خبر نامہ نمبر1452/2019
کوئٹہ23اپریل ۔ گورنر بلوچستان امان اللہ خان یاسین زئی نے کہا ہے کہ چائنہ پاکستان اقتصادی راہداری سمندری اور زمینی تجارت کا عظیم منصوبہ ہے او ر اس کی تکمیل سے پورے خطے میں غیر معمولی معاشی و تجارتی تبدیلیاں رونماہوں گی۔ موجودہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں نہ صرف سی پیک کی اہمیت وافادیت سے خوب آگاہ ہے بلکہ سی پیک جیسے میگا پروجیکٹ کے پیش نظر کئی ترقیاتی منصوبوں پر خصوصی توجہ مرکوز کر رکھی ہے ۔ انہوںنے کہا کہ صوبے بھر کے نوجوانوں کو جدید فنی و تکینکی مہارتیں سکھانے کیلئے بھی ٹھوس اقدامات اٹھارہے ہیں ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایروار کالج ( Airwar College) کے شرکاءسے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ پاکستان نیوی کے ریئر ایڈمرل نو راحمد رضوی کوئٹہ کے مطالعاتی دورے پر آئے ہوئے زیر تربیت آفیسران کی قیادت کررہے تھے ۔ نیوی کے آفیسران نے صوبے میں امن و امان کی صورتحال ، سیاحت کے فروغ ، افرادی قوت کی تربیت ، دہشت گردی کے خاتمے اور صوبائی حکومت کے ترقیاتی منصوبوں سے متعلق کئی سوالات کیئے جن کا گورنر بلوچستان نے تفصیل سے جوابات دیئے ۔ ایک سوال کے جواب میں گورنر نے کہا کہ امن پورے خطے کی بنیادی ضرورت ہے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی خدمات اور قربانیوں کی وجہ سے صوبے بھر کی مجموعی صورتحال میں خاصی بہتری آئی ہے اور عوام کے جان ومال کے تحفظ کو یقینی بنانے کے امکانات روشن ہورہے ہیں ۔ انہوںنے کہا کہ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ صوبے کی ترقی کیلئے اعلیٰ تعلیم کے فروغ کو اولیت دی ہے ۔ آخر میں گورنر بلوچستان اور مہامانان گرامی کے درمیان یادگاری شیلڈز کا تبادلہ بھی ہوا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر1453/2019
کوئٹہ 23اپریل ۔ ادارہ خوراک وزراعت برائے اقوام متحدہ پاکستان اور جاپان کی گورنمنٹ کے اشتراک سے منہ کھر کی بیماری حفاظتی ٹیکے ( ویکسین) کے حوالے سے ایک دوزہ ٹریننگ ورکشاپ منعقد ہوا جس کے مہمان خصوصی صوبائی مشیر وزیراعلی برائے لائیوسٹاک مٹھا خان کاکڑ تھے مٹھا خان کاکڑ نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کی تقریبا 70 فیصد آبادی مال مویشیوں اور زراعت پر انحصار کرتی ہے جو ملک اور صوبے کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے انہوں نے کہا کہ موجودہ صوبائی حکومت ہر ممکن کوشش کر رہی ہے کہ شعبہ لائیو سٹاک کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے اور حیوانات میں پائے جانے والے مختلف بیماریوںکی تشخیص اور ادراک کیا جائے اس کے علاوہ پروجیکٹ کوآرڈینیٹر ڈاکٹر محمد افضل، ڈاکٹر محمد اعظم کاکڑ ،ڈاکٹر منظور حسین، ڈاکٹر منیر احمد، ڈاکٹر شمائلہ، ڈاکٹر محمد عیسیٰ کا کڑ( TAD )آفیسر بلوچستان اور دیگر بھی موجود تھے ڈاکٹر محمد عظم کاکڑ نے ویٹرنری ڈاکٹروں کے ٹریننگ ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اچھی کوالٹی کے حفاظتی ٹیکے (ویکسین ) اور اس کا صحیح استعمال جانوروں کو منہ کھر کی بیماری سے بچاو¿ میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے انہوں نے کہا کہ ادارہ خوراک وزرات برائے اقوام متحدہ پاکستان اور جاپان کی گورنمنٹ کے اشتراک سے اور اس بیماری کو کنٹرول کرنے کے لیے جو حفاظتی ٹیکے مہیاکیئے جا رہے ہیں وہ نہایت موثر ہیںاور یہ پاکستان میں پائے جانے والے منہ کھر کی بیماری کے جرثومے کی تین اقسام (A,O,Asia-1) کے خلاف جانور میں چھ ماہ کے لیے قوت مدافعت پیدا کرتا ہے انہوں نے کہاکہ علاوہ ازیں دوسرے کی نسبت اس میں جانوروں کو منہ کھر کی بیماری سے بچانے کی دگنی صلاحیت موجود ہے یہ حفاظتی ٹیکے پاکستان کے لیے تیار کروایا جاتا ہے انہوں نے مزید کہا کہ اس بات سے بھی عیاں ہے کہ پچھلے 7 سالوں سے لاکھوں گائے اور بھینسوں میں یہ حفاظتی ٹیکے لگائے گئے ہیں اور اس سے کسی بھی جانور میں منہ کھر کی بیماری کی علامت دیکھنے میں نہیں آئی انھوں نے کہا کہ ہماری پوری کوشش ہے کہ بلوچستان میں تمام لائیو سٹاک سے منسلک افراد کو ویکسین فراہم کریں تاکہ حیوانات میں بیماریاں کنٹرول ہوجائیں آخر میں صوبائی مشیر وزیراعلیٰ برائے لائیوسٹاک مٹھا خان کاکڑ نے ویٹر نری ڈاکٹروں کو کٹس تقسیم کیے تاکہ وہ اپنے اپنے علاقوں میں حیوانات میں بیماریاں کا ادراک کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ میں اس ادارے کا بے حد شکرگزار ہوں کہ اس نے بلوچستان میں حیوانات میں پائے جانے والے مختلف بیماریوں کی تشخیص اور ادراک کے حوالے سے ویٹرنری ڈاکٹروں کو ٹریننگ دے رہے ہیں۔بعدازاں انہوں نے کہا کہ حکومت بلوچستان ادارہ خوراک وزارت برائے اقوام متحدہ کے ساتھ صوبے میںجانوروں میں بیماریوں کی تشخیص اور ادراک کرنے کیلئے بھرپور تعاون کرنے کیلئے تیار ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر1454/2019
کوئٹہ 23اپریل ۔ ڈپٹی ڈائریکٹر لائیو اسٹاک ضلع کوئٹہ ڈاکٹر موسیٰ جان مندوخیل ، ڈاکٹر شیر محمد کھوسہ ، ڈاکٹر سید ظفر اقبال اور دیگر اسٹاف کی زیر نگرانی ، ہنہ اوڑک ، شاہ بان ، کلی ببری ، کلی اڑیزئی ، کلی عیسیٰ خیل ، کلی سلیم کچھ اور ڑک اور ملحقہ علاقوں میں فری موبائل ویٹر نری کیمپ کا انعقاد کیا گیا جس میں 4000 ( چار ہزار ) سے زائد جانوروں کو متعدی بیماریوں سے بچا¶ کے ویکسین ، کرم کش ادویات اور جلد ی امراض کے ٹیکہ جات لگائے گئے ۔ اس سلسلے میں ڈپٹی ڈائریکٹرلائیو اسٹاک ضلع کوئٹہ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ مستقبل میں بھی ضلع کوئٹہ کے مختلف علاقوں میں مزید فری موبائل ویٹرنری کیمپس کا انعقاد کیا جائے گا ان ٹیکہ جات کیمپ کا مقصد جانوروں کو بیماریوں سے محفوظ رکھنا اور مال داروں کو ریلیف فراہم کرنا ہے ۔ کیونکہ ہمارے صوبے میں 70 فیصد آبادی کا انحصار مالداری اور اس سے منسلک شعبوں سے وابستہ ہے لہٰذا جانوروں کو بیماریوں سے محفوظ رکھنا بے حد ضروری ہے ۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر1455/2019
گوادر 23 اپریل۔گوادر یوتھ فورم کے زیر اہتمام آر سی ڈی سی کونسل گوادر میں عالمی یوم کتاب اور گوادر کے علمی ورثہ کے عنوان سے ایک سیمینار منعقد ہوا جس میں مختلف طبقے فکر کے لوگوں کے ساتھ ساتھ اسکول اور کالج کے طلبا و طالبات کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی عالمی یوم کتاب اور گوادر کے علمی ورثہ سے متعلق ڈپٹی ایجوکیشن آفیسر وہاب مجید آر سی ڈی سی کونسل کے صدر ناصر رحیم سہرابی اور واجہ خدا بخش بلوچ سمیت گوادر یوتھ فورم کے صدر برکت اللہ بلوچ نے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کتاب کا عالمی دن ہر سال کی طرح اس سال بھی اس عزم کے ساتھ منایا جارہا ہے کہ کتاب اور انسان کا ایک قدیمی وابستگی کا تعلق رہاہے عصر حاضر میں کتب بینی کی روایت دم توڑتی رہی ہے مگر اس ضمن میں کئی ایک اقدامات حوصلہ افزا ہیں کہ کتب بینی کے فروغ کا سلسلہ کسی حد تک جاری ہے کتاب کی اہمیت سے کسی صورت انکار نہیں کیا جاسکتا ہے سمینار میں مقررین نے گوادر کا عملی ورثہ سے متعلق تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے کہا گوادر علمی ادبی ثقافتی ورثہ کے حوالے اہمیت کا حامل ہے مقررین نے کہا کہ یوم کتاب کا مقصد کتاب بینی کے شوق کو فروغ دینا اور اچھی کتابیں تحریر کرنے والے مصنفین کی حواصلہ افزائی کرنا ہے سمینار کے آخر میں واجہ خدا بخش بلوچ نے نئے کتاب لکھنے والے مصنفین میں تعریفی اسناد تقسیم کیے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر1456/2019
کوہلو23اپریل۔ ڈپٹی کمشنر کوہلو عبداللہ خان کھوسہ نے اچانک انٹر بوائز کالج کوہلو کے امتحانی سینٹر کا دورہ کیا انہوں نے وہاں انتظامات کا تفصیلی معائنہ کیاہے اور امتحانی سینٹر کے انچارج سے سیکورٹی و دیگر مسائل دریافت کئے اس موقع پر ڈپٹی کمشنر عبداللہ کھوسہ نے کہا ہے کہ نقل کے ناسور کو ختم کرنے کے لئے ہر ممکن اقدامات کیئے جائیں کیونکہ نقل سے ہمارے نوجوانوں کامستقبل تباہ ہورہا ہے نقل کی حوصلہ شکنی دراصل نئی نسل کو قابل بنانا ہے جب نقل کا بازار گرم رہا تو بچے محنت نہیں کریں گے اور ملک وقوم کا نام روشن کرسکیں گے ڈپٹی کمشنر کا مزید کہنا تھا کہ نقل کرکے بچے امتحانات تو پاس کرتے ہیں لیکن جب و ہ آگے کسی شعبے میں جاتے ہیں تو وہاں انکی کارکردگی بہت خراب ہوتی ہے اور پھرناکام ہوجاتے ہیںضلع میںبوٹی مافیاکے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا ۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر1457/2019
پشین 23اپریل ۔ ڈپٹی کمشنر اورنگزیب بادینی نے کہاہے کہ قانون سب کےلئے برابر ہے قانون سے کوئی بالاتر نہیں پشین بھر میں ہرقسم کے تجاوزات کے خلاف بلا تفریق کارروائی کی جائے گی اور کسی کے ساتھ کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور نہ ہی کسی کو کسی قسم کا رعایت اورنہ کسی کے ساتھ امتیازی سلوک کیاجائے گا سب کے خلاف یکساں کارروائی بلا تفریق ہوگی ،کسی قسم کی سیاسی اور بااثر شخصیات کی سفارشات اور دبا¶ قبول نہیں کیا جائے گا ۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے پشین میں امن و امان کے حوالے سے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا اس موقع پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو فیصل یوسفزئی، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر امین اللہ ناصر، اسسٹنٹ کمشنر محمد عارف زرکون، اسسٹنٹ کمشنر برشور امیر زمان کاکڑ اسسٹنٹ کمشنر حرمزئی محمد نعیم اور دیگر آفیسران بھی موجود تھے انہوں نے کہا کہ غیر حاضر لیویز اہلکاروں کو تنبیہ کی جاتی ہے کہ اپنی ڈیوٹی ایمانداری اور خلوص نیت سے سرانجام دیں اور غیر حاضر لیویز اہلکاروں کو نوٹس دیئے جائیں گے جہاں ضرورت ہوگی نئی لیویز چوکیاں بنائی جائیںگی انہوں نے کہا کہ تجاوزات کے خلاف کارروائی میں مداخلت کرنے اور خلل ڈالنے والوں کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے گا پشین شہر کا امن و امان کو خراب کرنے کی کسی کو اجازت نہیں دی جائے گی بس اڈہ جان اڈہ سے عسکری کرکٹ گر¶انڈ منتقل کیاجائےگا شہر میں ہمایوں پٹرول پمپ کے ساتھ کھڑے ریڑھی بانو ںکو کوئٹہ پرانااڈہ منتقل کیا جائے گا اس سلسلے میں پشین کے عوام اپنا کردار کریں تاکہ شہر کی خوبصورتی دوبارہ بحال ہوسکے، ڈپٹی کمشنر نے شہر میں تمام غیر قانونی تجاوزات قائم کرنے والوں کو وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ وہ بذات خود تجاوزات ختم کریں ورنہ بصورت دیگر ضلعی انتظامیہ سخت کارروائی عمل میں لائے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
پریس ریلیز
کوئٹہ 23اپریل ۔ محکمہ تعلقات عامہ بلوچستان میں منگل کے روز یہاں ایک تقریب منعقد ہوئی جس میں محکمہ کے ڈائریکٹر جنرل محمد نعیم بازئی کے تبادلے اور نئے تعینات ہونے والے ڈائریکٹر جنرل شاہ عرفان غرشین کے اعزاز میں آفیسرز ایسو سی ایشن محکمہ تعلقات عامہ کی جانب سے چائے پارٹی کا اہتمام کیا گیا جس سے خطاب کرتے ہوئے محمد نعیم بازئی نے کہا کہ دوران ملازمت تبادلے و تعیناتی معمول کا حصہ ہوتے ہیں ۔ انہوںنے کہا کہ محکمہ کے آفیسران نے ان کی محکمہ میں تعیناتی کے دوران بھر پور تعاون کیا اور افسران میں پائی جانے والے بے چینی کا خاتمہ ہوسکا انہوںنے کہا کہ انہیں اس امر پر ہمیشہ خوشی و فخر رہے گا کہ اس محکمے کے آفیسران اپنے فرائض کی ادائیگی انتہائی جانفشانی ، محنت اور نیک نیتی سے ادا کرتے ہیں اور حکومت میڈیا کے درمیان تعلقات کو خوشگوار بنانے میں اپنا م¶ثر کردار ادا کرتے ہیں انہوںنے کہا کہ یہاں اپنے تعیناتی کے عرصے میں آفیسران و اہلکاروں کے ساتھ ایک ٹیم ورک کے طور پر کام کیا اور افسران و اسٹاف نے ان کے ساتھ بھر پور تعاون کیا ۔ انہوںنے کہا کہ انہوںنے محکمہ میں بنیادی اصلاحات کی اور روٹیشن پالیسی پر عملدرآمد کیا ہے اس سے افسران میں پائی جانے والی بے چینی کا خاتمہ ہوا ہے وہ انتہائی دیر پا مثبت اثرات کی حامل ہیں انہوںنے افسران و اہلکاروں کے تعاون پر شکریہ ادا کیا جبکہ نئے تعینات ہونے والے ڈائریکٹر جنرل شاہ عرفان غرشین نے افسران سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اس امر پر خوشی ہے کہ وہ صوبے کے ایک اہم و حساس محکمے کے سربراہ بن کر آئے ہیں انہوںنے کہا کہ وہ بھی دفتر کو ایک ٹیم کے طور پر چلائیں گے اور صوبے کے وسیع تر مفاد میں ہر آفیسر اپنے فرائض ذمہ داری سے ادا کرے گا انہوں نے کہا کہ حکومت اور عوام کے درمیان ہمیں اپنا م¶ثر کردار ادا کرتے ہوئے حکومتی اقدامات و حکومت کے ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے عوام کو م¶ثر آگاہی دینی ہے جبکہ میڈیا و حکومت کے درمیان خوشگوار تعلقات کو مزید بہتر بنانے ہے انہوںنے کہا کہ وہ اپنے افسران و اہلکاروں کو ساتھ لے کر چلیں گے نظم و ضبط ، میرٹ اور گڈ گورننس پر مکمل عملدرآمد کیا جائے گا اور سابق ڈی جی کی جانب سے شروع کی گئی اصلاحات و دیگر امور تسلسل سے جاری رہیں گے ۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے محکمہ کے ڈائریکٹر محمد نور کھیتران اور آفیسرز ایسو سی ایشن کے صدر و ڈپٹی ڈائریکٹر ظفر علی ظفر نے سابق ڈی جی محمد نعیم بازئی کی محکمہ کے لئے گرانقدر خدمات خصوصاً گڈ گورننس و ٹیم ورک کے طور پر محکمے کے امور نمٹانے اسے مزید جدید بنانے اور محکمہ کے آفیسران کے لئے انفارمیشن اکیڈمی اسلام آباد میں تربیت کیلئے معاملات طے کرنے پر انہیں زبردست خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ انہوں نے یہاں پر اپنے مختصر قیام میں دس برسوں سے زیادہ کام کیا ہے اور دفتر کو سٹریم لائن کرتے ہوئے تمام شعبوں کو متحرک کیا ہے ۔ انہوں نے اس توقع کا اظہار کیا کہ نئے آنے والے ڈائریکٹر جنرل بھی ان پالیسیوں و اصلاحات کو جاری رکھیں گے بعد ازاں ایسو سی ایشن کی جانب سے سابق ڈائریکٹر جنرل محمد نعیم بازئی کو سوینئر بھی پیش کیا گیا ۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Post comment