خبرنامہ نمبر3375/2018
کوئٹہ 12دسمبر :۔وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے کہا ہے کہ جن معاشروں میں احتساب نہ ہو وہ آگے نہیں جاسکتے تاہم احتساب انصاف پر مبنی ہونا چاہئے، ہمیں معاشرے میں رہتے ہوئے خوداحتسابی کے عمل کو بھی اختیار کرنے کی ضرورت ہے، ہم جس جس منصب پر فائزہیں ہمارے فیصلوں اور پالیسیوں کا اثر لاکھوں لوگوں پر پڑتا ہے جس کے ہم جوابدہ ہیں، اگر ہم غلط فیصلے کریں گے تو لامحالہ ان کے منفی اثرات ہم پر اور ہمارے بچوں پر بھی مرتب ہوں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے نیب بلوچستان میں بدعنوانی کے خاتمے سے متعلق منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا، رکن صوبائی اسمبلی مبین خان خلجی، میئر کوئٹہ میٹروپولیٹن کارپوریشن ڈاکٹر کلیم اللہ، مختلف محکموں کے سیکریٹری اور دیگر حکام بھی سیمینار میں شریک تھے جبکہ ڈائریکٹر جنرل نیب بلوچستان محمد عابد جاوید نے خطبہء استقبالیہ پیش کرتے ہوئے سیمینار کے اغراض ومقاصد اور بدعنوانی کی روک تھام اور خاتمے کے لئے اپنے ادارے کی کارکردگی اور کوششوں پر روشنی ڈالی۔ وزیراعلیٰ نے اپنے خطاب میں کہا کہ اسلام جبر کا مذہب نہیں اور دین اسلام میں مکمل ضابطہ حیات موجود ہے جس میں ایک دائرہ کار کے اندر رہتے ہوئے مکمل آزادی حاصل ہے، تاہم اپنی خواہشات کے تابع ہوکر ہم اس دائرہ کار سے باہر نکل جاتے ہیں اور دلیل دیتے ہیں کہ اسلام میں تنگی نہیں ہے، انہوں نے کہا کہ غلط کام کرکے جھوٹ بول کر دوسرے کا حق مار کر اور کسی کی جان لے کر کہا جائے کہ اللہ غفورالرحیم ہے تو یہ سراسر اپنے آپ سے دھوکہ دہی ہے، وزیراعلیٰ نے کہا کہ جب جھوٹی دلیلوں کے ساتھ انسان اپنے آپ کو مطمئن کرنے اور دوسروں کو دھوکہ دینے کی کوشش کرتا ہے تو پھر برائی برائی نہیں لگتی اور نہ ہی اسے معیوب سمجھا جاتا ہے، وزیراعلیٰ نے کہا کہ اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے، اسلام میں سزا اور جزا کا تصور موجود ہے، انسان اشرف المخلوقات ہے اور غلطی بھی انسانوں سے ہی ہوتی ہے تاہم برائی کو روکنے کی کوشش ضرور کرنی چاہئے، کوئی انسان ہمیشہ اچھا یا ہمیشہ برا نہیں ہوسکتا، وزیراعلیٰ نے کہا کہ ہم بھول جاتے ہیں کہ جوانی کے بعد انسان بوڑھا اور کمزور بھی ہوجاتا ہے، اور جو انسان برائی روکنے کی کوشش ہی نہیں کرتا بلکہ اس کا حصہ بنا رہتا ہے عمر کے آخری حصے میں وہ پچھتاوے کا شکار رہتا ہے، وزیراعلیٰ نے کہا کہ محنت اور کوشش کرنے والے لوگ قابل تعریف ہوتے ہیں جنہیں اللہ کی پسندیدگی بھی حاصل ہوتی ہے، انہوں نے کہا کہ بلوچستان اس سطح پر پہنچ چکا ہے جہاں مزید غلطیوں کی گنجائش نہیں، ماضی کے غلط فیصلوں اور پالیسیوں کے باعث زیرتکمیل منصوبوں کا تھرو فارورڈ 400ارب روپے ہے جن میں کئی منصوبے گذشتہ دس سالوں سے نامکمل ہیں جبکہ پرانے منصوبے مکمل کئے بغیر پی ایس ڈی پی میں نئے منصوبے شامل کئے جاتے رہے، وزیراعلیٰ نے کہا کہ وزیراعلیٰ معائنہ ٹیم نے چھ سو سے زائد منصوبوں کا معائنہ کیا جن میں سے کئی منصوبے کاغذوں میں مکمل ہوچکے ہیں لیکن یا تو زمین پر ان کا وجو ہی نہیں یا یہ تاحال نامکمل ہیں انہوں نے کہا کہ اس بات سے انکار نہیں کہ افسروں پر سیاسی دباؤ ہوتا ہے لیکن افسر بہتر حکمت عملی کے ساتھ اپنے آپ کو اس دباؤ سے نکال سکتے ہیں، وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبے کی مالی معاملات جس طرح خرابی کی طرف جارہے ہیں اس کا اثر سب پر پڑے گا، معاشرتی برائیوں میں اضافہ ہوگا اور انتشار اور انارکی کی فضا پید ا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ایسا ملک ہے جس میں تمام وسائل موجود ہیں لیکن پھر بھی ملکی معیشت کا انحصار بیرونی قرضوں پر ہے جو انتہائی افسوسناک ہے، اسی طرح بلوچستان میں بھی وسائل کی کمی نہیں صرف گڈ گورننس کا فقدان ہے جس کی وجہ سے ہم تمام وسائل کے ہوتے ہوئے بھی پسماندگی اور غربت کا شکار ہیں وزیراعلیٰ نے کہا کہ بلوچستان ہمارا گھر ہے اور ہم سب نے یہیں رہنا ہے ہم اپنے گھر کے ساتھ اچھا کریں گے تو سب کے لئے اچھا ہوگا اور برا کریں گے تو سب کے لئے برا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ گورننس سٹرکچر سب سے بڑا مسئلہ ہے، بدقسمتی سے گورننس کو بہتر بنانے کی بجائے مصنوعی سیاست کا سہارا لیا گیا، بازارمیں بیٹھ کر چائے پینا اور جھاڑو پکڑ کر صفائی کرنا وزیراعلیٰ کا کام نہیں ہے اس طرح تبدیلی نہیں آتی، مسائل کا پائیدار بنیادوں پر حل گڈ گورننس کے ذریعہ ہی ممکن ہے، اگر ہم اچھا کام کریں گے تو میڈیا خود ہی ہمیں اہمیت دے گا، وزیراعلیٰ نے کہا کہ ہمیں بدعنوانی اور مس مینجمنٹ کو اس کے آغاز سے ہی قابو کرنا ہوگا، سیکریٹری ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی کانظام بنائیں اور خود بھی منصوبوں کا معائنہ کرتے رہیں، انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے کمشنروں اور ڈپٹی کمشنروں کو ترقیاتی منصوبوں کے ساتھ ساتھ تعلیم اور صحت کے شعبوں کی نگرانی کی ذمہ داریاں دی ہیں جس سے ان میں بہتری آرہی ہے، انہوں نے کہا کہ اگر افسران خوش نیتی اور جرات مندی کے ساتھ کام کریں تو نیب یا کوئی ادارہ ان کے خلاف کاروائی نہیں کرے گا، صوبے کو بہتر بنانا ہم سب کی ذمہ داری ہے جس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتا، بعدازاں وزیراعلیٰ کو ڈائریکٹر جنرل نیب نے بدعنوانی کے مختلف کیسز میں وصول کی گئی 46کروڑ سے زائد خطیر رقم کا چیک دیا۔ وزیراعلیٰ نے اس موقع پر اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے نیب اہلکاروں میں تعریفی اسناد تقسیم کیں جبکہ وزیراعلیٰ کو ڈی جی نیب نے یادگاری شیلڈ پیش کی۔ 
()()()
خبرنامہ نمبر3376/2018
کوئٹہ 12دسمبر :۔وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان سے پاکستان میں اقوام متحدہ کی سفیر برائے سماجی شعبہ پروفیسر غزنہ خالد نے بدھ کے روز یہاں ملاقات کی اور ان سے خشک سالی سے متاثرہ اضلاع میں امدادی سرگرمیوں اور سماجی شعبہ میں اقوام متحدہ کے متعلقہ اداروں کی معاونت کے حوالے سے امور پر تبادلہ خیال کیا۔ صوبائی وزیر انجینئر زمرک خان، رکن صوبائی اسمبلی مبین خان خلجی اور وزیراعلیٰ کے معاون خصوصی میر رامین محمد حسنی بھی اس موقع پر موجود تھے، اقوام متحدہ کی سفیر نے کہا کہ انہوں نے خشک سالی سے متاثرہ چاغی اور نوشکی اضلاع کا دورہ کرکے صورتحال کا جائزہ لیا ہے اور ان کا ادارہ متاثرہ اضلاع میں امدادی سرگرمیوں میں فنی معاونت اور ہر قسم کی مدد کے لئے تیار ہے، انہوں نے کہا کہ تعلیم، صحت اور غذائیت کے شعبہ میں بھی صوبائی حکومت کی معاونت کی جائے گی، اس موقع پر بات چیت کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ بارشیں نہ ہونے کی وجہ سے صوبے کے نو سے زائد اضلاع خشک سالی کا شکار ہوئے ہیں، صوبائی حکومت متاثرہ خاندانوں کی امداد وبحالی کے لئے تمام وسائل بروئے کار لارہی ہے جبکہ تعلیم، پانی اور غذائیت کے شعبوں میں ایمرجنسی کا نفاذ عمل میں لایا گیا ہے، وزیراعلیٰ نے کہا کہ حکومت خشک سالی کے حوالے سے موجودہ صورتحال اور مستقبل کے متوقع چیلنجز سے نمٹنے کے لئے جامع منصوبہ بندی کررہی ہے، انہوں نے بتایا کہ لوگوں کی سماجی معاونت کے لئے صوبائی حکومت نے انڈومنٹ فنڈ کے قیام کا فیصلہ کیا ہے جس کے تحت غریب لوگوں کو علاج معالجہ سمیت دیگر امور میں مالی معاونت فراہم کی جائے گی، ملاقات میں خشک سالی، غذائیت کی کمی اور دیگر سماجی مسائل سے موثر طور سے نمٹنے کے لئے ٹاسک فورس کے قیام کی تجویز سے اتفاق کیا گیا جس میں متعلقہ وفاقی وصوبائی ادارے اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے اور ڈونرز ایجنسیوں کے نمائندے شامل ہوں گے۔ ٹاسک فورس ایمرجنسی پلان اور عملدرآمدی منصوبہ بندی تیار کرے گی جس کے لئے ایف سی اور پاک فوج کی معاونت بھی حاصل کی جائے گی۔ 
()()() 
خبرنامہ نمبر33772018 
کوئٹہ 12دسمبر :۔صوبائی مشیر کھیل وثقافت عبدالخلاق ہزارہ نے کہاکہ موجودہ صو بائی حکومت وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال خان کی قیادت میں صوبے سے اقربا بروپر ی ، تعصب بلوچ ،پشتون اور ہزارہ نعرے سے بلاتر ہو کر بلوچستان کے عوام کے تمام مسائل کے حل کے لیئے بھر پور جد وجہد کرے گی اور ماضی کی حکومتوں سے عوام کی شکایت کے از الے کیلئے اقدامات اُٹھا ئے گی ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے گورنمنٹ ہزارہ سو سائٹی ہائی اسکول کی سالانہ تقریب تقسیم انعامات کے موقع پر اساتذہ اور طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔انہوں نے کہا کہ طلبہ مستقبل کے معمار ہیں ۔ان کو اعلیٰ تعلیم کی سہو لیات کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لئیے تمام دستیاب و سائل بر وئے کار لائے جا ئینگے ۔صوبائی مشیر نے کہا کہ ترقی یافتہ معاشرے کی پہچا ن اس کے درس وتدریس کے نظام سے کی جا تی ہے ۔ہمیں بھی اپنے تعلیمی اداروں کو مزید مضبود اور مستحکم کرنا ہوگا تاکہ ہم ترقی یافتہ معاشروں میں شامل ہو سکے ۔انہوں نے اساتذہ کرام سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ طلباء کو تعلیم کے ساتھ ساتھ انکی تربیت جدید تقاضوں پر آہنگ کرنے کے لئے بھرپور کردار اداکریں ۔طلبہ کے مستقبل پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو گا ۔صوبائی مشیر نے کہا کہ تعلیمی پسمانددگی کے خاتمے کے لئیے ہر فرد کو اپنا کردار اداکرنا ہو گا انہوں نے طلباء کو تلقین کرتے ہوئے کہا کہ وہ اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لئیے محنت اور لگن سے اپنی تمام تر تو جہ تعلیم پر مرکو ز رکھیں تاکہ ہم ایک پڑے لکھے صحت مند اور تعصبات سے پاک معاشرے کی تشکیل کیلئے راہ ہموار کر سکیں ۔تقریب کے آخر میں صوبائی مشیر نے اساتذہ اور طلبا ء میں انعامات تقسیم کیں۔
()()()
خبرنامہ نمبر3378/2018 
کوئٹہ 12دسمبر :۔ صوبائی مشیر تعلیم محمد خان لہڑی نے کہا ہے کہ تعلیم میں تحقیق وقت کی اہم ضرورت ہے۔ موجودہ حکومت تحقیق کی اہمیت سے بخوبی آگاہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبے سکولوں میں سائنس لیبارٹریوں اور جدید تحقیقاتی سینٹروں کا قیام جلد عمل میں لایا جائیگا۔ اس سلسلے میں صوبائی وزیراعلی جام کمال خان خصوصی دلچسپی رکھتے ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے یہاں وزیر داخلہ میر سلیم احمد کھوسہ سے ملاقات کے دوران کیا۔ ملاقات میں باہمی دلچسپی سمیت مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر صوبائی مشیر تعلیم حاجی محمد خان لہڑی نے کہا کہ سابق حکمرانوں نے تعلیمی ایمرجنسی کے نام پر قوم کو دھوکہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ نظام تعلیم کی ترقی اور محکمہ تعلیم کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لئے ہم سب کو مل جل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ اساتذہ والدین اور طالب علم ملکر تعلیمی نظام کی بہتری میں اپنا کردار ادا کریں۔ اور متعلقہ ڈی ای او صاحبان کو اپنے علاقے میں ہونے والی غفلت کے حوالے سے فوراً آگاہ کریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ محکمہ تعلیم میں غفلت کے مرتکب اساتذہ کے خلاف سخت ترین کاروائی عمل میں لائی جائے گی اور کسی سے بھی کسی بھی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔ انہوں نے وزیر داخلہ سلیم احمد کھوسہ سے بلوچستان اسینشل ایجوکیشن ایکٹ 2018 کے حوالے سے بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا اور وزیر داخلہ نے مجوزہ قانون کے نفاذ اور اس پر عملدرامد کے حوالے سے انہیں مکمل تعاون کا یقین دلایا۔
()()()

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Post comment