خبر نامہ نمبر 1438/2019
کوئٹہ19اپریل ۔ گورنر بلوچستان امان اللہ خان یاسین زئی نے کہا ہے کہ وہ تمام بیماریاں جو بچوں میں موت ، جسمانی تکلیف یا عمر بھر کی معذوری کا باعث بنتی ہیں کے خاتمے کیلئے محکمہ صحت اور اس سے منسلک تمام سرکاری اور غیر سرکاری ادارے اپنا بھر پور اور مؤثر کردار ادا کریں تاکہ صوبے کے بچوں کے خوشحال اور صحت مند مستقبل کو محفوظ اور یقینی بنایا جاسکے ۔ اس ضمن میں رواں سال اپریل 2019 کے مہینے کے آخری ہفتے میں دس مختلف بیماریوں کے خلاف ’’توسیع پروگرام برائے حفاظتی ٹیکے ‘‘ کے پروگرام کو کامیابی سے ہمکنار کرنا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کے روز گورنر ہاؤس کوئٹہ میں ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ بلوچستان ڈاکٹر شاکر بلوچ کی قیادت میں ایک وفد سے ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ وفد ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے صوبائی سربراہ ڈاکٹر بابر عالم ، ڈپٹی پروفیشنل کو آر ڈینیٹر بلوچستان ڈاکٹر اسحاق پانیزئی ، یونیسف کے ڈاکٹر اور نگزیب اور ڈاکٹر عامر علیز ئی پر مشتمل تھا ۔ وفد نے گورنر بلوچستان کو آگاہ کرتے ہوئے کیا کہ 10 دس بیماریوں کے خلاف توسیع پروگرام برائے حفاظتی ٹیکے کی مہم ایمو نائزیشن ویک منانے کا اہتمام کیا ہے جو 24 اپریل سے شروع ہوکر 30 اپریل کو اختتام پذیر ہوگا ۔ اس ویک کا مقصد عوامی آگہی و بیداری کے ساتھ ساتھ ان تمام بچوں کو جو ویکسینیشن سے محروم ہوگئے ہیں کو دوبارہ اس خصوصی ہفتہ وار مہم میں حفاظتی ٹیکے لگائے جائیں گے ۔ اس موقع پر گورنر بلوچستان نے کہا کہ پھول جیسے بچوں کو مختلف بیماریوں کے نقصانات اور خطرہ سے محفوظ رکھنے کیلئے بچوں کو حفاظتی ٹیکے لگانا اور ویکسین پلانا والدین کا فرض ہے ۔ انہوں نے متعلقہ اداروں اور ذمہ داران پر زور دیا کہ ان حفاظتی ٹیکوں سے تمام اضلاع کے بچوں کو مستفید کرنا اب آپ کی ذمہ داری ہے ۔ بچوں کے خوشحال اور صحت مند مستقبل کو یقینی بنانے کے حوالے سے ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن ( ڈبلیو ایچ او ) اور یونیسف کی کاوشیں لائق تحسین ہیں ۔ گورنر نے مذہبی علماء کرام سیاسی و سماجی اراکین اور میڈیا پر زور دیا کہ مختلف بیماریوں کے خلاف ای پی آئی ( EPI)پروگرام کے بارے میں عوام میں اجتماعی شعور اجاگر کرنے میں بھر پور کردار ادا کریں ۔لہٰذا ضروری ہے کہ سیکیورٹی ادارے اور محکمہ صحت اپریل کے مہینے کے آخری ہفتے میں اس مہم کے تمام پہلوؤں کو بھی سامنے رکھیں تاکہ کسی بھی علاقے میں کوئی بھی بچہ یا بچی ویکسین سے محروم نہ ہو ۔ آخر میں گورنر بلوچستان نے اپنے ہاتھ سے بچوں کو ویکسین پلاکر حفاظتی ٹیکوں اور ویکسین کا آغاز کیا جو 24 اپریل کو شروع ہوجائیگا۔
()()()
خبر نامہ نمبر 1439/2019
کوئٹہ19اپریل ۔ گورنر بلوچستان جسٹس (ر ) امان اللہ خان یاسین زئی نے بلوچستان صوبائی اسمبلی کا اجلاس بروز جمعرات 25 اپریل شام 4 بجے صوبائی اسمبلی ہال شارع زرغون کوئٹہ میں طلب کیا ہے ۔ 
()()()
خبر نامہ نمبر 1440/2019
کوئٹہ19اپریل ۔ صوبائی محتسب سیکریٹریٹ بلوچستان کے اعلامیہ کے مطابق عبدالجمیل خان کاکڑ اور سید عبدالحفیظ کو مجاز حکام کی منظوری کے بعد 23جنوری 2019 سے مستقل بنیاد پر بطور ڈپٹی ڈائریکٹر (BPS-18) ترقی دے دی گئی ہے ۔ 
()()()
خبر نامہ نمبر 1441/2019 
کوئٹہ 19اپریل۔صوبائی وزیر اطلاعات و ہائر ایجو کیشن میر ظہور احمد بلیدی نے کہا ہے کہ تعلیمی اداروں میں پرنسپلز ، لیکچررز اور اساتذہ کی تعیناتی خالصتاً میرٹ کی بنیاد پر کی جارہی ہے ۔ تعلیم کی بہتری اور اساتذہ کی تربیت میں کوئی کسر چھوڑی نہیں رکھی جائے گی ۔ کالجز کے پرنسلز اور اساتذہ تربیت مکمل کرنے کے بعد اپنی تربیت کو اپنے اداروں کی بہتری اور طلباء کی ذہنی صلاحیتوں میں مزید نکھار پیدار کرنے کیلئے بروئے کار لائیں گے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بلوچستان اکیڈمی فار کالجز ٹیچرز کے پانچ روزہ تربیتی ورکشاپ کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر سیکریٹری ہائر ایجوکیشن عبدالصبور کاکڑ ، ڈائریکٹر جنرل ایل آئی ڈویژن ہائر ایجو کیشن کمیشن اسلام آباد فدا حسین ، جوائنٹ ڈائریکٹر بلوچستان اکیڈمی فار کالجز ٹیچرز پروفیسر شبانہ سلطان ، ڈائریکٹر کالجز ربابہ حمید درانی کے علاوہ دیگر اعلیٰ آفیسران بھی موجو د تھے ۔ صوبائی وزیر ہائر ایجو کیشن نے کہا کہ تربیت کسی بھی شخص کی خدادا صلاحیتوں کو نکھارنے اور درپیش چیلنجز و حالات سے نمٹنے میں کار آمد ثابت ہوتی ہے ۔ اساتذہ کرام تعلیمی اداروں میں طلباو طالبات کی ذہنی قابلیت میں اضافہ کرنے ، انہیں تعلیم دوست اور شعور دوست ماحول فراہم کرنے کیلئے اپنی صلاحیتوں کا عملی مظاہرہ کریں ۔ تعلیمی اداروں میں نصابی سر گرمیوں کے ساتھ ساتھ غیر نصابی سر گرمیاں ضروری ہیں ان سر گرمیوں سے طلباء کا تعلیمی ماحول کی دلچسپی میں اضافہ ہوگا اور ان کے ذہن پر اچھے اثرات مرتب ہوں گے انہوں نے کہا کہ تربیتی پروگراموں کا مقصد پرنسپلز اور اساتذہ کرام کی تربیت کرکے تعلیمی شعبے میں بہتری لانا ہے اور اساتذہ کو تربیت فراہم کرنے سے تعلیمی ترقی او فروغ کے علاوہ تعلیمی اداروں کی کار کردگی بہتر ہوسکتی ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ محدو د وسائل کے باوجود کالجز کے پرنسپلز اور اساتذہ کرام کو اعلیٰ معیار کی تربیت فراہم کررہے ہیں اور تربیت مکمل کرنے کے بعد اساتذہ تعلیمی میدان میں اپنی صلاحیتوں کو بہتر اندازمیں بروئے کار لاسکتے ہیں ۔ تقریب سے سیکریٹری ہائر ایجوکیشن عبدالصبور کاکڑ ، ڈائریکٹر جنرل ایل آئی ڈویژن ہائر ایجو کیشن کمیشن اسلام آباد فدا حسین ، جوائنٹ ڈائریکٹر بلوچستان اکیڈمی فار کالجز ٹیچرز پروفیسر شبانہ سلطان ، ڈائریکٹر کالجز ربابہ حمید درانی و دیگر نے بھی خطاب کیا ۔ آخر میں صوبائی وزیرنے تربیت مکمل کرنے والے پرنسپلز اور اساتذہ کرام میں اسناد تقسیم کیئے ۔ 
()()()
خبر نامہ نمبر 1442/2019
کوئٹہ 19اپریل۔ صوبائی وزیر محنت و افرادی قوت سردار سرفراز ڈومکی کی زیر صدارت بلوچستان ٹیکنیکل ایجوکیشن اینڈ ووکیشنل ٹریننگ اتھارٹی بی۔ٹیوٹا کا دوسرا اجلاس منعقد ہوا۔ جس میں سیکرٹری ہائر ایجوکیشن عبدالصبور کاکڑ،سیکرٹری لیبر اینڈ مین پاور ،سیکرٹری انڈسٹریز ،سیکرٹری سوشل ویلفیئر،چیمبرآف کامرس کے ممبر، ڈائریکٹر مین پاور ٹریننگ ،ڈائریکٹر نیوٹیک، منیجنگ ڈائریکٹر بی ٹیوٹا و دیگر نے شرکت کی۔ اجلاس میں ایجنڈا کے تحت مختلف اہم امور اور نقاط زیر غور لائے گئے۔ جن میں پچھلے اجلاس کا جائزہ لینے کیساتھ ساتھ نیشنل TVET پالیسی کے نفاذ پر غور وخوص ہوا۔ بی۔ ٹیوٹا کے گریڈ 1 سے لیکر 15 اور گریڈ 16 سے لیکر اس سے اوپر کے سروس رولز کی منظوری بی۔ٹیوٹا کے تحت بلوچستان بورڈ آف ٹیکنیکل ایجوکیشن کے قیام کی منظوری ،بی۔ٹیوٹا ایکٹ کے سیکشن 7(B)کی روشنی میں بی۔ٹیوٹا انڈوومنٹ فنڈ کے قیام کی منظوری ،بی۔ٹیوٹا کیلئے گریڈ 20 کے برابر منیجنگ ڈائریکٹر کی آسامی کی تخلیق، بی۔ٹیوٹا ایکٹ کے سیکشن 7(D) کی روشنی میں سیکرٹری محنت وافرادی قوت کی سربراہی میںآئین کیلئے بی۔ٹیوٹا سٹیرنگ کمیٹی کی منظوری بی۔ٹیوٹا کے ا سٹاف کی تقرری تک ایس۔ڈی۔پی اسٹاف کی بی۔ٹیوٹا کو منتقلی سمیت دیگر نقاط بھی زیر غور لائے گئے۔ صوبائی وزیر محنت و افرادی قوت سردار سرفراز چاکر ڈومکی نے اجلاس کے شرکا ء کو ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ اجلاس کے ایجنڈے پرجلد از جلد کام شروع کیا جائے تاکہ ایک ہفتہ کے اندر وزیراعلیٰ بلوچستان کو رپورٹ پیش کی جاسکے۔ صوبائی وزیر محنت و افرادی قوت کا کہنا تھاکہ بی۔ٹیوٹا کی ٹیکنیکل بنیادوں پر جتنے بھی مسائل ہیں ان سے نمٹنا نہایت ضروری ہے۔ سردار سرفراز چاکر ڈومکی کا مزید کہنا تھاکہ بی۔ٹیوٹا کو مزید فعال بنانا صوبائی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے جس کے لیے عملی اقدامات اٹھائے جارہے ہیں تاکہ اس ادارے کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرکے بلوچستان کے بیروزگار نوجوانوں کو پیشہ ورانہ تعلیم دینے میں اپنا فعال کردار ادا کر سکیں۔
()()()
خبر نامہ نمبر 1443/2019 
کوئٹہ 19اپریل۔کمشنر کوئٹہ ڈویژن عثمان علی خان نے کہا کہ پولیو جیسے موذی مرض کے سد باب کے لئے ہم سب کو مل کر جدوجہد کرنا ہوگی کیونکہ اس بیماری سے متاثرہ بچے زندگی بھر کے لیے اپاہج ہو جاتے ہیں اسی لئے حکومت پولیو کے خاتمے کے لیے نہایت سنجیدہ ہے اورہنگامی بنیادوں پراور تمام تر وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے اقدامات کر رہی ہے تاکہ معاشرے کو اس موذی مرض سے نجات دلا ئی جاسکے ان خیالات کا اظہار انہوں نے ڈویژنل ٹاسک فورس کی انسداد پولیو مہم کے انتظامات کے جائزے کے حوالے سے منعقدہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا ۔اجلاس میں ڈپٹی کمشنر کوئٹہ کیپٹن (ر) طاہر ظفر عباسی ،ڈپٹی کمشنر قلعہ عبد اللہ شفقت شاہوانی ،ڈسٹرکٹ ہیلتھ افسران کوئٹہ ،پشین، قلعہ عبد اللہ کے علاوہ یونیسف اور ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے عہدیداران نے بھی شرکت کی۔اجلاس کے دوران ڈویژنل ٹاسک فورس نے گزشتہ ہونے والی پولیو مہم کی کارکردگی اور حاصل شدہ نتائج کے حوالے سے مرتب رپورٹ پیش کی اور کوئٹہ بلاک کے حوالے سے اٹھائے جانے والے اقدامات کے بارے میں بریفنگ دی۔اس موقع پرکمشنر کوئٹہ ڈویژن عثمان علی خان نے کہاکہ تینوں اضلاع کوئٹہ، پشین اور قلعہ عبداللہ کے ڈپٹی کمشنر اپنی زیر نگرانی ماہ اپریل میں ہونے والی انسدادپولیو مہم کو چلائیں اور تمام یونین کونسل کے عملے کو ہدایت جاری کی کہ وہ ہر علاقے کے ہر بچے کو پولیو کے قطرے پلائیں اور کوئی بھی بچہ پولیو کے قطرے پینے سے محروم نہ رہے اس حوالے سے کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی اور اگر کہیں کسی نے کوئی لاپرواہی کا مظاہرہ کیا تو اس کے خلاف سخت اقدامات کیے جائیں گے ۔کمشنر کوئٹہ ڈویژن عثمان علی خان نے کہا کہ ہم سب نے مل کرنہ صر ف موجودہ نسل کو اس موذی مرض سے نجات دلانی ہے بلکہ آہندہ آنے والی نسلوں کو بھی اس مہلک مرض سے محفوظ کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ وہ انسدادپولیو مہم کی خصوصی طور پر نگرانی کریں گئے اور دوران مہم اگر کسی کو کہیں پرکسی بھی قسم کی دشواری یا مشکل پیش آئے تو وہ فوری طور پر اس کا ازالہ کریں گئے ۔
()()()
خبر نامہ نمبر 1444/2019 
لورالائی19اپریل :۔کمشنر ژوب ڈویژن بشیراحمد خان بازئی نے کہا ہے کہ پولیو وائرس کا خاتمہ دور حاضر کا سب سے بڑا چیلنج ہے اس مرض کے خاتمے کیلئے جاری جنگ آخری مراحل میں ہے جس سے بطریق احسن نمٹنے کیلئے حکومت ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کر رہی ہے ان خیالات کاظہار انہوں نے انسداد پولیو مہم کے حوالے سے منعقدہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا اجلاس میں ایڈیشنل کمشنر محمد ایوب ،ڈپٹی کمشنر لورالائی حبیب الرحمن کاکڑ ،ڈپٹی کمشنر دکی اعجاز احمد جعفر ،ڈپٹی کمشنر قلعہ سیف اللہ سیف اللہ کیھتران ،ڈپٹی کمشنر ژوب عبدالجبار بلوچ،ڈپٹی کمشنر بارکھان محمدگل خلجی ،آئی ٹی آفیسر موسیٰ خیل عصمت اللہ ،اسسٹنٹ ڈائریکٹر انفارمیشن امیر جان لونی ،ژوب ڈویژن کے تمام اضلاع کے ہیلتھ آفیسران ،پی پی ایچ آئی کے ڈی ایس ایم کے علاوہ ڈبلیو ایچ او کے نمائندوں نے شرکت کی۔کمشنر ژوب ڈویژن بشیر احمد خان بازئی نے شرکاء سے کہا کہ بدقسمتی سے پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جہاں پولیو کا وائرس کی موجودگی پائی جا تی ہے تاہم بار بار قطرے پلانے اور انسدادپولیو مہم کیلئے بہتر اور مربوط حکمت عملی سے اس وائرس کے مز ید پھیلاو کو روکا گیا ہے انہوں نے کہا کہ ژوب ڈویژن دور دراز اور سخت پہاڑی علاقوں پر پھیلا ہوا ہے اور یہاں سے خانہ بدوشوں کی بڑی تعداد بھی گزرتی رہتی ہے اس لئے مہم کے دوران نہایت محنت سے کام کرنا پڑتا ہے انہوں نے کہا کہ موسم کی تبدیلی کے ساتھ ہی خانہ بدوش بڑی تعداد میں پہنچ گئے ہیں جس تک پہنچنا ضروری ہے ،انہوں نے تمام ڈپٹی کمشنرز اور ڈی ایچ اوز کو ہدایت کی ہے کہ آ نے والی مہم پر زیادہ توجہ دیں کیونکہ اس کے بعد رمضان المبارک میں کوئی مہم نہیں ہوگی ،نمائندہ ڈبلیوایچ او ڈاکٹر نجیب اللہ نے اس موقع پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ رواں سال صوبے میں کوئی بھی کیس رپورٹ نہیں ہوا جبکہ دیگر صوبوں میں چھ کیسز آئے ہیں اور افغانستان میں دو کیس رپورٹ ہوئے ہیں انہوں نے بتایا کہ خانہ بدوش کی آمد کے وقت اگر کہیں پر ویکسین یا اسپیشل ٹیموں کی ضرورت ہو تو خط لکھیں انہیں ویکسین اور ٹیمیں فراہم کی جائیں گی انہوں نے کہا کہ بعض ٹرانزٹ پوائنٹس پر مہم کے چوتھے روز بچوں کو ویکسین پلاتے ہیں لیکن اس کا ایڈریس نہیں لکھا جاتا تاکہ اس علاقے تک پہنچا جا سکے ۔اجلاس میں ہر یونین کونسل کے سروے رپورٹ پیش کی گئی اور آنے والے مہم میں ٹیموں کی کارکردگی بہتر بنانے کیلئے بحث اور تجاویز پیش کی گئی ۔
()()()
خبر نامہ نمبر 1445/2019 
کوئٹہ19اپریل:۔کیڈٹ کالج مستونگ کے ایک اعلامیہ کے مطابق 29و یں انٹری کے کیڈٹس کو مطلع کیا جاتاہے کہ فرسٹ ایئر کی کلا سز کا آغاز مورخہ 27اپریل سے کیا جائے گا ۔لہٰذا تمام کیڈ ٹس کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ اپنے بقا یاجات ہمراہ لائیں ۔بغیر اطلاع کے ایک ہفتہ غیر حاضر ر ہنے والے کیڈٹس کاد اخلہ منسوخ کردیا جائے گا مزید معلو مات کیلئے کالج انتظامیہ سے دفتری اوقات میں رابطہ کیا جاسکتا ہے ۔
()()()
پریس ریلیز 
کوئٹہ 19اپریل۔ بولان میڈیکل کمپلیکس ہسپتال کوئٹہ کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کے پریس ریلیز کے مطابق حکومت بلوچستان اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ہدایت کے مطابق بی ایم سی ہسپتال کوئٹہ System Hospital Management Information پر شفٹ ہوگیا ہے جس کے تحت ضرورت کے مطابق او پی ڈی میں آنے والے مریضوں کو شناختی کارڈ پر OPD سلپ جاری ہوتا ہے جس کے تحت ہسپتال میں آنے والے تمام مریضوں کا ضروری ڈیٹا ہوتا ہے افغان مہاجرین سمیت دیگر مہاجروں کو انکے کارڈ ز پر تمام طبی سہولیات میسر ہیں اس سسٹم کا مقصد ہسپتال میں طبی سہولیات لینے والے تمام مریضوں کامکمل ڈیٹا محفوظ کرنا ہے ۔ شروع میں مریضوں کو کچھ وقت مشکلات درپیش ہورہی ہیں مستقبل کے پلاننگ کے لئے ضروری ہے کہ ایک مکمل ڈیٹا دستیاب ہوتوپلاننگ صحیح ہوسکتی ہے ۔ ادویات کی خریداری اور سپلائی کو بھی کمپیوٹر سسٹم کے ڈیٹا سے مشروط کیا جارہا ہے بی ایم سی ہسپتال میں سب سے پہلے QUEسسٹم متعارف کرایا گیا ہے ۔ جس کے تحت ہسپتال میں آنے والے مریض خود کار سسٹم کے تحت ٹوکن اور او پی ڈی ٹکٹ حاصل کر رہے ہیں اس سسٹم سے او پی ڈی کی رش میں نظم وضبط بحال کرنے میں مدد مل رہی ہے ۔ 
()()()
پریس ریلیز
کوئٹہ 19اپریل ۔ گورنمنٹ کالج آف ایجو کیشن سیٹلائٹ ٹاؤن کوئٹہ میں ہفتہ وار فیکلٹی تربیتی پروگرام کا اہتمام کیا گیا ۔ جس میں ہر فیکلٹی ممبر اور زیر تربیت اسٹو ڈنٹ ٹیچر تعلیمی اصلاحات اور تجربات کو زیر بحث لاتے ہیں ۔ اس پروگرام کے تحت تعلیمی عنوانات کو موضوع بنایا جاتا ہے تاکہ صوبے میں اساتذہ کی تربیت کے پہلوؤں کو اہمیت دی جاسکے ۔ اس سلسلے کالج کے پرنسپل نذر محمد کاکڑ نے بلوچستان میں تعلیمی ساخت کے موضوع پر تربیتی پروگرام میں لیکچر دیا ۔ جس میں بلوچستان میں دستیاب تعلیمی اداروں اور ان کی کار کردگی اور اصلاحات پر سیر حاصل گفتگو کی گئی ۔ اس ضمن میں فیکلٹی اور زیر تربیت اساتذہ نے مستقبل میں ٹیچر ایجو کیشن کے خدشات اور وسعت کے بارے میں بھی اپنے خیالا ت کا اظہار کیا ۔ پرنسپل نے ہفتہ وار پیشہ ورانہ تربیتی ٹیم کے ممبران کی حوصلہ افزائی کی اور توقع ظاہر کی کہ اس طرح کے پروگرام کالج کے محل وقوع میں موجود مدارس کے اساتذہ کی تربیت کیلئے بھی ترتیب دی جاسکے۔
()()()