خبرنامہ نمبر 3363/2018
کوئٹہ 11دسمبر :۔وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے کہا ہے کہ اگر ہم صوبے کے لئے کوئی ایک بڑا کام کرسکتے ہیں تو وہ نئی نسل کے لئے معیاری تعلیم کی فراہمی ہے، جو قومیں تعلیمی طور پر پسماندہ رہ جاتی ہیں وہ کبھی ترقی نہیں کرسکتیں اور جن قوموں میں اچھے اساتذہ نہیں ہوتے ہیں وہ ترقی کی دوڑ میں پیچھے رہ جاتی ہیں۔ ماضی میں تعلیم پر سمجھوتہ کرنے اور تعلیمی نظام کی خامیوں کی وجہ سے تعلیمی پسماندگی میں اضافہ ہوا تاہم موجودہ حکومت تعلیم پر سمجھوتہ نہیں کرے گی اور نہ ہی کسی مصلحت کا شکار ہوگی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے وزیراعلیٰ لیپ ٹاپ سکیم کے تحت مکران ڈویژن اور نوشکی کے مختلف تعلیمی اداروں سے تعلق رکھنے والے طلباء اور طالبات میں لیپ ٹاپ تقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ صوبائی وزراء سردار عبدالرحمن کھیتران، میر ظہور احمد بلیدی، میر محمد خان لہڑی، میر ضیاء لانگو، میر نصیب اللہ مری، میر سلیم کھوسہ، نومنتخب رکن صوبائی اسمبلی عبدالرشید بلوچ، وزیراعلیٰ کے معاونین خصوصی منظور احمد کاکڑ، کیپٹن ریٹائرڈ عبدالخالق اچکزئی، میر رامین محمد حسنی اور حسنین ہاشمی بھی اس موقع پر موجود تھے۔ یوتھ موبلائزینش مہم کے تحت ان طلباء اور طالبات کو اسلام آباد، پشاور اور ایبٹ آباد کے مختلف تعلیمی اداروں کا دورہ کرایا گیا جبکہ وزیراعظم عمران خان اور چیئرمین سینٹ محمد صادق سنجرانی نے طلباء سے خصوصی ملاقات کی۔ وزیراعلیٰ نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہم گھر کی تعمیر کے لئے اچھے معمار ڈھونڈتے ہیں اور علاج کے لئے ماہر ڈاکٹر کے پاس جاتے ہیں تاہم بدقسمتی سے قوم کی تعمیر کے لئے استادوں کے انتخاب میں معیار کا خیال نہیں رکھا جاتااور یہ بھی ہماری بدقسمتی ہے کہ استاد تدریس کا پیشہ سکھانے کے لئے نہیں صرف نوکری کے حصول کے لئے اپناتا ہے اور ڈاکٹر بھی انسانیت کی خدمت کا جذبہ نہیں رکھتے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ جس گاؤں میں اچھے ٹیچر ہوں گے اس گاؤں کے طلباء تعلیمی میدان میں آگے ہوں گے لیکن اگر استاد بھی سفارش پر تعینات ہوں گے تو پھر اچھائی کی امید نہیں کی جاسکتی اور یہ عمل پورے نظام کی خرابی کا باعث بنے گا۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ حکومت گورننس اور تعلیم میں بہتری لانے کی کوشش کررہی ہے طلباء بھی اس میں اپنا کردار ادا کریں کیونکہ آئندہ دس سالوں میں یہ فیصلے آج کی نوجوان نسل کو کرنا ہوں گے اور ان پر بھاری ذمہ داریاں آئیں گی اس لئے ان کی بہتر خطوط پر تعلیم اور تربیت ضروری ہے وزیراعلیٰ نے کہا کہ کسی فرد کو ایک اچھا انسان بنانے میں بڑا وقت لگتا ہے بچپن سے لے کر تعلیم کی تکمیل تک تیس سال سے زائد وقت درکار ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عمارتیں تو بن جاتی ہیں اور قدرتی آفات کے بعد قومیں پھر سے اپنے پیروں پر کھڑی ہوجاتی ہیں لیکن سب سے بڑا کام قوم اور نوجوانوں کی تعمیر سازی ہے، وزیراعلیٰ نے کہا کہ سیکھنے کا عمل تمام عمر جاری رہتا ہے اور یوتھ موبلائزیشن مہم کا مقصد بھی یہی ہے کہ بلوچستان کے طلبا اور طالبات کو سیکھنے کے مواقع فراہم کئے جائیں جو ان کی عملی زندگی میں کام آئیں گے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ نوجوانوں نے اپنے دوروں اور مختلف شخصیات سے ملاقاتوں کے دوران کچھ نہ کچھ ضرور حاصل کیا ہوگا اور یہ مشاہدہ بھی کیا ہوگا کہ دیگر صوبے تعلیم اور دیگر شعبوں میں ہم سے آگے ہیں اس حوالے سے ان کے ذہن میں سوالات بھی پیدا ہوئے ہوں گے اور اس فرق کی بنیادی وجہ بھی ان کی سمجھ میں آئی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ طلباء کے اندر پیدا ہونے والی یہ سوچ ان کے علاقے اور صوبے کے مفاد میں ہوگی اور مستقبل کی منصوبہ بندی میں کارآمد ثابت ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ہماری کوشش ہے کہ پرائمری اور سیکنڈری سطح کی تعلیم کو مضبوط بنیادوں پر استوار کیا جائے کیونکہ اگر بنیادی تعلیم اچھی ہوگی تو کالج اور یونیورسٹی کی سطح پر ہمارے طلبا وطالبات بہتر کارکردگی دکھاسکیں گے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ کوئی بھی انسان وقت ضائع نہیں کرتا اور وہ جس حال میں بھی ہو وقت اسے سکھاتا رہتا ہے، قابلیت کا نتیجہ فوری طور پر ملنا ضروری نہیں بڑے لوگوں نے اس مقام تک پہنچنے کے لئے بہت محنت کی اور وقت کا انتظار کیا وزیراعلیٰ نے طلباء کو تلقین کی کہ وہ زندگی کے کسی بھی مرحلے پر مایوس نہ ہوں اور اچھے مقام تک پہنچنے کے لئے محنت جاری رکھیں بلوچستان کے طلباء کو دیگر صوبوں کے دورے کرانا انہیں سیاستدانوں اور ماہرین تعلیم سے ملاقاتوں کے مواقع فراہم کرنا اور لیپ ٹاپ دینے کا مقصد ان کی تعلیمی استعداد کو بڑھانا اور ان کی شخصیت سازی ہے، طلباء اپنے اندر اعتماد پیدا کریں اور ان کے اندر جو کمی رہ گئی ہے اسے دور کریں۔ بعدازاں وزیراعلیٰ، صوبائی وزراء اور معاونین خصوصی نے طلباء اور طالبات میں لیپ ٹاپ تقسیم کئے۔ وزیراعلیٰ اس موقع پر طلباء وطالبات میں گھل مل گئے اور ان سے ان کی تعلیمی سرگرمی سے متعلق بات چیت کی۔ 
()()()
خبرنامہ نمبر 3364/2018
کوئٹہ 11دسمبر: ۔صوبائی مشیر کھیل وثقافت عبدالخالق ہزارہ نے کہاہے کہ کھیلوں کے فروغ کیلئے صوبائی حکومت اقدامات اٹھا رہی ہے بلو چستان کے کھلاڑیوں میں ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں ان کی پوشیدہ صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کیلئے تمام دستیاب وسائل کو بروئے کار لائیں گے ان خیالات کا اظہار انہوں نے محکمہ کھیل کے زیراہتمام آل ہزارہ سنگ گرگ ہزارگی ثقافتی کھیل کے اختتامی تقریب کے دوران خطاب کرتے ہوئے کیاانہوں نے کہا کہ سنگ گرگ ثقافتی کھیل کوصوبائی وقومی سطح پر متعارف کرائینگے اس کھیل کے مزید فروغ اور اسکے مزید ٹورنامنٹس حکومتی سطح پر کرائے جائنیگے موجودہ صوبائی حکومت قومی سطح کے کھیلوں کے علاوہ ثقافتی کھیلوں کے فروغ اور انکی حوصلہ افزائی کے لئے بھی اقدامات کریگی ۔انہوں نے کہاکہ بلو چستان کے کھلاڑیوں نے نہ صرف ملک بلکہ دینا بھرمیں صوبے کا نام اپنی اعلیٰ صلاحیتوں کے ذریعے روشن کیا ہے موجودہ صوبائی حکومت اپنی نوجوان نسل کو صحت مندانہ سرگرمیوں کی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانے کیلئے ہر ممکن کو شش کرے گی ۔تقریب کے آخر میں صوبائی مشیر نے سنگ گرگ میں نمایا ں کاکردگی کا مظاہرہ کرنے والے کھلاڑیوں میں انعامات تقسیم کئے ۔
()()()
خبرنامہ نمبر 3365/2018
کوئٹہ 11دسمبر :۔صوبائی مشیر ایکسائز ٹیکسیشن ملک نعیم خان بازئی نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت شہری علاقوں کے ساتھ دہی علاقوں اور خاص کر صوبے کے دور افتا ہ علا قوں کی ترقی کے لیے کو شاں ہے ۔یہ بات انہوں نے اپنے آفس میں آئے ہوئے مختلف وفود سے بات چیت کرتے ہوئے کیا ۔اس موقع پر اسپورٹس سے تعلق رکھنے والے مختلف امور اور PSFکے صوبائی صدر ملک انعام کا کڑ ،اور سیکر ٹری جنرل ملک سنگین خان کی قیادت میں طلبہ کی ایک بڑی تعداد موجود تھی ۔وفود سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی مشیر یکسائز اینڈ ٹیکسیشن ملک نعیم خان بازئی نے کہا کہ عوام کی فلاح او ربہبوداو رترقی و خوشحالی کے لیے ٹھوس منصوبہ بندی کی جائیگی تاکہ عوام کے بنیادی مسائل کو حل کرکے عوام کے مسائل سے چھٹکا رہ دیا جا سکے ۔صوبا ئی وزیر نے اپنے حلقے میں سپورٹس کے حوالے سے وفد کو یقین دہا نی کراتے ہوئے کہا کہ اپنے حلقے میں اسپورٹس جسے مثبت اقدام کی حوصلہ افزائی کی جائیگی تاکہ علاقے اسپورٹس مقابلو ں کی مدد میں لے جانے سے امن کا پیغام پھلائیں طلبہ کے وفد سے بات چیت کرتے ہوئے صوبائی مشیر نے کہا کہ طلبہ ہمارے قوم کے معمارہیں ۔معاشرے کو صیح سمت میں لے جانے اور معاشرے میں امن کا پیغام پھلا نے میں طلبہ کا ایک اہم کردار ہے تمام طلبہ اپنی پڑ ھائی پر خاص دھیان دیں کیو نکہ آنے و الے وقتوں میں زمہ داریاں جو آج ہمارے کندوں پر ہے کل اپنی طلبہ کے کندھوں پر آئیگی۔ اس موقع پر صابق صوبائی وزیر سلطان ترین سابق صوبائی عبدلعمد اخو ند زادہ ،بلال کاکڑ نو بزادہ صا بہ جو یگز ئی ،ملک نو راللہ ،رفیح اللہ کا کڑ نے بھی صوبائی مشیر سے ملا قات کی اور اپنے علاقے کے مختلف مسائل کے بارے میں تبادلہ خیال کیا ۔
()()()
خبرنامہ نمبر 3366/2018
نصیرآباد11دسمبر :۔محکمہ تحفظ ماحولیات حکومت بلوچستان کے زیراہتمام اسمبلی ہال ڈیرہ مرادجمالی میں ایک روزہ سمینار کا انعقاد کیا گیا رسمینارکے مہمان خصوصی ڈپٹی کمشنر نصیرآباد قربان علی مگسی تھے سمینارمیں چیئرمین میونسپل کمیٹی غلام نبی عمرانی،محکمہ تحفظ ماحولیات کے ڈپٹی ڈائریکٹر فتح خان خجک،ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر حفیظ اللہ کھوسہ ،سمیت دیگر آفیسران ،شہریوں،خواتین ،طلبہ وطالبات نے کثیرتعدادمیں شرکت کی سمینار میں بچوں نے ملی نغمے،ٹیبلو،اورتقاریر کے ذریعے ماحولیاتی آلودگی پر روشنی ڈالی،اس سے قبل مہمان خاص ڈپٹی کمشنر جب اسمبلی ہال پہنچے تو ہیڈماسٹرعلی احمدماندائی کی نگرانی میں سکاؤٹس کے بچوں نے ان کا والہانہ استقبال کیاان پر پھولوں کی پتیاں نچھاورکی سمینار سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنرنصیرآبادقربان علی مگسی چیئرمین میونسپل کمیٹی ڈیرہ مرادجمالی غلام نبی عمرانی،محکمہ تحفظ ماحولیات کے ڈپٹی ڈائریکٹر فتح خان خجک، اسسٹنٹ ڈپٹی ایجوکیشن آفیسرعبدالغفار ، پروفیسرمحمدا براہیم ابڑونے کہاکہ ماحولیات آلودگی آج دنیابھرکے لئے ایک سنگین مسئلہ بن چکا ہے سموگ نے اب پاکستان کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے جس کے تدارک کیلئے حکومت ہنگامی بنیادوں پرا قدامات کررہی ہے نصیرآباد ڈویژن میں بارشیں نہ ہونے کے باعث دھندلا بادل کے ممکنہ خدشات ہیں جوکہ نہ صرف آنکھوں میں شدیدتکلیف دیتے ہیں بلکہ حدنگاہ میں بھی خطرناک باعث بن سکتا ہے سموگ پھیپھڑوں کی بیماری کا بھی سبب بنتاہے عوام کوچاہیے کہ وہ گلی محلوں کے ساتھ ساتھ گھروں کی صفائی ستھرائی پر خصوصی توجہ دیں مٹی والی جگہوں پر پانی کا چھڑکاؤکریں تاکہ آلودگی سے بچاجاسکے ماحولیاتی آلودگی بلخصوص بچوں میں بھی خطرناک ثابت ہوسکتی ہے انہوں نے کہاکہ سموگ دھندلا بادل کے خاتمے کیلئے عوام ذیادہ سے ذیادہ درخت لگائی تاکہ سموگ سے نجات مل سکے اورسموگ سے بچاؤ کے تدابر بھی مکمل عملدآمدکریں گھروں کی کھڑکیاں بند رکھیں حسب ضرورت بازارمیں رہیں منہ پرفلٹریا ماسک کے استعمال کو ضروری بنائیں تاکہ مٹی گردوغبارسے بچاجاسکے آنکھوں پرچشمے کا استعمال کریں ہاتھوں کو صابن سے صاف کریں انہوں نے کہاکہ حکومت عوام میں شعورآگاہی فراہم کیلئے ہمہ وقت کوشاں ہے سموگ نے چائنہ اوریورپ کے بعداب پوری دنیاکو جکڑرکھا ہے صنعتی علاقوں میں سموگ ذیادہ دیکھی جاسکتی ہے فیکٹریوں کے دھویں اوردرختوں کی ذیادہ کٹائی کے باعث آج لوگ پریشان حال ہیں انہوں نے کہا کہ آج شعورآگاہی کم ہونے کے باعث عوام پلاسٹک سمیت دیگر کچرے کو زمین میں دبانے کے بجائے انہیں جلادیتے ہیں جس کے سبب گندہ دھواں ہمارے پھیھڑوں کو بری طرح متاثرکرتا ہے جنگلات کی کٹائی سے قدرتی حسن ختم ہوتاجارہا ہے جب تک ذہنی آلودگی ختم نہیں کی جاتی تب تک زمینی آلودگی ختم نہیں ہوسکتی اسی لئے ماحولیاتی آلودگی کے خاتمے کیلئے ہم سب کو ملکرکا م کرنا ہوگا اسی میں ہم سب کی کامیابی ہے ۔
()()()
خبرنامہ نمبر 3367/2018
کوئٹہ 11دسمبر؛۔وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال خان کی خصوصی ہدایت پر کوئٹہ شہر میں اپنی نوعیت کے پہلے سولر پورٹیبل ٹریفک سگنل کی تنصیب آزمائشی بنیادوں پر کردی گئی ہے۔اپنی نوعیت کا پہلا یہ سولر ٹریفک سگنل شہر بھر کے سروے اور سٹڈی کے بعد ابتدائی طور پرجعفر خان جمالی چوک نزد پوسٹل کالونی گرلز سکول پر نصب کیاگیا ہے۔اس حوالے سے کمشنر کوئٹہ ڈویژن اور ایس ایس پی ٹریفک کوئٹہ نے وزیر اعلیٰ بلوچستان کی خصوصی ہدایت پر فوری طور پر عمل کرتے ہوئے ٹریفک سگنلز کی آزمائشی تنصیب کو ممکن بنایا جسکی کامیابی کے بعد اس طرح کے سگنلز شہر بھر میں نصب کئے جائیں گے۔تاکہ شہر پر بڑ ھتے ہوئے ٹریفک کا دباو کنٹرول میں رہے اور ٹریفک کے بہاو میں کسی قسم کا تعطل پیدا نہ ہو واضح رہے کہ کوئٹہ شہر میں ٹریفک سگنلز نہ ہونے کی وجہ سے جہاں ٹریفک کے مسائل پیدا ہورہے ہیں۔وہاں اسکولوں اور دفتری اوقات میں ٹریفک کنٹرول کرنے میں کافی مشکلات بھی حائل رہتی ہیں۔ان مسائل سے نمٹنے کیلئے پورٹیبل ٹریفک سگنل کی تنصیب آزمائشی بنیادوں پر کر دی گئی ہے جو با آسانی ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کئے جاسکتے ہیں۔جبکہ شمسی شعا عوں سے چلنے کے باعث ان میں مسلسل کام کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔اس موقع پر ایس ایس پی ٹریفک نزیر احمد کرد نے بتایا کہ اس پروجیکٹ کی کامیابی کے بعد یہ ٹریفک سگنل شہر بھر نصب کئے جائیں گے۔جو یقیناًٹریفک کے مسائل کے حل میں معاون ہوں گے۔عوام کی جانب سے بھی اس آزمائشی پروجیکٹ کوخصو صی طور پر سرا ہا گیا ہے۔
()()()
خبرنامہ نمبر 3368/2018
کوئٹہ 11دسمبر :۔ صوبائی مشیر تعلیم محمد خان لہڑی نے کہا ہے کہ تعلیم میں تحقیق وقت کی اہم ضرورت ہے۔ موجودہ حکومت تحقیق کی اہمیت سے بخوبی آگاہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبے سکولوں میں سائنس لیبارٹریوں اور جدید تحقیقاتی سینٹروں کا قیام جلد عمل میں لایا جائیگا۔ اس سلسلے میں صوبائی وزیراعلی جام کمال خان خصوصی دلچسپی رکھتے ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے یہاں وزیر داخلہ میر سلیم احمد کھوسہ سے ملاقات کے دوران کیا۔ ملاقات میں باہمی دلچسپی سمیت مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر صوبائی مشیر تعلیم حاجی محمد خان لہڑی نے کہا کہ سابق حکمرانوں نے تعلیمی ایمرجنسی کے نام پر قوم کو دھوکہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ نظام تعلیم کی ترقی اور محکمہ تعلیم کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لئے ہم سب کو مل جل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ اساتذہ والدین اور طالب علم ملکر تعلیمی نظام کی بہتری میں اپنا کردار ادا کریں۔ اور متعلقہ ڈی ای او صاحبان کو اپنے علاقے میں ہونے والی غفلت کے حوالے سے فوراً آگاہ کریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ محکمہ تعلیم میں غفلت کے مرتکب اساتذہ کے خلاف سخت ترین کاروائی عمل میں لائی جائے گی اور کسی سے بھی کسی بھی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔ انہوں نے وزیر داخلہ سلیم احمد کھوسہ سے بلوچستان اسینشل ایجوکیشن ایکٹ 2018 کے حوالے سے بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا اور وزیر داخلہ نے مجوزہ قانون کے نفاذ اور اس پر عملدرامد کے حوالے سے انہیں مکمل تعاون کا یقین دلایا۔
()()()

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Post comment