خبرنامہ488/2019
کوئٹہ 13 فروری۔ صوبائی وزیر خزانہ میر محمد عارف محمدحسنی نے سینئر صحافی عاشق بٹ کے انتقال پر رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مرحوم کہنہ مشق صحافی ہونے کے ساتھ ساتھ ایک اچھے انسان بھی تھے۔ انہوں نے کہا کہ عاشق بٹ نے صوبے میں مثبت صحافت کو فروغ دینے کی نہ صرف کوشش کی بلکہ مشکل حالات میں بھی انہوں نے پیشہ ورانہ امور کے مطابق اپنے فرائض منصبی کو پوری دیانتداری سے انجام دیا۔انہوں نے کہا کہ عاشق بٹ کی وفات سے ہم ایک مخلص دوست صحافی سے محروم ہوئے انہوں نے کہا کہ عاشق بٹ کی صحافتی خدمات کو عرصہ دراز تک یاد رکھاجائے گا صوبائی وزیر نے دعا کی اللہ پاک مرحوم کو جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے اور پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے۔
()()()
خبرنامہ489/2019
کوئٹہ 13 فروری۔صوبائی وزیر صحت میر نصیب اللہ خان مری کی زیر صدارت گزشتہ روز سکندر خان جمالی آڈیٹوریم میں جائزہ اور کارکردگی اجلاس کا انعقاد ہوا ۔ اجلاس کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ شعبہ صحت کو عالمی معیار کے مطابق اور جدید خطوط پر استوار کرنے کے لئے کسی بھی حدتک جانا پڑا تو گریز نہیں کریں گے ۔ اس اجلاس میں سیکریٹری صحت حافظ عبدالماجد ،ڈی جی ہیلتھ سروسز شاکر علی بلوچ ،صوبے بھر سے آئے ہوئے ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسران اور ایم ایس ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز و دیگر ہسپتال شریک تھے ۔ شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر نے کہا کہ دستیاب وسائل میں رہتے ہوئے آپ کے تمام مسائل کو حل کرنے کی پوری کوشش کریں گے ۔ انہوں نے کہا کہ تبدیلی انکی پارٹی کا منشور ہے جس پر ہر صورت میں عملدرآمدکیاجائے گا باتوں سے زیادہ عملی اقدامات پر یقین رکھتے ہیں صوبائی وزیر صحت نے ڈسٹرکٹ ہیلتھ افسروں کو ہدایت دی کہ وہ اپنی جائے تعیناتی پر پابندی سے حاضر رہیں اور دیگر ڈاکٹر ز اور اسٹاف کو بھی ڈیوٹی کا پابند بنائیں جو ڈاکٹر یا دیگر اسٹاف غیر حاضر ہیں ان کی تنخواہ بند کردی جائے کسی کو مفت کی تنخواہ نہیں ملے گی ۔ انہوں نے کہا کہ وہ عوام کا نمائندہ ہیں کابینہ سمیت ہر فلور پر عوام کے حق کیلئے آوازاٹھائیں گے ۔ اس موقع پر سیکریٹری صحت و دیگر مقررین نے کہا کہ ڈاکٹرز مسیحا ہوتے ہیں ان کو چاہیئے کہ اپنے آبائی علاقوں میں بخوشی و رضا خدمات انجام دیں جوکہ انکے اضلاع کے عوام کا حق بھی ہے انہوں نے کہا کہ شعبہ صحت میں بہتری لانے کیلئے قانون سازی کی بھی ضرورت پڑی تو قانون سازی کی سفارش بھی کریں گے۔ 
()()()
خبرنامہ490/2019
بارکھان13فروری۔صوبائی وزیر سردار عبدالرحمن کھیتران نے کہا ہے کہ موجودہ صوبائی حکومت وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال خان کی قیادت میں صوبے کی ترقی اور امن وامان کی صورتحال کو برقرار رکھنے کیلئے اپنے تمام موجود ہ وسائل کوبروے کار لا رہی ہے ،مخلوط صوبائی حکومت میں اختلاف کی افواہیں بے بنیاد ہیں ،آنے والے چار سال ترقی کیلئے نہایت اہم ہیں ،نوجوانوں کو روزگار دینے کیلئے ان کی بالائی عمر میں تین سال کی توسیع موجودہ حکومت کا کارنامہ ہے ۔صوبے میں امن وامان کی صورتحال پہلے سے بہتر ہے ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ضلع بارکھان کی یونین کونسل صدر کی مختلف بستیوں کے دورے کے موقع پر لوگوں سے بات چیت کرتے ہوئے کیا ، سابق چیئرمین میونسپل کمیٹی بارکھان سردار ذادہ عبدالسلام شاہ،سردارذادہ میجر طاہر شاہ،میر ایوب کھیتران ،وڈیرہ تاج قاسمانی،وڈیرہ ذوالفقار اولیانی ،اسسٹنٹ ڈائریکٹرمحکمہ تعلقات عامہ امیر جان لونی ودیگر سرکاری آفیسران اور قبائلی معتبرین بھی اس موقع پر ان کے ہمراہ تھے ۔صوبائی وزیر نے اس موقع پر موضع ابراہیم قاسمانی میں ڈوبلہ روڈ سے بستی جمعہ ڈوم تا لانگانی تک سڑک ،ڈوبلہ تا بستی گل محمد سڑک،مین روڈ سومن سے بستی بارخان جھنگ تک سڑک،لنک روڈرند سے ڈاڈا جہوم تک بستی رند دوست محمد میں ایک ڈیم تعمیر کرنے اور بجلی کے 15پول کی فراہمی،ویٹرنری ہسپتال ،پانی کی فراہمی اور ڈوزر کے گھنٹے دینے کا اعلان کیا۔بستی شیر شیرانی میں چیک ڈیم ،بستی جھنگ میں فلڈ پروٹیکشن بند بنانے کا بھی اعلان کیا ، صوبائی وزیر سردار عبدالرحمن کھیتران نے وڈیرہ پائند خان سے ان کے بیٹے کی وفات پر تعزیت بھی کی ۔بعد ازاں وڈیرہ تاج محمد قاسمانی کی طرف سے ان کے اعزاز میں دئیے گئے عشائیہ میں شرکت کی اور اس موقع پر بستی کے لیے مڈل سکول دینے کا اعلان کیا ۔
()()()
خبرنامہ491/2019
کوئٹہ13فروری۔ صوبائی وزیر میر نصیب اللہ مری نے بلوچستان کے ممتاز صحافی اور مقامی نیوز ایجنسی کے بیورو چیف عاشق علی بٹ کے انتقال پر گہرے رنج و غم اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اپنے ایک تعزیتی بیان میں مرحوم160کی صحافتی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی وفات سے بلوچستان ایک سینئر صحافی اور اور اہل قلم سے محروم ہو گیا ہے انہوں نے کہا کہ موصوف نے بطور صحافی ہمیشہ بلوچستان کے مظلوم طبقے کی ترجمانی کرتے ہوئے قلم کے ذریعے حق کا فریضہ سرانجام دیا ،مرحوم بلوچستان کے سیاسی، سماجی اور معاشرتی اور اقتصادی مسائل کو ہمیشہ اجاگر کرتے تھے ان کی وفات سے بلوچستان کی صحافت میں ایک بڑا خلاء پیدا ہو گیا ہے صوبائی وزیر نے کہا کہ وہ غم کی اس گھڑی میں سوگوار خاندان کے دکھ میں برابر کے شریک ہیں اللہ تعالی سے مرحوم کی درجات کی بلندی اور انکی مغفرت کی دعا کرتے ہیں۔
()()()
خبرنامہ492/2019 
کوئٹہ 13فروری۔اسپیکر بلوچستان صوبائی اسمبلی میر عبدالقدوس بزنجو نے سینئر صحافی عاشق علی بٹ کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا اپنے ایک تعزیتی بیان میں انہوں نے سوگوار خاندان سے ہمدردی اور تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ عاشق علی بٹ کی صوبے کیلئے صحافتی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا ان کے انتقال سے صوبے کے صحافتی حلقے میں ایک ایسا خلا پیدا ہوا ہے جو مدتوں تک پر نہیں ہوسکتا ۔ انہوں نے مزید کہا کہ مرحوم کی غیر جانبدارانہ اور ہمیشہ صحافتی اصولوں پر مبنی خدمات کو سنہری الفاظ میں یاد رکھا جائے گا ۔اسپیکر نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کو اپنے جوار رحمت میں جگہ دے اور ورثاء کو یہ صدمہ صبر و ہمت سے برداشت کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ 
()()()
خبرنامہ493/2019
کوئٹہ13فروری۔ چیف سیکریٹری بلوچستان ڈاکٹر اختر نذیر کی زیر صدارت سپریم کورٹ کے زیر زمین پانی کے استعمال پر از خود نوٹس سے متعلق بنائی گئی کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا ۔ جس میں کمیٹی کے کنوینئر پروفیسر ڈاکٹر احسان صدیق سمیت متعلقہ سیکریٹریز نے شرکت کی ۔ اجلاس میں سپریم کورٹ کے حکم پر عملدرآمد یقینی بنانا اور آئندہ کا لائحہ عمل پر غو ر کیا گیا اس ضمن میں ڈائریکٹر جنرل ماحولیات کو 28 فروری تک رپورٹ مرتب کرکے پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ۔ 
()()()
خبرنامہ494/2019
کوئٹہ 13فروری ؛۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ کیپٹن(ر) طاہر ظفر عباسی کی سربراہی میں کوئٹہ ڈویلپمنٹ پراجیکٹ کی توسیع منصوبے پر عمل درآمد کرنے کے لئے جوائنٹ روڈ پر قائم تجاوزات کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے 20 دوکانوں کو مسمار کردیا اس موقع پر ڈپٹی کمشنر کوئٹہ نے بتایا کہ مذکورہ دکانیں کوئٹہ ڈویلپمنٹ پراجیکٹ کی توسیع منصوبے پر قائم تھی جنہیں جون 2018 سے بارہا نوٹس بھی دیے گئے تھے مگر خالی نہ کرنے پرمجبو راً قانونی کاروائی عمل میں لانی پڑی جس میں پراجیکٹ کی توسیع منصوبے کی زمین کو واگزار کراہا انہوں نے کہا کہ جوائنٹ روڈ پر کوئٹہ پروجیکٹ کی توسیع منصوبے میں آنے والی تمام سرکاری زمین کو واگذار کیا جائے گا۔
()()()
خبرنامہ495/2019
کوئٹہ 13فروری۔ڈپٹی کمشنر آفس کوئٹہ میں بلوچستان کے رنگ( کلر آف بلوچستان )کے نمائشی میلے کے حوالے سے ایک اجلاس منعقد ہوا جس کی صدارت ڈپٹی کمشنر کوئٹہ کیپٹن (ر)طاہر ظفر عباسی نے کی اجلاس میں اسسٹنٹ کمشنر کوئٹہ سٹی ثانیہ صافی، چیئرمین کامرس اینڈ ٹریڈ ،ایڈمنسٹریٹر میٹروپولٹن ،مینیجر پیپسی ،منیجر ریڈیو پاکستان ،چیف ایگزیکٹیو آفیسر مار کر کمپنی ،انجمن تاجران کے صدر کے علاوہ مختلف مصنوعاتی کمپنیوں کے نمائند گان نے بھی شرکت کی اجلاس میں ڈپٹی کمشنر کوئٹہ نے کہا کہ کوئٹہ بلوچستان کی عوام کو ملک کے دیگر شہروں میں رہنے والوں کی نسبت تفریح و ضیافت کے علاوہ صوبے کی ثقافت کو اجاگر کرنے کے بہت کم مواقع میسر ہوتے ہیں لہذا اس سلسلے میں حکومت بلوچستان اور انتظامیہ مل کر ایسی سرگرمیوں کا آغاز کر رہی ہے جس سے کوئٹہ بلوچستان کی عوام کو تفریح کے بھرپور مواقع اپنے مہیا ہوسکیں اس حوالے سے ایوب سٹیڈیم کوئٹہ میں ایک ثقافتی میلے کا انعقاد کیا جا رہا ہے جس میں کوئٹہ میں آباد تمام قوموں کے افراد اپنے کلچر اور ثقافت کے رنگ بکھیریں گے جس سے نہ صرف باہمی ہم آہنگی اور بھائی چارے کی فضا کو فروغ ملے گا بلکہ ایک دوسرے کی ثقافت، تہذیب وتمدن کو جاننے کا موقع بھی ملے گا میلے میں فائن آرٹس ،تصویری نمائش، دستکاری ،صنعت کاری اور کھیلوں کے دیگر پروگرامز بھی شامل کیے جائیں گے اس کے علاوہ فوڈ فیسٹول کا بھی انعقاد کیا جائے گا جس سے عوام کو تفریح کے ساتھ ساتھ کھانے پینے کے لئے مختلف اقسام کے روایتی کھانے اور فاسٹ فوڈ کی سہولت بھی حاصل ہو سکے گی میلے میں مختلف نیشنل اور ملٹی نیشنل کمپنیاں اپنی مصنوعات رعایتی نرخوں پر فروخت کرنے کیلئے اسٹالز بھی لگائیں جائے گی اجلاس کے آخر میں شرکاء نے حکومت بلوچستان اور انتظامیہ کی اس کاوش کو سراہا اور کہا کہ اس طرح کی سرگرمیوں کی کوئٹہ بلوچستان میں اشد ضرورت ہے اور اسی بابت میں ہم سب اور عوام الناس مل کر اس ثقافتی میلے کو بھرپور طریقے سے کامیاب بنائیں گے تاکہ اس طرح کی سرگرمیاں ہر سال جاری رہیں۔
()()()
خبرنامہ496/2019 
کوئٹہ 13فروری:۔صوبائی مشیر ثانوی تعلیم حا جی محمد خان لہڑی نے کہا کہ محکمہ ثانوی تعلیم صوبے کی پسماند گی کومد نظر رکھتے ہوئے موجودہ حکومت ترقی کے جامع منصوبوں کے اجراء اور تکمیل کیلئے ٹھو س اقدامات اُ ٹھا رہی ہے ۔صوبائی حکومت جام کمال خان کی قیادت میں متحد ہے عوامی ترقی کا سفر جاری رہے گا ان خیالات کا اظہار انہوں نے سابق وزیرداخلہ بلوچستان سینٹر میر سرفراز بگٹی سے ملاقات کے موقع پر کیا ملاقات میں باہمی دل چسپی کے امور پر تبادلہ خیال ہوا ۔ صو بائی مشیر نے کہا کہ موجودہ حکومت عوام کے حقیقی منڈ یٹ کا بخو بی ادارک کرتے ہوئے عوامی فلاح وبہبو د کے منصو بوں پرعمل پیر ا ہے ۔انہوں نے کہا کہ عوام افو اہوں پر کان نہ دھیر یں اور حکومت کے ہاتھ مضبوط کریں تاکہ صوبے کی تعمیر وترقی کا سفر جاری رہے۔اس موقع پر سابق وزیر داخلہ بلوچستان سینٹر میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ آج صوبے میں امن سیکیو رٹی فور سز کی قر بانیوں کی بد ولت ہے امن ہی صو بے کی ترقی کا ضا من ہے ۔موجودہ حکومت کو اپنی ذمہ داریوں کا بخو بی احسا س ہے اور احسن طریقے سے اپنی ذمہ داریاں نبھا رہی ہیں ۔انہوں نے صوبائی مشیر کو تعلیم کی بہتر ی کیلئے جانے والے اقدامات کو سر اہتے ہو ئے اس اُمید کااظہار کیا وہ اسی طرح صو بے میں تعلیم کی بہتر ی کیلئے اپنا بھرپور کردار اد ا کرتے رہیں گے ۔
()()() 
خبرنامہ497/2019
کوئٹہ13فروری۔آفیسرز ویلفیئر ایسو سی ایشن ( رجسٹرڈ ) محکمہ تعلقات عامہ کے صدر محمد اسلم خان ناصر ایسو سی ایشن کے عہدیداران ، محکمہ کے آفیسران اور تعلقات عامہ کے تمام اہلکاران نے ممتاز اور سینئر صحافی ، این این آئی کے بیورو چیف عاشق علی بٹ کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے ۔ اپنے ایک تعزیتی بیان میں انہوں نے کہا ہے کہ عاشق علی بٹ کی وفات سے بلوچستان کی صحافی برادری کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے اور ان کے انتقال سے نا صرف صحافی برادری بلکہ سیاسی و سماجی حلقوں کو بھی افسوس ہے۔ انہوں نے عاشق علی بٹ کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے ان کی صحافتی خدمات کو سراہا اور دعا کی ہے کہ اللہ تعالی مرحوم کے درجات بلند کرے اور لواحقین کو یہ صدمہ برداشت کرنے کی توفیق عطاء فرمائے ۔ دریں اثناء ایسوسی ایشن کے صدر اور دیگر عہدیداران اور آفیسران نے صحافی حاجی اجمل کی اہلیہ کے انتقال پر بھی افسوس کا اظہار کیا ہے اور دعا کی ہے کہ اللہ تعالیٰ مرحومہ کو اپنے جوار رحمت میں جگہ دے اور پسماندگان کو یہ صدمہ برداشت کرنے کی توفیق عطاء فرمائے۔ 
()()()
پریس ریلیز
کوئٹہ13فروری۔بدلتے ہوئے موسموں کے ساتھ جہاں بہار کی آمد کا سندیسہ آتا ہے وہاں بلوچستان کے ذر خیز ذہنوں ، علمی ادبی حوالوں سے لازوال کردار ادا کرنے والے بہت سے نامور شخصیات کے بچھڑنے کا مہینہ بھی قرار پاتا ہے جن پر مختلف حوالوں سے گفتگو کااہتمام کیا جاتا ہے علمی ادبی مباحث ہوتے ہیں جن میں ہمارے اکابرین کی علمی ،ادبی کارناموں کاذکر سامنے لایا جاتا ہے ۔اور آنے والے تاریخ کے لئے مثالیں دی جاتی ہیں۔اسی حوالے سے اکادمی ادبیات کوئٹہ کے زیر اہتمام نامور شخصیت ،خوبصورت شاعر اور دانشور عطا شاد کی یاد میں ایک ادبی نشست کا اہتما م کیا گیا نشست کی صدارت تربت یونیورسٹی کے وائس چانسلر نامور ادیب دانشور ڈاکٹر عبدالرزاق صابرؔ نے کی انہوں نے عطا شاد سے اپنے تعلق اور عطا شاد کی شعری تخلیقات کے حوالے سے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ’’ بلوچستان میں علم و ادب اور سخنوری کی تاریخ عطا شاد ؔ کے تذکرے کے بغیرنا مکمل ہوگی وہ ثقافتی ، سیاسی اور سماجی روایت کے نباض تھے ان کی تخلیقات خصوصاً شاعری میں ہمیں اس خطے کے سارے رنگ بڑی خوصبورتی اور عرق ریزی کے ساتھ ایک بڑے پھیلاؤ کے ساتھ دکھائی دیتے ہیں ۔ عطا نے حسن و جمال اور جبر و استحصال کو اپنی علامتوں اور استعارات میں برے موثر انداز میں بیان کیا عطا شادؔ آج ہمارا حوالہ بن کر درخشاں حیثیت اختیار کرچکے ہیں ۔ عطا شاد شناسی اب ہمارے لئے ایک موضوع بن چکا ہے اس حوالے سے ان کی اردو اور بلوچی کلیات کی اشاعت عطا شاد فن اور شخصیت کے حوالے سے شائع ہونے والی کتابیں اور ایم فل ، پی ایچ ڈی سٹوڈنٹس کا عطا شاد کے حوالے سے تحقیقی مواد اس بات کو واضح کرتا ہے کہ عطا شا د اب بلوچستان میں شعر ، سخن اور موضوعات کے تنوع کے اعتبار سے ایک حیثیت اختیار کر چکے ہیں ۔ہمیں ان کے تراجم کو آگے دنیا کے دیگر زبانوں میں متعارف کرنے کی ضرورت ہے خاص طور پر عطا شاد نے ہمارے لوک ادب اور رومانوی داستانوں کوجس خوبصورتی سے نئے قالب میں ڈھالا اس کا حوالہ عطا شاد کی علمی ، ادبی خدمات کو ایک کثیر المثال حیثیت دینے کے لئے کافی ہے ۔‘‘نشست میں اظہار خیال کرتے ہوئے نامور دانشور ادیب وحید زہیر ؔ ، ڈاکٹر علی دوست بلوچ ، نور خان محمد حسنی ، محسن بلوچ ،اصغر رخشانی اور دیگر نے عطا شاد فن اور شخصیت کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی ۔وحید زہیرؔ نے عطا شاد سے تعلق کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ عطا شاد بیک وقت ایک استاد ، ایک دوست او ر ایک بڑے بھائی کے حیثیت سے ہمیں علمی اور ادبی سطح پر رہنمائی فرماتے رہے ۔ان کا شعری ذوق ہمیں حوصلہ دیتا رہا ہمارے اندر عطا شاد کی طرح آگے بڑھنے اور محنت کرنے کی لگن پیدا ہوئی آج اُن کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے خوشی ہوتی ہے کہ ہم نے اپنے اکابرین کی عزت کی ، احترام کیا اور اُن سے فن اور فکر کے کئی مثبت پہلوحاصل کئے توقع ہے کہ آج کی نسل بھی اس رویئے کو اپنائیگی اور عطا شاد شناسی کے اس کارواں میں ہمارا ساتھ دیگی۔اس موقع پر نور خان محمد حسنی نے کہا کہ ’’عطا شادؔ سوچتا بلوچستان ، بولتا بلوچستان اور مجسم بلوچستان ہے وہ ایک ایسے معاشرے میں جہاں اپنے خیالات کا اظہار کرتے وقت احتیاط برتنی پڑتی ہے۔ اس لئے اس نے اظہار کے لئے اشارہ کنایہ ، موسموں ، پہاڑی جھرنوں، برف ، آئینہ ، آفتاب ، چاندنی ، موم ، کوہسار ، رات ، چشمہ ، آنکھ ، دھنک،شبنم، الاؤ، تیرگی ، سورج ، ماہتاب، آتش گہہ ، دھوپ ، سبزہ ، آگ ، سردی ، گرمی ، پتھر ، موج کی آہنی دیوار ، سنگ سدا ، سرد پتھر ، برف کی کلیاں ،برفاب ، آب، ہوا ، سراب ، اجالے ، صحرا ، آسمان ، دشت ، سمندر ، آبشار جیسے مانوس او رنامانوس استعارے کثرت سے استعمال کرتے ہیں ۔ ان کی شاعری میں جابجا برف ، سردی ، سرد، پتھر ، برفاب ، زمستان کے الفاظ کمال ہنر مندی سے بروئے کارملتے ہیں جن میں شعری حسن کے ساتھ نئے شعری اظہار کے نئے در وا ہوتے ہیں ۔نشست کے اختتام پر اکادمی ادبیات کی جانب سے مہمانوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے افضل مرادؔ نے کلیات عطا شاد کی اشاعت اور اُس کے حوالے سے عطا شاد کے احباب کاشکریہ ادا کیا ۔اور اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ عطا شاد کو یا د کرنے والے اس کا مطالعہ کرنے اور اس کا حوالہ دینے والے بڑی تعداد میں ہمارے درمیان موجود ہیں جو ہمیں ایک نئی امید دکھاتے ہیں آخر میں انہوں نے عطا شاد کی چند نظمیں پیش کیں۔
()()()
پریس ریلیز 
کوئٹہ13فروری۔ڈی جی پی آر آفیسرز ایسو سی ایشن کے صدروڈپٹی ڈائریکٹر ظفر علی ظفر ، سیکریٹری جنرل وقاص شاہین اور دیگر عہدیداران منظور احمد مگسی ، امتیاز احمد جمالی ، تیمور خان کاکڑ ، نجیب اللہ لانگو ، ارباب عمران ، محمد امیر و دیگر نے ممتاز صحافی اور نیوز ایجنسی کے بیورو چیف عاشق علی بٹ کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے ایک تعزیتی بیان میں کہا کہ انکے انتقال سے صوبہ ایک مخلوص اور سینئر صحافی سے محروم ہوگیا ہے صوبے کیلئے موصوف کی خدمات ناقابل فراموش ہیں ۔ انہوں نے سوگوار خاندان سے تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کو جنت الفردوس میں جگہ اور پسماندگان کو صبر جمیل عطا کرے ۔ 
()()()

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Post comment