خبرنامہ نمبر1915/2022
کوئٹہ 11 مئی۔وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے ڈیرہ بگٹی کے علاقے پیر کوہ میں پانی کی عدم دستیابی کا کا نوٹس لیتے ہوئے محکمہ پی ایچ ای اور کمشنر سبی ڈویژن کو ہنگامی بنیادوں پر پانی کے بحران سے نمٹنے کی ہدایت کی ہے وزیراعلیٰ کی ہدایت پر محکمہ پی ایچ ای کو پانی کی فراہمی کے لیے 10 ملین روپے کے خصوصی فنڈز کا اجراءکر دیا گیا ہے جبکہ محکمہ پی ایچ ای کی جانب سے ٹینکروں کے زریعہ علاقوں مکینوں کو پانی کی فراہمی کا آغاز کر دیا گیا ہے وزیراعلیٰ نے ہدایت کی ہے کہ مون سون کی بارشوں کے آغاز اور پانی کے ذخائر میں اضافے تک ٹینکروں کے زریعہ پانی کی فراہمی جاری رکھی جائے اور کمشنر سبی ڈویژن پانی کے بحران کے حل کے لیے جاری اقدامات کی نگرانی کریں وزیراعلیٰ نے سیکریٹری صحت کو میڈیکل ٹیمیں پیر کوہ بھجوا نے کی ہدایت بھی کی تاکہ علاقے میں وبائی امراض کی روک تھام کے لیے موثر اقدامات کیئے جا سکیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر1916/2022
پشین 11مئی ؛۔ڈپٹی کمشنرظفرعلی محمدشہی کی قیادت میں افواج پاکستان سے یکجہتی اورہمدردی و دیگر ریاستی اداروں کے وقار و کردار پر مکمل اعتماد کو قائم و دائم رکھنے کا شعور بیدار کرنے جبکہ سیاسی اختلافات و ذاتی مفادات کے لیے ریاست کی فوج کو بے بنیاد گھسیٹنے کے خلاف ریلی کا انعقاد کیاگیا منعقدہ ریلی میں ضلعی انتظامیہ،محکمہ جات کے ضلعی آفسران،اساتذہ کرام سیاسی عمائدین،سول سوسائٹی،انجمن تاجران کے نمائندوں سمیت مختلف مکاتب فکرسے تعلق رکھنے والے افراد اور عوام الناس نے بڑی تعداد میں شرکت کی ریلی ڈپٹی کمشنر کمپلیکس سے شروع ہوئی اور شہرکےمختلف شاہراہوں سے ہوتی ہوئی واپس ڈپٹی کمشنر کمپلیکس میں اختتام پزیر ہوئی اس موقع پر ریلی کے شرکاء نے بینرز اور پلے کارڈ اٹھارکھے تھےجس پر پاک فوج سے اظہار یکجہتی اورمکمل اعتماد جبکہ ملک میں حالیہ جاری سیاسی اختلافات میں فوج کو گھسیٹنے کے خلاف نعرے درج تھے ریلی کے شرکاءسے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر ظفرعلی محمدشہی نے کہا کہ اس ریلی کامقصد ریاستی اداروں اور عوام کے مابین قائم اعتماد کو مزیدتقویت دینا،موجودہ ملکی سیاسی صورتحال میں پاک فوج کو گھسیٹنے کے خلاف جبکہ اس دوران مابین میں پیدا ہونے والی خلاء کو پر کرنا ہے انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ ہم اپنی قومی سلامتی اور قومی سلامتی کے اداروں کی حفاظت کیسے کرسکتے ہیں یہ صورتحال اس وقت تک بہتر نہیں ہوسکتی جب تک ہم سب مل کر اس چیلنج کامقابلہ کرنے کےلیے امادہ اور متحد نہیں ہوجاتے ظفر محمد شہی نے کہا کہ ملکی سلامتی اور دفاع کی خاطر ضروری ہے کہ ہم بحیثیت ایک باشعور،متحد و متفق،ترقی پسند قوم کھڑے ہوجائیں اور دنیا پر ثابت کردیں کہ ہم اعلی اقدار کی حامل ایک معزز اور منظم قوم ہیں تاہم اس عہد کی بھی ضرورت ہے کہ ملکی سلامتی کے اداروں کو سیاسی اختلافات میں گھسیٹنے سے اجتناب کیا جائے کیونکہ یہ ملکی اداروں کے شانہ بشانہ چلتے ہوئے ہی پیارے وطن کی ترقی ممکن بنائی جا سکتی ہے،ماضی میں بھی اداروں کو سیاست اورذاتی مفادات کی خاطر گھسیٹا گیا جس کا ریاست کوناقابل تلافی نقصان اٹھانا پڑا،تاہم ماضی کی ان غلطیوں میں ہم سب حصہ دار ہیں اب اشد ضروری ہےکہ ہم ماضی سے سبق سیکھیں،حال کی تعمیر کریں اور مستقبل پر نظررکھیں ڈی،سی محمد شہی نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ ہم بحیثیت ایک قوم یہ ثابت کریں کہ ہم اعلی اقدار کی حامل،آئین وقانون کے پاسدار،ملکی اداروں کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی ایک مضبوط اور زندہ قوم ہیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر1917/2022
گودار11مئی ؛۔بلوچستان کوسٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل محبوب دشتی نے کہا ہے کہ بی سی ڈی اے بلوچستان کے ساحلی علاقوں کی ترقی و معاشی خوشحالی کے لئے ہمہ وقت کوشاں ہے۔ اس سلسلے میں مختلف پروجیکٹس کی منصوبہ بندی کی گئی ہے اور کچھ منصوبے گوادر اور لسبیلہ کے مختلف ساحلی مقامات میں تکمیل کے آخری مراحل میں ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بی سی ڈی اے کے جاری ترقیاتی منصوبوں کے جائزہ اجلاس کی صدارت کے دوران بات چیت کرتے ہوئے کیا ۔ انہوں نے کہاکہ حکومت بلوچستان ساحلی علاقوں کی ترقی کے لئے خصوصی دلچسپی لے رہی ہے اور اس ضمن میں بی سی ڈی اے کی زیر نگرانی مختلف ترقیاتی منصوبوں پر کام تیزی سے جاری ہے۔ ان منصوبوں میں ایکو ٹوارزم ریزورٹس، بیچ پارکس، فلوٹنگ جیٹیز، ساحلی پودوں کی افزائش و نمود کی نرسری اور ریسٹ ایریاز کی تعمیر و ترقی شامل ہیں جو ساحل بلوچستان کے مختلف مقامات پر زیر تکمیل ہیں۔ اور ساتھ ہی ساحلی پٹی کی مربوط انتظام کاری کے لئے کوسٹل ماسٹر پلاننگ کے منصوبے بھی شامل ہیں۔ بی سی ڈی اے کی زیر نگرانی جاری ان منصوبوں کی تکمیل سے سیاحت سمیت معاشی سرگرمیوں میں اضافہ ھوگا اور مقامی لوگوں کے لئے روزگار کے نئے مواقع میسر ھونے کے ساتھ ساتھ ان کا معیار زندگی بلند ہوگا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر1918/2022
چمن11مئی۔ ڈپٹی کمشنر چمن کیپٹن (ر) جمعہ داد خان مندوخیل کی زیر صدارت بلدیاتی انتخابات میں سرکاری ملازمین کو اپنے جائے تعیناتی پر حاضر رہنے کے حوالے سے اجلاس منعقد ہوا جس میں تمام محکموں کے ضلعی سربراہان اور متعلقہ حکام نے شرکت کی۔ ڈپٹی کمشنر نے تمام ڈسٹرکٹ ہیڈز کو اپنے عملے کو آنے والے بلدیاتی الیکشن کی ڈیوٹی کے لئے حاضری کو یقینی بنانے کی ہدایت کی۔ جوکہ 29مئی کو بلدیاتی انتخابات ہوں گے۔ نیز اس عرصے کے دوران چھٹی کی کوئی درخواست قبول نہیں کیجائے گی۔ انہوں نے انتخابات کے دوران غیر حاضر رہنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی بھی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت بلدیاتی الیکشن کے سلسلے میں الیکشن کمیشن آف پاکستان کو آزادانہ، منصفانہ غیرجانبدارانہ، طریقے سے انتخابات کرانے کے لیے تمام دستیاب وسائل فراہم کرے گی۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ بلوچستان کی ہدایت کی روشنی میں الیکشن کمیشن کی معاونت اور مدد سے صوبے میں آزادانہ اور شفاف بلدیاتی انتخابات کے لیے تمام ضروری انتظامات اور اقدامات اٹھائیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر1919/2022
کوئٹہ 11مئی ۔ صوبائی محتسب بلوچستان نذر محمد بلوچ کی ہدایت پر خضدار کے رہائشی ممتاز احمد کو بطور معلم القرآن محکمہ تعلیم میں تعینات کردیا گیا,  صوبائی محتسب بلوچستان کے ترجمان کے مطابق خضدار کے رہائشی ممتاز احمد نے صوبائی  محتسب کو درخواست دی تھی کہ انہوں نے CTSP کے تحت  میونسپل کمیٹی تحصیل وڈھ ضلع خضدار سے معلم القرآن کے عہدہ کیلئے لیے گئے ٹیسٹ میں 69 نمبر حاصل کے کرلیے تھے بعد ازاں محکمہ تعلیم کے متعلقہ حکام نے میونسپل کمیٹی کے لسٹ سے ان کے نام کو نکال لیا اور ان کی جگہ  اس امیدوار کے نام کو لسٹ میں ڈال دیا گیا جس نے 59 نمبر حاصل کیے تھے, لہذا اس ضمن میں اس کی داد رسی کی جائے , صوبائی محتسب کے احکامات کی روشنی میں انویسٹگیشن آفیسر نور اللہ خان کاکڑ نے نوٹس جاری کرتے ہوئے ڈی ای او خضدار سے اس حوالے سے وضاحت طلب کی,  بعدازاں ڈی ای او خضدار نے اپنے تحریری جواب میں محتسب سیکرٹریٹ کو آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ میونسپل کمیٹی وڈھ سے معلم القرآن کے عہدہ کیلئے  کامیاب امیدوار نور احمد کے میونسپل کمیٹی وڈھ کی بجائے یونین کونسل بادری کا لوکل سرٹیفکیٹ ہونے کی وجہ سے DRC  نے اسے مسترد کردیا ہے, دریں اثناء CRC کے فیصلے کی روشنی میں درخواست گذار ممتاز احمد کو اوپن میرٹ پر آنے اور میونسپل کمیٹی وڈھ کا لوکل ہونے کی وجہ سے وڈھ میں کسی بھی خالی پوسٹ پر تعیناتی کے لئے سفارش کی گئی ہے۔ بعدازاں ممتاز احمد نے اپنی شکایت کے ازالے پر صوبائی محتسب کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ محتسب ادارے کی کاوشوں کی بدولت انہیں بطور معلم القرآن تعیناتی کے آرڈرز موصول ہوئے ہیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر1920/2022
کوئٹہ 11مئی:- ڈپٹی کمشنر کوئٹہ شہک بلوچ نے گورنمنٹ گرلز مڈل اسکول مشن روڈ اور گورنمنٹ سنڈیمن بوائز ہائی اسکول کا اچانک دورہ کیا اس موقع پر ڈپٹی کمشنر کوئٹہ نے اسکولوں کے مختلف حصّوں اور سیکشز میں موجود سہولیات اور دیگر مسائل کا حوالے سے بھی تفصیلی جائزہ لیا۔جبکہ طلباء وطالبات سے کلاس رومز میں جاکر مختلف سولات کئے اور اساتذہ کو حاضری یقینی بنانے اور بچوں کی تعلیم پر خصوصی توجہ دینے کی ہدایت کی۔اس دوران ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل خلیل مراد ،ڈی او کوئٹہ شبیر لانگو ، ہیڈماسٹر گورنمنٹ سنڈیمن ہائی سکول اور ہیڈ مسٹریس گورنمنٹ گرلز مڈل سکول مشن روڈ بھی موجود تھے۔اسکولوں کے دورے کے موقع پر ڈپٹی کمشنر کوئٹہ نے سکولوں میں اساتذہ اور طلباءکی حاضری ،صفائی ستھرائی،عمارتوں کی مرمت ،رنگ روغن اور دیگر انتظامات کا بھی جائزہ لیا۔انہوں نے مختلف کلاس رومز میں جاکر طلباءسے تعلیم سے متعلقہ مسائل کے حوالے سے بھی دریافت کیا جبکہ سکولوں کی انتظامیہ کو سکول کی بہتری اور تعلیمی ماحول کے حوالے سے ضروری ہدایات بھی جاری کئے۔ انہوں نے کہا کہ اسکولوں میں تعلیمی معیار کو بہتر بنانے کے لیے اساتذہ اپنی حاضری یقینی بنائیں اس حوالے سے کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اورغیر حاضر اساتذہ کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی انہوں نے اسکولوں کی بلڈنگزکا بھی جائزہ لیا جبکہ اسکولوں میں کی مرمت اور رنگ و روغن کے حوالے سے سیکرٹری ایجوکیشن سے رابطہ کرنے کی یقین دھانی کرائی۔ انہوں نے اسسٹنٹ کمشنر سٹی کوئٹہ کو سختی سے ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ اسکولوں کے سامنے تجاوزات کے خاتمے کے حوالے سے فوری اقدامات اٹھاتے ہوئے اسکولوں کی جگہ خالی کرائی جائیں۔انھوں نے کہا کہ وہ اسکولوں کے تعلیمی معیار کو بہتر بنانے اوراسکولوں میں درپیش مسائل کے حوالے سے وقتا فوقتا دورہ کرتا رہونگا انہوں نے کہاکہ عصری تعلیمی تقاضوں کے بغیر کوئی بھی معاشرہ ترقی کی منازل طے نہیں کر سکتا۔ انہوں نے اساتذہ پر واضح کیا کہ تعلیم ایک ایسا عمل ہے جس کے ذریعے ایک فرد اور قوم کو آگاہی حاصل ہوتی ہے اور قوم کو تشکیل دینے والے افراد کے احساس و شعور کو بیدار کرنے میں مدد ملتی ہے انہوں نے اساتذہ کو ہدایت کی کہ حکومتی ہدایت کے مطابق طلباءکو تعلیم دی جائے اور تعلیم کے ساتھ ساتھ ان کی بھرپور رہنمائی کر کے ان کو اچھا شہری بنایا میں اپنا کردار ادا کریں۔

﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر1921/2022
خضدار:11 مئی / خضدار سے گندم باہر لیجانے پر پابندی عائد، خلاف ورزی کی صورت میں گندم ضبط اورحوالہ محکمہ فوڈ یا گندم ڈیلرز کے حوالے کیا جائیگا۔خضدار کے عوام کی ضرورت کو مقدم رکھنا اور اسے پوری کرنا ضلعی انتظامیہ کی اوّلین ترجیح ہے۔ عوامی مطالبے پر ڈپٹی کمشنر خضدار کا نوٹس اوراسسٹنٹ کمشنرز و خضدار کے داخلی راستوں پر متعین تمام لیویز اہلکار روں کو ہدایات گندم کی نقل و حمل روکنے کی تاکید۔سرکاری طور پر گندم کی نرخ فی بوری 5500روپے مقرر ہے زمیندار مقامی ڈیلرز یا عوام الناس کو اسی نرخ پر گندم فروخت کریں گے، خضدار میں رواں سال ایک لاکھ دس ہزار ایکڑ پر گندم کاشت اور پیدوار تخمینہ 27لاکھ 50ہزار ٹن ہے گندم کی یہ مقدار خضدار کی آبادی کے لئے ناکافی ہے اس لیئے گندم کی سمگلنگ پر مکمل پابندی عائد اور گندم سمگلرز سے کوئی نرمی و رعایت نہیں برتی جائیگی۔ ڈپٹی کمشنرخضدار میجر(ر) محمد الیاس کبزئی کی زیر صدارت گندم کی ترسیل و گندم کی انسداد سمگلنگ کے حوالے سے اہم اجلاس و اہم فیصلے۔ انجمن تاجران خضدار گندم ڈیلرز اور محکمہ ایگریکلچرل و محکمہ فوڈ کے ساتھ ڈپٹی کمشنر خضدار کا مشترکہ اجلاس شہر سے باہر گندم لیجانے پابندی عائد۔گندم سمگلنگ کوہرصورت میں روکنے و خضدار میں عوام الناس کو مناسب قیمت پر گندم کی فراہمی اور ضلع میں گندم کی کھپت دور کرنے کے فیصلے پر عملدرآمد پر اتفاق۔ اجلاس میں انجمن تاجران خضدار کے صدر حافظ حمید اللہ مینگل جنرل سیکریٹری بشیراحمد جتک محکمہ ایگریکلچر آفیسرز ذوالفقار شاہ نادر مسیح اور گندم ڈیلرز عزیز اللہ و غلام سرور نے شرکت کی۔ اجلاس میں سینئر سپرنٹنڈ ڈی سی آفس مراد گزوزئی بھی موجو دتھے۔ اجلاس میں محکمہ ایگریکلچرل آفیسر زنے ڈپٹی کمشنر خضدار کو بریفنگ دی کہ رواں سال خضدار میں ایک لاکھ دس ہزار ایکڑ پر گندم کی فصل کاشت کی گئی ہے جس سے گندم کی پیداور کا تخمینہ 27لاکھ 50ہزا رٹن لگایا گیا ہے جب کہ ضلع میں بارشیں نہ ہونے اور خشک سالی کی وجہ سے بارش کے پانی سے سیراب ہونے والی زمینوں پر گندم کی فصل کاشت نہیں کی جاسکی ہے۔ خضدار کی آباد ی کے لحاظ سے یہاں کے عوام کے لئے گندم کی پیداوار ناکافی ہے بلکہ خضدار کے عوام کو مذید گندم کی ضرورت پڑے گی۔انجمن تاجران خضدا رکے صدر حافظ حمید اللہ مینگل اور بشیراحمد جتک نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ خضدار سے باہر گندم کی سمگلنگ روکنے کیلئے انتظامیہ جو بھی اقدامات کریگی ہم ان کے شانہ بشانہ ہونگے اور اس کے کسی بھی فیصلے سے متفق ہیں۔ ڈپٹی کمشنر خضدا رمیجر ریٹائرڈ محمد الیاس کبزئی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ضلعی انتظامیہ نے فیصلہ کرلیا ہے کہ خضدار سے گندم باہر لیجانے پر ہر صورت میں پابندی ہوگی اس سلسلے میں ضلع کے تمام اسسٹنٹ کمشنرز اور چیک پوسٹس پر تعینات لیویز اہلکاروں کو سختی کے ساتھ تاکید کی گئی ہے کہ وہ گندم کے ایک کلو تک بھی باہر لیجانے کی اجازت نہیں دیں گے۔ گندم سمگلنگ میں ملوث افراد کو متنہ کرنا چاہتے ہیں کہ وہ چند پیسوں کی لالچ میں خضدار کے عوام کے منہ سے روٹی کا نوالہ چھین نے کی بجائے یہاں کہ عوام کی ضروریات کو مد نظر رکھیں اگر خضدار سے گندم سمگلنگ کرتے ہوئے گندم کی بوریاں پکڑی گئیں تو وہ محکمہ فوڈ یا خضدار کے مقامی ڈیلرز کے حوالے کرکے انہیں ڈسٹرکٹ کے اندر فروخت کے لئے پیش کیا جائیگا۔ ڈپٹی کمشنر خضدا رمیجر ریٹائرڈ محمد الیاس کبزئی نے کہاکہ خضدار میں رواں سال گندم کی جتنی پیداوار ہوئی ہے وہ یہاں کے عوام کی ضرورت کے لئے ناکافی ہے چونکہ خضدار قومی شاہراہ پر واقعہ ہے اور یہاں سے روزانہ ہزاروں مسافر گزرتے ہیں وہ بھی خضدار کی روٹی کھارہے ہوتے ہیں اس صورت میں خضدار میں گندم کی مذید ضرورت پڑ سکتی ہے اس لئے خضدار سے گندم لیجانے پر ہر صورت میں پابندی عائد ہوگی اس سلسلے میں انجمن تاجران او رخضدار کے عوام ضلعی انتظامیہ کے ساتھ تعاون کریں گے تاکہ ہم مشترکہ طور پر گندم کی سمگلنگ کو روک سکیں۔اجلاس میں انہوں نے کہاکہ گند م کی سرکاری ریٹ 5500روپے ہے زمیندار عام شہری یا ڈیلرز کو اسی رویٹ پر گندم فروخت کرسکتے ہیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر1922/2022
لسبیلہ 11مئی۔لسبیلہ یونیورسٹی آف ایگریکلچر واٹر اینڈ میرین سائنسز اوتھل میں نیشنل فری لانس ٹریننگ پروگرام کے تحت زیر تربیت طلبہ و طالبات کے ٹریننگ کی تکمیل پر تقسیم اسناد کے حوالے سے پروگرام کا انعقاد کیا گیا۔ جس میں وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر دوست محمد بلوچ ،فری لانس ٹریننگ پروگرام بلوچستان اور گلگت بلتستان ریجن کے ہیڈ محمد مامون حامد، سندھ ریجن کے ہیڈ ریشم جمشید سمیت دیگر نے خطاب کیا۔ اس موقع پر پرو وائس چانسلر ،فیکلٹی آف منیجمنٹ اینڈ سوشل سائنسز کے ڈین ڈاکٹر حسین بخش مگسی، کوالٹی انہانسمنٹ سیل کے ڈائریکٹر ڈاکٹر عمران رشید،این ایف ٹی پی کے فوکل پرسن ڈاکٹر سجاد حسین لانگو اور پبلک ریلیشنز آفیسر عبدالوحید گچکی سمیت ٹریننگ حاصل کرنے والے طلبہ و طالبات موجود تھے۔ پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر دوست محمد بلوچ نے کہا کہ لسبیلہ یونیورسٹی طلبہ و طالبات کو پڑھائی کے ساتھ ساتھ ٹیکنیکل ٹریننگ و دیگر ایسے پروگرام سے مستفید کرانے کے لیے کوشاں ہے جس کے ثمرات براہ راست طلبہ و طالبات کو ملیں۔انہوں نے کہا کہ لسبیلہ یونیورسٹی میں این ایف ٹی پی شروع کرنے کا مقصد طلبہ و طالبات کو ٹیکنالوجی کے اس دور میں جدید طرز بزنس میں آن لائن کاروبار شروع کرنا اور ان کو اس میں مقام دلانا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ آج کے اس جدید دور میں گھر میں بیٹھ کر آن لائن کام کرنے کے لئے آسانیاں پیدا ہوگئی ہیں ان سے فائدہ اٹھانا ترجیحات میں ہونی چاہیے۔ پروگرام میں مختلف انسٹرکٹرز نے فری لانس ٹریننگ کے حوالے سے شرکائ میں اپنے کام، ٹریننگ اور ارننگ کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس پروگرام کے تحت پڑھائی کے ساتھ ساتھ اپنا آن لائن کاروبار کیا جا سکتا ہے جو کہ طلبہ و طالبات کے لیے ایک آمدن کا ذریعہ بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس پروگرام سے مستفید ہوکر ہم نے آن لائن کام کا آغاز کر دیا ہے جو کہ انتہائی مثبت قدم اور ہمیں دہلیز پر فراہم کر دی گئی ہیں۔پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے این ایف ٹی پی بلوچستان اور گلگت بلتستان کے ہیڈ محمد مامون حامد نے کہا کہ وزارت انفارمیشن اینڈ ٹیکنالوجی کے زیراہتمام پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کے معاونت سے فری لانس ٹریننگ پروگرام کو بہتر انداز میں آپریٹ کیا جا رہا ہے جس میں ملک بھر کے مختلف تعلیمی اداروں سے تعلق رکھنے والے طلبہ و طالبات مستفید ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی کے اس دور میں بذریعہ آن لائن کام کرکے آسانی سے آمدنی پیدا کی جا سکتی ہے۔ پروگرام کے اختتام پر ٹریننگ حاصل کرنے والے طلبہ و طالبات میں سرٹیفکیٹس تقسیم کئے گئے
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
پریس ریلیز
کوئٹہ11 مئی ۔ ریٹائرڈ چیف انجینئر محکمہ ایریگیشن میر محمد اسماعیل رند طویل علالت کے بعد انتقال کرگئے, وہ میرکوہ میر رند, میر خضر رند کے والد, میر شہداد خان رند مرحوم کے فرزند, میر تاج رند , میر حاجی نیاز محمد رند مرحوم, میر شاہ محمد رند, میر رضا محمد رند, محمد ابراہیم رند, فضل رند,اور پرویز رند کے بھائی, شے مرید رند, سالار رند, تیمور رند,زوہیب رند, شہریار رند کے چچا, بی این پی کے رہنما حاجی فاروق رند, فیصل کاسی اور ناصر شاہوانی کے ماموں تھے, مرحوم کیلئے فاتحہ خوانی ان کی رہائش گاہ رند ہاوس وحدت کالونی تیسرا اسٹاپ نزد گورنمنٹ بوائز ہائی سکول وحدت کالونی میں جاری ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Post comment