خبر نامہ نمبر 580/2019
کوئٹہ 20فروری :۔گورنر بلوچستان امان اللہ خان یاسین زئی نے کہا کہ مادری زبان میں تعلیم کا حصول ہر انسان کا بنیادی حق ہے جس کی ضمانت اقوام متحدہ کا چا رٹر اور آئین پاکستان بھی فراہم کرتا ہے ۔مادری زبانوں کی شناخت اور انکی اہمیت وافا دیت کو اُ جاگر کرنے کیلئے 21فروری کو مادری زبانوں کاعالمی دن منایا جاتا ہے ۔مادری زبانوں کے عالمی دن کے حو الے سے گورنر بلوچستان نے اپنے ایک پیغام میں کہا ہے کہ مادری زبان میں تعلیم کی فراہمی سے نہ صرف بچوں کی پو شیدہ تخلیقی صلاحیتو ں میں نکھار پید اہوتا ہے بلکہ اس سے خو د زبان کی تر ویج واثا عت بھی ہو تا ہے ۔مادری زبان اس گلوبال ویلج میں انسان کا قومی شناخت ہونے کے ساتھ ساتھ تہذ یب وتمدن کے اظہار کا بہترین زریعہ بھی ہے ۔گورنر بلوچستان نے کہا ہے کہ پاکستان میں بلوچستا ن کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ اس صوبے میں سب سے زیادہ زبانیں بولی اور سمجھی جاتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں بو لی جانے والی زبانیں پشتو،بلوچی،براہوی یا ہزارگی ،وغیرہ عام بول چال کی زبان نہیں بلکہ یہ صد یوں پر محیط ، تاریخ ، ثقافت اور کئی نسلوں کی گرانقد رخد مات و قر بانیوں کی عکاس ہوتی ہے اور اس سے اپنے قومی ہیروز وز اور اکا برین سے اپنا ئیت بھی پید ا ہوتی ہے ۔گورنر نے ان اہل علم وادب کی گر اں قدر کا وشو ں کو سر اہا جنہوں نے نہایت تنگد ستی اور محدود سہو لتوں کے باوجود اپنی مادری زبان اپنے خون جگر سے آ بیاری کی ۔انہوں نے مزید کہا کہ ضروری ہے کہ ہم نہ صرف اپنی زبان سے محبت رکھیں بلکہ دوسروں کی مادری زبان کو بھی قابل احترام سمجھیں اور دُنیا بھر قیمتی علمی وسا ئنسی علو م ومو اد کے تر اجم کو اپنی مادری زبانوں میں کر انے کو زیادہ ترجیح دیں ۔
()()()
خبر نامہ نمبر 581/2019
کوئٹہ : ۔ ڈپٹی اسپیکر سردار بابر موسیٰ خیل نے خیبر پختواء اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر اور وزراء کو بلوچی ثقافتی شال اور خواتین اراکین اسمبلی کو بلوچی دستکاری کے شال پیش کئے بدھ کو پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول سے متعلق دو روزہ ورکشاپ میں شرکت کیلئے آنیوالے وفد نے بلوچستان اسمبلی کا دورہ کیا اور اس موقع پر ڈپٹی اسپیکر سردار بابر موسیٰ خیل نے 21رکنی وفد کو بلوچستان اسمبلی سے متعلق آگاہ کیا ڈپٹی اسپیکر خیبر پختونخواء اسمبلی محمود جان کی قیاد ت میں آنیوالی وفد میں وزیر اطلاعات شوکت یوسفزئی، صوبائی وزیر ضیاء اللہ بنگش، وزیر معدنیات امجد علی کے علاوہ خیبر پختوانخواء اسمبلی اراکین بھی شامل ہیں بلوچستان اسمبلی کے دورے کے موقع پر ڈپٹی اسپیکر سردار بابر موسیٰ خیل کی جانب سے ڈپٹی اسپیکر محمود جان، وزیر اطلاعات شوکت یوسفزئی، صوبائی وزیر ضیاء اللہ بنگش، وزیر معدنیات امجد علی سمیت اراکین پارلیمنٹ کو بلوچی ثقافتی شال اور خواتین پارلیمنٹرینر کو بلوچی دستکاری کے شال پیش کیئے اس موقع پر ڈپٹی اسپیکر خیبر پختونخواء اسمبلی محمود جان نے ڈپٹی اسپیکر کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان آکر ہمیں بے انتہائی محبت ملی جس کا کبھی سوچھا بھی نہیں تھا اور بلوچستان کے سیاسی رہنماوں سے ملاقات کرکے ہمیں صوبے کے سیاسی اور جغرافیائی صورتحال سے بھی آگاہی ملی بلوچستان سے محبت کا پیغام لیکر جائیں گے اور بلوچستان اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر سردار بابر موسیٰ خیل سمیت اراکین پارلیمنٹ کو صوبہ خیبر پختواء کے دورے کی دعوت دیتے ہیں تاکہ دونوں صوبوں کے درمیان جو دوریاں ہیں وہ ختم ہو اور تجربات سے کچھ سیکھنے کا مل سکے، ڈپٹی اسپیکر بلوچستان اسمبلی سردار بابر موسیٰ خیل نے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تحفے اور تحائف بلوچستان کی ثقافت کا حصہ ہے اور خیبر پختونخواء اسمبلی کے اراکین کی آمد سے بلوچستان اسمبلی کے اراکین کی تجربات میں اضافہ ہوگا اور دونوں صوبوں کیاراکین کو کچھ سیکھنے کا موقع میسر ہوا ہے۔
()()()
خبر نامہ نمبر 582/2019
کوئٹہ20فروری۔ صوبائی محتسب بلوچستان عبدالغنی خلجی کی ہدایت پر امیر محمد ولد حقداداور محمد اسماعیل ولد نیاز محمد کو محکمہ تعلیم ضلع قلعہ سیف اللہ میں قانون کے مطا بق نائب قاصد اور چوکیدار تعینات کردیا گیا ۔ تفصیلات کے مطابق شکایت کنند گان نے صوبائی محتسب سے گزارش کی تھی کہ انہوں نے گورنمنٹ مڈل اسکول حقداد علوزئی یونین کونسل اختر زئی ضلع قلعہ سیف اللہ کے مذکورہ اسامیوں کیلئے انٹر ویو میں حصہ لیا جبکہ محکمہ تعلیم کے متعلقہ حکام دوسرے یونین کونسل سے تعلق رکھنے والے امید واروں کو تعینات کررہے ہیں ۔ جس پر صوبائی محتسب نے قانون کے مطابق کارروائی کرتے ہوئے محکمہ تعلیم بلوچستان کو ہدایت جاری کی کہ درجہ چہارم کے ملازمین کو متعلقہ یونین کونسل سے تعینات کیا جائے۔ بعدازاں سیکریٹری سیکنڈری تعلیم بلوچستان نے صوبائی محتسب کو تحریری طور پر آگاہ کیا کہ شکایت کنند گان امیر محمد اور محمد اسماعیل کو مذکورہ اسکول میں تعینات کرکے شکایت کاازالہ کردیا گیا ہے ۔ 
()()()
خبر نامہ نمبر 583/2019
کوئٹہ20فروری۔مختلف عوامی حلقوں اور ڈاکٹروں کی جانب سے موجودہ صوبائی حکومت کے نظام صحت کی بہتری اور شعبہ سے وابستہ افراد کیلئے کیے جانے والے اقدامات کو سراہا گیا ہے ۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال خان کی خصوصی ہدایات ، وزیر صحت میر نصیب اللہ مری کی خصوصی دلچسپی اور سیکریٹری صحت حافظ عبدالماجد کی ذاتی کاوشوں سے عنقریب جامع بلوچستان سے تین نئے میڈیکل کالجز کا الحاق کردیا جائے گا ۔ واضح رہے کہ تینوں نئے جھالا وان ، مکران اور لورالائی میڈیکل کالجز کے پہلے بیچ میں طلباء کی پڑھائی کا سلسلہ جاری ہے جبکہ رواں سال دوسرے بیچ کیلئے بھی طلباء کو داخلہ دیا جائے گا ۔ نو قائم کردہ میڈیکل کالجز میں زیر تعلیم طلباء اور ان کے والدین اس امر سے نہایت تشویش کا شکار تھے کہ مذکورہ کالجز کے طلباء کا مستقبل کیا ہوگا کیونکہ ان میڈیکل کالجز کاتاحال الحاق ملک یا صوبے کی کسی بھی یونیورسٹی کے ساتھ نہیں کیا گیا جبکہ رواں سال ان طلباء کے’’ فرسٹ پراف‘‘ کے امتحانات بھی لئے جانے ہیں ۔ اس پریشان کن صورتحال کا اد راک کرتے ہوئے صوبائی سیکریٹری صحت نے یونیورسٹی آف بلوچستان کو مذکورہ تین میڈیکل کالجز کو الحاق کرنے کیلئے مراسلہ ارسال کیا جس کی بناء پر جامعہ بلوچستان کی ایک ٹیم نے تینوں میڈیکل کالجز کا تفصیلی دورہ کیا اور کالجز میں تعلیمی سر گرمیوں و سہولیات کی فراہمی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے انہیں سراہا جوکہ یقیناًان میڈیکل کالجز کے اساتذہ اور پرنسپل صاحبان کی شب و روز محنت کا نتیجہ ہے ۔ مزید براں بہت جلد ان تینوں میڈیکل کالجز کا الحاق یونیورسٹی آف بلوچستان سے کردیا جائے گا اور ایک باقاعدہ اعلامیہ کے ذریعے الحاق کے عمل کی تکمیل کی جائے گی جس سے طلباء اور والدین کو اس حوالے سے لاحق پریشانی سے چھٹکارہ حاصل ہوگا اورطلباء کی کالجز سے حاصل کی ہوئی ڈگری بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ ہوگی۔ 
()()()
خبر نامہ نمبر 584/2019
سبی 20فروری :۔کمشنر سبی ڈویژن سید فیصل احمد شاہ کی صدارت میں سبی میلا 2019 کے حوالے سے امن وامان کی صورتحال سے متعلق اعلی سطحی اجلاس منعقد ہوا جس میں ڈپٹی کمشنر سبی سید زاہد شاہ سمیت پاک فوج ایف سی اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افسران نے شرکت کی اجلاس میں امن و امان سے متعلق مختلف امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کمشنر سبی ڈویژن سید فیصل احمد شاہ نے کہا کہ سبی میلا کے دوران امن و امان کے حوالے سے فول پروف انتظامات کیے گئے ہیں خصوصا سبی میلہ میں شرکت کرنے والے تمام مہمانوں کو خصوصی سکیورٹی فراہم کی جائیں گی انہوں نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہدایت کی کہ وہ اس موقع پر مشکوک افراد پر کڑی نظر رکھیں اور سکیورٹی کو مزید بہتر بنانے کے لیے کام کریں۔
()()()

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Post comment