خبر نامہ نمبر /2019 RECAST 3413
کوئٹہ 11اکتوبر :۔ بلو چستان ہائی کورٹ کے اعلامیے کے مطابق آج مورخہ11.10.2019 کوہائی کورٹ میںوائس چئیر مین بلو چستان بار کونسل کی سربراہی میں بار کونسل کے ممبران بلو چستان ہائی کورٹ بار کے صدر ،جنرل سیکریڑی بمعہ کا بینہ کوئٹہ بار کے صدر ،جنرل سیکریڑی بمعہ کا بینہ نے چیف جسٹس ہائی کورٹ جسٹس جمال خان مندوخیل سے ایک غیر رسمی ملاقات کی اس موقع پر سینئر ججز جسٹس نعیم اختر افغان ،جسٹس ہاشم خان کاکٹر اور رجسٹرار ہائی کورٹ بھی موجود تھے وکلاءنے جسٹس جمال خان مندوخیل کو چیف جسٹس کا منصب سنبھالنے پر مبارک باد دی اور چیف جسٹس کو انصاف کی فراہمی میں تمام بارز نے اپنی تمام تر تعاون کی یقین دہانی کرائی جس پر چیف جسٹس بلو چستان ہائی کورٹ جناب جسٹس جمال خان مندوخیل نے وکلاءکے نمائند گان کا شکریہ اداکیا اور یقین دلا یا کہ وہ اپنی تمامتر صلاحیت کو بروئے کار لاکر عوام کے مسائل کو حل کرنے کی کوشش کریں گے اور عوام کا ان کی دہلیز پر فوری اورسستا انصاف کی فراہمی اور قانون کی بالادستی کو یقینی بنائیں گے اس موقع پر با ر کے مسائل اورمختلف امور بھی زیر بحث آئے جس کو حل کرنے کی چیف جسٹس صاحب نے یقین دہانی کرائی ۔
خبر نامہ نمبر /2019 3414
قلعہ سیف اللہ 11 اکتوبر:وزیر اعلیٰ بلوچستان کے مشیر برائے ثانوی تعلیم حاجی محمد خان لہڑی نے کہا ہے کہ صوبے کے دور دراز علاقوں کے بند سکول دوبارہ کھولے جارہے ہیں۔ غیر فعال سکولوں کی فعالی تک چین سے نہیں بیٹھیں گے۔ ماضی کی نسبت آج محکمہ تعلیم میں واضح تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں۔ غیر حاضری سمیت تدریسی اداروں سے گھوسٹ ملازمین کا خاتمہ کرلیاگیا ہے۔ صوبے میں تعلیمی ترقی کا سفر جاری رہے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے قلعہ سیف اللہ میں منعقدہ تعلیمی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ سیمینار میں ارکان صوبائی اسمبلی مولوی نوراللہ اور شاہینہ مہترزئی،ڈپٹی کمشنر قلعہ سیف اللہ عتیق الرحمن شاہوانی،ڈی ای او عطاءاللہ ،نوابزاہ محمود خان جوگیزئی سمیت بڑی تعداد میں علاقے کے قبائلی عمائدین نے شرکت کی۔ اس موقع پر صوبائی مشیر نے کہا کہ تعلیم کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں، موجودہ حکومت نے صوبے میں تعلیم کی بہتری کو اپنی پہلی ترجیحات میں شامل کیا ہے۔ تمام اضلاع میں بھرپور طریقے سے تعلیمی بہتری کیلیے اقدامات اٹھائے جارہے ہیں۔ صوبے میں تعلیمی شعبے میں آج تک اتنا کام نہیں ہوا جتنا آج کیا جارہا ہے۔ سالوں سے بند اور غیر فعال سکولوں کو دوبارہ فعال کیا گیا ہے۔ ماضی میں تعلیم کو یکسر نظرانداز کیاگیا۔ میرٹ کا راگ الاپنے والوں نے صوبے میں تعلیم کو تباہی کے دہانے پر پہنچادیا۔ گزشتہ کئی عشروں سے تعلیم کا شعبہ زبوں حالی کا شکار رہا جس کا نقصان طلباءکو ہوا۔ مشیر تعلیم نے علاقے کے عمائدین سے تفصیلی حال احوال کیا اور ان سے علاقے کے مسائل سنے۔ انہوں نے ضلع میں غیرفعال سکولوں کو جلد ازجلد فعال کرنے کی یقین دھانی بھی کروائی۔انہوں نے سیمینار کے انعقاد پر ضلعی انتظامیہ اور محکمہ تعلیم کے افسران کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے اس امید کااظہار کیاکہ آئندہ بھی اسی طرح کے تعلیم دوست پروگراموں کا انعقاد جاری رکھا جائے گا۔
خبر نامہ نمبر /2019 3415
کنگری 11اکتوبر :۔صوبائی وزیر خوراک و بہبود آبادی سردار عبدالرحمن کھیتران نے کہا ہے کہ سیاست کا تعلق براہ راست انسانیت سے ہوتا ہے۔بلوچستان کے عوام کی ترقی و خوشحالی ہمارے منشور کی بنیاد ہے۔جبکہ موجودہ صوبائی حکومت نے سائل اور وسائل پر صوبے کے عوام کے حق ملکیت کو قانونی تحفظ دے دیا ہے۔ہم بلا نسل و زبان اور قوم و قبیلہ عوام کی بھلائی اور مفاد عامہ کی سیاست پر یقین رکھتے ہیں۔ان خیالات کا اظہارانہوں نے یہاں تحصیل کنگری میں ان کے استقبال کے موقع پر موجود عوام الناس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر صوبائی وزیر نے کہا کہ بلوچستان ایک غریب صوبہ ہے اور ہمارے پاس وسائل کی کمی ہے۔لہذا یہاں کے عوام ترقیاتی اسکیمات اور وسائل کے ضیاع کے متحمل نہیں۔یہ صوبہ ہم سب کا ہے۔جبکہ ہماری حکومت کا وژن ہے کہ ہر شہری کے لیے تعلیم،صحت،اشیائے خوردونوش معیاری ہو اور روزگار کے بہترین موقع میسر آئیں۔انہوں نے کہا کہ ہم حقیقی معنوں میں عوامی نمائندگی کا حق ادا کرنے کے خواہاں ہیں۔کیونکہ ماضی میں حکومت کی غلط منصوبہ بندی کی وجہ سے بلوچستان کے عوام ترقیاتی سکیمات کے حقیقی ثمرات سے محروم رہے اور وسائل کا ضیاع ہوا۔کیونکہ صرف چند لوگوں کے مفاد کی خاطر اسکیمات بنائیں گئیں۔لیکن اب موجودہ حکومت کی نئی حکمت عملی کے تحت عوام کو تعلیم صحت روزگار اور سہولیات کی فراہمی کیلئے مختلف منصوبوں پر کام جاری ہے۔تاہم ان ترقیاتی منصوبوں سے عوام کے دیرینہ مسائل کے حل کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔اور عوامی حلقوں کی تجاویز و شکایات کے مناسب اور بروقت حل کے لیے اقدامات اٹھائے جا رہے ہیںتاکہ ہمارا صوبہ بلوچستان اور یہاں کے عوام کو ترقی و خوشحالی کی راہ پر گامزن کیا جا سکے۔انہوں نے مزید کہا کہ بلوچستان رقبے کے اعتبار سے ایک وسیع صوبہ ہے اور آبادی کے لحاظ سے کم آباد ہے اسکی آبادیاں بکھری ہوئی ہیں۔اور حکومت دوراز علاقوں کے باسیوں کے لیے ترقی کے اس پروگرام کے تحت زندگی کی تمام سہولیات پہنچانے کی کوشش کر رہا ہے۔لیکن بد قسمتی سے کچھ ملک دشمن،تخریب کار اور مفاد پرست عناصر مختلف طریقوں سے بلوچستان کی ترقی میں رکاوٹ حائل کرنا چاہتے ہیںجس سے متعلق عوام میں شعور آگاہی کی ضرورت ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Post comment