HomeNews15.09.2019 FILE NO-1

15.09.2019 FILE NO-1

15.09.2019 FILE NO-1

خبرنامہ نمبر 3054/2019
کوئٹہ 15ستمبر:۔گورنر بلوچستان امان اللہ خان یاسین زئی نے اتوار کے روز بولان یونیورسٹی آف میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنسز کے زیر اہتمام صوبہ بلو چستان کے میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالجز میں داخلے کیلئے انٹری ٹیسٹ(MD-CAT2019)کے حوالے سے امتحانی مراکز کا دورہ کیا اس موقع پر وائس چانسلر بولان یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر نقیب اللہ اچکزئی،وائس چانسلر بیوٹیمز انجئنیر احمد فاروق بازئی،پروائس چانسلر آئی ٹی یونیورسٹی ڈاکٹر فیصل کاکٹر بھی ہمراہ تھے۔اس موقع پر گورنر بلو چستان نے کہاکہ انٹر ی ٹیسٹ کا میرٹ پر انعقاد کرنے سے قابل اور مستحق طلباء وطالبات کو سامنے آنے کے مواقع میسر ہونگے جوآگے چل کر ملک وقوم کی ترقی وخوشحالی کیلئے اپنی پوشیدہ صلاحیتوں کو بروئے کار لائینگے۔گورنر بلو چستان نے میڈیکل اینڈڈینٹل کالجز میں داخلے کیلئے تمام ضروری انتظامات کرنے پر اطمینان کا اظہارکیا۔انہوں نے کہاکہ انٹری ٹیسٹ کے کامیاب انعقاد پر وائس چانسلر بولان یونیورسٹی اور ان کے پوری ٹیم کو مبارکباد دی اور منتظمین کی کاوشوں کو سراہا۔گورنر بلو چستان نے انٹری ٹیسٹ کے انعقاد کے حوالے سے تمام سیکیورٹی اداروں اور بالخصوس ڈی آئی جی عبدالرازق چیمہ اور ان کی ٹیم کی کاوشوں کو بھی لائق تحسین قرار دیا۔
خبرنامہ نمبر 3055/2019
کوئٹہ 15ستمبر:۔ صوبائی مشیر وزیر اعلیٰ برائے لائیوسٹاک مٹھا خان کاکڑ نے کہا ہے کہ تعلیم کے بغیر کوئی بھی ملک معاشرہ یا قوم ترقی نہیں کر سکتا اچھی اور معیاری تعلیم کے بغیر ہم مستقبل کے چیلینجوں کا سامنا نہیں کرسکتے حکومت صوبے میں اچھی اور معیاری تعلیم کے فروغ کے لئے ٹھوس اور جامع اقدامات کررہی ہے جس کے دور میں نتائج نکلیں گے اس وجہ سے میری پہلی ترجیح تعلیم کی طرف ہیان خیالات کا اظہار انہوں نے اساتذہ کے مختلف وفود سے گفتگو کرتے ہوئے کیاصوبائی مشیر لائیو سٹاک نے کہا کہ صوبائی حکومت پورے صوبے میں محکمہ تعلیم اسکولز اساتذہ اور طلبہ کو درپیش مسائل کو حل کرنے کے لئے عملی اقدامات کررہی ہے میں نے عہد کر رکھا ہے کہ ضلع ژوب میں تعلیمی انقلاب لا ینگے تاکہ ضلع کے تمام بچے تعلیم یافتہ ہو جائے انہوں نے کہا کہ مرحلہ وار ضلع کے اندر تمام پرائمری سے لیکر ہائی اسکولوں کو بنیادی سہولیات جس میں پانی بجلی چار دیواری اور واش رومز کی سہولیات فراہم کررہے ہیں اس وقت بھی سینکڑوں اسکولوں کے اندر نئے واش رومز بنائے جارہے ہیں اور خستہ حال سکولوں کی تعمیر و مرمت کا کام بھی جاری ہے جبکہ کلسٹر سطح پر طلبہ کو ریڈنگ رائٹنگ میڑیل جس میں مفت کتابیں چارٹ پنسل تختیاں سلیٹ قلم اور دیگر سامان فراہم کیئے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں استادوں کے غفلت اور غیر حاضری کبھی بھی برداشت نہیں کرونگا انھوں نے کہا کہ ایک قوم اس وقت ترقی کریگا جب ان کے بچوں کو معیاری تعلیم فراہم کر دیے جارہے ہیں ہم اس میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے ہیں اور ان کے تمام ضروریات پوری کریں گے۔
خبرنامہ نمبر 3056/2019
زیارت 15ستمبر:۔نوجوان معیاری تعلیم کے ساتھ کھیلوں میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیں اور ملک اور قوم کا نام روشن کریں ہم نوجوانوں کی ہر فورم پر حوصلہ افزائی کریں گے،کھیلوں کو فروغ دینا ہم سب کی ذمہ داری ہے،بلوچستان کے کھیلاڑیوں میں ٹیلنٹ کی کمی نہیں ان کی ٹیلنٹ کو ابھارنے کی ضرورت ہے ان خیالات کا اظہار صوبائی وزیر پی ایچ ای،واسا حاجی نورمحمد دمڑ نے زندرہ زیارت میں چھٹا آل پاکستان شوٹنگ بال ٹورنامنٹ کے فائنل کے اختتام پر کیا،فائنل میچ الفرید کلب ساہیوال اور العثمان کلب لاہور کے درمیان کھیلا گیا جو کہ العثمان کلب لاہور نے جیت لیا اس موقع پر ڈی پی او محمد علی کاسی،حبیب اللہ پانیزئی،حاجی خان محمد دمڑ،میجرمحمدزمان پانیزئی،مومن شاہ دمڑ،حمید اللہ پانیزئی،سعدا للہ دوتانی،احسان اللہ سارنگزئی،حاجی جانان دمڑ،سید محمد موجود تھے ۔صوبائی وزیر حاجی نور محمد دمڑ نے خطاب کرتے ہوئے کہا حکومت کھیلوں کے فروغ کے لیے بھرپور اقدامات کررہی ہے،کھیل انسانی زندگی کے لیے بہت ضروری ہے،جہاں کھیلوں کے میدان آباد ہوتے ہیں وہاں ہسپتال ویران ہوتے ہیں،صحت مند معاشرے کا قیام وقت کی اہم ضروت ہے،کھیلوں کی میدانوں کو آباد کرکے نوجوانوں کے مستقبل کو روشن کریں گے۔صوبائی وزیر حاجی نور محمد دمڑ نے ٹورنامٹ کمیٹی کے لیے پانچ لاکھ روپے دینے کا اعلان کیااور کھیلاڑیوں میں انعامات بھی تقسیم کئے۔
خبرنامہ نمبر 3057/2019
خضدار15 ستمبر:۔چیف سیکریٹری بلوچستان کیپٹن ریٹائرڈ فضیل اصغر نے کہا ہے کہ اعلی تعلیمی اداروں کے قیام سے ہماری بہتر مستقبل وابستہ ہے ان اداروں کی معیاری تعمیر اور مقررہ وقت پر تکمیل کو ہر صورت یقینی بنایا جائے،ایسی ترقیاتی منصوبے تشکیل دیں جن کی تکمیل سے عوام الناس کو زیادہ سے زیادہ فوائد حاصل ہوں ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز دورہ خضدار کے موقع پر مختلف منصوبوں جن میں شہید سکندر زہری یونیورسٹی خضدار،ریجنل ٹریننگ سینٹر لیویز خضدار،ٹراما سینٹر خضدار،ڈیجیٹل لائبریری،اور کمشنرکمپلیکس کے معائنے کے موقع پر کیا اس موقع پر کمشنر قلات ڈویژن حافظ طاہر کے علاوہ ڈپٹی کمشنر خضدار ریٹائرڈ میجر محمد الیاس کبزئی،ڈپٹی انسپیکٹر جنرل پولیس قلات رینج خضدار آغا محمد یوسف،پراجیکٹ ڈائریکٹر سکندر شہید یونیورسٹی کے پراجیکٹ ڈائریکٹر رحمت اللہ زہری،لیاقت موسیانی نے منصوبوں سے متعلق بریفنگ دی،چیف سیکریٹری بلوچستان نے اس موقع پر کہا کہ تمام منصوبے قومی اہمیت کے منصوبے ہیں ان منصوبوں کی بروقت اور معیاری تکمیل کو یقینی بنانے کے لیئے متعلقہ محکموں کے ذمہ داران اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے سرانجام دیں پراجیکٹ ڈائریکٹر سکندر یونیورسٹی رحمت اللہ زہری نے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ اس منصوبے پر اب تک دو ارب چراسی کروڑ روپے کی لاگت سے ایڈ منسٹریشن بلاک،اکیڈمک بلاک،بوائز اور گرلز ہاسٹل،آفیسرز اور اکیڈمک اسٹاف کے لیئے رہائشی بنگلوز تکمیل کے مراحل میں ہیں ریجنل لیویز ٹریننگ سینٹر خضدار میں جاری ترقیاتی اسکیموں کے حوالے چیف سیکریٹری کو بتایا گیا کہ یہاں صوبے کے مختلف علاقوں سے لیوز کے جوان تربیت حاصل کرنے آتے ہیں اس سینٹر کو جدید تربیت گاہ بنانے کے لیئے ہر ممکن اقدامات کیئے جا رہے ہیں بعد ازاں چیف سیکریٹری نے زیر تعمیر خضدار ٹراما سینٹر کا بھی معائنہ کیا جہاں پر ڈپٹی کمشنر خضدا ر میجر محمد الیاس کبزئی نے ٹراما سینٹر کے سلسلے میں بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ اب تک ٹراما سینٹر کی تعمیر پر اب تک ایک کروڑ بیس لاکھ روپے سے زائد کی لاگت آئی ہے اور یہ منصوبہ تکمیل کے آخری مراحل میں ہے انہوں نے زیر تعمیر ڈیجیٹل لائبریری اور کمشنر کمپلیکس میں جاری ترقیاتی اسکیموں کا بھی معائنہ کیا انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ ان اسکیموں کو معیاری اور بروقت تکمیل کو یقینی بنانے کے لیئے ہر ممکن اقدامات کئے جائیں بعدازاں کمشنر قلات ڈویژن حافظ طاہر نے چیف سیکریٹری بلوچستان کو قلات ڈویژن کی مجموعی امن و امان اور ترقیاتی اسکیموں کے باری میں بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت وزیر اعلی ترقیاتی پیکج اور پی ایس ڈی کے تحت تعلیم،آبنوشی،آبپاشی،مواصلات،صحت اور دیگر شعبوں میں مختلف اسکیموں پر کام تیزی سے جاری ہیں انہوں نے مزید کہا کہ قلات ڈویژن میں بے شمار سیاحتی مقامات ہیں اگر حکومت وسائل فراہم کرے تو ان سیاحتی مقامات کو مزید بہتر بناکر اندرون صوبہ اور ملکی سطح پر متعارف کیا جا سکتا ہے اجلاس میں شریک مختلف اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز نے اپنے اپنے اضلاع میں درپیش مسائل سے چیف سیکریٹری کو آگاہ کیا جس پر چیف سیکریٹری نے انہیں یقین دلایا کہ ان کے مسائل حل کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جائیگی.
خبرنامہ نمبر 3058/2019
کوئٹہ 15ستمبر:ہلیتھ ڈپارٹمنٹ کے ایک اعلامیہ میں بتایا گیا ہے کہ وزیر اعلی بلوچستان کی خصوصی ہدایت پر وزیر اعلی ٹاسک فورس اپنی کاروائیاں تیز کریگی اور ایسے تمام پرا ئیویٹ ہسپتالوں کے خلاف کاروائی کی جائیگی جھاں لائیسنس یافتہ فارماسسٹ اپوائنٹ نہی ھونگے۔ اسکے علاوہ ان سرکاری فارماسسٹ کے خلاف بھی تادیبی کاروائی عمل میں لائی جائیگی جنھوں نے خلاف قانون فارماسسٹ کے لائیسنس حاصل کرلیے ہیں اور فارمیسیز چلا رہے ہیں۔ مزید برآں ہیلتھ ڈپارٹمنٹ نے بتایا ہے کہ فارماسسٹ کی خالی آسامیوں کوجلد پر کرنے کیلئے بلوچستان پبلک سروس کمیشن کو مراسلہ ارسال کیا جا رہا ہے۔ یاد رہے امسال فارماسسٹ کی 34 آسامیوں کمیشن سے بھرتی کی بھی ہیں۔ جبکہ مزید 30 سے زیادہ آسامیاں بہت جلد فائیننس ڈپارٹمنٹ کی منظوری کے بعد کمیشن کو بھیج دی جائینگی۔

خبرنامہ نمبر 3059/2019
کوئٹہ 15ستمبر:۔عدالت عالیہ کے اعلامیہ کے مطابق چیف جسٹس محترمہ جسٹس سیدہ طاہرہ صفدر نے ہائی کو رٹ میں اپنے الوادعی اعشائیہ میں ہائی کورٹ کے جج صاحبان و دیگر ڈسٹرکٹ جوڈیشری کے جج صاحبان سے خطاب میں مہمانوں کے آنے کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک الوداعی ملاقات ہے۔ وہ سفر جو سالوں پر مُحیط ہے اب ختم ہونے کے قریب ہے۔ یادوں کا ایک ہجوم ہے جو یقیناً خوشگوار ہے۔ آپ،جو کے ابھی جوانی کے دور میں محوِسفر ہو،کو اس گزرے ہوئے کل سے کم ہی دلچسپی ہوگی لیکن ایک مہموم سی خواہش ہے کہ اپنے تجربات سے جو کچھ حاصل ہوا اس کا کچھ حصہ آپ کو منتقل کیا جائے،کیونکہ عقلمندی اسی میں ہے کہ دوسروں کے تجربات سے نہ صرف فائدہ اٹھایا جائے بلکہ ان کی بنیاد پراپنی راہ کا بہتر طور پر تعین کیا جائے۔1982 میں جب یہ سفر شروع ہوا تو حالات اتنے بہتر نہ تھے جتنا کہ اب ہیں۔ 37 سال پیچھے ماضی کے دریچوں میں جھانکیں تو یاداشت میں اب بھی وہ چھوٹا سا کمرہ ہے جو ہر طرح کی سہولت سے مبرا تھا۔ نہ chamber نہ دیگر سہولیات، اور نہ آنے جانے کے لیے گاڑی۔ ان سب پہ سوا stenographer کی سہولت بھی نہ تھی۔ گواہوں کے بیانات کو قلمبند کرنے، order sheetکے لکھنے سے لیکرFinal Judgment بھی اپنی تحریر میں ہاتھ سے لکھنا، موجودہ وقت میں computer اور اس سے منسلک سہولیات کی موجودگی میں ناقابلِ یقین محسوس ہوتا ہے۔ مقدمات کی تعداد ہزار کو چھوتی ہوئی اگر موجودہ وقت میں مقدمات کی تعداد فی عدالت سے موازنہ کیا جائے تو ناقابل ِیقین حد تک دشوار محسوس ہوتا ہے کہ وہ کون سی طاقت تھی جس کے بَل پر تمام کام نہ صرف انجام دیا جاتا تھا بلکہ نتیجہ بھی اطمینان بخش ہوتا تھا۔ یقیناً یہ اللہ ہی کی مدد ہے جو نیک نیتی سے اپنے فرائض سرانجام دینے پر ملتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جس راہ پر ہم اور آپ گامزن ہیں وہ صرف ہمیں روزی فراہم کرنے کا ذریعہ نہیں اس کے اصل مقاصد اور غرض و غایت کو سمجھنا بہت ضروری ہے۔ وہ کام جو آپ کررہے ہیں اگر اس کو خُدا کی خشنودی اور عبادت کے طور پر کیا جائے تو یہ بڑے سے بڑے گناہ کا کفارہ بن جاتا ہے۔ اللہ عدل و احسان کا حکم دیتا ہے اور یہی انصاف کرنا تقویٰ کے قریب تر کر دیتا ہے۔ لہذا یہ عہدہ چاہے سول جج یا جوڈیشل مجسٹریٹ کے ابتدائی درجہ کا ہو یا چیف جسٹس کے انتہائی درجہ کا اسکو برتنے کے اصول ایک ہی ہیں۔ دولت اور جاہ و حشم کے حصول کی چاہ اصل مقصد کو دھندلا دیتا ہے۔ لہذا ن سے اجتناب میں ہی عافیت ہے۔ اس دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ اور یہ بات یقیناً یاد رکھنے کے لیے ہے کہ ”وہ نامِ نیک جسے خدا لوگوں میں جاری رکھتا ہے اس مال و دولت سے کہیں بہتر ہے جسے وہ بطور ترکہ اور میراث کے لوگوں میں چھوڑجائے گا۔دانائی کا یہ اصول کہ ”امیدوں کی کمی، نعمت پر خدا کا شکر، محارم سے اجتناب، بس یہی زہد ہے۔” اگر ذہن میں رہے تو راہ سے بھٹکنے کے مواقع کم ہوجاتے ہیں۔اور یہ اصول کہ” صبر کو اپنا شعار بنا لو کیونکہ فتح و نصرت کا بھی یہی سب سے بڑا وسیلہ ہے” صراطِ مستقیم سے ہٹنے نہیں دیتا ہے۔ گزرے ہوئے وقت کی بات ہوچکی اب حال میں پلٹ آئیے۔ وقت ابھی آپ کی مٹھی میں ہے۔ اسکو ضائع نہ ہونے دیجئے۔ جس تندہی سے آپ کام کر رہے ہیں اسکی تعریف نہ کرنا زیادتی ہوگی۔ لیکن اپنی کارگردگی میں بہتری لانے کا جذبہ اگر ماند پڑ جائے تو تمام محنت ضائع ہو جاتی ہے۔ لہٰذا آگے بڑھنے، بہتر طور پر کام کرنے اور علم کے حصول کے جذبے کو مصروفیات کی دھول میں گم نہ ہونے دیں۔اپنی محنت جاری رکھے روشن مستقبل کہیں دور نہیں۔ آپ کے بہتر اور درخشندہ مستقبل کے لیے ڈھیروں دعائیں۔ زندگی ر ہی تو یقیناً یہ آنکھیں آپ کو اعلیٰ مقام پر مزید بہتر صلاحیتوں کے ساتھ دیکھیں گی۔
خبرنامہ نمبر 3060/2019
لسبیلہ15ستمبر:۔چیف سیکریٹری بلوچستان کیپٹن ریٹائرڈ فضیل اصغرنے کہا ہے کہ بہت جلد لسبیلہ میں نیا انڈسٹریل زون قائم اور صنعت کار یہاں کا رخ کرینگے حکومت بلوچستان صنعتی شعبے کی ترقی کو اولین ترجیح دے رہی ہے ان خیالات کا اظہار انھوں نے حب بائی پاس پراجیکٹ دورے کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کیا انھوں نے کہا کہ جہاں اکنامک زون قائم ہوتی ہیں وہاں معاشی ترقی کا نیا دور شروع ہوتا ہے اور لوگوں کے لئے روزگار کے مواقع پیدا ہوتے ہیں محکمہ سی اینڈ ڈبلیو کے ایکسئن بہرام گچکی نے چیف سیکریٹری کو بریفنگ میں بتایا کہ حب بائی پاس منصوبہ گیارہ کلومیٹر پر مشتمل ہے پی ایس ڈی پی 2016-17 میں 643.099ملین لاگت کے منصوبے کی منظوری دی گئی اور اس منصوبے پر 355ملین کی لاگت سے 60فیصد کام مکمل ہو چکا ہے حکومت بلوچستان نے رواں مالی سال کے دوران منصوبے کیلئے مطلوبہ287ملین فنڈز کی منظوری دیدی ہے اپریل 2020 کو منصوبہ پایہ تکمیل کو پہنچ جائیگا،اس موقع پر کمشنر قلات ڈویژن حافظ طاہر کاکڑ ڈپٹی کمشنر لسبیلہ شبیر مینگل اے سی حب مہر اللہ بادینی اے ڈی سی جنرل فرحان سلیمان رونجہ اور اے ڈی سی ریونیو بھی موجود تھے چیف سیکریٹری بلوچستان کو بتایا گیا کہ منصوبہ سندھ اور بلوچستان کی سرحدی پٹی کو ملانے والا اہم پراجیکٹ ہے اور اس پراجیکٹ سے انڈسٹریل ٹریفک کو روٹ مل جانے کی بدولت صنعتی شہر حب میں ٹریفک جام کا مسئلہ ہمیشہ کیلئے حل ہوجائیگا ایکسئن سی اینڈ ڈبلیو نے چیف سیکریٹری کی توجہ پراجیکٹ کے سندھ ایریا میں واقع چار کلومیٹر روڈ کی جانب مبذول کرائی تو چیف سیکریٹری نے کہا کہ وہ فوری طورپر چیف سیکریٹری سندھ سے رابطہ قائم کرکے منصوبے کی فوری تکمیل کو یقینی بنائیں گے چیف سیکریٹری نے کہا کہ حب بائی پاس منصوبہ نہ صرف یہاں کی انڈسٹریل زون کی ضرورت ہے بلکہ ترقی کی راہ پر گامزن صنعتی شہر حب کے عوام کیلئے جمہوری حکومت کا تحفہ ہے انھوں نے کہا کہ چمن سے کراچی تک دورویہ روڈ کے تعمیر کیلئے فیزیبلٹی رپورٹ تکمیل کے مراحل میں ہے رواں سال کے آخر تک اس منصوبے کی باقاعدہ منظوری دی جائیگی، چیف سیکریٹری بلوچستان نے حب بائی پاس پراجیکٹ کے کنٹریکٹر سے بھی ملاقات کی اور انھیں ہدایات جاری کیں کہ منصوبے کی بروقت تکمیل کو یقینی بنایا جائے۔
خبرنامہ نمبر 3061/2019
لسبیلہ15ستمبر:۔چیف سیکریٹری بلوچستان ایک روزہ دورے پر لسبیلہ پہنچے لیڈا ہیلی پیڈ پر ڈپٹی کمشنر لسبیلہ شبیر احمد مینگل اے سی حب کیپٹن مہراللہ بادینی اے ڈی سی جنرل اوراے ڈی سی ریونیو نے انکا استقبال کیا، چیف سیکریٹری بلوچستان کے دورہ لسبیلہ کے موقع پر لسبیلہ انتظامیہ کی جانب سے سیکیورٹی کے بہترین انتظامات کئے گئے چیف سیکیورٹی بلوچستان نے دورہ لسبیلہ کو حوصلہ افزاء قرار دیتے ہوئے ااس امید کا اظہار کیا کہ انکے دورے سے یہاں جاری ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل کیساتھ یہاں کے لوگوں کے بنیادی مسائل کے حل میں معاون ثابت ہوگاچیف سیکریٹری نے کمشنر قلات ڈویژن اور ڈپٹی کمشنرلسبیلہ کے ہمراہ پچا س بیڈ کے گورنمنٹ جام غلام قادر ہسپتال حب کا دورہ اور مختلف شعبوں کا معائنہ کیا، چیف سیکریٹری کو صنعتی شہر حب کے ہسپتال میں ادویات کی کمی اور کے الیکٹرک کے واجبات سے متعلق بھی آگاہ کیا،ڈی سی نے جام غلام قادر ہسپتال میں پانی کی ایشوز کو حل کرنے کیلئے ٹینکرز کے ذریعے پانی کی فراہمی اور اٹھائے گئے دیگراقدامات کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی ، چیف سیکریٹری بلوچستان نے دورہ حب کے موقع پر ڈی سی لسبیلہ کو احکامات جاری کیں کہ گورنمنٹ جام غلام قادر ہسپتال حب میں بائیو میٹرک مشین کی فوری تنصیب یقینی بنائی جائے تاکہ میڈیکل افسران کی جائے تعیناتی پر حاضری سے متعلق کمپیوٹرائزڈ ریکارڈ میسر ہو۔

برنامہ نمبر 3062/2019
لسبیلہ15ستمبر:۔چیف سیکریٹری بلوچستان کیپٹن ریٹائرڈ فضیل اصغر کے زیر صدارت لیڈا کانفرنس روم میں اہم اجلاس منعقد ہوا، جائزہ اجلاس میں لسبیلہ میں جاری ترقیاتی منصوبوں پر پیشرفت سے متعلق کمشنر قلات ڈویژن حافظ محمد طاہر کاکڑ اور ڈی سی لسبیلہ شبیر احمد مینگل نے چیف سیکریٹری کو بریفنگ دی،،بریفنگ میں چیف سیکریٹری کوبتایا گیا کہ لسبیلہ میں چار ڈیمزپر کام جاری ہے ترقیاتی منصوبوں کی باقاعدگی سے مانیٹرنگ اور بروقت تکمیل کو یقینی بنایا جارہاہے، حب ڈیم سے لسبیلہ کینال کو پانی کی فراہمی سے متعلق بریفنگ میں چیف سیکریٹری کو بتایاگیاحب ڈیم کی تعمیر کے وقت یہاں کی شہری آبادی اور زرعی مقاصد کے لئے پانی کا جو کوٹہ مقرر کیا گیا اس پر نظر ثانی کی ضرورت ہے ڈی سی لسبیلہ نے کہا کہ حب ڈیم کا نوے فیصد کیچمنٹ ایریا لسبیلہ میں واقع ہے لیکن بلوچستان کے پانی کا شیئر 37فیصد اور سندھ کا 63فیصدفراہمی آب کا فارمولہ مقرر ہے لسبیلہ میں صنعتی زرعی اور شہری آبادی کی ضروریات کے مطابق حب ڈیم سے پانی کی فراہمی کے فارمولے پر فوری نظر ثانی کی ضرورت ہے ایریگیشن افسران نے چیف سیکریٹری کو بتایا کہ حب ڈیم کی تعمیر کے بعد سندھ حکومت نے صنعتی شہر حب کو k3منصوبے کے تحت منگوپیر سے یومیہ پانچ ملین گیلن پانی کی فراہمی کا منصوبہ شروع کیا، 41کلومیٹر پر مشتمل پائپ لائنیں بچھائی گئیں لیکن آج تک پانی کی ایک بوند بھی حب کے شہریوں کو فراہم نہیں کیا گیا سندھ حکومت نے کے فور منصوبہ آپریشنل کیا، ایکسئن ایریگیشن نے چیف سیکریٹری کی توجہ کے تھری منصوبے کو آپریشنل کرنے کی جانب مبذول کرائی چیف سیکریٹری نے کہا کہ پانی کی منصفانہ بنیادوں پر تقسیم اور کے تھری منصوبے کو آپریشن کرنے کیلئے سندھ حکومت سے فوری رابطہ کیا جائیگا،، ڈی سی لسبیلہ نے سیاحت کے فروغ کیلئے ٹوورزم ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے کنڈملیر کے مقام پر گیسٹ ہاؤس کی تعمیر اور لسبیلہ کے سیاحتی مقامات کے متعلق بھی چیف سیکریٹری کو آگاہ کیا،اجلا س میں چیئرمین بی ڈی اے میجر ریٹائرڈ اکبر لاشاری نے بریفنگ میں چیف سیکریٹری کو بتایا کہ وفاقی حکومت کے فنڈز سے گزشتہ ادوار میں بی ڈی نے تین آر او پلانٹ جیوانی، پسنی اور گڈانی کے منصوبوں پر کام کیا،گڈانی اور جیوانی کے منصوبے مکمل ہوچکے جبکہ پسنی کا آراو پلانٹ آئندہ ہفتے آپریشنل ہوگا، انھوں نے بتایا کہ آراوپلانٹ گڈانی کوصنعتکاروں کے تعاون سے آپریشنل کیا جائیگا کیونکہ اسکی آمدن سے مینٹی ننس کے اخراجات ذیادہ ہوتے ہیں انھوں نے بریفنگ میں بتایا کہ بی ڈی اے روڈ منرل سیکٹر میں بھی کام کررہی ہے ژوب ڈیرہ اسماعیل خان روڈ منصوبے پر تیزی سے کام جاری ہے یم ڈی لیڈا محمد اسلم ترین نے صنعتی ترقی کے نئے منصوبوں میں سرپلس ملازمین کی رائٹ سائزنگ،سونمیانی میں کشتی سازی کی صنعت کے قیام کے لئے اراضی کی الاٹمنٹ،اور انڈسٹریل زون کے مین شاہراہ کی تعمیر اتی منصوبے کی ریوائز ڈ پی سی ون سے متعلق چیف سیکریٹری کو بریفنگ دی اور بتایا کہ حالیہ بارشوں سے لیڈا کے سڑکوں کو نقصان پہنچا ہے ایم ڈی لیڈا نے بتایا کہ لیڈا کے انجینئرز نے مین شاہراہ کے دونوں اطراف انڈسٹریل ویسٹ اور نکاسی آب کے لئے نالے کی تعمیر اتی منصوبے کا ڈیزائن کنسلٹنٹ سے تیار کروایا ہے چیف سیکریٹری نے فوری طورپر کنسلٹنٹ کو طلب کرکے پی سی ون کے بارے میں بریفنگ لی اور کہا چائنا کے کسی بھی انڈسٹریل اسٹیٹ کی ڈیولپمنٹ اور انجینئرنگ سیکشن کا موازنہ کیا جائے پراجیکٹ میں نکاسی آب اور انڈسٹریل ویسٹ کیلئے نالوں کی تعمیر کو اوپن نہیں کیا جاسکتا ہے چیف سیکریٹری نے کہا کہ اسلام آباد میں بھی برسات ہوتی ہے لیکن سڑکوں پر پانی جمع نہیں ہوتا،، لیڈا کے مین شاہراہ کی تعمیراتی منصوبے کی کنسلٹنسی میں درستگی کیلئے فوری اقدامات کی ضرورت ہے چیف سیکریٹری نے ہدایات جاری کیں کہ لیڈا کے انفراسٹرکچر سسٹم کی درستگی کیلئے جاری شدہ فنڈز کے درست استعمال کویقینی بنانے اور نئے منصوبوں کی فیزیبلٹی سمیت ادارے کے اخراجات اور آمدن سے متعلق سیکریٹری انڈسٹریز سے رپورٹ طلب کی جائیگی،میں گیس پریشر کی کمی ادارے کو درپیش مالی مشکلات اور ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی کیلئے بیل آؤٹ پیکیج سے متعلق چیف سیکریٹری کی توجہ مبذول کرائی،،چیف سیکریٹری نے احکامات جاری کیں کہ لیڈا کے انفراسٹرکچر سسٹم کی درستگی کیلئے جاری شدہ فنڈز کے درست استعمال کویقینی بنانے اور نئے منصوبوں کی فیزیبلٹی سمیت ادارے کے اخراجات اور آمدن سے متعلق سیکریٹری انڈسٹریز سے رپورٹ طلب کی جائیگی۔
پریس ریلیز
کوئٹہ 15ستمبر:۔مرحوم چوہدری محمد رعمر شاہوانی،محمد عالم شاہوانی کی والدہ محمد عامر شاہوانی، محمد سمیر شاہوانی،زبیر شاہوانی، وقار شاہوانی اور کامران شاہوانی کی دادی گذشتہ شب انتقال کر گی مرحومہ کی ایصال ژوب کیلئے فاتحہ خوانی کیچی بیگ چکول میاں خان شاہوانی میں جاری ہے۔
پریس ریلیز
کوئٹہ 15ستمبر:۔حاجی محمد صدیق درانی بقضائے الٰہی وفات پاگئے وہ محمد نسیم اور محمد وسیم کے والد اورخالد خان کاسی اور انفارمیشن ڈپارٹمنٹ کے اسٹنٹ ڈائریکڑ وقاص شاہین،قائم خان سنزر خیل کے سسر تھے۔فاتحہ خوانی اویس کالونی کلی اسماعیل میں جاری ہے سوئم بروز منگل بعد ازظہر ہوگی۔

Share With:
Rate This Article
Author

dgprquettabalochistan@gmail.com

No Comments

Leave A Comment