خبر نامہ نمبر 191/2018
اسلام آباد18جنوری: بلوچستان عوامی پارٹی کے صدر وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال خان سے چیئرمین سینٹ محمد صادق سنجرانی، وفاقی وزیر دفاعی پیداوار محترمہ زبیدہ جلال اور بلوچستان عوامی پارٹی کے سینٹرز انوارالحق کاکڑ، میر سرفراز بگٹی، اراکین قومی اسمبلی نوابزادہ خالد خان مگسی، میر احسان اللہ ریکی محترمہ روبینہ عرفان اور سردار اسرار خان ترین نے بلوچستان ہاؤس اسلام آباد میں ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران بلوچستان عوامی پارٹی کی قیادت نے ملک و صوبے کی سیاسی صورتحال اور پارٹی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کر تے ہوئے فیصلہ کیا کہ وفاق میں ایک بڑے اتحادی کی حثیت سے بلو چستان عوامی پارٹی اپنے صوبے کو درپیش مسائل کے حل کیلئے ایک کمیٹی تشکیل دے گی جو نہ صرف حکومت بلکہ بلو چستان اور ملک کے مفاد میں ہر سیاسی جماعت سے رابطے کرئے گی ملاقات میں اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا گیا کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان کی قیادت میں مخلوط صوبائی حکومت جبکہ سینٹ و قومی اسمبلی میں بلوچستان عوامی پارٹی کے اراکین بلوچستان کے مفادات کے تحفظ اور صوبے کی ترقی کے لئے نمایاں کردار ادا کر رہے ہیں، پارٹی کے سینٹرز اور اراکین قومی اسمبلی پارلیمنٹ میں ایک مضبوط آواز بن کر بلوچستان کے مفادات کا تحفظ کر رہے ہیں اور بلوچستان عوامی پارٹی مرکز اور صوبے کی سیاست میں بنیادی کردار کی حامل سیاسی جماعت بن کر ابھری ہے ملاقات میں صوبے میں پارٹی کو مزید مستحکم فعال اور محترک بنانے کے عزم کا اظہار کیا گیا جبکہ سینٹ کے ضمنی الیکشن میں بلوچستان عوامی پارٹی کے امیدوار منظور خان کاکڑ کی کامیابی پرخوشی اور اطمینان کا اظہار کیاگیا۔
خبر نامہ نمبر 192/2018
کوئٹہ 18جنوری :۔محکمہ خزانہ حکومت بلوچستان کے ترجمان نے میڈیا پر چلائی گئی اس خبر کی سختی سے تردید کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ صوبے کا اوور ڈرافٹ 94ارب روپے تک پہنچ گیا ہے اور بلوچستان کا مالی بحران مزید شدت اختیار کرگیا ہے ۔ ترجمان نے اپنی ایک وضاحت میں کہا ہے کہ بلوچستان حکومت نے سٹیٹ بینک آف پاکستان سے کسی قسم کا اوور ڈرافٹ نہیں لیا اور مالی نظم و ضبط کے تحت صوبے کو درپیش مالی مشکلات پرقابو پانے کیلئے ٹھوس بنیادوں پر اقدامات کئے جارہے ہیں جن کے مثبت نتائج برآمد ہورہے ہیں۔محکمہ خزانہ کے ترجمان نے مزید کہا ہے کہ حکومت کی بہتر حکمت عملی کی وجہ سے نہ صرف تنخواہوں کی ادائیگی کیلئے فنڈز دستیاب ہیں بلکہ جاری ترقیاتی منصوبوں کیلئے بھی فنڈز کا اجراء کیا جارہا ہے۔ 
خبر نامہ نمبر 193/2018
کوئٹہ 18جنوری :۔گورنر بلو چستان امان اللہ خان یاسیٰن زئی نے چیف جسٹس آف پاکستان آصف سعید کھوسہ کو اپنے عہدے کاحلف اٹھانے پر دلی مبارکباد دی ہے اپنے ایک تہنیتی بیان میں گورنر بلو چستان نے چیف جسٹس پاکستان کیلئے نیک تمناؤں وخواہشات کا اظہار کیا ہے ۔
خبر نامہ نمبر 194/2018
کوئٹہ 18جنوری :۔صوبائی مشیر کھیل وثقافت عبدالخالق ہزارہ نے کہاہے کہ موجودہ حکومت صوبے میں کھلاڑیوں اور فنکاروں کی حوصلہ افزائی اور آرٹ ،کلچر اور فن کے فروغ کیلئے تمام ممکن وسائل برؤئے کار لارہی ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے آرٹ کی نمائش کے موقع پر آرٹسٹوں اور شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔صوبائی مشیر نے کہاکہ بلو چستان میں ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں اور یہاں بسنے والے تما م اقوام اور قبائل اپنے کاموں اور اپنے کردار سے ملک کا نام روشن کررہے ہیں انہوں نے کہاکہ حکومت ہر فورم پر ٹیلنٹ کی قدر کرتی ہے اور ہم ٹیلنٹ کوضائع نہیں ہونے دیں گے انہوں نے کہاکہ گذشتہ دور میں فن اور فنکاروں کو یکسر نظر انداز کیا گیا لیکن موجود حکومت فنکاروں کی حوصلہ افزائی اور فن کو آگے لے جانے کیلئے پر امید ہے انہوں نے کہاکہ ہماری کارکردگی مخالفین کیلئے ایک سبق ہے ۔ہمارا مقصد پرامن اور خوشحال بلو چستان ہے انہوں نے کہاکہ آرٹ اور کلچرل پروگرام کا انعقاد آئندہ بھی ہوگا تاکہ ہمارے مقامی اور ٹیلنٹیڈ نوجوان کی ہر سطح پرحوصلہ افزائی ہوسکے انہوں نے کہاکہ صوبے کے نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں کی جانب راغب کرنے اورمقابلے کی فضاء ہونے سے نوجوان منفی سرگرمیوں سے دور رہتے ہیں انہوں نے مزید کہاکہ آرٹ گیلری کا قیام عمل میں لایا جائے گا اس موقع پر صوبائی مشیر نے مختلف آرٹسٹوں کے نمائش کیلئے رکھے فن پاروں کو دیکھ اور انکے کام کا سہرایا۔
خبر نامہ نمبر 195/2018
کوئٹہ 18جنوری :۔صوبائی وزیر پی ایچ ای اینڈ واسا حاجی نور محمد دمڑ نے کہاکہ میں لوگوں کی خدمت اور ان کے مسائل حل کرنا اپنے زندگی کا شعار سمجھتا ہوں دکھی انسانیت کی فلاح بہبود کیلئے کام کرنا اور ان کے چہروں پر خوشی لانے سے انسان کو دلی سکون ہوتا ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے محلہ تیل گودام پی بی 28کوئٹہ میں سماجی رہنما حاجی احسان اللہ خاکسار کیجانب سے منعقدکی گئی کھلی کچہری سے خطاب کرتے ہوئے کیا انہوں نے لوگوں کے مسائل سنتے ہوئے کہاکہ کوئٹہ کے تمام ایم ڈی واسا کو ہدایت کی گئی ہے کہ واسا کے تما م اہلکاروں کو متحرک کیا جائے تاکہ لوگوں کی پانی جیسی بنیادی ضرورت ان کی دہلیز پر حل ہوسکے اور اس حوالے سے میں محکمے کی کوئی کوتاہی برداشت نہیں کروں گا اس موقع پر صوبائی وزیر نور محمد دمڑ نے کہا کہ نوجوانوں کو روز گارکی فراہمی اور محلے کی صفائی سمیت دیگر مسائل بھی حل کرنے کی بھر پور کوشش کروں گاانہوں نے کھلی کچہری میں لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے مزید کہاکہ میں سماجی رہنما احسان اللہ خاکسار کی محلے کیلئے خدمات کو سراہتا ہوں ۔ کھلی کچہری سے ایم ڈی واسا مجیب الرحمان قمبرانی سماجی رہنما احسان خاکسار نے بھی خطاب کیا۔
خبر نامہ نمبر 196/2018
کوئٹہ 18جنوری :۔محکمہ ملازمتہائے عمومی نظم ونسق کے ایک اعلامیہ کے مطابق ڈپٹی کمشنر گوادرکی انکسی فوری طور پرو تاحکم ثانی وزیر اعلیٰ انکسی (Annexe) قرار دے دی گئی ہے ۔
خبر نامہ نمبر 197/2018
کوئٹہ 18جنوری :۔واسا کوئٹہ کے ایک حکمنامے کے مطابق واٹر ٹینکر زکیلئے نرخ کچھ اسطرح مقرر کر دیئے گئے ہیں عوام وسرکاری دفاتر کیلئے 1800گیلن ٹینکر کو نرخ 800روپے جبکہ واسا ملازمین کیلئے 560روپے ہوگا جبکہ 2000گیلن ٹینکر کا نرخ مندرجہ بالا ترتیب کے مطابق 1000،700روپے ہو گا اسی طرح 2400گیلن ٹینکر کو نرخ 1200اور 840روپے ہوگا ۔ 
خبر نامہ نمبر 198/2018
کوئٹہ 18جنوری :۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ کے اعلامیہ میں کہاگیا ہے کہ محمد فہیم ولد محمد رحیم سکنہ کوئٹہ شناختی کارڈ نمبر 54400-0565132-5کا ڈومیسائل نمبر 2095-5/59بتاریخ 21-11-2009انکی اپنی درخواست پر منسوخ کردیا گیا ہے۔
خبر نامہ نمبر 199/2018
کوئٹہ 18جنوری :۔بلو چستان پبلک سروس کمیشن کی ایک پریس ریلیز کے مطابق کمیشن میں سٹینوگرافر( B-14)کی خالی اسامیوں کیلئے نعمت اللہ ولد رحمت اللہ ،مسرور احمد بابرولد محمد گل اور قاہر خان ولد محمد قاسم جبکہ اسسٹنٹ کمپیوٹر آپریٹر( B-12)کی اسامیوں پر وسیم سعید ولد محمد سعید ،عمران اشرف ولد محمد اشرف اور کیئرٹیکر( B-08)کی خالی اسامی پر عبدالقادر ولد عبدالمجید کا میاب قرار پائے ہیں۔
خبر نامہ نمبر 200/2018
کوئٹہ 18جنوری :۔محکمہ مذہبی امور بین المذاہب ہم آہنگی کے ایک اعلامیہ میں کہاگیا ہے کہ بلو چستان سول سرونٹس پینش رولز 1989کے مطابق سپرنٹنڈنٹ BPS-17)جناب دوست محمد ولد اللہ داد ،ضلع زکواۃ کمیٹی سبی عمر کی بالائی حد 60سال پوری ہونے پر 31جنوری 2019سے سرکاری ملازمت سے سبکدوش ہوجائیں گے۔
خبر نامہ نمبر 201/2018
کوئٹہ 18جنوری :۔ڈپٹی اسپیکر بلوچستان اسمبلی سردار بابر خان موسی خیل نے کہا ہے کہ جمہوریت کے استحکام کے لئے میڈیا کا کلیدی کردار رہا ہے بلوچستان میں خواتین اور نوجوانوں کو ہر شعبہ زندگی میں بااختیار بنانے کے لیے جامع پالیسی کی تشکیل پر کام جاری ہے بلوچستان میں تیس سے پینتس ہزار خالی آسامیوں پر میرٹ کے مطابق بھرتی کا عمل شروع ہوچکا ہے جس سے بیروزگاری کے خاتمے میں خاطر خواہ مدد ملے گی بلوچستان میں خواتین سمیت میڈیا سے وابستہ افراد کی پیشہ ورانہ استعداد کار میں اضافے کے لئے غیر سرکاری اداروں کی معاونت خوش آئند اقدام ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے وویمن میڈیا سینٹر پاکستان کے زیر اہتمام پانچ روزہ ٹریننگ کی افتتاحی تقریب میں بحیثت مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے دیہی علاقوں میں خواتین کی اکثریت سیاسی فیصلہ سازی صحت و تعلیم سمیت بہت سے مسائل سے دوچار ہے اور ان مسائل کو بہتر طور پر اجاگر کرنے کے لئے میڈیا پر بھاری ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں تاکہ میڈیا کی نشاندہی پر وہ مسائل بھی سامنے آسکیں جو کسی وجہ سے حکومتی اداروں کی توجہ حاصل نہیں کرسکے انہوں نیکہا کہ پاکستان تحریک انصاف کی تبدیلی کا محور ملک کے نوجوان اور خواتین ہیں اور یہ امر باعث اطمینان ہے کہ بلوچستان میں خواتین بتدریج سیاسی عمل کا حصہ بن رہی ہیں اور کوئٹہ سے جنرل الیکشن میں راحیلہ درانی کا جنرل نشست پر دس ہزار ووٹ لینا اور موسی خیل جیسے پسماندہ و دیہی علاقے میں اسی فیصد خواتین کا ووٹ کاسٹنگ کا تناسب وہ حوصلہ افزاء عمل ہے جو فیصلہ سازی کے عمل میں خواتین کے متحرک کردار کا واضح ثبوت ہے انہوں نیکہا کہ آج سے محض تین سال قبل تک موسی خیل جیسے علاقے میں خواتین کی وفات پر فاتح خوانی تک نہیں ہوتی تھی لیکن آج حالات تبدیل ہیں اور تبدیلی کا یہ عمل بہتری کی جانب گامزن ہے انہوں نیکہا کہ بلوچستان کی پسماندگی اور ماضی کی احساس محرومیوں کے خاتمے کے لئے وزیر اعظم عمران خان سنجیدہ ہیں اور انہوں نے بلوچستان کو قومی ترقی کے دھارے میں شامل کرکے ترقی کے یکساں مواقعوں کی فراہمی کا پختہ عزم ظاہر کرتے ہوئے صوبے کی ترقی کے لئے جامع حکمت عملی مرتب کرنے کی ہدایت کی ہے انہوں نیکہا کہ ماضی میں ترقیاتی فنڈز کا درست استعمال نہ ہونے کے باعث عوام آج بھی بنیادی ضرورت زندگی سے محروم ہیں انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی سے وابستہ نوجوانوں اور ہر فرد کی امیدیں پوری کرنے کے لئے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے اس سے قبل وویمن میڈیا سینٹر کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر فوزیہ شاہین نے بتایا کہ بلوچستان سمیت ملک بھر میں خواتین جرنلسٹس کو روز مرہ سماجی و اقتصادی رپورٹنگ کے ساتھ ساتھ پولیٹیکل بیٹ میں پیشہ ورانہ مہارتوں کے لئے تین ہزار سے زائد خواتین جرنلسٹ کو ٹرینڈ کیا گیا ہے جبکہ اس مقصد کے لئے کراچی میں اسکولز آف جرنلزم بھی قائم کیا گیا ہے عملی پیشہ ورانہ تربیت کے اس عمل میں مزید وسعت لائی جارہی ہے پروگرام میں سینئر جرنلسٹ سلیم شاہد شہزادہ ذوالفقار نے بھی صحافتی فرائض کی ادائیگی کے دوران صحافتی اقدار و ایس او پیز پر روشنی ڈالی۔
پریس ریلیز
کوئٹہ 18جنوری :۔ مرحوم حبیب الرحمن مندوخیل عرف (حبیبو) کی جوان سال بیٹی ژوب روڈ ایکسیڈنٹ ہونے سے انتقال کرگئی تھی وہ حاجی عبد الرحمن مندوخیل ،ڈاکٹر شیر زمان مندوخیل ، انجینئر گل زمان مندوخیل کی بھتیجی تھی ان کی فاتحہ خوانی بروز اتوار اور بروز پیر مورخہ 20,21جنوری کو بنگلہ نمبر 14-Bفیز 3نزد سائیگون ہوٹل شہباز ٹاؤن میں لی جائے گی۔ 
خبر نامہ نمبر 202/2018
اسلام آباد18جنوری:۔صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے وفاقی دارالحکومت میں قحط سالی پر قومی مشاورتی ورکشاپ (National Conservative Workshop on Drought) میں شرکت کی اور بلوچستان میں خشک سالی کے اثرات، نقصانات، امدادی کارروائیوں اور درپیش مشکلات سے ورکشاپ کے شرکاء کو آگاہ کیا۔ صوبائی وزیر داخلہ و پی ڈی ایم اے نے کہا کہ بلوچستان کے 20 سے زائد اضلاع خشک سالی سے شدید متاثر ہوئے ہیں جس کی وجہ سے نا قابل تلافی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا ہے خشک سالی کی وجہ سے ان علاقوں میں پانی اور خوراک کی قلت پیدا ہو رہی ہے جس سے لوگ بھوک، افلاس، ذہنی اور جسمانی بیماریوں کا شکار ہو رہے ہیں، بچوں میں غذائی قلت ہر آئے دن زور پکڑتی جارہی ہے۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ بلوچستان میں خشک سالی پر قابو پانے کے لئے جنگی بنیادوں پر اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے جس کے لیے وفاقی حکومت اور نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی سمیت پاکستان میں کام کرنے والے اقوام متحدہ کے اداروں اور دیگر بین الاقوامی ڈونر ایجنسیوں کا کردار نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ خشک سالی سے متاثرہ علاقوں میں امداد اور بحالی کو دیگر امور پر ترجیحی بنیادوں پر فوقیت نہ دی گئی تو انسانی المیہ جنم لے سکتا ہے جس کی وجہ سے بلوچستان میں غربت اور محرومی سمیت دیہی علاقوں سے لوگوں کا قحط سالی کی وجہ سے شہری علاقوں کی جانب نقل مکانی کا ناقابل یقین سلسلہ شروع ہو سکتا ہے جس سے بلوچستان کی معیشت پر ناقابل یقین منفی اثرات مرتب ہوں گے اور صوبہ مزید پسماندگی کی طرف جا سکتا ہے۔ قحط سالی پر قومی مشاورتی ورکشاپ کے انعقاد کا مقصد بلوچستان اور سندھ میں خشک سالی کے اثرات کو کم کرنا، اسکی روک تھام اور خشک سالی سے نبرد آزما ہونے کے لیئے تیاریوں کو پرکھنا اور ان پر مشاورت کرنا تھا ۔ تقریب کے مہمان خصوصی صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی تھے ۔ تقریب میں وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان، وفاقی وزیر مملکت برائے موسمی تغیرات زرتاج گل، سینیٹر سرفراز احمد بگٹی، چیئرمین این ڈی ایم اے لفٹنگ جنرل ریٹائرڈ عمر محمود حیات اقوام متحدہ کے ریزیڈنٹ کوآرڈینیٹر نیل برن(Neil Buhne) بھی شریق تھے۔ ورکشاپ میں بلوچستان اور سندھ میں خشک سالی کے اثرات اور نقصانات سمیت دیگر پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا اور خشک سالی کے روک تھام، امداد و بحالی اور درپیش مشکلات کے حل کے لیے سفارشات بھی پیش کی گئی ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Post comment