خبرنامہ نمبر 3255/2018
کوئٹہ25 نومبر:۔وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال خان اتوار کے روز رکن صوبائی اسمبلی سردار مسعود خان لونی کی رہائش گاہ پر گئے اور ان سے ان کی ہمشیرہ کے انتقال پر تعزیت اور فاتحہ خوانی کی۔ چیئرمین سینیٹ میر صادق سنجرانی، صوبائی وزیر نور محمد دمڑ اوررکن صوبائی اسمبلی میر سکندر عمرانی بھی ان کے ہمراہ تھے۔
()()()
خبر نامہ نمبر3256/2018
کوئٹہ25 نومبر:۔وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال خان اتوار کے روز شہید سابق ڈی آئی جی نعیم احمد کاکڑ کی رہائش گاہ پر گئے اور ان کے صاحبزادے نثار احمد کاکڑ سے ان کے والدکی وفات پر تعزیت کا اظہار اور فاتحہ خوانی کی۔ صوبائی وزیر نو ر محمد دمڑ اوررکن صوبائی اسمبلی میر سکندر عمرانی بھی ان کے ہمراہ تھے۔
()()()
خبرنامہ نمبر3257/2018
کوئٹہ 25 نومبر:۔ صوبائی وزیر خزانہ میر محمد عارف محمد حسنی نے دیگر صوبائی وزرا سردار عبدالرحمن کھیتران، میر نصیب اللہ مری، ظہور احمد بلیدی، میر محمد خان لہڑی اور قبائلی و سیاسی رہنماء میر قادر جان محمد حسنی کے ہمراہ دہشت گردی کے واقعہ میں شہید ریٹائرڈ پولیس آفیسر نعیم خان کاکڑ کے گھر جاکر ان کی ایصالء ثواب کیلئے فاتحہ خوانی کی۔ اس موقع پر انہوں نے مرحوم کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی اور افسوس کا اظہار کرتے ہو ئے دہشت گردی کے اس درد ناک واقعہ کی شدید الفاظ میں مذمت کی. انہوں نے کہا ہے کہ دہشت گردی اپنی تمام شکلوں میں قابل مذمت ہے اور کسی کو معاشرے میں خوف و ہراس پھیلانے کی ہرگز اجازت نہیں دی جاسکتی لہذا اس حوالے سے پورے ملک کے عوام اور خصوصاً قانون نافذ کرنے والے ادارے ان سماج دشمن عناصر کے خلاف بر سر پیکار ہیں انہوں نے اس حوالے سے کہا کہ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم باہمی تعاون اور اتفاق سے دہشت گردی کے اس ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے میں اپنا کردار ادا کریں۔ صوبائی وزرانے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت فرمائے اور پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے۔
()()()
خبرنامہ نمبر3258/2018
کوئٹہ 25 نومبر 2018: صوبائی وزیر صحت میر نصیب اللہ مری نے کہا کہ بلوچستان نیوٹریشن پروگرام برائے ماں و بچے (بی این پی ایم سی) صوبے میں غذائی قلت پر قابو پانے کے لیے موثر انداز میں اقدامات اْٹھارہی ہے، جس کے مثبت نتائج آرہے ہیں اور اس حوالے سے انہوں نے بلوچستان بھر میں غذائی صورتحال کی شدید اور سنگین صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئینیوٹریشن ایمرجنسی کا اعلان کر دیا۔ یہ بات انہوں نے بلوچستان نیوٹریشن پروگرام کے زیر اہتمام ای پی ائی سینڑ میں خطاب کرتے ہوئے کہا۔ اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سروسز ڈاکٹر شاکر علی بلوچ، بلوچستان نیوڑیشن پروگرام کے صوبائی سربراہ ڈاکٹر امین خان مندوخیل، یونیسف کے چائلڈ سرائیوال آفیسر مس گرادہ برکویلا، یونیسف کے نیوٹریشن آفیسر ڈاکٹر عامر اکرم، عالمی ادارہ صحت کے صوبائی سربراہ ڈاکٹر بابر عالم، تمام متعلقہ اضلاع کے ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسران، پی پی ایچ آئی کے ڈی ایس ایمز، نیشنل پروگرام اور این جی اوز کے ضلعی حکام، ڈسٹرکٹ نیوٹریشن آفیسران و متعلقہ حکام نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔صوبائی وزیر صحت میر نصیب اللہ مری نے کہا کہ ماؤں اور بچوں کو غذائی قلت سے بچانا ہم سب کی مذہبی، قومی، سماجی اور اخلاقی ذمہ داری ہے اور اس مقدس کام کیلئے تمام مکتبہ فکر کے لوگوں کو اپنا بھرپور کردار ادا کرناہو گا۔ اس پروگرام کی افادیت و اہمیت کو پورے صوبے میں عملی جامعہ پہنانے کے لیے مزید اقدامات ناگزہیں کیونکہ غذائی قلت کا جْز انسانی زندگی پر نہایت ہی اہمیت کا حامل ہے۔ بلوچستان میں غذائی قلت سے منسلک طبی پیچیدگیوں اور ان کے اثر سے زیادہ متاثر ہونے والے خواتین اور بچوں کی شرح دیگر صوبوں کی نسبت بہت زیادہ ہے۔ جبکہ صوبے کے دور دراز علاقوں میں بسنے والے لوگوں کی شمولیت اور ان کے معلومات میں اضافے کے لیے امپلیمٹنگ پارٹنرز نیوٹریشن کی ترویج وآگاہی کے لیے مزید کام میں وسعت لانا ہوگا۔ انہوں نے احکامات دیتے ہوئے کہا کہ متعلقہ پارٹنرز اس حوالے بچوں، ماؤں کی مناسب غذا، انھیں غذائیت کے بنیادی اصول زیادہ اہمیت والے غذائی دستیاب وسائل کا بہتر استعمال، حفظان صحت کے مناسب طریقے، حاملہ خواتین، ماوْں و بچوں کے صحت کو مزید بہتر بنانے کے بارے میں تفصیلی معلومات فراہم کریں۔تاکہ لوگ بہتر خوراک کو استعمال میں لاتے ہوئے اپنی روز مرہ کے معمولات میں تبدیلی لائیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت بلوچستان اقوام متحدہ کے طے شدہ پائیدار ترقیاتی اہداف 0 SDG’s 203 کے حصولٰ کے لیے انتہائی سنجیدہ اقدامات اْٹھارہی ہے اور بہترین نتائج کا خواہاں ہے تاکہ بچوں اور ماوں کی شرح اموت کو روکا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ نیوٹریشن کی ترویج وآگاہی کے لیے کمیونٹی کی سطح پرفادر و مدر سپورٹ گروپ بنائے گئے ہیں کہ وہ اس حوالے سے اپنی ذمہ داریوں کا ادراک کرتے ہوئے بچوں، ماؤں کی مناسب غذا کا خیال کریں اور اپنے روز مرہ کے معمولات میں تبدیلی لائیں، علاوازیں کمیونٹی کی سطح پر وقتافوقتا آگاہی و مشاوراتی سیشنزکا انعقاد یقینی بنائیں۔انہوں نے کہا کہ میرا ماننا ہے کہ لوگوں کے منفی رویوں میں مثبت تبدیلی لا کر ہی ہم اس سنگین مسئلے پر کسی حد تک قابو پاسکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ غذائی قلت کے نتیجے میں پست قامت اور دیگر طبی پیچیدگیوں کا تذ کرہ اور اس سنگین مسئلے کے دیر پا حل کے لیے وزیر اعظم پاکستان جناب عمران خان نے اپنے سے قوم سے خطاب میں فرمایا تھا اور صوبائی حکومت وزیر اعلیٰ جام کمال کی سربراہی میں نیوٹریشن کے لیے اقدامات کو وسعت دینے کا ارادہ رکھتی ہے، مگر اس میں حکومت بلوچستان کو وفاقی حکومت، بین الاقوامی اداروں کا اشتراک مالی، تکنکی معاونت کی ضرورت درکار رہے گا۔اس موقع پر صوبائی سربراہ بلوچستان نیوٹریشن پروگرام برائے ماں و بچے ڈاکٹر امین خان مندوخیل نے بتایاکہ پروگرام کے سروسز اس وقت صوبے میں صرف سات اضلاع تک محدود ہے جس میں ضلع نوشکی،خاران، پنجگور،کوہلو، سبی، قلعہ سیف اللہ اور ڑوب شامل ہیں جبکہ اس سنگین مسئلیکے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات ناگزیر ہیں اور اس پروگرام کے ترویج کو صوبے کے دیگر اضلاع میں بڑھانا ہو گا۔ جس پر صوبائی وزیر صحت نے ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا۔ اجلاس میں تمام اضلاع کے حکام نے تفصیلات سے آگاہ کیا۔ بعد از صوبائی وزیر صحت میر نصیب اللہ مری ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سروسز ڈاکٹر شاکر علی بلوچ اور بلوچستان نیوٹریشن پروگرام کے سربراہ ڈاکٹر امیر خان مندوخیل نے میڈیا کو تفصیلات سے اگاہ کیا۔
()()()

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Post comment