خبر نامہ نمبر 203/2019
زیارت 19جنوری :۔اپنے حلقے اور عوام کی تقدیربدلنے کا تہیہ کررکھا ہے ان خیالات کا ظہار صوبائی وزیر پی ایچ ای ،واسا حاجی نورمحمد خان دمڑ نے سنجاوی میں بی اے پی کے زیر اہتمام ایک بہت بڑے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔جلسہ سے حبیب اللہ پانیزئی ،عبدالناصر ترین ،حاجی عبدالجلیل دمڑ ،عبدالباقی ترین ،سید نورمحمد شاہ اور ذوالفقا علی باتور نے بھی خطاب کیا۔صوبائی وزیر حاجی نور محمد خان دمڑ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال خان کا سنجاوی کا دورہ خراب موسم کی وجہ سے ملتوی کردیا گیا،وزیر اعلیٰ آئندہ چند روز میں سنجاوی کا دورہ کریں گے اور اہم اعلانات کریں گے ۔انہوں نے کہا کہ انہوں نے وزیر اعلٰی بلوچستان سے سنجاوی کو ضلع بنانے اور دیگر ترقیاتی کاموں کے حوالے سے بات چیت کی ہے ،وزیر اعلیٰ بلوچستان سنجاوی کو ضلع کا درجہ دیکر عوام کا وعدہ پورا کریں گے۔انہوں نے کہا کہ زیارت کو سمارٹ ٹورسٹ سٹی کادرجہ دیا گیا ہے ،سنجاوی کو میونسپل کمیٹی کا درجہ دیا گیا ہے،سنجاوی کو ایل پی جی پلانٹ کی منظوری ہوچکی ہے،بی ایچ یو اغبرگ ،بی ایچ یو چوتیر کو آرایچ سی کا درجہ دیا گیا ہے ،ہرنائی وولن ملز کی بحالی کے لیے میں نے اسمبلی میں قرارداد پیش کی جو کہ منظور ہوگئی،سنجاوی تا شاٹ کٹ روڈ پر کام شروع کردیا گیا ہے ،کچھ تا ہرنائی روڈ کی تعمیر ومرمت اور کچھ تا زیارت روڈ کی تعمیر ومرمت پر جلد کام شروع کریں گے،ہرنائی تالورالائی روڈ بھی بنائیں گے ،سنجاوی اور ہرنائی کے لیےkv 132 گرڈاسٹیشن منظور کئے ہیں ,سنجاوی میں دولیڈی ڈاکٹرز تعینات کئے گئے ہیں ۔انہوں نے کہا عوام کی خدمت کے لیے ہر وقت کوشاں رہیں گے ۔انہوں نے کہا کہ جب سے انہوں نے وزارت کا حلف سنبھالا ہے وہ دوبار اسلام آباد کا دورہ کیاہے ،صدر مملکت سمیت وفاقی وزراء اور اعلیٰ حکام سے اپنے حلقے کے عوام کے مسائل کے حوالے سے بات چیت کی ہے جس کا مثبت جواب ملا ہے۔
خبر نامہ نمبر 204/2019
نصیر آباد 19جنوری :۔نصیرآباد میں پولیس کا ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف گرینڈآپریشن بڑی تعدادمیں گاڑیوں کو چالان کردیا گیا ایس ایس پی نصیرآباد عرفان بشیر کی سربراہی میں ٹریفک پولیس اور مختلف تھانوں کے ایس ایچ اوز ڈیرہ مراد جمالی میں غیر قانونی گاڑیوں، فینسی نمبر پلیٹ، کالے شیشو ں اور سرچ لائٹس کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے موقع پراتار لیے گئے اور چالان بھی کیاگیا ٹریفک قانونی کی خلاف ورزی پر ٹریفک قوانین پر عملدرآمد کرنے کا سلسلہ شروع کردیاگیاسندھ بلوچستان قومی شاہراہ پر چھوٹی بڑی گاڑیوں اور موٹرسائیکلوں کے خلاف بھرپور کاروائی ٹریفک قوانین کی پرنہ اترنے والی گاٹویوں اور موٹرسائیکلوں کو موقع پر چالان کردیاگیا ایس ایس پی نصیرآباد عرفان بشیر کی نگرانی میں ایس ایچ او سٹی سید حیدرشاہ اورایس ایچ او صدرغلام سرورتھہیم،غلام علی ابڑو اورٹریفک سارجنٹ سیف اللہ جویا نے بھاری پولیس نفری کے ہمراہ سندھ بلوچستان قومی شاہراہ پرٹریفک قوانین پرعملدرآمدکویقینی بنانے کے لیے بھرپورکاروائی کاآغازکردیاگیاجبکہ ٹریفک کی خلاف ورزی پر سینکڑوں چھوٹی بڑی گاڑیوں اورموٹرسائیکلوں کو موقع پرچالان کردیاگیاایس ایس پی نصیرآباد عرفان بشیرنے بات چیت کرتے ہوئے کہاکہ اور لوڈنگ سرچ لائٹس چھتوں پر مسافروں کو بٹھا نے فینسی نمبر پلیٹس کالے شیشوں، ڈرئیونگ لا ئسنس کاغذات سمیت دیگر غیر قانونی اقدامات ٹریفک قوانین کیخلاف ورزی کا حصہ ہیں جس کے بناء پرکاروائی عمل میں لائی جارہی ہے انہوں نے کہاکہ ٹریفک قوانین پر سختی سے عمدرآمدکرانے کے لئے تمام کوششوں کوبروئے کارلارہے ہیں اور اب روزانہ کی بنیاد پر چیکنگ کی جاے گی عوام الناس کو چائیے کہ وہ ٹریفک قوانین کی پابندی کو یقینی بنائے۔
خبر نامہ نمبر 205/2019
کوئٹہ 19 جنوری :۔ صوبائی وزیر خزانہ میر محمد عارف محمدحسنی نے کہا ہے کہ صوبے میں بروقت بارشیوں کے نہ ہونے اور طویل خشک سالی کی وجہ صوبے کے اکثر علاقے متاثر ہوئے ہیں لہذا اس حوالے سے صوبائی حکومت متاثرہ علاقوں میں عوام کو ریلیف پہنچانے اور خشک سالی کے اثرات کو کم کرنے کے لیے ضروری اقدامات کررہی ہے لہٰذا اس ضمن میں کوششیں جاری ہیں کہ مصنوعی بارشیوں کی خاطر تجربات کیے جائیں تاکہ صوبے کے مختلف اہم علاقوں میں مصنوعی بارشیوں کے ذریعے قحط اور خشک سالی سے پیدا ہونے والی صورتحال پر قابو پایا جاسکے، ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کے روز مصنوعی بارشوں کے حصول کے حوالے سے منعقدہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر اجلاس کے شرکاء میں سیکرٹری جنگلات ڈاکٹر سعید جمالی، سیکریڑی انوائرمنٹ نصیر کاشانی، ڈی جی انوائرمنٹ محمد طارق زہری، ڈی جی جنگلات تاج، چیف کنزرویٹی و جنگلات جبار و دیگر شامل تھے. اجلاس سے خطاب میں صوبائی وزیر نے کہا کہ آج پوری دنیا میں ترقی یافتہ ممالک جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ حاصل کرتے قدرتی آفات کے اثرات کو ممکنہ حد تک کم کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں لہذا اگر مصنوعی بارشیوں کو برسانے کیلئے آزمائشی بنیادوں پر کوششیں شروع کر دیئے جائیں تو کوئی وجہ نہیں کہ خشک سالی کے اثرات کو کم کرنے میں ہم کامیاب نہ ہوسکیں انہوں نے کہا کہ جب بھی انسان نیک نیتی سے کسی کام کو انجام دینے سعی کرتا ہے تو اللہ پاک کامیابی ضرور عطا فرماتے ہیں. اس موقع پر اجلاس کو کو بتایا گیا کہ مصنوعی بارشیوں کے حصول کیلئے وفاقی محکمہ موسمیات سے باہمی روابطہ کے ذریعے مشاورت بھی کیا گیا ہے اجلاس میں مصنوعی بارشیوں کے لیے طریقہ کار، مطلوبہ فنڈز اور موسمی حالات کا بغور جائزہ لیا گیا اور فیصلہ کیا گیا کہ فنانس ڈیپارٹمنٹ مطلوبہ فنڈز میں نصف کا اجراء کریگا اور پہلے مرحلے میں آزمائشی بنیادوں پر صوبے کے چند جگہوں پر مصنوعی بارش کیلئے اسپرے کیے جائینگے اور ان کامیاب تجربات کی روشنی میں صوبے کی دیگر جگہوں پر بھی اس عمل کو دوہرایا جائے گا۔
خبر نامہ نمبر 206/2019
چمن 19جنوری :۔چمن توبہ اچکزئی دوبندی میں انتظامیہ اور محکمہ صحت کے جانب سے فری مڈیکل کیمپ منعقد ہوا کیمپ میں تقریباً اٹھ سو مریضوں کا معاینہ کیاگیا اور مفت ادویات تقسیم کی گئی کیمپ میں ڈپٹی کمشنر شفقت شاہوانی ایم ایس ڈا کٹر عصمت اللہ ریونیوآفیسر یاسر اقبال ڈی ایچ او اور دیگر معتبرین نے بھرپور انداز مین شرکت کی اس موقع پر مریضوں نے انتظامیہ اور محکمہ صحت کی خدمات کو سراہا اور امید ظاہر کی کہ آئندہ بھی اسطرح کی فری میڈیکل کیمپ کا انعقاد کیا جائے گا.
خبر نامہ نمبر 207/2019
کوئٹہ 19جنوری :۔مشیر برائے ثانوی تعلیم بلوچستان حاجی میر محمد خان لہڑی نے کہا ہے کہ محکمہ تعلیم میں تمام خالی آسامیوں پر ریکروٹمنٹ پالیسی کے مطابق میرٹ پر بیروزگار نوجوانوں کو بھرتی کیا جائے گا کنٹریکٹ بنیادوں پر ریٹائرڈ ٹیچرز کو خالی آسامیوں پر بھرتی کی کوئی تجویز زیر غور نہیں نوجوان اطمینان رکھیں ان کے حقوق کا ہر فورم پر دفاع کیا جائے گا ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتہ کو جاری کردہ اپنے ایک بیان میں کیا انہوں نیکہا کہ محکمہ تعلیم بلوچستان کی جانب سے ریٹائرڈ ٹیچرز کو دوبارہ کنٹریکٹ پر رکھنے کا کوئی فیصلہ نہیں ہوا اور نہ ہی ایسا کرنے کی کوئی تجویز زیر غور ہے تمام خالی آسامیوں پر ریکروٹمنٹ پالیسی کے مطابق میرٹ پر بھرتی کے لئے صاف شفاف عمل کے ذریعے پڑھے لکھے بے روزگار نوجوانوں کی تعیناتی عمل میں لائی جائے گی محکمانہ طور پر ریٹائرڈ ٹیچرز کو دوبارہ کنٹریکٹ پر رکھنے کا کوئی نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا گیا بلکہ خالی آسامیوں پر بھرتی کے لئے قابل اعتماد ٹیسٹنگ سروس کی خدمات حاصل کر کے مقامی سطح پر ٹیسٹ انٹرویو ہونگے جس کی صوبائی کابینہ نے باضابطہ منظوری دے دی ہے اور منٹس کے اجراء اور ضروری کارروائی کی تکمیل کے بعد جلد ہی تمام خالی آسامیاں اخبارات میں مشتہر کردی جائیں گی مشیر تعلیم حاجی میر محمد خان لہڑی نے کہا کہ نوجوان اطمینان رکھیں ہمیں صوبے میں پائی جانے والی بیروزگاری کا احساس ہے ذمہ دار حیثیت میں برملا طور پر واضح کرتا ہوں کہ محکمہ میں ہر سطح پر مستقل خالی آسامیوں پر ریٹائرڈ ٹیچرز کی تعیناتی کسی بھی صورت نہیں ہوگی.
خبر نامہ نمبر 207/2019
کوئٹہ 19جنوری :۔مشیر برائے ثانوی تعلیم بلوچستان حاجی میر محمد خان لہڑی نے کہا ہے کہ محکمہ تعلیم میں تمام خالی آسامیوں پر ریکروٹمنٹ پالیسی کے مطابق میرٹ پر بیروزگار نوجوانوں کو بھرتی کیا جائے گا کنٹریکٹ بنیادوں پر ریٹائرڈ ٹیچرز کو خالی آسامیوں پر بھرتی کی کوئی تجویز زیر غور نہیں نوجوان اطمینان رکھیں ان کے حقوق کا ہر فورم پر دفاع کیا جائے گا ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتہ کو جاری کردہ اپنے ایک بیان میں کیا انہوں نے کہا کہ محکمہ تعلیم بلوچستان کی جانب سے ریٹائرڈ ٹیچرز کو دوبارہ کنٹریکٹ پر رکھنے کا کوئی فیصلہ نہیں ہوا اور نہ ہی ایسا کرنے کی کوئی تجویز زیر غور ہے تمام خالی آسامیوں پر ریکروٹمنٹ پالیسی کے مطابق میرٹ پر بھرتی کے لئے صاف شفاف عمل کے ذریعے پڑھے لکھے بے روزگار نوجوانوں کی تعیناتی عمل میں لائی جائے گی محکمانہ طور پر ریٹائرڈ ٹیچرز کو دوبارہ کنٹریکٹ پر رکھنے کا کوئی نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا گیا بلکہ خالی آسامیوں پر بھرتی کے لئے قابل اعتماد ٹیسٹنگ سروس کی خدمات حاصل کر کے مقامی سطح پر ٹیسٹ انٹرویو ہونگے جس کی صوبائی کابینہ نے باضابطہ منظوری دے دی ہے اور منٹس کے اجراء اور ضروری کارروائی کی تکمیل کے بعد جلد ہی تمام خالی آسامیاں اخبارات میں مشتہر کردی جائیں گی مشیر تعلیم حاجی میر محمد خان لہڑی نے کہا کہ نوجوان اطمینان رکھیں ہمیں صوبے میں پائی جانے والی بیروزگاری کا احساس ہے ذمہ دار حیثت میں برملا طور پر واضح کرتا ہوں کہ محکمہ میں ہر سطح پر مستقل خالی آسامیوں پر ریٹائرڈ ٹیچرز کی تعیناتی کسی بھی صورت نہیں ہوگی.
خبر نامہ نمبر 208/2018
اسلام آباد 19جنوری :۔صوبائی وزیر داخلہ و پی ڈی ایم اے میر ضیاء اللہ لانگو نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں چینی پولیٹیکل کونسلر ہی جیانگ ھن(He Jiang Han) سے ملاقات کی اور باہمی امور پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے علاقائی سیاست میں پاکستان اور چین کے کردار کو دونوں رہنماؤں نے سراہا ۔ صوبائی وزیر نے اس موقع پر کہا کہ پاکستان اور چین کی دوستی کئی دھائیوں پر محیط ہے۔ دونوں ہمسایہ ممالک میں برادرانہ تعلقات ہیں جسکی وجہ سے دونوں ممالک نے اچھے دور اور مشکل حالات میں ایک دوسرے کا ساتھ کبھی نہیں چھوڑا۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ پاکستان کا دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کردار اور قربانیاں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں، پاکستان کے 60 ہزار سے زائد شہری دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مارے گئے ہیں جبکہ پاکستان کی معیشت کو 100 ارب سے زائد ڈالر کے نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے ۔ انہوں نے کہا چین نے دہشت گردی کے سبب درپیش معاشی اور سیاسی مشکل حالات میں نا صرف ہمیشہ پاکستان کا ساتھ دیا ہے بلکہ دہشتگردی کیخلاف جنگ میں پاکستان کے کردار کو اقوام متحدہ سمیت دیگر عالمی اداروں کے فورمز پر سراہا ہے ۔ چینی پولیٹکل کونسلر ہی جیانگ سے صوبائی وزیر نے کہا کہ حکومت بلوچستان چینی انجینئرز، کارکنوں، سیاحوں اور سرکاری اعلی حکام کو تحفظ دینے کے لیے ہمہ وقت کوشاں ہے، کراچی میں چینی سفارتخانے میں دہشت گردی حملہ کی پرزور مذمت کرتے ہوئے صوبائی وزیر نے اطمنان کا اظہار کیا اور کہا کہ کراچی میں واقع چینی کونسل خانہ پر دہشت گردی حملہ میں ملوث افراد کو سیکیورٹی اہلکاروں نے موقع پر ہی ہلاک کر دیا اور ان کے سہولت کاروں کو بھی گرفتار کر لیا گیا ہے۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ پاکستان اور چین دوستی کے خلاف کسی بھی قسم کی سازش برداشت نہیں کی جائے گی۔ دونوں ممالک باہمی تعاون اور ہم آہنگی سے معاشی ترقی کے سفر کی جانب خوش اسلوبی سے بڑھتے جائیں گے ۔ صوبائی وزیر داخلہ نے امید کا اظہار کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ سی پیک CPEC کی کامیابی کو ہر صورت یقینی بنانے کے لئے حکومت پاکستان اور صوبائی حکومت تمام وسائل بروئے کار لارہے ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ سی پیک CPEC کی اپنی تمام معاشی اور صنعتی پروجیکٹ کے کامیابی سے پاکستان اور چین نا صرف علاقائی سطح پر بلکہ عالمی افق پر سیاسی اور معاشی قوت بن کر ابھریں گے۔ چینی پولٹیکل کونسلر نے کہا کہ چین پاکستان کے دوستی کی دنیا میں ثانی نہیں ملتی، دونوں ممالک کے تعلقات گہرے اور برادرانہ ہیں ۔ اس ملاقات کے موقع پر دونوں رہنماؤں نے اس امر پر اتفاق کیا کہ کھلاڑیوں، طلبہ، تمام شعبوں سے وابستہ افراد اور مختلف مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد کا دونوں ممالک کے درمیان تبادلہ تسلسل سے جاری رہنا چاہیے تاکہ ایک دوسرے کے پیشہ ورانہ صلاحیتوں، علم و ہنر، ثقافت اور زبان سے آگاہی ملنے کے ساتھ ساتھ سیاحت کو بھی فروغ مل سکے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Post comment