خبر نامہ نمبر3289/2018 
کوئٹہ28 نومبر ۔وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے تربت شہر میں گیس سیلنڈرپھٹنے کے نتیجے میں ایک شخص کے جاں بحق اور بچوں سمیت دیگرافراد کی جھلس کر زخمی ہونے کے واقعہ پر دلی دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ وزیراعلیٰ نے کمشنر مکران ڈویژن سے واقعہ کی تفصیلات طلب کرتے ہوئے شہر کے تمام ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کرکے زخمیوں کو علاج ومعالجہ کی بہترین سہولیات کی فراہمی کی ہدایت کی ہے جبکہ انہوں نے شدید زخمیوں کی فوری طور پر کراچی منتقلی کی ہدایت بھی کی ہے، وزیراعلیٰ نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت زخمیوں کے علاج ومعالجہ کے تمام اخراجات برداشت کرے گی، وزیراعلیٰ نے زخمی بچوں کے والدین سے کہا ہے کہ وہ تسلی رکھیں مشکل کی اس گھڑی میں حکومت ان کے ساتھ ہے۔ وزیراعلیٰ نے جاں بحق شخص کی مغفرت اور زخمیوں کی جلدصحت یابی کی دعا کی ہے۔ 
()()()
خبر نامہ نمبر3290/2018 
کوئٹہ 28 نومبر۔صوبائی وزیر مواصلات و تعمیرات نوابزادہ طارق مگسی نے کہا ہے کہ ترقیاتی منصوبوں کے معیار کی بہتری ، وسائل کے درست استعمال اور ترقیاتی منصوبوں کو مرتب کرنے کے حوالے سے جامع پالیسی اور حکمت عملی کے تحت اقدامات کئے جارہے ہیں تاکہ عوام کو فوری ریلیف مل سکے ۔ ان خیالات کا اظہا رانہوں نے گزشتہ روز سابق صوبائی وزراء ڈاکٹر حامد خان اچکزئی ، آغا عمر بنگلزئی اور دیگرو فود سے بات چیت کرتے ہوئے کیا جنہوں نے یہاں ان کے دفتر میں ملاقات کی ۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ صوبائی کابینہ کے اجلاس میں خالی آسامیوں پر نئی بھرتیوں کی منظوری دے دی گئی ہے اور کابینہ نے تمام محکموں کو بھرتی کے عمل کا آغاز کرنے کا کہا ہے ۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ ترقیاتی اور بھرتیوں کے عمل میں میرٹ اور شفافیت کو برقرار رکھنے کیلئے ہر ممکن اقدامات کئے جائیں ۔ خالی اسامیوں پر بھرتیاں خالصتاً میرٹ پر کی جائیں گی اور صوبہ کے قابل اور ذہین پڑھے لکھے نوجوانوں کو روزگار کے بھر پور مواقع فراہم کئے جائیں گے ۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان کے وژن کے عین مطابق صوبے میں اقتصادی ترقی اور عوام کی خوشحالی کے منصوبوں کو اولین ترجیحات میں شامل کر رکھا ہے ۔ جامع پالیسی کے تحت بنیادی ڈھانچے کی فراہمی کو یقینی بنا کر صوبہ بھر میں ترقیاتی کاموں کا جال بچھایا جائے گا ۔ دریں اثناء صوبائی وزیر نوابزادہ طارق مگسی کو صوبائی سیکریٹری علی اکبر بلوچ نے محکمانہ امور سے متعلق بریفنگ دی جس پر صوبائی وزیر نے اطمینان کا اظہارکرتے ہوئے ہدایت کی کہ سرکاری کاموں کی انجام دہی میں مزید تیزی لائی جائے تاکہ عوام کی فلاح و بہبود کیلئے اٹھائے گئے اقدامات کے ثمرات نچلی سطح تک فوری طور پر پہنچ سکیں۔ 
()()() 
خبر نامہ نمبر3291/2018 
کوئٹہ28 نومبر ۔صوبائی سیکریٹری خزانہ نورالامین مینگل نے صوبائی وزیر خزانہ کی ہدایت پر ڈھاڈرمیں خزانہ آفس کا اچانک دورہ کیا۔ سیکریٹری خزانہ نے طویل عرصہ سے غیرحاضر خزانہ آفس کے سب اکاؤنٹنٹ سعید احمد اور تاج محمد کو فوری طور پر معطل کردیا۔ انہوں نے خزانہ آفس کی حالت بہتر بنانے کے لئے تعمیر ومرمت کی مد میں پانچ لاکھ روپے کے اجراء کا اعلان کیا۔ صوبے کے دیگر خزانہ دفاتر کی تعمیر ومرمت کے لئے بھی پانچ پانچ لاکھ روپے جاری کئے جائیں گے۔ اس موقع پر سیکریٹری خزانہ نے ڈپٹی کمشنر بولان سمیت تمام ڈپٹی کمشنروں کو ماہانہ خزانہ دفاتر کے معائنہ کی ہدایت کی ہے۔ 
()()()
خبر نامہ نمبر3292/2018 
کوئٹہ 28 نومبر۔صوبائی وزیر پی ایچ ای /واسا حاجی نور محمد دمڑ نے کہا ہے کہ بارشیں نہ ہونے کی وجہ سے پانی کی قلت میں روز بروز اضافہ ہوتا جارہا ہے جس کی وجہ سے زیر زمین پانی کی سطح بھی تیزی سے نیچے گرتی جارہی ہے دستیاب وسائل کو بروئے کار لاکر محکمہ کے توسط سے عوام کا یہ بنیادی نوعیت کا مسئلہ حل کریں گے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے مختلف وفود سے بات چیت کرتے ہوئے کیا صوبائی وزیر نے کہا کہ ہمیں دعا کرنی چاہیئے کہ اللہ تعالیٰ باران رحمت برسائے گزشتہ کئی سالوں سے بارشیں نہ ہونے کی وجہ سے صوبے کے اکثر اضلاع خشک سالی کی لپیٹ میں ہیں جس سے زراعت اور لائیو سٹاک کے شعبے بری طرح متاثر ہورہے ہیں اور ان شعبوں سے وابستہ افراد بھاری نقصان اٹھا چکے ہیں صوبائی وزیر نے کہا کہ عوام نے ہمیں اپنے مسائل کے حل اور صوبے کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کیلئے منتخب کیا ہے جس کیلئے ہم اپنی جانب سے بھر پور کوششیں کررہے ہیں کیونکہ عوام کی خدمت ہی ہمارا شعار ہے انہوں نے کہا کہ واسا میں بڑے پیمانے پر اصلاحات کرنا چاہتے ہیں اس سلسلے میں اعلیٰ حکام سے جلد ملاقات کی جائے گی اور ماہرین سے تجاویز لیکر اصلاحات لائی جائیں گی تاکہ لوگوں کے پانی کا دیرینہ مسئلہ حل ہوسکے اس موقع پر صوبائی وزیر نے سائلین کی درخواستوں پر عملدرآمد کے احکامات جاری کئے اور مسائل کے حل کیلئے متعلقہ افسران کو ہدایات بھی جاری کیں۔
()()()
خبر نامہ نمبر3293/2018 
کوئٹہ 28 نومبر۔صوبائی وزیر خزانہ میر محمد عارف محمد حسنی سے بدھ کے روز مختلف وفود نے ملاقات کی ملاقات میں بلوچستان پبلک پروکیور منٹ ریگو لر ٹی اتھارٹی( BPPRA ) کے ایم ڈی ڈاکٹر پرویز نوشیروانی ، ایم این سی ایچ کے ڈاکٹر سبین گل اورکمیل احمد کے علاوہ ادارہ برائے بحالی منشیات و علاج معالجہ کے چیف ایڈ منسٹریٹر جاوید بلوچ و دیگر شامل تھے ۔ اس موقع پر وفود سے بات چیت کرتے ہوئے صوبائی وزیر نے کہا کہ منتخب صوبائی حکومت وزیر اعلیٰ جام کمال خان کی قیادت میں حکومتی معاملات اور خصوصاً اداروں کی کار کردگی کو بہتر بنانے کیلئے سنجیدہ کو ششیں کررہی ہے لہٰذا اس حوالے سے محکمہ خزانہ میں ٹرانسفرپوسٹنگ کے ذریعے محکمانہ امور کو ایمانداری سے انجام دینے کیلئے دیانتدار اور فرض شناس آفیسران و دیگر کو ذمہ داریاں دی گئیں ہیں تاکہ فنانس ڈیپارٹمنٹ پر ماضی میں جس بد عنوانی اور کرپشن کا داغ لگاہے وہ ہماری کوششوں اور نیک تمناؤں کی بدولت مٹ سکے ۔ انہوں نے کہا کہ اچھے ٹیم ورک کے تحت محکمہ خزانہ کے تمام امور میں شفافیت اور بہتری سے محکمے کی ساکھ کو بحال کیا جائے گااو اس حوالے سے اگر غیرجانبدار انہ انداز میں محکمے کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے تو معاملات میں بہتری کے حوالے سے واضح فرق نظر آئے گا ۔ اس موقع پر BPPRA کے ایم ڈی نے صوبائی وزیر کو ادارے کے قیام ، مقاصد ، تعارف ، کام کی نوعیت ، دائرہ اختیار ، کارروائی ، پیش رفت اور چیلنجز و رکاوٹوں کے بارے میں مکمل بریفنگ دی انہوں نے BPPRA کے بین الاقوامی قوانین و آئینی حدود ، قانون سازی ولیگل فریم ورک کے بارے میں بھی تفصیلات سے آگاہ کیا ۔ علاوہ ازیں وفود میں شامل ایم این سی ایچ کے ڈاکٹر سبین گل نے ادارے میں کام کی نوعیت ، مشکلات و سائل کے بارے میں صوبائی وزیر کو آگاہ کیا جبکہ ادارہ بحالی منشیات و علاج ومعالجہ کے چیف ایڈ منسٹریٹر جاوید بلوچ سے ملاقات کے دوران صوبائی وزیر نے انہیں چاغی کے علاقہ میں موجود منشیات کے عادی افراد کو ادارے میں داخل اور علاج و معالجہ کے حوالے سے کہا کہ وہ اس ضمن میں چاغی علاقہ سے مرحلہ وار نشے کے عادی افراد کے سینٹر میں داخل کروائیں گے تاکہ نشے کی لعنت میں گرفتار نوجوان صحت یاب ہوکر معاشرے کے ذمہ دار شہری بن کر باعزت زندگی گزار سکیں۔ 
()()()
خبر نامہ نمبر3294/2018 
کوئٹہ 28 نومبر۔ صوبائی مشیر برائے تعلیم حاجی محمد خان لہڑی سے بدھ کے روز رکن صوبائی اسمبلی میر سکندر خان عمرانی نے ملاقات کی ملاقات میں صوبے کے سیاسی معاملات و دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا ۔ اس موقع پر صوبائی مشیر تعلیم حاجی محمد خان لہڑی نے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت صوبے میں تعلیم کے مسائل سے بخوبی آگاہ ہے اور مسائل کے حل کیلئے ہر ممکن اقدامات اٹھائے جارہے ہیں انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان کی قیادت میں صوبائی حکومت صوبے میں معیار تعلیم کی بہتری کیلئے کوشاں ہے ۔ اس موقع پر رکن صوبائی اسمبلی میر سکندر خان عمرانی نے کہا کہ صوبائی حکومت کی جانب سے تعلیم کے فروغ اور بہتری کیلئے کئے جانے والے اقدامات قابل تحسین ہیں۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ مشیر تعلیم اسی طرح صوبے میں معیار تعلیم کی بہتری کیلئے اقدامات اٹھائیں گے۔ اس موقع پر صوبائی مشیر تعلیم نے رکن صوبائی اسمبلی کو حلقے کے مسائل اور ان کے حل کی ممکن یقین دہانی کرائی ۔
()()()
خبر نامہ نمبر3295/2018 
کوئٹہ 28نومبر :۔صوبائی وزیر جنگلات وجنگلی حیات میر ضیا ء اللہ لانگو نے کہا ہے کہ جنگلی جانوروں کے مسکن اوران کے تحفظ کیلئے بھر پورا قدامات کئے جائیں گے ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے محکمہ جنگلات وجنگلی حیات کے آفیسران کی جانب سے محکمہ ہذا کے ترقیاتی پروگراموں کے حوالے سے دی گئی بریفنگ کے موقع پر کیا ۔صوبائی وزیر جنگلات نے محکمے کے آفیسران کو ہدایت کی کہ وہ صوبے میں غیر قانونی شکارکے روک تھام کیلئے چھا پہ مار ٹیمیں تشکیل دیں تاکہ غیر قانونی شکار کا تدارک ممکن ہوسکے ۔صوبائی وزیر نے اس موقع پر ہدایات دیتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم پاکستان کے دس بیلین ٹری پروگرام کو احسن طریقے سے پا یہ تکمیل کیلئے تمام اراکین اسمبلی اور متعلقہ اعلیٰ آفیسران سے مشاورت کریں اور اس ضمن میں ضروری اقدامات کو یقینی بنائیں ۔اجلاس کو بتایا گیا کہ مزکورہ پروگرام سے متعلق جاری تیاریوں کے حوالے سے وزیر اعلیٰ بلوچستان کوبھی تفصیلی بریفنگ دی جائے گی ۔
()()()
خبر نامہ نمبر3296/2018 
شیرانی28نومبر :۔ ڈپٹی کمشنر شیرانی عبدالخالق مندوخیل نے دیہی مرکز صحت خواہ اور گورنمنٹ ہائی سکول مانی خواہ کا دورہ کیا اس موقع پر انہوں نے دیہی مرکز صحت مانی خواہ کے ملازمین کی حاضری چیک کی۔ انہوں نے کہا علاقے میں صحت اور تعلیمی سہولتوں کی فراہمی اوالین ترجیحات میں شامل ہے انہوں نے کہا کہ ملازمین اپنی حاضری کو یقینی بنائیں ، اس حوالے سے کسی قسم کی کوتاہی یا غفلت برداشت نہیں کی جائیگی،انہوں نت کہا کہ مراکز صحت کو ہر ممکن سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جا رہا ہے ۔دریں اثنا گورنمنٹ ہائی سکول کمانی خواہ کے دورے کے موقع پرجاری سالانہ امتحانات کا جائزہ لیتے ہوئے ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ شعبہ تعلیم پر توجہ دینے میں ہی ترقی و خوشحالی کا رازپوشیدہ ہے اساتذہ امتحانات کی کڑی نگرانی کریں تاکہ طلبا کسی قسم کے غیر قانونی ذرائع کا استعمال نہ کریں انہوں نے کہا کہ تعلیم ہی کے بل بوتے پر قومیں دنیا پرحکمرانی کر رہی ہیں۔
()()()
خبر نامہ نمبر3297/2018 
کوئٹہ 28نومبر:۔سیکرٹری ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی کوئٹہ حبیب اللہ خان نے کہاہے کہ شہر میں پبلک لوکل ٹرانسپورٹ کو جدید خطوط پر استوار کرگی تے ہوئے عوام کو زیادہ سے زیادہ سفری سہولیات فراہم کریں گے تمام روٹس کی لوکل بسوں کے معائنہ کا مرحلہ مکمل ہوچکا ہے جلد رپورٹ مرتب کرکے اعلیٰ حکام کو بجوائی جائے گی جس کے تناظر میں لوکل ٹرانسپورٹ کی بہتری کے لئے مربوط پالیسی بنائی جائے گی ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہنہ اوڑک ،ماروڑہ ،اسپلجی، سوریج اور دیگر علاقوں کی لوکل ویگنوں کی کنڈیشن اور کاغذات کی جانچ پٹرتال کے موقع پر ٹرانسپورٹرز سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ سیکرٹری آرٹی اے کوئٹہ نے کہاکہ صوبائی حکو مت اور کمشنر کوئٹہ ڈویژن کی خصوسی ہدایت پر کوئٹہ شہر کے تمام روٹس پر چلنے والی لوکل بسوں کا معائنہ کیاگیا ۔ انہوں نے کہاکہ لوکل ٹرانسپورٹ کی حالت زار بہتر بنانے کے لئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کئے جارہے ہیں۔شہر میں لوکل بسوں کی خستہ حالت اورکنڈیشن خراب ہونے پر سخت کاروائی عمل میں لائی جائے گی۔جن لوکل بسوں کی حالت خراب ہے ان کو نوٹس جاری کئے جائیں گے تاکہ وہ اپنی لوکل بسوں کی حالت بہتر اور نئی ماڈل کی بسیں لائیں۔انہوں نے کہاکہ لوکل ٹرانسپورٹ کو دیگر صوبوں کی لوکل ٹرانسپورٹ کے برابر لانے کے لئے سخت فیصلے کئے جائیں گے کیونکہ لوکل ٹرانسپورٹ کی حالت بہتر نہ ہونے سے عوام کوشدید مشکلات درپیش ہیں۔انہوں نے کہاکہ تمام روٹس پر چلنے والی لوکل بسوں کی موجودگی کو یقینی بنانے کے لئے اقدامات کے جائینگے۔ تاکہ جن روٹس پر بسیں نہیں چلائی جارہی ہیں۔ان کے روٹ پر مٹ معطل کرکے نئے روٹ پرمٹ جاری کئے جائیں۔انہوں نے کہاکہ مہم کے دوران جن مالکان نے اپنی بسوں کا معائنہ نہیں کروایا انہیں سختی سے ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ اپنی بسوں کا معائنہ کروائیں بصورت دیگر ان کے روٹ پرمٹ پر کارروائی روک دی جائے گی ۔انہوں نے کہاکہ شہر میں لوکل ٹرانسپورٹ عوام کے لئے اہم زریعہ ہے اورروزانہ ہزاروں افراد ان میں سفر کرتے رہتے ہیں لوکل ٹرانسپورٹ کی حالت بہتر ہونے سے عوام کو سہولیات ملیں گی۔
()()()
خبر نامہ نمبر3298/2018 
گوادر نومبر :۔ڈپٹی کمشنر گوادر کیپٹن (ر ) محمد وسیم کی ہدایت پر اسسٹنٹ کمشنر گوادر میربازخان کی زیر صدارت ڈینگی بخار کے شعور و آگاہی سے متعلق اجلاس منعقد ہوا اجلاس ضلعی افیسران سمیت ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر آصف شاہوانی، کنٹرولر ولیر با کنڑول بلوچستان منیر احمد خان، ایم ایس ڈاکٹر عبدالطیف دشتی، نٹامولوجیس ثمینہ بلوچ اور دیگر نے شرکت میں اجلاس میں تمام محکموں کے افسران نے ڈینگی کے تدارک اور اس خاتمے کیلئے رائے دیں ۔ اجلاس میں ملیریا کنڑول کے ڈاکٹر منیر احمد نے آگاہی مہم کے سلسلے میں بتایا کہ نومبر کے آخری ہفتے تک ڈینگی مرض کے موسم کے باعث اس مرض کے پھیلنے کا زیادہ خطرہ ہوتا ہے، اس عرصے کے دوران عوام حفاظتی تدابیر اختیار کرنے سمیت گھروں میں صاف پانی کو کھلا نہ چھوڑیں۔ جبکہ بالٹیوں، واٹر کولر، ڈرم، ٹب، کیاریوں، گملوں، بوتلوں میں صاف پانی نہ رکھیں تاکہ ڈینگی مچھر کی افزائشِ نسل کو روکا جا سکے۔اجلاس میں بتایا گیا کہ ڈینگی بخار کی تین اقسام میں سے کلاسک ڈینگی فیور اور معمولی ڈینگی فیور خطرناک نہیں ہوتے ہیں تاہم ڈینگی ہیمریجگ فیور جو ایڈیز نامی مچھر سے پھیلتا ہے، خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ اس لیے لوگ گھروں میں کھڑکیوں اور دروازوں پر جالیاں لگائیں اور احتیاطی تدابیر پر عملدر آمد کریں۔اجلاس میں کہا گیا کہ ڈینگی بخار اور ملیریا سے بچاؤ کے لیے شہری احتیاطی تدابیر اختیار کرتے ہوئے گھروں میں مچھر دانی کے علاوہ مچھر مار اسپرے اور لوشن کا استعمال کریں، اردگرد کے ماحول کو صاف ستھرارکھیں ضلعی افیسر صحت ڈاکٹر آصف شاہوانی نے بتایاکہ ڈینگی بخار ایک مخصوص مادہ مچھر کے کاٹنے سے ہوتا ہے جو صاف پانی میں پرورش پاتا ہے اور طلوع و غروب آفتاب کے وقت حملہ آور ہوتا ہے، اس لیے رات کو سوتے وقت مچھر مار اسپرے لازمی کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ تیزبخار، جلد پر خارش، جسم پر سرخ دھبوں کا نمودار ہونا، آنکھوں و سر اور جوڑوں میں درد محسوس ہونا، ابکائیاں اور قے ڈینگی بخار کی علامات ہیں، اس لیے اگر کسی شخص میں یہ علامات پائی جائیں تو فوراً ڈاکٹرز سے رجوع کیا جائے۔
خبر نامہ نمبر3299/2018
کوئٹہ 28نومبر :۔صوبائی وزیر داخلہ میر سلیم احمد کھوسہ نے کہا ہے کہ عوام نے ہمیں جو منیڈیٹ دیا ہے اس پر پورا تر نے اور عوام کی ترقی و خو شحالی کیلئے بھرپور اقدامات کئے جا رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ عوام کی ترقیاتی اور خوشحالی کیلئے وزیر اعلیٰ بلوچستا ن کے وژن کے عین مطابق جامع پالیسی پر عمل پیراہیں ۔کوئٹہ شہر میں ٹر یفک کے نظام میں بہتری لانے اور ٹریفک نجینئر نگ کو فعال کرنے کیلئے بھرپور اقدامات کئے جائیں ۔ان خیالات کااظہار انہو ں نے کمشنرکوئٹہ محمد ہاشم خان غلزئی سئے ملاقات کے دوران کیا ۔اس موقع پر صوبائی وزیر نے کہاکہ کوئٹہ شہر کاشمارپاکستان کے گنجان آباد شہروں میں ہوتا ہے جسکی وجہ سے شہر کی سٹرکوں میں ٹریفک کی روانی کو بلا تعطل جاری رکھنے کیلئے ضروری اقدامات کئے جائیں ۔اسکے ساتھ ساتھ انہوں نے اس امر پر بھی زور دیا کہ کوئٹہ شہر میں پارکنگ کی فراہمی کیلئے عملی اقدامات کئے جائیں ۔انہوں نے کہا کہ کوئٹہ ہم سب کا شہر ہے اسکے مسائل کے حل کیلئے ہمیں دیر پا بنیادوں پر اقدامات کر کے اس خوبصورت شہر کی پرانی رونقیں بحال کرنا ہونگی ۔
()()()
پریس ریلیز 
کوئٹہ28نومبر ۔رکن صوبائی اسمبلی ملک سکندر خان ایڈ ؤکیٹ نے کہا ہے کہ بلوچستان کے عوام کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کیلئے این ایف سی ایوارڈ کا اجراء کیا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ حلقے کے مسائل کو حل کرنے کیلئے اقدامات اٹھا جارہے ہیں انہوں نے کہا کہ حلقے کے تمام مڈل اور ہائی اسکولوں کی ضروریات سے متعلق محکمہ تعلیم کوتفصیلاً آگاہ کیا گیاہے۔ کوتوال ہائی اسکول میں اٹھارہ سوطالب علم زیر تعلیم ہیں طلباء کیلئے جوضروریات ہیں ان کی تکمیل ضروری ہے اسی طرح کے ماندہ کلی گل محمد میں بچیوں کاہائی اسکول صرف ساڑھے تین ہزار فٹ پر تعمیر ہے ۔ جس میں 778 بچیاں زیر تعلیم ہیں کلی عمرخان کے مڈل اسکول میں بچے صرف چار ہزار فٹ جگہ میں زیر تعلیم ہیں انہوں نے کہا کہ کوشش کی جائے گی کہ اپنے حلقے میں بچوں اوربچیوں کیلئے تعلیم کی سہولیت فراہم ہوسکیں ۔ خصوصاً علاقے میں بچیوں کے ہائی اسکول ہیں جس کی وجہ سے بچیاں صرف میٹرک تک تعلیم حاصل کرسکتی ہیں ۔ لہٰذا علاقے میں گرلزکالج کے قیام کی اشد ضرورت ہے تاکہ بچیاں اپنی تعلیم جاری رکھ سکیں اس حوالے سے اعلیٰ حکام سے رابطہ کیا گیا ہے انہوں نے کہا کہ حلقے میں ہسپتال نہیں ہے جس کی وجہ سے عوام کو طبی سہولیات کی فراہمی میں مشکلات کا سامنا ہے جبکہ کسی کسی جگہ بنیادی مراکزصحت ہیں اس حوالے سے کوشش کی جائے گی کہ عوام کا یہ دیرینہ مسئلہ ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جاسکے انہوں نے کہا کہ علاقے کے عوام کو پینے کے صاف پانی کا مسئلہ درپیش ہے اس ضمن میں علاقے میں تنصیب شدہ ٹیوب ویلوں جوکہ بند پڑے ہیں کی مرمت کرکے انہیں بحال کیا جائے گا تاکہ علاقے میں پانی کابنیادی مسئلہ حل ہوانہوں نے کہا کہ اس ضمن میں اسمبلی میں قرار دادبھی پیش کی گئی ہے جو متفقہ طور پر منظور بھی ہوگئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ علاقے میں گیس کی متواتر فراہمی اور لوڈ شیڈنگ کا بھی مسئلہ ہے اس ضمن میں گیس حکام سے بات چیت کی گئی ہے انہوں نے یقین دہانی کرائی ہے کہ اس مسئلہ کو جلد سے جلد حل کیا جائے گا ۔ 
()()()
پریس ریلیز 
گنداواہ28نومبر ۔ڈپٹی کمشنر جھل مگسی محمد رمضان پلال نے تحصیل گنداواہ پاچھ میں شہید محمد حسن لاشاری بی ایچ یو سینٹر کے افتتاح کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عوام کو ریلیف دینا ہمارا فرض ہے تاکہ علاقے کے عوام کو بہتر سہولیات فراہم ہوسکیں۔انہوں نے کہاکہ پاچھ کا بی ایچ یو کئی سالوں سے بند تھا۔پی پی ایچ آئی جھل مگسی نے جسے فعال کرا کر پاچھ کے عوام کادیرینہ مسئلہ حل کردیا ہے۔اس موقع پر پاچھ کے اہلیان اور معززین،معتبرین نے ڈپٹی کمشنر جھل مگسی محمد رمضان پلال،ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر جھل مگسی ڈاکٹر رخسانہ مگسی،پی پی ایچ آئی جھل مگسی کے ڈی ایس ایم مشتاق احمد بلوچ ڈسٹرکٹ ویلفیئر پاپولیشن جھل مگسی ممتاز علی مگسی و دیگر کا شہید ڈاکٹر محمد حسن لاشاری بی ایچ یو پاچھ کو فنکشنل کرنے پر شکریہ ادا کیا۔ 
()()()

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Post comment