Download

خبر نامہ نمبر 3222/2018
کوئٹہ 22نومبر۔گورنر بلوچستان امان اللہ خان یاسین زئی نے کہا ہے کہ بلوچستان میں عوام کی بڑھتی ہوئی ضروریات ، درپیش مشکلات اور خاص کر چائناپاکستان اقتصادی راہداری جیسے عظیم منصوبوں کے پیش نظرہمیں ہر شعبے میں قلیل اور طویل المدتی منصوبہ بندی کرنی چاہیئے تاکہ ہماری موجودہ اور مستقبل قریب کی ضرورت پوری ہوسکیں ۔ اس ضمن میں اعلیٰ تعلیمی اداروں کے ماہرین اور محققین کے علم و تجربہ سے بھر پور مددمل سکتی ہے ۔ انہوں نے ماہرین اور محققین پر زور دیا کہ وہ آگے آئیں اور نئی تحقیق کے ذریعے اپنے حصہ کا کردار اد ا کریں ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کے روز آئی ٹی یونیورسٹی کے دورے پر ڈین فیکلٹی، چیئرمین اور اساتذہ اکرام سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر وائس چانسلرآئی ٹی یونیورسٹی انجینئر احمد فاروق بازئی بھی موجود تھے ۔ گورنر بلوچستان نے کہا کہ یہ بات لائق تحسین ہے کہ آئی ٹی یونیورسٹی نے بہت ہی قلیل عرصے میں قومی سطح پر بڑا نام کمایا ہے تاہم اپنی کارکردگی کو مزید بہتر بنانے کی ضرورت ہے کیونکہ یہ حاصلات ہمارے لئے اختتام کی بجائے نئی شروعات ہیں ۔ گورنر نے کہاکہ ہمیں اساتذہ اکرام کو درپیش مشکلات کا خوب ادراک ہے اور آپ کی مشاورت سے ان کے حل کیلئے ہر ممکن قدم اٹھایا جائیگا ۔ انہوں نے کہا کہ ضرورت اس امر کی ہے کہ آپ اپنے علم اور تجربے کے مطابق تعلیمی معیار کو بلند کرنے کیلئے اپنی مثبت تجاویز اور قیمتی اراء تحریری شکل میں پیش کریں بلکہ عوامی ضروریات سے ہم آہنگ پالیسی تشکیل میں بھی رہنمائی فراہم کریں ۔ 
()()()
خبر نامہ نمبر 3223/2018
کوئٹہ 22نومبر۔صوبائی وزیر خزانہ میر محمد عارف محمد حسنی نے کہا ہے کہ صوبے میں گڈگورننس ، انتظامی امور میں بہتری اور دیگر مسائل کے حل کیلئے صوبائی حکومت وزیر اعلیٰ جام کمال خان کی قیادت میں بھر پور کوشاں ہے لہٰذا اس ضمن میں پورے صوبے کے مختلف علاقوں میں موجود ڈویژنل آفیسران حکومت کی جانب سے کئے جانے والے تمام اقدامات کو عملی جامہ پہنانے کیلئے فور ی اقدامات کریں ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے وزیراعلیٰ بلوچستان کی ہدایت پر صوبے میں گڈ گورننس ، مالی مسائل کے حل ، انتظامی امور سمیت وسائل میں بہتری لانے کے حوالے سے ایک اہم اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر سیکریٹری خزانہ نور الامین مینگل ، کمشنر رخشاں ڈویژن نصیر احمد ناصر ، کمشنر قلات ڈویژن بشیر احمد بنگلزئی ، کمشنر کوئٹہ ڈویژن ہاشم غلزئی ، کمشنر مکران ڈویژن سید ل لونی ، کمشنر ژوب ڈویژن بشیر بازئی و دیگر بھی موجود تھے ۔صوبائی وزیر نے کہا کہ وسائل کی کمی اورمسائل کے زیادہ ہونے کی وجہ سے ڈویژنل سطح پر ہمارے آفیسران کو پریشانی کا سامنا ہے اور ہمیں ان کی ان تمام مسائل اور پریشانیوں کا بخوبی احساس ہے لہٰذا اس حوالے سے مالی مسائل پر قابو پانے کیلئے ضروری اور فوری نوعیت کے چھوٹے مسائل کو حل کرنے کیلئے فنڈز کی فراہمی کی جائے گی تاکہ ڈویژنل آفیسران کو اپنے ہی دفتر میں ان مسائل کو حل کرنے میںآ سانی ہو ۔ انہوں نے کہا کہ صوبے کے مختلف علاقوں میں عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی کے علاوہ دیگر صحت مندانہ سرگرمیوں جن میں فیسٹیولز کا انعقاد ، کلچرل شوز و دیگر تفریحی پروگراموں کے انعقاد سے ایک طرف تو عوام کو تفریح کے مواقع ملیں گے جبکہ دوسری جانب ان مثبت سرگر میوں کی وجہ سے ملکی اور بین الا قوامی سطح پر صوبے کے حوالے سے خوبصورت تاثر قائم ہوگا ۔ اس موقع پر ڈویژنل کمشنرز نے اجلاس کو درپیش مالی مشکلات و دیگر مسائل کے بارے میں آگاہ کیا جس پر صوبائی وزیر نے انہیں یقین دلایا کہ ان مسائل کے حل کیلئے ضروری اقدامات کئے جائیں گے۔ 
()()()
خبر نامہ نمبر 3224/2018 
کوئٹہ 22نومبر۔ ڈپٹی کمشنر کوئٹہ کے اعلامیہ کے مطابق تنویر عالم ولد شرافت حسن سکنہ کچھی شناختی کارڈ نمبر 54400-0427866-9کا ڈومیسائل ان کی اپنی درخواست پر منسوخ کردیا گیا ہے ۔ 
()()()
خبر نامہ نمبر 3225/2018
کوئٹہ 22نومبر۔سیکریٹری تعلیم و سکولز محمد طیب لہڑی نیجمعرات کے روز کوئٹہ کے مختلف اسکولوں کا اچانک دورہ کیا ۔ اس موقع پر ڈویژنل ڈائریکٹر کوئٹہ مطیب احمد آفریدی اور ڈی ای او کوئٹہ اعجاز بلوچ بھی انکے ہمراہ تھے ۔ انہوں نے بعض اسکولوں میں غیر حاضر اساتذہ کو فوری شو کاز نوٹسز جاری کرنے اور بعض غیر حاضر اساتذہ سے اظہار وجوہ طلب کرنے کے احکامات جاری کرنے کے سا تھ ساتھ مذکورہ اساتذہ کے خلاف فوری کارروائی عمل میں لانے کی ہدایات دیں ۔ انہوں نے اسکولوں کے سربراہان سے کہا کہ تدریس کے حوالے سے کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی ۔ اس موقع پر سیکریٹری تعلیم کا کہنا تھا کہ موجودہ صوبائی حکومت تعلیم کے شعبے میں خاص دلچسپی رکھتی ہے اور وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان کی خصوصی ہدایات کی روشنی میں صوبے میں تعلیم کی بہتری کیلئے مزید اسکولوں کا دورہ کیا جائیگا اور غیر حاضر اساتذہ کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی ۔ انہوں نے متعلقہ آفیسران کو غیر حاضر اساتذہ کے حوالے سے فوری رپورٹ مرتب کرکے پیش کرنے اور RTSMکی تجاویز کی روشنی میں کارروائی عمل میں لانے کی ہدایات بھی جاری کیں ۔ دورے میں شامل اسکولوں میں گورنمنٹ پاک گرلز ہائی اسکول کوئٹہ ، گورنمنٹ مڈل اسکول محلہ کوئٹہ ، گورنمنٹ گیس فورڈ اسکول کوئٹہ ، گورنمنٹ پرائمری اسکول یٹ روڈ ، گورنمنٹ لیڈی سنڈیمن اسکول اور گورنمنٹ بوائز ہائی اسکول سنڈیمن شامل ہیں ۔ انہوں نے گورنمنٹ مڈل اسکول محلہ کوئٹہ اور گیس فورڈ کے طلباء اور اساتذہ کو گورنمنٹ پاک گرلز ہائی اسکول میں ضم کرنے کے حوالے سے فوری طور پر ڈائریکٹر اسکولز اور ڈسٹرکٹ ایجو کیشن آفیسر کوئٹہ سے تجاویز طلب کیں ۔ اسکے علاوہ پرائمری اسکول کیقباد اسکول کی دوسری شفٹ کی طالبات کو گورنمنٹ لیڈی سنڈیمن اسکول میں پہلی شفٹ میں ایڈ جسٹ کرنے کے احکامات بھی صادر کئے ۔اسکے علاوہ انہوں نے اساتذہ کیلئے گاؤن کے استعمال کی پابندی پر زور دیا ۔ انہوں نے گورنمنٹ ہائی اسکول سنڈیمن میں حاجی عبداللہ کے تعاون سے چلنے والے پراجیکٹ کے کام کو سراہا اور اور اسکول میں ملٹی میڈیا ، سائنس لیبارٹری اور بہترین سائنسی آلات کی فراہمی پر حاجی عبداللہ کا شکریہ ادا کیا اور انہیں ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی بھی کرائی ۔
()()()
خبر نامہ نمبر 3226/2018 
قلات22 نومبر۔صوبائی سیکرٹری صحت حافظ عبدالماجد نے قلات میں 50 بیڈوں پر مشتمل پرنس آغا عبدالکریم خان ہسپتال کا دورہ کیا۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر قلات آغا نبیل اختر، چیف پلاننگ آفیسر ہیلتھ عبدالرسول، پروونشل کوآرڈینیٹر ایم این سی ایچ ڈاکٹر گل سبین، پروونشل کوآرڈینیٹر ٹی بی کنٹرول پروگرام بلوچستان ڈاکٹر رحیم بگٹی، سٹاف آفیسر شوکت زہری، ایم ایس پرنس عبدالکریم خان ہسپتال ڈاکٹر علی اکبر نیچاری، ایم ایس ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال ڈاکٹر محمد اقبال نورزئی، ڈاکٹرگھنشام داس اور پی پی ایچ آئی کے غلام فاروق انکے ہمراہ تھے۔ سیکرٹری صحت نے ہسپتال کے مختلف حصوں کا معائنہ کیا اور ہسپتال کی تعمیر میں سست روی پر برہمی کا اظہا کیا انہوں نے ہدایات دیں کہ ہسپتال کے ایمرجنسی وارڈ کو پندرہ روز کے اندر فعال کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ صحت اور پی پی ایچ آئی کے تعاون سے ہسپتال کی دیگر سہولیات اور ایمبولینس کی فراہمی بہت جلد عمل میں لائی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعلی بلوچستان جام کمال خان صوبے میں تعلیم اور صحت کی بہتری میں خصوصی دلچسپی رکھتے ہیں اور صحت کے شعبے کی بہتری کیلئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات اٹھائے جارہے ہیں۔ اور اس سلسلے میں کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔ انکا کہنا تھا کہ ہسپتال میں سٹاف اور دیگر طبی عملے کی کمی کو فوری طور پر پورا کیا جائیگا۔ انہوں نے ڈپٹی کمشنر قلات اور ایم ایس ڈاکٹر علی اکبر نیچاری کو پرنس عبدالکریم خان ہسپتال کے جاری منصوبوں کی خصوصی نگرانی کی ہدایت کی۔
()()()
خبر نامہ نمبر 3227/2018 
کوئٹہ 22نومبر۔کمشنر کوئٹہ ڈویژن کی خصوصی ہدایت پر سیکرٹری آرٹی اے کوئٹہ حبیب اللہ خان نے معائنہ ٹیم کے ہمراہ کچلاک روٹ کی لوکل بسوں کی کنڈیشن اور کاغذات کی جانچ پڑتال کی ،دوران چیکنگ انہوں نے روٹ پر مطلوبہ تعداد سے کم لوکل بسوں کا معائنہ کرانے ،آوور لوڈنگ اور سمگلنگ کیلئے ان کے استعمال پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شہر میں عوام کی سہولت کیلئے ہر روٹ پر گنجائش سے زیادہ پرمٹ جاری ہوئے ہیں لیکن دوران چیکنگ کم تعداد میں بسوں کا معائنہ کروایاجا رہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ انتظامیہ کی جانب سے لوکل بسوں کا معائنہ عوام کے بہتر مفاد اور سہولت کیلئے ہو رہا ہے لہٰذا ٹرانسپورٹروں کی جانب سے عدم تعاون اور غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ لوکل بسوں میں گنجائش سے زیادہ مسافر سوار کرنے اور چھتوں پر مسافروں کو بٹھانے والوں کے خلاف قانون کے مطابق کاروائی عمل میں لائی جائے گی اس کے علاوہ لوکل بسوں میں سمگلنگ کا سامان لادنے کی شکایت پر متعلقہ بس کاروٹ پرمٹ معطل کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ جن لوکل بسوں کا معائنہ نہیں کروایا گیاہے ان کے روٹ پرمٹ پر تجدید کا عمل روک دیا جائے گالہٰذا تمام لوکل بسوں کے مالکان اپنی بسوں کے معائنے کو یقینی بنائیں ۔انہوں نے کہاکہ لوکل بسوں کی کنڈیشن کی درستگی سے جہاں لوگوں کو سفری سہولیات ملیں گے وہیں ماحولیاتی آلودگی میں کمی واقع ہوگی ۔انہوں نے کہا کہ جن بسوں کی کنڈیشن درست نہیں ہوگی ان کیخلاف کارروائی عمل میں لاتے ہوئے ان کے روٹ پرمٹ معطل کئے جائینگے۔انہوں نے کہاکہ شہر کی بہتری اور عوام کے سہولت کے لئے لوکل بسوں کی حالت زار بہتربنانے کے لئے ہرممکن اقدمات اٹھائے جارہے ہیں انہوں نے تاکید کی کہ بسوں میں خواتین اور طلباء سے رویہ درست رکھا جائے شکایت کی صورت میں بس مالکان کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
()()()
خبر نامہ نمبر 3228/2018 
نصیر آباد22نومبر۔ ڈپٹی کمشنر صحبت پورمحمد یونس سنجرانی نے کہا ہے کہ ضلعی حکومت عوام کو تعلیم،پینے کے صاف پانی اورصحت کی سہولیات کی فراہمی میں کوئی کسرنہیں چھوڑرہی انہوں نے کہا کہ عوام کی خدمت اوران کے مسائل کا حل ہماری اولین ترجیحات میں شامل ہے محدودوسائل میں رہتے ہوئے عوام کو زندگی کی تمام بنیادی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایاجارہا ہے ہماری ترقی تعلیم سے ہی منسلک ہے جس کیلئے صوبائی حکومت ہنگامی بنیادوں پر کام کررہی ہے اس ضمن میں ضلعی انتظامیہ صوبائی حکومت کے احکامات کو عملی جامعہ پہنانے میں دن رات کوشاں ہے انہوں نے کہا کہ پینے کے صاف پانی کی فراہمی اورصحت کی بنیادی سہولیات عوام تک پہنچانا ہماری ذمہ داریوں میں شامل ہے اس حوالے سے کسی قسم کی کوتاہی یالاپرواہی ہرگزبرداشت نہیں کی جائے گی۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے صحبت پورکے علاقے درگی میں محکمہ صحت کے قائم بی ایچ یو سینٹر ، محکمہ پی ایچ ای کے واٹرفلٹریشن پلانٹس اورصحبت پورکے سکول کے دورے کے موقع پرخطاب کرتے ہوئے کیا ڈپٹی کمشنر نے سکول کے مسائل سنے اور بچوں سے سبق بھی سنا اساتذہ نے ڈپٹی کمشنر کو سکول کے مسائل کے متعلق سے آگاہ کیا اور مسائل کے حل کیلئے استدعا بھی کی جس پر ڈپٹی کمشنرنے انہیں یقینی دہانی کروائی کے ان کے مسائل اولین سطح پر حل کئے جائیں گے انہوں نے بی ایچ یو سینٹردرگی کا دورہ کرکے حاضری رجسٹرڈبھی چیک کیا اورتاکید کی کہ غیر حاضرملازمین کے ساتھ کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی صحت اللہ کی بہت بڑی نعمت ہے اورخلق خداکی خدمت کرنا ایک اچھا عمل اورہم سب کی ذمہ داری بھی ہے انہوں نے کہا صاف ستھراپانی صحت مندانہ زندگی کی نشانی ہے عوام کو صاف پانی کی فراہمی کو ہرممکن طورپر یقینی بنایاجائے انہوں نے کہاکہ ہمیں یہاں عوام کی خدمت کیلئے بھیجا گیا ہے نہ کہ ان پر حکمرانی کرنے ، عوام کے اعتمادپر پورااترنا ہی ہم سب کی ذمہ داریوں میں شامل ہے ۔
()()()
خبر نامہ نمبر 3229/2018 
قلعہ سیف اللہ22نومبر ۔کمشنر ژوب ڈویژن بشیر احمدخان بازئی کی زیر صدارت ڈویژنل رابطہ کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا ۔اجلاس میں ڈپٹی کمشنر قلعہ سیف اللہ سیف اللہ خان کھتران ،ڈپٹی کمشنر دکی عبدالناصر دوتانی ،ڈپٹی کمشنر لورالائی حبیب الرحمن کاکڑ ،ڈپٹی کمشنر بارکھان سہیل انور ہاشمی ، ڈپٹی کمشنر شیرانی عبدالخالق مندوخیل ،ڈپٹی کمشنر ژوب عبد الجبار بلوچ ،ڈویژنل ڈائریکٹر لوکل گورنمنٹ لورلائی لطف علی جمالی اور ڈویژن کے تمام اضلاع کے ضلع کونسلوں اور میونسپل کمیٹیوں کے چیئرمینوں شمس حمزہ زئی ،نعمت اللہ جلالزئی ،نواب زادہ داراخان جوگیزئی ،سردار زادہ سلام شاہ کھیتران ،عبدالخالق میرزئی ،انجینئر عبدلکریم ،پائیوخان موسی خیل ودیگر عوامی نمائندوں اور چیف آفیسران نے شرکت کی ۔کمشنر ژوب بشیر احمد خان بازئی نے اس موقع پر کہا کہ سرکا ر کا پیسہ عوام کی امانت ہے اسے سوچ سمجھ کو استعمال کیا جائے انفرادی کے بجائے اجتماعی نوعیت کے منصوبے تجویز کئے جائیں کوئی بھی غیر قانونی اور غیرضروری سکیم منظور نہیں کی جائے گی ،انہوں نے کہا کہ بلدیاتی نمائندے نچلی سطحُ پر عوام کے مسائل سے بخوبی واقف ہیں وہ ضلعی آفیسران کے ساتھ مل کر عوام کی بہتر خدمت کرسکتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ بلدیاتی اداروں کو سالانہ کروڑوں کابجٹ ملتا ہے اگر مخلصانہ کوششیں کی جائیں توعوام کے مسائل میں کمی لائی جاسکتی ہے ۔اجلاس میں چیف آفیسران نے2016.17 اور 2017.18 کے ترقیاتی اور غیر ترقیاتی بجٹ ،مکمل ،جاری اور تجویز کئے گئے منصوبوں کے حوالے سے مکمل بریفنگ دی ۔اجلاس میں درپیش مسائل ،فنڈ کے استعمال میں مشکلات اور قانونی پیچید گیوں پر بھی غور و خوض کیا گیا ۔ 
()()()
خبر نامہ نمبر 3230/2018 
لورالائی 22نومبر ۔ صوبائی مشیر لائیوسٹاک اینڈ ڈیری ڈویلپمنٹ حاجی مٹھا خان کاکڑ نے کہا ہے کہ لائیوسٹاک کسی بھی ملک کی ترقی اورخوشحالی میں انتہائی اہم کردار ادا کرتا ہے ۔بلوچستان میں لائیوسٹاک کی بہتری اور اس کی ترقی کیلئے بھرپور توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ بلوچستا ن کے اکثر علاقوں کے عوام کے روزگار کا دارو مدارمال مویشی پالنے پر ہے۔ان خیالات کا اظہار انہو ں نے دورہ لورالائی کے دوران گورنمنٹ ڈیر ی فارم کے معائنہ اور محکمہ کے آفیسران کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر صوبائی وزیر صنعت و تجارت حاجی محمد خان طور اوتمانخیل ، ڈائریکٹر جنرل لائیوسٹاک ڈاکٹر غلام حسین جعفر،ڈویژنل ڈائریکٹر ڈاکٹربہاوالحق مندوخیل ،ڈاکٹر محمد نعیم اوتمانخیل ،ڈاکٹر خالقداد ،ڈاکٹر اسلم جلالزئی ،ڈاکٹر صالح اوتمانخیل، ڈاکٹر عبدالباری ناصر بھی ان کے ہمراہ تھے ۔ ڈویژنل ڈائریکٹر ڈاکٹر بہاوالحق مندوخیل نے صوبائی وزیرکو تفصیلی بریفنگ دی صوبائی وزیر نے اس موقع پر کہا کہ بلوچستان میں جتنے بھی گورنمنٹ ڈیری فارمز ہیں ان کی کارکردگی سے میں مطمئن نہیں ہوں ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ڈیری فارمز کے شعبے پر خصوصی توجہ دی جاتی تاکہ عوام کو تازہ دودھ کے ساتھ ساتھ روزگار کے مواقع بھی میسر آتے اور گورنمنٹ کی آمدنی میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہوتا ۔انہوں نے کہا کہ عوام کو بہت جلد محکمہ لائیوسٹاک میں ایک خوشگوار تبدیلی نظر آئے گی ۔انہوں نے کہا کہ لائیوسٹاک کسی بھی ملک کی ترقی اورخوشحالی میں سب سے اہم کردار ادا کرتا ہے اور اسی وجہ سے پاکستان خصوصا بلوچستان میں لائیوسٹاک کی بہتری اور اس کی ترقی کیلئے بھرپور توجہ دینے کی ضرورت ہے کیونکہ بلوچستا ن کے اکثر علاقوں کے عوام کے روزگار کا دارو مدار مال مویشی پالنے پر ہے اور اسی لئے ہماری اولین ترجیح مالداورں کو ان کے مال مویشوں کے علاج معالجے کی سہولیات ان کی دہلیز پر پہنچانے پر ہے انہوں نے کہا کہ ڈیر ی فارموں کی حالت پورے بلوچستان میں آپ کو بہت جلد تبدیل ہوتی ہوئی نظر آئے گی انہوں نے کہا کہ ہماری کوشش ہے کہ ڈیر ی فارموں میں گائیوں کی تعد اد بھی بڑھائی جائے اور ان کو بھر پور طریقے سے پورے بلوچستان میں فعال بنایا جائے اور اس کے ساتھ ہماری پوری توجہ پولٹری فارمز کے شعبے کو بھی فعال اور بحال کرنے کی جانب مرکوز ہے انہوں نے کہا کہ آفیسران عوام کے خادم ہیں اور ان کو چاہیے کہ وہ اپنے فرائض منصبی پوری ایمانداری سے سرانجا م دیں اور محکمے کی ترقی اور اس کے مسائل کے حل اور لائیوسٹاک ملازمین کو سہولیات فراہم کرنا ان کا اولین فرض ہے انہوں نے کہا کہ لورالائی محکمہ لائیوسٹاک کیلئے دوائیاں کا کوٹہ بھی انشااللہ بہت جلد بڑھایا جائے گا کیونکہ یہ کوٹہ بہت کم ہے اورلورالائی شدید خشک سالی کا بھی شکارہے انشااللہ مالداورں کوسہولیات کی بہتر فراہمی کیلئے لائیوسٹاک کے ڈاکٹر ز اور دیگر ٹیمیں مختلف علاقوں کا دورہ کرکے مالداروں کو ان کے مال مویشیوں کے علاج معالجے کی سہولیات فراہم کی جائیں گی اور ان کیلئے خصوصی میڈیکل ویٹرنری کمیپ لگائے جائیں گے۔
()()()
خبر نامہ نمبر 3231/2018 
لورالائی 22نومبر۔گورنمنٹ گرلز ماڈل ہائی سکول لورالائی میں اینٹی کرپشن کے حوالے سے ژوب ڈویژن کی سطح پر مختلف سکولوں کے طلباء و طالبات کے درمیان اردو اور انگریزی تقاریرکے مقابلوں کا انعقاد کیا گیا۔ اس تقریب کے مہمان خصوصی ژوپ ڈویژن کے ڈویژنل ڈائریکٹرایجوکیشن ملا محمدعمرانی تھے۔ جبکہ تقریب میں گورنمنٹ گرلز ماڈل ہائی سکول لورالائی کی پرنسپل صفیہ ذہین ، ڈی ای او لورالائی جمال الدین اتمانخیل، ڈی ای او ژوب لعل جان ، ڈی ای او شیرانی شیخ موسیٰ خان مندوخیل، ڈی ای او دکی امیر محمد اوتمانخیل اور دیگر اساتذہ نے بھی شرکت کی۔ ججز کے فرائض سینئر اساتذہ غلام حیدر ترین، محمد انور اور بابولال نے سر انجام دئیے۔ طلبہ نے اینٹی کرپشن کے حوالے سے اردو اور انگریزی میں تقاریر کیں ۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ڈویژن ڈائریکٹر ملا محمد عمرانی نے کہا کہ طلبہ میں ٹیلنٹ کی کمی نہیں ہے۔طلباء نے کرپشن ہمارے سماج کا ایک بد ترین ناسور کے عنوان کے تحت جو تقاریر کیں ان سے طلبہ کے اندر کرپشن اور بد عنوانی کے حوالے سے آگہی بڑھے گی اور معاشرے میں اس حوالے سے مثبت تبدیلی آئے گی۔ آ ج کے یہ طلبہ ہمارے مستقبل کے ذمہ دار شہری کی حیثیت سے اپنا کردار ادا کریں گے۔ کرپشن ہمارے ملک کا سنگین مسئلہ ہے، جو کہ کسی بھی ملک کے اداروں کو دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس کی روک تھام کے لئے ہمیں ایسے مقابلے ، سیمینارز وغیرہ کا انعقاد کرکے معاشرے میں آگہی پھیلانی چاہئیے تاکہ بچوں کے ذہنوں میں راسخ کیا جائے کہ بدعنوانی ہر معاشرے کے لئے بد ترین ناسور ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے مقابلے ضلعی سطح پر ہونے کے بعد ڈویژنل سطح پر کرائے جا رہے ہیں ۔ ان مقابلوں میں اول پوزیشن حاصل کرنے والے مختلف ڈویژنز کے طلبہ کو صوبائی سطح پر مقابلوں میں شرکت کرنے کا موقع دیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ ان مقابلوں میں اول پوزیشن حاصل نہ کرنے والے طلبہ دل برداشتہ نہ ہوں بلکہ مزید محنت کر کے اس طرح کے دیگر مقابلوں میں حصہ لیں اور پوزیشن حاصل کریں۔تقریب سے سکول کی پرنسپل صفیہ ذہین ، جمال الدین اتمانخیل ، شیخ موسیٰ خان مندوخیل اور دیگر نے بھی خطاب کیا اور طلبہ کی کاوشوں کو سراہا اور امید ظاہر کی کہ آئندہ بھی ایسے مقابلے ضلعی اور ڈویژن کی سطح پر ہوتے رہیں گے، جس سے طلبہ میں آگہی کا سلسلہ جاری رہے گی آخر میں کامیاب طلبہ و طالبات میں انعامات تقسیم کئے گئے ۔ 
()()() 
پریس ریلیز 
مستونگ 22نومبر ۔ کیڈٹ کالج مستونگ نے پاکستان ایئر فورس اکیڈمی اصغر خان میں منعقدہ کل پاکستان دولسانی تقریری مقابلے میں شرکت کی اس مقابلے میں ملک بھر کے 49 نمایاں تعلیمی اداروں جن میں جنا ح سندھ میڈیکل یونیورسٹی کراچی ، ڈاؤ میڈیکل یونیورسٹی کراچی ، جامعہ کراچی ، آغا خان یونیورسٹی کراچی ، زرعی یونیورسٹی فیصل آباد ، پنجاب یونیورسٹی لاہور ، لمز لاہور ، یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی لاہور ، کنیئرڈ کالج لاہور ، جامعہ پشاور ، قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد ،اسلامک انٹرنیشنل یونیورسٹی اسلام آباد ، بیوٹمز کوئٹہ ، بلوچستان یونیورسٹی کوئٹہ اور دیگر اہم تعلیمی اداروں کے طلبا ء و طالبات نے شرکت کی ۔ پاک فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل مجاہد انور خان تقریب کے مہمان خصوصی تھے اس مقابلے میں پروفیسر ناصر مراد کی سربراہی میں کالج ہذا سے کیڈٹ قمبر خلیل نے اردو جبکہ کیڈٹ جلب خان نے انگریزی مو ضوعات پر اپنے دلائل پیش کیئے جن کو شرکاء نے بے حد سراہیا ۔
()()()

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Post comment