خبرنامہ نمبر 94/2019
کوئٹہ 10جنوری :۔گورنربلوچستا ن امان اللہ خان یاسین زئی سے جمعرات کے روز گورنر ہاوس کوئٹہ میں کمسیٹس یو نیو رسٹی اسلام آباد کے وفد نے ملاقات کی ۔وفد کی قیادت ڈاکٹر تبریز کررہے تھے وفد نے گورنر بلوچستان کو کمسیٹس (COMSATS) یو نیو رسٹی اسلام آباد کی جانب سے کو ئٹہ میں اپنے کیمپس کے قیام کے حوالے سے بر یفنگ دی ۔اس موقع پر گورنر نے کہا کہ کیمپس کے قیام سے پہلے مختص جبکہ ،پانی کی دستیابی اور سیکیورٹی کے حوالے سے صیح اور معقول کریں تاکہ ہم اپنی تر جیحا ت طے کرنے کے قابل ہوسکیں اور مستقبل کے قریب میں کسی قسم کے مسائل سے دو چار نہ ہو۔
()()()
خبرنامہ نمبر 95/2019
کوئٹہ 10جنوری :۔گورنر بلو چستان امان اللہ خان یا سین زئی نے کہا کہ پیچیدہ درپیش مسائل کے پا ئیدار حل کیلئے سنجیدہ ا فوری اقدامات اٹھا نا اشد ضروری ہے ۔عوامی مسائل ومصا ئب سے نمٹنے کیلئے وسائل کی دستیابی اور فنڈز کو فراہمی اولین شرط ہے ۔گورنر نے تمام ذمہ دار سر کاری آفیسر ان پر زور د یاکہاپنے فر ائض کی ادائیگی میں سنجیدگی اور مستعدی کا مظاہرہ کریں اوراٹھا ئے گئے اقدامات کو بروقت اور نتیجہ خیز بنائیں ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کے روز گورنر ہاوس کو ئٹہ میں بی این پی (مینگل ) کے صوبائی رکن اسمبلی احمد نواز بلو چ کی قیادت میں وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔اس موقع پر انسانی حقوق (پاکستان ) کے ڈائر یکٹر جہاں آرا ء تبسم بھی موجود تھی ۔وفد سے بات چیت کرتے ہوئے گورنر بلو چستان نے کہاکہ صوبے میں پرائیوٹ سیکٹر کے فروغ واستحکام سے صوبے میں موجود غریب ، بے روز گار ی او رنا خو اندگی میں خا طرخواہ کمی آجا ئیگی ۔انہوں نے کہا کہ عوامی مسائل و مشکلات اتنی زیادہ ہیں کہ محدودو مسائل کے اندر رئیے ہوہتے ان کا قلیل المدتی حل ممکن نہیں ہے اس حوالے سے ہمیں استعد ادکار بڑھا نے کے ساتھ ساتھ طو یل المدتی منصوبندی کی ضرورت ہے اقدامات اٹھا نے کے علاوہ ہ رادارے کی کا رکردگی بھی نظر آتی چا ئیے ۔
()()() 
خبرنامہ نمبر 96/2019 
کوئٹہ 10جنوری:۔کمانڈنٹ پولیس ٹریننگ کالج محمد سلیم لہڑی نے کہا کہ بلوچستان پولیس صوبے میں امن و ان کی صورتحال کی بہتری اور دہشتگردی کے خلاف جنگ میں صف اول کا کردار ادا کر رہی ہے۔جدید تربیت اور جدید اسلحہ وآلات کی فراہمی سے پولیس کی کارکردگی میں نمایاں بہتری آرہی ہے تربیت مکمل کرنے والے جوان صوبے میں امن و امان کی بہتری اور جرائم پیشہ افراد کے خلاف اپنے فرائض منصبی نیک نیتی اور عوامی خدمت کے جذبے کے ساتھ سرانجام دے رہے ہیں۔۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے 89ویں پاسنگ آؤٹ پریڈ کے کورس مکمل کرنے والے جوانوں اور شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کا پیشہ ایک مقدس پیشہ ہے آپ اپنے فرائض منصبی ایمانداری سے ادا کرے اور اس کے تقدس پامال نہیں ہونے دیں گے۔اپنے فرائض اور طرز عمل سے عوام کے دلوں میں اپنا اعتماد پیدا کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی اپنے بلند اخلاق اور بہترین رویہ سے نیک نامی کا باعث ہوگا۔ یہ ادارہ ایک عبادت گاہ کا درجہ رکھتا ہے کیونکہ یہاں پر پولیس کے مقدس پیشے سے و ابستہ آفسران اور جوانوں کو تربیت دی جاتی ہے جو معاشرے میں جا کر عوام کی خدمت کے لئے کمربستہ ہوجاتے ہیں اورامن وامان میں خلل پیدا کرنے والے عناصر کے لئے سیسہ پلائی ہوئی دیوار ثابت ہوتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ پولیس کے کردار اور کارکردگی کی اہمیت ماضی کی نسبت اور زیادہ بڑھ گئی ہے اس طرح اس محکمہ کو درپیش اندرونی اور بیرونی مسائل کی نوعیت بھی مختلف ہیں مگر پولیس پر کام کی زیادتی کا بوجھ ہے بعض حالات میں ایسے مشکل کام کرنا ہوتا ہے جن میں ہمارے افسران اور جوانوں کی زندگی کو بھی خطرہ لاحق ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنی شخصیت جذبات احساسات رویہ اور خامیوں کے بارے میں زیادہ سے زیادہ واقف ہونے کی ضرورت ہے اور اپنے اندر اپنی زندگی کے مقصد کے لئے ایک تحریک اور قوت پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان پولیس کے بہادر افسران اور جوانوں اور شہداء پولیس کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں اور اس عہد کا اعادہ کرتا ہوں کہ ہم سب آپ کے ساتھ کھڑے ہیں اور دہشت گردی کے خلاف ہم سب ایک ہیں۔ انہوں نے کہاکہ اللہ تعالی ہم سب کو صوبے کے عوام اور ارباب اختیار کو اپنی حفظ و امان میں رکھے۔انہوں نے امید ظاہر کیا کہ جو ٹریننگ یہاں سے حاصل کر کے آپ جا رہے ہو وہ ان مقاصد کے حصول کے لئے بڑی مضبوط اور کارگردگی ثابت ہو گی اور آنے والے وقتوں میں آپ ایک نئے جوش و جذبے کے ساتھ اپنے فرائض منصبی کے لیے ایک قیمتی اثاثہ ثابت ہونگے انہوں نے کہا کہ یہ بات قابل تعریف ہے کہ دوسرے صوبوں کے مقابلے میں کم وسائل کے باوجود بہترین تربیت حاصل کررہے ہیں۔ قبل ازں کمانڈنٹ پی ٹی سی نے پاسنگ آؤٹ پریڈ اور تربیت کا عملی مظاہرہ کرنے کا معائنہ کیا۔کورس کے اختتام پر اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے افسران اور جوانوں میں شیلڈ تقیم کیئے۔ 
()()()
خبرنامہ نمبر 97/2019
نصیرآباد10جنوری:۔ڈپٹی کمشنر نصیرآبادقربان علی مگسی نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت تعلیم کے فروغ کے لئے کوئی کسر نہیں چھوڑ رگئی صوبے بھر میں تعلیمی ماحول پیدا کیا جارہا ہے تاکہ ملک کے ہونہار تعلیم کے زیور سے آراستہ ہوسکیں اساتذہ سکولوں میں اپنی حاضری کو یقینی بنائیں بصورت دیگر ان کے خلاف محکمانہ کاروائی عمل میں لائی جائے گی اور ناہی متبادل کام کرنے والے افراد کو برداشت کیا جائے گا اب تعلیم کی فراہمی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اساتذہ کو معاشرے میں اہم مقام حاصل ہے وہی ملک کے مستقبل کو علم کے زیور سے آراستہ کرتے ہیں کیونکہ تعلیم کے بغیرترقی یافتہ معاشرے کا خواب شرمندہ تعبیرنہیں ہوسکتا صوبائی حکومت کی علم دوست پالیسیوں کو ضلعی انتظامیہ عملی جامعہ پہنا رہی ہے ان خیالات کا اظہار انہوں تحصیل تمبو میں مڈل سکول دلمراد گولہ سمیت دیگر سکولز کے دورے کے موقع پر بات چیت کرتے ہوئے کیااس موقع پر ایکسین بی اینڈ آر محمد صلاح رند.ڈی ای اوڈی ڈی او تمبو اور ڈی ڈی او تمبو فیمیل ایجوکیشن سمیت دیگر آفیسران بھی ان کے ہمراہ تھے ڈپٹی کمشنر قربان علی مگسی نے کہاکہ ضلعی انتظامیہ بند سکولوں کو کھولنے کے لئے ہمہ وقت کوشاں ہے کسی کو یہ اجازت ہرگز نہیں دی جائے گی کہ وہ سکول کو اپنی بیٹھک میں تبدیل کر دے ایسے افراد کے خلاف بھرپور انداز میں قانونی کارروائی کی جائے گی انہوں نے کہاکہ صوبائی حکومت تعلیم اور صحت کے فروغ کے لئے عملی طور پر جدوجہد کر رہی ہے وزیر اعلی بلوچستان جام کمال خان کے احکامات کو عملی جامہ پہنانے کے لئے ہم دن رات محنت کررہے ہیں تاکہ یہاں کے عوام کو تعلیم اور صحت کی سہولیات فراہم کی جاسکیں صحت کے شعبے میں بہتری لانے کیلئے ضلع بھر کی تمام بی ایچ یوز اور ڈی ایچ کیو کا گاہے بگاہے دورے کرتا رہوں گاتاکہ خامیوں کا جلدازجلد دور کیا جاسکے اور عوام کو صحت مندانہ زندگی فراہم کی جاسکے۔
()()()
خبرنامہ نمبر 98/2019
کوئٹہ 10 جنوری :۔صوبائی وزیر ٹرانسپورٹ محمد عمر جمالی نے کہا ہے کہ کوئٹہ شہر میں لوکل بسوں کی حالت زار بہتر بنانے کے لئے ایک جامع پالیسی مرتب کی جائے گی جس کا براہ راست فائدہ عوام کو سفر کی بہترین سہولیات کی صورت میں میسر آسکے گا ۔ لو کل بسوں ،رکشوں اور دیگر تمام گاڑیوں کا ریکارڈ کمپیوٹرائزڈ ہونے سے ریونیو میں خاطر خواہ اضافہ ہو گا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی کوئٹہ کے آفس میں لوکل ٹرانسپورٹ کی بہتری کے حوالے سے دیئے گئے بریفنگ کے موقع پر کیا اس موقع پر صوبائی سیکرٹری ٹرانسپورٹ صالح بلوچ سیکرٹری پی ٹی اے بلوچستان ظفر بلوچ سیکرٹری آر ٹی اے کوئٹہ حبیب اللہ خان کے علاوہ دیگر افسران بھی موجود تھے سیکرٹری آر ٹی اے نے صوبائی وزیر ٹرانسپورٹ کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ لوکل بسوں کی کنڈیشن کے حوالے سے تمام روٹ کی لوکل بسوں کی کنڈیشن کا معائنہ کرنے کا عمل مکمل کر لیا گیا ہے اس کے بعد ایک جامع پالیسی بھی مرتب کر کے اعلی حکام کو بھجوایا جائے گا شہر میں غیر قانونی اور دو نمبر رکشوں کے خلاف وقتافوقتا کارروائی عمل میں لائی جا رہی ہے ریونیو میں اضافہ کے لئے چیکنگ کے نظام اور جدید طرز پر کمپیوٹرائز روٹ پرمٹ کے اجرا پر بھی کام جاری ہے اس کے علاوہ عدالت عالیہ کے حکم اور کمشنر کوئٹہ ڈویڑن کی ہدایت پر قومی شاہراہوں پر حادثات کی روک تھام کے سلسلے میں ہفتہ وار کارروائیاں بھی عمل میں لائی جا رہی ہیں۔ان کاروائیوں میں پبلک اور مال بردار گاڑیوں پر لگی سرچ لائٹس اتارنے کے علاوہ اور لوڈنگ کرنے والی مال بردار گاڑیوں کا بھی چالان کیا جا رہا ہے۔ صوبائی وزیر ٹرانسپورٹ نے اس موقع پر کہا کہ صوبے میں ٹرانسپورٹ کا شعبہ اہمیت کا حامل ہے سی پیک منصوبے کے بعد صوبے میں لاکھوں کی تعداد میں مال بردار گاڑیوں کیلئے ابھی سے اقدامات کیے جائیں اس کے علاوہ عوام کو سفر کی بہترین سہولیات فراہم کرنے کیلئے صوبائی حکومت ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے۔
()()()
خبرنامہ نمبر 99/2019
لورالائی10جنوری :۔ڈی آئی جی پولیس ژوب رینج نثار احمد خان تنولی نے کہا ہے کہ علاقہ کی پر امن فضاء کو بر قرار رکھنا پو لیس کی اولین ذمہ داری ہے ۔اس حوالے سے کسی قسم کی کوتاہی ناقابل برداشت ہے ۔ یہ باتیں انہو ں نے ژوب رینج کے تمام اضلاع میں نئے قائم کئے گئے شکایتی سیل انچارج کے اجلاس کی صدارت کے دوران بات چیت کرتے ہوے کیں۔ اجلاس میں انچارج شکایتی سیل رینج آفس ژوب بمقام لورالائی انسپکٹر کمال خان کاکڑ، انچارج شکایتی سیل ضلع لورالائی انسپکٹر عبدالمجید، انچارج شکایتی سیل ضلع ژوب انسپکٹر حمید اللہ، انچارج شکایتی سیل ضلع شیرانی انسپکٹر شیر محمد، انچارج شکایتی سیل ضلع موسیٰ خیل انسپکٹر منظور احمد، انچارج شکایتی سیل ضلع دکی ا نسپکٹر سونہارا خان اور انچارج شکایتی سیل ضلع بارکھان ایکٹنگ انسپکٹر حاجی محمد نے شرکت کی۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈی آئی جی پولیس ژوب رینج نثار احمد خان تنولی نے کہا کہ شکایتی سیل کے قیام سے عوامی شکایت کے فوری ازالہ میں مد د ملے گی اور موصول ہونے والی شکایت پر فوری کاروائی ممکن ہو سکے گی ۔انہو نے کہا کہ شکایتی سیل کے ذریعے عوام کی پولیس تک رسائی میں بھی آسانی ہوگی ،گم نام اور بے نام موصول ہونے والے درخواستوں کی بھی مکمل چھان بین کی جائے گی حقائق پر مبنی درخواستوں پر کاروائی کی جائیگی اس کے ساتھ ساتھ خفیہ درخواست موصول ہونے پر درخواست دہندہ کا نام صیغہ راز میں رکھا جائیگا ۔ انچارج شکایتی سیل تمام انکوائریاں 15یوم کے اندر مکمل کرنے اور بروقت رپورٹ تمام بالا آفیسران کو روانہ کرنے کے ذمہ دار ہونگے ۔تمام اضلاع میں شکایت سیل آفس قائم کر کے اس میں علیدہ اسٹاف کی سہولت اور دیگر ضروریات فوری طور پر فراہم کرنے کی ذمہ داری اضلاع کی ہوگی ۔انچارج شکایت سیل سے اس ڈیوٹی کے علاوہ کوئی اور ڈیوٹی نہیں لی جائے گی۔ تمام اضلاع کے ایس ایس پی اور انچارج شکایتی سیل ، آئی جی پولیس بلوچستان کوئٹہ کی جانب سے جاری کردہ سٹینڈنگ آرڈر/ایس او پی میں دئے گئے احکامات پر عمل درآمد کے ذمہ دار ہونگے ۔شکایتی سیل کے انچارج اور ان کے رابطہ نمبرز درج ذیل ہیں۔انسپکٹر کمال خان کاکڑ انچارج شکایتی سیل رینج آفس ژوب بمقام لورالائی رابطہ نمبر03320346860/0824400018 ،انسپکٹر عبدالمجید انچارج شکایتی سیل ضلع لورالائی رابطہ نمبر 03331398978/082441060انسپکٹر حمید اللہ انچارج شکایتی سیل ضلع ژوب رابطہ نمبر03368278146/0822412375.، انسپکٹر شیر محمد انچارج شکایتی سیل ضلع شیرانی رابطہ نمبر03468898011 /0823610337انسپکٹر منظور احمد انچارج شکایتی سیل ضلع موسیٰ خیل رابطہ نمبر 03489762021/ 0828611158 انسپکٹر سونہارا خان انچارج شکایتی سیل ضلع دکی رابطہ نمبر03318009377ایکٹنگ انسپکٹر حاجی محمد انچارج شکایتی سیل ضلع بارکھان رابطہ نمبر 03323850380/0829668251 عوام النا س کسی بھی قسم کی شکایت یا کسی بھی قانونی معاملے میں داد رسی کیلئے اپنے متعلقہ ضلع کے شکایتی سیل انچارج سے رابطہ کر سکتے ہیں ۔
()()()
خبرنامہ نمبر 100/2019
کوئٹہ10جنوری۔نوجوان نسل ہماری تاریخ اور ثقافت کے محافظ ہیں نوجوانوں کو ثقافت ، اقدار اورتہذیب و تمدن کے حوالے سے آگہی اور تعلق فراہم کیا جانا چاہیئے اپنی تاریخ اور ثقافت سے جڑی قومیں آج ترقی کی منازل طے کرچکی ہیں روایات اور ثقافت سے کنارہ کشی اختیار کرنے والی قوموں کے نقوش دیرپا نہیں رہتے ان خیالات کا اظہار صوبائی مشیر کھیل و ثقافت عبدالخالق ہزارہ نے مختلف وفود سے بات چیت کے دوران کیا ۔ انہوں نے کہا کہ نئے بلوچستان میں مذہبی انتہا پسندی ، شدت پسندی اور کسی بھی تعصب کی کوئی گنجائش نہیں صوبے کو مذہبی ، نسلی اور لسانی پسندی کا خاتمہ کھیل وثقافت اور مثبت سر گرمیوں کو اجاگر کرنے سے ہی ممکن ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کھیل کے میدان آباد کرکے نوجوانوں کو مثبت سر گرمیوں کی طرف راغب کیا جائے ہمیں معاشرے میں مذہبی شدت پسندی انتہا پسندی اور دیگر تفرقات کے خاتمے کیلئے کھیلوں کی سر گرمیوں کو بھر پور انداز میں فروغ دینا ہوگا صوبائی مشیر کا مزید کہنا تھا کہ صوبے میں ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کے لئے حکومت ہر ممکن اقدامات کریگی کیونکہ کھیل کے میدان آباد کرکے ہی ایک صحت مند معاشرہ تشکیل دے سکتے ہیں ہم ہر صورت ٹیلنٹ کو سامنے لائیں گے کھیلوں کے مقابلے سمیت ثقافتی پروگراموں کو نہ صرف فروغ دیا جائے گا بلکہ ان میں جدت بھی لائیں گے انہوں نے کہا کہ صوبے کے مفاد پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا حکومت کا وژن ہے کہ عوام کی ترقی کیلئے دیرپا اور مؤثر اقدامات کیئے جائیں تاکہ ان کے ثمرات سے عوام مستفید ہوسکیں ۔ 
()()()

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Post comment