خبرنامہ نمبر 662/2019
سبی24فروری:۔وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے اپنے دورہ سبی کے دوران سبی کے قبائلی عمائدین سے ملاقات کی، اس موقع پر روایتی بلوچی حال احوال کیا گیا، بعدازاں کمشنر سبی ڈویژن کی جانب سے وزیراعلیٰ بلوچستان، صوبائی وزراء اور قبائلی عمائدین کے اعزاز میں ظہرانہ دیا گیا۔ 
()()()
خبرنامہ نمبر 663/2019
کوئٹہ24فروری:۔وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے ڈیرہ مراد جمالی بم دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے دھماکے میں ایک شخص کے جاں بحق ہونے اور دیگر لوگوں کے زخمی ہونے پر دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے، اپنے ایک بیان میں وزیراعلیٰ نے کہا ہے کہ امن دشمن عناصر بے گناہ لوگوں کو دہشت گردی کی بزدلانہ کاروائی کے ذریعہ نشانہ بناکر اپنے مذموم مقاصد کا حصول چاہتے ہیں، دنیا کا کوئی بھی مذہب ومعاشرہ اور ہماری قبائلی روایات معصوم لوگوں کا ناحق خون بہانے کی اجازت نہیں دیتیں اور ایسی کاروائیوں میں ملوث عناصر کسی قسم کی رعایت کے مستحق نہیں‘ وزیراعلیٰ نے دھماکے میں ملوث عناصر کی گرفتاری کے لئے تمام وسائل بروئے کار لانے اور سیکیورٹی اقدامات کو مزید موثر بنانے کی ہدایت کی ہے جبکہ انہوں نے زخمیوں کو علاج معالجہ کی بہترین سہولتوں کی فراہمی کی ہدایت بھی کی ہے۔ 
()()()
خبرنامہ نمبر 664/2019
سبی24فروری:۔وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے ایک رنگارنگ تقریب میں قدیم و روایتی سبی میلے کا افتتاح کردیا۔ صوبائی وزراء میر نصیب اللہ مری، زمرک خان اچکزئی، میرمحمد خان لہڑی، عبدالخالق ہزارہ، پارلیمانی سیکرٹری میر سکند علی عمرانی، وزیراعلیٰ کے کوآرڈینیٹر عبدالخالق اچکزئی، آئی جی ایف سی نارتھ سید فیاض حسین ؂ شاہ، اعلیٰ سول وعسکری حکام اور سبی کے علاوہ صوبے اور ملک کے مختلف حصوں سے آئے ہوئے لوگوں کی بڑی تعداد نے افتتاحی تقریب میں شرکت کی۔ افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہاکہ سبی کا تاریخی میلہ اہمیت کا حامل ہے جو مختلف ادوار میں حکومت اور عوام کے درمیان رابطے کا بہترین ذریعہ بھی رہا ہے، اس میلے کو بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کی میزبانی کا شرف بھی حاصل ہے، انہوں نے کہا کہ بلوچستان بنیادی طور پر ایک زرعی خطہ ہے، مالداری اور زراعت صوبے کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں اور سبی کے تاریخی میلے میں مالداری اور زراعت کے شعبوں کی خصوصی نمائندگی ہوتی ہے جس میں مالداروں اور زمینداروں کو ایک دوسرے کے تجربات سے استفادہ کرنے کا موقع بھی ملتاہے، وزیراعلیٰ نے کہا کہ زراعت اور مالداری کے شعبوں کی ترقی حکومت کی ترجیحات کا حصہ ہے، ان شعبوں کو جدید خطوط پر استوار کرکے ان سے وابستہ افراد کے روزگار کو تحفظ اور معاشی سرگرمیوں کے فروغ دیا جائے گا، انہوں نے کہا کہ ہم اللہ تعالیٰ کے شکر گزار ہیں کہ بلوچستان کے طول وعرض میں باران رحمت ہوئی جس سے طویل خشک سالی کا خاتمہ ہوگا اور زراعت اور مالداری کے شعبوں پر خوشگوار اثرات مرتب ہوں گے، انہوں نے کہاکہ مالداری ہو یا زراعت یا پھر جدید شہری ترقی ان سب کے لئے پرامن ماحول کا قیام ضروری ہے، امن اور ترقی کا چولی دامن کا ساتھ ہے او رصوبائی حکومت امن کے قیام کو اولین اہمیت دیتی ہے، ہمیں اپنی سیکیورٹی فورسز پر فخر ہے جنہوں نے امن وامان کے قیام کے لئے ناقابل فراموش قربانیاں دیں، وزیراعلیٰ نے کہا کہ امن وامان اور دیگر قومی اہمیت کے حامل امور پر سیاسی وعسکری قیادت اور عوام میں مکمل ہم آہنگی امن وامان کے لئے خوش آئند ہے اور وہ پورے وثوق سے کہہ سکتے ہیں کہ امن ومان کی صورتحال میں نمایاں بہتری آئی ہے جس کے اثرات زندگی کے ہرشعبہ پر مرتب ہورہے ہیں، وزیراعلیٰ نے کہا کہ عوامی صوبائی حکومت نے گذشتہ ساڑھے پانچ ماہ کی قلیل مدت میں صوبے کی ترقی کی سمت مقرر کردی ہے، تعلیم، صحت اور امن معاشرے کے ہر فرد کی ضرورت ہے اور ہم عوام کو تعلیم اور صحت کی سہولتوں کے ساتھ ساتھ انہیں ایک پرامن ماحول کی فراہمی کو بھی یقینی بنارہے ہیں، انہوں نے کہا کہ ہم صوبے کے وسائل کو ترقی دینے کے علاوہ اس امر کو بھی یقینی بنانے کے لئے کوشاں ہیں کہ ترقی کے عمل سے بلوچستان کے عوام بھرپور استفادہ کرسکیں۔ صوبائی حکومت نے عوام کی سہولت اور نچلی سطح پر ان کے مسائل کے فوری حل کے لئے اختیارات کی مرکزیت کو ختم کرتے ہوئے انہیں نچلی سطح تک منتقل کرنے کی پالیسی اختیار کی ہے تاکہ عوام کو روزگار کے حصول اور دیگر مسائل کے لئے کوئٹہ نہ آنا پڑے، وزیراعلیٰ نے کہاکہ بدقسمتی سے ماضی میں نہ تو عوامی مفاد کی پالیسیاں بنائی گئیں اور نہ ہی ترقی کے پیمانے عوام کی ضروریات کو مدنظر رکھ کر مقرر کئے گئے جس کی وجہ سے عوام اور صوبہ پسماندگی کا شکار رہے، انہو ں نے کہا کہ امن اور ترقی ہمارے مشترکہ مقاصد ہیں، بلوچستان ہم سب کا گھر ہے، اور اس کی تعمیر وترقی ہماری مشترکہ ذمہ داری ہے، ہم سب متحدہوں گے تو دشمن کو ہماری طرف میلی نظر سے دیکھنے کی جراء ت بھی نہیں ہوگی، قبل ازیں مشیر لائیواسٹاک مٹھا خان کاکڑ نے سپاسنامہ پیش کرتے ہوئے میلے کی تاریخ اور اس کی اہمیت پر روشنی ڈالی، جبکہ کمشنر سبی ڈویژن آغا فیصل شاہ نے مہمانوں کے لئے افتتاحی کلمات کہے، وزیراعلیٰ سبی میلے کی افتتاحی تقریب میں پہنچے تو ان کا شاندار استقبال کیا گیا، صوبائی مشیر لائیو اسٹاک نے وزیراعلیٰ ،صوبائی وزراء اور آئی جی ایف سی کو روایتی پگڑیاں پہنائیں، اس موقع پر رنگارنگ پروگرام پیش کئے گئے جنہیں بے حد سراہا گیا۔ 
()()()
خبرنامہ نمبر 665/2019
سبی24فروری:۔وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے ڈویژنل ہسپتال سبی میں خواتین اور بچوں کے وارڈ کا افتتاح کیا، اس موقع پر وزیراعلیٰ کو منصوبے کے بارے میں بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ منصوبہ تقریباً پچاس لاکھ روپے کی لاگت سے مکمل کیا گیا ہے جس میں بچوں کا آپریشن تھیٹر، نرسری، خواتین کا آپریشن تھیٹر، لیبارٹری اور ادویات کے سٹور کے علاوہ دیگر ضروری سہولیات فراہم کی گئی ہیں، وزیراعلیٰ نے وارڈ کے قیام پر مسرت کا اظہار کرتے ہوئے اسے خواتین اور بچوں کی صحت کے تحفظ کی جانب اہم پیشرفت قرار دیا، ڈاکٹروں سے بات چیت کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہ بلوچستان کو زچہ وبچہ کی شرح اموات میں اضافہ کا سنگین چیلنج درپیش ہے جس سے نمٹنے کے لئے حکومت بھرپور اقدامات کررہی ہے تاہم اس حوالے سے گائناکالوجسٹ اور لیڈی ڈاکٹروں کا اہم کردار ہے، وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبائی حکومت نے ڈسٹرکٹ ہسپتالوں میں کنٹریکٹ کی بنیاد پر ڈاکٹروں کی تعیناتی کی پالیسی پر عملدرآمد کا آغاز کیا ہے جس کے مثبت نتائج برآمد ہورہے ہیں، وزیراعلیٰ نے ڈاکٹروں پر زورد یا کہ وہ عوام کو علاج معالجہ کی سہولتوں کی فراہمی کے لئے اپنے فرائض محنت اور لگن سے ادا کریں، اس موقع پر انہوں نے لیڈی ڈاکٹروں کی جانب سے پیش کئے گئے مسائل کے حل کی یقین دہانی بھی کرائی،قبل ازیں وزیراعلیٰ نے وزیراعلیٰ ڈسٹرکٹ ڈیویلپمنٹ پروگرام کے تحت سبی میں تعمیر کئے جانے والے رائیڈنگ کلب کا افتتاح بھی کیا۔منصوبے کے حوالے سے وزیراعلیٰ کو بتایا گیا کہ منصوبہ سات ملین روپے کی لاگت سے مکمل کیا گیا ہے جس سے سبی کے عوام کو گھڑ سواری کی سہولت فراہم ہوگی۔ 
()()()
خبرنامہ نمبر 666/2019
سبی24فروری:۔وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے سبی میلہ میں لگائی گئی صنعتی نمائش کا افتتاح کیا۔ صوبائی وزراء میرنصیب اللہ مری، زمرک خان اچکزئی، مٹھا خان کاکڑ، عبدالخالق ہزارہ، میر محمد خان لہڑی، پارلیمانی سیکریٹری میر سکندرعمرانی، وزیراعلیٰ کے کوآرڈینیٹر عبدالخالق اچکزئی بھی وزیراعلیٰ کے ہمراہ تھے، وزیراعلیٰ نے محکمہ زراعت، محکمہ لائیواسٹاک، محکمہ صنعت، محکمہ صحت، زرعی انجینئرنگ اور محکمہ تعلقات عامہ سمیت نمائش میں لگائے گئے دیگر محکموں کے اسٹالوں کا معائنہ کیا جہاں انہیں متعلقہ سیکریٹریوں کی جانب سے اپنے اپنے محکموں کے اسٹالوں کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔
()()()
خبرنامہ نمبر 667/2019
لورالائی24فروری : ۔صوبائی وزیر صنعت و تجارت حاجی محمد خان طور اتمانخیل نے کہا ہے کہ امن کی خواہش کو پاکستان کی کمزوری نہ سمجھا جائے ہندوستان کی طرف سے پاکستان کود ھمکیوں کی پرزور الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پوری قوم شوق شہادت کے جذبہ سے سرشار ہے اگر مودی نے کسی قسم کی کوئی حماقت کی توپوری قوم پاک افواج کے شانہ بشانہ ہو کر اس کی جارجیت کا ایسامنہ توڑ جواب دیگی کہ مودی کی آنے والی نسلیں بھی یاد رکھیں گی انہوں نے کہا ہندوستان کا ہمیشہ یہ وطیر ہ رہا ہے کہ وہا ں کے حکمران الیکشن جتنے کیلئے اور مقبوضہ کشمیر میں مظلوم کشمیریوں پر کیے جانے والے ظلم و ستم سے عالمی توجہ کو ہٹانے کیلئے اس قسم کی حرکتیں کرتے رہتے ہیں مگر ہم ہندوستان کو بتا دینا چاہتے ہیں کہ افواج پاکستان بھارتی اینٹ کا جواب پتھر سے دینے کی بھر پور صلاحیت رکھتی ہے قوم کا بچہ بچہ دفاع پاکستان کے جذبہ سے سرشار ہے اور ملک اور قوم کے تحفظ کیلئے جان لینے اور دینے کا حوصلہ رکھتے ہیں انہوں نے کہا کہ جنگ کسی مسلے کا حل نہیں ہے بھارت ہوش کے ناخن لے اور عالمی برادری بھارتی غنڈہ گردی کا سختی سے نوٹس لے کیونکہ خطے میں کشید گی پوری دینا کیلئے خطرہ ثابت ہوسکتی ہے انہوں نے کہا کہ پاکستان اٹیمی قوت ہے اور ہر دشمن کے دانت کھٹے کرنے کیلئے ہمہ وقت تیار ہے انہوں نے کہا ہمسایہ ملک افغانستان میں پچھلی دو دہائیوں سے جاری لڑائی میں ہونیوالانقصان ہمارے سامنے ہے اور یہ بات قابل ذکر ہے کہ مذاکراتی عمل ہی تمام تر مسائل کا بہترین حل ہے اور دوستی اور بھائی چارے کی پالیسی پر یقین رکھتا ہے انہوں نے کہا پاکستان نے دوستی کا ہاتھ آگے بڑھانے اور بھارت کو مذاکرات کی میز پر بیٹھنے کی دعوت دینے میں پہل کی مگربھارت نے ہمیشہ منافقانہ پالیسی اختیا ر کرتے ہوئے ہر پلیٹ فارم سے راہ فرار اختیار کی انہوں نے کہا کہ بھارت سن لے کہ پاکستان ایک اٹیمی طاقت ہے اور ہم نے ایٹم بم شوکہش میں سجا کررکھنے کیلئے نہیں بنایا اور اس بار جنگ ایٹم بم سے ہوگی اوریہ جنگ نتیجہ خیز ہوگی اور بھارت صفحہ ہستی سے مٹ جائے گا۔ 
()()()
خبرنامہ نمبر668/2019 
بارکھان24فروری:۔ صوبائی حکومت وزیر اعلی بلوچستان جام کمال خان کی قیادت میں مستحکم ہے۔صوبہ بلوچستان کے عوام کے حقوق کے تحفظ سمیت تمام بنیادی سہولتوں کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے ۔ضلع بارکھان کے ہر گھر تک بجلی،روڈ اور تعلیم وصحت کی سہولیات مہیا کی جائیں گی ۔ان خیالات کا اظہارصوبائی وزیر خوراک وبہبودآبادی سردار عبدالرحمن کیھتران نے یونین کونسل اوچڑی اور یونین کونسل چوہڑ کوٹ کے دورہ کے موقع پر لوگو ں سے بات چیت کرتے ہوئے کیا ۔ صوبائی وزیر کے یونین کونسل اوچڑی پہنچنے پرلوگوں نے وڈیرہ صاحب جان لہمہ کی رہائشگاہ پر بڑی تعداد میں ان کا استقبال کیا۔ سابق چیئرمین میونسپل کمیٹی سردار ذادہ سلام شاہ کیھتران،میر شاہ باز کیھتران،میر ایوب خان،وڈیرہ ذولفقار،وڈیرہ شاہ جہان کردرانی،وڈیرہ نیک محمد باڈیانی،حاجی صمد خان زکریانی،نوراحمد ایشانی،ودیگر قبائلی معتبرین ،سرکاری آفیسران ایس ڈی اوایریگیشن امیر محمد،ایس ڈی او پی ایچ ای محمد نسیم زرکون اس موقع پر ان کے ہمراہ تھے ۔صوبائی وزیر نے مراد خان عیشانی اوچڑی میں لائیوسٹاک شفاء خا نہ اور علاقہ اوچڑی کے زمینداروں میں ڈوزر کے گھنٹے تقسیم کئے ،اس کے بعد صوبائی وزیر چوہڑ کوٹ گئے اور وہاں وڈیرہ شاہ میر چوٹی میں شفاء خانہ حیوانات ،تین عدد ٹرانسفارمر اور چوٹی میں روڈ سے بستی نظر محمد چوٹی تک پختہ روڈ بستی بجار حسیانی میں واٹر سپلائی سکیم ،بستی احمد خان حسیانی میں واٹر سپلائی سکیم اور بستی کوجا قاسمانی میں زرعی بند ،بستی رسول بخش قاسمانی کیلئے پختہ روڈ اور پرائمری سکول بمعہ بلڈنگ دینے کا اعلان کیا۔علاقہ کو جا قاسمانی میں صوبائی وزیر نے اجتماعات سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت وزیر اعلی بلوچستان جام کمال خان کی قیادت میں مستحکم ہے عوام کو تما م بنیادی سہولتیں فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے انہوں نے کہا کہ ضلع بارکھان کے ہر گھر تک بجلی،روڈ اور تعلیم وصحت کی سہولیات مہیا کی جائیں گی،محکمہ تعلیم اور صحت میں کبھی بھی مداخلت نہیں کی اورنہ کسی کی سفارش کی کیونکہ ان شعبوں سے ہمارا مستقبل وابستہ ہے صوبائی وزیر نے کہا کہ بلوچستان بالخصوص ضلع بارکھان کی ترقی اور خوشحالی میری دلی خواہش ہے اور صوبائی حکومت کی طرف سے مہیا کردہ وسائل ضلع بارکھان کے عوام کی فلاح وبہبود پر خرچ کروں گا جس سے بارکھان ترقی کی راہ پر گامزن ہوگا۔ 
()()()
خبرنامہ نمبر669/2019 
سبی 24فروری :۔صوبائی مشیر برائے لائیوسٹاک مٹھا خان کاکڑ نے کہا ہے کہ سبی میلہ ایک تاریخی ، روایتی اور ثقافتی حیثیت کا حامل ہے جو قیام پاکستان سے پہلے اور 1947 کے بعد بھی کامیابی سے منعقدہوتا آرہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ملک بھر سے بڑی تعداد میں لوگ میلے میں شرکت کرتے ہیں اس سال بھی سبی میلہ روایتی جوش و جذبے کے ساتھ منایا جارہا ہے۔انہوں نے ان خیالات کا اظہار سبی میلے کی ابتدائی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیاانہوں نے کہا کہ سبی میلہ زراعت اور مالداری کے شعبوں کی ترقی میں ایک اہم کردار ادا کر رہا ہے انہوں نے کہا سبی میلے کے موقع پر مال مویشیوں کی نمائش اور فروخت کے علاوہ زرعی نمائش کا ملکی ترقی میں اہم کردار ہے۔صو بائی مشیر نے کہا ہے کہ سبی نہاڑی بل نسل ایک نایاب نسل ہے جس کی خوبصورتی کی مثال پوری دنیا میں نہیں ملتی انہوں نے کہا کہ میلے کے ذریعے لوگوں کو بہترین تفریحی سرگرمیوں کے مواقع بھی میسر ہوآئے ہیں۔ صوبائی حکومت جام کمال خان کی قیادت میں بھر پور کوشش کر رہی ہے کہ زندگی کی ہر شعبے میں بہتری لائی جائے تاکہ عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف مل سکے۔اسں موقع پر صوبائی مشیر مٹھا خان کاکڑ نے وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال خان کو روایتی پگڑی پنہائی ۔
()()()
خبرنامہ نمبر670/2019 
پشین24فروری :۔ ڈپٹی کمشنر میجر(ر)اورنگزیب بادینی نے سب جیل پشین کا دورہ کیااور وہاں قیدیوں کے مسائل سنے اور ان کے حل کیلئے فوری احکامات جاری کئے۔اس موقع پر سردی سے بچاو کیلئے گرم کمبل اور پانی کے کولرز سمیت کئی ضروریات کا سامان تقسیم کیا گیا۔ ڈپٹی کمشنر میجر (ر)اورنگزیب بادینی نے کہا کہ قیدی بھی معاشرے کا حصہ ہیں ۔یہ الگ بات ہے کہ انہیں جرائم یا وارداتوں سے نفرت اور غلطی کی احساس دلانے کیلئے جیل میں بند کیا جاتا ہے ایک پڑھے لکھے معاشرے میں رہنے کے سبب ہمیں کرائم اور ہر سماج دشمن اقدام سے دور رہنا ہوگاقیدیوں کے جائز مسائل کو حل کرنا ہماری ترجیحات میں شامل ہے پشین میں قیام امن کی صورتحال مثالی ہے تحفظ عامہ کو ہر حال میں برقرار رکھا جائیگا ۔انہوں نے کہاکہ سماج دشمن قوتوں کو کسی صورت معاف نہیں کیا جائیگا جیل انتظامیہ قیدیوں کیساتھ اچھے برتاو کا سلسلہ جاری رکھیں انہوں نے کہا کہ امت مسلمہ ہونے کے ناطے ہمیں انسانیت کی خدمت کرنی ہوگی زئی وخیلی تعصب محبت کی نہیں بلکہ نفرتوں کی علامات ہیں ہمیں اللہ کی رضامندی کو اپناتے ہوئے ہمیں بلا غرض عوام کی خدمت کرنی چائیے کیونکہ انسانی خدمت سے ہی دل کو سکون اور راحت ملتی ہے۔ 
()()()
خبرنا مہ نمبر671/2019 
سبی 24فروری :۔سالوں پر محیط میرچاکرخان اعظم کے دور سیمنعقد ہونے والا سبی کا سالانہ تاریخی اور ثقافتی میلہ مویشیاں و اسپاں 2019 کو رنگا رنگ، شاندار اور پروقار تقریب کا افتتاح گزشتہ روز وزیر اعلی بلوچستان جان کمال خان نے کیا جس میں صوبائی وزرا، میر نصیب اللہ خان مری ،زمرک خان اچکزئی ،عبدالخالق ہزارہ، مشیر تعلیم حاجی محمد خان لہڑی اور مشیر لائیو سٹاک اور ڈیری فارمز مٹھا خان کاکڑ آئی جی فرنٹیئرکور سید فیاض حسین شاہ سیکٹر کمانڈر، ذوالفقار باجوہ، برگیڈیر اویس مجید سبی سکاوٹس ، کمشنر سبی ڈویڑن سید فیصل احمد ،ڈپٹی کمشنر سبی سید زاہد شاہ ڈی جی لائیوسٹاک غلام حسین جعفر و دیگر اعلی حکام، ضلعی انتظامیہ ، قبائل رہنما سردار احمد بنگلزئی اور عوام کی بڑی تعداد شریک تھی اس موقع پر معزز مہمانوں کو صوبے کے روایتی دستار بھی پہنائے گئے تقریب کا آغاز صوفی سلیمان نقشبندی نے تلاوت کلام پاک اور صدارتی ایوارڈ یافتہ مشہور نعت خوان ریاض ندیم نیازی نے نعت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم پیش کرتے ہوئے کیا۔ اسٹیڈیم آمد پر سکول کے ننھے طالبعلم نے معزز مہمان خصوصی وزیر اعلی بلوچستان کی گاڑی پر پھول کی پتیاں بھی نچھاور کیں تقریب کے آغاز سے پہلے فضا میں غبارے چھوڑئے گئے اور کبوتر بھی اس موقع پر آزاد کیے گئے جبکہ اس پر سکیورٹی پر پاک فوج، ایف سی پولیس اور لیویز کے جوان مامور تھے اس تاریخی و ثقافتی میلہ کے افتتاحی تقریب میں ایف سی، پاک آرمی کے جوانوں، گورنمنٹ گرلز ماڈل اسکول سبی اور گورنمنٹ بوائز ماڈل اسکول کے طلبا و طالبات کیبینڈ کی خوبصورت اورشاندار پرفارمنس کو دیکھ کر لوگوں نے دلچسپی کا اظہار کیا طالب علموں نے فلاور شو کے خوبصورت مظاہرہ سے شرکاء کو نہ صرف اطف اندوزہوئے بلکہ اپنے مخصوص انداز میں معزز مہمانوں ویلکم بھی کہا جب کہ اسی موقع پر مالداروں کی حوصلہ افزائی کیلئے جانوروں کی نمائش پریڈ کا انعقاد بھی کیا گیا۔ جس میں نہ صرف اندرن صوبہ سے بلکہ ملک بھر سے مالداروں نے نے حصہ لیا۔اور اس موقع پر گھوڑا اور کٹلرقصاور علاقائی و ثقافتی رقص، نیزابازی اور دیگر عوامی دلچسپی کے پروگراموں کا انعقاد بھی کیا گیا۔عوام نے اس طرح کے تفریحی ایونٹ کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے پروگراموں سے نہ صرف تفریح کے مواقع ملتے ہیں بلکہ اپنے تہزیب وثقافت سے بھی آگہی ہوئی ہے۔جس سے تجارتی اور ثقافتی سرگرمیوں کو بھی فر وغ بھی ملتا ہے۔
()()()
خبرنامہ نمبر672/2019 
سبی 24فروری :۔صوبائی مشیر لائیوسٹاک مٹھاخان کاکڑ نے کہا ہے کہ سبی کا سالانہ تاریخی و ثقافتی میلہ ملک اور صوبے کی معیشت کے استحکام میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے صوبے کے بیشتر لوگوں کا انحصار گلہ بانی اور زراعت سے وابستہ ہے صوبائی حکومت لائیوسٹاک زراعت اور دیگردیگر شعبوں میں بہتری کے لئے اقدامات کررہی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے سبی کے سالانہ تاریخی و ثقافتی میلے کی ابتدائی تقریب کے دوران کیا اس موقع پر صوبائی وزیر صحت میر نصیب اللہ مری صوبائی وزیر زراعت انجینئر زمرک خان انسپکٹر جنرل فرنٹیئر کور میجر جنرل سید فیاض کمشنر سبی ڈویڑن سید فیصل احمد ڈپٹی کمشنر سبی سید زاہد شاہ محکمہ لائیوسٹاک محکمہ زراعت سمیت مختلف محکموں کے افسران موجود تھے اس موقع پر صوبائی مشیر لائیوسٹاک نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ سبی کا سالانہ تاریخی و ثقافتی میلہ ملک اور صوبے کے لوگوں کے ذریعہ معاش کا اہم ذریعہ ہے اس تاریخی میلے میں شرکت کے لئے دور دراز سے لوگ آتے ہیں جن کی حوصلہ افزائی ہمارا بنیادی فریضہ ہے یہاں ہزاروں کی تعداد میں مختلف جانور لائے جاتے ہیں جن کی خریدوفروخت میں مال داروں کو براہ راست فائدہ ہوگا انہوں نے کہا کہ اس ثقافتی میلے کو کامیاب بنانے کے لئے ہم سب نے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا تاکہ یہاں کے لوگ اس سے براہ راست فائدہ حاصل کرسکیں انہوں نے کہا ہے کہ محکمہ لائیوسٹاک مال داروں کو تمام تر بنیادی سہولیات فراہم کرنے کے لیے کوشاں ہیں اس محکمہ کی بہتری کے لیے ممکن اقدامات کئے جا رہے ہیں اس موقع پر سبی اسٹیڈیم میں ملی نغمے گھوڑا دوڑ نیزابازی موٹرسائیکل جمپ کیڈٹ کالج مستونگ کے گھوڑ سوار اور بلوچستان کانسٹیبلری کے گھوڑا سواروں نے بھی سلامی پیش کی اور دیگر مختلف آئٹمز بھی پیش کیے گئے دریں اثنا صوبائی مشیر لائیوسٹاک نے سپاسنامہ بھی پیش کیا آخر میں صوبائی وزیر نے مختلف محکموں کی جانب سے لگائے گئے سٹال کا معائنہ بھی کیا۔
()()()
خبرنامہ نمبر673/2019 
سبی 24فروری :۔ وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے سبی میلہ میں محکمہ تعلقات عامہ کے سٹال کا معائنہ کیا اس موقع پر سبی کے ڈویژنل انچارج سعید احمد شاہوانی اور تعلقات عامہ کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر تیمور خان کاکڑ نے وزیراعلی بلوچستان جام کمال خان کو محکمے کے سٹال ودیگر تفصیلات سے آگاہ کیا ۔ 
()()()
پریس ریلیز 
کوئٹہ 24فروری :۔فقیر حسین خلجی انتقال کرگئے وہ ماسٹر اکبر خلجی ،محمد انور خلجی مرحوم غلام سرور خلجی ،مرحوم غلام دستگیر خلجی کے بھائی شاہد خان خلجی ،واحد خان خلجی ،زاہد خان خلجی ،خالد خان خلجی ،شہر دل خلجی ، عابد خان خلجی کے والد اور یاسر خان کے سُسر تھے ۔مرحوم کے ایثال ثواب کے لئے فاتحہ خوانی جا مع مسجد ارباب کرم خان روڈ مسلم سٹریٹ میں جا ری ہے ۔
()()()

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Post comment