خبرنامہ نمبر 1464/2019
حب21اپریل :۔ کمشنر قلات ڈویژن حافظ طاہر کا دورہ حب ضلع لسبیلہ وزیر اعلیٰ پیکج کے تحت جاری ترقیاتی اسکیموں کا معائنہ کیا اور کہاکہ جاری ترقیاتی اسکیموں کی معیار اور سست روی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا سرکاری پیسہ عوام کی امانت ہے اس موقع پر کمشنر قلات ڈویژن حافظ محمد طاہر نے حب میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ حب پیکیج کے ترقیاتی اسیکمات پر کام بہتر انداز میں جاری ہیں حب میں سڑکیں،سیوریج کا نظام سمیت دیگر منصوبوں پر جاری کاموں کو انشا ء اللہ جون تک مکمل کرینگے حب میں سیوریج کا بڑا مسئلہ اسکے حل کیلئے صوبائی حکومت کی مدد حاصل ہے اسکے علاوہ حب شہر میں پانی کا بھی بڑا مسئلہ ہے اس کیلئے پرانی لائنیں اکھاڑ کر نئے لائن بچا رہے ہیں وہ بھی انشاء اللہ جون تک مکمل کی جائیں گی اس سے شہریوں کو ٹینکر مافیا سے نجات مل جائے گی،انہوں نے کہا کہ حب بائی پاس کا پہلے بھی میں چیف سیکریٹری صاحب کے ساتھ دورہ کرچکا ہوں ہماری پوری کوشش ہے کہ یہ منصوبہ جلد مکمل ہوجائے تاکہ حب شہر میں جو ٹریفک کا دباؤ ہے جو ماحولیاتی آلودگی پھیلا رہا ہے اسکو کنٹرول کیا جاسکے حکومتی تر جیحا ت سمیت کام کے معیار پر کسی قسم کا کوئی سمجھوتا نہیں ہوگا کیونکہ صوبائی حکومت کی ہمیں سختی سے ہدایات ہیں کہ ان کاموں کو معیار کے مطابق مقررہ وقت میں مکمل کیا جائے،انہوں نے کہا کہ حب بائی پاس بڑا منصوبہ ہے ظاہر ہے اسکو مکمل کرنے میں وقت لگتا ہے صوبائی حکومت کی پالیسوں اور فنڈز کی فراہمی کو دیکھتے ہوئے اس منصوبے پر کام کرینگے امید ہے جلد مکمل ہوجائے،ایک سوال کے جواب میں کمشنر قلات نے کہا کہ کراچی کوئٹہ قومی شاہراہ پر روزانہ حادثات رونما ہورہے ہیں اس سنگین مسئلے کو لیکر صوبائی حکومت کے پاس ایک سوچ موجود ہے جس کے ذریعے اس مسئلے کو حوالے صوبائی حکومت وزیر اعظم پاکستان سے مسلسل رابطے میں ہے اس شاہراہ کو دورائیہ کرنے کی ضرورت ہے بہت تکلیف ہوتی ہے جب ایسا دن نہیں جو میں اس شاہراہ پر خون خوار حادثہ نہیں دیکھتا،انہوں نے کہا کہ وقتی طور پر اس کے روک تھام کیلئے ہم نے عارضی طور ہر اپنے آفیسران بٹھائے ہیں جو ہر اسٹیشن پر مسافر گاڑیوں کو وقت سے نکلنے اور وقت پر پہنچنے کی پابند کرتے ہیں جو وقت کی پابندی نہیں کرتا اسکو جرمانہ کیا جائیگا مگر ظاہرہے جو مسافر کوچ کو ایک گھنٹے میں پہنچنا ہوتا ہے وہ اگر دو گھنٹے میں پہنچتا ہے تو مسافر اس پر دباؤ ڈالنے کی کوشش بھی کرتے ہیں لیکن جو قومی شاہراہ کو دورائیہ کا تصور ہے اسکے پورا ہونے تک ہم کوشش کررہے ہیں کہ تب تک ہم اسکا کوئی تکنیکی حل نکالیں ایک موبائل ایپلیکیشن کے ذریعے مسافر گاڑیوں کے رفتار کی نگرانی کریں،ایک سوال کے جواب میں کمشنر قلات نے کہا کہ مسافر کوچوں میں ایرانی تیل کی اسمگلنگ بالکل نہیں ہونا چاہیے یہ ایک پرانا عمل چلتا آرہا ہے ویسے اس سے سینکڑوں لوگوں کا روزگار بھی وابستہ ہے تو اس سے ہم باخبر ہیں حقیقت میں یہ معاملہ وفاق کا ہے تو وفاق جب بھی کوئی اقدام اٹھاتی ہے تو صوبائی حکومت کی ہدایت پر سیکورٹی ادارے اس ہر عمل درآمد کرینگے،کمشنر قلات ڈویژن کو دورہ حب کے موقع پر حب پیکیج کے ترقیاتی منصوبوں،حب گرلز کالج باب بلوچستان اور حب بائی پاس منصوبے کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی کمشنر قلات نے ترقیاتی اسکیمات پر بہتر انداز میں کام کرنے اور مقررہ وقت پر کام کو مکمل کرنے کی ہدایت کی،اس موقع پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل)فرحان سلیمان رونجہ،اسسٹنٹ کمشنر حب کیپٹن (ر)مہراللہ بادینی چیف آفیسر حب جلیل احمد زہری ڈوپلپمنٹ آفیسر قلات ڈویژن محمد صادق نوتانی عبدالحفیظ جتک و دیگر آفیسران انکے ہمراہ تھے۔
()()()
خبرنامہ نمبر 1465/2019
کوئٹہ 21اپریل :۔چیئرمین پبلک اکاؤنٹ کمیٹی اختر حسین لانگو نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ حالیہ بارشوں اور سیلاب کی وجہ سے جہاں معصوم شہری جانبحق اور لوگوں کے کھڑے فصلوں، مال مویشی اور بلوچستان کے مختلف اضلاع کے علاقہ مکینوں کے گھروں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے وہاں مطلوبہ معیار اور ضرورت کے مطابق ڈیموں کے تعمیر میں لیت و لعل سے کام لینے کی وجہ سے کروڑوں گیلن پانی ضائع ہوا ہے۔ ایک ایسا صوبہ جہاں پانی کی سطح ہر آئے روز گرتی جا رہی ہے اور قلت آب کی وجہ سے بلوچستان کے زمینداروں کو پچھلے دو دہائیوں سے کافی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا ہے اس میں بارشوں کے پانی کو چھوٹے اور بڑے ڈیموں میں زخیرہ کر کے زرعی اور گھریلو مصرف کے لئے استعمال میں لایا جا سکتا ہے۔ اس عمل سے زیر زمین پانی کی سطح بھی بلند ہو گا۔ چیئرمین نے مزید کہا کہ بلوچستان میں 70 فیصد سے زائد لوگوں کا زریعہ معاش زراعت سے وابستہ ہے، اسلیئے بہتر اور جامع منصوبہ بندی کے تحت نا صرف سیلاب کی تباہ کاریوں سے بچا جا سکتا ہے بلکہ بارشوں کے پانی کو ڈیموں میں زخیرہ کر کے بلوچستان کے لاکھوں ایکڑ زرعی اراضی کو استعمال میں لاتے ہوئے صوبے میں زرعی اور معاشی انقلاب لایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے کہا کہ حکومت کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ بارشوں اور سیلابی ریلوں کی وجہ سے نقصانات کا تخمینہ لگائے اور متاثرین کی درست نشاندہی کے بعد انکی مالی معاونت اور درپیش نقصانات کا ازالہ کرے۔
()()()

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Post comment