خبرنامہ نمبر1402/2022
نصیر آباد 31مارچ۔کمشنر نصیرآباد ڈویژن فتح خان خجک کو گزشتہ روز ایکس ای این کچھی واٹر سپلائی اسکیم محمد کاظم لونی نے کچھی واٹر سپلائی سکیم کے متعلق بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ 2004 میں اس اسکیم کی منظوری دی گئی اور 2007 میں اس اسکیم کا کام ہنگامی بنیادوں پر شروع ہوا جو کہ تین سالوں کی مدت میں مکمل کیا گیا اس کی کل لمبائی 72 کلومیٹر سے بھی زائد ھے جو کہ 18 انچ کی پائپ لائن بچھائی گئی ھے اس اسکیم کے ذریعے ایک لاکھ کے قریب آبادی کو آبنوشی کی فراہمی ممکن ہو رہی ہے اور سال 2012 کے تباہ کن سیلاب نے کچھی واٹر سپلائی اسکیم کو بری طرح متاثر کیا انہوں نے مزید بتایا کہ پٹ فیڈرکینال سے پانی کا حصول ممکن بنایا گیا ہے اور ڈیرہ مراد جمالی سے بختیارآباد تک 55 کلومیٹر 18 انچ پائپ لائن بچھائی گئی جبکہ نوتال سے 6 انچ پائپ لائن درگاھ لانڈھی شریف کی آبادی کو بھی پانی فراہم کیا جارہا ہے بختیارآباد سے بھاگ ناڑی اور گوٹھ ٹنگوٹھی کی عوام کے لئے دس انچ پائپ لائن بچھائی گئی ھے کچھی واٹر سپلائی اسکیم کے تالاب پٹ فیڈر کینال کے پانی سے بھرے جاتے ہیں پھر بھاری مشینری کے ذریعے دور دراز علاقوں کی عوام کے لیے آبنوشی کی فراہمی کو ممکن بنایا جا رہا ہے حکومت اس منصوبے کو مزید وسعت دے رہی ہے اور فیز ٹو کا آغاز بھی ھو چکا ہے جس کے ذریعے دوسری 18 انچ کی نئی پائپ لائن بچھا کر دور دراز علاقوں کی عوام کو آبنوشی کی فراہمی یقینی بنانے کیلئے ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے تاکہ پینے کے صاف پانی کے حصول میں جو ان کی مشکلات تھیں ان کو دور کیا جا سکے اس منصوبے کی تکمیل سے لہڑی بھاگ اور دیگر علاقوں کی عوام کو پینے کے صاف پانی کے جو درپیش مسائل تھے ان کا ازالہ ممکن ہوگا کچھی واٹر سپلائی سکیم فیز ٹو پر کام تیزی سے جاری ہے اور اگر بروقت فنڈز کی فراہمی ممکن ہوئی تو مقررہ مدت میں پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے ہر ممکن کوشش کی جائے گی اس موقع پر کمشنر نصیرآباد ڈویژن فتح خان نے کہا کہ عوام کو آبنوشی کی مشکلات دور کرنے کے لیے محکمہ پی ایچ ای اپنے تمام وسائل بروئے کار لائے پٹ فیڈر کی بھل صفائی کے دوران پانی کی فراہمی معطل رہے گی اس لیے کوشش کی جائے کہ زیادہ سے زیادہ پانی جمع کیا جائے اور لوگوں کو آبنوسی کی فراہمی میں مشکلات پیش نہ آئیں ہم سب کا مقصد صرف عوام کے لیے بہتر سے بہتر اقدامات کرنا ہے انہوں نے کہا کہ دور دراز علاقوں کی عوام کو ان کی دہلیز تک آبنوشی کی فراہمی کے لیے کوئی کسر نہ چھوڑی جائے متعلقہ عملہ اور آفیسران اپنی تمام تر توجہ اس جانب مرکوز کریں تاکہ بہتر سے بہتر اقدامات کیے جا سکیں گرمیوں کے موسم میں پانی کی طلب میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہو جاتا ہے کچھی واٹر سپلائی سکیم کے تالابوں میں مزید پانی بھرا جائے پی ایچ ای کے تالابوں میں پانی کی گنجائش ہونے کے وجہ سے پٹ فیڈر کینال اور کیرتھرکینال میں دوبارہ پانی چھوڑ دیا گیا ہے تاکہ ذیادہ سے ذیادہ پانی ذخیرہ کیا جاسکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر1403/2022
چمن31مارچ۔ ڈپٹی کمشنر ضلع چمن کیپٹن(ر) جمعہ داد خان مندوخیل کی زیر صدارت ضلع میں جاری ترقیاتی عمل ( پی ایس ڈی پی ) کے تحت جاری ترقیاتی منصوبوں پر پیشرفت ، ایس این ای (SNE) اور گھوسٹ ملازمین کے حوالے سے ایک جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں تمام ضلعی اداروں کی گذشتہ کارکردگی کا جائزہ لیا گیا۔ اور مسائل دریافت کئے۔ تمام اداروں کے سربراہوں نے اپنے اداروں کی پروگریس پر بریفنگ دی۔ اجلاس میں لائن ڈیپارٹمنٹ کے ہیڈز نے بھی شرکت کی۔اجلاس کو آئندہ ترقیاتی پروگرام میں شامل کرنے کے لیے تجویز کیے گئے منصوبوں پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اور نئی پی ایس ڈی پی میں شامل کرنے کے لیے مجوزہ منصوبوں پر تفصیلی بحث اور تجاویز دی گئی۔ڈپٹی کمشنر نے ان منصوبوں کو پی ایس ڈی پی میں شمولیت کو یقینی بنانے کے لیے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ تمام ضلع میں جاری اسکیموں کو بروقت یقینی بنائیں اور متعلقہ فورم سے ان کی بروقت منظوری کو یقینی بنایا جائے۔انہوں نے کہا کہ ڈپٹی کمشنر نے کہاکہ عوامی مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کے لئے تمام ڈیپارٹمنٹس کے درمیان کوارڈنیشن ضروری ہے اس ضمن میں ضلعی انتظامیہ ہمہ وقت تیار ہے اور کسی بھی مسئلے پر انتظامیہ کے تعاون حاصل رہے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر1404/2022
کوئٹہ31 مارچ ؛۔بلوچستان کے اراکین اسمبلی،  ماہرین مالی امور ، طلبہ اور صحافیوں نے گڈ گورننس کے قیام کے لئے پبلک اکاونٹس کمیٹی کو زیادہ سے زیادہ بااختیار بنانے اور پی اے سی  کے فیصلوں پر عمل درآمد کے لئے رولز آف بزنس کو موثر بنانے کی ضرورت پر زور دیا ہے جمعرات کے روز یہاں اکاونٹبلٹی لیب ، گورننس اینڈ پالیسی پروجیکٹ اور بلوچستان صوبائی اسمبلی کے اشتراک سے ایک روزہ گول میز مباحثہ بعنوان  “احتساب اور اچھی گورننس میں پارلیمنٹ کا کردار” کے موضوع سے منعقد ہوا جس میں پبلک اکاونٹس کمیٹی کے چیئرمین اختر حسین لانگو   ممبر پی اے سی  و صوبائی وزیر خوراک  انجنیئر  زمرک خان اچکزئی ایم پی اے قادر علی نائل سیکرٹری بلوچستان اسمبلی طاہر شاہ کاکڑ ایڈیشنل سیکرٹری اسمبلی  سراج الدین لہڑی ،  اکاو¿نٹنٹ جنرل نصراللہ جان ، گورننس اینڈ پالیسی پروجیکٹ  کی اسٹریٹیجک کمیونیکیشن اسپیشلسٹ مہوش سعید، پروگرام کنسلٹنٹ فاطمہ ننگیال سمیت مختلف جامعات کے اساتذہ و طلبہ ، صحافیوں دانشوروں  و دیگر شخصیات نے شرکت کی مباحثہ نشست میں اظہار خیال کرتے ہوئے چیئرمین پبلک اکاونٹس کمیٹی اختر حسین لانگو نے کہا کہ گڈ گورننس کے قیام کے لئے جوابدہی کا موثر عمل اشد ضروری ہے پی اے سی  کا فعال کردار بہتر نظام حکومت کی ضمانت ہے پی اے سی کی فعالیت سے تمام محکمے جوابدہی کے زمہ دار ہوتے ہیں اور مالی بد عنوانیوں کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے پوری دنیا میں ایسے فورم ہی شفافیت کے قیام کے لئے کلیدی کردار ادا کرتے ہیں اختر حسین لانگو نے کہا کہ بلوچستان میں پی اے سی کا فورم بتدریج مستحکم ہورہا ہے اور ماضی کی نسبت اب تمام محکمے سنجیدگی کے ساتھ پی اے سی کو جوابدہ ہیں بلوچستان پی اے سی نے جوابدہی کو موثر بناتے ہوئے سوا ارب روپے ریکوری کرکے قومی خزانے میں جمع کرائے ہیں بلوچستان میں ماضی کی عدم توجہی اور پی اے سی کی عدم تشکیل  کے باعث   1985 کے فیصلے تاحال التواء کا شکار ہیں اور ایک بڑا بیک لاک موجود ہے لیکن ہماری ترجیح ہے کہ کرنٹ فنانشل پوزیشن کو زیر غور لایا جائے  ہم پرعزم ہیں کہ پبلک اکاونٹس کمیٹی کو فعال بناکر گڈ گورننس کے قیام کے لئے کوششیں جاری رکھیں گے پی اے سی سے متعلق امور سے آگاہی کے لئے جامعات کے طلبہ کو مواقع فراہم کئے جاررہے ہیں پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر خوراک انجینئر زمرک خان اچکزئی اور رکن بلوچستان اسمبلی قادر نائل نے کہا کہ مالی امور میں شفافیت اور چیک اینڈ بیلنس کے لئے  پبلک اکاونٹس کمیٹی کا کردار کلیدی اہمیت کا حامل ہے پی اے سی فعال کردار ادا کرے  اور کمیٹی کے فیصلوں پر بروقت عمل درآمد کیا جائے تو شفافیت کو یقینی بنایا جاسکتا ہے اور دستیاب مالی وسائل کا درست استعمال ممکن ہوگا  انہوں نے کہا کہ پبلک اکاونٹس کمیٹی کو زیادہ سے زیادہ بااختیار بناکر گڈ گورننس کے قیام کے لئے اقدامات کو موثر بنایا جاسکتا ہے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سابق سیکرٹری خزانہ و ماہر مالی امور محفوظ علی خان نے کہا کہ کسی بھی محکمے کے مالی امور کا زمہ دار متعلقہ محکمے کا سیکرٹری ہوتا ہے جو کہ پرنسپل اکاونٹنگ افسر ہوتا ہے منتخب نمائندہ تجاویز دے سکتے ہیں  تاہم جملہ مالی قوائد و ضوابط پر عمل درآمد کا ذمہ دار متعلقہ سیکرٹری ہی ہوتا ہے انہوں نے کہا کہ کرپشن کے وجود سے انکار ممکن نہیں تاہم جوابدہی کے تسلسل سے کرپٹ پریکٹس کو ختم کیا جاسکتا ہے  دیگر شرکاءنے نشست میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ پبلک اکاونٹس کمیٹی جوابدہی کا  ایک ایسا مجاز فورم ہے جو صوبائی قانون ساز اسمبلی کی نمائندگی کرتا اس لئے پی اے سی کے فیصلوں پر عمل درآمد کے لئے جوابدہی کا موثر میکنزم تشکیل دیا جانا ضروری ہے نشست سے خطاب کرتے ہوئے گورننس اینڈ پالیسی پروجیکٹ کی اسٹریٹیجک کمیونیکیشن اسپیشلسٹ   مہوش سعید  نے کہا کہ بلوچستان میں پی اے سی کے کردار سے متعلق جامعات کے طالب علموں اور مختلف شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے افرادکو آگاہی کے لئے مواقع فراہم کئے جاررہے ہیں تاکہ طالب علموں اور معاشرے کے مختلف طبقات کو مالی امور اور گڈ گورننس سے متعلق  شعوری آگاہی دی جاسکے اس ضمن میں جی پی پی فعال  معاونت کاری کررہا ہے اور یہ امر باعث اطمیان ہے کہ اس پراجیکٹ کے خاطر خواہ نتائج حاصل  ہورہے ہیں اور مالی امور میں شفافیت سے متعلق عوام میں شعور بیدار ہو رہا ہے پروگرام کی کنسلٹنٹ فاطمہ ننگیال نے کہا کہ آج کے طلبہ نے مستقبل کی باگ ڈور سنبھالنی ہے اس لئے ہماری کوشش ہے کہ حکومتی اداروں اور جامعات کے طلبہ میں خلاءکو ختم کرکے آگاہی کے سلسلے کو مربوط بنایا  جائے  پروگرام کے اختتام سے قبل چیئرمین پی اے سی اختر حسین لانگو،  انجینئر زمرک خان اچکزئی نے شرکاءکے سوالات کے جوابات دئیے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر1405/2022
کوئٹہ 31مارچ ؛۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ کے ایک سرکلرکے مطابق تمام زونل کمیٹی ممبران کا آگاہ کیا جاتا ہے کہ زونل کمیٹی کا آئندہ اجلاس 29شعبان العظم بروز ہفتہ 02اکتوبر 2022ءقبل از وقت مغرب بمقام ڈپٹی کمشنر کمپلیکس انسکمب روڈ کوئٹہ میں منعقد ہوگا۔جس میں رمضان المبارک 1443ہجری کا چاند دیکھا جائے گا۔لہذا تمام کمیٹی ممبران کو مطلع کیا جاتا ہے کہ وہ چاند اجلاس میں شرکت کو یقینی بنائیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر1406/2022
کوئٹہ 31مارچ ؛۔ڈائریکٹر(آئی ٹی) وزیراعلیٰ بلوچستان سیکرٹریٹ کوئٹہ محمد نصیر نے اپنے عہدے کا چارج سنبھال کر کام شروع کر دیا ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر1407/2022
کوئٹہ 31مارچ ؛۔بلوچستان پبلک سروس کمیشن کے ایک پریس ریلیز کے مطابق ان امیدواروں کو مطلع کیا جاتا ہے جنہوں نے اس کمیشن میں اسسٹنٹ کمشنر/سیکشن آفیسر (B-17) کے عہدہ کے لیے درخواست دی ہیں اور وہ اپنے مضمون کو تبدیل کرنے چاہتے ہیں تو 11 اپریل 2022 تک درخواست جمع کرسکتے ہیں۔ تاہم مذکورہ تاریخ کے بعد بلوچستان پبلک سروس کمیشن کی جانب سے کوئی درخواست قبول نہیں کی جائے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر1408/2022
کوئٹہ 31مارچ ؛۔محکمہ خزانہ حکومت بلوچستان کے ایک اعلامیہ کے مطابق محکمانہ پروموشن کمیٹی کی سفارش اور مجاز احکام کی پیشگی منظوری سے سے محمد حسین ( ٹی اینڈ اے /بی پی ایس- 16) کو سپریڈنٹ (بی پی ایس- 17) ڈائریکٹریٹ جنرل آف ٹریثرری اینڈ اکاو¿نٹس بلوچستان کوئٹہ کے عہدے پر 25 جنوری 2022ءسے مستقل بنیادوں پر ترقی دیدی گئی ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر1409/2022
کوئٹہ 31مارچ ؛۔ترجمان حکومت بلوچستان فرح عظیم شاہ نے جمعرات کو ایڈیشنل سیکرٹری داخلہ ہاشم غلزئی سے ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران صوبے میں امن و امان اورسکیورٹی کی صورتحال کو مزید بہتر بنانے کے حوالے سے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیااور امن و امان اور سکیورٹی کی صورتحال کی مزید بہتری کیلئے ہرممکن اقدام اٹھانے پر اتفاق کیا گیا۔ملاقات میں امن عامہ کی بہتری کیلئے محکموں کے درمیان مربوط کوآرڈینیشن پر اتفاق کیا گیا، صوبے میں قانون کی عملداری کو ہر قیمت پر یقینی بنایا جائے گا۔ ملاقات میں باہمی اتفاق کیا گیا کہ عوام کی جان و مال کے تحفظ سے بڑھ کر کوئی ترجیح نہیں۔ ملاقات کے دوران ترجمان حکومت بلوچستان نے یقین دہانی کرائی کہ بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال کومزید بہتر بنانے کیلئے ہر ضروری اقدام کیا جائے گا۔ صوبے میں قبضہ مافیا کے خلاف بلاامتیاز آپریشن کیا جائے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر1410/2022
کوئٹہ 31مارچ ؛۔ترجمان حکومت بلوچستان فرح عظیم شاہ نے کہا ہے کہ پاکستانی قوم پاک فوج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے ہمارے عوام اور افواج نے خون کے سمندر سے گزر کر خطے میں امن کو بحال کیا ہے ترجمان صوبائی حکومت کا کہنا تھاکہ پاکستانی فوج دنیا کی وہ عظیم فوج ہے جو اپنے ملک کے شہریوں کی حفاظت اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر دشمن سے محفوظ بناتی ہیں۔ اسی لیے ہر پاکستانی شہری  افواج پاکستان جیسی بہادر فوج اپنے شہریوں کے ساتھ کھڑی ہے۔ اس سے عوام اور فوج کی محبت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ترجمان حکومت بلوچستان فرح عظیم شاہ  نے افریقی ملک کانگو میں پیش آنے والے حادثے میں پاک فوج کے افسروں اور جوانوں کی شہادت پر اظہارِافسوس کیا ہے۔ اپنے ایک تعریتی بیان میں ترجمان نے کہا ہے کہ قوم اپنے شہداءکو سلام پیش کرتی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ امن کوششوں میں شہید ہونے والے وطن کے بیٹوں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں، شہداءکے اہلِ خانہ سے دلی تعزیت اور اظہارِ ہمدردی کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان دنیا میں سب سے زیادہ امن کارروائیوں کے لیے فوجی دستے فراہم کرتا ہے، پاکستان کے امن دستوں نے دنیا میں امن کی خاطر جانوں کے قیمتی نذرانے دیے ہیں۔ اور وطن کی افواج کی قابلِ فخر تاریخ شہداءکے لہو سے جگمگا رہی ہے، اللہ تعالیٰ شہداءکے درجات بلند فرمائے اور لواحقین کو صبرِجمیل عطاءکرے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر1411/2022
کوئٹہ 31مارچ۔سینئر صوبائی وزیر منصوبہ بندی نورمحمددمڑ نے کہا ہے کہ صوبے کے تمام اضلاع کی یکساں بنیادوں پر ترقی کو اپنی حکومت کی ترجیحات کا حصہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ کوئٹہ میں اربوں روپے مالیت کے متعدد ترقیاتی منصوبے شروع کئے گئے ہیں جن میں بعض منصوبے تکمیل کے آخری مراحل میں ہیں۔  انہوں نے کہا کہ وہ بذات خود  جاری ترقیاتی منصوبوں پر پیشرفت کی نگرانی کر رہے ہیں تاکہ یہ منصوبے مقررہ وقت میں مکمل ہوسکیں اور عوام بلاتاخیر ان منصوبوں کے ثمرات سے مستفید ہو سکیں۔ وزیر منصوبہ بندی نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت کی کوشش ہے کہ کوئٹہ میں جاری تمام منصوبے اسی دور حکومت میں مکمل کئے جائیں اور نئے منظور شدہ منصوبوں پر بھی اسی دور حکومت میں عملی کام کا آغاز کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے محکمہ منصوبہ بندی میں مختلف وفود سے ملاقات کرتے ہوئے کیا وزیر منصوبہ بندی نے سنجاوی سے آئے ہوئے لوگوں سے ملاقات کرکے علاقے میں جاری ترقیاتی منصوبوں، عوامی فلاح و بہبود کے اقدامات اور عوامی مسائل کے حل سے متعلق امور پر گفتگو کی۔ وفود سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر منصوبہ بندی کا کہنا تھا کہ عوام کو درپیش مسائل کا انہیں بھر پور ادراک ہے اور وہ شروع دن ہی سے علاقے کی پسماندگی کو دور کرنے اور لوگوں کو درپیش مسائل کے حل کے لئے سنجیدہ اقدامات اٹھا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ دور حکومت میں بلوچستان اور جنوبی بلوچستان میں جتنے ترقیاتی منصوبے منظور کئے گئے ہیں ماضی میں اس کی کوئی مثال نہیں ملتی اور ان منصوبوں کی تکمیل سے علاقے کی پسماندگی اور علاقے کی عوام کو درپیش مسائل مستقل بنیادوں پر حل ہو جائیں گے اور علاقہ پائیدار ترقی کے راستے پر گامزن ہوجائے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿

خبرنامہ نمبر1412/2022
کوئٹہ 31مارچ؛۔سیکرٹری زراعت امید علی کھوکھر کی صدارت میں آن فارم واٹر مینجمنٹ کے ضلع وار ترقیاتی منصوبوں پر کام کے پیش رفت سے سلسلے میں اجلاس منعقد ہوا جس میں ڈائریکٹر جنرل واٹر مینجمنٹ عبدالواہاب کاکڑ کے علاوہ دیگر آفیسران بھی موجود تھے ۔اجلاس میں سیکرٹری زراعت نے ضلعی آفیسران کو ہدایت کی کہ تمام جاری ترقیاتی منصوبوں پر کام جلد از جلد مکمل کیاجائے ۔انہوں نے کہاکہ تمام اضلاع کو مزید فنڈز کارکردگی کی بنیاد پر دیے جائیں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر1413/2022
نصیرآباد 31مارچ۔کمشنر نصیرآباد ڈویژن فتح خان خجک نے کہاہےکہ ماہ صیام میں عوام کو سستے داموں اشیاء خوردو نوش کی فراہمی کے لیے یوٹیلٹی اسٹورز اپنا مثبت کردار ادا کریں رمضان المبارک میں آٹا گھی چینی چاول مصالاجات سمیت دیگر اشیاءخوردنوش کے اسٹاک کو ہر صورت یقینی بنایا جائے جن علاقوں میں یوٹیلٹی سٹورز قائم نہیں ہیں وہاں پر موبائل وین کے ذریعے لوگوں کو سرکاری نرخ نامے پر اشیاءخوردونوش کی فراہمی کے لیے اقدامات کو یقینی بنایا جائے ڈپٹی کمشنرز اور تحصیل انتظامیہ یوٹیلٹی اسٹورز کا جائزہ لیں ان خیالات کا اظہار انہوں نے یوٹیلٹی اسٹورز کے آفیسران سے بات چیت کرتے ہوئے کیا اس موقع پر ایڈیشنل کمشنر ظفر ھاشم بلوچ غلام سرور لاشاری سمیت دیگر آفیسران موجود تھے ضلع نصیرآباد جعفرآباد اور صحبت پور سے یوٹیلٹی منیجرز محمد رفیق دایو۔سید ممتاز شاہ اور محمد بخش چھلگری نے اپنے اپنے اضلاع میں یوٹیلٹی سٹور میں اسٹاک کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ان اضلاع کے یوٹیلٹی اسٹورز میں آٹا گھی دالیں چینی چاول موجود ہیں ماہ صیام کے حوالے سے کھجور اور دیگر اشیاءخوردونوش کی ڈیمانڈ بھی کی گئی ہے جبکہ اسٹاک میں تین گنا اضافہ کیا گیا ہے اور روزانہ کی بنیاد پر اشیاءخوردنوش کی سپلائی بھی جاری ہے ضلعی انتظامیہ کی جانب سے لگائے گئے سستا بازار میں یوٹیلٹی اسٹورز کے بھی اسٹالز لگائے جاتے ہیں تاکہ عوام حکومت کی جانب سے دی گئی سبسڈی سے استفادہ حاصل کرسکیں اس وقت یوٹیلٹی اسٹورز پر چینی کی کمی ہے جس کےلیے ہم نے بالا حکام کو ڈیمانڈ کی ہے اس پر کمشنر نصیرآباد ڈویژن فتح خان خجک نے کہاکہ یوٹیلٹی اسٹورز پر اشیاءخوردونوش کی کمی کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا آٹا چینی تیل سمیت دیگر اشیاءخورد و نوش کے اسٹاک میں خاطر خواہ اضافہ کیا جائے ڈویڑنل انتظامیہ بھی تمام یوٹیلٹی اسٹورز میں اشیاءخوردونوش کے اسٹاک میں مزید اضافے کے لئے سیکریٹری انڈسٹریز اور زونل چیف سے رابطے میں ہے ہمارے ان اقدامات کا مقصد صرف عوام کو حکومت کی جانب سے دی جانے والی سبسڈی اور سستے داموں اشیائے خوردو نوش کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے تا کہ دور دراز کے علاقوں کے لوگ بھی حکومتی اقدامات سے فائدہ حاصل کر سکیں انہوں نے کہا کہ ماہ صیام میں عوام کو تمام سہولیات کی فراہمی کے لیے ضلعی اور تحصیل انتظامیہ ہر ممکن اقدامات کو یقینی بنائے اور پرائس کنٹرول کمیٹیوں کو مکمل کیا جائے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر1414/2022
لورالائی31مارچ۔اسسٹنٹ کمشنر بوری جمیل احمد بلوچ کی زیر صدارت لوکل سرٹیفکیٹ کے حصول اور جانج پڑتال پر ایک اجلاس منعقد ہوا اجلاس میں تحصیلدار بوری ثناءاللہ لونی،رسالدار میجر لیویز عبدالطیف جوگیزئی،لوکل کمیٹی کے ممبران اور متعلقہ آفیسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں لوکل سرٹیفکیٹ کی حصول کے لیے درخواستیں جمع کرنے والے مقامی باشندوں کی جانج پڑتال کی گئی، اسسٹنٹ کمشنر بوری جمیل احمد بلوچ نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ لوکل سرٹیفکیٹس کی جانج پڑتال کے بعد مقامی باشندوں کو لوکل سرٹیفکیٹس بناکر دی جائیگی اور ہماری کوشش رہی ہے کہ مقامی لوگوں کو لوکل سرٹیفکیٹس کی حصول کے لیے آسانی ہو اور غیر مقامی افراد کی لوکل سرٹیفکیٹ کی روک تھام اور مقامی لوگوں کی درخواستوں کی جانج پڑتال کرنے میں آسانی ہوں ،تمام دستاویزات مکمل اور کمیٹی اراکین کی دستخط کے بعد لوگوں کو نئے لوکل سر ٹیفکیٹس تیار کرکے دیئے جائیں گے،اسسٹنٹ کمشنر بوری جمیل احمد بلوچ نے تمام لوکل ممبران کو تاکید کی کہ لوکل کی تصدیق کے دوران بڑی احتیاط کے ساتھ چھان بین کیا کریں کیونکہ یہ علاقے کے مقامی باسیوں خواہ جس میں ہر طبقہ سے تعلق رکھتا ہوں مقامی افراد کے حقوق کا مسئلہ ہے ،انہوں نے کہا کہ لوکل سرٹیفکیٹ کے ساتھ علاقے کے رواں نسل اور آپ کے بچوں کا مستقبل وابستہ ہے ان کے حقوق کے اند ر کسی غیر کو شراکت کے مترادف ہے،لوکل کمیٹی کے ممبران لوکل کے تمام عمل صاف اور شفاف طریقے سے پایہ تکمیل تک پہنچائیں لوکل سرٹیفیکٹ کا مسئلہ ایک اہم ترین مسئلہ ہے اس کو جلد از جلدشفاف طریقے سے مکمل کیا جائے ،اس سلسلے میں کوئی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی تاکہ مقامی لوگوں کے ساتھ حق تلفی نہ ہو۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر1415/2022
کوئٹہ 31 مارچ :- کمشنر کوئٹہ ڈویژن سہیل الرحمان بلوچ نے کہا کہ شہر میں غیر قانونی رکشہ چلانے پر مکمل پابندی ہے ایک پرمٹ پر دو یا تین رکشہ چلانے والوں کے خلاف کاروائی عمل میں لائی جائیں شہر میں لوکل بسوں کے مالکان اپنی بسوں کی حالت زار درست کریں اور جو لوکل بسیں خستہ حالت ہیں انہیں جلد از جلد نئی بسوں میں تبدیل کریں تاکہ شہر میں ٹریفک کی روانی کو بہتر بنایا جاسکے اور فضائی آلودگی کو ختم کیا جاسکے ان خیالات کا اظہار انہوں نے غیر قانونی رکشہ، لوکل بسوں اور ٹریفک کے مسائل کے حل کے حوالے سے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا اس موقع پر ڈپٹی کمشنر کوئٹہ عرفان نواز میمن، ایڈیشنل کمشنر کوئٹہ ڈویڑن یاسر خان بازئی، اسسٹنٹ کمشنر پولیٹیکل کوئٹہ ڈویڑن بابر خان بڑیچ، ایس ایس پی ٹریفک کوئٹہ شیر علی، ایس ایس پی آپریشن عبدالحق عمرانی، سیکرٹری آر ٹی اے منظور احمد اور ڈائریکٹر کیو ڈی اے انور شاہ بھی موجود تھے اجلاس سے کمشنر کوئٹہ ڈویڑن سہیل الرحمن بلوچ نے سیکرٹری آر ٹی اے اور ایس ایس پی ٹریفک کو ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ رکشوں کے کمپیوٹرائزیشن کے عمل کو جلد از جلد مکمل کیا جائے تاکہ عوام، رکشہ مالکان اور ٹریفک پولیس کو سہولیات مل سکیں اور شہر سے غیر قانونی دو نمبر اور ڈبل پرمٹ پر چلنے والی رکشوں کا خاتمہ ممکن ہو سکے انہوں نے کہا کہ تمام رکشوں کے مالکان کو پابند بنایا جائے کہ رکشہ چلاتے وقت اپنا اصل روٹ پرمٹ، لائسنس اور دیگر دستاویزات اپنے ہمراہ رکھیں تاکہ دوران چیکنگ ٹریفک پولیس اور ڈرائیور کو کسی بھی قسم کی مشکلات یا پریشانی کا سامنا نہ ہو دوران چیکنگ رکشہ ڈرائیور اصل دستاویزات نہ رکھنے پر یا نہ دکھانے چالان کرکے بند کر دیا جائے گا کمشنر کوئٹہ ڈویڑن نے کہا کہ لوکل بسوں کے مالکان اپنی پرانی بسوں کی حالت زار درست کریں یا پرانی اور خستہ حال بسوں کو نئی بسوں میں تبدیل کریں تاکہ شہر میں آلودگی اور ٹریفک کے مسائل میں کمی آسکیں انہوں نے کہا کہ شہر میں لوکل بسوں کی جگہ کا تعین پہلے ہی ہو چکا ہے اور ہزارگنجی والی لوکل بسوں کے لیے بھی جگہ کا تعین محکمہ کیو ڈی اے کے تعاون سے کردیا گیا ہے  اور بہت جلد ہی منتقل کر دیا جائے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Post comment