خبرنامہ نمبر3307/2018 
کوئٹہ 29 نومبر۔ صوبائی مشیر کھیل و ثقافت عبدالخالق ہزارہ نے کہا ہے کہ بلوچستان میں نیشنل گیمز کا انعقاد چیلنج سے کم نہیں تاہم اس میگا ایونٹ کے انعقاد کے حوالے سے وفاقی وزیر بین الصوبائی رابطہ ڈاکٹر فہمیدہ مرزا سے رابطہ کرکے نیشنل گیمز کی گرانٹ کی فراہمی کے لئے بات کی گئی ہے جبکہ وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال خان بھی نیشنل گیمز کے انعقاد میں گہری دلچسپی لے رہے ہیں ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بلوچستان اولمپک ایسو سی ایشن کے زیر اہتمام منعقدہ ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ صوبے میں ٹیلنٹ کی کمی نہیں کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کیلئے ہر ممکن اقدامات کئے جائیں گے کیونکہ کھیل کے میدان آباد کرکے ہی ہم ایک صحت مند معاشرہ تشکیل دے سکتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ہم ہر صورت ٹیلنٹ کو سامنے لائیں گے اور صوبے کے وسیع ترمفاد کے لئے کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا ۔ کسی کے ساتھ ناانصافی نہیں ہوگی اور نہ ہی اس عمل کو برداشت کیا جائیگا ۔ انہوں نے کہا کہ محکموں کے حقوق کیلئے ہر فورم پر آواز اٹھائی جائیگی صوبائی حکومت کا وژن ہے کہ عوام کی ترقی کیلئے دیرپا اور مؤثر اقدامات کئے جائیں تاکہ ان کے ثمرات سے عوام مستفید ہوسکیں ۔انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کھیلوں کے فروغ کے لئے جامع پالیسی پر عمل پیرا ہے انہوں نے کہا کہ صوبے کے کھلاڑیوں کو درپیش مسائل و مشکلات سے بخوبی آگاہ ہیں اور ان کے حل کیلئے پر عزم ہیں ۔ اس موقع پر اجلاس کی شرکاء نے صوبائی مشیر کو باکسنگ ، کراٹے ، تیرا کی سمیت دیگر کھیلوں کے حوالے سے درپیش مشکلات کے بارے میں آگاہ کیا جس پر صوبائی مشیر نے انہیں ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی ۔ جس پر اجلاس کے شرکاء نے ان کا شکریہ ادا کیا ۔ اجلاس میں بلوچستان اولمپک ایسو سی ایشن کے صدر افضل اعوان ، جنرل سیکریٹری شیر محمد کے علاوہ تیرا کی ایسو سی ایشن کے جنرل سیکریٹری ولایت حسین ہزارہ، جوڈو ایسو سی ایشن کے صدر بشیر احمد اور جنرل سیکریٹری قاظم علی ہزارہ ، بلوچستان رائفل ایسو سی ایشن کے صدر مطیع اللہ خان اور جنرل سیکریٹری صمد اچکزئی ، باڈی بلڈنگ ایسو سی ایشن کے جنرل سیکریٹری عبدالعلی ، ہاکی ایسو سی ایشن کے جنرل سیکریٹری امجد ستی ، باکسنگ ایسو سی ایشن کے صدر صادق خان جنرل سیکریٹری سید حفیظ الرحمن ، سائکلنگ ایسو سی ایشن کے جنرل سیکریٹری گل محمد کاکڑ ، دوئنگ اینڈ کنوئنگ ایسو سی ایشن کے جنرل سیکریٹری آیت اللہ درانی ، والی بال ایسو سی ایشن کے محمد اکرم ، ٹینس ایسو سی ایشن کے ڈسٹرکٹ سیکریٹری طارق ، کراٹے ایسو سی ایشن کے جنرل سیکریٹری بابر ووشو ایسو سی ایشن کے جنرل سیکریٹری منان اور ٹیبل ٹینس ایسو سی ایشن کے جنرل سیکریٹری ایوب خلجی نے اجلاس میں شرکت کی۔ 
()()()
خبرنامہ نمبر3308/2018 
کوئٹہ 29 نومبر۔ صوبائی مشیر برائے تعلیم حاجی محمد خان لہڑی سے بدھ کے روز رکن صوبائی اسمبلی میر سکندر خان عمرانی نے ملاقات کی ملاقات میں صوبے کے سیاسی معاملات و دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا ۔ اس موقع پر صوبائی مشیر تعلیم حاجی محمد خان لہڑی نے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت صوبے میں تعلیم کے مسائل سے بخوبی آگاہ ہے اور مسائل کے حل کیلئے ہر ممکن اقدامات اٹھائے جارہے ہیں انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان کی قیادت میں صوبائی حکومت صوبے میں معیار تعلیم کی بہتری کیلئے کوشاں ہے ۔ اس موقع پر رکن صوبائی اسمبلی میر سکندر خان عمرانی نے کہا کہ صوبائی حکومت کی جانب سے تعلیم کے فروغ اور بہتری کیلئے کئے جانے والے اقدامات قابل تحسین ہیں۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ مشیر تعلیم اسی طرح صوبے میں معیار تعلیم کی بہتری کیلئے اقدامات اٹھائیں گے۔ اس موقع پر صوبائی مشیر تعلیم نے رکن صوبائی اسمبلی کو حلقے کے مسائل اور ان کے حل کی ممکن یقین دہانی کرائی ۔
()()()
خبرنامہ نمبر3309/2018 
کوئٹہ29نومبر۔کمشنر کوئٹہ ڈویژن محمد ہاشم علزئی کی خصوصی ہدایت پرسیکرٹری آرٹی اے کوئٹہ حبیب اللہ خان نے ٹریفک پولیس ،ایکسائز اور آرٹی اے ٹیم کے ہمراہ ائیرپورٹ روڈ پر غیر قانونی ،جعلی پرمٹ اور دونمبر پر مٹ پر چلنے والے رکشوں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے 14رکشہ بند ،25رکشوں کا چالان اور 50سے زائد رکشوں کو وارننگ دی ۔سیکرٹری آرٹی اے نے کہاکہ کوئٹہ شہر میں غیر قانونی ،دو نمبر اور جعلی پرمٹ والی رکشوں کی وجہ سے حق دار اور حقیقی رکشہ مالکان کا کارروبار خراب ہونے کے علاوہ شہر میں ٹریفک خلل پیدا ہورہا ہے۔ان کے خلاف کاروائی سے شہر میں ٹریفک کا نظام بہتر ہونے کے ساتھ ساتھ غیر قانونی ،دونمبر اورجعلی پرمٹ ہولڈر رکشوں سے چھٹکارہ ملے گا۔انہوں نے کہاکہ کمشنر کوئٹہ کی واضح ہدایت پر غیر قانونی ،دونمبر اور جعلی پرمٹ ہولڈرز رکشوں کے خلاف روزانہ کی بنیاد پر کریک ڈاؤن کیا جائے گا۔ جو غیر قانونی رکشے شہر کے مضافات میں چل رہے ہیں۔ان کے خلاف ڈسٹرکٹ پولیس ،ٹریفک پولیس اور ، محکمہ ایکسائز کے ہمراہ مشترکہ کاروائیاں کی جائیں گی۔انہوں نے کہاکہ رکشوں کا نظام بہتر کرنے اور جعل سازی کے خاتمے کے لئے تمام ریکارڈ کو جلداز جلد کمپیو ٹرائزڈ کیاجائے گا۔ جس سے جعل سازی اوردونمبر رکشوں کاخاتمہ ممکن ہوسکے گا۔
()()()
خبرنامہ نمبر3310/2018 
خضدار29نومبر۔کمشنر قلات ڈویژن و چیئرمین آرٹی اے بشیر احمد بنگلزئی نے گزشتہ روز ضلع لسبیلہ میں قومی شاہراہ پر کوچ حادثے میں انسانی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مذکورہ کمپنی کی مسافر بسوں کی مسلسل حادثات اور انسانی جانوں کے ضیاع پر عوام کے شدید رد عمل کے باعث مذکورہ کمپنی کی بسوں پر کوئٹہ کراچی روٹ پر پابندی عائد کی گئی تھی بعد ازاں عدالت سے حکم امتناعی حاصل کرنے کے بعد مذکورہ کمپنی کی بسیں دوبارہ چلنا شروع ہوگئیں لیکن ان کی نہ تو سروس بہتر ہوئی اور نہ مقررہ قوانین کو خاطر میں لایا گیا کمشنر قلات ڈویژن نے تمام کوچ مالکان کو سختی سے تاکید کی ہے کہ وہ اپنی کمپنی کے (روٹ پر چلنے والی ) بسوں کے جملہ کوائف اور ڈرائیورز کی تفصیلات بھی سیکریٹری ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی قلات ڈویژن بمقام آفس میں سات دن کے اندر جمع کرادیں بصورت دیگر ان کے خلاف کارروائی کی جائیگی۔
()()()
پریس ریلیز 
کوئٹہ 29نومبر ۔ سپریم کورٹ آف پاکستان ( سو موٹو کیس ) میں مورخہ 25 اکتوبر 2018ء کے احکامات کے روشنی میں پیمرا ، ایف آئی اے اور ایف بی آر کی مشترکہ ٹیموں نے کوئٹہ کے مختلف علاقوں نجیب الدین اسٹریٹ ، قندھاری بازار ، سیٹلائٹ ٹاؤن بشمول مستونگ میں کارروائیاں کرتے ہوئے غیر قانون ڈی ٹی ایچ اور ان کے ممنوعہ چینلز کو چلانے میں مدد گار ہونے والے اسمگل شدہ سامان کو بیچنے میں ملوث دوکانداروں پر چھاپے مارے ان چھاپوں کے دوران اب تک ٹوٹل 335 کے قریب اشیاء قبضے میں لی گئیں ہیں جن میں مختلف برانڈز کے رسیو رز ، ایل این بیز ، ڈش وغیرہ شامل ہیں ۔ پیمرا ، ایف آئی اے اور ایف بی آر کی مشترکہ ٹیموں نے اپنی کارروائیاں اس غیر قانونی کام کے خاتمے کو کسی منطقی انجام تک پہنچانے تک جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے اور اس طرح کی کارروائیوں کا دائرہ کار بلوچستان کے مختلف علاقوں تک وسیع کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے عوام الناس سے اپیل کی ہے کہ ایسے غیر قانونی اور اسمگل شدہ سامان کی خرید و فروخت کے کام میں ملوث افراد کی نشاندہی کرتے ہوئے محب وطن شہری ہونے کا ثبوت دیں اور ایسے افراد کی پیمرا کے ٹول فری نمبر 0800-73672 پر اطلاع دیں ۔ 
()()()

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Post comment