خبرنامہ نمبر552/2019 
کوئٹہ17فروری :۔وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے کہا ہے کہ گزشتہ ساڑھے پانچ ماہ کے دوران انہو ں نے جن بھی محکموں اور اداروں کے امور کا جائزہ لیا ہے وہاں منصوبہ بندی اور سنجیدگی کا فقدان نظر آیا ہے جو ادارے اپنے وسائل کے ذریعے خود انحصار ہوسکتے ہیں انہیں چلانے کے لیے حکومت کو گرانٹ دینا پڑتی ہے۔پسنی فش ہاربر جیسا اہم ادارہ گزشتہ دس برس سے غیر فعال ہے جبکہ ادارے کے ملازمین کی تنخواہوں کی مد میں تقریبا ڈیڑھ ارب روپے خرچ کیے جاچکے ہیں بیمار اداروں کو یا تو ان کے پیروں پر کھڑا کیا جائے گا یا انہیں بند کرنے پر غور کیا جائے گا ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز پسنی فش ہاربر کے ا مور کے جائزہ اجلاس کے دوران کیا صوبائی وزیر میر ظہوراحمد بلیدی میر عارف محمدحسنی رکن صوبائی اسمبلی عبدالرشید بلوچ ایڈیشنل چیف سیکریٹری منصوبہ بندی و ترقیات سجاد احمد ایڈووکیٹ جنرل ارباب طاہر خان بھی اجلاس میں شریک تھے جبکہ سیکرٹری ماہی گیری ارشد بگٹی اور ایم ڈی پسنی فش ہاربر علی گل کردکی جانب سے اجلاس کو بریفنگ دی گئی۔اجلاس میں فش ہاربر کی ترقی کے لئے جاپانی گرانٹ کے استعمال ڈریجنگ کے عمل سمیت دیگر متعلقہ امور کا جائزہ لیا گیا وزیراعلیٰ نے کہا کہ دنیا بھر میں فش ہاربر اور جیٹیاں نہ صرف روزگار فراہم کرتی ہیں بلکہ وسائل بھی پیداکرتی ہیں لیکن بدقسمتی سے بلوچستان میں صورتحال اس کے برعکس ہے اور یہ ادارے معشیت اور روزگار میں فعال کردار ادا نہیں کر رہے۔وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ صوبے کے ساحلی علاقوں میں قائم فش ہاربر اور جیٹیوں کو ایک اتھارٹی کے تحت کرنے اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ موڈ پر لے جانے کا جائزہ لیاجائے ا ور ابتدائی طور پر اخبارات کے ذریعے اظہار دلچسپی کا اشتہار شائع کرکے سرمایہ کاروں کی دلچسپی اور ردعمل کا جائزہ لیا جائے۔ اجلاس میں اس امر سے اتفاق کیا گیا کہ کیونکہ فش ہاربر بہت بڑی مقدار میں ریت آنے کی وجہ سے بند ہو گیا ہے اور ڈریجنگ کے باوجود اسے فعال نہیں کیا جاسکا ہے لہذ ا فش ہاربر کی نئے مقام پر ازسرنو تعمیر کا جائزہ بھی لیا جائے گا تاکہ مقامی ماہی گیر وں کو جدید سہولتوں کی فراہمی کے ذریعے ان کے روزگار کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے اجلاس میں ساحلی علاقے میں آٹھ نئی جیٹیوں کے قیام کے منصوبے کا جائزہ بھی لیا گیااور بورڈ آف ریونیو کو اس منصوبے کیلئے اراضی کی فراہمی کے عمل کو جلد مکمل کرنے کی ہدایت کی گئی وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ صوبے کے ساحلی پٹی پر کیچ(Catch) فارمنگ کو متعارف کرانے کے لئے نجی شعبے کو ترغیب دینے کے حوالے سے اظہار دلچسپی کا نوٹس مشتہر کیا جائے انہوں نے مچھلی پکڑنے سے اسکے سٹوریج اور مارکیٹ تک سپلائی کے مراحل کو ایک جدید منصوبے کی شکل دینے کے لیے فزیبلٹی رپورٹ تیار کرنے کے عمل کو بھی جلد مکمل کرنے کی ہدایت کی۔
()()()
خبرنامہ نمبر553/2019 
اسلام آباد 17فروری :۔وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان اسلام آباد پہنچ گئے وزیراعلیٰ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان بن عبدالعزیز السعود کے اعزاز میں استقبا لیہ تقریب اور وزیراعظم عمران خان کی جانب سے دیئے گئے عشائیہ میں شرکت کریں گے۔
()()()
خبرنامہ نمبر554/2019 
کوئٹہ 17فروری :۔وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے پنجگور میں ایف سی اہلکاروں پر دہشت گردوں کی فائیرنگ کے واقعہ کی شدید مزمت کی ہے اور واقعہ میں چار ایف سی اہلکاروں کی شہادت پر دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ اپنے ایک بیان میں وزیراعلیٰ نے کہا ہے کہ دہشت گردی کا یہ واقعہ پر امن بلوچستان اور صوبے کی ترقی کے خلاف سازش ہے۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ امن کے قیام کے لئے ایف سی اور سیکیورٹی کے دیگر اداروں کی قربانیاں ناقابل فراموش ہیں ،واقعہ میں ملوث عناصر کو ہر صورت کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا دہشت گردی کے خاتمے کے لئے ہماراعزم پختہ ہے ۔و زیر اعلیٰ نے شہداء کے لواحقین سے تعزیت کا اظہارکرتے ہوئے دُعا کی کہ اللہ تعالیٰ شہداء کے درجات بلند کر ے ا ور لواحقین کو صبر جمیل عطا ء فرمائے ۔
()()()
خبرنامہ نمبر555/2019 
قلات 17فروری :۔ضلع قلات میں دو اہم قبائل کے درمیان خونی تنازعہ کے حل کے لیے ڈپٹی کمشنر قلات شیہک بلوچ، ونگ کمانڈر کرنل کبیر خان، اسسٹنٹ کمشنر قلات محمد ایوب مری و دیگر کی کوششوں کو سراہتے ہوئے صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے کہا ہے کہ مینگل اور سناڑی قبائل کے درمیان دو عشروں سے زائد عرصہ سے جاری خونی تنازعہ کا تصفیہ اور جنگ بندی خوش آئند ہے۔یاد رہے دونوں قبائل کے درمیان چلنے والے تنازعہ کے حل کے لیے ڈپٹی کمشنر قلات اور دیگر متعلقہ حکام نے صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ کی ہدایت پر اہم کردار ادا کیا ۔صوبائی وزیر نے کہا کہ قبائلی جنگوں اور تنازعات کی وجہ سے صوبہ اور اس کے عوام کو پہلے ہی خاطر خواہ نقصانات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ صوبہ بلوچستان اور اسکی عوام مزید قبائلی تصادم اور تنازعات کا متحمل نہیں ہو سکتا ۔ انہوں نے کہا کہ وہ خود بحیثیت صوبائی وزیر قبائلی امور بلوچستان میں پائے جانے والے قبائلی چپقلشوں اور تنازعات کے حل کے لئے بھر پور کوشش کر رہے ہیں۔ قبائلی تنازعہ کے پائیدار حل سے ہی بلوچستان کے عوام حقیقی معنوں میں ہی علم و ہنر سے مستفید ہو پائیں گے۔ انہوں نے اس امر پر زور دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ دور تعلیم، علم وہنر، سائنس اور ٹیکنالوجی کا ہے۔ وہ بلوچستان کے شہری اور دیہی علاقوں میں کلاشنکوف کلچر کا خاتمہ کرتے ہوئے بلوچستان بھر میں تعلیم کے کلچر کو فروغ دینا چاہتے ہیں اور نوجوانوں کے لئے زیادہ سے زیادہ نوکریوں کے مواقع پیدا کرنا چاہتے ہیں تاکہ پڑھے لکھے ہنر مند بلوچستان کا خواب شرمندہ تعبیر ہو پائے۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ بلوچستان میں پائے جانے والے قبائلی تنازعات کے تصفیہ اور حل کے لئے قبائلی اور سیاسی رہنماؤں سمیت سماجی اور مذہبی شخصیات کو مثبت کردار ادا کرنا ہوگا ۔ وہ خود بحیثیت صوبائی وزیر داخلہ و قبائلی امور ہر سطح پر قبائلی تنازعات کے حل کیلئے بھرپور کوشش اور تعاون کریں گے ۔
()()()

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Post comment