HomeNews23-01-2020 Thursday (File No.1)

23-01-2020 Thursday (File No.1)

23-01-2020 Thursday (File No.1)

خبرنامہ نمبر260/2020
کوئٹہ23جنوری :۔ڈپٹی کمشنر سبی سید زاہد شاہ کی زیر صدارت دیہی شماری 2020 ءکے سلسلے میں ایک اجلاس منعقد ہوا جس میں پاکستان ادارہ شماریات کی طرف سے سید روح اللہ شاہ اور یار علی نے شرکت کی جبکہ دیگر شرکاءمیں ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر محمد اختر کھیتران، ڈپٹی ڈائریکٹر زراعت فضل قریشی،ڈپٹی ڈائریکٹر لائیوسٹاک جان محمد صافی،تحصیلدار نصیر ترین دیگر افسران نے شرکت کی۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر سبی سید زاہد شاہ نے کہا کہ دہی شماری 2020 انتہائی اہمیت کا حامل ہے اس ضمن میں ضلعی انتظامیہ متعلقہ عملے سے بھرپور تعاون کرے گی انہوں نے لوگوں سے بھی گزارش کی کہ وہ بھی عملے سے بھرپور تعاون کرتے ہوئے صحیح معلومات ٹیموں کو فراہم کریں قبل ازیں شماریات کے سید روح اللہ شاہ نے اجلاس کے شرکاءکو تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ دیہی شماری 2020 ضرورت اہمیت اور طریقہ کار کے متعلق وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ ملک بھر میں نویں دیہی شماری 2020 میں اعداد و شمار اکٹھے کرنے کا کام تین مرحلہ میں مکمل کیا جائے گا پہلا مرحلہ جنوری 2020 سے پنجاب اور سندھ میں شروع ہورہا ہے اور دوسرے مرحلے میں صوبہ بلوچستان اور صوبہ خیبر پختونخوا کے گرم علاقوں میں اعداد و شمار اکٹھے کیے جائیں گے جبکہ تیسرے مرحلے میں صوبہ بلوچستان اور صوبہ خیبرپختونخوا کے سرد علاقے گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر میں اعدادوشمار اکھٹے کیے جائیں گے دیہی شماری 2020 میں محکمہ مال کا عملہ بھرپور کردار ادا کرے گا محکمہ مال کے عملہ کی باقاعدہ ٹریننگ 1فروری سے شروع ہوجائے گی اور ٹریننگ کے فورا بعد ہر موضع بے دیہہ کے متعلق معلومات حاصل کرنے کے لیے سوال نامے پر کرنے کا کام شروع ہو جائے گا دیہی شماری 2020 کا سارا کام پورے ملک میں محکمہ ریونیو اور پاکستان ادارہ شماریات کے زیرنگرانی ہو رہا ہے پاکستان ادارہ شماریات کے نمائندہ آفیسر نے بتایا کہ اس سے بیشتر پاکستان میں آٹھ دیہی شماری ہر پانچ سال بعد 1971 – 1979 -1983 – 1988 – 1998 – 1993 – 2003 – اور 2008 میں کی گئی تھیں یہ اپنے سلسلہ کی نویں دیہی شماری ہے جو کہ جنوری 2020 میں کی جا رہی ہے دیہی شماری میں ہر ضلع کے تمام مواضعات کی فہرست میں آنے والی تبدیلیوں کا مشاہدہ کیا جاتا ہے اس دیہی شماری 2020 میں پاکستان کے تمام دیہی و شہری مواضعات کے متعلق بنیادی معلومات حاصل کی جائیں گی اور اس کے ساتھ ساتھ ان مواضعات میں معاشی اور معاشرتی سہولیات سے متعلق معلومات اکٹھی کی جائینگی مثلا موضع سے متعلق زرعی معلومات آبادی کو میسر بنیادی سہولیات انسانی صحت کی سہولیات تعلیم و تفریح کی سہولیات مال مویشی اور ان کے علاج معالجے کی سہولیات ذرائع مواصلات کی سہولیات آبادی کی معاشی سرگرمیوں کے متعلق معلومات وغیرہ دیہی شماری کی تمام معلومات کو تحصیل کی سطح پر ترتیب دیا جاتا ہے تاکہ ضلعی حکومت انتظامیہ اور لوکل گورنمنٹ کو اپنے ضلع کی بنیادی سہولیات سے متعلق اصل صورتحال کا علم ہو سکے جس کی بنیاد پر وہ مستقبل میں ترقی کے لئے بہتر لائحہ عمل اور منصوبہ بندی کرسکیں اور ماضی میں مکمل کیے گئے ترقیاتی منصوبوں کے نتائج دیکھ سکیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر261/2020
کوہلو23جنوری :۔اسسٹنٹ کمشنر کوہلو عبدالستار مینگل نے اچانک تحصیل ماوند کا دورہ کیا ہے انہوں نے تحصیل ماوند کے مین بازار،تحصیل ہسپتال،مختلف ڈسپنسروں سمیت تحصیل لیویز تھانہ کا بھی معائنہ کیا اے سی نے ہسپتالوں میں ڈاکٹروں کی حاضریاں ، ادویات،صفائی ،طبی سہولیات سمیت شہر میں اشیاءخوردونوش کی معیار اور پرائس چیک کئے اور اُنہیں اشیاءخوردونوش سرکاری نرخ نامہ کے مطابق فراہم کرنے کی ہدایت کی اس موقع پر انہوں نے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ تحصیل ماوند میں عوام کے بنیادی مسائل کا حل ہماری اولین ترجیح ہے تحصیل ہسپتال میں ضلعی انتظامیہ محکمہ صحت کے ساتھ مل کر عوام کو صحت کے بنیادی سہولیات کےلئے اقدامات اُٹھائے گی تاکہ صحت کے سہولیات عوام کو ان کی دہلیز تک پہنچ سکیں یہاں صحت ،تعلیم ،بجلی ،پانی سمیت دیگر بنیادی سہولیات کے لئے کوشاں ہیں تاکہ لوگ ترقی اور خوشحالی کی جانب گامزن ہوسکیں ماوند کے مین بازار میں سبزی اور فروٹ کی قیمتیں کوہلو شہرسے بھی سستے ہیں یہاں سہولیات آنے سے لوگوں میں کاروبار کا رجحان بڑھے گا جس سے شہر پسماندگی سے نکل کر ترقی کی جانب گامزن ہوگا ماوند میں سب سے بڑا بنیادی مسئلہ پینے کے صاف پانی کےلئے خصوصی اقدامات کی ضرورت ہے ۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر262/2020
حب 23جنوری :۔کمشنر قلات ڈویژن حافظ طاہر نے کہا ہے کہ بلوچستان کے صنعتی شہر حب بائی پاس کی تعمیر کو بروقت یقینی بنایاجائے تاکہ سی پیک کے حوالے سے بڑھتے ہوئے ٹریفک بہاﺅ میںگاڑیوں کی روانی کو برقرار رکھاجاسکیں انہوں نے کہا کہ کوئٹہ کراچی کے علاوہ مکران گوادر و بلوچستان کے دیگر شہروں میں جانیوالی ہیوی ٹریفک کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت نے حب بائی پاس جیسے اہم منصوبے کی تعمیر کے لئے 68کروڑ کی خطیر رقم مختص کی ہیں تاکہ عوام خصوصا ٹرانسپورٹروں کو تمام سہولیات مہیا کی جاسکیں ان خیالات کا اظہار کمشنر قلات ڈویژن نے گزشتہ روز حب بائی پاس کی تعمیر حبکو تعمیراتی کام کے معائنہ کے موقع پر کیا اس موقع پر محکمہ مواصلات و تعمیرات کے حکام نے بریفنگ میں بتایا کہ اس اہم منصوبے کی تکمیل جون 2020تک ہونی ہیں لیکن ٹریفک کے بڑھتے ہوئے بہاﺅ کو مدنظر رکھتے ہوئے کام کی رفتار کو تیز کیا گیا ہے تاکہ اس منصوبے کو مارچ 2020میں مکمل کرکے اپریل میں ہیوی ٹریفک کے گزرنے کے لئے کھول دیا جائے اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر حب کیپٹن (ر) مہراللہ بادینی اسسٹنٹ ڈائریکٹر پی اینڈ ڈی محمد صادق نوتانی ایس ڈی او تعمیرات و مواصلات حب رسول بخش و دیگر ان کے ہمراہ تھے کمشنر قلات ڈویژن نے کہا کہ کام کی اعلیٰ معیار کو مد نظر کو برقرار رکھتے ہوئے تعمیراتی کام کی رفتار مزید تیز کی جائے تاکہ اس اہم منصوبے کی تکمیل کے بعد بلوچستان کے مختلف اضلاع میں عوام کو بہتر سفری سہولیات مہیا ہوسکیں ۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر263/2020
لورالائی23جنوری: ۔ڈپٹی کمشنر اسد اللہ خان کاکڑ نے کہا ہے کہ پولیو ایک خطرناک موذی مرض ہے جو بچوں کو عمر بھر کیلئے معذور بنا دیتا ہے پولیو وائرس ایک قومی مسئلہ بن چکا ہے حکومت پولیو مرض کے مکمل خاتمے کیلئے کوشاں ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے پولیو مہم کے سلسلے ڈی پیک کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر بوری محمد سلیم کاکڑ، ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر شبیر احمد مینگل، زونل منیجر پی پی ایچ آئی کمیل علی، ڈپٹی ڈی ایچ او ڈاکٹر طارق ،ڈاکٹر فرحان انجم، پولیو کنڑول روم انچارج مختیار اللہ لونی ودیگر تمام محکموں کے ڈسٹرکٹ آفیسرز نے شرکت کی۔ڈپٹی کمشنر اسد اللہ خان کاکڑ نے کہا کہ یہ مہم بہت ضروری اور اہم ہے مہم میں تمام بچوں بشمول HRMPسب کو قطرے پلائے جائیں گے ،لورالائی میں پانچ سال سے کم عمر بچوں کی تعداد 56832ہیں پچھلی مہم میں 2ریفیوزل اور 791این اے رہ گئے تھے انہوں نے کہا کہ پولیو مہم میں کسی قسم کی کوتاہی اور غفلت برداشت نہیں کی جائے گی ، پولیو کے قطرے پلانے والی ٹیموں کو لیویز اور دیگر سیکورٹی فراہم کررہے ہیں پولیو ٹیمیں بھی نڈر اور بے خوف ہوکر اپنے فرائض سرانجا م دےں، پولیو کو جڑسے اکھاڑپھینکنا قوم کے مفاد میں ہے، انہوںنے عوام سے اپیل کی کہ عوام اپنے بچوں کو زیادہ سے زیادہ تعداد میں پولیو کے قطرے پلاکر اس موذی مرض سے بچائیں تاکہ اس موذی مرض کا ملک سے جلد خاتمہ ہوسکے ، انہوں نے خصوصاً والدین سے اپیل کی کہ وہ اپنے بچوں کو اس موذی اور خطر ناک مرض سے بچانے کیلئے اپنے بچوں کو لازمی پولیو کے قطرے پلائیں اور محکمہ صحت کی پولیو کے قطرے پلانے والی ٹیموں کے ساتھ مکمل تعاون کریں، پولیو ایک خطر ناک مرض ہے اس کاواحد حل پولیو کے قطرے ہیں انشاءاللہ جلد ہی پاکستان سے پولیو کا خاتمہ ہوجائے گا پولیو کے حوالے سے سول سوسائٹی، علما ءکرام و سماجی تنظیموں سے اپیل ہے کہ پولیو جیسے مرض کے خاتمے کیلئے ہمارے شانہ بشانہ کھڑے ہو کر ساتھ دیں تاکہ اس موذی مرض کو جڑ سے اکھا ڑ دیا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر264/2020
زےارت23جنوری:۔انسداد پولےومہم پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرےں گے پولےو اےک جان لےو ا مرض ہے اس سے ہمارے بچے مستقل طور پر معذور اور پولےو ملک کی بدنامی کا باعث بن رہا ہے انسداد پولےو مہم میں غفلت ناقابل برداشت ہے ان خےالات کا اظہار ڈپٹی کمشنر زےارت قادر بخش پرکانی نے انسداد پولےو مہم کے سلسلے میں ڈی پےک کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیااجلاس میںاےڈےشنل ڈپٹی کمشنر سمےع اللہ کاکڑ،ڈسٹرکٹ پولےس افسر محمد علی کاسی ،اسسٹنٹ کمشنر سنجاوی عبدالمجےد سرپرہ ،ڈی اےچ او ڈاکٹر داود خان ،اےم اےس ڈاکٹر عبداللہ دوتانی اور لائن ڈےپارٹمنٹ کے افسران نے شرکت کی۔ڈپٹی کمشنرقادر بخش پرکانی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ2020پولےو کے خاتمے کا سال ثابت ہوگا،اور ہماری پولےو کے خاتمے کے لےے کوششیں بارآور ثابت ہوگی ،پولےو کے خاتمے کے لئے علماء،سول سوسائٹی ،مےڈےا اور تمام مکاتب فکر کے افراد کو ہر اول دستے کا کردار ادا کرنا ہوگا،پولےو جےسے موذی مرض کا خاتمہ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہاکہ صحت مندمعاشرے کا قےام لےو وائرس کے مکمل خاتمے کے بغےر پورا نہیں ہوسکتا۔بلوچستان میں پولےو وائرس سے نمٹنا اےک چےلنج ہے ،جس سے نمٹنے کے لےے حکومت ٹھوس اقدامات کررہی ہے،پولےو مہم کو کامےاب بنانا ہم سب کی قومی ذمہ داری ہے ۔انہوں نے کہا کہ پولےو کے خاتمے کے لےے عوام میں شعور اجاگر کرنے کی ضرورت ہے اور پولےو مہم میں مزےد تےزی لانے کی ضرورت ہے ،عوام کو انسداد پولےومہم حکومتی کوششوں کا ساتھ دےنا ہوگا اور اس موذی مرض کے خاتمے کے لےے مشترکہ کوششیں کرناہوگی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿

Share With:
Rate This Article
No Comments

Leave A Comment