خبر نامہ نمبر 174/2019
کوئٹہ17جنوری۔ صوبائی وزیر سماجی بہبود میر اسد بلوچ نے کہا ہے کہ دار الامان میں موجود خواتین اور بچوں کی فلاح وبہبود اور ان کو تمام تر بنیادی سہولیات کی فراہمی کیلئے ہر ممکن اقدامات کئے جائیں گے ۔ خواتین کی فنی تربیت کیلئے انسٹر کٹرز کی تعیناتی جلد از جلد عمل میں لائی جائے گی ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے او پی پی سینٹر میں الیکٹرو تھراپی سیکشن کا افتتاح اور دار الامان کے دورے کے موقع پر قیام پذیرخواتین سے بات چیت کے دوران کیا ۔ اس موقع پر صوبائی وزیر نے دار الامان اور پی پی سینٹر کے مختلف حصوں کا معائنہ بھی کیا ۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ دار الامان میں قیام پذیر خواتین معاشرے کا اہم حصہ ہیں ان کی تعلیم و تربیت کی فراہمی اور دیگر بنیادی سہولیات ہماری ذمہ داریوں میں شامل ہیں ۔ مزید براں صوبائی وزیر کو ڈائریکٹوریٹ سوشل ویلفیئر میں او پی پی سینٹر کے ہیڈ محمد ایوب اکبر ی نے دار الامان اور او پی پی سی کے حوالے سے تفصیلاً بریفنگ دی ۔ دورے کے موقع پر صوبائی وزیر نے سینٹر میں موجود مریضوں کی عیادت اور ان کے علاج و معالجہ کیلئے ہر ممکن اقدامات اٹھانے کی یقین دہانی کرائی جبکہ دار الامان میں قیام پذیر خواتین نے صوبائی وزیر کو اپنے مسائل سے بھی آگاہ کیا ۔ 
()()()
خبر نامہ نمبر 175/2019 
کوئٹہ 17جنوری :۔صوبائی مشیر ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن محمد نعیم خان بازئی نے کہا کہ فکر باچا خان ہمارانصب العین ہے اس سوچ کو مدنظرر کھ کر عوام کی خدمت کرنا ہمارا فرض ہے یہ بات انہوں نے اپنے آفس میں آئے ہوئے مختلف وفود سے بات چیت کرتے ہوئے کہی اس موقع پر صو بائی مشیر کے حلقہ انتخا ب سے آئے ہوئے مختلف قبائلی عماہدین کی ایک بڑی تعداد بھی موجود تھی ۔انہوں نے کہا کہ وزارت آنی جانی چیز ہے کل جو وزیر مشیر تھے آج نہیں رہے ہماری بھی مدت ایک دن ختم ہوجائیگی لیکن خد مت خلق اوربے رز گار کاخاتمہ ہماری ترجیحات ہیں ۔اس کام کے لیے وزارت کا ہونا یانہ ہونا کوئی معنی نہیں رکھتا ہے صر ف خدمت خلق ،فکر باچا خان جوکہ روز اول سے ہم کررہے ہیں اور روز آخر تک انشا ء اللہ کرتے رہیں گے ۔صوبائی مشیر نے کہا کہ ہماری حکومت کی اولین تر جیحا بے روز گار ی کا خاتمہ کرنا ہے صوبائی حکومت وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال کی قیادت میں بلوچستان کے تمام مسائل جن میں بے روزگار ی سر فہرست ہے کے خا تمے کے لیے عملی اقدامات اُٹھا رہی ہے ۔صوبائی مشیر نے مز ید کہا کہ اپنے حلقے کے مسائل سے با خوبی واقف ہوں ورثے میں آئے ہوئے ان مسائل کو حل کرنا ہما ری اولین تر جیح ہے جہاں بھی اسکول واٹر سپلائی ،صحت کی سہولیات روڈ اور نالی کی ضرورت ہے وہاں یہ تمام ترقیاتی کام کرئینگے اپنے حلقے میں ترقیاتی کاموں کا جال بچھا د یں گے تاکہ عوام کو یہ یقین ہو کہ انہوں نے اپنے حلقے کے لیے ایک مخلص او ربہتر ین نما ئندہ منتخب کیا ہے ۔
()()()
خبر نامہ نمبر 176/2019
کوئٹہ 17 جنوری :۔کمشنر کوئٹہ ڈویژن محمد ہاشم غلزئی نے کہا کہ پولیو وائرس کی موجودگی کی وجہ سے مہم میں زیادہ محنت کی ضرورت ہے اس سلسلے میں تمام متعلقہ ادارے اس حساس مسئلے پر سنجیدگی سے اقدامات کریں حالیہ رپورٹ کے بعد پولیو مہم میں حامل خامیوں کو جلد از جلد دور کرکے اپنے علاقوں کو پولیو سے پاک کرئے ان خیالات کا اظہار انہوں نے 21 جنوری سے شروع ہونے والی تین روزہ انسدادپولیو مہم کے انتظامات کے سلسلے میں ڈویژنل ٹاسک فورس کے اجلاس اور بریفنگ کے موقع پر کیا۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر کوئٹہ طاہر ظفر عباسی ،ڈپٹی کمشنر قلعہ عبد اللہ شفقت شاہوانی، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) پشین امین اللہ، اسسٹنٹ کمشنر (ریونیو )کوئٹہ ثناء ماجبین، ایس پی سکیورٹی کوئٹہ نعیم اچکزئی کے علاوہ ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسرز، عالمی ادارہ صحت ،یونیسف، نیشنل پروگرام، این اسٹاف ودیگر متعلقہ اداروں کے ٓآفسران بھی موجود تھے۔ کمشنر کوئٹہ ڈویژن نے کہا کہ پولیو ایک خطرناک موذی مرض ہے اس کے خاتمے کے لئے معاشرے کی تمام اکائیوں اور اسکے تدارک کے سلسلے میں متعلقہ ادارے اپنی بھرپورکوششیں جاری رکھیں انہوں نے کہا کہ پولیوکے حوالے سے کوئٹہ بلاک انتہائی حساس ہے سرحدی علاقوں کی وجہ سے پولیو پر کنٹرول کرنا بے حد مشکل ہے کیونکہ روزانہ کی بنیاد پر ہزاروں کی تعداد میں ہمسایہ ملک سے لوگوں کی آمد و رفت ہوتی ہے اس سلسلے میں خصوصی اقدامات کر کے سرحدی علاقوں میں پولیو پلانے کیلئے فول پروف اقدامات اٹھائے جائیں تاکہ کوئی ایک بچہ بھی پولیو قطرے پئیں بغیر داخل نہ ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ 21جنوری سے شروع ہونے والی انسداد پولیو مہم کے لیے سخت ترین اقدامات کرتے ہوئے تمام بچوں تک پولیو کے حفاظتی قطروں کی رسائی کو ممکن بناتے ہوئے سرحدی اور دور دراز علاقوں پر خصوصی توجہ مرکوز کی جائے انہوں نے کہا کہ پولیو کے خاتمے کے سلسلے میں معاشرے کے فعال افراد، علماء کرام، اساتذہ اور سول سوسائٹی کو بھی متحرک کرنا چاہیے تاکہ دوران مہم کسی قسم کی مشکلات درپیش ہونے کی صورت میں ان کی مدد حاصل کی جاسکے انہوں نے کہا کہ حالیہ پولیو مہم کی سیکورٹی کیلئے سخت ترین انتظامات کیے گئے ہیں جس میں پولیس کے علاوہ دیگر متعلقہ ادارے سیکورٹی کے فرائض سرانجام دیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ انسداد پولیو مہم کو کامیاب بنانے کے لئے ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ ادارے مانیٹرنگ کے نظام کو موثر بناتے ہوئے ٹیموں کی نگرانی کریں۔کمشنرکوئٹہ ڈویژن نے با لخصوص کوئٹہ اور قلعہ عبداللہ میں پولیو کی صورتحال کے حوالے سے خصوصی توجہ دلاتے ہوئے کہا کہ حالیہ پولیو مہم میں بھرپور اقدامات اٹھاتے ہوئے اس کو احسن طریقے سے کامیاب بنائیں اورتمام آبادی تک پولیو کے قطروں کی ٖفراہمی کو یقینی بنایا جائے۔ اس موقع پر ڈاکٹر عبدالسمیع خان نے 21 جنوری سے شروع ہونے والی تین روزہ انسداد پو لیو مہم اور گزشتہ پولیو مہمات کے حوالے سے شرکاء کو بریفنگ بھی دی۔ 
()()()
خبر نامہ نمبر 177/2019
سبی17جنوری:۔ ڈپٹی کمشنر سبی سید زاہد شاہ نے کہا ہے آ ج خواتین کو بہت سارے مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جس میں عورتوں کو ان کے حقوق سے محروم رکھنا عورتوں کا تحفظ اور انکے مسائل حل کرنا اولین ترجیحات میں شامل ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے وومن ڈوپلیمنٹ کے منعقد کردہ جینڈر اکوالٹی کے سلسلے میں ایک تقریب سے کیا۔ تقریب میں ڈائریکٹر وومن ڈیولپمنٹ انعام الحق ہیڈ آف وومن ڈویلپمنٹ عائشہ ودود ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر عباس ملک ڈپٹی ڈائریکٹر زراعت ڈاکٹر فضل قریشی ڈپٹی ڈائریکٹر لائیوسٹاک جان محمد صافی ڈی ایچ او اکبر سولنگی سول سوسائٹی دیگر ضلعی و انتظامی آفسران سمیت میڈیاکے نمائندوں نے شرکت کی قبل ازیں ورکشاپ کے شرکاء ڈائریکٹر وومن ڈولپمنٹ انعام الحق ہیڈ آف وومن ڈیوپلیمنٹ عائشہ ودود نے جینڈر اکوالٹی کے حوالے سے صوبے میں کی جانے والی تحقیق اور عورتوں کو درپیش مسائل اور ان کے حل کے حوالے سے آگاہ کرتے ہوئے کہاکہ بلوچستان میں سبی وہ واحد شہر ہے جہاں خواتین کی ہر فورم پر نمائندگی نظر آتی ہے اس لیے ہم نے یہاں سے شروعات کی ہے اس موقع پر ڈپٹی کمشنر سید زاہد شاہ نے کہا کہ صوبے کی خواتین کو درپیش مسائل کے بارے میں جاری تحقیقی عمل سے یقیناًکسی نتیجہ خیز فیصلے پر پہنچ سکتے ہیں جس کے بعد صوبائی حکومت کو ڈویژنل ور ضلعی سطح پر خواتین کے مسائل کے حوالے سے پالیسیاں مرتب کرنے میں آسانی ہوگی۔
()()()
خبر نامہ نمبر 178/2019
سبی17جنوری:۔بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے زیر اہتمام قومی خوشحالی سروے کے سلسلے میں جرگہ ہال سبی میں ایک تقریب منعقد ہوئی تقریب کے مہمان خاص رکن قومی اسمبلی شاہ زین بگٹی تھے جس میں ڈپٹی کمشنر سبی سیدزاہدشاہ سول سوسائٹی دیگر ضلعی و انتظامی افسران نے شرکت کی بی آر ایس پی کے کو آرڈی نیشن آفیسر ابراھیم علی نے تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ درست معلومات اوراعدادوشمار ملکی ترقی میں بنیاد کا کام دیتے ہیں جن کی روشنی میں حکومت ملک کے مختلف علاقوں اور آبادی کے مختلف طبقات کے لیے سماجی اور ترقیاتی منصوبے تیار کرتی ہے اس ناگزیر قومی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے حکومت پاکستان نے بی ائی ایس پی کے تحت قومی و سماجی رجسٹری (این ایس آئی آر ) قائم کیا ہے جو جدید خطوط پر کام کرتے ہوئے ملک بھر کے تمام گھرانوں کے سماجی اور معاشی حالات کے بارے میں معلومات اور اعداد و شمار کا ڈیٹا بیس ترتیب دیتا ہے جن کی روشنی میں وہ صحت تعلیم بنیادی سہولیات وغیرہ سمیت مختلف سماجی و ترقیاتی سرگرمیوں کے لیے اپنے منصوبے تیار کرتے ہیں اس سروے میں تمام معلومات کمپیوٹرازڈ سسٹم کے ذریعے جمع کی جائیں گی مرحلہ وار پروگرام کے تحت سروے کے ذریعے پورے ملک کے ہر گھرانے ہر طبقے اور ہر علاقے کی معلومات حاصل کی جائیں گی اس کے علاوہ ایم این اے شاہ زین بگٹی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہر فورم پر ان کے ساتھ تعاون کیا جائے گا ہم اپنے ملک کو ترقی کے منازل طے کرتے ہوئے دیکھنا چاہتے ہیں۔
()()()
خبر نامہ نمبر 179/2019 
سبی 17 جنوری :۔اسسٹنٹ کمشنر سبی ممتاز مری نے کہا ہے کہ ملاوٹ شدہ، غیرمعیاری اشیاء اور صفائی وستھرائی کا خیال نہ رکھنے والوں کے خلاف کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی ان خیالات کا اظہار انہوں نے سبی شہر کے مختلف دکانوں کے اچانک دورے اور چھاپوں کے دوران بات چیت کرتے ہوئے کیا انہوں نے صفائی کا خیال نہ رکھنے والے مختلف دکانداروں پر جرمانہ بھی عائد کیا اور تاجربرادری کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ صفائی کا خاص خیال رکھیں کھانے پینے کی اشیا ڈھانپ کر رکھیں اور کچرا میونسپل کمیٹی کی جانب سے دیئے گئے کچرا دانوں میں ڈالیں اس ضمن میں کسی قسم کی کوتاہی یا غفلت کا مظاہرہ برداشت نہیں کی جائے گی انہوں نے کہا کہ عوام کسی بھی شکایت کی صورت میں مجھ سے براہ راست رابطہ کرسکتے ہیں۔
()()()

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Post comment