خبرنامہ نمبر 4412/2019
کوئٹہ31دسمبر:۔وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے کہا ہے کہ آئندہ پانچ سال میں بلوچستان مکمل طور پر تبدیل ہوگا، ہم بلوچستان کی ترقی کی جامع منصوبہ بندی کرتے ہوئے اس پر عمل پیرا ہیں، انسانی وسائل کی ترقی اورصوبے کے محاصل میں اضافہ ہمارے بنیادی اہداف ہیں، زراعت، معدنیات، توانائی، سیاحت اور ماہی گیری کے شعبے سرمایہ کاری کے لئے کھلے ہیں، حکومت کی پالیسیوں کی نتیجے میں آئندہ چندسالوں میں پاکستان اور دنیا بھر سے لوگ سرمایہ کاری کے لئے بلوچستان آئیں گے، ان خیالات کا اظہار انہوں نے طلباءوطالبات میں لیپ ٹاپ تقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا، صوبائی وزیر میر ظہور احمد بلیدی، صوبائی مشیر عبدالخالق ہزارہ، اکبر آسکانی، وزیراعلیٰ کے معاون خصوصی رامین محمد حسنی، کیپٹن ریٹائرڈ عبدالخالق اچکزئی بھی اس موقع پر موجود تھے جبکہ کوئٹہ، مستونگ، خانوزئی، قلعہ سیف اللہ اور ژوب کے یونیورسٹی کیمپسز اور کالجوں کے طلباءاور طالبات نے تقریب میں شرکت کی جنہیں یوتھ موبلائزیشن کمپین کے تحت لیپ ٹاپ دیئے گئے ، وزیراعلیٰ نے اپنے خطاب میں بلوچستان کے وسائل صوبے کی ترقی کے لئے حکومتی پالیسی اور اقدامات اور صوبے کے طلباءکے لئے مستقبل کے مواقعوں پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ موجودہ دور تیزرفتار تبدیلیوں کا دور ہے اور آئندہ پانچ برسوں میں کمپیوٹر اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں مزید حیران کن تبدیلیاں رونما ہوں گی جن سے ہم آہنگ ہونے کے لئے نوجوانوں کو تعلیم اور تربیت کے حصول پر بھرپور توجہ دینا ہوگی، وزیراعلیٰ نے کہا کہ طلباءمعیاری تعلیم پر سمجھوتہ نہ کریں، ان کی تعلیم اور تربیت کا معیار جتنا بہتر ہوگا انہیں اتنے ہی زیادہ مواقع ملیں گے، وزیراعلیٰ نے کہا کہ جو مواقع آج کی نوجوان نسل کو حاصل ہیں ماضی میں ان کا تصور نہیں کیا جاسکتا تھا، وزراعلیٰ نے کہا کہ بچیوں کی تعلیم بھی اتنی ہی اہم ہے جتنی کے بچوں کی تعلیم،ایک پڑھی لکھی ماں ہی اپنے بچوں کی بہترین تربیت کرسکتی ہے، خواتین معاشی میدان میں بھی اہم کردار ادا کررہی ہیں اور جن خاندانوں میں خواتین تعلیم یافتہ ہیں ان خاندانوں میں خوشحالی ہے، انہوں نے کہا کہ طلباءسرکاری نوکری کے حصول کو کامیابی نہ سمجھیں، بلوچستان میں اتنے وسائل ہیں جن کا فائدہ اٹھا کر ہمارے نوجوانوں کو نوکری کی ضرورت نہیں رہے گی بلکہ وہ دوسروں کو نوکریاں دے سکیں گے، انہوں نے کہا کہ تعلیم اور ہنر دونوں اہمیت کے حامل ہیں، چین اور امریکہ سمیت دیگر ترقیافتہ ممالک نے تعلیم اور ہنر کے ساتھ کامیابیاں حاصل کی ہیں، وزیراعلیٰ نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے بلوچستان کو وہ سب کچھ دیا ہے جو دوسرے صوبوں اور بہت سے دیگر ممالک کے پاس بھی نہیں ہے، ان وسائل کو بروئے کار لانا صرف نعرہ بازی سے ممکن نہیں بلکہ اس کے لئے عملی اقدامات اور میکنزم بنانے کی ضرورت ہے، انہوں نے کہا کہ تربت اور بعض دیگر اضلاع نے منصوبہ بندی کے تحت ترقی کی تاہم ہمارے بہت سے اضلاع ایسے بھی ہیں جو قومی شاہراہوں پر واقع ہونے کے باوجود ترقی نہیں کرسکے ہیں جس کی بنیادی وجہ منصوبہ بندی کا فقدان ہے، انہوں نے طلباءپر زور دیا کہ وہ اپنے علاقوں کی ترقی اور قدرتی وسائل کو بروئے کار لانے کے لئے اپنے نمائندوں سے مطالبہ کریں، وزیراعلیٰ نے کہا کہ حکومت تعلیمی اداروں میں انفارمیشن اور کمیونیکیشن ٹیکنالوجی کے فروغ کے لئے سرمایہ کاری کررہی ہے، ہمارے تعلیمی اداروں کا بنیادی ڈھانچہ اچھانہیں، قابل اساتذہ اور پروفیسرز کی کمی ہے، حکومت تعلیمی اداروں کی کمزوریوں اور خامیوں کو دور کرنے کے لئے مناسب اقدامات کررہی ہے، طلباءکی سہولت کے لئے آئندہ انٹر کالج بنانے کی بجائے صرف ڈگری کالج بنائے جائیں گے اور موجودہ انٹر کالجوں کو ڈگری کالجوں کا درجہ دیا جائے گا جبکہ ہر ضلع میں ہائی اسکولوں کو ہائر ایجوکیشن کالج میں تبدیل کیا جائے گا، وزیراعلیٰ نے کہا کہ موجودہ دور میں مصنوعی ذہانت کو فروغ مل رہا ہے، سوشل اور الیکٹرانک میڈیا کی ترقی ہورہی ہے جو حکومتوں کو ان کی سماجی اور معاشی ذمہ داریوں کے حوالے سے رہنمائی فراہم کررہے ہیں، انہوں نے کہا کہ طلباءکو لیپ ٹاپ دینے کا مقصد ان کی تعلیمی قابلیت کو بڑھانا اور انفارمیشن اینڈ کمیونیکیشن ٹیکنالوجی سے منسلک کرنا ہے تاکہ ہماری یوتھ کسی سے پیچھے نہ رہے، وزیراعلیٰ نے کہا کہ موجودہ صوبائی حکومت بلوچستان کی یوتھ پر سرمایہ کاری کررہی ہے اور یوتھ ٹاسک کا قیام عمل میں لایا گیا ہے، بلوچستان یوتھ پروجیکٹ کا آغاز کیا جارہا ہے، نوجوانوں کو مختلف شعبوں میں تکنیکی مہارت کی فراہمی کے لئے فنی تربیت کے اداروں کو فعال کرنے کے ساتھ ساتھ مزید ادارے قائم کئے جارہے ہیں، یہ سب کچھ اور نوجوانوں کے لئے آگے بڑھنے کے مواقعوں سے انقلابی تبدیلیاں رونما ہوں گی، وزیراعلیٰ نے کہا کہ بلوچستان میں صنعتی اور تجارتی ترقی کے ایک نئے دور کا آغاز ہونے جارہا ہے جس میں ٹیکنالوجی سے آراستہ افرادی قوت کی بڑی مانگ ہوگی،انہوں نے کہا کہ سی پیک اور گوادر پورٹ فعال ہوچکی ہے جس کا اولین فائدہ بلوچستان کے عوام کو ہوگا، وزیراعلیٰ نے کہا کہ چین کے باشندوں کی بڑی تعداد میں بلوچستان آمد کا پروپیگنڈا کیا جارہا ہے، چین ایک جدید ترین ترقیافتہ ملک ہے لہٰذا چینی باشندے یہاں نہیں آئیں گے، وزیراعلیٰ نے طلباءپر زور دیا کہ وہ چینی ، جرمن اور دیگر ممالک کی زبانیں سیکھیں جس سے انہیں یورپ اور دیگر ممالک میں روزگار حاصل کرنے میں مدد ملے گی، وزیراعلیٰ نے اس موقع پر طلباءاور طالبات کی جانب سے پوچھے گئے سوالات کے تفصیلی جوابات دیئے۔
خبرنامہ نمبر4413/2019
کوئٹہ31دسمبر:۔سیکریٹری مواصلات وتعمیرات نورالامین مینگل نے گذشتہ روز بلوچستان یونیورسٹی میں زیر تعمیر میوزیم کا دورہ کیا جہاں انہیں منصوبے کے پیشرفت کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ منصوبے کا تعمیراتی کام 90فیصد تک مکمل کرلیا گیا ہے، صوبائی سیکریٹری نے ہدایت کی کہ 15جنوری تک منصوبے کو مکمل کرکے محکمہ ثقافت کے حوالے کیا جائے تاکہ میوزیم کو کراچی سے حاصل ہونے والے نوادرات سے آراستہ کرکے عوام کے لئے کھولا جاسکے۔
خبرنامہ نمبر 4414/2019
کوئٹہ31دسمبر:۔وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے کہا ہے کہ آئندہ پانچ سال میں بلوچستان مکمل طور پر تبدیل ہوگا، ہم بلوچستان کی ترقی کی جامع منصوبہ بندی کرتے ہوئے اس پر عمل پیرا ہیں، انسانی وسائل کی ترقی اورصوبے کے محاصل میں اضافہ ہمارے بنیادی اہداف ہیں، زراعت، معدنیات، توانائی، سیاحت اور ماہی گیری کے شعبے سرمایہ کاری کے لئے کھلے ہیں، حکومت کی پالیسیوں کی نتیجے میں آئندہ چندسالوں میں پاکستان اور دنیا بھر سے لوگ سرمایہ کاری کے لئے بلوچستان آئیں گے، ان خیالات کا اظہار انہوں نے طلباءوطالبات میں لیپ ٹاپ تقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا، صوبائی وزیر میر ظہور احمد بلیدی، صوبائی مشیر عبدالخالق ہزارہ، اکبر آسکانی، وزیراعلیٰ کے معاون خصوصی رامین محمد حسنی، کیپٹن ریٹائرڈ عبدالخالق اچکزئی بھی اس موقع پر موجود تھے جبکہ کوئٹہ، مستونگ، خانوزئی، قلعہ سیف اللہ اور ژوب کے یونیورسٹی کیمپسز اور کالجوں کے طلباءاور طالبات نے تقریب میں شرکت کی جنہیں یوتھ موبلائزیشن کمپین کے تحت لیپ ٹاپ دیئے گئے ، وزیراعلیٰ نے اپنے خطاب میں بلوچستان کے وسائل صوبے کی ترقی کے لئے حکومتی پالیسی اور اقدامات اور صوبے کے طلباءکے لئے مستقبل کے مواقعوں پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ موجودہ دور تیزرفتار تبدیلیوں کا دور ہے اور آئندہ پانچ برسوں میں کمپیوٹر اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں مزید حیران کن تبدیلیاں رونما ہوں گی جن سے ہم آہنگ ہونے کے لئے نوجوانوں کو تعلیم اور تربیت کے حصول پر بھرپور توجہ دینا ہوگی، وزیراعلیٰ نے کہا کہ طلباءمعیاری تعلیم پر سمجھوتہ نہ کریں، ان کی تعلیم اور تربیت کا معیار جتنا بہتر ہوگا انہیں اتنے ہی زیادہ مواقع ملیں گے، وزیراعلیٰ نے کہا کہ جو مواقع آج کی نوجوان نسل کو حاصل ہیں ماضی میں ان کا تصور نہیں کیا جاسکتا تھا، وزراعلیٰ نے کہا کہ بچیوں کی تعلیم بھی اتنی ہی اہم ہے جتنی کے بچوں کی تعلیم،ایک پڑھی لکھی ماں ہی اپنے بچوں کی بہترین تربیت کرسکتی ہے، خواتین معاشی میدان میں بھی اہم کردار ادا کررہی ہیں اور جن خاندانوں میں خواتین تعلیم یافتہ ہیں ان خاندانوں میں خوشحالی ہے، انہوں نے کہا کہ طلباءسرکاری نوکری کے حصول کو کامیابی نہ سمجھیں، بلوچستان میں اتنے وسائل ہیں جن کا فائدہ اٹھا کر ہمارے نوجوانوں کو نوکری کی ضرورت نہیں رہے گی بلکہ وہ دوسروں کو نوکریاں دے سکیں گے، انہوں نے کہا کہ تعلیم اور ہنر دونوں اہمیت کے حامل ہیں، چین اور امریکہ سمیت دیگر ترقیافتہ ممالک نے تعلیم اور ہنر کے ساتھ کامیابیاں حاصل کی ہیں، وزیراعلیٰ نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے بلوچستان کو وہ سب کچھ دیا ہے جو دوسرے صوبوں اور بہت سے دیگر ممالک کے پاس بھی نہیں ہے، ان وسائل کو بروئے کار لانا صرف نعرہ بازی سے ممکن نہیں بلکہ اس کے لئے عملی اقدامات اور میکنزم بنانے کی ضرورت ہے، انہوں نے کہا کہ تربت اور بعض دیگر اضلاع نے منصوبہ بندی کے تحت ترقی کی تاہم ہمارے بہت سے اضلاع ایسے بھی ہیں جو قومی شاہراہوں پر واقع ہونے کے باوجود ترقی نہیں کرسکے ہیں جس کی بنیادی وجہ منصوبہ بندی کا فقدان ہے، انہوں نے طلباءپر زور دیا کہ وہ اپنے علاقوں کی ترقی اور قدرتی وسائل کو بروئے کار لانے کے لئے اپنے نمائندوں سے مطالبہ کریں، وزیراعلیٰ نے کہا کہ حکومت تعلیمی اداروں میں انفارمیشن اور کمیونیکیشن ٹیکنالوجی کے فروغ کے لئے سرمایہ کاری کررہی ہے، ہمارے تعلیمی اداروں کا بنیادی ڈھانچہ اچھانہیں، قابل اساتذہ اور پروفیسرز کی کمی ہے، حکومت تعلیمی اداروں کی کمزوریوں اور خامیوں کو دور کرنے کے لئے مناسب اقدامات کررہی ہے، طلباءکی سہولت کے لئے آئندہ انٹر کالج بنانے کی بجائے صرف ڈگری کالج بنائے جائیں گے اور موجودہ انٹر کالجوں کو ڈگری کالجوں کا درجہ دیا جائے گا جبکہ ہر ضلع میں ہائی اسکولوں کو ہائر ایجوکیشن کالج میں تبدیل کیا جائے گا، وزیراعلیٰ نے کہا کہ موجودہ دور میں مصنوعی ذہانت کو فروغ مل رہا ہے، سوشل اور الیکٹرانک میڈیا کی ترقی ہورہی ہے جو حکومتوں کو ان کی سماجی اور معاشی ذمہ داریوں کے حوالے سے رہنمائی فراہم کررہے ہیں، انہوں نے کہا کہ طلباءکو لیپ ٹاپ دینے کا مقصد ان کی تعلیمی قابلیت کو بڑھانا اور انفارمیشن اینڈ کمیونیکیشن ٹیکنالوجی سے منسلک کرنا ہے تاکہ ہماری یوتھ کسی سے پیچھے نہ رہے، وزیراعلیٰ نے کہا کہ موجودہ صوبائی حکومت بلوچستان کی یوتھ پر سرمایہ کاری کررہی ہے اور یوتھ ٹاسک کا قیام عمل میں لایا گیا ہے، بلوچستان یوتھ پروجیکٹ کا آغاز کیا جارہا ہے، نوجوانوں کو مختلف شعبوں میں تکنیکی مہارت کی فراہمی کے لئے فنی تربیت کے اداروں کو فعال کرنے کے ساتھ ساتھ مزید ادارے قائم کئے جارہے ہیں، یہ سب کچھ اور نوجوانوں کے لئے آگے بڑھنے کے مواقعوں سے انقلابی تبدیلیاں رونما ہوں گی، وزیراعلیٰ نے کہا کہ بلوچستان میں صنعتی اور تجارتی ترقی کے ایک نئے دور کا آغاز ہونے جارہا ہے جس میں ٹیکنالوجی سے آراستہ افرادی قوت کی بڑی مانگ ہوگی،انہوں نے کہا کہ سی پیک اور گوادر پورٹ فعال ہوچکی ہے جس کا اولین فائدہ بلوچستان کے عوام کو ہوگا، وزیراعلیٰ نے کہا کہ چین کے باشندوں کی بڑی تعداد میں بلوچستان آمد کا پروپیگنڈا کیا جارہا ہے، چین ایک جدید ترین ترقیافتہ ملک ہے لہٰذا چینی باشندے یہاں نہیں آئیں گے، وزیراعلیٰ نے طلباءپر زور دیا کہ وہ چینی ، جرمن اور دیگر ممالک کی زبانیں سیکھیں جس سے انہیں یورپ اور دیگر ممالک میں روزگار حاصل کرنے میں مدد ملے گی، وزیراعلیٰ نے اس موقع پر طلباءاور طالبات کی جانب سے پوچھے گئے سوالات کے تفصیلی جوابات دیئے۔
خبرنامہ نمبر 4415/2019
کوئٹہ31دسمبر:۔بلوچستان ہائی کورٹ کے اعلامیے کے مطابق آج مورخہ 31دسمبر 2019کوجسٹس نذیر احمد لانگو پر مشتمل الیکشن ٹربیونل نے الیکشن اپیل نمبر 36-2018اور 33-2018پر فیصلہ سناتے ہوئے ایم پی اے سردار عبدالرحمان کھیتران اور اکبر آسکانی کو نااہل قراردے دیا ۔

خبرنامہ نمبر 4416/2019
چمن 31دسمبر :انسپکٹرجنرل پولیس بلوچستان کی خصوصی ہدایت پر ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر شوکت خان مہمند کی جانب سے کھلی کچہری کاانعقاد کیا گیااس دوران شہریوں نے اپنے مسائل بیان کیے اور قبائلی عمائدین نے اپنی تجاویز دیں۔ جس میں پولیس کے اعلیٰ آفیسران ڈی ایس پی دولت خان ترین،ایس ایچ اوگل محمد،انسپکٹرنادر،انسپکٹر اقبال،اے ایس آئی اختر،ٹریفک سارجنٹ امان اللہ،انسپکٹر یعقوب کے علاوہ سیاسی وقبائلی عمائدین اسد خان اچکزئی،مولانامفتی محمد قاسم،ملک عبدالخالق،انجمن تاجران کے داد شاہ پژواک ودیگر شریک تھیں۔اس موقع پر کھلی کچہری کے شرکاءنے پولیس نظام کی بہتری ودیگر حوالے سے ڈی پی او کو اپنی تجاویز دیں اور مسائل سے آگاہ کیااور منشیات کو نئے نسل کیلئے ناسور قراردیتے ہوئے کہاکہ پولیس اس جانب فوری توجہ دیں اور شہر میں منشیات کے خاتمے کیلئے اپنا کرداراداکرے۔اس موقع پر ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر شوکت خان مہمند نے تمام کھلی کچہری کے شرکاءکو مسائل کی ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کی یقین دہانی کرائی۔
خبرنامہ نمبر 4417/2019
کوئٹہ31دسمبر:۔صوبائی محتسب برائے انسداد ہراسگی اور تعمیر خلق فاونڈیشن کے مابین خواتین اور بچیوں کو ہراساں کرنے کے واقعات کے اداراک اور متاثرہ خواتین کو متعلقہ فورم تک ریفر کرنے کے لئے مفاہمتی یاداشت پر دستخط ہوگئے اس سلسلے میں سادہ مگر پروقار تقریب صوبائی محتسب دفتر میں منعقد ہوئی جس میں صوبائی محتسب برائے انسداد ہراسگی صابرہ اسلام اور ٹی کے ایف کی نمائندہ صائمہ ہارون نے دستخط کئے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے  سیکرٹری وویمن ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ  سائرہ عطاءنے کہا کہ پاکستان میں خواتین کو ہراساں کرنے کے عمل کو روکنے اور اس کے ادراک کے لئے موثر قانون سازی کی گئی ہے تاکہ مختلف مقامات پر کام کرنے والی خواتین کو ایک محفوظ ماحول کے قیام کو یقینی بنایا جاسکے انہوں نے کہا کہ صوبائی سطح پر ایسے واقعات کی روک تھام اور متاثرین کو انصاف کی فراہمی کے لئے صوبائی محتسب برائے انسداد ہراسگی ایک موثر پلیٹ فارم ہے اور یہ  بات خوش آئند ہے کہ غیر سرکاری ادارے تعمیر خلق فاونڈیشن کی معاونت سے ریفرل میکنزم کو مضبوط خطوط پر استوار کرکے متاثرین کی بہتر رہنمائی کا فریضہ سرانجام دیا جائے گا انہوں نے کہا کہ دونوں اداروں کی اس باہمی یادداشتی معاہدے کی بدولت صوبائی دارلحکومت کوئٹہ سمیت اندرون بلوچستان کے ٹارگیٹڈ اضلاع سے متاثرہ خواتین اور بچیوں کو فوری طور پر متعلقہ فورم تک ریفر کرنا ممکن ہوگا جو متاثرین کو فوری امداد کی فراہمی میں معاون ثابت ہوگا تقریب میں تعمیر خلق فاونڈیشن کے ہارون داود بھی موجود تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Post comment