خبرنامہ نمبر 2247/2020
کوئٹہ11جون:۔وزیراعظم عمران خان سے وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان کی ٹیلی فونک رابطہ، دونوں رہنماں میں وفاقی پی ایس ڈی پی میں بلوچستان کے منصوبوں کی شمولیت سے متعلق امور پر بات چیت ہوئی، وزیراعلیٰ نے وزیراعظم کو اس حوالے سے بلوچستان کے موقف سے آگاہ کیا اور وزیراعظم نے وزیراعلیٰ کے موقف سے اتفاق کرتے ہوئے یقین دلایا کہ گزشتہ سال بلوچستان کے جن منصوبوں کی منظوری ہوئی اور وہ پی ایس ڈی پی میں شامل نہ ہوسکے انہیں آئندہ مالی سال کی وفاقی پی ایس ڈی پی میں شامل کیا جا چکا ہے اور بلوچستان کے نئے تجویز کردہ منصوبے بھی وفاقی پی ایس ڈی پی کا حصہ ہونگے۔جن کی منظوری وفاقی بجٹ سیشن میں دے دی جائے گی،وزیراعلیٰ جام کمال خان نے بلوچستان کے منصوبوں کو وفاقی ترقیاتی پروگرام میں شامل کرنے کی یقین دہانی پر وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر 2248/2020
کوئٹہ11جون:۔بلوچستان عوامی پارٹی کے صدر، وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے پارٹی کے اراکین قومی اسمبلی اور سینیٹرز کو ہدایت کی ہے کہ وہ اسلام آباد میں ایک مشترکہ لائحہ عمل مرتب کرتے ہوئے اس بات کا تجزیہ کریں کہ صوبائی حکومت کی جانب سے بلوچستان کے حوالے سے جن ترقیاتی منصوبوں کی تجاویز وفاقی حکومت کو دی گئی ہیں ان پر کس حد تک عملدرآمد ہوا اور آگے مزید کیا ہو گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر2249/2020
خضدار11جون :۔ ڈپٹی کمشنر خضدار طفیل احمد بلوچ نے کہاہے کہ خضدار سٹی ایک اہم مرکزاور مستقبل میں بلوچستان کے لئے تجارتی و کاروباری لحاظ سے اہمیت کا حامل شہر اور ڈسٹرکٹ بنتا جارہاہے مناسب محل و وقوع، آمدو رفت کے لئے اچھی گزرگاہ، اور بہت ساری خصوصیا ت اس شہر کے ساتھ منسلک ہیں۔ یہ شہر مزید ترقی کریگا اور یہاں کے عوام کوکاروبار کے مزید مواقع میسرآئیں گے، حکومت اپنی ترجیحات کے مطابق خضدار میں مختلف محکوموں کے تحت خطیررقم مہیا کرچکی ہے اور اس رقم کو یہاں خرچ ہونا ہے۔ شہر میں جاری اسکیمات کے معیاری اور میرٹ کے مطابق مکمل ہونا اوّلین ترجیح ہے۔ حکومت کی جانب سے تشکیل کردہ منصوبوں کو مقررہ مدت میں مکمل کرنے کے لئے تمام تراقدامات عمل میں لائے جارہے ہیں تاکہ وہ پائیہ تکمیل کو پہنچ جائیں اور عوام ان سے استفادہ حاصل کرسکے۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے خضدار پریس کلب میں مکمل ہونے والی نئی عمارت کے معائنے کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ بعد ازاں انہوں نے گزگی میں جاری اسکیمات کا بھی معائنہ کیا۔ اس موقع پر انجینئر ہدایت اللہ زہری، گورنمنٹ کنٹریکٹر عبیداللہ قمبرانی و دیگر ان کے ہمراہ تھے۔ ڈپٹی کمشنر خضدار طفیل احمد بلوچ نے خضدار پریس کلب کی بننے والی نئی عمارت کا معائنہ کیا بریفنگ لی، اور وہاں انہوں نے دیگر ضروری تعمیرات کے لئے بھی ہدایات جاری کردیئے۔ ڈپٹی کمشنر خضدار طفیل بلوچ کا کہنا تھا کہ یہ شہر ہم سب کا ہے۔ اس کے لئے ہم سب کو اپنی ذمہ داریاں نبہا نی چائیے ۔ یہاں کی بہتر منصوبہ بندی، اور معیاری انداز میں اسکیمات کو پائیہ تکمیل تک پہنچانا بے حد ضروری ہے منصوبوں کی افادیت اور ان سے عوام کو استفادہ فراہم کے لئے تمام اقدامات کیئے جارہے ہیں۔ڈپٹی کمشنر خضدار طفیل بلوچ کا کہنا تھاکہ تعمیراتی سوچ اور شہر کے وسیع تر مفاد کو مد نظر رکھ کر ہم سب کو اپنا کردار نبہانا چاہیے۔ ضلعی انتظامیہ اس شہر اور یہاں کے عوام کی خاطر جو اقدامات عمل میں لارہی ہے یہاں کے باشندوں کو چاہیے کہ وہ ہمارے معاون بن کر خضدار میں تعمیر و ترقی کے لئے اپنا کردار ادا کرنا چاہیئے۔ ہم جو منصوبہ بندی کررہے ہیں یا جو اقدامات عمل میں لارہے ہیں وہ سب یہاں کے عوام کے مفاد کے لئے ہیں اور یہاں لوگوں کی خاطر کررہے ہیں۔ اس کے ثمرات انشاءاللہ بہت جلد عوام تک پہنچ جائیں گے اور عوام ان سے مستفید ہوگا۔ میں شہر یوں کے رائے کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہوں یہاں کے لوگ اجتماعی اور وسیع تر مفاد کی خاطر ضلعینتظامیہ کو اپنی آراءاور تجاویز سے آگاہ کرتے رہے جو بھی قابل ستائش اور مفادہ عامہ اور بہتری کے حوالے سے تجاویز دیں گے اس پر عملد رآمد کریں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿

خبرنامہ نمبر2250/2020
کوئٹہ11جون:۔محکمہ جنگلات و جنگلی حیات بلوچستان کی جانب سے صوبے کی ساحلی پٹی پر تیمر کے جنگلات( مینگروز) کی شجرکاری اور نرسریاں قائم کرنے کی خصوصی مہم تیزی سے جاری ہے۔ اس سلسلے میں میانی ہور جوکہ اوتھل ٹاون سے 62 کلومیٹر جنوب میں ضلع لسبیلہ میں واقع ہے یہ بلوچستان میں مینگروز کا سب سے بڑا جنگلی علاقہ ہے۔ اکیس سو 93 مربع کلومیٹر میں پھیلا اس علاقے میں تازہ پانی کی فراہمی پھیلارسی اور وندر ندیوں سے ہوتی ہے۔ 25 اپریل 2020 سے شروع ہونے والی خصوصی مہم کے سلسلے میں میانی ہور ساحلی پٹی کے ساتھ مینگروز کی نرسریوں کیلئے 250,000پودے ور4350000درخت لگانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے جبکہ اب تک 150,000نرسریاں کے پودے اور 340,0000مینگروز کے درخت مقامی افراد اور این جی اوز کے تعاون سے لگائے جا چکے ہیں۔ اس سلسلے میں مقامی این جی او CARD اور SDO کے تعاون سے روزانہ کی بنیاد پر پودے لگائے جا رہے ہیں۔ میانی ہورکے ایریا میں جانوروں کے لیے خوراک کے طور پر پودوں اور درختوں کو نقصان پہنچایا گیا لہذا فیلڈآفسرزاور مقامی این جی اوز نے یہاں کی مقامی خواتین کو اس مہم میں شامل کرکے دوبارہ پودے لگانے اور نرسریاں قائم کئے جس سے اس علاقے میں پودوں کو نقصان اور درختوں کی کٹائی کے روک تھام میں کافی مدد ملی ہے۔اس سلسلے میں فی کس خواتین کو پودے اگانے اور نرسریوں کی دیکھ بھال کے لیے فی پودا 10 روپے دیے گئے ہیں اور اس مہم کے پہلے ہی روز انہیں تیس ہزار پودے شجرکاری کے لیے مہیا کیے گئے جو کہ کامیابی سے لگائے گئے۔ اس کے علاوہ انہیں بیس ہزار پودے نرسری اگانے کے لیے ہدف دئیے گئے ہیں۔ مقامی خواتین کے مطالبے پر فیلڈ آفیسرز نے پودے لگانے ، نرسریوں کی دیکھ بھال، حفاظت اور کامیابی کی صورت میں ان کی حوصلہ افزائی کے طور پر انہیں سلائی مشین بطور انعام دینے کی بھی یقین دہانی کرائی ہے۔محکمہ جنگلات و جنگلی حیات بلوچستان کی جانب سے ساحلی پٹی پر مینگروز کے درخت لگانے کی خصوصی مہم 30 جون تک جاری رہے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
پریس ریلیز
کوئٹہ 11جون:۔ممتاز عالم دین حضرت مولانا عبدالستار جعفر مختصر علالت کے بعد گزشتہ روز جہان فانی سے رحلت فرماگئے۔مرحوم حاجی دوست محمد جعفر سپریڈنٹ PHE۔ماسٹر شاہ جہان جعفر اور ڈاکٹر محمد عالمگیر جعفر کے والد۔حافظ فیض محمد جعفر کے کزن۔حافظ ظفراللہ جعفر کے ماموں اور مفتی زبیراحمد جعفر کے چچا تھے مرحوم کی فاتحہ خوانی بروز ہفتہ 13جون اور بروز اتوار 14جون بمقام جامع مسجد عثمانیہ المحافظ کالونی نواں کلی کوئٹہ میں لی جائیگی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Post comment