خبر نامہ نمبر3567/2018
کوئٹہ28 دسمبر:وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے کہا ہے کہ بلوچستان پاکستان کا ایک اہم اور بڑا حصہ ہے اور قدرتی ذخائر سے مالامال ہے اس کی تعمیروترقی کیلئے اربوں روپے خرچ ہورہے ہیں، کسی بھی ملک یا خطے میں اس وقت تک ترقی نہیں ہوتی جب تک وہاں امن وامان نہ ہو حکومت اور سیکیورٹی ادارے دیرپا امن کے قیام کو یقینی بنارہے ہیں، بلوچستان میں روزگار کے مواقع پیدا کرنا حکومت بلوچستان کی اولین ترجیح ہے، حکومت ایسے بے شمار منصوبوں پر کام کررہی ہے جن سے عام آدمی کو باوقار روزگار میسر آئے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بلوچستان ریکروٹس پاسنگ آؤٹ پریڈ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ صوبائی وزراء، ارکین اسمبلی، جی او سی41ڈویژن عرفان احمد ملک سول و عسکری حکام اور شہریوں کی بڑی تعداد نے تقریب میں شر کت کی۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پاکستان ایک انتہائی نازک دور سے گذررہا ہے، فاٹا اور بلوچستان میں جو کچھ ہورہا ہے اس میں بیرونی ہاتھ ہمارے سادہ لوح شہریوں کو ورغلا کر پاکستان کی سا لمیت کے خلاف استعمال کرنے کی کوشش میں مصروف ہے تا ہم ان کی گھناؤنی سازشوں کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے اور قومی یکجہتی اور اتفاق واتحاد سے انشاء اللہ ہم ان قوتوں کو مکمل ناکامی سے دوچار کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاک فوج نہ صرف پاکستان کی یکجہتی اور تحفظ کی ضامن ہے بلکہ بلوچستان میں بھی فوج کا کرداربہت نمایاں اور قابل قدر ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ رقبے کے لحاظ سے پاکستان کے سب سے بڑے صوبے میں تعلیم شروع سے ہی بہت بڑا مسئلہ رہاہے، فوج نے ہماری اس محرومی سے نمٹنے کے لئے گرانقدر اقدامات اٹھائے ہیں جن میں کوئٹہ انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز، بلوچستان انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنیکل ایجوکیشن، گوادر انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی، آرمی انسٹیٹیوٹ آف منریالوجی، بلوچستان پبلک اسکول سوئی اور ملٹری کالج سوئی شامل ہیں، یہ عظیم تعلیمی ادارے ہمارے صوبے کی تعلیمی پسماندگی دور کرنے میں انتہائی معاون ثابت ہورہے ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ انہیں فخر ہے کہ وہ اس فورس سے مخاطب ہیں جوکہ پاکستان کی سرحدوں کے ساتھ ساتھ قومی اثاثوں کی حفاظت بھی کرتی ہے، ماضی میں ہمارا صوبہ زندگی کے ہر میدان میں پیچھے رہا ہے، معاشی میدان میں بہتری کے لئے بھی فوج ہمارے شانہ بشانہ رہی ہے، انہوں نے کہا کہ چمالانگ کول مائنز پراجیکٹ،دکی کول مائنز، کاسہ ماربل پراجیکٹ، نوکنڈی آئرن اور پراجیکٹ، سوئی میں فراہمی آب پروجیکٹ، سوئی کو مفت سوئی گیس کی ترسیل اور ہسپتال کا قیام وہ منصوبے ہیں جو ہمارے غریب عوام کی زندگی میں تبدیلی لارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاک آرمی کے میڈیکل کیمپس کی بدولت لوگوں کو طبی امداد مل رہی ہے، کوئی بھی قدرتی آفت ہو، خواہ زلزلہ ہو یا سیلاب مشکل کی ہر گھڑی میں فوج عوام کے شانہ بشانہ ہے۔انہوں نے کہا کہ وہ چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ اور کمانڈر سدرن کمانڈ لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں جنہوں نے بلوچستان کی تعلیمی پسماندگی کو مدنظر رکھتے ہوئے بھرتی کے مروجہ قوانین میں تبدیلی کرکے بلوچستان کے نوجوانوں کو پاک فوج میں بھرتی کے لئے خصوصی رعایتیں دیں۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ چند برس قبل بلوچستان کا فوج میں حصہ نہ ہونے کے برابر تھا لیکن آج انہی مثبت اقدامات کی بدولت ایک حوصلہ افزا تعداد جن میں 970افسران اور 19868 سپاہی شامل ہیں، پاک فوج میں شمولیت اختیار کرچکے ہیں اور ملکی دفاع کا اہم فریضہ سرانجام دے ر ہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ کامیاب تربیت کی تکمیل اور پاکستان آرمی کا باقاعدہ حصہ بننے پر ریکروٹس کو مبارکباد پیش کرتے ہیں، قوی امید ہے کہ جو اعلیٰ درجے کی تربیت انہیں فراہم کی گئی ہے اس کی بدولت ان کی صلاحیتوں میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہوگا اور وہ اپنی صلاحیتوں کا بھرپور اظہار کرتے ہوئے نہ صرف بہادر بلوچوں اور پشتونوں کی عالیشان روایات کے امین بنیں گے بلکہ اس ارض وطن کی حفاظت اور دفاع کے ضامن بھی ہوں گے۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ملک وقوم کو درپیش مسائل کا حل قائداعظم کے سنہری اصولوں ایمان، اتحاد اور تنظیم میں ہے، اگر ہم اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رہیں اور فرقہ پرستی چھوڑدیں تو ہم جیسی طاقتور دوسر ی کوئی قوم نہ ہو۔قبل ازیں وزیر اعلیٰ نے پریڈ کا معائنہ کیا اور مارچ پاسٹ سے سلامی لی۔ وزیر اعلیٰ نے دوران تربیت اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے ریکروٹس میں انعامات تقسیم کئے۔پاسنگ آؤٹ پریڈ میں265ریکروٹس نے حصہ لیا۔

خبر نامہ نمبر3568/2018
کوئٹہ 28دسمبر :۔صوبائی وزیر صحت میر نصیب اللہ مری نے کہا ہے کہ شعبہ صحت جدید خطوط پر استوار کرنے اور عصر نو کے تقاضوں سے اہم ہنگ کرنے کیلئے جدید ٹیکنالوجی سے استفادا حاصل کرنا وقت کی ضرورت کے ساتھ ساتھ محکمہ میں جدت لانے کیلئے بھی ضروری ہے 18ویں ترمیم کے بعد صوبائی حکومت ذمہ داریاں مزید بڑھ گئی ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے یوایس ایڈ کے زیر اہتمام ”انٹگریٹی ٹرینگ منجمنٹ انفارمیشن سسٹم ”کے افتتاحی تقریب سے بطورمہمان خصوصی اپنے خطاب میں کیا ہے جبکہ اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سروس شاکر علی بلو چ،ڈی جی بہبود آبادی ،ایڈیشنل سیکریٹری ڈویولپمنٹ صحت ،ڈاکٹر نائلہ حسن ،ڈاکٹر فوزیہ اسد،ڈاکٹر امین اللہ مندوخیل،ودیگر حکام بھی موجود تھے ۔تقریب سے خطاب میں صوبائی وزیر نے یوایس ایڈ کا شکریہ اداکرتے ہوئے کہاکہ عصر حاضر کے تقاضوں کو مد نظر رکھتے ہوئے اس میں جدت اور نئے تیکنکی وسائل کو استعمال میں لانے سے محکمہ کی مجموعی کارکردگی میں بہتری لائی جاسکتی ہے انہوں نے کہاکہ کا غذی کاروائی کو دور گزر چکا ہے دنیا اب جدید ٹیکنالوجی کے دوڑمیں داخل ہوچکی ہے شعبہ صحت کو جدید خطوط پر استوار کرنے کیلئے نئی ٹیکنالوجی سے استفاد حاصل کرنا ضروری ہے اور کسی بھی ہنگامی صورت میں جدید نظام سے زیادہ بہتر نتائج حاصل کیے جاسکتے ہیں 18ویں ترمیم کے بعد صوبائی حکومت کی ذمہ داریاں مزید بڑھ گئی ہیں وسائل کی کمی کے باوجود شعبہ صحت ،محکمہ بہبود آبادی اور پی پی ایچ آئی کو بھر پور مالی معاونت فراہم کرنے کی کوشش کرئنیگے ۔دیگر مقررین نے اس موقع پر کہاکہ صوبہ بلو چستان رقبہ کے لحاظ سے نصف پاکستان ہے لہذا پالیساں مرتب کرتے ہوئے اسکے رقبہ کو بھی مدنظر رکھا جائے تاکہ ذیادہ بہتر نتائج اخذکیے جاسکیں۔
خبر نامہ نمبر3569/2018
کوئٹہ 28دسمبر :۔محکمہ بہبود آبادی حکومت بلو چستان کے ایک اعلامیہ کے مطابق سجاد ثناء ملک ولد ثناء اللہ ملک اسسٹنٹ ڈائریکٹر (ایم اینڈای ۔بی 17)عمرکی بالائی حد کو پہنچنے پر13دسمبر2018کوسرکاری ملازمت سے رئٹائر ہوگئے ہیں۔
خبر نامہ نمبر3570/2018
کوئٹہ 28دسمبر :۔محکمہ سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن حکومت بلو چستان کے ایک اعلامیہ کے مطابق مشیر برائے ماہی گیری اکبر اسکانی کو صوبائی وزیرکا درجہ دے دیا گیا ہے۔
خبر نامہ نمبر3571/2018
کوئٹہ 28دسمبر :۔صوبائی وزیر داخلہ، قبائلی امور و پی ڈی ایم اے میر ضیاء اللہ لانگو نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ بلوچستان میں امن و امان کے قیام کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے امن وامان کے قیام میں ہی بلوچستان کے عوام اور صوبہ کی معاشی، معاشرتی اور تعلیمی ترقی کا راز مضمر ہے۔ موجودہ حکومت نے امن و امان کے قیام، معاشی اور تعلیم کے میدان میں ترقی اور صوبہ سے پسماندگی کے خاتمہ کے عزم کے ساتھ ہی حکومت کی بھاگ دوڑ سنبھالی ہے۔ صوبائی وزیر داخلہ نے کہا کہ موجودہ حکومت کے انتھک کوششوں پاک فوج، پولیس اور دیگر سیکیورٹی اداروں کی قربانیوں سے ہی بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال بہتر ہو پائی ہے ۔ صوبہ میں امن و امان اور بھائی چارہ کی فضا برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم لسانیت، فرقہ واریت اور مذہبی منافرت کی ہر سطح پر حوصلہ شکنی کرتے ہوئے دہشتگردوں اور ملک دشمن عناصر کے خلاف یکجا ہو کر آواز بلند کریں جو امن کے خواہاں نہیں ہیں ۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ بلوچستان تزویراتی نقطہ نگاہ سے دنیا کا ایک اہم ترین خطہ ہے اسے معدنی دولت سے مالامال دنیا کا امیر خطہ بھی مانا جاتا ہے۔ قدرتی وسائل کو نکال کر اور میرٹ کی بنیاد پر استعمال میں لا کر صوبہ سے تعلیمی اور معاشی پسماندگی اور احساس محرومی کو دور کیا جا سکتا ہے اسکے لیے پرامن اور پر فضا ماحول کا قیام ضروری ہے تاکہ بلوچستان میں سرمایہ کاروں کا اعتماد بھی بحال ہو سکے۔ صوبائی وزیر داخلہ و پی ڈی ایم اے نے مزید کہا کہ بلوچستان کے خطہ کو اپنے محل وقوع کی اعتبار سے ہر پانچ سے چھ سالوں بعد خشک سالی کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس سے صوبہ میں زراعت اور مال مویشی کے نقصان کی وجہ سے متاثرہ علاقوں میں معاشی بحران کی سی کیفیت پیدا ہوتی ہے ۔ خشک سالی کو روکا تو نہیں جاسکتا لیکن مربوط حکمت عملی کے تحت خشک سالی کے اثرات کو کم کیا جا سکتا ہے ۔ انہوں نے کہا حکومت اپنے عوام کو اس مشکل حالات میں تنہا نہیں چھوڑے گی۔ حالیہ خشک سالی کی لہر کی وجہ سے بلوچستان کے 20 اضلاع زیادہ متاثر ہوئے ہیں جن کے امداد اور بحالی کے لئے پی ڈی ایم اے بھرپور اقدامات اٹھا رہی ہے جن میں اشیاء خوردونوش اور دیگر اشیاء ضرورت کی فراہمی شامل ہیں ۔ صوبائی وزیر نے اس عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی تمام تر توانائیاں قانون کی حکمرانی کی بحالی، امن و امان کے قیام اور خشک سالی سے متاثرہ ضلع کی امداد اور بحالی میں صرف کریں گے۔
خبر نامہ نمبر3572/2018
کوئٹہ 28 دسمبر:۔صوبائی مشیر تعلیم حاجی محمد خان لہڑی نے کہا ہے کہ محکمہ تعلیم میں اصلاحات لائے جارہے ہیں اور محکمے کو جدید خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے انہوں نے کہا کہ محکمہ تعلیم مثبت سمت کی جانب گامزن ہے عوام کو محکمے کے حوالے سے مثبت نتائج دیکھنے کو ملیں گے۔ وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان صوبے کی ترقی خصوصاً تعلیم کے شعبے کی بہتری کے پالیسی پر عمل پیرا ہیں اور عوام کو بہت جلد موجودہ حکومت کی پالیسیوں کے ثمرات ملیں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے صوبائی مشیر خوراک میر سکندر علی عمرانی کی قیادت میں آئے ہوئے وفد سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ صوبائی مشیر تعلیم نے کہا کہ محکمہ غیر حاضر اساتذہ کے خلاف کاروائی جاری رکھے گی غیر حاضر اساتذہ کو سکولوں میں حاضر کیا جارہا ہے حکومت نے قلیل مدت میں سینکڑوں بند سکولوں کو دوبارہ فعال کیا ہے۔ انہوں نے اساتذہ تنظیموں سے اپیل کی کہ وہ تعلیم کی بہتری میں اپنا کردار ادا کرتے ہوئے غیر حاضر اساتذہ کیخلاف کاروائی میں محکمے کی معاونت کریں۔
خبر نامہ نمبر3573/2018
لورالائی 28دسمبر:۔ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر لورالائی اعجاز احمد نے کہا ہے کہ منشیات زہر قاتل ہے ۔ منشیات انسانی زندگی اور صحت کیلئے نہایت خطرناک ہیں اور لاتعداد بیماریوں و برائیوں کا موجب بھی ہے۔ بد قسمتی سے نوجوان تیزی سے منشیات کا شکار ہو رہے ہیں جو ایک نہایت توجہ طلب اور سنجیدہ معاملہ ہے ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے انٹی نارکوٹکس فورس کی جانب سے انسداد منشیات کے حوالے سے منعقدہ سمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔سمینار میں ڈائریکٹر انٹی نارکوٹکس میجر نوید احمد ،اسسٹنٹ کمشنر بوری فیاض علی ،اسسٹنٹ ڈائریکٹر انفارمیشن امیر جان لونی ،ڈپٹی ڈسٹرکٹ آفیسر محکمہ تعلیم جمال الدین اتمانخیل ،ایم ایس سول اسپتال محمد فہیم اتمانخیل اور دیگر سرکاری محکموں کے آفیسران ،سماجی تنظیموں کے نمائندے اور رضا کاروں نے بڑی تعداد میں شرکت کی ۔ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر اعجاز احمد نے کہا کہ منشیات انسان کی جسمانی اور ذہنی صحت کو شدید متاثر کرتا ہے اور یہ ایک عالمگیر مسئلہ بن چکا ہے جس نے معاشروں اور خاندانوں کے سماجی ومعاشی ڈھانچے کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے انہوں نے کہا کہ منشیات کا تدارک فرد واحد یا کسی ادارے اور ریاست کی نہیں بلکہ ایک مشترکہ معاشرتی اور قومی ذمہ داری ہے جس کی تکمیل کا فرض ہم سب پر لازم ہے اگر ہمیں اپنے نوجوان نسل کو بچانا ہے تو ہمیں ان کے سبب بننے والے محرکات کی شناخت کرنا ہو گی اور اس کا پائدار حل تلاش کرنا ہو گا ۔ڈائریکٹر انٹی نارکوٹکس فورس نوید احمد نے شرکاء کو بتایا کہ منشیات سے ہونے والے نقصانات کو آج تک اس شدت سے محسوس نہیں کیا گیا جس سے محسوس کرنا تھا منشیات ہمیں شدید نقصانات اور پریشانی سے دوچار کرتا ہے صرف 2015ء میں 4 لاکھپچاس ہزار افراد منشیات کی وجہ سے لقمہ اجل بنے جوکہ ایک المیہ سے کم نہیں ملک دشمن عناصر ادویات پالش،گوند، رنگ کے ڈبے اور ٹافیوں کے ذریعے بھی ہمارے بچوں کو منشیات کا عادی بناتے ہیں انہوں نے کہا کہ دنیا کے 26ممالک نے ان ملکوں کے شہریوں کے داخلے پر پابندی لگائی ہیں جہاں منشیات کے عادی افراد کی تعداد زیادہ ہے۔ڈائریکٹر انٹی نارکوٹکس میجر نوید احمد نے بتایا کہ محکمہ انٹی نارکوٹکس نے 26 ہزار ایکڑ اراضی پر کاشت کی گئی منشیات کی فصل کو تلف کیا ہے ۔ انہوں نے معاشرے کے تمام افراد بالخصوص والدین ،اساتذہ ،سماجی کارکنان ،علماء اور معززین سے منشیات کے خلاف انٹی نارکوٹکس فورس سے تعاون کرنے کی اپیل کی ۔
پریس ریلیز
کوئٹہ 28دسمبر؛۔آل پاکستا ن کلرک ایسو سی ایشن (ایپکا) کے صوبائی صدر داد محمد بلوچ، ضلعی صدررحمت اللہ زہری ،ڈپٹی جنرل سیکرٹری غلام نبی محمد حسنی ،یونٹ صدر حاجی اکرم بنگلزئی ،حاجی محمد اسلم کاکڑ اورجمیل احمدنے ایپکا کے ممبران کو درپیش مسائل کے سلسلے میں کمشنر کوئٹہ ڈویژن محمد ہاشم غلزئی سے ملاقات کی ملاقات میں کمشنر کے ساتھ ایپکا کلرکس ہاؤسنگ سکیم کے حوالے سے تفصیلی بات چیت کی جبکہ ڈپٹی کمشنر آفس کے ملازمین کو درپیش مسائل کے حوالے سے آگاہ کیا کمشنر نے ایپکا کے وفد کو مذکورہ بالا مسائل کو حل کرنے یقین دہانی کر وائی اور کلرکس ہاؤسنگ سکیم کے سلسلے میں متعلقہ حکام پٹواریوں وغیرہ کو فوری طور پر احکامات جاری کئے جبکہ ڈی سی آفس کے ملازمین کو درپیش مسائل کیلئے ڈپٹی کمشنر سے ان مسائل کو حل کرنے کو بھی یقین دہانی کر وائی ۔ایپکا کے صوبائی صدر داد محمد بلوچ ،رحمت اللہ زہری نے کہا کہ کمشنر ملازم دوست اور غریب پرورشخص ہیں۔انہوں نے ہمیشہ ملازمین کے مسائل کو حل کرنے کی بھر پور کوشش کی ہے اج بھی ہمیں امید ہے کہ کمشنر ذاتی کوششوں سے کلرکس ہاؤسنگ سکیم کی زمین کو قبضہ مافیا ء سے واہگزار کر کے ایپکا کی حوالے کرینگے ۔تاکہ غریب ملازمین کو سر چھپانے کیلئے چھت مل سکیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Post comment