HomeNews16.03.2020 Monday (File No.2)

16.03.2020 Monday (File No.2)

16.03.2020 Monday (File No.2)

خبرنامہ نمبر1062/2020
کوئٹہ 16مارچ:۔ وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت کورونا وائرس سے نمٹنے اور اس حوالے سے نیشنل سیکیورٹی کمیٹی کے اجلاس کے فیصلوں پر عملدرآمد کے جائزہ اجلاس میں وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے بذریعہ وڈیو لنک شرکت کی، وزیراعلیٰ نے بلوچستان میں کورونا وائرس کی صورتحال، زائرین کے لئے تفتان اور کوئٹہ میں قائم قرنطینہ میں فراہم کی جانے والی سہولیات ، دیگر صوبوں سے تعلق رکھنے والے زائرین کی واپسی سے متعلق امور، صوبے میں صحت کے نظام اور کورونا وائرس کی تدارک کی احتیاطی تدابیر کے حوالے سے حکومتی اقدامات سے آگاہ کیا، وزیراعلیٰ کی تجویز پر تفتان میں موجود دیگر صوبوں سے تعلق رکھنے والے زائرین کو براہ راست ان کے صوبوں کوبھجوانے کا فیصلہ کیا گیاجہاں متعلقہ صوبے زائرین کو قرنطینہ میں رکھ کران کے ٹیسٹ کریں گے اور کل سے تفتان سے زائرین کی براہ راست ان کے صوبوں کو واپسی شروع کردی جائے گی، وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبائی حکومت تفتان اور کوئٹہ میں قرنطینہ کئے گئے زائرین کو صحت، خوراک، رہائش، پانی اور دیگر سہولتیں فراہم کررہی ہے ، تفتان میں اس وقت قرنطینہ کئے گئے تقریباً تین ہزار افراد میں زائرین اور ٹریڈرز بھی شامل ہیں، بلوچستان کے ایسے زائرین اور تاجروں کے ٹیسٹ کی ضرورت ہے جن میں کرونا وائرس کی بعض علامات موجود ہوسکتی ہیں، تاہم بلوچستان کے پاس ٹیسٹنگ کٹس اور وینٹیلیٹرز کی شدید قلت ہے لہٰذا وفاقی حکومت صوبے کو مزید کٹس اور وینٹیلیڑز فراہم کرے، وزیراعلیٰ نے ملک میں گندم کی وافر مقدار میں خریداری، یوٹیلیٹی اسٹورز میں اشیائے ضرورت کی دستیابی اور لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کے لئے بھرپور اقدامات کرنے کی تجویز بھی پیش کی تاکہ کسی بھی قسم کی ہنگامی صورتحال سے موثر طور پر نمٹنا ممکن ہوسکے اور معاشی سرگرمیاں بھی جاری رہ سکیں، اجلاس نے وزیراعلیٰ کی تجاویز سے اتفاق کیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر1063/2020
کوئٹہ 16مارچ:۔وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے کورونا وائرس سے موثر طور پر نمٹنے کے لئے جاری اقدامات کو مزید موثر بنانے، قرنطینہ کئے گئے زائرین کے ٹیسٹ کے عمل میں اضافے اور زائرین کو فراہم کی گئی سہولتوں کی مزید بہتری کی ہدایت کی ہے جبکہ انہوں نے کوئٹہ کے ہسپتالوں اور دیگر مناسب عمارتوں میں آئسولیشن مراکز کے قیام اور نجی ہسپتالوں کی معاونت کے حصول کی ہدایت بھی کی ہے، وزیراعلیٰ کورونا وائرس کی روک تھام سے متعلق امور کے جائزہ اجلاس کی صدارت کررہے تھے جس میں صوبائی وزراءمیر ضیاءلانگو، زمرک خان اچکزئی، میر ظہور بلیدی، ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ حافظ عبدالباسط، سیکریٹری صحت، ڈی جی پی ڈی ایم اے، کمشنر اور ڈپٹی کمشنر کوئٹہ نے شرکت کی، وزیراعلیٰ نے تفتان سے کوئٹہ تک مختلف مقامات پر چیک پوائنٹس قائم کرکے وہاں ضروری سہولیات کی فراہمی، سرحدوں سے غیرقانونی آمدورفت کی سختی سے حوصلہ شکنی اور ان میں ملوث اہلکاروں کے خلاف سخت کاروائی کرنے کی ہدایت کی ہے، وزیراعلیٰ نے تفتان او رکوئٹہ کے قرنطینہ میں تعینات افسروں اور اہلکاروں کے لئے حفاظتی ایس او پی کے اجراءکی ہدایت بھی کی ہے جبکہ انہوںنے تفتان ٹا¶ن، تفتان تا کوئٹہ روٹ اور کوئٹہ کے قرنطینہ میں امن وامان کی صورتحال برقرار رکھنے کے لئے خصوصی حفاظتی اقدامات کرنے کی ہدایت بھی کی ہے، سیکریٹری صحت، ڈی جی پی ڈی ایم اے اور کمشنر کوئٹہ کی جانب سے اجلاس کو کورونا وائرس سے متعلق امور اور حکومتی اقدامات کے حوالے سے بریفنگ دی گئی، اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ اس وقت تفتان میں تقریباً تین ہزار زائرین موجود ہیں جن میں بلوچستان سے تعلق رکھنے والے زائرین اور ٹریڈرز کی تعداد 413 ہے پی سی ایس آئی آر لیبارٹری میں سات دن قبل آئے زائرین کی تعداد 126 جبکہ گذشتہ تین روز کے دوران آئے زائرین کی تعداد 414ہے جنہیں علیحدہ علیحدہ رہائش دی گئی ہے، محکمہ صحت کے پاس کورونا ٹیسٹ کی استعداد پچاس ٹیسٹ روزانہ ہے اور تین سو کٹس دستیاب ہیں جن میں سے 160کٹس کو ٹیسٹ کے لئے استعمال کیا گیا ہے، اجلاس میں تفتان سے دیگر صوبوں کے زائرین کی براہ راست واپسی کے لئے ٹرانسپورٹ کی دستیابی کا بھی جائزہ لیا گیا، جبکہ کوئٹہ کے ہسپتالوں میں کورونا وائرس کے علاج اور ایمرجنسی کی صورتحال میں موجود سہولتوں کا جائزہ لیتے ہوئے محکمہ صحت کو ہنگامی بنیادوں پر سہولتوں کی دستیابی کے لئے اقدامات کی ہدایت کی گئی، اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ کورونا وائرس صوبے کے کسی ایک حلقے یا علاقے کا نہیں بلکہ پورے صوبے کا مسئلہ ہے جس سے موثر طور پر نمٹنا بحیثیت حکومت ہماری ذمہ داری ہے، صوبائی وزراءبھی عوام سے رابطے میں رہتے ہوئے انہیں احتیاطی تدابیر کے حوالے سے آگاہی فراہم کریں، یقینا یہ ایک مشکل وقت ہے جس سے نکلنے کے لئے حکومت اور کمیونٹی کو اپنا کردار ادا کرنا ہے، وزیراعلیٰ نے کہا کہ ماضی کی غلط پالیسیوں اور بدانتظامی سے محکمہ صحت کو تباہ کیا گیا جس کی بہتری کے لئے انقلابی تبدیلیوں کی ضرورت ہے، انہوں نے کہا کہ اگر محکمہ صحت کو دیئے گئے خطیر فنڈز بدعنوانی کی نظر نہ ہوتے تو آج ہمارے پاس ایسے ہسپتال موجود ہوتے جہاں کورونا وائرس اور دیگر وبائی امراض کی تشخیص اور علاج معالجہ کی بہترین سہولیات دستیاب ہوتیں، وزیراعلیٰ نے کہا کہ محکمے صحت میں مالی واخلاقی بدعنوانی میں ملوث عناصر کے خلاف کاروائی ہوگی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿

خبرنامہ نمبر1064/2020
کوئٹہ 16مارچ:۔وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے کہا ہے کہ احتیاطی تدابیر کے ذریعہ کورونا وائرس کے پھیلا¶ کو روکنا ممکن ہے، اگر عوام اور کمیونٹی کورونا وائرس سے بچا¶ کی احتیاطی تدابیر اپنالیں تو اسی سے نوے فیصد تک وائرس سے محفوظ رہنا ممکن ہوسکتا ہے، ہم بحیثیت ایک متحد قوم اس چیلنج سے نمٹنے میں کامیاب ہوسکتے ہیں، ان خیالات کا اظہار انہوں نے مجلس وحدت مسلمین کے ایک نمائندہ وفد سے بات چیت کرتے ہوئے کیا جس نے سابق صوبائی وزیر سید آغا رضا کی قیادت میں ان سے ملاقات کی،صوبائی وزراءمیر ظہور احمدبلیدی اور میر ضیاءلانگو بھی اس موقع پر موجود تھے، وزیراعلیٰ نے کہا کہ ہمیں اس وقت سماجی طور پر ذمہ داری اور سمجھ داری کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے، حکومت زائرین کو کورونا وائرس سے محفوظ رکھنے کے لئے تمام وسائل بروئے کار لارہی ہے اور ہمارے لئے ہر فرد کی صحت اور اس کی زندگی اہم ہے، وزیراعلیٰ نے کہا کہ کوئٹہ میں زائرین کو قرنطینہ کرنے کا مقصد انہیں 14دن تک زیرنگرانی رکھنا اور وائرس کی علامات کی صورت میں ان کا ٹیسٹ کرکے اس کے مطابق انہیں علاج کی سہولت فراہم کرنا ہے تاہم زائرین میں بے چینی پایا جانے ایک قدرتی امر ہے، انہوں نے وفد سے درخواست کی کہ وہ زائرین کو اطمینان دلائیں کہ یہ تمام اقدامات ان کے اور پورے صوبے کے عوام کے بہترین مفاد میں کئے جارہے ہیں، انہوںنے کہا کہ ہزارہ برادری بحیثیت قوم ایک منظم کمیونٹی ہے جس نے ہمیشہ ذمہ داری کا مظاہرہ کیا ہے، وزیراعلیٰ نے وفد پر ہزارہ کمیونٹی میں کورونا وائرس سے بچا¶ کی احتیاطی تدابیر کی آگاہی اجاگر کرنے پر بھی زور دیا۔ سابق صوبائی وزیر اور ان کے وفد کے اراکین نے زائرین کو کورونا وائرس سے محفوظ رکھنے کے اقدامات پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے اپنے بھرپور تعاون اور اس حوالے سے رضاکاروں کی خدمات فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر1065/2020
کوہلو 16مارچ :۔ ڈپٹی کمشنر عبداللہ خان کھوسہ نے گزشتہ روز ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال میں بچے کو پولیو کا قطرہ پلا کر ضلع میں تین روز پولیو مہم کا افتتاح کردیا ہے جس کے تحت ضلع میں29500سے زائدبچوں کو پولیو کے قطرے پلائے جائیں گے اس موقع پر گفتگو کرتے ڈپٹی کمشنر عبداللہ خان کھوسہ نے کہا ہے کہ پولیو ایک مہلک مرض ہے جس کے خلاف جنگ ناگزیر ہو چکا ہے یہ ایک وبائی مرض ہے جو اعصابی نظام پر حملہ آور ہوجاتا ہے اور ٹانگوں اور جسم کے دوسرے اعضاءکے پھٹوں میں کمزوری کی وجہ بن جاتا ہے جس سے بچے عمر بھر معذوری کا شکار ہوجاتے ہیں پولیو ایک لاعلاج بیماری ہے تاہم انسداد پولیو کے قطرے پینے سے اس پر قابو پایا جاسکتا ہے پولیو مہم کے دوران کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائیگی تاکہ کوئی بچہ حفاظتی قطروں سے محروم نہ رہ سکے انہوں نے مزید کہا کہ پولیو کا خاتمہ ہمارے صحت مند اور محفوظ مستقبل کےلئے ناگزیر ہے والدین سے گزارش ہے کہ وہ اپنے بچوں کو پولیو وائرس کے حفاظتی قطرے ضرور پلائیں ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم سب یکجا ہوکر پولیو کے خاتمے میں اپنا کردار ادا کریں اس موقع پر ایم ایس ڈاکٹر عطااللہ مری ،بابو ربنواز مری ،بابو اسحاق و دیگر موجود تھے ۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر1066/2020
کوئٹہ16مارچ :۔بلوچستان ہائی کورٹ کے ایک اعلامیہ کے مطابق حالیہ کرونا وائرس کے خطرات کے پیش نظر انصاف کی فراہمی کیلئے ججز حضرات اپنے فرائض کی انجام دہی کیلئے موجود رئینگے ۔تاہم عدالتیں فوری نوعیت کے مقد مات کی سماعت کرتی رہیں گی ۔سائلین اور وکلاءکے پیش نہ ہونے کی صورت میں مقد مات ملتوی کردئیے جائینگے ۔سائلین سے گذارش ہے کہ عدالت آنے کی زحمت نہ کریں اور اپنے وکلاءسے بذ ریعہ فون رابطہ میں رہیں ۔التواشدہ مقدمات کی فہرست متعلقہ احاطہ عدالت کے بیر ونی دروازے پر روز انہ بنیاد آویز اں کی جائے ۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿

Share With:
Rate This Article
No Comments

Leave A Comment