خبرنامہ نمبر1991/2022
سبی 18 مئی ۔ڈپٹی کمشنر سبی منصور احمد قاضی کی زیر صدارت محکمہ زراعت سے متعلق اجلاس منعقد ہوا۔ جس میں محکمہ زراعت کو درپیش مسائل کارکردگی اور خصوصا یوریا کھاد کے حوالے سے مختلف امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اجلاس میں میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر وحید شریف عمرانی ، ڈپٹی ڈائریکٹر زراعت آو ایف ڈبلیو ایم ڈاکٹر فضل قریشی، ڈپٹی ڈائریکٹر زراعت سوئل فرٹیلٹی شیر محمد اور دیگر افسران شریک تھے ڈپٹی کمشنر سبی منصور احمد قاضی نے خطاب کرتے ہوے کہا کہ یوریا کھاد کی غیرقانونی سمگلنگ اور سرکاری نرخ سے زائد یوریا کی فروخت برداشت نہیں کی جائے گی ایسے عناصر کے خلاف قانونی کاروائی عمل میں لا کر کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا انہوں نے کہا کہ ڈیلرز یوریا کھاد کی طلب کو مد نظر رکھتے ہوے کم از کم دو مہینے پہلے یوریا کمپنیز کو ڈیمانڈ بھیج دیں تاکہ زمینداروں کو کسی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے اور ڈیلرز کی خرید و فروخت پر مانیٹرنگ کے عمل کو تیز کیا جائے انہوں نے کہا کہ محکمہ زراعت و آبپاشی اہمیت کے حامل محکمے ہیں کیونکہ پاکستان کی 70 فیصد معیشت کا انحصار زراعت پر ہے علاوہ ازیں ڈپٹی کمشنر سبی سے ورلڈ بینک کے وفد نے بھی ملاقات کی ورلڈ بینک کے تعاون سے جو واٹر سپلائی لائن ترقیاتی منصوبے جاری ہیں پر بریفنگ دی گئی انہوں نے کہا کہ جو بھی مسائل ہیں فوری طور پر حل کیئے جائیں گے انہوں نے ترقیاتی منصوبوں کو مقررہ مدت کے اندر مکمل کرنے کی ہدایت کی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر1992/2022
کوئٹہ 18مئی۔بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی آغا حسن بلوچ نے آج یہاں کوئٹہ میں کلیوں لعل آباد ،کلی حبیب،کلی یار محمد محمدحسنی اور ھزارگنجی کا دورہ کیا اس موقع چئیرمین حاجی عبدالکریم محمدحسنی ،عبید محمد حسنی ،ٹکری محمد حمزہ محمدحسنی و دیگر بھی موجود تھے۔اس موقع پر چئیرمین عبدالکریم محمد حسنی نے وفاقی وزیر کو علاقہ کے مسائل اور لوگوں کو درپیش مشکلات کے حوالے سے آگاہ کیا۔اس موقع پر مختلف گلیوں اور سکولوں میں سہولیات کا معائنہ کرایا گیا۔جہاں ترقیاتی کاموں اور نالیاں نہ ہونے کی وجہ سے لوگوں کو مشکلات کا سامنا ہے جبکہ سکول میں سہولیات کی عدم دستیابی کے حوالے سے بھی آگاہ کیا گیا۔وفاقی وزیرآغا احسن بلوچ نے کہا کہ ہزار گنجی اور ملحقہ علاقوں کے عوام کے دیرینہ مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کئے جائیں گے۔ علاقہ کے سکول میں بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے ہرممکن اقدامات کئے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ علاقہ میں ترقیاتی کاموں کے لئے جلد اقدامات کئے جائیں گے تاکہ لوگوں کی مشکلات کم ہوسکیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر1993/2022
سبی 18 مئی۔ڈائریکٹر ہیلتھ سروسز سبی ڈویژن ڈاکٹر ضیاءالدین نے سول اسپتال کا دورہ کیا اور اسپتال کے مختلف شعبوں کا معائینہ کیا اسپتال کے میڈیکل سپر یٹنڈنٹ نے انہیں اسپتال کی کارکردگی اور مسائل سے آگاہ کیا ڈائریکٹر صحت نے اسپتال میں داخل مریضوں کی عیادت کی اور ان سے فراہم کی جانے والی صحت کی سہولیات کے بارے میں دریافت کیا انہوں نے ادویات کے سٹور کا معائینہ کیا اور طبی عملے سے بھی ملاقات کرتے ہوئے انہیں عوام کو علاج معالجہ کی بہترین سہولتوں کی فراہمی کی ہدایت کی انہوں نے کہا کہ غریب عوام کی خدمت ڈاکٹروں اور طبی عملہ کی بنیادی زمہ داری ہے جس میں کسی طور کوتاہی نہیں کی جاسکتی ہے انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر اور طبی عملہ اپنی حاضری کو یقینی بنائیں ڈائریکٹر صحت نے یقین دلایا کہ اسپتال اور عملہ کو درپیش مسائل کے حل کے لئے ہر ممکن کوشش کی جائے گی اور وہ سیکریٹری صحت کو اس حوالے سے بریفنگ دینگے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر1994/2022
کوئٹہ 18 مئی :- کمشنر کوئٹہ ڈویژن سہیل الرحمن بلوچ نے کہا کہ کوئٹہ بلاک پولیو کی صورت حال کے حوالے سے انتہائی حساس ہے لہذا 23 مئی سے شروع ہونے والی سات روزہ پولیو مہم کو کامیابی سے ہمکنار کرانے کیلئے تمام اسٹیک ہولڈرزباہمی تعاون اور جامع منصوبہ بندی کے تحت کام کریں، دور دراز اور دشوار گزار علاقوں میں ٹیموں کی رسائی کو ممکن بنانے کیلئے جامع حکمت عملی بنائی جائے تاکہ کوئٹہ بلاک میں تمام بچوں تک حفاظتی قطروں کی باآسانی رسائی ممکن ہوسکے۔ پولیو کے حوالے سے حساس یونین کونسلوں پر خصوصی توجہ مرکوز کی جائے اور ٹیموں کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لئے مانیٹرنگ اور سکیورٹی کے نظام کو فل پروف بنایا جائے ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ بلاک میں 23 مئی سے شروع ہونے والی انسداد پولیو مہم کے انتظامات اور دیگر امور کے حوالے سے بریفنگ کے موقع پر شرکاءسے بات چیت کرتے ہوئے کیا اس موقع پرڈپٹی کمشنر کوئٹہ شہک بلوچ، ڈی آئی جی کوئٹہ فدا حسین، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر کوئٹہ ڈویژن یاسر خان بازئی، ڈی ایچ اوز، عالمی ادارہ صحت، یونیسیف، ای پی آئی، پی پی ایچ آئی کے افسران بھی موجود تھے کمشنر کوئٹہ ڈویژن نے کہا کہ 23مئی سے شروع ہونے والی پولیو مہم کے حوالے سے کوئٹہ بلاک میں حساس یونین کونسلوں میں بچوں تک قطروں کی رسائی کو ممکن بناتے ہوئے ٹیموں کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے تاکہ مہم کے دوران کوئی بھی ایک بچہ حفاظتی قطرے پینے سے محروم نہ رہے انہوں نے کہا کہ کوئٹہ بلاک کے سرحدی علاقوں میں لوگوں کی آمدورفت کے دوران ہرآنے جانے والے بچوں کو پولیو کے حفاظتی قطرے ضرور پلائے جائیں جبکہ سرحدی اضلاع میں تمام افراد مرد خواتین اور بچوں کو حفاظتی قطرے پلانے کے لیے خصوصی ٹیمیں تعینات کیے جائیں تاکہ ہمسایہ ممالک سے وائرس داخل نہ ہوسکے۔اس موقع پر کمشنر کوئٹہ ڈویژن کو کوئٹہ بلاک میں پولیو کی مجموعی صورتحال اور کارکردگی کے حوالے سے پولیو ایمرجنسی آپریشن سینٹر کوئٹہ میں کوارڈینیٹر ایمرجنسی آپریشن حمیداللہ ناصر نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پولیو کے خاتمے کے سلسلے میں پچھلے 15 ماہ سے اب تک صوبے اور کوئٹہ بلاک میں کوئی کیس رپورٹ نہیں ہواہے جس پر کمشنر کوئٹہ ڈویژن نے تمام ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسران اور ڈپٹی کمشنرز کی خدمات اور کارکردگی کو سراہا انہوں نے متعلقہ آفیسران کو ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ دوران مہم رہ جانے والے بچوں پر خصوصی توجہ دے کر انہیں ہر صورت پولیو کے قطرے پلائے جائیں جبکہ ٹیموں کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لئے مانیٹرنگ اور سکیورٹی کے نظام کو سخت اور فل پروف بنایا جائے-انہوں نے مزید کہا کہ اپنے معاشرے اور صوبے سے پولیو کا مکمل خاتمہ بے حد ضروری ہے کیونکہ پولیو ہماری نئی نسل کو شکار بناکر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے معذور بنا سکتی ہے لہذا انسداد پولیو مہم میں والدین سمیت اساتذہ،علماءکرام اور دیگر افراد کااپنا بھر پور تعاون ضروری ہے۔تب جاکر ہم پولیو کو شکست دے سکتے ہیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر1995/2022
قلات 18مئی۔ ڈپٹی کمشنر قلات کیپٹن(ر)مہراللہ بادینی نے کہا ہے کہ دور دراز علاقوں میں عوام کی صحت سے متعلق سہولیات کی فراہمی کے لیے ہر ممکن اقدامات کئے جارہے ہیں۔ہسپتالوں میں غریب مریضوں کی علاج و معالجے اور ادویات کی دستیابی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔ بنیادی مراکز صحت کو مکمل طور پر فعال کرکے دور دراز علاقوں کے عوام کو صحت سے متعلق سہولیات ادویات اور ایمرجنسی سہولت فراہم کررہے ہیں تاکہ عوام کو انکی دہلیز پر صحت کی سہولیات بہم مل سکے۔انہوں نے کہا کہ ہسپتالوں اور بنیادی مراکز صحت کی حالت زار کو بہتر بنانے،ڈاکٹروں اور طبی عملے کی تعیناتی اور موجودگی کو ہرصورت یقینی بنایا جائے گا تاکہ عوام کو علاج معالجے سے متعلق مشکلات کا خاتمہ کیا جاسکے۔ اس کے علاوہ ادویات اور طبی آلات کی فراہمی سے صحت سے متعلق مسائل میں کمی واقع ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر اسپتال میں جدید طبی آلات کی فراہمی اوردیگر سہولیات فراہم کرنے سے صحت اور علاج معالجے سے متعلق لوگوں کے مسائل حل ہونے میں مدد ملے گی انہوں نے کہا کہ دکھی انسانیت کی خدمت میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جائے گی اور  عوامی مفاد میں ایسی پالیسیاں اور فیصلے کیے جائیں گے جن سے عوام کے معیار زندگی بہتر اور ان کے دیرینہ مسائل حل ہو سکیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر1996/2022
کوئٹہ 18 مئی ۔ صوبائی محتسب بلوچستان نذر محمد بلوچ نے کہا ہے کہ شعبہ طب سے وابستہ ڈاکٹرز اور دیگر طبی عملہ عوام کو علاج و معالجہ کی سہولیات فراہم کرنے کیلئے اپنے پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے کوششیں تیز کریں گے تو کوئی وجہ نہیں کہ کوئٹہ شہر کے لوگوں کو باہر کسی علاقے میں علاج کروانے کی ضرورت محسوس ہو ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز سول ہسپتال کوئٹہ کے دورہ کے موقع پر ہسپتال میں موجود طبی عملے اور متعلقہ لوگوں سے بات کرتے ہوئے کیا, صوبائی محتسب نے کہا کہ سرکاری ہسپتالوں میں عوام کو مفت علاج کے لیے خطیر رقم خرچ کی جارہی ہے لیکن بعض علاقوں کے متعلق شکایات موصول ہو رہی ہیں کہ وہاں مریضوں کے علاج میں غفلت اور لاپرواہی کا مظاہرہ کیا جاتا ہے, انہوں نے اس ضمن میں برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسے عناصر کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی, دریں اثنائ صوبائی محتسب نے ہسپتال کے مختلف شعبوں اور ہسپتال میں ہونے والے تعمیراتی کام جن میں وارڈز کی تعمیر و مرمت اور ٹیوب ویل کا معائنہ کیا اور مریضوں کی عیادت بھی کی, ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل اسٹاف نے صوبائی محتسب کو درپیش مسائل جس میں بعض ڈاکٹرز جنہوں نے ٹرانسفر ہونے کے باوجود اپنے گھر اور دفاتر کو خالی نہیں کیا ان سے واگزار کروانے کی درخواست کی, صوبائی محتسب نے یقین دہانی کرائی کہ وہ ان مسائل کے حل کیلئے محکمہ صحت کے متعلقہ حکام سے بات کریں گے جبکہ انہوں نے احکامات جاری کرتے ہوئے ہسپتال انتظامیہ کو ہدایت کہ ٹرانسفر ہوئے ڈاکٹروں سے گھر اور دفاتر فوری طور پر خالی کروالیے جائیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Post comment