Download

خبرنامہ نمبر 3026/2018
سبی 07 نومبر۔ کمشنر سبی ڈویژن سید فیصل آغا نے کہا ہے کہ لیویز فورس کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لئے انہیں یہ اہم تربیت دی گئی ہے تاکہ وہ کسی بھی چیلنج سے نمبرد آزما ہوتے ہوئے اپنی صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کرسکیں ان خیالات کا اظہار انہوں نے لیویز پاسنگ آ¶ٹ پریڈ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا اس موقع پر ڈپٹی کمشنر سبی سید زاہد شاہ، لیفٹیننٹ کرنل ر انا محمدخان، ڈی آئی جی سبی محمد یوسف ملک، ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر عبدالحق عمرانی اور دیگر ضلعی و انتظامی افسران بھی موجود تھے انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے حالات انتہائی خراب تھے شاہرائیں غیر محفوظ تھیں لوگوں کے جان و مال کو ہر لمحہ خطرہ رہتا تھا انہی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے پاک فوج نے لیویز اہلکاروں کے لئے جدید تربیت کا آغاز کیا اسی جدید تربیت کے نتیجے میں آج حالات پہلے کے مقابلے بہت مختلف ہیں انہوں نے پاک فوج کے تعاون کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا اس موقع پر لیفٹیننٹ کرنل رانا محمد خان نے کہا کہ 94 اہلکاروں نے ٹریننگ میں حصہ لیا جہنیں دفاع کے ہر وہ طریقے سکھائے گئے جن میں اہم پوائنٹس کی نشاندہی کرنا،اہم تنصیبات کی حفاظت اور دشمن سے مقابلہ کرنا شامل ہے۔ڈپٹی کمشنر سبی سید زاہد شاہ نے بھی پاک فوج کا بھرپور انداز میں شکریہ ادا کیا اور خراج تحسین پیش کیا ۔ تقریب کے آخر میں ڈی آئی جی سبی ملک محمد یوسف،کمشنر سبی ڈویژن سید فیصل آغا، اور ڈپٹی کمشنر سبی سید زاہد شاہ نے اہلکاروں میں انعامات اور سرٹیفکیٹ تقسیم کئے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر3027/2018
کوئٹہ 07نومبر۔صوبائی وزیر مواصلا ت وتعمیرات نوبزادہ طارق مگسی سے سابق وفاقی وزیر میر دوستین ڈومکی نے گزشتہ روز ان کی دفتر میں ملاقات کی ۔وہ کچھ دیر صوبائی وزیر کے ہمراہ رہے اور صوبہ کی مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا ۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3028/2018
کوئٹہ 07نومبر ۔صوبائی وزیر خزانہ میر محمد عارف محمد حسنی سے ان کے دفتر میں سیکرٹری لوکل گورنمنٹ کمبر دشتی کے سمیت مختلف لوگوں نے ملا قات کی ۔اس موقع پر صوبائی وزیر نے لوگوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ صوبائی حکومت وزیر علیٰ جام کمال کی سربراہی میں صوبے کو درپیش مسائل کے حل کے ساتھ ساتھ خشک سالی سے پیدا ہونے والی پیچید ہ صورتحال سے نمٹنے کیلئے ضروری اقدامات کررہی ہے ۔انہوں نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت اپنے محدو دوسائل میں رہتے ہوئے عوام کو تعلیم ،صحت اور بہتر معیاری زندگی کی سہولیات فراہم کرنے کی پالیسی پر گامزان ہے ۔لہذا اس ضمن میں صوبے کے عوام نو منتخب صوبائی حکومت کی جانب سے کئے گئے اقدامات کے بہتر اور دور اس نتائج کے حصول کیلئے صبر کادامن ساتھ سے نہ جانے دیں کیونکہ موجودہ صوبائی حکومت کی بہتر حکمت عملی اور وزیر اعلیٰ جام کمال کی وسیع سوچ اور وژن جو انہوں نے صوبے کی ترقی کے لیے کر رکھی ہے جلد ہی اس کے ثمرات عوام تک پہنچنا شروع ہو جائیں گے اور ہمار ا صوبہ بلوچستان امن ،خوشحالی اور ملک کی ترقی میں بطو ر زینہ دنیا کے اُفق پرروشن چمکدار ستارے کی مانند نمو دار ہوگا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3029/2018
کوئٹہ 07نومبر۔بلوچستان سروس پبلک کمیشن کے ایک پریس ریلیز کے مطابق ان تمام اُمیدواروں کو مطلع کیا جاتا ہے ۔جنہوں نے اکاونٹنٹ (بی 14-) کی آسامی کے لئے تحریری امتحان میں کامیابی حاصل کی ہے ان کے انٹرویو20نومبر 2018ءکو بلوچستان پبلک سروس کمیشن میں منعقد ہونگے ۔کامیاب اُمیدواروں کے انٹر ویو کال لیٹر ان کے پتہ پر ارسال کردئیے گئے ہیں ۔جن اُمیدواروں کو کال لیٹر موصول نہیں ہوئے ہیں ۔وہ انٹر ویو سے قبل بلوچستان پبلک سروس کمیشن کے ایڈ منسٹر یشن سیکشن سے رابطہ کریں ۔نیز اُمیدواروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے اصل کا غذات وانٹرویو سے ایک روز قبل دفتر ہذا سے تصدیق کرالیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿

خبرنامہ نمبر3030/2018
لورالائی07نومبر۔ کھیل نوجوان نسل کی صلاحیتوں کو نکھارنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں ۔ جدید دور کے تعلیمی اہداف کے حصول کے لیے ہم نصابی سرگرمیاں ناگزیر ہیں۔ان خیالات کااظہار ڈسٹرکٹ چیرمین لورالائی شمس حمزہ زئی نے گورنمنٹ ہائی سکول بلوچ کالونی میں سپورٹس ویک کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ تقریب میں ڈویژنل ڈائریکٹر تعلیم ملا محمد عمرانی ،ہیڈ ماسٹر گورنمنٹ ہائی سکول بلوچ کالونی ظہوراحمدحاجی ظہور احمد اور ہیڈ ماسٹر ٹاو¿ن ہائی سکول حاجی حبیب اللہ ملغانی ، ڈسٹر کٹ سپورٹس آفیسر سید ظفر اللہ شاہ، سپورٹس کمیٹی کے چیرمین عبدالمالک ناصر، ڈویژنل صدر سیسا عبدالخالق خاطر ،استاد عبدالغنی ، ،استاد محمد انوراورکزئی اور حیات اللہ اتمانخیل نے شرکت کی ۔ ڈسٹر کٹ چیرمین شمس حمزہ زئی نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہمارے طلباءمیں توقعات سے بڑھ کر ٹیلینٹ موجود ہے اس طرح کی اہم سرگرمیوں سے طلباءکی صلاحیتوں میں اضافہ ہوتا ہے، یہی طلباءاس ملک کا مستقبل ہیں ان کی اچھی تعلیم اور تربیت روشن مستقبل کی ضمانت ہے۔ انہی طلباءنے عملی زندگی میں معاشرے کی تمام تر ذمہ داریاں سنبھالنی ہے انہوں نے کہا کہ طلباءکو وہ تما م مواقع فراہم کریں تاکہ وہ اپنی خوابیدہ صلاحیتوں کو بروئے کار لائیں ۔انہوں نے سکول کے ہیڈ ماسٹر ،اساتذہ اور طلباءکو کامیاب سپورٹس ویک کے انعقاد پر مبارکباد دی ۔ آخر میں ان مقابلوں میں اول،دوئم اورسوئم پوزیشن حاصل کرنے والے طلباءکو انعامات اور مہمانوں میں شیلڈتقسیم کی گئیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر 3031/2018
زیارت07نومبر۔ صوبائی وزےر پی اےچ ای ،واسا حاجی نورمحمدخان دمڑ نے سنجاوی میںسمالن ہمدردبلڈ بےنک کا افتتاح اور کلی اوڑس سنجاوی میں زےر تعمےر روڈ کا معائنہ کےااس موقع پرشمس حمزہ زئی، ڈی اےچ او زےارت ڈاکٹر مقبول کاکڑ،حاجی جان چیئر مین ،عبدالرحےم آغا،ملک اےاز دمڑڈاکٹر بہادر خان ترےن ،ملک بڈو اوربڑی تعداد میں دےگر افراد موجود تھے ۔اس موقع پر صوبائی وزےرنے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں ترقی کا پہیہ چل پڑا ہے ،موجودہ حکومت محدود وسائل کے باوجود عوام کے مسائل ترجےحی بنےادوں پر حل کررہی ہے۔انہوں نے کہاکہ انہیں اپنے حلقے کے عوام کے مسائل کے حل کے لےے انہوں نے حال ہی میں اسلام آباد کا دورہ کےا ہے اور صدر مملکت ،وفاقی وزراءاوردےگر اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کرکے انہیں حلقے کے مسائل سے آگاہ کےااور زےارت سنجاوی کے لےے بجلی گرڈاسٹےشن اور سنجاوی کے لےے اےل پی جی پلانٹ منظور کرائے۔انہوں نے کہا کہ سنجاوی میں بلڈ بےنک کے قےام سے عوام کو بلڈ فراہم کرنے میں آسانی ہوگی ،بلڈ بےنک کا افتتاح عوام کے لےے نعمت سے کم نہیں۔انہوں نے کہاکہ موجودہ حکومت مواصلات پر بھرپور توجہ دے رہی ہے ،اپنے حلقے کے تمام علاقوں میں بلےک ٹاپ روڈوں کی تعمےر مرمت کرکے عوام کی سفری مشکلات کو دور کرےں گے۔انہوں نے کہا کہ خنائی بابا تا سنجاوی روڈ ،سنجاوی تا لوراالائی روڈ ،سنجاوی تا ہرنائی روڈ کی تعمےر ومرمت کے لےے بھرپور اقدامات کئے جائینگے۔انہوں نے کہا کہ ہرنائی ،سنجاوی اور زےارت کے تمام لنک روڈوں کی بھی تعمےرو مرمت کی جائے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر 3032/2018
زیارت07نومبر۔ڈاکٹر مقبول کاکڑ( ہیلتھ مےنجمنٹ کےڈر ،B-19)نے ڈسٹرکٹ ہےلتھ آفےسرزےارت کا چارج سنبھال کر فرائض کی ادائیگی شروع کردی ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر 3033/2018
پشین 07نومبر۔ایس ایس پی پشین طارق الہی مستوئی نے کیڈٹ کالج پشین میں سیکورٹی کی صورتحال پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے یقین دلایا ہے کہ ضلع میں قائم تمام تعلیمی اداروں میں سیکورٹی کے فول پروف انتظامات مکمل کرلیے گئے ہیں ان خیالات کا اظہار انہوں نے کیڈٹ کالج پشین میں سیکورٹی کی صورتحال کا جائزہ لینے کے موقع پر بات چیت کرتے ہوئے کیا اس موقع پر کیڈٹ کالج پشین کے پر نسپل اور سیکیو رٹی حکام بھی موجود تھے ایس پی پشین طارق الہی مستوئی نے کہا کہ کیڈٹ کالج پشین میں سیکورٹی انتظامات پر از سر نو نظر ثانی کرتے ہوئے انہیں مزید بہتر بنایا گیا ہے اور اندرون و بیرون ادارہ مجموعی صورتحال کو مانیٹر کرنے کے لئے سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد سے فول پروف سیکیورٹی انتظامات کو حتمی شکل دے دی گئی ہے جس کا انچارج انسپکٹر رینک افسر کو تعینات کیا گیا ہے انہوں نے کہا کہ تعلیمی ادارے ہمارے روشن مستقبل کی ضمانت ہیں جن کی سیکورٹی ہماری اولین ترجیحات میں شامل ہے انہوں نے کہ کیڈٹ کالج پشین سمیت ضلع کے تمام تعلیمی اداروں نے کہا سیکیو رٹی کو بہتر بنایا گیا ہے اور والدین پورے اطمینان کے ساتھ اپنے بچوں کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنے کے لئے بلا خوف و خطر تعلیمی اداروں میں بھیجیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3034/2018
لورالائی07نومبر۔ صوبائی وزےر صنعت وحرفت حاجی محمد خان اتمانخےل نے کہا ہے کہ لورالائی کے عوام کا بنےادی مسئلہ پانی کا ہے جسے ترجیی بنےادوں پر حل کرنے کے لئے اقدامات شروع ہوچکے ہے ۔ لورالائی کے عوام کوپینے کا صاف پانی انکی دہلےزپر پہنچانا ہمارے فرائض مےں شامل ہے ۔لورالائی مےں کسی بھی آفےسر کو عوام کے ساتھ ناجائز نہےں کرنے دئےنگے اور نہ ہی کسی محکمے مےں عوام دشمن ، اہلکار کو برداشت کےا جائےگا ان خےالات کا اظہار نے اپنے دفتر مےں ملنے والے مختلف وفود سے بات چےت کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ لورالائی کے عوام کا بنےادی اور لازمی مسئلہ پےنے کا صاف پانی ہے اور اس سلسلے مےں محکمہ کی جانب سے کوئی کوتاہی برداشت نہےں کی جائے گی ۔پانی عوام کی بنےادی ضرورت ہے اور اسے ہر صورت مےں عوام کے پاس پہنچائےنگے۔افسران و اہلکاران اپنے فرائض منصبی احسن طریقہ سے ادا کر یں ، کوتاہی کرنے والوں کومعاف نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کی ماضی کی حکومتوں نے عوام کے وسائل کو صرف اپنے ذاتی مفاد کے لئے استعمال کیا جنکی وجہ سے عوام آج دو وقت کی روٹی اور اےک وقت کے پانی کے لئے ترس رہے ہیں انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے بلوچستان بھر مےں مےرٹ کا نظام لاگو کرنے اور انصاف ہر گھر تک پہنچانے کا عزم کررکھا ہے بےروزگاروں کو روزگار فراہم کرنے کے لئے منظم طرےقہ کار کے تحت اور قابل نوجوانوں کو مےرٹ پر تعنےات کرنے کے لئے اقدامات کئے جارہے ہیں تاکہ کسی کے ساتھ ناانصافی نہ ہم عوام کے ساتھ ہیں اور عوامی حقوق پر کسی بھی قسم کی سودا بازی نہےں کرنے دئےنگے انہوں نے کہا کہ کا انعقاد کیا گیا ۔ ہم عوام کی طاقت سے منتخب ہوئے ہیں اور لورالائی کے تمام مسائل کو حل کرنا مےری ذمہ داری مےں شامل ہے اور اسی طرح بلاامتےاز بلا رنگ و نسل اور بغےر کسی علاقائی تمےز کے عوام کی خدمت کرنا مےرا مشن ہے ۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3035/2018
لورالائی07نومبر ۔ محکمہ وومن ڈویلپمنٹ اور یو این وومن کے زیر اہتمام گرلز ڈگری کالج لورالائی میں ایک مشاورتی ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا ۔ مشاورتی ورکشاپ کا موضوع خواتین کے لیے نئی صوبائی پالیسی کی تشکیل تھا۔ ورکشا پ میں محکمہ وومن ڈویلپمنٹ کے ڈائریکٹر انعام الحق، اسسٹنٹ ڈائریکٹر رخسانہ بلوچ ، یواین کے صوبائی عہدیدارن ، پرنسپل گرلز ڈگری کالج لورالائی پروفیسر روبینہ کنول، ایم این سی ایچ کے سوشل موبلائزر محمد عثمان موسیٰ خیل،محکمہ لیبر کے ڈپٹی ڈائریکٹر میرات خان ناصر ہوم نیٹ پاکستان کی سلمہ شہزاد، ڈسٹرکٹ ایکشن کمیٹی کے ممبران، خواتین اور مرد اساتذہ ، اور دیگر نے شرکت کی۔ ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے انعام الحق نے کہا کہ خواتین کے مسائل اور ان کے حل کے لیے صوبائی پالیسی 2013میں بنائی گئی تھی جس کی تجدید ابھی کی جاری ہے جس کے لیے تمام شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والوں سے مشاورت کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کے پائیدار ترقی کے عالمی اہداف میں خواتین کی ترقی بھی شامل ہے جس کے لیے دنیا کے تمام ممالک مل کر ان اہداف کو پورا کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کی شراکت کے بغیر ترقی کا تصور ممکن نہیں ۔تقریب سے دیگر مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کی خواتین کو سیاسی ، معاشی اور سماجی مسائل کا سامنا ہے۔ صنفی برابری نہ ہونے کی وجہ سے یہاں کی خواتین بہت پیچھے رہ گئی ہیں محکمہ پولیس بلوچستان کے ہزاروں ملازمین میں صرف 3سو خواتین ملازم ہیں جو کہ انتہائی کم ہے دیگر محکموں میں بھی اس سے بدتر صورتحال ہے۔ آج بھی بلوچستان کی 71فیصد آبادی خطِ غربت سے نیچے زندگی گزاررہی ہے ۔ سب سے بدتر حالات ضلع قلعہ عبد اللہ کے ہیں ۔ 70فیصد طلباءڈراپ آوٹ ہو جاتے ہیں اور پاکستان میں سکول سے باہر بچوں کی سب سے بڑی تعداد بلوچستان میں ہے۔ سیاسی لحاظ سے دیکھا جائے تو تقریباً 50فیصد خواتین کے شناختی کارڈ ہی نہیں بنے جس کی وجہ سے وہ سیاسی عمل اور فیصلہ سازی کے عمل سے باہر ہیں۔ صحت کے حوالے سے دیکھا جائے تو صرف 20فیصد آبادی کو صاف پانی کی سہولت میسر ہے جب کہ ایک لاکھ میں سے 785خواتین زچگی کے دوران انتقال کر جاتی ہیں اور یہ شرح انتہائی خطرناک ہے۔ ڈائریکٹر وومن ڈویلمپنٹ انعام الحق نے تقریب کے آخر میں کہا کہ کوئٹہ ، سبی اور خضدار میں خواتین کے مسائل کے حل کے لیے تین سنٹرز قائم ہیں اور جلد ہی لورالائی ،کیچ اور نصیرآباد میں یہ کرائسز سنٹرز قائم کیے جائیں گے ۔ خواتین پر تیزاب پھینکنے اور جائیداد میں خواتین کو اپنا جائز حصہ دینے کے حوالے سے قانون سازی آخری مراحل میں ہے اور جلد ہی یہ قانون کی شکل اختیار کرلیں گے ۔ ورکشاپ کے دوران شرکاءنے نئی مجوزہ پالیسی کے لیے مختلف تجاویز پیش کیں ۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Post comment