HomeNewsArticle About :- Corona Virus Jams Serious Measures Of Government (Dated:- 19.03.2020)

Article About :- Corona Virus Jams Serious Measures Of Government (Dated:- 19.03.2020)

Article About :- Corona Virus Jams Serious Measures Of Government (Dated:- 19.03.2020)

Article About :- Corona Virus Jams Serious Measures Of Government (Dated:- 19.03.2020)

کورونا وائرس جام حکومت کے سنجیدہ اقدامات
چنگیز دہوار
اس وقت پوری دنیا کورونا وائرس کی زد میں ہے، اسے سیاسی جنگ سمجھا جائے یا سرمایہ دارانہ نظام کی چال یا قدرتی آفت، مگر یہ حقیقت ہے کہ ایک آفت کی صورت اختیار کرچکا ہے۔ اس سے بچاؤ کی صورت نکالنا ہم سب کی قومی ذمہ داری ہے۔ بدقسمتی سے ہمسایہ ملک ایران میں اس وائرس کا ایسا حملہ ہوا کہ اس وقت آٹھ ہزار سے زائد پاکستانی زائرین وہاں پھنس چکے ہیں۔ وزیراعلیٰ بلوچستان جام میر کمال کے دانشمندانہ فیصلے نے تفتان سرحد سے اپنے پاکستانی بھائیوں کو محفوظ راستہ فراہم کیا اور ساتھ ہی ساتھ حکومتی محدود وسائل کے باوجود زائرین کی آمد اور انہیں قرنطینہ مراکز میں رکھنے کا فیصلہ ہوا۔ حالانکہ حکومت آنکھیں بند کرکے زائرین کی اکثریت جن کا تعلق دوسرے صوبوں سے تھا۔ انہیں ان کے صوبوں تک رسائی دیتی، مگر اس وائرس کے پھیلنے اور قوم کو جانی نقصانات کے پیش نظر فیصلہ کیا گیا کہ انہیں یہاں ہنگامی بنیادوں پر رکھنے، وائرس سے پاک ان پاکستانیوں کی تسلی ہونے کے بعد ان کے شہروں کو بھجوایا جائے اور ایسا ہی ہوا۔ اس کے لئے ضروری تھا کہ وفاقی حکومت دیگر صوبائی حکومتیں بھرپور ساتھ دیتیں اور زائرین بھی صبروتحمل کا مظاہرہ کرتے لیکن اہداف کے مطابق نہ تو دیگر صوبوں نے مدد کی اور نہ ہی زائرین نے صبروتحمل کا مظاہرہ کیا۔ بعض زائرین نے فوری طور پر اپنے گھروں کو جانے کے لئے ہنگامہ کھڑا کیا شاید چند ایک چپکے سے کیمپوں سے نکلے، اکثر کو بار بار روکنا پڑا، ان تمام مشکلات کے باوجود صوبائی حکومت نے دور دراز پسماندہ علاقوں اور شہروں میں قرنطینہ مراکز قائم کئے۔ ڈاکٹروں کی چھٹیاں منسوخ کی گئیں۔ تمام عملہ کو چوکس کیا گیا۔ ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کی گئی۔ متعلقہ اداروں کے اہلکاروں کو ڈیوٹی پر آنے کا پابند کیا۔ ان سب نے جرأت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس نازک صورتحال میں قوم کو ایک بڑی تبا ہی سے بچانے کی سرتوڑ کوششیں کی۔ اصولاً دیگر صوبوں سے جہاں فیکٹریاں قائم ہیں فوری طور پر ماسک، سینی ٹائیزر، اسپرے، مشین، خیمے اور خوراک بھجوانے کے انتظامات کئے جاتے مگر وہ سب ہی بلوچستان حکومت کی طرف دیکھتے رہے۔ اس کی مشکلات کا تدارک کرنے کی بجائے محض نقائص کی نشاندہی کو اپنی ذمہ داری سمجھتے رہے۔ اس کے باوجود صوبائی حکومت اور اس کی مشینری نے صبر کا دامن نہیں چھوڑا۔ آج بھی مزید آنیو الے زائرین کی خدمت اور ان کے علاج معالجے کے لئے دستیاب وسائل استعمال کررہے ہیں۔ اس کے علاوہ جو بھی احتیاطی تدابیر اپنائی جاسکتی ہیں اس کے لئے حتی الوسع کوششوں میں مصروف ہیں۔ اس وقت اگر نوول کورونا وائرس کی وجہ سے اہل وطن بچے ہوئے ہیں اس کا پہلا کریڈٹ حکومت بلوچستان کو جاتا ہے۔ جس نے افغانستان اور ایران سرحد بند کرکے اہل بلوچستان کی بڑی تعداد کی بے روزگاری کو قبول کیا۔ حالانکہ سرحدی علاقوں میں بسنے والے لوگوں کا واحد ذریعہ معاش ان ممالک سے وابستہ ہے۔ بلوچستان میں نہ تو ملازمتیں ہیں اور نہ ہی کارخانے، اس کے باوجود اس پس منظر سے واقف وفاق اور دیگر صوبے بلوچستان اور اہل بلوچستان کی خلوص پر شک کررہے ہیں۔ بہرحال یہ ایک قومی مسئلہ ہے اس کو مل کر ختم کرنا ہے۔ یہ 22 کروڑ پاکستانیوں کے لئے ایک مصیبت ہے۔ ان کی زندگیوں کے لئے خطرہ ہے۔ حکومتیں اور سیاسی پارٹیاں صرف یہ تصور کریں کہ اگر یہاں وائرس نہیں پھیلتا۔ اس وائرس سے پیدا ہونے والے نفسیاتی مسائل کس قدر گمبھیر ہوسکتے ہیں۔ مزدور پیشہ افراد اپنے اہل خانہ کے نان و نفقہ کا انتظام کیسا کرے گا۔ اس سے متاثر کاروبار زندگی میں کس قدر دراڑیں پڑیں گی۔ اس مصیبت کو بچوں کا کھیل نہیں سمجھنا چاہئے۔ اس کو سب ہی اپنے لئے ایک چیلنج سمجھ کر اس سے نکلنے کے لئے بحیثیت مسلمان اور پاکستانی اپنا کردار نبھائیں۔ قدرتی آفتیں اور حادثات تو قوموں اور نسلوں کا نہ صرف امتحان ہوتی ہیں بلکہ اس سے حکومتوں اور قوموں کو سمجھنے اور اپنی کمزوریاں دور کرنے کا موقع ملتا ہے لیکن افسوس کا مقام ہے کہ کاروباری افراد آفتوں اور مصیبتوں کو بھی کاروبار کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ اس وقت ہم میں سے ہر ایک کو انسانی ہمدردی کا جذبہ زیادہ سے زیادہ پیدا کرنا چاہئے بحیثیت مسلمان اسلامی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے اپنے اسلاف کی روایتوں پر کاربند ہونا چاہئے۔
()()()

Share With:
Rate This Article
No Comments

Leave A Comment