خبرنامہ نمبر106/2019 
کوئٹہ 11جنوری :۔وفاقی حکومت نے معدنی وسائل کی تلاش وترقی کے منصوبوں اور اس حوالے سے مختلف کمپنیوں کے ساتھ معاہدوں میں بلوچستان کے حق اور اختیارات تسلیم کرتے ہوئے یقین دلایا ہے کہ معدنیات کی تلاش وترقی کے معاہدوں میں صوبائی حکومت کو اعتماد میں لیا جائے گا اور صوبے کے معدنی وسائل سے مختلف مدات میں حاصل ہونے والی آمدنی سے بلوچستان کو اس کا پورا حصہ دیا جائے گا جبکہ وفاقی وصوبائی حکومت نے صوبے کی معدنیات کی تلاش وترقی کے منصوبوں اور معاہدات سے متعلق تمام امور کو باہمی اتفاق رائے سے طے کرنے پر اتفاق کرتے ہوئے متعلقہ وفاقی وصوبائی حکام پر مشتمل ورکنگ گروپ تشکیل دینے کا فیصلہ کیا ہے، جوائنٹ ورکنگ گروپ سوئی مائننگ لیز ،لائسنسنگ زونز اور 18ویں ترمیم، پٹرولیم پالیسی اور آئین کے آرٹیکل3) 172( اور 158 کے تحت بلوچستان کے حقوق کے تحفظ سمیت دیگر متعلقہ امور طے کرے گی اور اس ضمن میں بلوچستان کے تحفظات کو دور کیا جائے گا، ورکنگ گروپ ایک ماہ کے اندر تمام امور طے کرکے اپنی رپورٹ پیش کرے گا، اس بات کا فیصلہ جمعہ کے روز وزیراعلیٰ سیکریٹریٹ میں منعقد ہونے والے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں کیا گیا، وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان ، وفاقی وزیر پٹرولیم چوہدری غلام سرور خان، ڈپٹی اسپیکر صوبائی اسمبلی بابر خان موسیٰ خیل، صوبائی وزراء میر نصیب اللہ مری، میر ظہور احمد بلیدی، میر سلیم خان کھوسہ، میر عمر خان جمالی، میر ضیاء اللہ لانگو، زمرک خان اچکزئی، نورمحمد دمڑ، رکن صوبائی اسمبلی مبین خان خلجی، متعلقہ صوبائی سیکریٹریز اور وزارت پٹرولیم کے حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔اجلاس میں سوئی مائننگ لیز کی توسیع، پٹرولیم پالیسی اور آئین کی متعلقہ شقوں کے تناظر میں صوبائی حکومت کے اختیارات، معدنیات کے حامل علاقوں میں مائننگ اور ایکسپلوریشن کے لائسنسوں کے اجراء اور معاہدات کے طریقہ کار اور ان مدات میں حاصل ہونے والی آمدنی میں بلوچستان کے حصے ، ایل پی جی پلانٹس کی تنصیب کے منصوبے ، سیندک منصوبے کے لئے مائننگ ایریا کی توسیع، بلاک 28 میں معدنیات کی تلاش وترقی کے منصوبے، صوبے کے مختلف علاقوں میں گیس پریشر اور گھریلو صارفین کے لئے گیس کے نرخ میں کمی، پی ایم ڈی سی سے متعلق امور، اوجی ڈی سی ایل، پی پی ایل اور گیس کی تقسیم کار کمپنیوں میں بلوچستا ن کی نمائندگی اور ان اداروں میں بلوچستان کے لوگوں کو روزگار کی فراہمی سے متعلق امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا، اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ وفاقی حکومت نے صوبائی حکومت کو ایک بلاک میں مائننگ کے حقوق دیئے ہیں تاہم ہماری خواہش ہے کہ مزید دو بلاک کے حقوق صوبائی حکومت کو دیئے جائیں کیونکہ جن علاقوں میں ایکسپلوریشن کا آغاز ہوتا ہے وہاں پر روزگار کے مواقع اور معاشی سرگرمیاں شروع ہوجاتی ہیں، انہوں نے کہا کہ بلوچستان عوامی پارٹی اور پاکستان تحریک انصاف وفاق اور صوبے میں ایک دوسرے کے اتحادی ہیں، وفاقی اور صوبائی حکومت باہمی تعاون کی ایک اچھی مثال قائم کریں گی، ہمیں کشادہ دلی کے ساتھ آگے بڑھنا ہے، انہوں نے کہا کہ ماضی میں بھی اعلیٰ سطحی اجلاسوں میں فیصلے کئے جاتے تھے لیکن اب جو بھی فیصلے ہوں ان پر عملدرآمد ہونا چاہئے، وفاق تمام اکائیوں کو ساتھ لے کر چلے تو وفاق اور صوبوں کے درمیان اختلاف کا تاثر پیدا نہیں ہوگا، وزیراعلیٰ نے اس موقع پر صوبے کے مختلف اضلاع میں ایل پی جی پلانٹس کی تنصیب کے منصوبے کی جلد تکمیل پر زور دیا، وفاقی وزیر پٹرولیم نے وزیراعلیٰ کے موقف سے مکمل اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ اوجی ڈی سی ایل اور پی پی ایل کو معدنیات کی تلاش وترقی کے منصوبوں اور معاہدات میں صوبائی حکومت کے ساتھ شراکت داری کا پابند کیا جائے گا اور بلوچستان کے حقوق ومفادات کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے گا۔ 
()()()
خبرنامہ نمبر107/2019 
کوئٹہ 11جنوری :۔وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے بزرگ سیاستدان سابق وزیراعظم پاکستان الحاج میر ظفراللہ جمالی کی علالت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ان کی جلد اور مکمل صحتیابی کے لئے نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے۔
()()()
خبرنامہ نمبر108/2019 
لورالائی11جنوری :۔سیکرٹری آر ٹی اے ژوب ڈویژن اسسٹنٹ کمشنر ریوینو حضرت ولی کاکڑ سے ٹرانسپورٹ یونین کے عہداداروں اور ٹرانسپورٹ مالکان نے ملاقات کی جس میں کوئٹہ کے صدر نذیر بازئی ،یوسف کاکڑ ، سماجی رہنما افضل خان کاکڑ، قلعہ سیف اللہ کے نسیم سنزرخیل ،نائب صدر عبداللہ میرزئی ،ژوب کے صدر شیرزمان ،عبدالباری ،کلا خان ،سنجاوی یونین کے صدر صورت خان کاکڑاور دیگر شامل تھے ۔اس موقع ٹرانسپورٹ مالکان نے سیکرٹری آر ٹی اے کو ژوب ڈویژن میں ٹرانسپورٹ کو درپیش مسائل سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ اس وقت کوئٹہ سے براستہ لورالائی اور ژوب غیر قانونی ڈائیوسروس چلائی جارہی ہیں جو لوکل سواری بھی اٹھاتے ہیں جوکہ مقامی اور لوکل ٹرانسپورٹرز کے ساتھ ناانصافی ہے سیکرٹری آر ٹی اے حضرت ولی کاکڑ نے ا س موقع پر کہا کہ حکومت ٹرانسپورٹرز اور مسافروں کو ہر ممکن سہولیات کی فراہمی کی کوشش کر رہی ہے کسی کو غیر قانونی طور پر گاڑیا ں چلانے کی اجازت نہیں دیں گے تمام ٹرانسپورٹرز مالکان 10دن کے اندراپنے روٹ پرمٹ کی تجدید کریں 2006ء سے پہلے والے ماڈل کی گاڑیاں تبدیل کریں سرچ لائٹ استعمال نہ کریں زیادہ سواری بٹھانے اور اوورلوڈنگ سے گریز کریں ۔سیکرٹری آر ٹی اے نے ٹرانسپورٹرز کے مسائل حل کرنے اور اس حوالے سے حکام بالا سے بھی رابطہ کرنے کی یقین دہائی کرائی ۔
()()()
خبرنامہ نمبر109/2019 
نصیر آباد11جنوری :۔ڈپٹی کمشنر نصیرآبادقربان علی مگسی نے گوٹھ میواخان بگٹی کا اچانک دورہ کیا اس مو قع پر کافی عرصے سے بندپرائمری سکول کھلوا کرٹیچرتعینات کردیا جبکہ طلباء کو کتابیں ،بیگ، پنسل ،قلمیں، اورقومی پرچم دے دیا اس موقع پرگوٹھ میوہ خان بگٹی کے معتبرین معززین نے ڈپٹی کمشنر قربان علی مگسی کا شکریہ اداکیا کہ ان کی ذاتی کوششوں سے ہمارے بند سکول کو کھلواکرایک استاد کو تعینات کروادیا ہے ہم ان کے انتہائی مشکورہیں ڈپٹی کمشنر قربان علی مگسی نے علاقہ مکینوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہاکہ یہ میرے فرائض میں شامل ہے صوبائی حکومت کے تعلیمی دوست وژن کو عملی جامعہ پہنا رہے ہیں جہالت کے خاتمے اورپڑھے لکھے ماحول کیلئے ہم سب کو ملکرکام کرنا ہوگاپڑھالکھا خوشحال بلوچستان حکومت کا وژن ہے جس کیلئے تمام مکتبہ فکرسے تعلق رکھنے والے افراد کواپنا کلیدی کرداراداکرناہوگا اپنے بچوں کو سکول میں داخل کروائیں تاکہ صوبے سے جہالت کے اندھیرے ختم اورترقی کے نئے سفرکاآغازکیا جاسکے نصیرآباد میں تعلیم کو فروغ دینا اولین ترجیحات میں شامل ہیںیہی وجہ ہے کہ ذاتی طورپرہرروزضلع کے سکولوں کادورہ کرکے تعلیم معیارکابغورجائزہ لیتا ہوں اوران کے مسائل معلوم کرکے حل کرنے کی بھرپورکو شش کرتے رہیں گے ضلع میں تعلیمی معیارپرکوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گابچوں کے مستقبل سنوارنے کیلئے کوئی کسرنہیں چھوڑئی جائے گی انہیں تعلیم زیورسے آراستہ کرنے کیلئے تمام وسائل بروئے کارلاجارہے ہیں۔
()()()
خبرنامہ نمبر110/2019 
کوئٹہ11جنوری :۔صوبائی وزیر داخلہ،قبائلی امور و پی ڈی ایم اے میر ضیاء اللہ لانگو نے کہا ہے کہ پولیس، لیویز اور دیگر سیکیورٹی اداروں کا امن وامان کے قیام اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کردار اور قربانیاں قابل تحسین ہیں ۔ محکمہ پولیس اور لیویز کو جدید اسلحہ سے لیس کیا گیا ہے تاکہ وہ عوام کے جان و مال کی تحفظ کو یقینی بناتے ہوئے شہر کوئٹہ سمیت صوبہ بھر میں چوری ڈکیتی میں ملوث مجرموں اور دیگر جرائم پیشہ افراد کے خلاف بھرپور کارروائی کرتے ہوئے انہیں قانون کے کٹہرے میں لا کھڑا کریں تاکہ انہیں قرار واقعی سزا دی جا سکے ۔ انہوں نے کہا کہ پولیس، لیویز اور دیگر سیکیورٹی اداروں کے افسران اور اہلکار ایک مقدس پیشہ سے واسطہ ہیں جو سخت حالات، واقعات اور موسمی تغیرات کا مردانہ وار مقابلہ کرتے ہیں تا کہ عوام امن، سکون اور اطمینان سے رہ سکے ۔ علاوہ ازیں صوبائی وزیر داخلہ نے کہا کہ پولیس، لیویز اور دیگر سیکیورٹی اداروں کے افسران اور اہلکار اپنے فرائض کی انجام دہی میں کسی بھی قسم کی غفلت اور لاپرواہی سے دریغ کریں اور اپنے فرائض دیانتداری اور خوش اسلوبی سے انجام دیتے ہوئے عوام کا بھرپور اعتماد حاصل کریں۔ صوبائی وزیر نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ ان سیکیورٹی اداروں میں خدمات سرانجام دینے والے افسران و اہلکاروں کے پیشہ وارانہ صلاحیتوں کو بڑھانے اور ان اداروں کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے کردار ادا کریں گے تاکہ عوام کی جان و مال کی حفاظت اور امن و امان کے قیام کے ساتھ ساتھ سیکیو رٹی پر مامور افسران و اہلکار شرپسندوں اور دہشتگردی کے خلاف جنگ میں اپنے قیمتی جانوں کے تحفظ کو بھی یقینی بنا ئیں ۔
()()()
خبرنامہ نمبر111/2019 
کوئٹہ 11جنوری :۔اعجاز احمد ( بی سی ایس /بی ایس 18-) نے ڈپٹی کمشنر دکی کا چارج سنبھا ل کر کا م شروع کر دیا ۔
()()()
خبرنامہ نمبر113/2019 
کوئٹہ 11جنوری :۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ کے ایک اعلامیہ کے مطابق بشیر احمد ولدیت داد محمد لوکل سرٹیفیکٹ نمبر 5668-6/59بتا ریخ 21-11-14کوئٹہ انکی اپنی درخواست پر منسو خ کی گئی ہے ۔
()()()
خبرنامہ نمبر 112/2019
کوئٹہ 11جنوری :۔سردار بہادر خان ویمن یو نیو رسٹی کوئٹہ میں تقسیم اسناد سر ٹیفیکیٹ تقریب ہفتہ صبح 10بجے ہوگا ۔جسکے مہمان خصوصی صوبائی وزیر اطلاعات وھائر ایجو کیشن بلوچستان ظہو ر احمد بلیدی ہو نگے ۔
()()()
خبرنامہ نمبر 113/2019
زیارت 11جنوری :۔ڈپٹی کمشنر زیارت کے آفس میں پاک آرمی کی طرف سے لوگوں میں جیکٹ تقسیم کرنے کے پروگرام منعقد کیا گیا ۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر زیارت قادر بخش پرکانی ،میجر ناصر ،اور اسسٹنٹ کمشنر عبدالمجید نے زیارت کے عوام میں پاک آرمی کے طرف سے سردیوں کے جیکٹ تقسیم کئے ۔
()()()
خبرنامہ نمبر114/2019 
کوئٹہ11جنوری۔پاکستان سوسائٹی آف ہار ئیکلچر سائنس بلوچستان کا پہلا اجلاس آج زرعی تحقیقی ادارہ سریاب کوئٹہ میں منعقد ہوا ۔ جس کی صدارت ڈائریکٹر جنرل زراعت ریسرچ ڈاکٹر محمد جاوید ترین نے کی جوکہ سوسائٹی کے مرکزی نائب صدر بھی ہیں ۔ انہوں نے شرکاء کو سوسائٹی کے اغراض و مقاصد اور ریسر چ پیپر پر تفصیلی معلومات فراہم کیں کنوینئر عبدالرؤف کاکڑ ڈائریکٹر ریسرچ بلوچستان کے سوسائٹی کے بارے میں بلوچستان کے کردار پرروشنی ڈالی زراعت توسیعی کے ڈپٹی ڈائریکٹر شوکت بلوچ اور زرعی کالج کے پروفیسر سلیمان جعفر اور یسرچ کے ڈائریکٹر اختر منیر نے سوسائٹی کو فعال بنانے کیلئے مفید مشورے دیئے اور میٹنگ کے دوران یہ تہہ پایا کہ آئندہ اجلاس زرعی کالج کوئٹہ میں مارچ میں منعقد کیا جائے گا جس میں تمام ممبران اپناممبر شپ فارم پر کرکے لائیں گے اور سوسائٹی کو مزید فعال بنانے کیلئے مفید مشورے دیئے جائیں گے ۔ سوسائٹی آئندہ کے اجلا س میں BARDCا ور نرسری سے منسلک زمینداروں اور کٹ فلاور کے زمینداروں کو بھی مدعو کیا جائے گا ۔ آخر میں عبدالرؤف کاکڑ نے تمام ممبران اور شرکاء کا شکریہ ادا کیا ۔ 
()()()

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Post comment