خبرنامہ نمبر 438/2019
کوئٹہ 08فروری :۔ وفاق حکومت نے وفاقی پی ایس ڈی پی سے بلوچستان کے نکالے گئے منصوبوں کو بحال کرنے اور پی ایس ڈی میں مزید منصوبے شامل کرنے پر آمادگی کااظہار کیا ہے، پلاننگ کمیشن آف پاکستان کی ٹیم اور صوبائی حکام کے درمیان جمعہ کے روز وفاقی پی ایس ڈی پی کے بلوچستان سے متعلق امور پر اجلاس شروع ہواجو دو دن جاری رہے گا، جس میں وفاقی پی ایس ڈی پی میں بلوچستان کے منصوبوں کو حتمی شکل دی جائے گی، یہ پہلا موقع ہے جب وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان کی کاوشوں کے نتیجے میں وفاقی حکومت بلوچستان کی ترقی میں نہ صرف خصوصی دلچسپی لے رہی ہے بلکہ عملی اقدامات کو یقینی بنانے کے لئے بھی سنجیدہ ہے اور پلاننگ کمیشن کی ٹیم کا دورہ بلوچستان اس کامظہر ہے، پلاننگ کمیشن کی ٹیم کی سربراہی وفاقی وزیر منصوبہ بندی کے مشیر آصف شیخ کررہے ہیں جبکہ ایڈیشنل چیف سیکریٹری منصوبہ بندی وترقیات سجاد احمد بھٹہ، وزیراعلیٰ کے پرنسپل سیکریٹری نورالامین مینگل اور صوبائی محکموں کے سیکریٹری اجلاس میں بلوچستان کی نمائندگی کررہے ہیں،پلاننگ کمیشن کی ٹیم نے وفاقی پی ایس ڈی پی کے حوالے سے بلوچستان کے خدشات اور تحفظات کا ازالہ کرنے72377 2019-20 کی وفاقی پی ایس ڈی پی میں بلوچستان کی ضروریات کے مطابق نئے منصوبے شامل کرنے اورمنصو بوں کے لئے درکار فنڈز کا فوری اجراء کرکے منصوبوں کی پیشرفت تیز کرنے کی یقین دہانی بھی کرائی ہے۔
()()()
خبرنامہ نمبر 439/2019
کوئٹہ 08فروری :۔وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے کہا ہے کہا ہے کہ حکومت شعبہ تعلیم کی بہتری اور اسکولوں میں بہتر اور جدید سہولتوں کی فراہمی کے لئے کثیر فنڈز فراہم کررہی ہے، تعلیم کے معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور نہ ہی اساتذہ کی غیرحاضری کو برداشت کیا جائے گا، محکمہ تعلیم غیر فعال اسکولوں کی فعالی کے لئے موثر اقدامات اٹھائے اور اساتذہ اور بچوں کی حاضری کی مانیٹرنگ کے نظام کو مزید فعال اور موثر بنایا جائے ان خیالات کا اظہار انہوں نے محکمہ تعلیم کے امور کے حوالے سے دی جانے والی بریفنگ کے دوران کیا، صوبائی وزیر پرائمری تعلیم محمد خان لہڑی 7237 صوبائی وزیر ہائر ایجوکیشن میر ظہور احمد بلیدی ، محکمہ تعلیم کے حکام اور پرائمری تعلیم میں صوبائی حکومت کی پارٹنریونیسف کے نمائندے بھی اجلاس میں شریک تھے جبکہ سیکریٹری پرائمری تعلیم محمد طیب لہڑی کی جانب سے محکمانہ امور، ایجوکیشن مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم جی آئی ایس پروفائل اور ریئل ٹائم مانیٹرنگ سسٹم کے بارے میں بریفنگ دی گئی، انہوں نے بتایا کہ صوبے میں پرائمری اسکولوں کی تعداد 14250 ہے جن میں سے مختلف وجوہات کی بناء پر لڑکے اور لڑکیوں کے 1623اسکول غیر فعال ہیں، انہو ں نے بتایا کہ محکمہ کی جانب سے غیر حاضر اساتذہ کے خلاف موثر کاروائی کی جارہی ہے اور اب تک 16اساتذہ کو ان کی ملازمتوں سے برخواست کردیا گیا جبکہ غیر حاضری کرنے والے اساتذہ کی تنخواہوں سے کٹوتی بھی کی جارہی ہے، انہوں نے بتایا کہ بلوچستان واحد صوبہ ہے جہاں جی آئی ایس پروفائل کے ذریعہ اسکول جانے والے ہر بچے کا ڈیٹا موجود ہے اور آر ٹی ایس ایم کے ذریعہ بچوں اور اساتذہ کی حاضری کی مانیٹرنگ کی جارہی ہے اور چیف منسٹر انیشیٹیو پروگرام کے تحت اسکولوں میں غیردستیاب سہولتوں کی دستیابی کو یقینی بنایا جارہا ہے، اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ آئندہ کسی بھی نئے اسکول کے قیام کے لئے محکمہ تعلیم کی منظوری لازم ہوگی اور اسکولوں کی تعمیر کے لئے ماہر تعمیرات کی خدمات حاصل کی جائیں گی تاکہ تمام اسکولوں کو یکساں ڈیزائن کے مطابق تعمیر کرکے وہاں تمام ضروری سہولیات فراہم کی جاسکیں، اس موقع پر وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ غیر فعال اسکولوں کی بندش کی وجوہات کا جائزہ لے کر انہیں فوری طور پر دور کیا جائے اور جو اسکول اساتذہ نہ ہونے کی وجہ سے بند ہیں کابینہ کی جانب سے دی گئی گائیڈ لائنز کے مطابق بھرتی کا عمل فوری طور پر شروع کرکے وہاں اساتذہ تعینات کئے جائیں، وزیراعلیٰ نے ہر ضلع میں کم از کم ایک ماڈل ہائی اسکول کے قیام اور اس میں ہاسٹل اور آئی ٹی لیب کی دستیابی کو یقینی بنانے کی ہدایت بھی کی، وزیراعلیٰ نے کہا کہ اساتذہ ہمارے نئی نسل کے معمار ہیں لہٰذا ان کی قابلیت میں اضافہ کے لئے ٹیچر ٹریننگ پروگرام پر خصوصی توجہ دی جائے۔
()()()
خبرنامہ نمبر440/2019 
بارکھان08فروری :۔صوبائی وزیر خوراک وبہبود آبادی سردار عبدالرحمن کھیتر ان نے کہا ہے کہ موجودہ صوبائی حکومت عوام کو زندگی کی تمام بنیادی سہولیات کی فراہمی کیلئے بھر پور اقدامات کر رہی ہے ،ضلع بارکھان میں عوامی فلاح و بہبود کے نئے منصوبے شروع کئے جا رہے ہیں ۔ اجتماعی نوعیت کے منصوبوں کو ترجیح دی جائے گی ۔جلد ہر یونین کونسل کا دورہ کر کے عوامی مسائل سے اگاہی حاصل کی جائے گی ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ضلع بارکھان کے مختلف علاقوں سے آئے ہوئے لوگوں سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔صوبائی وزیر نے کہا کہ ہر یونین کے لوگ آپس میں مشورہ کر کے اجتماعی ترقیاتی منصوبے کی نوعیت اور مناسب جگہ تجویزکریں ان کی تجویر پر عمل کیا جائیگا،تاہم ہر علاقے کے لوگ اجتماعی منصوبے کا انتخاب کریں تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ مستفید ہوسکیں۔صوبائی وزیر سردار عبدالرحمن کیھتران نے کہا کہ وہ بہت جلد ضلع بارکھان کے ہر یونین کونسل کا دورہ کریں گے تاکہ لوگوں سے ملکر ان کے مسائل معلوم کیے جا سکیں اور مسائل فوری حل کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جائیگی ،انہوں نے کہ انفرادی سکیمات انتہائی ضرورت کے تحت دیئے جائیں گے ، پہلی فہرست میں اجتماعی نوعیت کے سکیمات شروع کئے جائیں گے،صوبائی وزیر نے کہا کہ ضلع بارکھان میں سڑکوں کی تعمیر،صحت کے مراکز،نئے اسکول کی تعمیر،ویٹرنری ہسپتال ،نئے ڈیموں کی تعمیر جیسے منصوبو ں کی اشد ضرورت ہے جس کیلئے تما م دستیاب وسائل بروئے کار لائیں جائیں گے ،انہوں نے کہا کہ ہر یونین کونسل میں تقریباً 65لاکھ کا ایک اجتماعی ترقیاتی منصوبہ مختص کیا جائیگاانہوں نے کہا کہ وہ وٹاکڑی یونین سے اپنے دورے کا آغاز کر رہے ہیں اور ہر یونین کونسل کا دورہ کریں گے اور لوگوں سے مسائل معلوم کر کے ان کی دہلیز پر حل کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جائیگی ۔ 
()()()
خبرنامہ نمبر441/2019 
زیارت 08فروری۔ ڈپٹی کمشنر زیارت قادر بخش پرکانی کی زیر صدارت ترقیاتی اسکیمات کے حوالے سے آفیسران کا اجلاس منعقد ہوا،اجلا س میں مختلف ڈیپارٹمنٹ کے آفیسران نے ڈپٹی کمشنر زیارت کو ترقیاتی اسکیموں کے بارے میں بریفنگ دی۔ڈپٹی کمشنر زیارت قادر بخش پرکانی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ترقیاتی کاموں کو بروقت مکمل کیا جائے ،ترقیاتی کاموں کے معیار پر کو ئی سمجھوتہ نہیں کریں گے ،ترقیاتی کاموں میں ناقص مٹیریل کو ہر گز برداشت نہیں کریں گے ،انہوں نے کہا کہ وہ خود ترقیاتی کاموں کی مانیٹرنگ کریں گے۔ 
()()()

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Post comment