گھنٹے موجودگی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔ ڈپٹی کمشنر نے میڈیسن اسٹور کے معائنے کے دوران اس بات پر زور دیا کہ ہسپتال میں ادویات کے کوٹے کو مزید بڑھایا جائے تاکہ غریب اور نادار مریضوں کو مفت ادویات کی فراہمی میں کوئی رکاوٹ پیش نہ آئے۔ضلعی ہیڈ کوارٹر ہسپتال ہرنائی میں طویل عرصے سے غیر فعال شعبوں کی بحالی اور جدید مشینری کی تنصیب کو عوامی حلقوں نے خوش آئند قرار دیا ہے۔ ہرنائی کے عوامی و سماجی حلقوں کی جانب سے ایم ایس ڈاکٹر سیف اللہ خان مری کی انتظامی صلاحیتوں اور ہسپتال کی بہتری کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کو بھرپور خراجِ تحسین پیش کیا جا رہا ہے، جس سے نہ صرف مقامی آبادی کو علاج معالجے کے لیے دوسرے شہروں کے سفر سے نجات ملے گی بلکہ ضلع میں صحت کے شعبے میں نمایاں بہتری آئے گی۔

خبرنامہ نمبر2897/2026
نصیرآباد۔پاکستان مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی لیڈر و صوبائی وزیر میر سلیم احمد خان کھوسہ نے سابق گورنر پنجاب اور کھوسہ قوم کے چیف سردار ذوالفقار علی خان کھوسہ کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہیاپنے تعزیتی بیان میں میر سلیم احمد خان کھوسہ نے کہا کہ چیف سردار ذوالفقار علی خان کھوسہ کے انتقال کی خبر سن کر دلی صدمہ پہنچاان کی وفات سے نہ صرف کھوسہ قوم بلکہ ملکی سیاست اور عوامی خدمت کے میدان میں ایک بڑا خلا پیدا ہوگیا ہے جو مدتوں تک پُر نہیں ہو سکے گا انہوں نے کہا کہ مرحوم ایک انتہائی شریف النفس باوقار اور اصول پسند شخصیت کے مالک تھے جنہوں نے اپنی پوری زندگی عوامی خدمت اور علاقے کی ترقی کے لیے وقف کر رکھی تھی میر سلیم احمد خان کھوسہ نے کہا کہ سردار ذوالفقار علی خان کھوسہ ایک مدبر اور زیرک سیاستدان تھے جنہوں نے اپنی سیاسی زندگی میں ہمیشہ عوام کے مسائل کے حل کے لیے آواز بلند کی بطور گورنر پنجاب اور ایک سینئر سیاسی رہنما انہوں نے صوبے اور ملک کی خدمت میں نمایاں کردار ادا کیاان کی سیاسی و سماجی خدمات کو ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھا جائے گاانہوں نے مزید کہا کہ مرحوم کی وفات سے پیدا ہونے والا خلا آسانی سے پُر نہیں ہوسکے گا اور ان کی کمی ہمیشہ محسوس کی جائے گی میر سلیم احمد خان کھوسہ نے مرحوم کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور پسماندگان کو صبر جمیل عطا کرے۔

    خبرنامہ نمبر2898/2026
کوئٹہ: وزیراعلیٰ بلوچستان میر سفرازبگٹی اور منسٹر فنانس میر شعیب نوشیروانی کی قیادت اور بی آر اے چیئرپرسن کی ہدایات کی روشنی میں بلوچستان ریونیواتھارٹی نے صحت کے شعبے خصوصاً پیتھالوجیکل لیبارٹریز میں بلوچستان سیلز ٹیکس آن سروسز ایکٹ 2015 پر عملدرآمد یقینی بنانے کیلئے خصوصی مہم کا آغاز کر دیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد ٹیکس قوانین کی پاسداری، شفافیت اور ذمہ دار شہری ہونے کے تقاضوں کو فروغ دینا ہے تاکہ صوبہ بلوچستان کے عوام کیلئے وسائل میں اضافہ ہو سکے۔ اتھارٹی نے ٹیکس سے بچنے یا واجبات ادا نہ کرنے والے اداروں کے خلاف کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔ پہلے مرحلے میں مظہر ایکسرے، چغتائی لیب، ڈاؤیونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز،باڈی ایکسپرٹ، شِفاء انٹرنیشنل لیب، طبا ہارٹ انسٹی ٹیوٹ میڈیکل سنٹر،اوراشرف ایکسرے اینڈ امیجنگ سنٹر کی عدم تعمیل سامنے آئی ہے۔ بی آر اے نے تمام لیبارٹری مالکان اور صحت کے شعبے سے وابستہ سروس فراہم کنندگان کو تاکید کی ہے کہ وہ فوری طور پر اتھارٹی کے ساتھ رجسٹریشن مکمل کریں، بروقت ریٹرنز جمع کرائیں اور ٹیکس کی ادائیگی یقینی بنائیں۔اتھارٹی کے مطابق ٹیکس قوانین کی تعمیل نہ کرنے والوں کے خلاف BSTS ایکٹ 2015 کے تحت جرمانے اور دیگر قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

خبرنامہ نمبر2899/2026
نصیرآباد11اپریل:کمشنر نصیرآباد ڈویژن صلاح الدین نورزئی نے گرین بیلٹ کے اضلاع جعفرآباد اور استامحمد میں ربیع سیزن کی تیار فصلوں کی گرداوری کے عمل کا جائزہ لیا۔ اس دوران محکمہ ریونیو کے عملہ مال کی جانب سے گرداوری کی رپورٹ اور فیلڈ بک کا موقع پہ جا کر جائزہ لیا۔ انہوں نے ڈپٹی کمشنرز کو ہدایت دی کہ زرعی پیداوار کی گرداوری کا عمل میں ریونیو عملہ کے کام کی مسلسل نگرانی جاری رکھیں، تاکہ عشر، آبیانہ اور زرعی انکم ٹیکس کی مد میں واجبات کی بروقت وصولی ممکن بنائی جا سکے۔ کمشنر نصیرآباد نے ڈپٹی کمشنر جعفرآباد خالد خان کے ہمراہ سرکل ہانبھی محبت پور کے موضع دڈو میں فصلات کا معائنہ کیا جہاں صدر قانون گو عبدالمنان کے اب تک کے کام کا جائزہ لیا گیا۔ بعد ازاں ضلع استامحمد میں ڈپٹی کمشنر محمد رمضان پلال کے ہمراہ موضع خان پور، صدر استامحمد اور موضع خیرپور کا دورہ کیا اور ربیع سیزن کی فصلوں کی پیداوار کا جائزہ لیا، اس موقع پر صدر قانون گو گامن خان بوہڑ نے ضلع میں زیر کاشت رقبہ، پیداوار اور غیر آباد اراضی کے حوالے سے مکمل آگاہی فراہم کی جبکہ کمشنر کے سپرنٹنڈنٹ بابو عبدالصمد کھوسہ بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔ کمشنر نصیرآباد ڈویژن صلاح الدین نورزئی نے کہا کہ حکومت کاشتکاروں کے مفاد کے تحفظ کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے اور گرین بیلٹ میں زرعی پانی کی فراہمی کے باعث اس سال فصلات کی پیداوار میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے، لہٰذا محکمہ ریونیو کے افسران اور عملہ اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے ادا کرتے ہوئے سرکاری واجبات کی وصولی کو یقینی بنائیں اور جن اضلاع کو ٹارگٹ دیا گیا ہے وہ مقررہ اہداف کے حصول میں کسی قسم کی کوتاہی نہ کریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ڈویژنل انتظامیہ اس عمل کی مسلسل مانیٹرنگ کرے گی تاکہ تمام واجبات مقررہ ہدف کے مطابق بروقت حاصل کیے جا سکیں اور سرکاری ریونیو میں اضافہ ممکن ہو سکے۔

خبرنامہ نمبر2900/2026
لورالائی:11اپریل:رکنِ صوبائی اسمبلی حاجی محمد خان طوراوتمانخیل اور ڈپٹی کمشنر لورالائی کیپٹن (ر) محمد حسیب شجاع نے ڈی سی آفس میں بچوں کو پولیو کے قطرے پلا کر چار روزہ انسدادِ پولیو مہم کا باضابطہ افتتاح کر دیا۔ اس موقع پر ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر (ڈی ایچ او) ڈاکٹر محمد مقبول احمد اور دیگر متعلقہ حکام بھی موجود تھے۔افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ پولیو ایک خطرناک اور موذی مرض ہے جس کے خاتمے کے لیے اجتماعی کوششیں ناگزیر ہیں۔ انہوں نے ہدایت کی کہ پولیو ٹیمیں گھر گھر جا کر پیدائش سے پانچ سال تک کی عمر کے تمام بچوں کو حفاظتی قطرے پلائیں تاکہ انہیں عمر بھر کی معذوری سے محفوظ بنایا جا سکے۔ڈی ایچ او ڈاکٹر مقبول احمد نے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ضلع بھر میں 22 یونین کونسلز میں مجموعی طور پر 195 موبائل ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں، جبکہ 10 فکسڈ اور 8 ٹرانزٹ پوائنٹس بھی قائم کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مہم کے دوران تقریباً 64 ہزار 400 بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ کوئی بھی بچہ اس مہم سے محروم نہ رہے۔انہوں نے والدین سے اپیل کی کہ وہ پولیو ٹیموں کے ساتھ بھرپور تعاون کریں اور اپنے پانچ سال تک کی عمر کے تمام بچوں کو لازمی قطرے پلوائیں۔ مزید برآں انہوں نے علماء کرام پر زور دیا کہ وہ اس قومی فریضے میں اپنا کردار ادا کریں اور عوام میں شعور اجاگر کریں تاکہ پولیو کا مکمل خاتمہ ممکن بنایا جا سکے۔ضلعی انتظامیہ اور محکمہ صحت نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پولیو کے خاتمے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے اور ہر بچے تک رسائی یقینی بنائی جائے گی۔ لورالائی: انسدادِ پولیو مہم کے دوران سیکیورٹی کے سخت انتظامات بھی کیے گئے ہیں۔ ضلعی انتظامیہ کے مطابق پولیو ٹیموں کی حفاظت کے لیے پولیس اور لیویز فورس کے اہلکار تعینات کیے گئے ہیں تاکہ ٹیمیں بلاخوف و خطر اپنے فرائض انجام دے سکیں۔ڈپٹی کمشنر محمد حسیب شجاع نے کہا کہ مہم کی کامیابی کے لیے مائیکرو پلاننگ کو مؤثر بنایا گیا ہے اور دور دراز علاقوں تک رسائی کے لیے خصوصی اقدامات کیے گئے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ٹیموں کی کارکردگی کی روزانہ کی بنیاد پر مانیٹرنگ کی جائے گی اور غفلت برتنے والوں کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔محکمہ صحت کے حکام کے مطابق مہم کے دوران خصوصی توجہ ان علاقوں پر دی جا رہی ہے جہاں ماضی میں بچوں کی کوریج کم رہی ہے۔ اس کے علاوہ آگاہی مہم بھی تیز کر دی گئی ہے تاکہ والدین میں پائے جانے والے خدشات کو دور کیا جا سکے۔حکام نے امید ظاہر کی ہے کہ عوامی تعاون سے ضلع لورالائی کو پولیو فری بنانے کے ہدف کے حصول میں خاطر خواہ کامیابی حاصل ہوگی۔

خبرنامہ نمبر2901/2026
ہرنائی: ڈپٹی کمشنر ہرنائی ارشد حسین جمالی نے معصوم بچے کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلا کر ضلع بھر میں تین روزہ خصوصی مہم کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے، اس موقع پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ہرنائی محمد سلیم ترین، ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر، ایم ایس ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال، ڈی ایس ایم پی پی ایچ آئی، این اسٹاف ودیگر موجود تھے جس کا مقصد پانچ سال تک کی عمر کے تمام بچوں کو اس مہلک وائرس سے محفوظ رکھنا اور ضلع کو پولیو سے پاک کرنا ہے؛ اس موقع پر ضلعی انتظامیہ، محکمہ صحت اور پی پی ایچ آئی کے اعلیٰ حکام بھی موجود تھے جنہوں نے مہم کی کامیابی کے لیے بھرپور عزم کا اعادہ کیا۔مہم کے آغاز کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر ہرنائی ارشد حسین جمالی نے مہم کی آپریشنل تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ ضلع بھر میں کل 163 ٹیمیں فرائض سرانجام دے رہی ہیں۔ ان ٹیموں کو مربوط حکمت عملی کے تحت تقسیم کیا گیا ہے جس میں 132 موبائل ٹیمیں گھر گھر جا کر بچوں کو قطرے پلائیں گی، جبکہ 22 فکس سائٹس مراکزِ صحت پر قائم کی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ مسافر بچوں کے لیے شاہراہوں اور اہم داخلی راستوں پر 9 ٹرانزٹ پوائنٹس بھی فعال کر دیے گئے ہیں۔ڈپٹی کمشنر نے واضح کیا کہ مہم کی کڑی نگرانی کے لیے تمام محکموں کے افسران کو مانیٹرنگ کی ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں تاکہ ہر گلی، محلے اور دور افتادہ گاؤں میں کوئی بھی بچہ قطروں سے محروم نہ رہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پولیو ٹیموں کی حفاظت حکومت کی اولین ترجیح ہے، جس کے لیے پولیس کے اہلکار فول پروف سیکیورٹی فراہم کر رہے ہیں۔انہوں نے پولیو کو معاشرے کے لیے ایک سنگین خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ مرض بچوں کو عمر بھر کی معذوری میں مبتلا کر سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ روشن مستقبل کی ضمانت صرف ایک صحت مند نسل ہی دے سکتی ہے، اس لیے والدین پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ٹیموں کے ساتھ تعاون کریں۔ڈپٹی کمشنر نے اپنی گفتگو کے اختتام پر اس بات پر زور دیا کہ پولیو کا خاتمہ صرف انتظامیہ کی کوششوں سے ممکن نہیں بلکہ اس کے لیے ایک ہمہ جہت سماجی تعاون ناگزیر ہے۔ انہوں نے والدین، علمائے کرام، اساتذہ، قبائلی عمائدین اور سیاسی و سماجی رہنماؤں سے اپیل کی کہ وہ اس قومی فریضے میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں، جبکہ میڈیا سے بھی مہم کے حوالے سے آگاہی پھیلانے کی درخواست کی تاکہ ہرنائی کو وائرس سے مکمل طور پر پاک کیا جا سکے۔

    خبرنامہ نمبر2902/2026   
سبی 11 اپریل:صوبائی حکومت کے احکامات پر کفایت شعاری کے حوالے سے مؤثر اقدامات اٹھاتے ہوئے ڈپٹی کمشنر سبی میجر(ر) الیاس کبزئی کی نگرانی میں ضلعی انتظامیہ اور ڈسٹرکٹ پولیس کی مشترکہ ٹیم نے شہر بھر میں گزشتہ شب8 بجے کے بعد بازاروں اور مارکیٹس کو بند کروا دیا۔ اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر سبی منصور علی شاہ اور ڈی ایس پی سٹی خالد حسین نے کارروائی کی قیادت کی۔ کارروائی کے دوران مختلف مارکیٹس کا دورہ کیا گیا اور دکانداروں کو حکومتی احکامات پر سختی سے عملدرآمد کی ہدایت کی گئی۔ متعدد مقامات پر خلاف ورزی کرنے والوں کو تنبیہ کی گئی جبکہ چند دکانیں موقع پر بند بھی کروائی گئیں۔ ڈپٹی کمشنر سبی میجر(ر) الیاس کبزئی نے اس موقع پر کہا کہ کفایت شعاری پالیسی پر عملدرآمد وقت کی اہم ضرورت ہے، جس کا مقصد توانائی کے ضیاع کو روکنا اور قومی وسائل کا بہتر استعمال یقینی بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام تاجر برادری حکومت کے ساتھ تعاون کریں اور مقررہ اوقات کی پابندی کو یقینی بنائیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومتی احکامات کی خلاف ورزی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور اس سلسلے میں کارروائیاں بلا تعطل جاری رہیں گی۔

خبرنامہ نمبر 2902/2026
کوئٹہ:11 اپریل ۔ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر خزانہ میر شعیب احمد نوشیروانی کی ہدایات کی روشنی میں بلوچستان ریونیواتھارٹی نے صحت کے شعبے خصوصاً پیتھالوجیکل لیبارٹریز میں بلوچستان سیلز ٹیکس آن سروسز ایکٹ 2015 پر عملدرآمد یقینی بنانے کیلئے خصوصی مہم کا آغاز کر دیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد ٹیکس قوانین کی پاسداری، شفافیت اور ذمہ دار شہری ہونے کے تقاضوں کو فروغ دینا ہے تاکہ بلوچستان کے مالی وسائل کو مزید موثر بناتے ہوئے اس میں اضافہ کیا جائے اور عوام کے معیار زندگی کو بہتر بنایا جا سکے بی آر اے نے ٹیکس سے بچنے یا واجبات ادا نہ کرنے والے اداروں کے خلاف کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔ پہلے مرحلے میں مظہر ایکسرے، چغتائی لیب، ڈاؤیونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز،باڈی ایکسپرٹ، شِفاء انٹرنیشنل لیب، طبا ہارٹ انسٹی ٹیوٹ میڈیکل سینٹر ،اوراشرف ایکسرے اینڈ امیجنگ سینٹر کی عدم تعمیل سامنے آئی ہے۔ بی آر اے نے تمام لیبارٹری مالکان اور صحت کے شعبے سے وابستہ سروس فراہم کنندگان کو تاکید کی ہے کہ وہ فوری طور پر اتھارٹی کے ساتھ رجسٹریشن مکمل کریں، بروقت ریٹرنز جمع کرائیں اور ٹیکس کی ادائیگی یقینی بنائیں۔اتھارٹی کے مطابق ٹیکس قوانین کی تعمیل نہ کرنے والوں کے خلاف BSTS ایکٹ 2015 کے تحت جرمانے اور دیگر قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

خبرنامہ نمبر 2903/2026
کوئٹہ 12اپریل۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہر اللہ بادینی نے شہر اور گردونواح میں ایل پی جی کی قیمتوں کے حوالے سے موصول ہونے والی عوامی شکایات پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دے دیا۔اس حوالے سیڈپٹی کمشنر کی ہدایت پر تحصیلدار سب ڈویژن (سٹی) ہمایوں کاکڑ نے شہر کے مختلف ایل پی جی پلانٹس کا ہنگامی دورہ کیا۔اس موقع پر انہوں نے گیس کی قیمتوں اور اسٹاک کی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا۔ تحصیلدار ہمایوں کاکڑ نے پلانٹ مالکان کو وارننگ دیتے ہوئے واضح کیا کہ مقررہ سرکاری نرخوں سے زائد قیمت وصول کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی چارہ جوئی کی جائے گی۔مارکیٹ میں مصنوعی قلت پیدا کر کے مہنگے داموں گیس فروخت کرنے والوں سے کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ کے مطابق عوام کو ریلیف فراہم کرنا ان کی اولین ترجیح ہے۔ اس سلسلے میں کسی بھی قسم کی غفلت یا لاپرواہی برداشت نہیں کی جائے گی اور قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لیے مانیٹرنگ کا عمل جاری رہے گا۔

خبرنامہ نمبر 2904/2026
گوادر: ڈپٹی کمشنر نقیب اللہ کاکڑ کی ہدایت پر ضلعی انتظامیہ گوادر کے زیر اہتمام ڈپٹی کمشنر آفس میں وومن بازار گوادر کے قیام کے حوالے سے ایک اہم اور بامقصد تعارفی اجلاس منعقد ہوا، جو حالیہ کامیاب مینا بازار کے بعد خواتین کی بڑھتی ہوئی دلچسپی اور کاروباری رجحان کے پیشِ نظر ترتیب دیا گیا۔اجلاس میں محکمہ وومن ڈیولپمنٹ اور دیگر متعلقہ اداروں کے نمائندگان نے شرکت کی، جن میں محترمہ روبینہ کریم شاوانی (مینیجر، وومن ڈیولپمنٹ ڈیپارٹمنٹ، وومن بزنس سینٹر و وومن بازار خضدار)، محترمہ روبینہ زہری (مینیجر، وومن ڈیولپمنٹ ڈیپارٹمنٹ، وومن کرائسس سینٹر و شیلٹر ہوم کوئٹہ)، محترمہ انیتا جلیل (فوکل پرسن، ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن گوادر)، زبیر ہوت (ڈسٹرکٹ پروگرام کوآرڈینیٹر، بی آر ایس پی – رائز پروگرام) اور عبدالروف (ڈسٹرکٹ کیپیسٹی بلڈنگ آفیسر) شامل تھے۔اجلاس کا بنیادی مقصد گوادر میں خواتین کے لیے ایک محفوظ، باوقار اور مخصوص کاروباری پلیٹ فارم کی فراہمی پر غور کرنا تھا، تاکہ خواتین خصوصاً ابھرتی ہوئی کاروباری شخصیات کو اپنے ہنر کو معاشی سرگرمیوں میں تبدیل کرنے کے بہتر مواقع میسر آ سکیں۔اس موقع پر ایک خصوصی تعارفی سیشن بھی منعقد کیا گیا، جس میں ان خواتین نے شرکت کی جنہوں نے آن لائن اشتہار کے ذریعے وومن بازار میں شمولیت کے لیے درخواست دی تھی۔ سیشن کے دوران شرکاء نے اپنے کاروباری آئیڈیاز پیش کیے اور اپنی تیاری و دلچسپی کا اظہار کیا۔خواتین کی جانب سے پیش کیے گئے کاروباری منصوبوں میں تنوع نمایاں رہا، جن میں فوڈ آئٹمز، پرفیوم و روایتی عطر، سلائی کڑھائی، کاسمیٹکس، بیوٹی پارلرز، کتابیں، ہوم میڈ اشیاء، موبائل ایکسیسریز، بلوچی و روایتی ملبوسات، شلوار قمیض، کمبل، قالین، بیبی پروڈکٹس، ہوم ڈیکور، جیولری اور دیگر متعدد شعبہ جات شامل تھے۔ ایک خاتون نے خواتین کے لیے ڈرائیونگ ٹریننگ سینٹر قائم کرنے کی تجویز بھی پیش کی، جسے سراہا گیا۔اجلاس کے دوران خواتین کی غیر معمولی شرکت اور جوش و خروش کو سراہتے ہوئے روبینہ کریم شاہوانی نے کہا کہ گوادر میں خواتین کی اس قدر بھرپور دلچسپی خوش آئند ہے اور امید ظاہر کی کہ وومن بازار کا قیام جلد عملی شکل اختیار کرے گا۔محترمہ روبینہ زہری نے محکمہ وومن ڈیولپمنٹ کا تعارف پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام خواتین کی معاشی خودمختاری کی جانب ایک اہم پیش رفت ثابت ہوگا، اور اگر یہ منصوبہ کامیاب رہا تو مستقبل میں مزید بازاروں اور کاروباری مواقع کو فروغ دیا جائے گا۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ اس منصوبے کی کامیابی خواتین کی فعال شرکت اور ذمہ داری سے مشروط ہے۔شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ دکانوں کی الاٹمنٹ میں مقامی خواتین کو ترجیح دی جائے تاکہ مقامی سطح پر روزگار اور کاروباری سرگرمیوں کو فروغ حاصل ہو۔ اجلاس میں اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ بڑھتی ہوئی طلب کے پیش نظر مستقبل میں مزید دکانوں اور سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا۔بی آر ایس پی (رائز پروگرام) کے نمائندے جناب زبیر ہوتھ نے اپنے پروگرام کا تعارف پیش کرتے ہوئے بتایا کہ اس کے تحت 700 سے زائد نوجوانوں کو ٹیکنیکل مہارتیں فراہم کی جائیں گی، جبکہ خواتین کاروباری افراد کو اپنے کاروبار کے فروغ کے لیے گرانٹس اور دیگر معاونت بھی فراہم کی جائے گی۔مزید برآں، روبینہ کریم شاہوانی نے تجویز دی کہ اگر جگہ کی کمی پیش آئے تو کیبنز کی صورت میں مزید دکانیں قائم کی جا سکتی ہیں، جبکہ اس پورے منصوبے کو باضابطہ طور پر“وومن بزنس کمپلیکس”کا نام دینے کی بھی سفارش کی گئی، جس کے لیے متعلقہ حکام کو درخواست ارسال کی جائے گی۔اجلاس اس عزم کے ساتھ اختتام پذیر ہوا کہ وومن بازار گوادر کا قیام نہ صرف خواتین کی معاشی بہتری کا ذریعہ بنے گا بلکہ ضلع میں پائیدار ترقی اور کاروباری سرگرمیوں کے فروغ میں بھی کلیدی کردار ادا کرے گا۔

خبرنامہ نمبر 2905/2026
لورالائی 11ایریل:میونسپل کمیٹی لورالائی کے زیر اہتمام ایک پروقار اور باوقار تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں ممبر صوبائی اسمبلی حاجی محمد خان عرف طور اتمانخیل نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔ تقریب کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جس کی سعادت کونسلر میر احسان اللہ لانگو نے حاصل کی۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف آفیسر میونسپل کمیٹی لورالائی محب اللہ خان بلوچ نے مہمانِ خصوصی کو ادارے کی سالانہ کارکردگی سے آگاہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ میونسپل کمیٹی نے رواں سال شہری سہولیات کی بہتری کے لیے جدید مشینری حاصل کی ہے، جن میں روڈ لائن مارکنگ مشین، ٹریکٹر لان موور، ٹریکٹر ایکسکیویٹر، ایمرجنسی روڈ واٹر رکشہ اور سکشن مشین شامل ہیں۔ ان مشینوں کے ذریعے صفائی اور بلدیاتی خدمات کے معیار کو مزید بہتر بنایا جائے گا۔چیئرمین میونسپل کمیٹی اور فرزند ایم پی اے افضل خان اوتمانخیل نے اپنے خطاب میں حالیہ بارشوں کے دوران ایمرجنسی ڈیوٹی سرانجام دینے والے 35 ملازمین کی خدمات کو سراہتے ہوئے انہیں تعریفی اسناد سے نوازا۔ انہوں نے کہا کہ بلدیاتی عملہ شہر کی خدمت میں دن رات مصروف ہے اور ان کی حوصلہ افزائی ادارے کی ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔ اس موقع پر جاری ترقیاتی منصوبوں پر بھی تفصیلی روشنی ڈالی گئی۔مہمانِ خصوصی حاجی محمد خان طور اتمانخیل نے خطاب کرتے ہوئے میونسپل کمیٹی کی کارکردگی کو سراہا اور کہا کہ شہری مسائل کے حل کے لیے جدید مشینری کی فراہمی ایک مثبت قدم ہے۔ انہوں نے چیف سینیٹری انسپکٹر نقیب اللہ موسیٰ خیل کو نئی مشینری کی علامتی چابیاں حوالے کیں۔تقریب کے اختتام پر مہمانِ خصوصی نے میونسپل کمیٹی کے دفتر کی تزئین و آرائش، خصوصاً بیرونی باؤنڈری وال کا باقاعدہ افتتاح بھی کیا۔مزید برآں، انہوں نے اعلان کیا کہ لورالائی شہر میں صفائی، نکاسی آب اور سڑکوں کی بہتری کے لیے مزید فنڈز فراہم کیے جائیں گے، جبکہ نئے ترقیاتی منصوبوں کی منظوری بھی جلد متوقع ہے۔ شہریوں کو بنیادی سہولیات کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے اور اس سلسلے میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔تقریب میں چیف آفیسر محب اللہ بلوچ،چیرمین میونسپل کمیٹی محمد طاہر خان ناصر،پی ڈی مڑہ تنگی پروجیکٹ محمد اعظم خان زرکون بلدیاتی نمائندوں، معززینِ شہر، سرکاری افسران اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

خبرنامہ نمبر 2906/2026
گوادر: ڈپٹی کمشنر گوادر نقیب اللہ کاکڑ نے اپریل 2026 کی قومی انسدادِ پولیو مہم (NID) کا باقاعدہ افتتاح کر دیا۔ افتتاحی تقریب کے دوران انہوں نے ایک بچے کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلا کر مہم کا عملی آغاز کیا۔اس موقع پر ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر یاسر طاہر، میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ٹیچنگ اسپتال ڈاکٹر حفیظ بلوچ، ڈسٹرکٹ کوآرڈینیٹر برائے نیشنل پروگرام ڈاکٹر واحد بلوچ،ڈپٹی ڈی ایچ او ڈاکٹر فاروق بلوچ سمیت دیگر متعلقہ افسران بھی موجود تھے۔ڈپٹی کمشنر نقیب اللہ کاکڑ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ضلع بھر میں پولیو کے مکمل خاتمے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔ انہوں نے والدین سے اپیل کی کہ وہ اپنے پانچ سال تک کی عمر کے تمام بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے لازمی پلوائیں تاکہ اس موذی مرض کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ ممکن بنایا جا سکے۔انہوں نے مزید کہا کہ مہم کے دوران نہ صرف پیدائش سے لے کر پانچ سال تک کے تمام بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے جائیں گے بلکہ چھ ماہ سے پانچ سال تک کے بچوں کو وٹامن اے سپلیمنٹس بھی فراہم کیے جائیں گے، جو بچوں کی قوتِ مدافعت بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر کے مطابق ضلع گوادر میں اس مہم کے دوران 35 ہزار 664 بچوں کو کور کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جس کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں جو گھر گھر جا کر بچوں کو قطرے پلائیں گی۔ضلعی انتظامیہ نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ مہم کو سو فیصد کامیاب بنانے کے لیے سخت مانیٹرنگ، فیلڈ وزٹس اور مؤثر حکمت عملی اپنائی جائے گی، جبکہ کسی بھی قسم کی غفلت یا لاپرواہی کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔

خبرنامہ نمبر 2907/2026
کوئٹہ، 11 اپریل:بلوچستان ایجوکیشن انڈومنٹ فنڈ نے سال 2025-26 کے لیے اسکالرشپ پروگرام کا اعلان کر دیا ہے، جس کے تحت صوبے کے ہونہار اور مستحق طلباء کو بالخصوص فنی تعلیم کے شعبے میں آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کیے جائیں گے یہ اقدام وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن کے مطابق نوجوانوں کو تعلیم اور ہنر کے ذریعے بااختیار بنانے کی جانب اہم پیش رفت ہے چیف ایگزیکٹو آفیسر بلوچستان ایجوکیشن انڈومنٹ فنڈ خالد ماندائی نے بتایا ہے کہ BEEF اسکالرشپ پالیسی 2024 کی کامیابی کے تسلسل میں پروگرام کو مزید وسعت دی گئی ہے، جس کے تحت ڈپلومہ آف ایسوسی ایٹ انجینئرنگ (DAE) کے طلباء کو خصوصی مالی معاونت فراہم کی جائے گی انہوں نے کہا کہ اسکالرشپس میرٹ اور شفافیت کی بنیاد پر دی جائیں گی، جبکہ معذور، یتیم اور اقلیتی طلباء کے لیے خصوصی کوٹہ بھی مختص ہے بلوچستان کے ڈومیسائل رکھنے والے ایسے طلباء جو سرکاری اداروں میں زیر تعلیم ہوں اور سال 2025 کے امتحانات میں کم از کم 60 فیصد یا سمسٹر سسٹم میں 75 فیصد نمبر حاصل کریں، درخواست دینے کے اہل ہوں گے خالد ماندائی کے مطابق منتخب طلباء کو BEEF پالیسی کے تحت مالی معاونت فراہم کی جائے گی۔ انہوں نے طلباء کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواستیں بروقت جمع کروائیں، کیونکہ آخری تاریخ 31 مئی 2026 مقرر کی گئی ہے انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی قیادت میں نوجوانوں کو باوقار مستقبل کی جانب گامزن کرنے کے لیے ایسے اقدامات جاری رہیں گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *