خبرنامہ نمبر3379/2018
کوئٹہ 13دسمبر :۔وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے کہا ہے کہ تعلیمی شعبہ میں انحطاط حکومت اور معاشرے کے لئے ایک بڑا چیلنج ہے جس سے نمٹنے کے لئے حکومت پوری طر ح پرعزم ہے معاشرے کے بااثر حلقوں اور نوجوانوں کو بھی تعلیمی شعبہ کی بہتری کے اقدامات میں اپنا حصہ ڈالنا ہوگا۔ ان خیالات اظہار انہوں نے گذشتہ روز کوئٹہ انسٹیٹیو آف میڈیکل سائنسز کے طلباء اور طالبات میں بلوچستان ایجوکیشن انڈومنٹ فنڈ کے تحت تعلیمی وظائف تقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا، رکن صوبائی اسمبلی مبین خان خلجی، سیکریٹری کالجز عبدالصبور کاکڑ، کوئٹہ انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کے کمانڈنٹ بریگیڈیئر محمد اکبر اور دیگر متعلقہ حکام بھی اس موقع پر موجود تھے، وزیراعلیٰ نے کہا کہ سماجی شعبہ بالخصوص تعلیم کے معیار کی بہتری بے شک حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے ،حکومت اپنی اس ذمہ داری سے صحیح معنوں میں عہدہ برا بھی ہورہی ہے اور تعلیمی معیار کی بہتری کے لئے اصلاحات لائی جارہی ہیں جن کے خاطر خواہ نتائج برآمد ہوں گے، ہمارے پاس ترقی کرنے کا واحد راستہ تعلیم کا ہے، ہمارے نوجوان بہتر تعلیم حاصل کرکے ہی صوبے اور ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرسکتے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبے کے طلباء کی خوش قسمتی ہے کہ آج انہیں تعلیمی حصول کا بہتر ماحول اور وظائف کی صورت میں معاونت حاصل ہے جس سے وہ اپنا تعلیمی سلسلہ جاری رکھ سکتے ہیں، وزیراعلیٰ نے کہا کہ ماضی میں صوبے میں تعلیمی معیار بہت بہتر تھا ہمارے پاس قابل اساتذہ موجود تھے جو تعلیم کی فراہمی کو مقدس فریضہ سمجھتے تھے تاہم ناقص پالیسیوں کے باعث بتدریج تعلیمی شعبہ پسماندگی کا شکار ہوتا چلا گیا، انہوں نے کہا کہ اب وہ تعلیمی ادارے بہتر مقام حاصل کریں گے جن کی کارکردگی نمایاں ہوگی، وزیراعلیٰ نے طلباء پر زور دیا کہ وہ تعلیم کے حصول کے مواقعوں سے بھرپور استفادہ کریں، انہیں چاہئے کہ وہ روشن پاکستان کی طرف دیکھیں،پروفیشنل اداروں کے طلباء عملی اور پیشہ ورانہ زندگی میں داخل ہورہے ہیں جہاں مقابلے کا رحجان زیادہ ہے، لہٰذا وہ وقت ضائع کئے بغیر اپنی صلاحیتوں کو بہتر بنائیں، وزیراعلیٰ نے طلباء سے کہا کہ وہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ذریعہ جدید ریسرچ تک رسائی پیدا کریں،وزیراعلیٰ نے بیف کو شعبہ تعلیم کی بہتری کی جانب اہم پیشرفت قراردیتے ہوئے کہا کہ حکومت اس پروگرام کی افادیت میں اضافہ کے لئے مزید اقدامات کرے گی تاکہ تحصیل سطح تک ہونہار طلباء اس سے استفادہ کرسکیں، قبل ازیں بلوچستان ایجوکیشن انڈومنٹ فنڈ کے منیجر ڈاکٹر مسعود جعفر نے اپنے ادارے کی کارکردگی اور وظائف کے اجراء کے طریقہ کار حوالے سے تفصیلات سے آگاہ کیا، بعدازاں وزیراعلیٰ نے طلباء اور طالبات میں وظائف تقسیم کئے۔دریں اثناء وزیراعلیٰ کا کوئٹہ انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز پہنچنے پر ادارے کے کمانڈنٹ اور دیگر حکام نے استقبال کیا۔ اس موقع پر وزیراعلیٰ کو ادارے کے بارے میں بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ادارے کی بنیاد 2011ء میں رکھی گئی، اب تک دوبیچ پاس آؤٹ ہوئے ہیں، ہر بیچ میں طلباء کی تعداد ایک سو ہے، وزیراعلیٰ کو بتایا گیا کہ کوئٹہ انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز میں کالجز آف میڈیسنز، کالج آف نرسنگ اور کالج آف ڈینٹسٹری شامل ہیں، کالج آف میڈیسن اور کالج آف نرسنگ میں تدریسی عمل جاری ہے تاہم کالج آف ڈینٹسٹری کا قیام ابتدائی مراحل میں ہے، وزیراعلیٰ کو بتایا گیا کہ کالج کے طلباء وطالبات کو ٹیچنگ ہسپتال کے طور پر کمبائنڈ ملٹری ہسپتال کی سہولت دستیاب ہے جبکہ ایف سی ہسپتال کے ٹیچنگ ہسپتال کے طور پر ادارے سے الحاق کے معاہدے پر دستخط ہوئے ہیں جس سے طلباء کی تعداد سو سے بڑھا کر ایک سو پچاس کردی جائے گی، وزیراعلیٰ نے ادارے کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہاں سے معیاری ڈاکٹر تیار ہوکر عملی زندگی میں آرہے ہیں جس سے ڈاکٹروں کی کمی پر قابو پانے میں مدد مل رہی ہے، انہوں نے محکمہ صحت کی نرسوں کو کالج آف نرسنگ کے ذریعہ تربیت کی فراہمی کاعمل شروع کرنے کی ہدایت کی۔ 
()()() 
خبرنامہ نمبر3380/2018
اسلام آباد13دسمبر :۔وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے چینی سفیر مسٹر یاؤ جنگ اور وفاقی وزیر منصوبہ بندی خسرو بختیار کوان سے علیحدہ علیحدہ ہونے والی خصوصی ملاقاتوں میں سی پیک کے حوالے سے حکومت بلوچستان کے موقف اور صوبائی کابینہ کے فیصلوں سے آگاہ کیا ہے، ان ملاقاتوں کا مقصد سی پیک کی جوائنٹ کوآرڈینیشن کمیٹی کے بیجنگ میں منعقد ہونے والے آئندہ اجلاس میں بلوچستان کے سماجی شعبے کی ترقی کے منصوبوں کو سی پیک کا حصہ بنانے کی منظوری کا حصول ہے، حکومت بلوچستان کا موقف ہے کہ گذشتہ پانچ سالوں کے دوران سی پیک میں بلوچستان کے مفادات کو تحفظ نہیں دیا گیا جس کے باعث صوبہ سی پیک کے ثمرات سے پوری طرح مستفید نہیں ہوسکتاہے، خاص طور سے سی پیک کے مغربی روٹ کے کسی منصوبے پر عملدرآمد نہیں کیا گیا جس سے مغربی روٹ کے موجود نہ ہونے کے حوالے سے شکوک وشبہات کو تقویت ملی ہے، چینی سفیر سے گفتگوکرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ سی پیک کی بنیاد گوادر بندرگاہ ہے اوراس تناظر میں بلوچستان کو بھی سی پیک میں بھرپور اہمیت اور حصہ ملنا چاہئے، خاص طور سے سماجی شعبوں کی ترقی کے منصوبوں کو سی پیک کا حصہ بناکر صوبے کے عوام کو معاشی طور پر فائدہ پہنچایا جاسکتا ہے، انہوں نے کہا کہ صوبائی کابینہ نے مغربی روٹ کی سڑکوں کے منصوبوں اور ڈیموں کی تعمیر سمیت لائیواسٹاک، زراعت، ماہی گیری اور معدنیات کے شعبوں کی ترقی کے منصوبوں کو سی پیک میں شامل کرنے کی سفارش کی ہے جنہیں صوبائی حکومت جوائنٹ ورکنگ گروپ کے اجلاس میں پیش کرے گی تاکہ ان منصوبوں کو جے سی سی کے اجلاس میں لے جانے کی منظوری دی جائے، وزیراعلیٰ نے کہا کہ بلوچستان سی پیک کو معاشی اور اقتصادی ترقی کا عظیم منصوبہ تصور کرتاہے اوراس کی تکمیل کا خواہشمند ہے تاہم ہم چاہتے ہیں کہ اس منصوبے میں بلوچستان کو اس کا بھرپور حصہ دیا جائے، چینی سفیر نے وزیراعلیٰ کے موقف کی تائید کرتے ہوئے اس حوالے سے بھرپور تعاون کی یقین دہانی کرائی، وفاقی وزیر منصوبہ بندی خسرو بختیار سے بات چیت کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ سی پیک کے حوالے سے بلوچستان کے لئے زیادہ منصوبوں کے حصول پر صوبائی حکومت اور تمام سیاسی جماعتیں میں مکمل اتفاق رائے ہے اور ہمارا موقف ہے کہ سابقہ حکومتوں نے بلوچستان کے ساتھ زیادتی کی اور ہمیں امید ہے کہ موجودہ وفاقی حکومت اس کا ازالہ کرے گی، وزیراعلیٰ نے وفاقی وزیر کو سی پیک میں شامل کرنے کے لئے صوبائی کابینہ کی جانب سے منظور کئے گئے سماجی شعبہ کے منصوبوں کی تفصیل سے آگاہ کرتے ہوئے اس بات کی ضرورت پر زوردیا کہ جوائنٹ ورکنگ گروپ کے اجلاس میں ان منصوبوں کو منظور کرتے ہوئے جے سی سی کے ایجنڈے میں شامل کیا جائے۔ وفاقی وزیر نے مغربی روٹ اور بلوچستان کے تحفظات سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ یہ حقیقت ہے کہ سابق وفاقی حکومت نے مغربی روٹ کے حوالے سے سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا، انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت سی پیک میں شامل صنعتی زونز کے قیام کو جلد از جلد یقینی بنانا چاہتی ہے جس میں بوستان اسپیشل اکنامک زون بھی شامل ہے، انہوں نے یقین دلایا کہ وفاقی حکومت سی پیک پر بلوچستان کے تحفظات کو دور کرنے اور صوبے کی سماجی ترقی کے منصوبوں کو سی پیک کا حصہ بنانے کے لئے سنجیدہ اقدامات کرے گی۔ وفاقی وزیر محترمہ زبیدہ جلال، اراکین سینٹ احمد خان خلجی، میرسرفراز بگٹی، انوارلحق کاکڑ، رکن قومی اسمبلی سردار اسرار ترین بھی ملاقاتوں میں موجود تھے۔ 
()()()
خبرنامہ نمبر3381/2018 
کوئٹہ13 دسمبر۔ تعلیم کے بغیر کوئی معاشرہ ترقی کی راہ پر گامزن نہیں ہوسکتا ہے ۔ تعلیم معاشرے میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس کے ذریعے معاشرے سے فرسودہ خیالات اور پسماندگی ختم ہوجاتی ہے ۔ تعلیم ہی سے لوگوں کے خیالات میں مثبت تبدیلی آجاتی ہے جس سے انسان دوستی اور مثبت رویوں کو فروغ ملتا ہے ۔ ان خیلات کا اظہار صوبائی وزیر پی ایچ ای اینڈ واسا حاجی نور محمد دمڑ نے گورنمنٹ سردار عیسیٰ خان گرلز ہائی اسکول کے سالانہ تقریب میں تقسیم انعامات 2018 سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ آج کے بچے ہمارے صوبے اور ملک کے مستقبل کے معمار ہیں آنے والے زمانے میں ہماری یہی نئی نسل صوبے اور ملک کی بھاگ دوڑ سنبھالنے میں کلیدی کردار ادا کرینگے ہمارے بچوں کو چاہیئے کہ وہ اپنی پڑھائی پر مکمل توجہ دیں آج کل کے اس جدید دور میں اور جدید تعلیم کے بغیر ہم ترقی کے منازل طے نہیں کرسکتے ہیں ۔ جدید تعلیم سائنس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی ہی کے ذریعے سے آج کی دنیا گلوبل ولیج بن گئی ہے بچے اپنا قیمتی وقت ضائع نہ کریں کیونکہ گیا ہوا وقت دوبارہ نہیں آسکتا ہے یہی وقت آپ تمام بچے تعلیم حاصل کرنے پر صرف کریں کیونکہ اس طرح سے آ پ اپنے والدین کی توقعات پر پورا اتر سکتے ہیں صوبائی وزیر حاجی نور محمد دمڑ نے اس ضمن میں کہا کہ اساتذہ اپنے فرائض احسن طریقے سے سر انجام دیں اس سے آپ لوگوں کی روزی بھی حلال ہوجاتی ہے اور اپنے ضمیر کو بھی مطمئن کرسکتے ہیں ۔ کیوں کہ پڑھانا بہت اعلیٰ پیشہ ہے اس سے لوگوں کے اذہان میں مثبت تبدیلی رونما ہوجاتی ہے ۔ قبل ازیں صوبائی وزیر نے اسکول کے بچیوں میں سالانہ انعامات تقسیم کیئے اسکول کے طالبات کی نظم و ضبط پر مسرت کا اظہار کیا اور بینڈ پر فورم کرنے والے طالبا ت کو اپنے جیب سے نقد بیس ہزارروپے نقد دیئے ۔ اس موقع پر گورنمنٹ سردار عیسیٰ خان گرلز ہائی اسکول کے ہیڈ مسٹریس مریم شیریں ، ڈی ای او اعجاز مینگل ، کونسلر کاظم علی اور دیگر اساتذہ بھی موجود تھے۔ 
()()()
خبر نامہ نمبر3382/2018
کوئٹہ13 دسمبر۔صوبائی وزیر بلدیات و دیہی ترقی سردار صالح بھوتانی نے کہا ہے کہ بلدیاتی حکومتیں جمہوریت میں ایک نرسری کی مانند ہے ۔ بلدیاتی حکومتوں کو مزید اختیارات دیں گے تاکہ دیہی اور شہری زندگی میں خوشحالی اور ترقی کی راہیں ہموار ہوں انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت اوربلدیاتی حکومتوں کے درمیان روابط نظام کو مزید بہتر بناتا ہے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بلدیاتی حکومتی نظام میں اصلاحات سے متعلق پی اینڈ ڈی ڈیپارٹمنٹ کے زیر اہتمام منعقدہ سیمینار سے کیا ۔ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر بلدیات نے کہا کہ رورل کونسلز ، ڈسٹرکٹ کونسلز ، میٹر وپولیٹن کارپوریشنز ، میو نسپل کارپوریشن اور میو نسپل کمیٹیز کو جدید خطوط پر استوار کریں گے ۔ اور ان میں مزید بہتری لائیں گے ۔ اس موقع پر سردار صالح بھوتا نی نے صوبائی وزراء، ڈسٹرکٹ چیئرمینوں اور دیگر ماہرین سے تجاویزیں ، سیکریٹری بلدیاتی و دیہی ترقی قمبر دشتی نے سردار صالح بھوتانی کو موجودہ بلدیاتی نظام سے متعلق بریفنگ دی ۔ صوبائی وزیربلدیات نے مزید کہا کہ بلدیاتی نظام کو مزید فعال کریں گے اور انکی مالی فنڈ میں اضافہ کریں گے کیوں کہ بلدیاتی نمائندوں کو عام عوام کی دسترس با آسانی حاصل ہے ۔ 
()()()
خبرنامہ نمبر3383/2018
زیارت 13دسمبر :۔بلوچستان عوامی پارٹی زیارت کے رہنماملک محمد غوث پانیزئی نے صوبائی وزیر پی ایچ ای ،واسا حاجی نورمحمد دمڑ ،ڈپٹی کمشنر زیارت قادر بخش پرکانی ،ضلعی آفیسران ،قبائلی مشران اور پارٹی کارکنوں کے اعزاز میں چینہ زیارت میں عشائیہ دیا ۔عشائیے سے صوبائی وزیر پی ایچ ای ،واسا حاجی نورمحمد خان دمڑ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کابینہ کے حالیہ اجلاس میں زیارت کو سمارٹ سٹی کا درجہ دیا گیا۔انہوں نے کہاکہ سنجاوی کے عوام سے میونسپل کمیٹی کاوعدہ کیاتھااس کو پورا کیا، سنجاوی کو میونسپل کمیٹی کا درجہ دیاگیا ہے ،جس کا نوٹیفکشن بھی ہوچکا ہے ،سنجاوی تا شاٹ کٹ روڈ پر کام شروع کردیا گیا ہے ۔انہوں نے کہامیرے حلقے کے تمام عوام میر ے لیے برابر ہیں تمام علاقوں میں یکساں بنیادوں پر عوام کی مشاورت سے ترقیاتی منصوبے شروع کئے جائیں گے،ضلع زیارت ،سنجاوی ،ہرنائی میں بلیک ٹاپ روڈوں کی تعمیر مرمت کریں گے،صحت ،تعلیم پانی اور دیگر سہولیات کی فراہمی یقینی بنائیں گے۔انہوں نے کہا عوام موجودہ حکومت کی کارکردگی کی بدولت جلد ہی تبدیلی محسوس کریں گے،موجودہ صوبائی حکومت ایک وژن کے مطابق کام کررہی ہے ،ہمارے کوئی ذاتی مفادات نہیں ،بلکہ عوام کی خدمت میر ا مشن ہے۔
()()()
خبرنامہ نمبر3384/2018
سبی 13دسمبر :۔ڈائریکٹر جنرل تعلقات عامہ نعیم احمد بازئی نے آج یہاں انفارمیشن آفس سبی کا دورہ کیا ان کے ہمراہ ڈپٹی کمشنر سبی سید زاہد شاہ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر عباس ملک اور دیگر افسران بھی موجود تھے انہوں نے انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ سبی کے لئے مجوزہ جگہ کا بھی معائنہ کیا اس موقع پر بات چیت کرتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل تعلقات عامہ نعیم احمد بازئی نے کہا کہ جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کے ڈویژ نل ڈائریکٹریٹ کو جدید سہولتیں فراہم کی جائیں گی انہوں نے کہا کہ انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کے اکثر ڈویژ نل ڈیپارٹمنٹ کے پاس اپنی جگہ نہیں ہے میری بھرپور کوشش ہے کہ تمام ڈویژ نل افسران کے لئے اپنی جگہ فراہم کی جاسکیں قبل ازیں ڈویژنل انفارمیشن آفس کے انچارج سعیداحمد شاہوانی نے ڈی جی پی آر نعیم احمد بازئی اور ڈپٹی کمشنر سبی سیدذاہدشاہ کو تفصیلی بریفنگ دی بعد ازاں سبی سے تعلق رکھنے والے صحافیوں کے ایک وفد نے سعید الدین طارق کی قیادت میں ڈی جی پی آر سے ملاقات کی اور انہیں اپنے مسائل سے آگاہ کرتے ہوئے پریس کلب سبی کو فعال کرنے اور الیکشن جلد از جلد کرانے کے لیے کہا صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے ڈی جی پی آر نعیم احمد بازئی نے کہا کہ وہ پریس کلب سبی کو فعال کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کریں گے انہوں نے ڈپٹی کمشنر سبی سیدذاہدشاہ سے گزارش کی کہ وہ پریس کلب کے قواعد و ضوابط کی روشنی میں پریس کلب سبی کے الیکشن خوشگوار ماحول میں منعقد کرانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔
()()()
خبرنامہ نمبر3385/2018 
کوئٹہ 13دسمبر :۔صوبائی محتسب بلوچستان عبدالغنی خلجی کی ہدایت پر چلتن ہاوسنگ سکیم ائیر پورٹ روڈ کوئٹہ میں کمیو نٹی حال کے نزدیک محکمہ واسا نے نئے ٹیو ب ویل واٹر سپلائی سکیم کو مکمل کرکے پانی کی فراہمی شروع کردی ۔اس سلسلے میں چلتن ہاوسنگ اسکیم کے رہائشی نیاز محمد کا کڑ نے صوبائی محتسب بلوچستان کو درخواست کی تھی کہ محکمہ واسا او رکیسکو کے متعلقہ حکام اسکیم میں نئے ٹیو ب ویل پر کام کی تکمیل میں دلچسپی نہیں لے رہے ہیں ۔جس کی وجہ سے اسکیم کے مالکانپینے کے پانی سے محروم ہیں ۔صوبائی محتسب نے فوری کاروائی عمل میں لاتے ہوئے واسا حکام کوان کے ذمہ ٹیوب ویل کے بقایا کام اور بجلی کی تر سیل کیلئے فوری بندو بست کرنے کے حکامات جاری کردئیے ۔جس کے بعدبجلی کی فراہمی کے ساتھ انٹر کنکشن اور صفائی کے کام کی تکمیل کرکے پانی کی فراہمی شروع کردی اور شکایت کنندہ نے شکر یہ خط کے ذریعے صوبائی محتسب اور ڈ ائر یکٹر عبد المنان اچکزئی کے کارکردگی کی تعریف کی اور مسئلے کے حل کرنے پر شکریہ بھی اداکیا ۔جس کے بعد صوبائی محتسب نے کیس کو دارسی ہونے کی بنیاد پر نمٹا دیا ۔
()()() 
خبرنامہ نمبر 3386/2018
لورالائی13دسمبر :۔کمشنر ژوب ڈویژن بشیر احمد خان بازئی نے کہا کہ مخلص اور محنتی سرکاری ملازمین کسی بھی محکمہ میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں پروموشن سمیت انہیں ہر ممکن سہولیات اور مراعات دیئے جائیں گے کسی بھی ملازم کی حق تلفی نہیں کی جائیگی تاہم وہ عوام کی خدمت کریں اور عوام کیلئے ان کے کام میں آسانیاں دیں اور ان کے کام بروقت نکالیں ۔لوگ بھی انہیں دعائیں دینگے ان خیالات کا اظہار انہوں نے محکمانہ پروموشن کمیٹی ژوب ڈویژن منعقدہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں ڈپٹی کمشنر لورالائی حبیب الرحمن کاکڑ ،ڈپٹی کمشنر دکی عبدالناصر دوتانی ،ڈپٹی کمشنرقلعہ سیف اللہ سیف اللہ کھتران ،ڈپٹی کمشنر ژوب عبدالجبار بلوچ ،ڈپٹی کمشنر موسیٰ خیل منیر احمد خان کا کڑ ،ڈپٹی کمشنر شیرانی عبدالخالق مندوخیل،اسسٹنٹ کمشنر ریوینو حضرت ولی کاکڑ ،ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر بارکھان سید عثمان شاہ ،اسسٹنٹ ڈائریکٹر انفارمیشن امیر جان لونی ،خزانہ آفیسر لورالائی محمد نواز ،سپرنٹنڈنٹ اللہ دتہ،عبدالجلیل اور دیگر متعلقہ آفیسران نے شرکت کی۔اسسٹنٹ کمشنر ریوینو حضرت ولی کاکڑ نے اجلاس کو بتایا کہ ژوب ڈویژن کے تمام اضلاع میں عرصہ دراز سے آسامیاں خالی ہے جن میں 20فیصد ملازم کوٹہ ہے جن میں قانون گو ،پٹواری،جونیئر کلرک اور نائب قاصد شامل ہے جن کی ٖفہر ست تیار کی گئی ہے اور سینئرٹی کی بنیاد پر مرتب کیا گیا ہے ۔کمشنر ژوب ڈویژن بشیر احمد خان بازئی نے اس موقع پر کہا کہ ملازمین ہمارے دست وبازو ہیں انہیں ہر ممکن سہولیات فراہم کی جائے پروموشن ان کا حق ہے کسی کو ان کے جائز حق سے محروم نہ کیا جائے تاہم ان کے اے سی ار اور دیگر ضروری اسناد مکمل ہوں اجلاس میں 3قانون گو ،8 پٹواری ،5 جونیئر کلرک اور 16 نائب قاصدوں کو ترقی دینے کے احکامات جاری کئے گئے اس موقع پر نائب قاصد کو جونیئر کلرک بھرتی کرنے کیلئے ان سے انٹرویو بھی لی گئی اور ان کے میٹرک کے اسناد کی ویری فیکشن چیک کیا گیا۔
()()()
خبرنامہ نمبر3387/2018
لورالائی13دسمبر :۔محکمہ انٹی کر پشن بلوچستان کے زیر اہتمام گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج میں انسدادبد عنوانی کے حوالے سے ایک روزہ سیمینار کا انعقادکیا گیا سیمینار میں کالج کے اساتذہ وطالبات سمیت بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی ۔اِس موقع پر طالبات کے درمیان انگریزی اور اردو زبان میں بد عنوانی کے نقصانات اور اِس کے خاتمے کے حوالے سے تقریری مقابلے ہوئے ۔ پرنسپل گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج لورالائی روبینہ کنول او راسسٹنٹ ڈائریکٹر انٹی کرپشن ژوب ڈویژن شاہ زمان اور کالج کے طلباء نے شرکاء سے خطاب کر تے ہوئے کہا کہ ہم سب کو ملکر کرپشن ختم کرنا ہے ۔ جس معاشرے میں کرپشن عام ہو وہ مشکلات سے دوچار ہوتا ہے رشوت کی لعنت کو ختم کر نے کیلئے سزا و جزا کے قانون کو سخت کیا جائے اور سرعام سزائیں دلوائی جائیں ۔انہوں نے کہا کہ کرپشن انسانوں کے درمیان فاصلے بڑھاتے ہیں امیر امیر تر اور غریب غریب تر ہوتا جائیگامقررین نے کہا کہ بدعنوانی ایک ایسا مرض ہے جو انسان کو انفرادی فائدے کی طرف لے جاتا ہے ہر انسان نے ایک دن مرنا ہے جبکہ کفن میں جیب نہیں اور قبر میں الماری نہیں اور فرشتے رشوت قبول کر تے نہیں سب نے اپنا جواب دینا ہے انہوں نے کہا کہ بدعنوانی اور رشوت ،دہشتگردی سے زیادہ خطرناک ہے انسان کو بے جا اخراجات اور خواہشات رشوت پر مجبور کرتا ہے اِس لئے انسان کو محتاط رہنا چاہیے ۔ مقریرین نے رشوت اور بدعنوانی کے خاتمے کیلئے ہر شعبہ فکر سے تعلق رکھنے والوں کو اپنا کردار ادا کرنے اور معاشرے میں شعور و آگا ہی مہم چلانے پر زور دیا ۔تقریری مقابلے میں کالج کے طالبات ثانیہ زرکون ،دوردانہ ارشد،ماریہ اسلم،سلطانہ ،زارہ منان اور دیگر طالبات نے حصہ لیا اور آخر میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر شاہ زمان مندوخیل نے طالبات میں انعامات تقسیم کئے ۔
()()()

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Post comment