خبرنامہ نمبر648/2019
کوئٹہ 23 فروری : ۔وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے سوشل میڈیا پر اساتذہ کی آسامیوں پر درخواست جمع کرانے کے مرحلے پر تصدیقی عمل کی وجہ سے امیدواروں کو درپیش مشکلات کا نوٹس لیتے ہوئے سیکریٹری تعلیم کو فوری طور پر اس ابتدائی مرحلے پر تصدیقی عمل روکنے کی ہدایت کی ہے ، وزیراعلیٰ نے کہا ہے کہ تصدیقی عمل امیدواروں کے تحریری امتحان اور انٹرویو کے مرحلے کے بعد مکمل کیا جائے۔ 
()()()
خبرنامہ نمبر649/2019
کوئٹہ 23 فروری : ۔وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے بلوچستان فوڈ اتھارٹی کے قیام اور اسے فوری طور پر فعال بنانے کی منظوری دے دی ہے اتھارٹی کے قیام کا مقصد اشیاء خوردونوش میں ملاوٹ کرنے والوں کے خلاف بھرپور کاروائی کو قانون تحفظ دینا ہے ، وزیراعلیٰ کی ہدایت کی روشنی میں صوبائی حکومت نے عوام کو ملاوٹ شدہ ،غیر خالص اور مضر صحت اشیاء خوردونوش فروخت والے فوڈ مافیا اور انسانی جانوں سے کھیلنے والوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹنے کا فیصلہ کیا ہے جس کے لیے فوڈ اتھارٹی ایکٹ بنایا گیا ہے، جو کہ نافذ العمل ہو چکا ہے، اس ایکٹ کے تحت بلوچستان فوڈ اتھارٹی کا قیام عمل میں لایا جا رہا ہے، بلوچستان فوڈ اتھارٹی ہوٹلوں، بیکریوں، فیکٹریوں، دودھ کا کاروبار کرنے والوں اور فوڈ پوائنٹس کا معائنہ کرکے اشیاء خوردونوش کے معیار کو چیک کرنے اور ملاوٹ کی صورت میں ذمہ دار افراد کے خلاف قانونی کاروائی کرنے کی مجاز ہوگی۔ مضر صحت خوراک سے حالیہ ہونے والی اموات کے پیش نظر وزیراعلیٰ بلوچستان نے بلوچستان فوڈ اتھارٹی کے چیئرمین کا آئینی عہدہ اپنے پاس رکھنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ انسانیت کے دشمن فوڈ مافیاکے خلاف موثر کاروائی میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔ بلوچستان فوڈ اتھارٹی کے دیگر اراکین میں صوبائی وزیر خوراک اراکین صوبائی اسمبلی سردار یار محمد رند، میر جان محمد جمالی، اصغر خان اچکزئی، سیکریٹری خوراک، سیکریٹری صحت، سیکریٹری پی ایچ ای، سیکریٹری انڈسٹریز، سیکریٹری زراعت، سیکریٹری لائیو اسٹاک، سیکریٹری بلدیات، ڈائریکٹر جنرل فوڈ اتھارٹی، ڈائریکٹر جنرل ایگریکلچر ریسرچ، ڈاکٹر سرفراز خان نیوٹریشن، صلاح الدین خلجی وائس پریذیڈنٹ چیمبر آف کامرس کوئٹہ، اسماعیل ستار چیمبر آف کامرس حب، محمد جان نمائندہ فوڈ آپریٹرز، رشید مستوئی نمائندہ زمینداران نصیر آباد،طارق میر نمائندہ زمینداران لسبیلہ، کاظم خان نمائندہ زمینداران قلعہ عبداللہ، صدر تاجر ایسوسی ایشن، صدر ہوٹلز ایسوسی ایشن کوئٹہ شامل ہیں۔ 
()()()
خبرنامہ نمبر 650/2019
کوئٹہ 23فروری۔ وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے سبی میلے کے آغاز پر اپنے ایک پیغام میں کہا ہے کہ تاریخی سبی میلے کو بلوچستان کی تجارتی، معاشی، سیاسی اور تہذیبی زندگی میں بے پناہ اہمیت حاصل ہے ۔ یہ میلہ قیام پاکستان سے قبل باقاعدگی اور تسلسل کے ساتھ منعقد ہوتا آرہا ہے اور اس میلہ میں جن شخصیات نے شرکت کی ان میں بابائے پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح بھی شامل ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ قیام پاکستان کے بعد گزشتہ کئی سالوں سے سبی میلہ کے موقع پر بلدیاتی کنو نشن کا انعقاد اور میلہ اسپاں و مویشیاں اسکی سیاسی اور تجارتی اہمیت کے ساتھ ساتھ اس کی تہذیبی اہمیت کی بھی علامت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سبی میلہ میں ملک کے مختلف حصوں سے تاجروں، زمینداروں اور مالداروں کی شرکت اس بات کا ثبوت ہے کہ ہمارے تجارتی اور کاروباری مفادات مشترکہ ہیں سبی میلہ صحت مند تفریح کے مواقعوں سمیت قومی یکجہتی کے فروغ کا ذریعہ بھی ہے ۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ موجودہ حکومت ملک بھر کے شرکاء کا خیر مقدم کرتی ہے اور بلوچستان کی ترقی اور بہبود کیلئے سب کے ساتھ ملکر کام کرنے کا عزم رکھتی ہے ۔انہوں نے سبی میلہ کے منتظمین کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ آئندہ بھی ہم تمام شعبوں میں معاشی سرگرمیاں اسی طرح مل جل کر کامیابی کے ساتھ منظم کرتے رہیں گے۔ 
()()()
خبرنامہ نمبر651/2019 
کوئٹہ 23فروری :۔گورنر بلوچستان امان اللہ خان یاسین زئی نے سالانہ سبی میلہ 2019ء کے موقع پر اپنے ایک پیغام میں کہا ہے کہ سبی میلہ ایک تاریخی اور روایتی حیثیت کا حامل ہے اس موقع پر نہ صرف صوبے بھر سے بلکہ ملک کے دیگر علاقوں سے بڑی تعداد میں لوگ میلے میں شرکت کرتے ہیں ۔ ہمیشہ کی طرح اس سال بھی سبی میلہ ورایتی جوش و جذبے کے ساتھ منایا جا رہاہے ۔ا نہوں نے کہا کہ سبی میلہ زراعت اور مالداری کے شعبو ں میں کا رکر دگی کا جائزہ لینے اور نئے عزم کے ساتھ آگے بڑھنے کیلئے پر کشش مو قع ہوتا ہے۔ سبی میلے کے موقع پر مال مو یشی کی نمائش او رفروخت کے علا و ہ زرعی نمائش کا بھی انعقاد کیا جاتا ہے ۔علاوہ ازیں لوگوں کو میلے کے ذریعے بہترین تفر یحی سرگرمیوں کے مو اقع بھی ملتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ سبی میلہ صوبے کی معا شرتی وثقافتی زندگی کا عکاس ہے ۔گورنر نے میلے کے منتظمین کو اس میلے کے شا ندار اہتمام پر مبارکباد پیش کر تے ہوئے اس کی کا میابی اور سرخر وئی کیلئے نیک خو اہشات کا اظہار کیا ۔
()()()
خبرنامہ نمبر652/2019 
خضدار23فروری :۔ سیکرٹر ی لائیو اسٹاک بلوچستان عصمت اللہ کاکڑ نے کہاہے کہ ہماری معیشت کو سہارا دینے میں گلہ بانی اور مالداروں کا اہم کردا رہاہے ، گلہ بانی کے شعبے سے یہاں کے عوام کی بڑی تعداد وابستہ اور ان کا روزگار اسی سے منسلک ہے ، حکومت اِ ن مالداروں کی سرپرستی کرتے ہوئے نہ صرف ان کے جانوروں کو بیماریوں سے بچانے کی مہم چلارہی ہے بلکہ ان کے جانوروں کے افزائش نسل کے لئے بھی اقدامات عمل میں لارہی ہے ، ضلع خضدار کے دور دراز علاقہ کِشاری میں پانچ روزہ فری میڈیکل لگایا گیا ہے حالیہ سیلاب کے بعد مالداروں کے جانوروں کوبیماری سے بچاؤ کا ویکسیئن دیا جارہاہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے کشاری میں مقامی مالداروں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اس سے قبل سیکریٹری لائیو اسٹاک بلوچستان عصمت اللہ کاکڑنے ڈی جی لائیو اسٹاک بلوچستان ڈاکٹر غلام حسین جعفر کے ہمراہ آڑینجی کشاری میں محکمہ لائیو اسٹاک کی جانب سے لگایا گیا پانچ روزہ فری میڈیکل کیمپ کا دورہ کیا۔ ڈویژنل ڈائریکٹر لائیو اسٹاک ڈاکٹر لیاقت ساجدی ڈپٹی ڈائریکٹر لائیو اسٹاک خضدار ڈاکٹر محمد انور زہری سمیت دیگر اسٹاف موجود تھا۔پانچ روزہ فری میڈیکل کے حوالے سے سیکریٹری لائیو اسٹاک اور ڈی جی لائیو اسٹاک کو انہوں نے بریفنگ دی۔ اور بتایا کہ حالیہ سیلاب کے بعد جانوروں میں ممکنہ بیماریوں کی روک تھام کے لئے فری میڈیکل کیمپ لگایا گیا ہے یہ فری میڈیکل کیمپ پانچ دنوں تک جاری رہیگا جس میں قرب و جوار کے ہزاروں جانوروں کا بیماریوں سے بچاؤ کا ویکسیئن کیا جائیگا۔محکمہ لائیواسٹاک کے ماہر ڈاکٹرز کی ایک ٹیم سارونہ بھیجی گئی ہے ۔جو وہاں جانوروں کی ویکسیئن کرے گا۔سیکریٹری لائیو اسٹاک بلوچستان عصمت اللہ خان کاکڑنے کہاکہ ہم مالداروں کو کسی بھی طرح تنہا نہیں چھوڑیں گے ان کی مالداری و روزگار سے پورے صوبہ بلکہ پورے ملک کے عوام کے مفادات وابستہ ہیں ،صوبے میں گلہ بانی اور جانوروں کی نسل بڑھانا ہم سب کے فائدے میں ہے۔ ا س حوالے سے حکومت وقتاًفوقتاً مالداروں کے فائدے کے لئے پروگرامز بنارہی ہے۔ ہماری کوشش ہے کہ صوبے میں مالداری کے فروغ کے لئے مذید اقدامات کیئے جائیں اور صوبہ مالداری گلہ بانی کی روایتی روزگار کے عمل کو مذید آگے بڑھائے۔ ہمارے دیہی و پہاڑی علاقوں میں بیٹھے خاندانوں کا روزگار صرف اور صرف اسی ایک شعبے سے وابستہ ہے انہیں سہولیات دینے اور فائدے پہنچانے کے لئے صوبائی حکومت مذید موثر اقدامات کریگی۔
()()()
خبرنامہ نمبر653/2019 
بارکھان23فروری :۔اتحاد و اتفاق کی فضاء قائم کیے بغیرترقی کا حصول ناممکن ہے ۔قبائلی مسائل پس پشت ڈال کر نفرت کی بجائے محبت کے رشتے قائم کر یں ۔قومی روایات کے منافی رونما ہونے والے واقعات قابل مذمت ہیں۔نوجوان ملک و قوم کامستقبل ہیں اپنی تمام صلاحیتں حصول علم پرصرف کریں۔تعلیمی اداروں کو تمام بنیادی سہولتو ں کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی ۔ ضلع بارکھان کیلئے ملنے والے فنڈز کو عوام کی خواہش اور ان کی ضروریات کے مطابق استعمال کیا جائے گا ۔یہ باتے صوبائی وزیر خوراک وبہود آبادی سردار عبدالرحمن کیھتران نے ضلع بارکھان میں منعقدہ قومی جرگہ سے خطاب کرتے ہوئے کی۔جرگہ میں کیھتران قوم کے معتبرین اور نوجوانوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی،صوبائی وزیر نے قبائلی معتبرین اور نوجوانوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عوامی مسائل کے حل کے حوالے سے میری نیت صاف ہے اور اللہ تعالیٰ بھی نیت کو دیکھتا ہے ۔ پر امن ماحول علاقے کی ترقی کے لئے ضروری ہے کہ قبائلی مسائل کو پس پشت ڈال کر نفرت کی بجائے محبت کے رشتے قائم کیے جائیں انہوں نے کہا کہ قومی روایات کے خلاف رونما ہونے والے مسئلے قابل مذمت ہیں،اتحاد واتفاق کی فضاء قائم رکھیں ،نوجوان اپنی تمام تر توانائی تعلیم حاصل کرنے پر صرف کریں اوربارکھان کی ترقی اور خوشحالی کیلئے اپناکرداراداکریں،نوجوان ہمارا مستقبل ہیں انہیں روزگار کی فراہمی کیلئے حکومت ٹھوس اقدامات کر رہی ہے ۔بے روزگاری کو مد نظر رکھتے ہوئے صوبائی حکومت نے ایج ریلیکسیشن دی تاکہ اوور ایج نوجوانوں کو نوکری کے حصول میں ریلیف ملے ،تعلیم کے بغیر ترقی ناممکن ہے حکومت کی خواہش ہے کہ ہر بچہ سکول میں ہو اور تعلیم حاصل کرکے وہ معاشرے کا کار آمد شہری بنے اور ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکے،حکومت کوشش کر رہی ہے کہ ہر سکول کی پختہ بلڈنگ ،سکول میں پینے کا صاف پانی اور چار دیواری ہو ،انہوں نے کہا کہ صحت و تعلیمی نظام کی بہتری کے منصوبوں پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا ،صوبائی وزیر نے کہا کہ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ ضلع بارکھان کیلئے ملنے والے فنڈز کو عوام کی خواہش اور ان کی ضروریات کے مطابق استعمال کیا جائے گا ،انہوں نے کہا کہ عوام کو بنیادی ضروریات کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے ،تعلیم ،صحت،پینے کے صاف پانی اور صاف صحت مند ماحول کی فراہمی کیلئے ہر ممکن اقدامات کئے جائیں گے ۔آخر میں صوبائی وزیر نے نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ترقی اور مستقبل کے اہداف کے حصول کیلئے حوصلہ، ہمت اور خدمت خلق کے جذبے سے سر شار ہو کر مسلسل آگے بڑھتے رہیں تاکہ کامیابی اور کامرانی آپ کے ہم قدم رہے۔
()()()
خبرنامہ نمبر654/2019 
لورالائی23فروری : ۔امتحانات میں نقل کے رجحان کی حوصلہ شکنی کیلئے عملی اقدامات اٹھائے ہیں ۔نقل کرنے والوں کی تخلیقی صلاحیتیں ختم ہوجاتی ہیں ۔صوبہ بھر میں امتحانات کی موثر نگرانی کی جارہی ہے ۔نقل کے خاتمے کیلئے والدین بھی اپنا کردار ادا کریں ۔امتحانات کے دوران غفلت کا مظاہرہ کرنے والوں کے خلاف محکمانہ کاروائی عمل میں لائی جائے گی ۔ان خیالات کا اظہار صوبائی مشیر تعلیم محمد خان لہڑی اور چیئر مین بلوچستان ثانوی بورڈ پروفیسر محمد یوسف بلوچ نے ڈگری کالج لورالائی میں بلوچستان پروفیسر اینڈ لیکچرر ایسوسی ایشن لورالائی کی جانب سے دی گئی ٹی پارٹی سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر پرنسپل ڈگری کالج لورالائی پروفیسر عبدالعزیز اتمانخیل ،بی پی ایل اے کے ڈویژنل نائب صدر پروفیسر عبدالقدوس کاکڑ اور کالج کے اساتذہ بھی موجود تھے۔صوبائی مشیر تعلیم نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت تعلیمی ترقی کیلئے کوشاں ہے ۔اسکولوں میں اساتذہ کی کمی کو پورا کیا جا رہا ہے۔قبل ازیں صوبائی مشیر تعلیم اور چیئر مین بلوچستان ثانوی بورڈ نے لورالائی میں مختلف امتحانی مراکز کا اچانک دورہ کیا ۔انہوں نے امتحانی عملے کو سخت ہدایات جاری کیں اور کہا کہ شفاف امتحانات کو ممکن بنا یا جائے تاکہ نقل جیسے ناسور کا خاتمہ ممکن ہو ۔دریں اثناء صوبائی مشیر تعلیم نے لورالائی پریس کلب کے ایک وفد سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت وزیر اعلیٰ جام کمال کی قیادت میں تعلیم،صحت اور روزگار کے مواقع فراہم کرنے کیلئے پوری کوشش کر رہی ہے۔ تمام محکموں میں اصلاحی پروگرامز متعارف کرائے جا رہے ہیں جس سے صوبے کے غریب عوام مستفید ہو نگے اور عوام کی زندگی میں مثبت تبدیلی آئے گی ۔
()()()
خبرنامہ نمبر655/2019 
لورالائی23فروری :۔ درخت لگانا سنت نبوی ﷺ ہے ،معاشرے کا ہر فرد ایک ایک درخت ضرور لگائے اور شجر کاری مہم میں بھرپور حصہ لیں،درخت لگانے کے ساتھ درخت کی آبیاری بھی ضروری ہے ،درختوں کی حفاظت کرکے ہم ملک کو جنت بناسکتے ہیں ان خیالات کااظہارصوبائی وز یر پی ایچ ای واسا حاجی نورمحمد دمڑ نے لورالائی میں محکمہ پی ایچ ای آفس میں شجر کاری مہم کے سلسلے میں پودا لگاکرکیا،اس موقع پر ملک لاجور دمڑ ،حاجی باز محمد دمڑ بھی موجود تھے ۔صوبائی وزیر حاجی نورمحمد دمڑ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ درخت زمین کا زیور ہیں ،درخت ماحول پر خوشگوار اثرات مرتب کرتے ہیں ،جنگلات ہمار ا قومی ورثہ ہیں ،جنگلات کی حفاظت کرنا ہم سب کافرض ہے ،انہوں نے کہا کہ شجر کاری مہم ایک قومی مہم ہے اس سلسلے میں سرکاری دفاتر ،اسکولز ،کالجز اور دیگر سرکاری اداروں کے ساتھ ساتھ معاشرے کا ہر فردشجر کاری مہم میں بھرپور حصہ لیں۔انہوں نے کہا کہ موجودہ صوبائی حکومت جنگلات کے تحفظ اور ان کو وسعت دینے کے لیے بھرپور اقدامات کررہی ہے اور جنگلات کی کٹائی کرنے والوں کے خلاف سخت کاروائی کریں گے۔ 
()()()
خبرنامہ نمبر656/2019 
سبی 23فروری :۔سالانہ سبی میلہ مویشیاں واسپاں 2019کے سلسلے میں مینابازار کا انعقاد،ہزاروں کی تعداد میں خواتین و بچوں کی شرکت،مختلف اسکولوں کی طالبات کی جانب سے چاروں صوبوں بشمول کشمیر کے ثقافتی رنگوں کو اجاگر کرکے ملی یگانگت کو فروغ دیا،تفصیلات کے مطابق سالانہ سبی میلہ مویشیاں واسپاں 2019کے موقع پر خواتین اور طالبات سمیت بچوں کی تفریح کے لیے پبلک پارک میں محکمہ ایجوکیشن سبی کی جانب سے مینابازار منعقد کیا گیا مینابازار کا افتتاح بیگم ایسٹ کمانڈر ذوالفقار باجوہ نے کیا ،جبکہ اس موقع پر ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسرنسواں نصرت اقبال،گرلز گائیڈ بلوچستان کی انسٹریکٹر شازیہ خرم،شازیہ حفیظ سمیت خواتین کی کثیر تعداد موجود تھی ،مینا بازار میں مختلف اسکولوں کی طالبات نے چاروں صوبوں بشمول کشمیر کے ثقافتی رنگوں کو اجاگر کرکے ملی یگانگت و اتحادکو فروغ دیا جبکہ مینا بازار میں ثقافتی ملبوسات کے اسٹالز کے علاوہ کھانے پینے کے اسٹالز بھی لگائے گئے تھے جہاں پر خواتین اور طالبات سمیت بچوں کا نہ تھمنے والا رش لگا رہا،بعدازاں ڈپٹی کمشنر و چیئرمین آرگنائزنگ کمیٹی سبی میلہ2019سید زاہد شاہ نے سینئر سپرٹنڈنٹ آف پولیس عبدالحق عمرانی کے ہمراہ مینابازار کے انتظامات کا جائزہ بھی لیا اس موقع پر ان کے ہمراہ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر عباس ملک ،ایس پی سٹی سرکل دوست محمد بگٹی،ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر عبدالستار لانگو بھی موجود تھے اس موقع پر ڈپٹی کمشنر سید زاہد شاہ نے مینابازار کے بہترین انتظامات پر ڈی ای او نسواں کے اقدامات کو سراہاتے ہوئے کہا کہ سالانہ سبی میلہ مویشیاں واسپاں کے سلسلے میں جہاں پر مالداروں اور زمینداروں کو سہولیات فراہم کی جارہی ہیں وہاں پر خواتین اور بچوں کے لیے تفریح کے بھی مثبت مواقع فراہم کیئے جائیں گے مینا بازار میں مختلف اسکولوں کی طالبات نے ثقافتی رنگ اجاگر کرکے ایک قوم بننے کی علامت کی عکاسی کی ہے جس سے آنے والی نئی نسلوں میں مزید ملی یگانگت کو بہتر انداز میں فروغ ملے گا اور ہم تفریق سے بچ سکیں گے۔
()()()
خبرنامہ نمبر657/2019 
خضدار23فروری :۔کمشنر قلات ڈویژن بشیراحمد بنگلزئی نے کہا ہے کہ خضداراور ضلع لسبیلہ میں حالیہ سیلاب متاثرین کی امداد و بحالی کا کام جاری ہے تیسرے روز بھی امدادی سامان متاثرہ علاقوں میں پہنچادیا گیا ہے۔ امدادی سامان میں ادویات اشیاء خوردنوش ٹینٹ ۔کمبل ۔رضائی واٹرکولر ۔چارپائی ۔واٹر ٹینکر سلیپنگ بیگ ۔گیس سلنڈر و دیگر ضروری سامان شامل ہے ضلع خضدار میں ڈی سی خضدار میجر (ر) محمد الیاس کبزئی اور ضلع لسبیلہ میں ڈی سی لسبیلہ شبیراحمد مینگل و متعلقہ آفیسران امدادی کاموں کی نگرانی کررہے ہیں متاثرہ علاقوں میں میڈیکل کیمپ بھی لگائے گئے ہیں اور آج امدادی سامان کی بھاری کھیپ ضلع لسبیلہ روانہ کردی گئی ہے ایڈیشنل کمشنر قلات ڈویژن امیر افضل اویسی کو فوکل پرسن مقررکردیا گیا ہے جو امدادی سرگرمیوں کا جائزہ لے رہے ہیں کمشنر قلات ڈویژن کے مطابق آخری متاثر کی بحالی تک ریلیف کا کام جاری رہے گا اس کے علاوہ محکمہ امور حیوانات کی جانب سے بھی ٹیمیں متاثرہ علاقوں میں پہنچ کر مال مویشیوں کو ویکسینیشن اور مختلف بیماریوں کے لئے ادویات دی جارہی ہیں اور متاثرہ علاقوں میں رابطہ سڑکوں کو بھی بحال کردیا گیا ہے کمشنر قلات ڈویژن نے کہا کہ صوبائی حکومت پاک فوج ایف سی ۔لیویز ۔پولیس ۔پاکستان کوسٹ گارڈ ۔ایدھی ویلفئر اور پی ڈی ایم اے کے تعاون سے ریلیف آپریشن کا سلسلہ جاری ہیں انہوں نے کہاکہ ضلع میں جتنے غیر سرکاری ، سماجی رضاکار تنظیمات بھی آگے بڑھ کر سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کی دمدد کریں اور اس امداد میں حصہ لیں۔ 
()()()

خبرنامہ نمبر658/2019 
خضدار23فروری :۔ ڈپٹی کمشنر خضدار میجر ریٹائرڈ محمد الیاس کبزئی نے کہا ہے کہ خضدار کا سب تحصیل آڑنجی اور سارونہ میں حالیہ سیلاب متاثرین کی امداد و بحالی کا کام جاری ہے تیسرے روز بھی امدادی سامان متاثرہ علاقوں میں پہنچایا گیا امدادی سامان میں ادویات اشیاء خوردنوش ،ٹینٹ ،کمبل ،رضائی گیس سلنڈر و دیگر ضروری سامان شامل ہے متاثرہ علاقوں میں میڈیکل کیمپ بھی لگائے گئے ہیں ۔ جب کہ محکمہ امور حیوانات نے بھی کیمپ لگایا ہے تیسرے روز بھی امدادی سامان کی ترسیل و تقسیم کا کام جاری ہے انہوں نے کہا کہ متا ثرہ علاقوں میں ذرائع مواصلات کی نا ہمواری کی وجہ سے امدادی کاموں میں مشکلات درپیش ہیں تاہم مقامی انتظامی آفسران اور لیویز اہلکار علاقے میں امدادی کاموں میں مصروف ہیں ڈپٹی کمشنر خضدار میجر ریٹائرڈ محمد الیاس کبزئی نے کہا کہ متا اثرین کی بحالی کے ساتھ سیلاب متا ثرین کے نقصانات کا بھی جائزہ لیا جا رہاہے انہوں نے کہا کہ وزیر اعلی بلوچستان جام کمال خان کی خصوصی ہدایت پر بارش متا ثرین کی امداد اور بحالی میں کوئی کسربھی نہیں چھوڑی جائیگی شروع دن سے اب تک متا ثرین کی بحالی سمیت تمام معاملات کی موثر نگرانی کی جارہی ہے۔ 
()()()
پریس ریلیز 
خضدار23فروری :۔بلوچستان یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنا لوجی خضدار کے وائس چانسلر ڈاکٹر احسان اللہ خان کاکڑ نے کہاہے کہ کسی بھی جامعہ وتعلیمی ادارے کا معیار اس کے فارغ التحصیل طلباء سے پہچانا جاتا ہے ، خضدار انجینئرنگ یونیورسٹی نے اعلیٰ تعلیم کے فروغ میں اہم کردار ادا کرکے بڑی تعداد میں انجینئرز تیارکئے ہیں ۔اور یہ سلسلہ آئندہ مذیدآگے بڑھے گا اور یہ تعلیمی ادارہ اسی طرح انجینئرنگ کا مرکز ثابت ہوگااعلیٰ تعلیم سے آراستہ نئی نسل کا تیار کرنانہ صرف صوبہ بلکہ پورے ملک کی ضرورت ہے ،۔ان خیالات کااظہار انہوں نے بلوچستان یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنا لوجی خضدار کے فارغ التحصیل طلبا ء کی رجسٹریشن آغاز کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کیا،بلوچستان یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنا لوجی خضدار کے وائس چانسلر ڈاکٹر احسان اللہ خان کاکڑنے اس موقع پرایم پی اے انجینئر میر محمد یونس عزیز زہری کو پہلا رجسٹریشن فارم دے کر اس کی ابتداء کی گئی۔وائس چانسلر ڈاکٹر احسان اللہ خان کاکڑ کا کہنا تھا کہ کسی بھی تعلیمی ادارے کی تعمیر و ترقی میں اس کے فارغ التحصیل طلباء کا اہم کردار ہوتا ہے ، جو اپنے ادارے کے لئے سفارت کا کردار ادا کرکے سفیر بن جاتے ہیں۔فارغ التحصیل طلباء کو اپنے مادر علمی کے تعارف اور تعمیر و ترقی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا چاہیے ۔ انہوں نے کہاکہ ہمیں خوشی ہے کہ بلوچستان یونیورسٹی آف انجینئر نگ اینڈ ٹیکنا لوجی خضدار سے فارغ ہونے والے انجینئرز بڑی تعداد میں ملک اور بیرونی ملک اپنی خدمات سرانجام دے رہے ہیں ،ہزاروں کی تعداد میں انجینئرز کا جامعہ خضدار سے فارغ ہونا اور تعمیری کردار ادا کرنا اعزاز کی بات ہے۔ رکن بلوچستان اسمبلی انجینئر میر یونس عزیز زہری نے بلوچستان یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنا لوجی خضدار میں خطاب کرتے ہوئے کہاکہ بلوچستان یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنا لوجی خضدار معروف تعلیمی ادارہ اور بلوچستان کی پہچان ہے ، جس سے مجھ سمیت ہزاروں انجینئرز نے تعلیم حاصل کی ہے۔ یہ ادارہ اعلیٰ اور تیکنیکی تعلیم کے لئے اہم مرکز ہے جس کے لئے ہم سب کو محنت کرکے اس کی تعمیر و ترقی میں اپنا حصہ ڈالنا ہوگا۔ موجودہ وائس چانسلر خضدار انجینئرنگ یونیورسٹی ڈاکٹر احسان اللہ خان کاکڑ خدمت کے جذبے سے سرشار ہیں جو نہ صرف جامعہ ہذا میں ڈیپارٹمنٹس کے اضافے بلکہ حب کیمپس کی تعمیر و ترقی کے لئے اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ فارغ التحصیل طلباء کی رجسٹریشن کا جو آغاز کردیا گیا ہے وہ خوش آئندہ ہے۔
()()()

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Post comment