خبرنامہ نمبر 1412/2019
خضدار18اپریل ۔گورنر بلوچستان جسٹس(ر)امان اللہ خان یاسین زئی نے کہاہے کہ جامعات کی تعمیر سے صوبے میں تعلیمی نکھار اور ترقی آئیگی ، صوبے کا مستقبل روشن اور تابناک ہے اور ان تعلیمی اقدامات سے نئی نسل کواعلیٰ تعلیم کی زیور سے بہتر انداز میں آراستہ کرنے کا موقع مل سکے گا۔بلوچستان یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنا لوجی خضدار میں ڈیپارٹمنٹس کا جلد اضافہ کیا جائے،بی یو ای ٹی حب کیمپس کی تعمیر کے لئے رقم آنے والی پی ایس ڈی پی میں مختص کی جائیگی ،شہید سکندر یونیورسٹی خضدار اور سردار بہادر خان یونیورسٹی خضدارکے لئے اگلے بجٹ میں رقم مختص کرکے ان کی تعمیر کو بھی یقینی بنایا جائیگا ،حکومت صوبے میں تعلیم کو دوام دینے اور عروجِ بام تک لیجانے کے لئے خصوصی منصوبہ بندی کررہی ہے تاکہ ہمارا صوبہ لکھا پڑھا بن جائے اور ہم علمی ترقی کی جانب گامزن ہوں ان خیالات کا اظہارانہوں نے بلوچستان یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنا لوجی خضدار کے دورے کے موقع پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کیا۔اس سے قبل جب وہ بذریعہ ہیلی کاپٹر خضدار پہنچے تو رکن بلوچستان اسمبلی میر یونس عزیز زہری ، کمشنر قلات ڈویژن حافظ طاہر ، بلوچستان یونیورسٹی آف انجینئر نگ اینڈ ٹیکنا لوجی خضدار کے وائس چانسلر ڈاکٹر احسان اللہ خان کاکڑ ،ڈی آئی جی خضدار رینج آغا محمد یوسف ، ڈپٹی کمشنر خضدارمیجر(ر) محمد الیاس کبزئی ، ایس ایس پی خضدار سید جاوید اقبال شاہ ودیگر نے ان کا استقبال کیا۔ بعد ازاں انہیں بی یو ای ٹی خضدارلایا گیا ،جہاں گورنر بلوچستان جسٹس (ر) امان اللہ خان یاسین زئی نے تمام لیبارٹریز ، (سول ، مکینیکل ، آئی ٹی اور الیکٹریکل ڈیپارٹمنٹس کا دورہ کیا۔گورنر بلوچستان جسٹس (ر) امان اللہ خان یاسین زئی خضدار انجینئرنگ یونیورسٹی میں لائبریری ایکسٹینشن کاافتتاح کیا۔ اس موقع پر بلوچستان یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈٹیکنا لوجی خضدار کے وائس چانسلر ڈاکٹر احسان اللہ خان کاکڑ نے جامعہ ہذا کے بارے میں گورنر بلوچستان کو تفصیلی بریفنگ دی ،،حب کیمپس کے پی سی ون کے بارے میں انہیں آگاہ کیا۔اس موقع پر رکن بلوچستان اسمبلی میر یونس عزیز زہری ، کمشنر قلات ڈویژن حافظ طاہر ، بلوچستان یونیورسٹی آف انجینئر نگ اینڈ ٹیکنا لوجی خضدار کے وائس چانسلر ڈاکٹر احسان اللہ خان کاکڑ ،ڈی آئی جی خضدار رینج آغا محمد یوسف ، ڈپٹی کمشنر خضدارمیجر(ر) محمد الیاس کبزئی ، ایس ایس پی خضدار سید جاوید اقبال شاہ ، اے ڈی سی عبدالقدوس اچکزئی ،ڈین فیکلٹی آف انجینئرنگ ڈاکٹر سید مشتاق احمد شاہ ، رجسٹرار لیاقت علی لہڑی،ڈائریکٹر ایڈمنسٹریشن انجینئر رضا زہری و دیگر اساتذہ آفیسرز موجود تھے۔ گورنر بلوچستان جسٹس(ر) امان اللہ خان یاسین زئی نے کہاکہ بلوچستان یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنا لوجی خضدار میں جتنے اصلاحات اور تعمیراتی و تعلیمی تبدیلیاں سامنے آئی ہیں و ہ خوش آئندہ ہے جامعہ کے وائس چانسلر اور اس کی ٹیم کی کوششوں کو سراہتے ہیں ، ان کی کوششیں انشاء اللہ مستقبل میں تعلیمی انقلاب کی صورت میں رنگ لے آئیں گی اور یونیورسٹی مزید ترقی کی جانب گامزن ہوگا۔ انہوں نے کہاکہ جلد ہی ادارے کو تیکنیکی مشینری سے آراستہ کریں گے میر ی کوشش ہوگی کہ جن نئے ڈیپارٹمنٹس کا پی سی ون ایچ ای سی کو بھیجا گیا ہے انہیں جلد شروع کردیا جائے اور بی یو ای ٹی کے حب کیمپس کو آنے والے پی ایس ڈی پی میں شامل کرکے اس کے قیام کے لئے کوششوں کا آغاز کیا جائے ادارے میں جو ترقی اور تبدیلی دیکھنے کو مل رہی ہے وہ موجودہ وائس چانسلر کی کاوشوں کا نتیجہ ہے اسی طرح محنت و لگن سے ادارے ترقی کی جانب گامزن ہوتے ہیں ، انہوں نے کہاکہ شہید سکندر یونیورسٹی خضدار سردار بہادر خان وومین یونیورسٹی خضدار کی تعمیر کے لئے بھی آئندہ بجٹ میں رقم مختص کردیا جائیگا تاکہ ہمارے یہ جامعات مکمل ہوں اور صوبے کے نوجوان نسل کو تعلیم کے وسیع مواقع میسر آجائیں۔
()()()
خبرنامہ نمبر 1413/2019
کوئٹہ18 اپریل:۔ وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان کی جانب سے صوبے کے مختلف اضلاع میں بندوبست اراضی کے کیسز کی حیثیت اور اس کے حوالے سے تاخیر اور ذمہ داری کے تعین کے لئے متعلقہ محکموں اور سیٹلمنٹ افسران سے تفصیلات طلب کی گئی ہیں وزیراعلیٰ نے ہدایت کی ہے کہ صوبے کے مختلف اضلاع میں جاری بندوبست اراضی کے عمل کی تفصیلات اور ان بندوبست اراضی کے حوالے سے اب تک مختلف موضع جات، تحصیلوں اور اضلاع میں ہونے والے پیشرفت سے انہیں فوری طور پر آگاہ کیا جائے اور بندوبست اراضی کے عمل کو پورا کرنے کا متوقع تاریخ سے بھی انہیں فوری آگاہی دی جائے۔ بندوبست اراضی کے حوالے سے مختلف سیٹلمنٹ افسران کو دی جانے والے ذمہ داری کا کل صرف شدہ وقت اور ان کی طرف سے اب تک کی پیشرفت سے بھی انہیں آگاہ کیا جائے، وزیراعلیٰ کی جانب سے بندوبست اراضی کے عمل میں ہونے والی تاخیر پر ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے اس کے ذمہ داروں کا تعین کرنے کی ہدایت بھی کی گئی ہے،
()()()
خبرنامہ نمبر 1414/2019
کوئٹہ18 اپریل:۔ وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے محکمہ شہری ترقی ومنصوبہ بندی کو بلوچستان ہاؤسنگ اتھارٹی کے قیام کے لئے قانون سازی کا بل فوری تیار کرکے صوبائی کابینہ کے آئندہ اجلاس میں پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔
()()()
خبرنامہ نمبر 1415/2019
کوئٹہ18 اپریل:۔ وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان کی جانب سے محکمہ توانائی اور تمام ڈویژنل کمشنروں کو سبسڈی پر چلنے والے تمام ٹیوب ویلوں کا تصدیقی عمل مکمل کرکے 30اپریل 2019ء کو منعقد ہونے والے اجلاس میں پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے، تمام ڈویژنل کمشنر ویڈیو لنک کے ذریعہ اجلاس میں شریک ہوں گے۔
()()()
خبرنامہ نمبر 1416/2019
کوئٹہ18 اپریل:۔بلوچستان فوڈ اتھارٹی کی آپریشنل ٹیم نے جمعرات کے روز کوئٹہ کے مختلف علاقوں میں قصاب خانوں، نمکو فیکٹریوں اور بیکری کے کارخانوں پر چھاپہ مارتے ہوئے صحت وصفائی کی صورتحال اور مصنوعات کی تیاری میں استعمال ہونے والی اشیاء کا معائنہ کیا، ٹیم نے گوالمنڈی چوک پر قصاب کی دکانوں میں صفائی کی ابتر صورتحال کا نوٹس لیتے ہوئے انہیں وارننگ جاری کی، ٹیم نے سیٹلائٹ ٹاؤن جتک اسٹاپ پر واقع مقامی سطح پر تیار کی جانے والی نمکو کی فیکٹریوں اور بیکری کے کارخانے کے معائنے کے دوران صفائی کی صورتحال کو بہتر بنانے کی وارننگ جاری کی۔ 
()()()
خبرنامہ نمبر 1417/2019
کوئٹہ18 اپریل:۔ وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان کی خصوصی ہدایت پر صوبہ بھر میں قبضہ مافیا اور تجاوزات کے خلاف 8اپریل سے 12اپریل تک جاری رہنے والی خصوصی مہم کے دوران کروڑوں روپے کی مالیت کی سرکاری اراضی کو قبضہ مافیا سے واگزار کرایا گیا، ضلع کوئٹہ میں 19ایکڑ اراضی پر ناجائز قبضہ ختم کرایا گیا جس کی مالیت تقریباً 2370ملین روپے ہے،ضلع ژوب میں کاروائی کے دوران 8ایکڑ اراضی پر قبضہ ختم کرایا گیا جس کی مالیت تقریباً 38ملین روپے ہے، ضلع سبی میں 130ملین روپے مالیت کی چار ایکڑ اراضی اورضلع نصیرآباد میں دولاکھ مربع فٹ اراضی واگزار کرائی گئی جس کی مارکیٹ میں قیمت 187ملین روپے ہے، قلات میں تقریباً ڈیڑھ لاکھ مربع فٹ اراضی واگزار کرائی گئی جس کی مالیت 174ملین روپے ہے، رخشاں ڈویژن میں 33ایکڑ اراضی واگزار کرائی گئی جس کی مالیت 56ملین روپے ہے، جبکہ مکران ڈویژن میں 59ایکڑ اراضی واگزار کرائی گئی جس کی مارکیٹ میں قیمت 65ملین روپے ہے، کاروائی کے دوران مجموعی طور پر تقریباً 1500ایکڑ رہائشی تجارتی اور زرعی اراضی پر قبضے ختم کرائے گئے جس کی مارکیٹ میں مجموعی قیمت 5375ملین روپے کے لگ بھگ ہے، کوئٹہ شہر میں کانسی روڈ، ازبک بازار، خروٹ آباد، گاہی خان چوک، جوائنٹ روڈ، علمدار روڈ، پرنس روڈ، مسجد روڈ، تولیٰ رام روڈ، لیاقت بازار اور بروری روڈ میں تجاوزات کے خاتمے اور قبضہ مافیا کے خلاف مہم کے دوران 346060 مربع فٹ اراضی پر قبضہ ختم اور تجاوزات ہٹائی گئیں جس کی مالیت 196کروڑ روپے ہے۔
()()()
خبرنامہ نمبر 1418/2019
کوئٹہ18 اپریل:۔ وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے آن لائن کے بیوروچیف نصیراحمد کاکڑ کے والد کے انتقال پر دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے، اپنے ایک تعزیتی بیان میں وزیراعلیٰ نے سوگوارخاندان سے ہمدردی اور تعزیت کرتے ہوئے دعا کی ہے کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کو اپنے جوار رحمت میں جگہ دے اور سوگوار خاندان کو صبرجمیل عطافرمائے۔
()()()
خبرنامہ نمبر 1419/2019
کوئٹہ 18اپریل ۔ صوبائی وزیر صحت میر نصیب اللہ مری نے کہاہے کہ اور ماڑہ میں معصوم اور بے گناہ افراد کا بے رحمانہ قتل صوبے کی ترقی کو روکنے کی ناکام سازش ہے ۔ پوری قوم اس واقعہ پر غم زدہ ہے حکومت امن کا ماحول خراب کرنے اور ترقی کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے والوں سے سختی سے نمٹے گی ۔ اپنے مذمتی بیان میں صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ دہشت گرد بوکھلا ہٹ کا شکار ہیں اور معصوم افراد پر حملہ کرکے اپنے بیرونی آقاؤں کو خوش کررہے ہیں بے گناہوں کے قتل سے دہشت گرد اپنے مذموم مقاصد حاصل کرنا چاہتے ہیں لیکن صوبے کے غیور عوام کے ساتھ ملکر انکے تمام مقاصد کو ناکام بنائیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ صوبے کی ترقی اور سی پیک جیسے منصوبوں کو سبو تاژ کرنے کیلئے دہشت گرد ایسی کارروائیاں کررہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ عوام دہشت گردوں کی بزدلانہ کارروائیوں سے خوف زدہ نہیں ہوں گے ۔ ترقی کے سفر اور پر امن ماحول کیلئے عوام کے ساتھ دہشت گردی کا مقابلہ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ عوام اور سیکیورٹی فورسز کی قربانیوں کی وجہ سے آج صوبے میں امن و امان کی صورتحال بہتر ہورہی ہے جوکہ ان دہشت گردوں اور ان کے آقاؤں کو ہضم نہیں ہورہی ہے اور وہ وقتہً فوقتہً ایسی بزدلانہ کارروائی کرکے ترقی کا عمل روکنا چاہتے ہیں لیکن صوبے کے عوام اور سیکیورٹی فورسز انکے ہر عزائم کو ناکام کرکے ترقی کا سفر جاری وساری رکھیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت امن و امان کی بہتری اور لوگوں کی جان ومال کے تحفظ کیلئے ہر ممکن اقدامات اٹھار ہی ہے اور ترقی یافتہ خوشحال اور پر امن صوبہ ہمارا وژن ہے ۔ 
()()()
خبرنامہ نمبر 1420/2019
اوتھل18اپریل ۔ صوبائی مشیر وزیراعلیٰ برائے لائیوسٹاک مٹھا خان کاکڑ نے کہا ہے کہ لائیو سٹاک کا شعبہ بلوچستان کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتاہے، بلوچستان کے بسنے والوں کے 70 فیصد سے زائد کا بالواسطہ یا بلا واسطہ ذریعہ معاش اسی شعبے سے وابستہ ہے جسکی وجہ سے یہ شعبہ بڑی اہمیت کا حامل ہے اور یہ شعبہ صوبے میں غربت مٹانے اورروزگار کے مواقع فراہم کرنے میں اہم کردار اداکر رہا ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے اوتھل ڈیری فارم کے دورے کے موقع پر میڈیا سے گفتگو میں کیا انہوں نے کہا کہ صوبے میں کی جانے والی مالداری زیادہ تر روایتی طریقوں سے کی جارہی ہے جسکی وجہ سے مالدار بھرپورپیداوار حاصل کرنے میں ناکام ہیں اورمعاشی طورپر اسطرح مستحکم نہیں ہے جس طرح اسے ہونا چاہیئے۔انہوں نے مزید کہاکہ اگر صوبے میں مالداری کومزید فروغ دیناہے تو اس شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنا ہوگا کیونکہ آج دنیابھرکی ترقی یافتہ قومیں مالداری کے شعبے میں اس قدر ترقی کرچکی ہیں کہ یہ شعبہ انکی قومی معیشت کا اہم ترین شعبہ کی حیثیت اختیار کرچکا ہے۔صوبائی مشیر نے بتایاکہ موجودہ صوبائی حکومت لائیو سٹاک کے شعبے کو ترقی دینے کیلئے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات کررہی ہے انہوں نے کہا کہ موجودہ صوبائی حکومت لائیوسٹاک کے شعبے میں ہنگامی بنیادوں پرایسے منصوبوں کا آغاز کریگی۔ جس سے اس شعبے کو جدید خطوط پراستوار کرنے میں مددملے گی جس سے یہ شعبہ دن دگنی رات چوگنی ترقی کرے گا اس شعبے کی ترقی سے صوبے کی معیشت میں خاطر خواہ بہتری کے ساتھ ساتھ غربت میں کمی اوربیروزگاری کے خاتمے میں مدد ملے گی آخرمیں انہوں نے کہا اگر ہمیں اس شعبے کو واقعی فروغ دینا ہے تو اس شعبے سے متعلق ہر شخص کو اپنی ذمہ داریاں پوری کرنا ہوں گی۔اس ضمن میں کسی قسم کی کوتاہی کو نظر انداز نہیں کیاجائے گا اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل لائیو سٹاک ڈائریکٹر پلاننگ لائیو سٹاک ڈاکٹر محمد اعظم کاکڑ حاجی شاہ زمان کاکڑ اور فیض کاکڑ بھی موجود تھے ۔
()()() 
خبرنامہ نمبر 1421/2019
کوئٹہ18 اپریل۔ صوبائی مشیر تعلیم حاجی محمد خان لہڑی نے اورماڑہ میں رونما ہونے والے واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اور قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ دہشت گرد صوبے کی ترقی سے خائف ہیں۔ بلوچستان کو ترقی کی راہ پر گامزن دیکھ کر انتہاپسند عناصر بوکھلاہٹ کا شکار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بے گناہوں کے قتل سے دہشت گرد اپنے مذموم عزائم کی تکمیل چاہتے ہیں جس کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔ دہشت گرد بیرونی ایجنڈے کی تکمیل اور اپنے آقاوں کو خوش کرنے کے لیے معصوموں کا خون بہارہے ہیں۔ مشیر تعلیم نے کہا کہ سی پیک کا منصوبہ اور صوبے کی ترقی بیرونی قوتوں کو ہضم نہیں ہورہی ہے۔ کچھ بیرونی طاقتیں بلوچستان کو ترقی یافتہ اور خوشحال نہیں دیکھ سکتے۔ بلوچستان میں ہونے والی دہشتگردی کے واقعات میں بیرونی عناصر کے ملوث ہونے میں کوئی شک نہیں۔ انہوں نے کہا کہ عوام کے ساتھ مل کر دہشت گردی کا مقابلہ کیا جائے گا۔ عوام اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے بے شمار قربانیاں دی ہیں۔ وہ دن دور نہیں جب بلوچستان خوشحال پرامن اور ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہوگی۔
()()()
خبرنامہ نمبر 1422/2019 
کوئٹہ 18 اپریل۔صوبائی مشیر تعلیم حاجی محمد خان لہڑی نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ نصیرآباد ڈویژن میں حالیہ بارشوں سے ہونے والے نقصانات کا جائزہ لیا جارہا ہے۔حلقے میں جانی و مالی نقصانات کا ازالہ کیا جائے گا۔ مصیبت کی اس گھڑی میں حلقے کے عوام کے ساتھ کھڑے ہیں۔ متعلقہ کمشنر اور ڈپٹی کمشنر کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں۔ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے صوبائی حکومت تیار ہے۔ صوبائی مشیر نے کہا کہ حالیہ بارشوں سے جہاں طویل خشک سالی کے خاتمے میں مدد ملی ہے وہاں گندم اور چاول کی فصلات کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ انہوں نے کہا کہ زمینداروں کے نقصانات کا تخمینہ لگایا جارہا ہے۔ مشکل کی اس گھڑی میں انہیں تنہا نہیں چھوڑا جائے گا۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان اور میر ضیاء لانگو کو صورتحال سے آگاہ کردیا ہے۔ بہت جلد علاقے کا دورہ کرکے صورتحال کا خود جائزہ لوں گا۔ عوام میں سے ہیں اور عوامی خدمت کو نصب العین سمجھتے ہیں۔ عوام کے ریلیف کیلئے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔ محمد خان لہڑی نے کہا کہ عوام مشکل کی اس گھڑی میں خود کو اکیلا نہ سمجھیں۔ صوبائی حکومت ان کے ساتھ کھڑی ہے۔ محمد خان لہڑی نے کہا کہ متاثرہ خاندانوں کے نقصان کو اپنا نقصان سمجھتے ہیں۔ کمشنر نصیرآباد ڈویژن اور ڈپٹی کمشنر کو ہدایات جاری کردی گئیں ہیں۔ 
()()()
خبرنامہ نمبر 1423/2019 
کوئٹہ 18اپریل ۔ مشیر لائیو اسٹاک مٹھا خان کاکڑ ، سیکریٹری لائیو اسٹاک اور ڈائریکٹر جنرل لائیو اسٹاک کی خصوصی ہدایت پر حالیہ بارشوں کی وجہ سے بیماریوں سے بچاؤ کیلئے ڈپٹی ڈائریکٹر لائیو اسٹاک کوئٹہ ڈاکٹر موسیٰ جان مندوخیل کی زیر نگرانی کوئٹہ ڈسٹرکٹ کے مختلف علاقوں جس میں کچلاک ، سہرہ غڑگئی ، ھنہ ، چشمہ اچوزئی ، پنجپائی ، اغبرگ ، کیچی بیگ ، کلی بڑاو، مری کیمپ کاہان ہزار گنجی ، تختانی بائی پاس میں جانوروں کو متعد بیماریوں خصوصاً انٹرو ٹا کیمیا بیماری سے بچاؤ کیلئے انسدادی ٹیکے لگائے گئے ۔ ڈپٹی ڈائریکٹر لائیو اسٹاک کوئٹہ ڈسٹرکٹ ڈاکٹر موسیٰ جان مندوخیل نے کہا کہ جانوروں کے علاج ومعالجہ کیلئے میاں غنڈی ، ہنہ اوڑک ، اغبرگ ، کلی رحیم کل میں موبائل کیمپ لگائے جائیں گے ۔ جبکہ حالیہ بارشوں کے نتیجے میں جانوروں میں ڈائریا ، نمونیا کے امراض کے علاج کیلئے گلہ بانی کو محفوظ رکھنے کیلئے اپنی قریبی ہسپتال یا ڈسپنسری کے ساتھ رابطہ کریں۔ 
()()()
خبرنامہ نمبر 1424/2019 
لورالائی18اپریل ۔اسسٹنٹ کمشنر بوری جمعہ داد خان مندوخیل نے کہا ہے کہ فنی ادارے اہمیت کے حا مل ہوتے ہیں جوکہ باعزت روزگار دینے میں مدد گار ثابت ہوتے ہیں جن سے بڑی تعداد میں لوگ مستفید ہوئے ہیں ان خیالات کا اظہار انہوں نے ٹیکنیکل ٹریننگ سنٹر لورالائی کے دورے کے موقع پر بات چیت کرتے ہوئے کیا اس موقع پر ڈپٹی ڈائریکٹرسوشل ویلفئیر گل محمد کاکڑ بھی ان کے ہمراہ تھے پرنسپل ٹیکنیکل ٹریننگ سنٹر لورالائی عبدالباری نے ادارے کے حوالے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ٹیکنیکل ٹریننگ سنٹر لورالائی عرصہ دراز سے تربیتی کورس کروارہی ہے جن میں ویلڈنگ ،موٹرسائکل مکنیک ،الیکٹریشن ،کپڑے سلائی اور دیگر شعبے شامل ہیں جن کے لئے سکالرشپ بھی دئے جاتے ہیں۔ اس موقع پر فارغ لتحصیل ٹرینز میں سکالرشپ21250\00 روپے فی کس کے چیک بھی تقسیم کئے گئے ۔
()()()
خبرنامہ نمبر 1425/2019 
لورالائی18اپریل ۔لیپروسی بلائنڈنس کنٹرول پروگرام محکمہ صحت بلوچستان کے زیراہتمام، ضلعی ہسپتال موسی خیل اور ضلعی انتظامیہ موسی خیل کے تعاون سے ضلع موسی خیل میں دو روزہ فری آئی میڈیکل وسرجیکل کیمپ لگایا گیا ہے ۔ ڈپٹی کمشنر موسی خیل منیر احمد خان کاکڑنے کیمپ کا افتتاح کیا ۔ڈاکٹرمحفوظ الاسلام،ڈاکٹرعبدالباری اور ڈاکٹر چاکر کاشانی دو روزہ فری آئی میڈیکل وسرجیکل کیمپ میںآنکھو ں کا معائنہ کریں گے نیز ضرورت پڑنے پرآنکھوں کاآپریشن اور لینس مہیاکیے جائیں گے۔
()()()
خبرنامہ نمبر 1426/2019 
نصیر آباد 18اپریل ۔کمشنر نصیرآبادڈویژن جاویداخترمحمودنے کہا ہے کہ پولیو کے خاتمے کیلئے جہادکے طورپرسب کوجدوجہد کرنی ہوگی کیونکہ یہ ایک موذی اور خطرناک مرض ہے جس سے بچے زندگی بھر کیلئے معذور ہوجاتے ہیں حکومت پولیو کے خاتمے کیلئے جنگی بنیادوں پر اقدامات کررہی ہے اس مرض کا خاتمہ کئے بغیر صحت مندمعاشرہ تشکیل نہیں پاسکتا مستقبل کی نئی نسل کوبچانے کیلئے اس وائرس کا خاتمہ ضروری ہے اوریہ تب ممکن ہوگا جب تمام کمیونٹی سے وابسطہ افرادملکر عملی جدوجہد نہیں کرتے کمیونٹی کو حکومت اورپولیوورکرزکے ساتھ ملکر کام کرنا ہوگا اورپولیو ٹیموں کے ساتھ بھرپورتعاون کویقینی بناتے ہوئے اپنے بچوں کو پولیوسے بچاؤکے قطرے پلانے ہونگے ان خیالات کااظہار انہوں نے انسداد پولیومہم کے سلسلے میں منعقدہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا اجلاس میں ڈپٹی کمشنرصحبت پورمحمد یونس سنجرانی، ڈپٹی کمشنر جعفرآبادآغاشیر زمان خان،ڈپٹی کمشنرکچھی سلطان احمد بگٹی ،ڈبلیوایچ اوکے نمائندے،ڈویژن بھرکے ڈی ایچ اوزسمیت دیگر آفیسران شرکت کی اجلاس کے شرکاء کو بریفنگ دیتے ہوئے ڈبلیو ایچ او کے ایریاکوآرڈینیٹرڈاکٹررفیق گھنیہ نے بتایا کہ نصیرآباد ڈویژن میں 22اپریل سے انسدادپولیو مہم کاآغاکردیا جائے گاجس کے دوران ٹوٹل چارلاکھ دوہزاردوسوچوسٹھ بچوں کو پولیوکے قطرے پلائے جائیں گے جس کے لئے 1411 ٹیمیں ،102فکسڈسینٹرز،94ٹرانزٹ پوائنٹ،اور1140موبائل ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں جو گھرگھر جاکر بچوں کوپولیوکے قطرے پلائیں گی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کمشنر نصیرآباد ڈویژن جاویداخترمحمود نے کہاکہ پولیو کے مرض کو پاکستان سے ختم کرنے کیلئے ہم سب پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے پلائیں تاکہ ملک کی نئی نسل کو لاحق ہونے والے ایسے موذی مرض سے بچایا جاسکے پولیوانسدادمہم میں آفیسران سمیت ہر مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے افرادکو اپنااپناکرداراداکرنا ہوگا تاکہ اس موذی مرض کا مکمل خاتمہ ہو پولیو مہم میں غفلت برتنے والے ملازمین کے خلاف سخت کاروائی عمل میں لائی جائے گی بچے ہمارے مستقبل کے ضامن ہیں ان کی پرورش اورمستقل صحت یابی سے بہترین معاشرہ تشکیل پاتا ہے۔
()()()
خبرنامہ نمبر 1427/2019 
نصیر آباد 18اپریل ۔ڈپٹی کمشنر نصیرآباد ظفر بلوچ نے نصیر آباد کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں تحصیل لانڈھی ،بابا کوٹ ،ربیع کینال ،نوتال ،منجھوشوری، قبولہ چالیس ڈیپ کا دورہ کیا اور سیلاب سے ہونے والے نقصانات کا جائزہ لیا متاثرین سیلاب میں راشن ،خیمے تقسیم کیے ان کے ہمراہ اسسٹنٹ کمشنر ڈیرہ مراد جمالی غلام حسین بھنگر اسسٹنٹ کمشنر چھتر علی احمد ہانبھی تحصیلدار بہادر خان کھوسہ تھے ڈپٹی کمشنر ظفر بلوچ نے آفیسران کوہدایات دیتے ہوئے کہا کہ سیلاب متاثرین کی امداد میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جائے ان میں خیمے تقسیم کیے جائیں ضلعی انتظامیہ نے پی ڈی ایم اے سے امدادی سامان فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے جس میں پینے کے صاف پانی کی فراہمی ،ادویات، خیمے، راشن اور دیگر ضروریات زندگی شامل ہیں ان شاء اللہ امید ہے بہت جلد صوبائی حکومت پی ڈی ایم اے کے ذریعے سامان متاثرین کے لیے روانہ کرے گی ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ ہم نے ضلعی سطح پر سیلاب متاثرین کی امداد میں کوئی کسر نہیں چھوڑی 247 ٹینٹ اور 195 راشن کے تھیلے سیلاب متاثرین میں تقسیم کئے گئے ہیں اور یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے متاثرین کو بے یارومددگار ہرگز نہیں چھوڑا جائے گا ان کی ہر طرح کی امداد کی جائے گی انہوں نے کہا کہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ہمارے امدادی کیمپس قائم کیے گئے جہاں پر سیلاب متاثرین کی ہر ممکن مدد کی جا رہی ہے ضلعی آفس میں فلڈ کنٹرول روم بھی قائم کیا گیا ہے جہاں پر عملہ 24 گھنٹے عوام کی خدمت میں مصروف عمل ہے کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ضلعی انتظامیہ ہمہ وقت تیار ہے۔
()()()